Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

رواحہ کا سفید پڑتا چہرہ منی بھی دیکھ چکی تھی۔ وہ فورا کھڑکی سے پیچھے ہٹی تھی۔
اری کیا ہوا دوست؟ منی نے اس کے لرزتے سکتے میں آئے وجود کو جھنجھوڑا، تو اسے ہوش آیا۔ رواحہ کو اپنی بلکل فکر نا تھی۔کیونکہ اسے پتہ تھا کہ وہ اسے تو کچھ نہیں کہے گا، مگر منی کو چھوڑے گا نہیں۔

مم،، منی،، وو،، وہ درند وہ،،رر،، رستم یہاں بھی پہنچ چکا ہے۔چلو یہاں سے، رواحہ نے فوراً سے بیشتر منی نے جو کپڑے نکال کر الماری میں جوڑے تھے۔انھیں کھینچ کر یونہی بیگ میں ٹھونسے۔اور منی کا ہاتھ تھامے باہر نکلی۔
منی کے کان میں جو ائیر پوٹس لگا ہوا تھا اس میں سے وہ سب سن رہا تھا۔اور منی کے کان میں جو بُندہ تھا اس میں سے وہ ہوائیاں اڑا چہرہ دیکھ رہا تھا۔

منی اسے لے کر پچھلے دروازے سے باہر نکلو فوراً، منی کے کان میں سوہم خان کی بھاری آواز گونجی۔
وہاں سے نہیں دوست ادھر سے چلو، منی نے پچھلی سائیڈ کی جانب اشارہ کیا۔
وہ مختلف راہ داریوں سے ہوتی ہوئیں پیچھے کی جانب سے گیٹ کی جانب بڑھی۔جہاں سوہم کے آرڈرز کے مطابق اس وقت کوئی واچ مین موجود نہیں تھا۔

تھوڑی دیر کے لئے رواحہ منی سے کچھ دور ہوئی تھی۔
یہ سب کرنے کا مقصد سوہم خان، منی دھیمی آواز میں پھنکاری۔
منی سے اس نازک جان مارش میلو کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔مگر اس گرین مونسٹر کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔
میں چاہتا تھا وہ اپنے ڈر کا سامنا کرے اور اسے کاٹنے والے کتے کے آگے بھی تو ہڈی پھینکنی تھی۔اب جب اس کی وہاں موجودگی کا پتہ لگے گا مگر اسے وہاں نہیں پائے گا تو وہ غصے سے پاگل ہو جائے گا۔اور یقینا کوئی غلطی کرے گا۔اور یہی میں چاہتا ہوں۔
سوہم کی گوہر افشانیوں نے منی کو اور خائف کیا تھا۔

وہ بھاگ کر جلدی سے گیٹ پار کر گئیں۔
دائیں طرف مڑو، منی نے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔رواحہ نے چادر سے مکمل اپنا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا۔منی نے بھی ماسک لگایا تھا۔
منی اسے لئے دائیں طرف مڑی۔

اب غور سے سنو منی، گلی کے نکڑ پر ایک رکشہ کھڑا ہے، جو کے میں نے کھڑا کروایا ہے، اس تک جاؤ، اور تم خاموش رہنا، میں نے اس کے منہ سے سننا ہے کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہے۔
سوہم کے اس نئے شوشے پر منی کا دل کیا ماتھا پیٹ لے ۔اسی لئے جب وہ رکشے تک پہنچیں تو منی قصداً تھوڑی پیچھے رہ گئی تھی۔
بھائی چلو، رواحہ نے رکشے میں بیٹھتے ہی کہا۔
کدھر باجی، رکشے والے نے حکم کے مطابق سوال پوچھا۔
اور پھر رواحہ کے منہ سے سی ویو اپارٹمنٹ کا ایڈریس سن کر کوئی گہرا مسکرایا تھا۔

مگر نہیں جانتا تھا سامنے والی نازک سی جان پر کیا گزر رہی ہے اگر جانتا تو اسے یوں اذیتوں کی بھٹی میں ناں جھونکتا۔
کہ وہ گرین مونسٹر نہیں جانتا تھا کہ رستم تو اس کے لئے کسی نائٹ مئیر سے کم نہیں ہے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ جلے پیر کی بلی بنی پورے وائٹ پیلس میں گھوم رہی تھی۔
تبھی اس کے روم کی جانب گئی تھی۔
جب سے یہاں آئی تھی جان بوجھ کر اس کے سامنے نہیں گئی تھی۔ جب یہ یقین ہوتا کہ ماہ بیر وائٹ پیلس میں ہے وہ اپنے کمرے کی ہو کر رہ جاتی۔

جب سے وہ اسے یہاں لایا تھا۔نوٹ کر رہا تھا میڈم اس کے آنے سے پہلے گدھے کے سر سے سینگ کے مترادف غائب ہو جاتی تھی۔مگر وہ کیوں بھول جاتی تھی کہ وہ جلاد ہے، ماہ بیر کو اسے اس کی بل سے نکالنے کے سو گُر آتے تھے۔
اب کی مثال سامنے تھی۔

ادھر جب رواحہ دارالامان میں پہنچی تھی تب سے لے کر اس کے وہاں سے نکل جانے تک کے لئے وہاں کے اور آس پاس کے سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیوز ہیک کر کے بند کرنے کا کام سوہم نے ماہ بیر کو سونپا تھا۔ تبھی وہ کرن کو لئے اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔دروازہ جان بوجھ کر لاک کر دیا پتا تھا وہ ضرور دیکھے گی۔

مگر وہ نہیں جان پایا تھا کہ فجر میڈم آج اس سے دو قدم آگے تھی۔جب فجر نے دیکھا کہ وہ لاؤنج میں بیٹھے روم میں جانے کی تیاری میں ہیں وہ جلتی بھنتی پہلے ہی شیر کی کچھار میں گھس گئی تھی۔
اس سڑیل کے کمرے میں آ کر جلدی جلدی ادھر ادھر دیکھا اور فورا سے لکڑی سے بنی الماری میں گھس گئی۔

کرن صوفے پر بیٹھی گود میں لیپ ٹاپ رکھے تیزی سے انگلیاں چلا رہی تھی۔اور وہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلتا ائیر پوٹ میں کسی سے باتیں کرتا وقتا فوقتا جھک کر لیپ ٹاپ پر نگاہ دوڑا لیتا۔ ساتھ ساتھ کرن کو انسٹرکشن بھی دئیے گیا۔
ادھر وہ الماری میں سانس روکے سوراخ میں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وائٹ ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ میں وہ مقابل کو اپنی پر سحر شخصیت سے چاروں شانے چت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔
وہ ایک مرتبہ تو ٹھٹھک کر رکا تھا۔شاید کچھ غیر معمولی محسوس ہوا تھا۔ ماہ بیر کی ساری حسیں بیدار ہوئی تھیں ایک تو وہ جب اس کمرے میں آیا تھا ۔مخصوص دلفریب سی مہک سانسوں سے ٹکرائی تھی دوسرا اس نے الماری کا پٹ ہلتے واضح انداز میں دیکھا تھا۔
ماتھے پر حسبِ معمول بل ہی تھے۔ مگر اب میڈم کی سچویشن سوچ کر دانتوں تلے لب دباتا اب وہ الماری کی جانب سے رخ پھیر چکا تھا۔

وہ شاید اپنا کام مکمل کر چکے تھے۔اور اب جان بوجھ کر وہ کرن کے اوپر جھکا لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے تھا۔تبھی وہ صوفے پر اس کے بہت قریب بیٹھ چکا تھا اور ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اڑسی
کرن اس کایا پلٹ پر حیران ہوئی۔
کیا بات ہے ماہ بیر، خیرت ہے، وہ سنجیدگی سے بولی،
آں،، ہاں نو خیریت نہیں ہے۔ماہ بیر جان نے جان بوجھ کر اس کی گردن میں منہ دیا۔کرن کسمسائی۔
چپ چاپ بیٹھی رہو کرن ،،وہ الماری میں سے ہمیں دیکھ رہی ہے، ماہ بیر نے اس کے کان میں بہت دھیمے سے سرگوشی کی۔
اوووو، کرن نے ہونٹ او شیپ میں سکیڑے۔

ادھر فجر کا دل کیا ان دونوں کو شوٹ کر دے کس مصیبت میں پھنس گئی تھی۔ نا اب بھاگ سکتی تھی نا یہ سب دیکھ سکتی تھی۔اعصاب چٹخنے لگے۔
پھر دیکھا۔
اب وہ اس کا چہرہ تھامے اس کے ہونٹوں پر جھکنے والا تھا۔ تبھی فجر نے زور سے آنکھیں بند کر ہاتھوں میں چہرہ چھپایا تھا۔
کافی پل بیت گئے، ماہ بیر نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا بلکہ بہت آہستگی سے اسے لیپ ٹاپ اٹھا کر باہر جانے کو بولا۔
وہ چلی گئی تو وہ الماری تک آیا تھا۔
ایک جھٹکے سے الماری کھولی۔وہ جو ہاتھوں سے چہرہ چھپائے بیٹھی تھی۔۔

اس اچانک افتاد پر اس کی جھولی میں پکے آم کی طرح آ گری تھی۔۔ اب فجر کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملنی تھی۔اسی لئے سختی سے آنکھیں بند کیے رکھیں تاکہ اپنی دانست میں اس جن کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔مگر یہ اس کی خام خیالی تھی۔
وہ اپنے قہقہوں کا گلا گھونٹتا بمشکل بولا۔
واٹ دا ہیل ، ہو کیا رہا ہے یہاں؟ کیا کر رہیں تھیں یہاں؟

چھوڑیں مجھے، نیچے اتاریں، میں آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ،وہ اپنی شرمندگی کو غصے میں کور کرتی بولی۔
واؤ تو یہاں لائیو شو دیکھنے آئی تھیں ۔وہ اسے آگ لگاتا بولا۔
اونہہہ آپ فلم چلائیں یا ڈرامہ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا،چھوڑیں مجھے، وہ جل کر بولی۔اور مچلی۔
مگر وہ اسے نیچے اتار الماری کے ساتھ پن کر چکا تھا۔

رئیلی، مگر مجھے تو لگتا ہے کہ تم میرے قریب آنا چاہتی ہو، بہت قریب، کہتے وہ اس کی شہہ رگ پر دہکتے لب رکھ چکا تھا۔ فجر کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔ اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑ کر شدید مزاحمت کی۔ مگر اس نازک سی مزاحمت کا سامنے والے پہ خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا۔
تبھی شہہ رگ سے لب پوری گردن پر سفر کر رہے تھے۔

آ،، آپ چھوڑیں مجھے، اس کرن سے ہی یہ شغل فرمائیں،، مجھے چھوڑیں، وہ دانت پیس کر بولی۔
ماہ بیر نے اس کے بال مٹھی میں جکڑے تھے۔
بہت گستاخیاں کرنے لگی ہیں میڈم فجر صاحبہ اب اس کی سزا تو بنتی ہے کہ خود چل کر میرے روم میں آئی تو اس کا انعام تو تمھیں ملنا ہی چاہئے۔
یہ کہتے وہ اس کے چہرے پر جھک چکا تھا۔ فجر پاگل ہوتی دھڑکنوں سمیت غصے، بےبسی اور حیا سے اس جنگلی کی بانہوں میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔
جانے کیوں ماہ بیر کو جو اس پاگل لڑکی کو محسوس کر کے اس کے قریب آ کر ایک سکون اور سرور سا رگ و پہ میں اترتا تھا۔ وہ باقی کسی چیز میں نہیں آتا تھا۔
سینے میں الجھتی سانس سے بے حال ہوتی اس نے اس کا کالر مٹھیوں میں جکڑا تھا۔ جسے آج اس پر زرا رحم نہیں آ رہا تھا۔
پھر جانے کیسے بہت دیر خود کو سیراب کر کے وہ پیچھے ہٹا تھا۔
اور دلچسپی سے اسے دیکھا جو اب لال ٹماٹر چہرہ اور بھیگے لب لیے شدید طیش و اشتعال میں اسے گھور رہی تھی۔

بب،،، بہت،، چھ،، چھچھورے،، اور، چیپ انسان ہیں آپ،، وہ بھوکی شیرنی بنی غراتی اسے پرے دھکیل کر راستہ بناتی بھاگی اور اپنے کمرے میں ہی آ کر سانس لیا تھا۔
اونہہہ دیکھنا کیسا بدلہ لوں گی، جیسے مجھے جلاتے ہیں، میں بھی انگاروں پر گھسیٹ لوں گی، بڑا شوق ہے ناٹک کرنے کا، پر میں سب کچھ حقیقت میں کر کے دکھاؤں گی۔
وہ اپنے انجام کی پرواہ کیے بغیر غلط ارادے باندھتی رحاب اور پاشا کے کمرے میں گئی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رات گہری ہو چکی تھی۔ اور مِفرا خوف سے سرد پڑتی جا رہی تھی۔ ہر آہٹ پر خود سمٹ سمٹ جاتی۔
جو اسے میڈیسن دی جارہی تھی۔وہ اس کو پھینک دیتی تھی یہ جانے بغیر کے اس تک تو غلط میڈیسن پہنچنے ہی نہیں دی جارہی تھی۔سونیا کی نگرانی میں اس تک محض امیونٹی انکریز کرنے کی میڈیسنز دی جا رہی تھیں۔

تبھی اسے اپنی موت سامنے نظر آئی جب وہ ڈاکٹر خباثت سے ہنستا دو تین غنڈے نما آدمیوں کے ساتھ اس کے بیڈ تک آیا تھا۔
اس نے بیڈ سے اٹھ کر بھاگنا چاہا۔مگر بھول گئی تھی کہ پاؤں زنجیر بندھی ہے اسی لئے اوندھے منہ گری۔
اتنے میں وہ شیطان قہقہے لگاتے اس کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ اور اسے بازوؤں سے دبوچا۔
وہ بری طرح پھڑپھڑائی اور چلانے کو منہ کھولا۔
تبھی اس کے منہ پر رومال رکھ دیا گیا تھا۔
وہ ہوش و خرد سے بیگانہ وہیں ڈھے گئی جب ان میں سے کسی ایک نے اسے کندھے پر گرایا ۔
اور اسے لئے باہر جانے لگے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

علیزے کافی جھنجھلائی ہوئی تھی کیونکہ کل رات سے ڈاکٹر نکاح کے بعد گیا تھا اور واپس نہیں لوٹا تھا۔ آروشے نے بھی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ وہ خود بھی ٹھیک نہیں تھی۔
بہت ہی مشکل سے آروشے کو قابو کر اسے میڈیسن دے کر سلا کر ابھی ہٹی تھی جب ایک کولیگ اور فرینڈ فرح کا فون آیا۔
اس نے علیزے کو بلایا تھا۔کوئی ایمرجنسی ہو گئی تھی شاید اس کے کسی عزیز کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔

وہ گھر لاک کرتی ڈرائیور کے ساتھ وہ گاڑی لے کر نکلی جو ڈاکٹر نے اسے دی تھی۔
ہوسپیٹل پہنچ کر وہ گاڑی سے نکل کر بھاگ کر اندر گئی تھی۔واقعی فرح کے ہزبینڈ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔اور اس شہر میں ان کا کوئی اور تھا بھی نہیں سو اس نے علیزے کو بلا لیا تھا۔
دو گھنٹوں کے صبر آزما انتظار کے بعد ڈاکٹرز نے اچھی طرح پیسوں کی صورت فرح کا خون نچوڑ کر آخر خبر سنا ہی دی کہ وہ ٹھیک ہیں۔
تب انھوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
پھر فرح نے اصرار کر کے اسے واپس جانے کو کہا۔کہ اس وقت اسے جزباتی سہارے کی ضرورت تھی مگر اب وہ ٹھیک تھی۔

وہ طویل کوریڈور سے نکل کر باہر آئی تھی۔اسی ہوسپیٹل کے بلکل سامنے وہ مینٹل آزائلم تھا۔مگر ان کی پارکنگ ایک ہی تھی۔ وہ پارکنگ میں آئی تھی۔جب کچھ غیر معمولی محسوس ہوا۔ وہ بے شمار کھڑی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی کے پیچھے چھپ گئی ۔تبھی دیکھا تین چار لوگ مینٹل ازائلم سے باہر آئے تھے۔جن میں ایک ڈاکٹر بھی تھا۔ان میں سے ایک کے کندھے پر ایک نازک سی بے ہوش لڑکی تھی۔ ابھی وہ کچھ کرتی کہ ٹھٹھکی ۔

کیونکہ اب ان غنڈوں کے سامنے ایک لمبا چوڑا شخص آن کھڑا ہوا تھا۔جس کے چہرے پر رومال بندھا تھا۔
اے کون ہو تم؟ مرنا نہیں تو ہٹو سامنے سے، وہ ڈاکٹر غرایا۔

دنیا مجھے جے کے، کے نام سے جانتی ہے، اسے میری پہلی اور آخری وارننگ سمجھ لو اور نیچے اتارو اسے، اس نے ایک نگاہ مِفرا کے ڈھلکے وجود پر ڈالی تھی اور سینے میں ایک غصے کا طوفان اٹھا۔اب تو سامنے والوں کی دردناک موت طے تھی۔
لال انگارا آنکھوں سے گھورتے وہ غرایا تو ان کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔
اے منہ کیا دیکھ رہے ہو ہٹاؤ اس ہیرو لے آگے سے، ان میں ے ایک غنڈہ دانت پیس کر بولا۔

ان میں سے ایک نے گن نکالی تھی، مگر اس سے پہلے وہ فائر کرتا اس کا ہاتھ کلائی سے الگ ہو چکا تھا۔ اب جے کے نے انھیں سوچنے سمجھنے کا موقع ہر گز نہیں دیا تھا کیونکہ اس کے سینے میں جو آگ لگی تھی وہ انھیں بھسم کرنے پر ہی ٹھنڈی پڑنی تھی۔۔
وہ ان پر وار کرتا جاتا اور کہتا جاتا۔
تم لوگوں کی ہمت بھی کیسے ہوئی اسے تکلیف دینے کی، اسے نقصان پہنچانے کی، ہر ہاتھ جو تکلیف دینے اس کی جانب بڑھے گا یونہی دھڑ سے الگ کر دیا جائے گا۔
ہر اس انسان کو جے کے کو حساب دینا پڑے گا جس نے اسے تکلیف دی۔
وہ جنونی، خونخوار اور جیسے شدت پسند ہوا تھا۔
شاید تبھی اس نے مفرا کو یہاں اسی مقصد سے بھیجا تھا کہ وہ اس کو تکلیف دینے والوں کو دنیا سے ہٹانا چاہتا تھا۔

بہت جلد وہ کٹے پھٹے اعضاء لیے فرش پر پڑے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے جلد ہی ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ وہ اطمینان سے کھڑا دیکھتا رہا۔اور یہ مناظر دیکھ علیزے کو ابکائیاں آ رہیں تھیں۔
خوف سے وہ لٹھے کی طرح سفید پڑ چکی تھی۔ اب وہ نیچے اس لڑکی کے اوپر جھکا ہوا تھا۔اس نے اپنا رومال اتارا تھا۔اور اس لڑکی کو نرمی سے اپنی بانہوں میں بھرا تھا۔
اور آسمان علیزے کے سر پر گرا تھا۔
کیونکہ وہ سامنے والے کو روشے بےبی کا ایش سمجھ بیٹھی تھی۔

کتنی بڑی غلطی کی تھی اس نے کہ بنا چھان بین کیے اپنی معصوم پگلی بہن کی زمہ داری ایک وحشی درندے کو ہی سونپ دی تھی۔ یہ تو وہ والا حساب تھا کہ بلی کو کبوتر کی رکھوالی پر رکھ دیا تھا۔
ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتے صرف ایک سوچ تھی اس کے دماغ میں کے اسے اب آروشے کو لے کر یہاں سے بھی بھاگنا تھا دور بہت دور جانا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رواحہ آگ بنی اس اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھی۔منی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی وہ تیز قدموں سے آگے بڑھی۔اپنا بیگ لاؤنج میں پھینکا اور اب اس کا رخ بلیک روم کی جانب تھا۔
جھٹکے سے پیچھے مڑی۔
جب تمھارا بھائی آ جائے منی تو انھیں بلیک روم میں بھیج دینا۔

منی نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ جلدی سے بلیک روم گھس گئی، اندر آ کر بیڈ پر بیٹھی لہو چھلکاتا چہرہ، رو رو کر آنکھیں بھی سوج چکی تھی۔
وہ خود نہیں جانتی تھی آخر چاہتی کیا تھی۔دل و دماغ سن ہو چکے تھے۔
ہاں خود اذیتی ہی خود اذیتی تھی۔۔
اونہہہہ جب میں اتنی تکلیف میں ہوں تو انھیں کیوں سکون سے رہنے دوں۔
روند دوں گی ان کہ محبت، دھچیاں بکھیر دوں گی۔ ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اچھال دوں گی۔
وہ بلکل غلط اردادے باندھتی الماری کی جانب گئی۔الماری کھولی تو سامنے ہی وہ سرخ کفن تھا جو وہ پہن کے آئی تھی۔
اسے اٹھایا اور واش روم گھس گئی۔

وہ جو باہر اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تھا۔منی کو اپنے انتظار میں ادھر سے ادھر چکراتے پایا۔
خیریت، سوہم نے پوچھا۔
الله کی شان،، یہ ادائے بے نیازی،، منی عش عش کر اٹھی۔
وہ کندھے اچکاتا اپنے کمرے کی جانب جانے لگا حالانکہ روم روم کسی اور ہی جانب متوجہ تھا۔

اس نے خود کو بلیک روم میں بند کر لیا ہے اور تمھیں بلایا ہے ادھر،
منی کے ان غیر متوقع الفاظ پر وہ ٹھٹھک کر رکا تھا۔
کیوں؟ سوہم نے اپنا لہجہ دھیما ہی رکھا۔
مجھے کیا پتا؟ منی کہتی اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔

وہ عجیب کشمش کا شکار ہوا۔
دل کی منزل اُس طرف ہے گھر کا رستہ اِس طرف ،
اس نے سرد سی آہ بھری اور بلیک روم کی جانب گیا۔ سلائیڈنگ ڈور جو کے اب ان لاک تھا۔ہلکے سے کھٹکھٹایا۔ مگر اندر گہری خاموشی تھی۔
وہ گہری سی سانس کھینچتا ڈور ایک سائیڈ دھکیلتا آج بغیر رومال باندھے اندر داخل ہوا تھا۔

مگر اندر کا منظر دیکھ وہ بھونچکا سا وہیں جم گیا تھا۔
What the he’ll is going here. Have you gone crazy?
وہ جو اسی سرخ لباس میں اپر پہنے جالی دار دوپٹہ لیے بیڈ پر بیٹھی تھی۔اس بھیانک دھاڑ پر بھی ٹس سے مس نا ہوئی تھی۔

پاگل نہیں ہوئی میں، آفر لائی ہوں آپ کے لئے، یہاں سے جانے کے بعد جو وہ درندہ صفت رستم میرے ساتھ کرے گا، وہی سب کچھ آپ کر سکتے ہیں، مگر مجھے یہیں رہنے دیں، خوبصورت ہوں ،آپ کی رکھیل تو بن ہی سکتی ہوں۔

اس کے ہر لفظ نے ماہر سوہم خان کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا کر انھیں بری طرح چٹخایا تھا۔
الفاظ تھے کہ برچھیاں جو وہ پاگل لڑکی اس پر چلا رہی تھی۔مگر سامنے کوئی عام انسان تو نہیں تھا۔ بے رحم، سفاک ظالم جلاد تھا جو محبت کی ہتک کرنے پر بخشنے والا تو اپنی محبت کو بھی نہیں تھا۔

Okay, drop the dupatta,,,,,
وہ ہنوز اطمینان سے رواحہ کے روبرو کھڑا اب اسے بولا تو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔
سوہم کی طنزیہ مسکراہٹ پر اس نے دوپٹہ اتار کر بیڈ پر رکھ دیا تھا۔
سویم پر جیسے کسی نے پیٹرول ڈال کر آگ لگائی تھی۔مگر وہ ڈھیٹ بن گیا۔

Now it’s the upper’s turn..
سوہم کے کہنے پر اس کے کانپتے ہاتھ نے اپر کی ڈوری تھامی تھی۔جب ماہر سوہم خان کے غصے نے اپنی آخری حدوں کو چھوا تھا۔تبھی ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا رواحہ کو۔
وہ تیورا کر بیڈ پر گری تھی۔ اور بلک بلک کر رو دی۔
سوہم نے جھٹکے سے اسے بازو سے اٹھا کر اپنے روبرو کیا تھا، دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ جکڑا تھا۔

تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی۔دماغ خراب ہو گیا۔ پاگل ہو گئی ہو،، میں نے کب ایسے کہا کہ یہاں رہنے کے لئے تمھیں یہ سب کرنا پڑے گا؟ کس نے کہا تمھیں؟ میں نے؟ بولو؟
وہ زخمی شیر بنا دھاڑ رہا تھا۔

تت،، تو،، پھر،، بھیجا،، کک،، کیوں تھا،، ممم، مجھے،، آپ،، نے،، اگر،، وہ،، مم،،مجھے۔،، لل، لے،، جاتا،، تت، تو،، وہ کرلاتے دل پر پاؤں رکھتی ہچکیوں کے دوران بولی تھی۔
سوہم کو کچھ ہوا، تبھی اسے کے لرزتے کانپتے وجود کو اپنے چوڑے سینے میں چھپایا تھا۔

اونہہہ، اب تو یہ اجازت مخالف سمت سے آتی ہوا کو بھی نہیں کے تمھیں میری مرضی کے خلاف چھو سکے، وہ شیطان تو بہت دور کی بات ہے، میری ہو صرف تم، سنا تم نے روح،، تم صرف میری ہو، میرے علاوہ تمھیں کوئی نہیں چھو سکتا۔ کوئی بھی نہیں،
لمحے بہت فسوں خیز تھے۔وہ اس کے سینے میں منہ دئیے اس کی شرٹ بھگو چکی تھی۔ بہت جلد اپنی سچویشن کا تدارک ہونے پر وہ بہت بری طرح بوکھلا کر پیچھے ہٹھی فورا واش روم میں گھس کر ڈور لاک کر چکی تھی۔
دروازے سے پیٹھ لگائے وہ پوری کی پوری قندھاری رنگ میں رنگ چکی تھی۔ پسلیوں سے ٹکراتے سینے میں پاگل ہوتے دل نے الگ سے شور مچا رکھا تھا۔ اس کی پیشانی عرق آلود ہو چکی تھی۔
کتنا عجیب تھا کہ اس شخص کی قربت میں اسے زرا بھی کراہیت اور گھن محسوس نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ وہ بھی تو غیر تھا۔
مگر نہیں وہ تو اس کی روح میں معلق ہو چکا تھا۔

ماہر بھی جھینپ سا گیا تھا اپنی بے اختیاری پر۔نم آنکھیں صاف کرتا وہ اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گیا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓