No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
سوہم خان کو یہاں آئے پانچ دن ہو چکے تھے۔ وہ لاہور میں بنے اپنے اپارٹمنٹ میں بیٹھا تھا جب فون رنگ ہوا۔اس نے یہ دیکھ کر کے کال پاشا کی ہے فورا فون اٹینڈ کیا۔۔
یس ڈیڈ، سوہم خان کو کچھ غیر معمولی محسوس ہوا۔
سوہم خان، اسی لئے میں تمھیں محتاط رہنے کو بول رہا تھا کہ دشمن تمھاری سوچ سے بھی زیادہ طاقتور ہے، تم نے اس کے خاص آدمی کو غائب کیا وہ حساب لینے پہنچ چکا ہے پاکستان ،اور اسے معلوم ہو چکا ہے کہ تمھاری ڈیٹھ بک میں اب اس کے بھائی کا نام ٹاپ آف دی لسٹ ہے ، اور جانتے ہو ناں وہ کون ہے،چیمہ ہے وہ چیمہ،،پاشا کا غیر معمولی لہجہ، سوہم کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے۔
اٹس اوکے ڈیڈ، وہ کیا، اس کا باپ بھی قبر میں سے اٹھ کر آتا جسے آپ کئی سال پہلے جہنم رسید کر چکے ہیں تب بھی میں اپنے مقاصد سے ایک انچ بھی پیچھے نا ہٹتا، ناؤ ریلکیس ڈیڈ، بے فکر رہیں وہ کم از کم اب میرے ہوتے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے، سب سے زیادہ فکر مجھے ایشان کی ہوتی ہے اس کی بیماری کی وجہ سے جو میرے ساتھ ہے اب مجھے کوئی فکر نہیں۔
اس کا اطمینان قابلِ دید تھا۔
پاشا نے سرد سی آہ بھری اور فون رکھ دیا۔
ایشان اور وہ جس ٹارگٹ کی تلاش میں تھے اسے ڈھونڈنے میں انھیں دقت پیش آ رہی تھی۔ اب بھی وہ ایک پرانی فلیٹس والی بلڈنگ میں داخل ہوئے تھے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رانی بائی اور اس کی شاگردیں رواحہ کو لے کر رستم ولا پہنچ چکیں تھیں۔جس کے ایک خاص کمرے میں ابھی وہ ٹھہری تھی اور اسے تیار ہونا تھا۔
وہ جائے نماز پر بیٹھی تھی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔
پانچ دن ہو چکے تھے چھوٹی سی جان سولی پر لٹکی تھی۔اگر اس کے بس میں ہوتا تو وقت کی سوئیوں کو وہیں روک دیتی۔ نا گزرتا نا اس کی جان پر پل پل عزاب آتا۔
پروردگار عالم سے، اس رحیم و کریم سے ہی اب مدد کی طلب گار تھی، اس کے بندوں نے تو اب تک ظلم و بربریت کی ہر حد پار کرتے اسے سخت مایوس ہی کیا تھا۔
وہ پاک پروردگار کی رحمت سے مایوس ہر گز نہیں تھی جانتی تھی ناں کہ جب فرعون کسے بھی صورت میں کسی بھی دور میں جھوٹا خدا بنتا ہے تو کسی صورت میں ہر دور میں اس کے غرور کو تار تار کرنے موسیٰ بھی نازل کر دیا جاتا ہے۔ اس نے بھی کسی موسیٰ کی دعا مانگی تھی کہ وہ آ کر اسے فرعون کے فتنے سے نجات دلائے۔اور دعا تہہ دل سے مانگی تھی۔ دعا میں آنسو بہا رہی تھی۔
جب تارا پھر اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ ہاتھ میں ایک بہت بڑا پیکٹ تھا ۔اور چہرے پر طنزیہ اور معنی خیز مسکراہٹ آ کر اسے تیار کیا تھا۔آج اس کی منہ دکھائی تھی۔یعنی نیلامی کا دن۔ بنتِ حوا کی اتنی بڑی تزلیل کے انسانیت بھی شرما جائے۔اور یہ تو اسے کسی طور منظور نا تھا، چاہے کچھ بھی ہو جاتا۔
تارا نے اسے زبردستی وہ بے ہودہ سرخ لباس پہنا کر تیار کیا تھا۔
یہ لاہور کہ پوش علاقے میں بنا بہت بڑا بنگلہ رستم ولا تھا جسے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔آج یہاں غیر معمولی بڑی بڑی گاڑیوں کا رش تھا۔۔آخر کار مشہورِ زمانہ رہ چکی طوائف رانی بائی کے بڑے کوٹھے کی اس نوخیز لڑکی کی منہ دکھائی کی رسم تھی آج،جس کے حسن کے چرچے تو حسن کے قدردانوں کی دنیا میں دور دور تک پھیل چکے تھے۔۔
وہ اتنی حسین تھی کہ جرم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ رستم کی منظورِ نظر تھی،، جسے حاصل کرنا رستم کی ضد و جنون بن چکا تھا۔وہ مخمل کی طرح نرم و ملائم وجود کی حامل پری پیکر وجود جسے پانے کو وہ کب سے مچل رہا تھا۔۔
مگر رانی بائی کے کوٹھے کا یہ بڑا سخت اصول تھا کہ لڑکی کے اٹھارہ سال کے ہونے پر بڑے پیمانے پر اس کی منہ دکھائی کی رسم ہوتی تھی۔۔جس میں اسے پیش کیا جاتا اور قدردانوں میں جو سب سے بڑی بولی لگاتا وہ سب سے پہلے اس کی ہو جاتی۔۔
مگر آج تو بس خانہ پوری ہی ہونے جا رہی تھی،،، ایک زمانے کو پتا تھا کہ وہ مخملیں نازک گڑیا چھبیس سالہ ظالم و سفاک رستم دادا کی منظورِ نظر ہے تو کس کی مجال تھی اس پر نظر ڈالتا۔۔
محفل اپنے عروج پر تھی۔۔
رستم ولا کے بیس منٹ کے حال میں فنکشن تھا،، جہاں دوسری لڑکیاں اپنے رقص کا جادو جگا رہیں تھیں۔۔
اوپر کی منزل کے گیسٹ روم کے بڑے آئینے کے سامنے وہ حسن کی دیوی آج تیار ہو کر بیٹھی بڑی دیر سے خود کو دیکھ رہی تھی۔۔
اگر دنیا کی نگاہ سے دیکھتی تو اس سے بڑھ کر حسین کوئی ہو ہی نہیں سکتا مگر وہ خود کو اپنی روحانی آنکھ سے دیکھ رہی تھی۔۔
اپنی شکل کافی مکروہ اور غلیظ لگی،سرخ لہنگا جس کی چولی ہاف بلاؤز تھی۔مگر اوپر جالی دار اپر تھا پیروں تک اور جالی دار سرخ دوپٹہ،، سرخ لپ اسٹک اور دو آتشہ حسن،،،
ایک خیال کے تحت اٹھی اور وہیں سجدے میں گر کر بولی،،
پروردگار عالم اگر اتنی عبادتوں میں سے کوئی ایک عبادت بھی پسند آئی ہو تو اسی کے صدقہ جو کرنے جا رہی ہوں اس میں مدد فرما دینا ہو۔۔
وہ چپکے سے اٹھی۔کھڑکی میں گئی۔کھڑکی پھلانگی۔جس ہستی سے مدد مانگی تھی وہ غیبی مدد بھی بھیج دیتا ہے سو پچھلے گیٹ میں گارڈ موجود ہی نا تھے۔۔وہ اندھیرے میں دھڑکتے دل کے ساتھ گیٹ پار کر گئی۔اتنی بھاگی تھی کہ جتنا بھاگا جا سکتا تھا۔مگر کب تک رستم کے کتے جلد ہی اس تک پہنچ گئے تھے۔
چندہ واپس آؤ،، ایک کتا دھاڑا،،
مگر وہ بھاگتی رہی اور خوش قسمتی سے ایک اندھیرے میں ڈوبے علاقے میں پہنچی،، ایک اندھیرے میں ڈوبا اپارٹمنٹ تھا،، جس کی دیوار با آسانی پھاندی جا سکتی تھی چھپنے کے لئے۔
بنا سوچے وہ دیوار پھاند گئی،وہ اپارٹمنٹ خالی محسوس ہوا تو اندر چلی گئی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اسے ایک ہفتہ ہو چکا تھا مینٹل ہوسپٹل آئے جو زہنی کرب و اذیت سے مِفرا گزر رہی تھی جو آس پاس کا ماحول تھا اسے اب ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ سچ مچ پاگل ہے۔ یہ ایک غیر معروف سا مینٹل آزائلم تھا جس کا پہلے کبھی نام و نشان بھی نہیں سنا تھا۔ ایک ہفتے تک تو سکون تھا۔
مگر اس رات وہ مکمل ہوش میں تھی جب میڈیسن دی گئی اور روز کی طرح اس نے وہ میڈیسن اپنے منہ میں زبان کے نیچے چھپا دی۔ نرس کے ادھر ادھر ہونے کے بعد اس نے وہ کیپسول روز کی طرح کھڑکی سے باہر اچھال دیا۔ اب وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی اور ان کے حساب سے میڈیسن لے کر سو چکی تھی جب کچھ لوگوں کے قدموں کی چاپ بیڈ تک آتی محسوس ہوئی۔
بیڈ تک آ کر ان کے قدم رکے تھے۔ ہممم بتاؤ زرا کیسا مال ہے، کیسا تگڑا مال ڈھونڈا نا میں نے، اب جلدی سے منہ مانگی قیمت کی حامی بھرو تو کل رات یہ تمھارے بیڈ روم تک پہنچا دی جائے گی، اب آخر اس کی بھابھی بھی تو یہی چاہتی ہے ناں، مفرا کی ڈاکٹر کی آواز نے اس کے کانوں میں جیسے پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا۔
ہاں،، بہت خوبصورت ہے، کل رات کیوں، آج رات کیوں نہیں، اور منہ مانگی رقم میں دل و جان سے دینے کو تیار ہوں، بھاری لپلپاتی مکروہ آواز گونجی۔
ارے نہیں آج تو میڈیسن دے چکے ہیں۔ ویسے بھی انتظامات تو کل کے ہیں سارے تو ایک دن صبر کر جاؤ۔ ڈاکٹر نے جھڑکا۔ یوں بھی وہ سب شیطان سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے
اور اب باتیں کرتے کرتے واپس جا چکے تھے۔
مفرا کے سر پر آسمان ٹوٹا تھا۔وہ بے حس بےغیرت لڑکی پتا نہیں کس جنم کا بدلا لے رہی تھی اس سے۔ اس نے جلدی سے دماغ چلایا۔اب کسی بھی صورت اسے یہاں سے نکلنا تھا۔اس کے پاس کل دن تک کا وقت تھا۔ اس نے دعا مانگتے الله تعالیٰ سے مدد طلب کی تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جے کے کی اب تک کی ریسرچ میں جو مین نام سامنے آیا تھا وہ ڈاکٹر جاوید کا۔ اس کالے دھندے کی گوشت مارکیٹ کا سرغنہ وہی تھا۔
اور تو اور اسی ہوسیپٹل کے بلکل سامنے اسی نام سے ایک مینٹل ہوسپٹل بھی تھا ۔جسے وہ بہانے سے سرچ کر آیا تھا۔ اس کا شک یقین میں بدلنے میں دیر نہیں لگی تھی۔ اس مینٹل ہوسپٹل میں وومن آرگنز کی اسملنگ کا کالا کاروبار کیا جا رہا تھا۔یا شاید اس بھی کچھ زیادہ ۔
عجیب مچھلی بازار تھا۔نا کوئی کہنے والا تھا نا کوئی سننے والا۔
وہ جان بوجھ کر کینٹین تک آیا تھا۔جب آج پھر ہوسپٹل کے لیبر روم میں غیر معمولی ہلچل سی تھی۔سب سے زیادہ ظلم تو خواتین پر ڈھایا جاتا تھا ادھر ۔
خاص کر وہ خواتین جو ان پڑھ اور دیہاتی ہوتی تھیں اور کسی گراں یا گوٹھ کی ہوتیں۔
جے کے چپکے سے اپنے آفس آیا تھا۔
اس نے آ کر ائیر پوٹس کان میں لگا کر مائیکرو فون آن کیا تھا۔
جو باتیں کی جا رہیں تھیں۔۔ اور جو اسے سمجھ آ رہا تھا ۔یہ لوگ انسانیت کے کس نچلے درجے تک جا پہنچے تھے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ حیوانیت کے کونسے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔
ان کے مطابق۔۔
آج خواتین کے بلکہ کم سن لڑکیوں کے دو کیسز ایسے آئے تھے جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ ایک ففتھ منتھ پریگننٹ تھی تو ایک سکس۔ کسی وجہ سے دونوں کے ہی بچے پیٹ میں مر چکے تھے اور اب وہ اس مچھلی بازار میں اپنا علاج کروانے تھیں۔
جے کے صدمے سے گنگ تو تب ہوا جب انھیں اور ان کے لواحقین کو بھی خود ساختہ گھمبیر پیچیدگیوں کا بول کر خوفزدہ کر کے سی سیکشن کے لئے رضامند کر لیا گیا۔
جے کے کا دل کیا پورے ہوسپیٹل کو آگ لگا دے، اس زمانے میں بھی ایسے جاہل لوگ تھے کہ انھیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ میڈیکل اتنی ترقی کر چکی ہے کہ محض تین وقت کی ایک ٹیبلٹ سے ایسا مردہ حمل با آسانی آبورڈ ہوا جا سکتا تھا وہ بھی ماں کو نقصان پہنچائے بغیر۔ اگر یہ کام کوئی مستند ڈاکٹر کرتی۔تو وہ باآسانی ایسے کیسز ہینڈل کر سکتی تھی۔۔تو یہ سی سیکشن کروا کر کیوں اپنی بچیوں کو زبح کروانے والے تھے کہ وہ پھر آگے کی زندگی میں بھی بار بار اس دردناک مرحلے سے گزرتیں۔ کچھ سوچ کر وہ اٹھا تھا۔
سونیا کو اشارہ کیا تھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ہوسپٹل کا تمام کنترول اب اس جلاد جے کے ہاتھ میں تھا۔ تبھی اس نے آپریشن تھیٹر میں آکسیجن گیس لیک کروا کر وہاں شارٹ سرکٹ کروایا تھا۔اچانک ہی آگ بھڑکی تھی اور چاروں اور پھیل گئی، جے کے اب اطمینان سے کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا۔وہ لوگ اپنی بچیوں کو لیے وہاں سے جا چکے تھے اب اسے باقی کا کام رات کو سر انجام دینا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رات کے گھپ اندھیرے میں رات کے تین بجے وہ لمبا چوڑا پر اسرارِ سا شخص خون میں سنے ہاتھ اور کپڑے لیے اپنے چھوٹے سے بنے ڈیپارٹمنٹ میں ہمیشہ کی طرح پچھلے دروازے سے داخل ہوا۔۔
چھ فٹ سے نکلتا قد، سرخ و سفید رنگت، بھورے بال، اور کائی جمی سبز پراسرار آنکھیں۔ جن میں نفرت غصے،انتہاپسندی ،شدت پسندی کا ایک جہان آباد تھا۔ جیسے وہ اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز اور زی روح کو کاٹ کر پھینکنے والا ہو۔چہرہ رومال سے ڈھانپ رکھا تھا۔بائیں ہاتھ میں وہ آلہ اسکیلپل تھا،جسے وہ اپنے انگھوٹے اور دو انگلیوں کے درمیان مہارت سے گھماتا آ رہا تھا۔۔
اس کا فون وائبریٹ ہوا،، جبران کالنگ لکھا آ رہا تھا،، یس کر کے کان کو لگایا،، تو دوسری طرف سے آنے والی اطلاع نے اس کی سبز آنکھوں میں شعلے بھڑکا دئے تھے۔۔
سوہم خان، تمھارا ایک اور شکار دام میں پھنس چکا ہے،، فورا واپس آؤ،،،
اوکے،،،، پراسراریت میں ڈوبی آواز کے سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ،،فون رکھ کر پاکٹ میں ڈالا۔اور سکیلپل کو انگلیوں میں بہت تیزی سے گھمایا۔یہ اس کے اشتعال کے طوفان کو اندر دبانے کی خاص علامت
وہ جبران کا فون سن کر اندھیرے میں اندر آیا تھا۔۔ہمیشہ کی طرح پہلے ایک مخصوص روم میں گیا اور فریش ہو کر اپنے کپڑے چینج کیے،،پھر اپنے روم میں آیا، ملگجا اندھیرا تھا۔مگر اس سے پہلے ہی چند آدمی اس کے روم میں گھستے چلے آئے۔
وہ سنجیدگی سے ان کی جانب مڑا۔۔
اے ہمیں تم سے کوئی مطلب نہیں ،،،مگر گولی کھا کر بھیجا نہیں کھلوانا تو بتاؤ یہاں ایک لڑکی کو تو نہیں دیکھا یا اسے چھپایا تو نہیں۔۔
نو، ایک لفظی جواب تھا اب تو ان غنڈوں کو بھی سامنے والے کی پراسرار کائی نما آنکھوں میں دیکھ وحشت ہوئی تھی سو الٹے پیروں واپس بھاگے۔۔
اس نے لائٹ جلائی،رومال نکال کر اپنے چہرے پر باندھا تھا اور چل کر اپنی ڈریسنگ تک آیا،جھٹکے سے ڈریسنگ کھولی۔۔
ہیے باہر آؤ،،، کون ہو تم،،، اور جرات بھی کیسے کی میرے اپارٹمنٹ میں گھسنے کی،،، وہ دھاڑا تو ایک ڈری سہمی سرخ گٹھڑی الماری سے برآمد ہوئی۔جس نے اپنا چہرہ سرخ آنچل سے ڈھانپا ہوا تھا۔
وہ غصے سے پاگل ہوا تھا۔۔کچھ جواب سننے کو ملتا اس سے پہلے ہی،،،
او تو اسے یہاں چھپایا ہے،، چپ چاپ ہمارے حوالے کردو اسے نہیں تو مفت میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے،،، پیچھے سے اسے غنڈوں کے چلانے کی آواز آئی تو وہ اطمینان سے مڑا۔
اب جب روشنی میں غنڈوں نے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تو ان کے دانتوں تک پسینے چھوٹے تھے۔۔
رومال بندھے،، سبز آنکھوں والے بے رحم اور سفاک
executioner
کو کون نہیں جانتا تھا،، جو جیتا جاگتا موت کا فرشتہ تھا۔۔وہ گھگیا گئے۔۔دیکھو سوہم خان،،، یہ رستم دادا کی منظورِ نظر ہے، اسے نا لے کر گئے تو وہ ہمیں مار کر کتوں کے آگے ڈال دے گا، ہمیں اسے لے کر جانا ہے،،
لے جاؤ،وہ لاپروائی سے بولا،مگر رستم کے نام پر سبز آنکھوں کی کائی میں جیسے چمک سی آئی تھی،
پیچھے کھڑی اس لڑکی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے رستم کے اس وفادار بھیڑیے کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا،
وہ اس جلاد کے پہلو سے آگے جانا چاہتا تھا،، جب اس کا بایاں ہاتھ فضا میں لہرایا اور اسکیلپل سے اس غنڈے کی آدھی گردن کٹ کر پیچھے کمر کے ساتھ لٹک گئی۔
خون کا ایک فوارہ پھوٹا تھا جس سے کمرے کا فرش سرخ رنگ میں رنگا تھا۔۔
یہ تم نے اچھا نہیں کیا سوہم خان، وہ چلاتے اس کی جانب لپکے،
مگر افسوس کٹے اعضا لیے جلد ہی فرش پر ڈھیر ہو چکے تھے۔۔
مگر ان میں سے ایک کو اس نے زندہ چھوڑ دیا تھا ۔۔
خون کی ندی بہہ گئی تھی۔۔ وہ زرا سا جھکا۔۔
تم،،، رستم دادا سے کہنا تمھاری منظورِ نظر جلاد کے پاس ہے،، مرد کے بچے ہو تو خود آنا اور اسے لے کر جانا،،،
وہ کہتا پیچھے مڑا تو سرخ وجود والی اتنا دل دہلا دینے والا خون خرابہ دیکھ کب کی بے ہوش ہو کر زمین بوس ہو چکی تھی۔۔
اس کے ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے۔ وہ اوندھے منہ دوسری جانب رخ کیے زمین پر ڈھیر تھی۔۔
پاکٹ سے فون نکال کر کسی کو فون کیا،، کچھ دیر بعد ہی مُنی اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
اندر کا نظارہ دیکھ اس نے اپنا دل تھاما تھا۔۔
اسے اٹھاؤ،،، ہمیں نکلنا ہے ابھی یہاں سے،،،، اس نے منی کی توجہ اپنے پیچھے دلائی،،،، اور کہتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔
ایشان کی بہت زیادہ طبیعت خراب ہو چکی تھی اسے اسے بھی سنبھالنا تھا۔
رات کے اندھیرون میں انھوںنے نے لاہور سے کراچی تک کا سفر اپنے ہیلی میں طے کر لیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ماہ بیر اپنے آفس میں بیٹھا تھا، وکالت کی دنیا کا بے تاج بادشاہ اور دن میں عدالتوں میں ایک مسیحا مگر راتوں کا ایک
Executioner,,,,
وہ بہت ضروری فائل اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا۔جب فون رنگ ہوا۔۔ آج وہ کافی لیٹ ہو چکا تھا۔ اپنے کام میں اتنا مصروف تھا کے وقت گزرنے کا احساس نا ہوا۔
نبمر دیکھ کر فون رسیو کرنا ضروری سمجھا کیونکہ اس کے اس خاص وفادار آدمی کا فون تھا جو کوئی بہت ہی خاص انفارمیشن دینے کو فون کرتا تھا۔
یس، وسیع،، بتاؤ کیا بات ہے،، اس نے سرسری لہجے میں پوچھا۔مگر اگلی بات سن کر اس کے ماتھے پر لکیروں کا جال سا بچھا تھا۔ چہرے نے غم وغصہ کی انتہا سے لہو چھلکایا تھا۔
سر میم حویلی سے باہر نکلی ہیں، چھوٹا سا سفری بیگ ہاتھ میں ہے۔ اماں جی کو شاید بتا کر نکلیں ہیں، کیونکہ وہ گیٹ تک انھیں چھوڑنے آئیں تھیں اور بہت بری طرح رو رہی تھیں۔ اور میم کیب میں بیٹھ کر نکلی ہیں۔ میں ان کا پیچھا کر رہا ہوں، اگلا حکم، سمیع نے اطمینان سے ساری تفصیلات بتائیں۔
ہممم، ،چیک کرو کدھر تک جاتی ہے، دراصل بات یہ کہ میم نے میرے ہاتھوں اپنی ٹانگیں تڑوانی ہیں ۔ماہ بیر نے دانت پیسے۔جب ادھر پہنچے تو اندر جانے سے پہلے شیلا سے کہنا اسے اٹھا لے۔تم لوگوں میں سے کسی نے ہاتھ لگایا تو جڑ سے اکھاڑ دوں گا ہاتھ، لے جا کر میرے اپارٹمنٹ کے بلیک روم میں پھینک دو، پھر میں خود ہی دیکھ لوں گا۔
ماہ بیر نے چٹختے اعصاب سمیت سرد و سپاٹ لہجے میں کہا۔
اوکے سر، سمیع، فون رکھ چکا تھا۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے نکلا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایک ہفتہ ہو چلا تھا مگر روشے بےبی ایش کو نہیں بھولی تھی۔ اور اب وہ پچھتا رہی تھی ۔اسے پہلے ہی آروشے کی پہلے ضد پر اس اجنبی کو نہیں بلانا چاہئے تھا، ان پانچ چھ دنوں میں آروشے نے اسے تگنی کا ناچ نچا دیا تھا۔ اس کی حالت دن بہ دن بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی۔
علیزے خود بھی تو ایک مرتبہ ہوسپیٹل رہ کر آ چکی تھی۔ وہ خود کتنی بیمار تھی۔ پر اسے آروشے کی زیادتی فکر تھی۔اب تو دل نے امید بھی ختم کر دی تھی۔مایوس ہو چکی تھی کہ وہ آئے گا۔ شاید اسء آروشے کا خیال آ جائے مگر،،
ادھر ایشان نے یہ چند دن بہت مشکل اور تکلیف میں گزارے تھے ان دنوں ایک پل بھی ایک چہرہ اس کے تصور اور خیالوں سے اوجھل نہیں ہو پایا تھا۔ اور جس کنڈیشن سے وہ گزر رہا تھا کود بھی بیمار ہو چکا تھا۔ سوہم نے بڑی مشکل سے سنبھالا تھا اسے۔ اب اسے ایک دو دن اسی فیز میں اپنے روم میں گزارنے ہوں گے۔
Continue,,,,,,,,,
