No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
وہ آروشے کو اپنے ہاتھ سے دوپہر کا کھانا کھلا رہا تھا۔ پاس ہی بیٹھی زمل روئے جا رہی تھی۔
مام پلیز،، وہ جھنجھلایا۔
ایشان تم سمجھتے کیوں نہیں،،
آپ جےکے کو کیوں نہیں روک رہیں مام؟ اور بڑے پاپا آریان کو کیوں نہیں روکتے چھوٹا ہے وہ،،، وہ شکوہ کناں لہجہ میں بولا۔
جے کے کو وہ والا مسئلہ نہیں ،،اگر تمھاری طبیعت خراب ہو گئی تو،، زمل بھی جھلا کر بولی۔
ابھی وہ کچھ کہنے کہ لئے منہ کھولتا کہ تبھی کبیر روم میں داخل ہوا تھا۔
چلو ایش جانے کا وقت ہو گیا سب بیسمنٹ میں پہنچ چکے ہیں ،وہ سنجیدگی سے بولا۔
کبیر آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں، آپ نے کہا تھا کہ ہم صرف نکاح میں شرکت کے لئے پاکستان آئے ہیں۔۔اور تو اور بجائے ایشان کو روکنے کے اسے ساتھ چلنے کا بول رہے ہیں؟
تسلی رکھو زمل ،،ہم پر بھروسہ نہیں ہے کیا تمھیں، کبیر سنجیدگی سے بولا۔
یےےےےےےے،، ایش دیکھو مما پاپا فائٹ کر رہے ہیں۔ آروشے جو کب سے ان کی بحث معصومیت سے سن رہی تھی اب زمل اور کبیر کی بحث پر اچھلتی کودتی کلیپنگ کرنے لگی تو اتنی ٹینشن میں بھی وہ تینوں ہنس پڑے۔
ایشان نے اسے سمجھایا تھا کہ اس نے ان کو مما پاپا بولنا ہے۔
کبیر اس کے پاس آیا۔۔اور روشے بےبی کا ماتھا چوما۔زمل میری بیٹی کا ایسے ہی خیال رکھنا جیسے تمھارا بیٹا اس کا رکھتا ہے، تمھارے بیٹے کی قیمتی متاع حیات ہے یہ، سمجھ رہی ہو ناں،ایش کے جانے کے بعد تمھیں اس کا خیال رکھنا ہے وہ بھی بہت سارا،، کبیر نے جان بوجھ کر اس کا دھیان بٹانے کو اس کی توجہ آروشے کی جانب دلائی۔
ہاں مجھے تو جیسے پتا ہی نہیں،، وہ منہ بسور کر بولی۔ تو کبیر نے ہنس کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔ جبکہ آروشے ہونق بنی ابھی پاپا کے اس جملے میں اٹکی تھی ایش کہیں جا رہا ہے۔
اہہم اہممم،، ماما پاپا یار کچھ تو بچوں کا خیال کریں، میری تو خیر ہے بٹ آپ لوگوں کے اس رومینس سے میری روشے بےبی کے زہن پر نا الٹا اثر ہو،، وہ بے حد شرارت سے بولا تو کبیر جھینپ گیا جبکہ زمل نے ایشان کے بازو پر دھموکہ رسید گیا دونوں بہانے سے وہاں سے نکلے کہ آروشے کا ہوائیاں اڑا چہرہ دیکھ چکے تھے اب ایشان اسے اپنے طریقے سے سمجھا لے گا۔
تھا تو مشکل ہی،، کیونکہ اب تو وہ اس کی اس قدر عادی ہو چکی تھی کہ اسے زرا بھی کہیں جانے نہیں دیتی تھی۔اگر سوتے میں چھوڑ کر جاتا تو ایشان کی غیر موجودگی میں اس کی آنکھ کھلتی تو آروشے وہ ہنگامہ مچاتی کہ اسے سنبھالنا مشکل ہو جاتا کجا کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اسے جانے دیتی۔
ایشان الماری کی جانب بڑھا مگر اپنے پیچھے اسے سسکیاں سنائیں دیں تو ٹھٹھک گیا ۔ فوراََ پیچھے مڑ کر دیکھا تو آروشے زمین پر پاؤں پٹخ پٹخ کر رو رہی تھی ایک تو سب اس کو روکنے پر تلے بیٹھے تھے اور اب یہ کمزور کر رہی تھی۔
ایشان کی رگیں تن گئیں۔ بےدردی سے اپنے لب کچلے۔ اسی نازک غریب جان میں تو جان اٹکی تھی اس کی اور اگر اسے کچھ ہو جاتا تو؟ تو اس کا کیا ہوگا؟ بس یہ ایک سوچ تھی جس کے آگے وہ کچھ سوچ نہیں پا رہا تھا۔
دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا۔جو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے میں مصروف تھی۔
کیا ہوا روشے بےبی کو،
ایش گندہ ہے،، روشے بےبی کو چھوڑ کر جا رہا ہے،، علیزے آپو بھی نہیں آئیں،، ایش بھی جا رہا ہے،، نو،، نو،، میں نہیں جانے دوں گی ایش کو،، وہ ضدی لہجے میں بولی۔
ایشان نے ضبط کی آخری حدوں کو چھو کر صوفے پر بیٹھ کر اسے اپنی گود میں بٹھایا۔
یو نو واٹ روشے،، ایش اس لئے جا رہا ہے تاکہ روشے بےبی کہ لئے ڈھیر ساری چاکلیٹس، آئس کریم اور ٹوائز لے کر آئے۔ اس کی آنکھیں اس کی زبان کا ساتھ نہیں دیں رہیں تھیں مگر صد شکر کے اس کی گود میں بیٹھی وہ پگلی نادان تھی جسے وہ کھوکھلی باتوں میں الجھا سکتا تھا۔
سچی ایش،، وہ رونا بھول گئی اور بھیگی آنکھوں سے اب اس کی آنکھوں میں جھانک کر اس کی کہی گئی بات کا سچ تلاش کرنے لگی۔
ایشان نے بوجھل ہوتے دل سے اس کی بھیگی آنکھیں چومیں تھیں۔آج جزبات کے طوفان کو روکنا اسے اپنے بس سے باہر لگ رہا تھا۔ سینے میں دل شور مچاتا جدائی کی لمحوں میں پسلیوں سے سر ٹکرا رہا تھا۔وہ پاگل سا ہوتا دیوانہ وار اس کا ایک ایک نقش چومے گیا۔
ای،،، ایش،، وہ اب گھبرا گئی تھی اپنے ایش کی اس عجیب رویے سے۔ مگر آج ایش ہوش میں کب تھا۔اس سے بچھڑنے کے خیال نے ایشان کو پاگل کر دیا تھا۔
تبھی آج ایشان نے خود پہ سے اختیار کھوتے اس کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اسے اپنے چہرے پر جھکایا تھا۔اس اچانک افتاد پر آروشے مچل ہی تو گئی تھی۔
بے حد تڑپ کر اس کی شرٹ کا کالر جھٹکا۔
ایشان نے اسے اپنے اوپر سے صوفے پر اتارا تھا۔وہ کھانستی لمبے لمبے سانس بھرتی سانس بحال کر رہی تھی۔
وہ سانس بحال کرنے کے بعد اس سے پہلے کہ اس سے کچھ کہتی وہ سرخ چہرہ لیے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رحاب روحا کے روم میں تھی۔ روحا مسلسل روئے جا رہی تھی جب پاشا اور سوہم خان ایک الوداعی نگاہ ان پر ڈالنے اندر داخل ہوئے ۔
روحا کے آنسو دیکھ کر حسبِ معمول سوہم خان کی رگیں تنی تھیں۔رحاب خاموشی سے پاشا کے بڑھائے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھماتی وہاں سے جا چکی تھی۔
روح،، سوہم نے پکارا۔
خبردار سوہم خان آپ نے بات کی ہم سے،، خبردار، وہ پھٹ پڑی جھوٹ بول کر لائے آپ ہمیں یہاں،،
روح جھوٹ نہیں بولا یار،، وہ زچ ہو چکا تھا اس کی ایک ہی تکرار سے۔۔
مگر سچ بھی تو نہیں بتایا آپ نے،، پہلے آپ نے خود کو اس عزاب میں جھونک کر رکھا اب ہمارے بیٹے کو بھی اسی میں جھونک دیا،، آخر ہم آپ سے پوچھتے ہیں ہمارا قصور کیا ہے،
اب سوہم خان نے آگے بڑھ کر حسبِ معمول اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سینے میں بھینچا تھا۔
تمھارا قصور یہ ہے روح کہ تم اس سوہم خان کے دل کی دھڑکن ہو، اور تمھارے یہ آنسو ہمیشہ کی طرح مجھے دشمنوں سے زیادہ اذیت پہنچاتے ہیں۔ تو رونا بند کرو نہیں تو جانا کینسل کر کے ابھی تمھارے ہوش ٹھکانے لگا دوں گا ہمیشہ کی طرح،
اس بوجھل بھاری گھبمیر آواز کی سرگوشیوں نے روحا کو ہمیشہ کی طرح بوکھلانے پر مجبور کیا تھا وہ بھونچکا سی اسے دیکھے گئ۔
سوہم خان بڑھتی عمر کے ساتھ آپ کے لوفر پن میں مزید چار چاند لگتے جا رہے ہیں حد ہوتی ہے ،بوڑھے ہو گئے مگر آپ،،،
وہ دانت پیستی بولی اور خود کو اس کی گرفت سے چھڑانے لگی۔جو کہ ہمیشہ کی طرح ہی ناممکنات میں سے تھا کہ وہ سوہم خان کی مرضی کے بغیر خود کو اس کی گرفت سے آزاد کروا سکتی تھی۔سوہم نے اپنے لب عقیدت سے اس کے ماتھے پر رکھے تھے۔
روح اپنی بہو کا خیال رکھنا، ہاں، تم لوگ جانتی ہو سب، کئی مرتبہ ہم گھر ادھڑی حالت میں واپس آئے اس لئے تم لوگ اس سب کو جانتی ہو، وہ ابھی انجان ہے اسے سنبھالنا، جانے کیسے واپسی ہو،، سمجھ رہی ہو ناں میری بات؟
روح نے تڑپتے اثبات میں سر ہلایا۔
دیٹس لائک مائی گڈ گرل،،
اونہہہ اب گرل کہاں رہی، آپ مزاق اڑا رہے ہیں ہمارا،، وہ منہ بنا کر بولی تو سوہم خان قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
یونہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتا وہ وہاں سے نکلا تھا۔
ادھر پاشا رحاب کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا اور وہ حسبِ معمول حجاب اسٹائل دوپٹہ اوڑھے ہوئے اس پر قرانی آیات پڑھ کر پھونک رہی تھی۔
کچھ اور زوجہ محترمہ،، وہ اس کے فری ہونے کے بعد بولا تو وہ مسکرا دی۔
میرے بیٹے کا خیال رکھیے گا،، وہ بھرائی آواز میں بولی۔
صرف بیٹے کا،، وہ آبرو اچکا کر پوچھنے لگا۔
مجھے پتہ ہے آپ اپنا خیال رکھیں گے میرے کہنے سے پہلے میرے لیے۔ وہ آہستگی سے بولی تو پاشا نے اپنے اندر تک سکون اترتے محسوس کیا۔تبھی آریان روم میں داخل ہوا تھا۔
کچھ پیار بیٹے پر بھی نچھاور کر دیں مام،، وہ شرارت سے جان نثار کرنے والی نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھتا بولا۔
وائٹ ٹی شرٹ کے نیچے بلیک پینٹ پہنے وہ باپ کی کاربن کاپی تھا۔اٹھتا قد،، کسرتی جسم ہاف سلیو سے نکلتے مسلز والے بازو،،، رحاب نے آگے بڑھ کر اسے سینے میں بھینچا۔
سارا پیار تمھارا ہی ہے، رحاب مسکرا کر بولی۔
او رئیلی زوجہ محترمہ،، سچ، میں،، پاشا نے آبرو اچکا کر کڑے تیور لیے رحاب کو دیکھا تو آریان اور رحاب قہقہہ لگا کر ہنس دئیے تھے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جبران جانے کے لئے بلکل تیار کھڑا تھا۔ جب بال برش کرتے آئینے میں اپنے پیچھے اس چھوٹی سی لڑکی کو کھڑے خود کی جانب دیکھتے پایا۔
وہ گہری سوچ میں تھی۔کیا تھا یہ شخص ۔ زمانہ کی سرد و گرم سے محفوظ رکھتا تھا۔ دوسری جانب اس کا عجیب رویہ،، اور وہ کون تھا جسے وہ اپنا بھوت بتاتا تھا۔کیسے وہ نرما کے مکرہ عزائم سے سائے کی طرح اس کی حفاظت کرتا تھا۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے بتایا تھا کہ وہ میڈیکل کا ایک بہت بڑا اور اہم سیمینار اٹینڈ کرنے بیرون ملک جا رہا ہے اور نہیں جانتا کتنے دن لگیں گے اسے۔
وہ اس کے جانے کا سن کر اندر تک ہل چکی تھی۔وہ اس نرما نامی ظالم عورت سے کیسے اپنی حفاظت کر پائے گی۔
بہت آسان ہے،، روز (گلاب)میں تمھاری دھڑکنوں میں دھڑکا کروں گا تو مجھے ہر پل اپنے دل کے قریب محسوس کرو گی پھر اپنی حفاظت بھی کر پاؤ گی۔ وہ ٹھہرے لہجے میں بولا تو مفرا کو سچ مچ اس سے خوف محسوس ہوا کہ وہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے کیسے جان گیا تھا۔
آ،،، آپ،،، کو،،، کک،،، کیسے،، وہ گھبرا گئی۔
وہ پیچھے مڑ کر اس کے قریب آیا تھا۔ہونٹ چومتی بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کیا وہ اس پاگل لمس سے گھبرائی۔
میں نے کہا ناں محبت کرتا ہوں تم سے،، تمھارے دل کا حال بغیر بولے بتا دیا ابھی تو واپس آ کر تمھاری رگ رگ میں اتروں گا،، بھاری آواز کی سرگوشیاں،،، مفرا کا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا دوبھر ہو گیا۔
وہ سیکنڈوں میں وہاں سے بھاگ جاتی کہ اس نے بازو سے کھینچ کر اسے ایک مرتبہ سینے سے لگایا تھا۔کچھ پل اسے محسوس کرنے کے بعد وہاں سے نکلا۔
ہاں مگر نرما سے ایک ملاقات کرنا نہیں بھولا تھا۔ جس میں اس نے نرما سے کہا تھا کہ اگر اس نے مفرا کو زرا سی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو انجام اس کا بہت بھیانک ہوگا۔
اور وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ خالی خولی دھمکیاں نہیں دیا کرتا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وائٹ پیلس پر عجیب قسم کی وحشت طاری تھی۔ رواحہ نے رو رو کر اپنا حشر بگاڑ لیا تھا۔ نہیں جانتی تھی کوئی ہے جو اس کی یہ حالت دیکھ کر اذیت میں ہے۔
منی بےبسی سے اس کے پاس بیٹھی اسے ٹوٹتے بکھرتے دیکھ رہی تھی۔۔
اوپر سے آروشے نے ایک الگ ہی ہنگامہ مچا رکھا تھا۔ پہلے تو وہ مچل مچل کر روئی اور کسی بھی چیز سے نہیں بہل رہی تھی۔۔
اور اب شدید پینِک ہو رہی تھی۔
فجر کی شام پانج بجے کے قریب آنکھ کھلی تھی۔ بوجھل ہوتی آنکھیں بمشکل ہی کھول پائی۔ وہ بڑی مشکل سے اٹھ بیٹھی۔۔دماغ پر لاکھ زور ڈالنے کی کوشش کی کہ یاد آ جائے کہ رات نکاح کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ رہی تھی اس کے بعد ماہ بیر کو ڈرنک دینے کے بعد سے کیا ہوا کیا نہیں اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔کمرہ خالی تھا اس کا مطلب وہ جا چکا تھا۔ لاکھ کوشش کرنے دماغ پر زور دینے کے باوجود اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا تھا اور وہ اتنی دیر کیوں سوتی رہی ہے۔ اس کو تو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اس نے اپنا ڈریس کب چینج کیا۔
باہر سے آتی آروشے کی اونچی آوازوں سے گھبرا کر وہ اٹھی تھی۔ لیکن آنکھوں کے سامنے دنیا گھوم گئی۔
اب بھی پورے جسم میں درد سا تھا اور سر بری طرح چکرا رہا تھا۔مگر وہ پھر بھی ہمت کر کے اٹھی۔
باہر آئی تو لاونج میں سب موجود تھے۔سوائے ان کے جن کے دم سے اس وائٹ پیلس میں رونق تھی، زندگی تھی۔
سامنے سے عاشی آتی دکھائی دی تو وہ رک گئی۔۔ وہ اس کے پاس سے گزرنے لگی۔
سنو،،، فجر نے جھجھکتے اسے پکارا۔
یس،، اسے فجر کے بلانے پر شدید حیرت ہوئی کیونکہ فجر بیچاری کو منہ نہیں لگاتی تھی۔
وہ،،، کک،،، کہاں ہیں،، اور سب،، مطلب بڑے پاپا،، سوہم ڈیڈ،، اور کبیر پاپا،، کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا۔
وہ الجھ گئی تھی کیونکہ ان میں سے کوئی نا کوئی ضرور وائٹ پیلس میں موجود ہوتا تھا۔
وہ سب کہیں کام سے گئے ہیں کچھ دن بعد لوٹیں گے، ایش کا میسج ہے تمھارے لئے کہ تم سے کہوں کہ آروشے کا خیال رکھنا۔
وہ کہہ کر رکی نہیں چلی گئی جانے کیوں مگر فجر کو اس کی آنکھوں میں وحشت اور نمی نظر آئی۔ وہ الجھی مگر اپنی الجھن ایک طرف رکھتی آروشے کی جانب بڑھی۔
پھر بڑی مشکل سے اس نے آروشے کو بہلایا پھسلایا تھا۔
پنکی جانے کیوں اپنے کمرے میں صبح سے بند تھی۔وہ سب کھانے کی ٹیبل پر بیٹھیں تھیں۔رحاب، روحا اور زمل آپس میں ہلکی پھلکی گفتگو کر رہیں تھیں۔رواحہ سوگوار سی بیٹھی اپنی پلیٹ موجود بریانی کے چالوں سے ہاکی کھیل رہی تھی۔ فجر آروشے کے پاس بیٹھی تھی۔جو مسلسل ضد کر رہی تھی کہ پہلے ایش کو بلاؤ مجھے اس کے ہاتھ سے کھانا کھانا ہے۔
میں اپنی ڈول کو موبائل فون میں وڈیو گیم لگا کر دوں گی، اور یو نو واٹ ایش گندہ ہے اس سے کٹی ہو جاؤ، وہ روشے بےبی کو چھوڑ کر چلا گیا اب جب تک وہ روشے بےبی کے لئے ڈھیر ساری چاکلیٹ اور ٹوائز نہیں لاتا،روشے بےبی بھی اس سے کٹی رہے گی،، اوکے،، فجر نے اس کے سر پر سے ایش کا بھوت اتارنے کو فی الحال یہی پتہ پھینکا کہ جب تک وہ نہیں آتا تب تک تو سکون آئے۔
او یس یس،، فجر آپو،، ایش گندہ ہے روشے بےبی کو چھوڑ کر گیا،، میں کٹی ہوں ایش سے،، وہ بیڈ بوائے ہے یو نو واٹ،، اس نے جاتے وقت روشے بےبی کے لپس پہ کاٹی بھی کی۔۔
وہ برا سا منہ بناتی بولی تو فجر پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ رحاب، روحا اور زمل بھی کانوں تک سرخ ہوتیں قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں تھیں جبکہ رواحہ ہونقوں کی طرح سب کو دیکھ رہی تھی۔منی بھی رواحہ کے پاس بیٹھی پیٹ پکڑ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔
روشے بےبی بری بات اپنے فرینڈ کی باتیں سب کو نہیں بتاتے،، فجر نے اسے گھرکا۔
نو،،نو،، فجر آپو،، جب میں باتھ ٹب میں ڈکلنگ بن گئی تھی تب ہم عمران ہاشمی والی گیم کھیل رہے تھے تب ایش نے صرف میرے فورہیڈ اور چکس پہ کسی کی تھی بٹ آج وہ بیڈ اور ڈرٹی بوائے بن گیا تھا۔ روشے نے گندہ سا منہ بنایا۔
روشے بےبی بیچارے ایش کے محبت کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوڑنے پر تلی بیٹھی تھی۔ فجر اور رواحہ بھونچکا سی لہو چھلکاتے چہرے کے ساتھ اپنی اپنی پلیٹ کے اوپر جھک گئیں۔
یار زمل اپنے بیٹے سے بولنا اب روشے بےبی کے قریب آنا ہو تو پہلے اسے سمجھا دے کہ یہ سیکرٹ باتیں ہوتی ہیں نہیں تو انجام سامنے ہی ہے،، رحاب وحشت بھرے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کرتی کہتی ہنسے گئی۔۔
زمل بھی اداسی سے مسکرا دی۔گدھا کہیں کا،،
وہ تو آروشے میں خود کو الجھا لیا تھا انھوںنے ۔جس کی معصوم حرکتیں اور باتیں انھیں ہنسنے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔اگر آروشے بھی نا ہوتی تو جانے ان کا کیا ہوتا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
مختلف زرائع سے ہوتے ہوئے اب وہ سب اسلام آباد کی ایک بڑی عمارت کے بیسمینٹ میں جمع ہو چکے تھے۔ کوئی بائی ائیر یہاں پہنچا تھا کوئی بائی روڈ، کوئی پرائیویٹ تو کوئی لوکل۔غرض وہ سب الگ الگ ہو کر آئے تھے یہاں۔
سربراہی کرسی پر پاشا تھا۔ انھیں کچھ دیر میں نکلنا تھا۔بس راسم حفیظ کی جگہ پر ماہ بیر راسم حفیظ بیٹھا تھا۔
وہ سپر ایٹ تھے۔اور آج اپنا کچھ پرانا حساب برابر کرنے چلے تھے۔تبھی سب سیاہ پینٹ شرٹس میں منہ پر سیاہ رومال باندھے ہوئے تھے۔ سیاہ لانگ بوٹ، بس دھشت زدہ آنکھیں تھیں جو دکھائی دیتی تھیں۔۔ جن کی ہیبت اور قہر دشمن کے دلوں پر لرزا طاری کرنے والا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اسلام آباد کے پوش ایریا کے قدرے ویرانے میں بنی اس بہت بڑی عمارت کی سیکورٹی ان بریک ایبل تھی۔
یہ ایک بہت بڑا فارم ہاؤس تھا۔ رات کے گہرے اندھیرے میں ایک ٹرالر کی آواز چہار سو گونجی تھی۔ وہ ٹرالر بڑی پراسراریت سے اس فارم ہاؤس کے بڑے سے لان میں داخل ہوا تھا۔ اس ٹرالر میں سے ڈرائیور اور پیچھے بظاہر گندم کی بوریوں کے پاس سے گارڈز اتر کر اندر کی جانب بڑھے تھے۔
یہ جانے بغیر کے اس ٹرالر کے نیچے چار افراد جنھوں نے خود کو لوہے کی ہکس سے ٹرالر کے نیچے باندھا ہوا تھا۔بہت آہستگی سے ہکس سے خود کو آزاد کرتے ٹرالر کے نیچے سے باہر آئے تھے۔
Continue,,,,,,,,,,,
