Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
نوٹ۔آج ایپی زرا دل تھام کر ریڈ کیجئے گا😷😷

یہ رات گہری تھی اور اپنے گہرے اندھیروں میں کئی راز دبا کر لائی تھی۔
ہوسپیٹل کے سرد سے روم میں نایاب کی آنکھ کھلی تو کچھ غیر معمولی احساس ہونے پر دوبار آنکھیں موند لیں۔ اور اس کا شک ٹھیک ہی نکلا۔۔
ان درندوں کی قریب آتی آوازیں اب بہت واضح ہو چکی تھیں۔ جنھوں آج سے کئی سال پہلے اس کی زندگی میں ایک طوفان اور بھونچال سا لایا تھا۔

وہ درندے اس کے کمرے میں اس کے بیڈ کے پاس کھڑے تھے اور نہایت اطمینان سے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔
جیل سے چھوٹی ہوئی یہ عورت کافی دنوں کی بھاگ دوڑ کے بعد ہاتھ آئی ہے منسٹر کھرل صاحب،، جس کے زریعے آج سے کئی سال پہلے ہم نے انھیں شہ مات دی تھی،، اس کا تو قصور بھی نہیں تھا،، اس کی بیٹی اور داماد کو اغواء کیا تھا ہم نے،،بڑی ڈھیٹ عورت تھی کہنا نہیں مانتی تھی مگر جب بیٹی کے کپڑے پھاڑنے شروع کیے تو کہیں جا کر مانی تھی ہمارا کام کرنے کو۔، اسی کے زریعے تو ہمیں ان جلادوں کا پتہ ملا تھا،، بڑی کام کی ہے یہ عورت،، اب تو بیٹی بھی جوان ہو گئی ہو گئی آٹھ دس سال کی ہی چھوٹی قیامت تھی،اب ہاتھ لگے گی تو منیر چیمہ کی رکھیل بنے گی،،،
منیر چیمہ نے خباثت سے آنکھ ونک کرتے منسٹر کو بتایا۔۔
وہ تینوں ان کے کتے اور چمچے پھر مکروہ عزائم لیے نایاب تک پہنچ چکے تھے۔۔

بلکل سہی جا رہے ہو تم منیر،، جو اس عورت تک پھر پہنچ گئے،، اگر کیس ری اوپن ہوا ہے تو یقینا وہ جلاد زندہ ہوں گے،، اور انھوںنے ہی اسے ری اوپن کروایا ہوگا،، میں تو اسی دن بول رہا تھا کہ وہ لوگ وہ جلاد ہی ہیں،، پر تم لوگ نہیں مانے،،مال بھی لے اڑے،،، اور کیا کیا پتہ چلا تم لوگوں کو؟

بس اب کی بار پھر انھیں بھگا بھگا کر مارنے کا ارادہ ہے،، بچ بھی گئے تھے تو پچھتائیں گے اپنے بچ جانے پر،، میرا بھائی رستم بھی مجھ سے سخت ناراض ہے،، منیر نے رستم کی طرف دیکھتے بولا جو واقعی سنجیدگی سے نایاب کی جانب دیکھے جا رہا تھا
اس کی چندہ بھی تو نہیں ڈھونڈ کر دی میں نے ابھی تک،، مگر مجھے لگتا ہے میں اس تک بھی پہنچ گیا ہوں،، میرے بندے پہنچ چکے ہیں اس تک بس کنفرم پتہ آج دیں گے،، اس اپارٹمنٹ پر جہاں ہم نے پہلے حملہ کیا تھا اس پر نظر رکھوائی ہوئی تھی میں نے،، اب اطلاع ملی ہے کہ وہ وہاں آئی ہے۔۔

منیر نے بتایا تو رستم کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔
کیا واقعی بھائی مل گئی میری چندا،،میں ابھی جاتا ہوں اسے لینے،،رستم بے چین ہوا۔
ہاں اور کل کو وہ تمھارے پاس ہوگی دیکھ لینا تم،،مگر ابھی صبر کرو باقاعدہ پلان بنا کر سب کرنا ہے تمھیں پتہ ہو دشمن کس قدر چالاک ہیں،، منیر نے اطمینان سے کہا۔
بھائی میں اور انتظار نہیں کر سکتا،، وہ جھنجھلایا
جہاں اتنے دن انتظار کیا ہے وہاں کچھ دن اور سہی،،
اس عورت کا کیا کرنا ہے منیر چیمہ،، کھرل جو کب سے بیزاری سے چندہ نامہ سن رہا تھا اکتا کر پوچھا۔
کچھ نہیں اس کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرنا ہے،، پھر یہ کہاں جائے گی اس پر نگاہ رکھنی ہے،، اس کی بیٹی کو وہاں سے اٹھانا ہے،، وہ سرگوشیوں میں اپنے مکروہ عزائم ڈسکس کرنے میں اتنے محو تھے کہ جان نا پائے نایاب ان کی تمام بکواس سن رہی ہے۔
اسی طرح وہ باتیں کرتے وہاں سے باہر جا چکے تھے۔۔

نایاب نے آنکھیں کھولیں تو بے بسی اور لاچاری کے احساس سے تواتر سے آنسو بہے تھے۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر جو ہوسپیٹل سے ہو کر واپس آیا تھا۔ اب اطمینان تھا کہ وہ عورت ٹھیک تھی اب۔۔ وہ روم کے اندر نہیں گیا تھا۔ ہاں مگر ڈاکٹرز سے ساری ڈیٹیلز لے کر آیا تھا۔

کافی تھک چکا تھا۔ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو کیز، والٹ اور موبائل بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔ ایک گہری نظر کمفرٹر میں لپٹی اس نازک جان کو دیکھا۔
بچپن کی محبت ،جنون، دیوانگی تھی اس کی،، مگر پھر اس قاتل کی بیٹی ہونے پر اتنی ہی نفرت بھی کی تھی اس نے،، کتنا ڈرتی تھی وہ ماہ بیر سے،،مگر جب ماہ بیر کا اسے ٹارچر کرنا حد سے زیادہ بڑھ گیا تو اس چھوٹی سی جان نے بھی بغاوت شروع کر دی اس کی نفرت کے خلاف، مگر پھر بی جان کی موت کے بعد جب وہ وائٹ پیلس آئی تو سب کچھ بدل گیا،، اور وہ اس کے قریب آتا چلا گیا۔ بہت قریب۔

اب بھی حسبِ عادت ٹراؤزر پہن کر ، شرٹ اتار کر سائیڈ پر رکھ کر بیڈ تک آیا تھا۔۔ جب اسے کچھ غیر معمولی لگا۔ تب وہ فجر کے قریب نیم دراز ہوا تھا۔مگر وہ نیند میں بےچین سی تھی۔ جیسے کوئی بہت برا خواب دیکھ رہی ہو،، پورا وجود پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔
ماہ بیر نے اس کا چہرہ تھپتھپایا،، فجر ،،،ہیے،،، کیا ہوا ہے،، اٹھو،،
ماہ بیر نے اسے کندھوں سے تھام کر ہلکا سا جھنجھوڑا۔ تب اس نے آنکھیں کھولیں تھیں۔ اور ماہ بیر کو خود پر جھکے دیکھ اس نے پھوٹ پھوٹ کر روتے اس کے سینے میں منہ دیا تھا۔ ماہ بیر نے بھی اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹ کے اس خود میں بھینچتے سہارا دیا۔۔

اے کیا ہوا ہے اب بتاؤ گی مجھے کہ نہیں،، سنجیدگی سے کہا اور اس کی پیٹھ رب کی۔۔
ماہ بیر، حویلی میں،، حویلی میں ،،، وہ خواب میں،،سفید کپڑوں والے لوگ دیکھے میں نے،، پھر سے،، بی جان بھی تھیں،،، وہ ہچکیوں کے درمیان بتا رہی تھی۔۔
پہلے کب دیکھے تھے تم نے؟ جانے کیوں مگر ماہ بیر کا بھی دل کسی نے مٹھی میں جکڑا تھا۔۔
جب،، بی جان،،، ماہ بیر مم،، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے،، امی کو تو کچھ نہیں ہو گا ناں،، اس کے سینے سے منہ نکال کر فجر نے امید بھری نگاہوں سے ماہ بیر کو دیکھا تھا۔

نہیں کچھ نہیں ہوگا انھیں،، وہ ٹھیک ہیں ،،اور صبح میں تمھیں ان کے پاس لے کر چلوں گا حویلی میں،، ٹھیک ہے؟
ماہ بیر نے اس کی بھیگی پلکیں چومیں۔
ماہ بیر،،، ابھی چلتے ہیں،، وہ بے چین ہوئی۔۔
اب اگر گئے تو وہ پریشان ہوں گی،، اور ڈسٹرب بھی،، آئی پرامس صبح چلیں گے،، اوکے،، وہ نرمی سے اس کے چہرے کے دلکش نقوش چومتا بولا یہ جانے بغیر کہ اپنا یہ پرامس کبھی پورا نہیں کر پائے گا۔
ماہ بیر ،،،،،ی،، یہ خواب،،، وہ پھر رو دی،،
برا خواب تھا بھول جاؤ،، تین مرتبہ تعوذ پڑھ کر شیطان کو دھتکار دو خواب کا اثر زائل ہو جائے گا،، ماہ بیر نے اسے ہر طرح سے تسلی دی تو فجر اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند کر تعوذ پڑھنے لگی۔۔ ماہ بیر نے بھی اس کا نازک وجود جو ایک نازک مرحلے سے گزر رہا تھا،، خود میں سمیٹ لیا۔۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

جے کے سعد کے فون کر کے ڈنر پر بلانے پر مفرا کو لیے ان کے چھوٹے سے گھر میں آیا تھا۔
سعد کو کافی اچھا لگا تھا کہ وہ مفرا کو لیے ایک ہی فون کال پر چلا آیا تھا۔ اور اب سب ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے خوشگوار سے ماحول میں کھانا کھانے میں مصروف تھے۔۔
مفرا جبران کے پہلو میں بیٹھی کافی خوش دکھائی دے رہی تھی اور ہنس ہنس کر سعد کو کالج کی باتیں سنا رہی تھی اور یہ چیز حسبِ توقع سعد کے پاس بیٹھی نرما کو آگ لگا رہی تھی۔۔

(وہ کہتے ہیں نا حسد ایک زہر ہے جسے پیتے ہم خود ہیں اور توقع دوسروں کے مرنے کی کرتے ہیں۔۔ حسد کرنے والا کبھی خوش نہیں رہ سکتا اور یہی تو کرتی آئی تھی نرما،،
اس کی خوبصورتی ذہانت سے خواہ مخواہ کا بیر باندھ کر بیٹھی تھی شروع دن سے)

کھانا کھا چکے تو چائے کا دور چلا،، جبران نے کافی لی،، اور اب وہ چھوٹے سے لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب سعد نے کہا۔
جبران یار،، کافی رات ہو چکی ہے، ادھر ہی سو جاؤ،، صبح چلے جانا،، اور میں چاہتا ہوں تم یہیں رکو،،
اوکے بھائی،، وہ مان گیا۔۔ رات گئے تک محفل جمی رہی۔۔
تب وہ اٹھ کر اپنے اپنے روم میں گئے۔
جبران روم میں آیا تو کچھ دیر کے بعد اسے محسوس ہوا کہ کھڑکی کے باہر کوئی کھڑا ہے۔۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتا کھڑکی کے پاس آ کر رکھا۔۔ اسے سمجھنے میں دیر نا لگی کہ یہ وہی پاگل عورت ہے،، جو یقیناََ سعد کے سونے کے بعد یہاں سن گن لینے چلی آئی ہے۔۔

تبھی مفرا واش روم سے باہر نکل کر حیرت سے اس کے قریب آئی تھی۔۔ جو اتنی رات میں کھڑکی کے پاس کھڑا جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔۔
کیا ہوا؟ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ کچھ چاہیے آپ کو؟ وہ اس کے پیچھے کھڑی پوچھ بیٹھی۔
تبھی جبران نے ایک جھٹکے سے اسے بازو سے تھام کر اسی دیوار کے ساتھ پن کیا تھا۔
ہممم چاہیے تو ہو،، ہر رات کی طرح مجھے تم چاہیے ہو،، اپنے بہت قریب،، جبران کے بھاری بوجھل خمار آلود لہجے میں کیے گئے شوشے پر مفرا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔
آ،،، آپ،،، اس سے پہلے وہ کچھ کہتی جبران نے اس کے ہونٹوں کے ساتھ اپنے ہونٹ الجھائے تھے۔۔
(اگر باہر کھڑی عورت لائیو شو دیکھنا چاہتی تھی تو ایسا ہی سہی۔۔ اب وہاں سے بھاگ گئی تھی)

جبران نے جو ایک مقصد کے تحت یہ کیا تھا اب وہ نرم و گداز لمس پاتے ہی جیسے پاگل ہو چکا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے نہیں ہٹ پا رہا تھا۔ نا ہی یوں لگتا تھا کہ وہ کبھی سیراب ہو پائے گا۔
مفرا کی جان وہ اپنی اتنی شدت سے حلق میں اٹکا چکا تھا۔ اس کے سفید پڑتے چہرہ پر رحم کھا کر وہ نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔ مفرا نے نڈھال سا اس کے سینے پر سر گرایا تو وہ گہرا سا مسکرا دیا۔ مگر اس عمل نے جبران کے تمام سوئے جزبات جگا دئیے تھے۔
کیا ہوا ڈئیر وائفی،، اتنے میں ہی جان ہوا ہو گئی،، وہ اطمینان سے بولا۔
بہت برے ہیں آپ،، وہ اسی کے سینے میں منہ دئیے اسے ہی بولی۔
اجازت دو تو تھوڑا اور برا بن جاتا ہوں،، وہ اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے بولا تو وہ بری طرح کسمساتی اس کے بازوؤں سے نکلی اور بھاگ کر کمفرٹر میں دبک گئی۔
جبران نے دانتوں تلے لب دبایا اور شرافت کا مظاہرہ کرتے آ کر اس کے پہلو میں چپ چاپ لیٹ گیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

کافی لیٹ ہو چکے تھے ۔۔
وہ اور اس کی پھپھو رضیہ ہوسپیٹل سے نکلتے نکلتے کافی وقت ہو چکا تھا۔ انھوںنے باہر نکلا کر کیب کروائی اور وہاں سے نکلیں۔

شفا بنٹی (سیف)نے تمھارے ساتھ کیا بدسلوکی کی تھی مجھے بتاؤ میں اس کے کان کھینچوں گی،، مگر میرا شروع دن سے خواب تھا تمھیں بہو بنانے کا،، اور وہ بھی تم سے شدید محبت کرتا ہے، تمھارے بغیر جی نہیں پائے گا،، تو پلیز، اسے معاف کر دو،، میں نے بھائی سے تمھارے اور بنٹی کے رشتے کی بات کی تھی انھوںنے انکار کر دیا،، مگر اب تم ان سے کہو کہ تمھیں سیف پسند ہے۔۔
شفا نے حیرت سے گنگ ہوتے اپنی پھپھو کے بدلے لہجے،، سنجیدہ تیوروں میں بولے گئے الفاظ پر غور کیا جو ناصرف خود سے اتنے بڑے فیصلے کر کے اسے سنا رہی تھیں بلکہ اطمینان سے اسے عمل کرنے کو بھی بول رہیں تھیں۔

پھپھو یہ کیا بول رہی ہیں آپ،، مگر سوری ٹو سے،، مجھے سیف بلکل نہیں پسند تو ایسی کوئی امید مجھ سے مت رکھئیے گا،، وہ بھی پھپھو کی بھتیجی تھی کیوں لگی لپٹی رکھتی تبھی جو دل میں تھا بولا دیا۔
پھر تو بیٹا تمھاری زندگی مشکلات سے دوچار ہونے والی،، کیونکہ کمپرومائز کرتی تو سکون میں رہتیں،، وہ اطمینان سے بولی۔
کیا مطلب،، شفا چونکی۔۔

کچھ نہیں،، مگر وہ ایک رومال اس کے منہ پر رکھ چکیں تھیں۔ شفا بے ہوش ہو کر ان کے کندھے پر جھول گئی۔
رضیہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔
کاش جوان اولاد اتنا زلیل نا کرواتی جتنا سیف انھیں کروانے پر تلا بیٹھا تھا۔
ایک ماں سب برداشت کر سکتی ہے مگر جوان اولاد کی موت نہیں اور اسی چیز کو ہتھیار بنا کر باقاعدہ سیف نے اپنی نبض کاٹ کر ماں کو ایموشنل فول بنایا تھا۔

معاف کرنا میری معصوم بچی مگر میں مجبور ہوں،، میرا اکلوتا بیٹا مر گیا تو میں مر جاؤں گی۔ اسی لئے تمھاری پھپھو زرا خود غرض ہو گئی ہے۔ تمھیں میرے بیٹے سے نکاح کرنا پڑے گا۔
وہ کہتی گئیں اور اولاد کے سامنے اپنی بےبسی اور لاچاری پر بے آواز آنسو بہاتی رہی گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہر سوہم خان کی صبح آنکھ کھلی تو چہرے پر ایک آسودگی لیے مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔
اپنے پہلو میں دیکھا تو وہ اس کی سرخ شرٹ میں بکھری بے حال سی گہری نیند میں تھی۔
اپنا موبائل اٹھایا اور ضروری میسجز چیک کیے۔فون رکھ دیا اور پھر اپنی مارش میلو کی جانب متوجہ ہوا۔۔
رات کی خماری ابھی اتری ہی کہاں تھی۔ جیسے آنکھ کھل گئی تھی مگر دل و دماغ اسی حسین سپنے کی قید میں تھا۔ وہ تو چاہتا تھا یہ رات کبھی ختم نا ہو مگر ہائے رے یہ دل کے ارماں،،

وہ ہلکا سا اس کی جانب جھکا تھا۔ اور گداز گال پر اپنے لب رکھے ہلکی بئیرڈ اور گھنی مونچھوں کی چبھن سے وہ کسمسائی۔ اور دائیں سے چہرہ بائیں جانب موڑ لیا۔ وہ گہرا مسکرایا اور پھر بائیں گال پر لب رکھے۔۔
وہ پھر کسمسائی۔ اور برے برے منہ بنانے لگی۔ اب ماہر نے اس کی چھوٹی سی ناک پر لب رکھے تھے۔ وہ پھر ہلی۔ اور ہاتھوں سے ان دیکھی چیز خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
ماہر نے دانتوں تلے لب دبایا اور اس کے انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر تکیہ پر رکھے۔
اب زرا گستاخی شوخ ہونے والی تھی تبھی اس نے اس کے ہونٹوں پر نرمی سے لب رکھے۔ تبھی رواحہ نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں تھیں۔۔ اسے خود پر جھکے دیکھ وہ بوکھلائی۔۔
اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور ہٹایا مگر اس سے نگاہیں ملانا زندگی کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔ وہ اس کے نگاہیں چرانے پر گہرا مسکرایا،،
گڈ مارننگ مارش میلو اینڈ ویلکم ٹو مائی لائف،،
میں نے اور سونا ہے ،،اس نے کروٹ بدلنی چاہی مگر نہیں بدل سکی تھی۔

اتنا تو سوئی ہو اور کتنا سوؤ گی جانِ ماہر،، ماہر کی بات پر مارش میلو نے خمار آلود نگاہوں سے مگر نروٹھے پن سے اسے گھورا۔
آ،،، آپ،، جھوٹے ہیں،، رواحہ نے اطلاع دی۔۔
آں،، ہاں،، خطرناک بھی ہوں،، ماہر نے اس کی بیوٹی بون پر لب رکھے تو وہ اسے رات والے روپ میں آتے دیکھ تھرا اٹھی۔۔
مم،، ماہر،، پپ،، پلیز،، اس کی زبان لڑکھڑائی،، مگر وہ پھر مدہوشی میں ڈوب چکا تھا تبھی اس کے وجود پر سفر کرتے اس کے ہونٹوں نے رواحہ کو دنیا بھلا دی تھی۔
نازک پنچھی صیاد کے دام میں پھنس چکا تھا اب تو صیاد کی مرضی پر انحصار کرتا تھا کہ وہ کب اسے آزادی بخشتا ہے۔۔

ناشتے کے دوران بھی وہ اس کی گہری نگاہوں کے نشانے پر رہی کیونکہ اب وہ پھر رات والی سرخ میکسی اور اپر میں تھی۔۔تو رواحہ سخت جھنجھلائی،، ماہر پلیزززز،، مجھے تنگ کرنا بند کریں،،
میں نے کیا کیا،، ابھی تو دور بیٹھا ہوں،، تنگ کہاں سے کر دیا،، وہ کندھے اچکاتا سنجیدگی سے بولا ،مگر سبز آنکھوں میں خاص چمک تھی۔۔
آپ میری طرف مت دیکھیں ناں،، وہ جھلائی۔
رائٹ،،،تو اور کس طرف دیکھوں،، لہجہ چھیڑنے والا تھا۔۔
مجھے نہیں پتا؟ وہ کہہ کر چائے پینے لگی۔۔

تبھی ماہر کو کچھ غیر معمولی محسوس ہوا تھا۔ چھٹی حس نے کسی خطرے کا الارم دیا۔ فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی تھی۔
رستم اور اس کے کتے اندر گھستے چلے آئے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آروشے کی صبح آنکھ کھلی تو روم خالی تھا اس نے سکھ کا سانس لیا۔۔ کیونکہ وہ لاکھ دامن بچانے کی کوشش کر رہی تھی دل کم بخت تھا کہ اسی کی جانب کھنچا چلا جا رہا تھا۔ اسی کے نام کی مالا جپ رہا تھا۔ اس کے دیکھنے پر پاگل ہو جاتا اس کے چھونے پر سکون محسوس کر رہا تھا جس سے وہ جھٹپٹا رہی تھی۔۔ بیڈ سے اتر کر فریش ہو کر باہر آئی تو وہ سامنے ہی کھڑا بغور اسے دیکھ رہا تھا۔ آروشے گڑبڑائی
ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں؟
دیکھ رہا ہوں روشے بےبی بہت خوبصورت ہو گئی ہے،، یا پہلے بےبی لگتی تھی اب بےبو لگ رہی ہے،، وہ شرارت سے گہرا مسکرایا،،
آپ مجھے چھیڑنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اس نے آبرو اچکا کر تڑخ کر پوچھا۔
ہاں،، ایش نے اطمینان سے قبول کیا۔
کیوں؟
پہلے تم مجھے تنگ کرتی تھی اب میں حساب برابر کر رہا ہوں،، وہ کہتا دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا۔
میں صبح صبح آپ کے منہ نہیں لگنا چاہتی،، روشے نے دامن بچانا چاہا۔۔
ہممم غالباً رات بھی روشے بےبی نے یہی فرمایا تھا اور میرا جواب بھی دیکھ اور سن لیا تھا،، وہ اس کے راستے میں استاده تھا۔
ہٹیے سامنے سے مجھے باہر جانا،،
نہیں ہوں گا کیا کرو گی؟
میں دھکا دوں گی آپ کو،، وہ دانت پیس کر بولی۔
دو،،، اطمینان قابل دید تھا،،
آروشے نے بھنا کر اپنی پوری طاقت لگا کر اسے پیچھے ہٹایا وہ ہٹتا چلا گیا۔ آروشے مسکراتی آگے بڑھی۔۔
مگر کمرے میں ایک بھونچال سا آیا تھا پیچھے مڑ کر دیکھا تو کلیجہ منہ کو آیا۔ ڈریسنگ کے کونے پر خون کا دھبہ لگا تھا اور ایشان بے ہوش زمین پر پڑا تھا سر کے پچھلے حصے سے خون نکل رہا تھا۔۔
ایش،،،، آروشے کی دلخراش چیخ نے وائٹ پیلس کے درو دیوار لرزا دئیے تھے۔۔

Continue,,,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓