Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

کافی دن گزر چکے تھے جبران نے اسے بات نہیں کی تھی نا اسے کوئی وضاحت دی اپنے عمل کی ،،،نا ہی اسے ڈسٹرب کیا تھا کیونکہ مفرا کا اینول سمسٹر چل رہا تھا۔ اور وہ چاہتا تھا کہ وہ کسی بھی ٹینشن پریشانی کے بغیر پیپر دے۔۔ اب جب کل اس کا ایگزیم ختم ہو چکا تھا تو اب اس کا رخ وائٹ پیلس سے سیدھا سعد کے گھر کی جانب تھا ۔
وائٹ پیلس میں اتنا کچھ ہو چکا تھا اسی لئے جبران نے اسے وائٹ پیلس سے دور رکھا۔۔
صبح کا وقت تھا وہ سعد کے گھر داخل ہوا تو سعد اور نرما ناشتہ کر رہے تھے۔۔

اسلام وعلیکم،، سعد بھائی ،،کیسے ہیں آپ؟ جبران نے خوشگوار موڈ میں پوچھا۔اتنے دنوں کے صبر آزما وقت کے بعد وہ اپنی پنک روز کو دیکھنے والا تھا۔ موڈ تو خوشگوار ہونا ہی تھا۔
آؤ جبران ،،،آؤ بھئی جوائن کرو،،
نہیں سعد بھائی، مفرا کو لینے آیا ہوں،، چھوٹے بھائی کا نکاح ہے جمعہ کو،، آپ لوگ بھی انوائٹڈ ہیں ضرور آئیے گا،، جلدی میں ہوں مفرا کو گھر چھوڑ کر ہاسپیٹل جانا ہے،،
ہمم،،اتنی جان توڑ محنت کرنے کے بعد سور رہی ہے تو میں نے بھی نہیں جگایا سوچا آرام کر لے گی،، تم جگا دو جا کر،،، سعد نے مسکرا کر کہا جبکہ نرما نے گندا سا منہ بنایا۔

مگر یہاں پرواہ کسے تھی وہ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اس دشمن جاں کے کمرے کی طرف آیا۔۔ دروازے تک آیا تو ڈور اندر سے لاکڈ تھا۔ مگر اس کے پاس بھی اپنے مسائل کے سو حل موجود رہتے تھے۔۔ پینٹ کی پاکٹ سے چابی نکالی اور ڈور کھولتا چلا گیا اندر داخل ہوا تو وہ بیڈ پر لیٹی بے سدھ سو رہی تھی۔۔اورنج کلر کی کرتی شلوار میں دوپٹہ آدھا بیڈ پر آدھا بیڈ کے نیچے جھول رہا تھا۔ وہ گہری مسکان لیے آگے بڑھا۔۔بیڈ تک آ کر اس کے قریب بیٹھ گیا۔۔
چہرے پر آتی شریر سی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا۔ اس کی نگاہوں کی تپش کا اعجاز تھا کہ وہ کسمسائی تھی۔
مفرا،،، اے پنک روز،،، جبران نے نرمی سے اس کا گال پر اپنی انگلیاں پھیریں۔۔

مفرا کی پٹ سے آنکھ کھلی تھی اور خود پر اسے اتنے قریب جھکے دیکھ وہ بوکھلائی تھی۔۔ تبھی گڑبڑا کر اٹھنے لگی جب اس کے ماتھے نے جبران کے ماتھے کو صبح کی سلامی پیش کی تھی۔
آؤچ،،، اس چٹان کا تو کچھ نہیں ہوا البتہ مفرا کا ماتھا ضرور سنک کیا تھا۔۔مفرا اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے دہری ہوئی۔۔
صبر وائفی صبر،،، اتنی بھی کیا جلدی ہے اپنے ہبی سے سینگ لڑانے کی،، جبران نے چھیڑا۔۔
آپ اتنی صبح یہاں کیا کر رہے ہیں اور مجھ پر جھک کر کونسے دم پڑھ رہے تھے،، مفرا نے برا منایا ہٹیے یہاں سے،،
لینے آیا ہوں تمھیں،، جلدی سے تیار ہو کر ضروری سامان پیک کر لو،، وہ اطمینان سے بولا تو مفرا چونک گئی۔۔

اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ جاؤں گی،، مفرا نے دوسری جانب دیکھ کر بولا۔
اب چونکنے کی باری ڈاکٹر صاحب کی تھی۔ وہ سنجیدہ ہوا۔
اس میں لگنے والی کون سی بات مسز، جبران کبیر ابراہیم،، آپ کو اپنے شوہر کے ساتھ چلنا ہے،، وہ بھی سنجیدہ ہوا اور دو ٹوک بات کی۔۔
میں آپ کے ساتھ نہیں جانا چاہتی،، اور آپ نے مجھے اس دن کی وضاحت بھی دینا گوارا نہیں کیا،، آپ کون ہیں اور وہاں اس وقت کیا کر رہے تھے،، جس دن میں ہاسپٹل کی چھت سے کود کر جان دینے والی تھی اس دن سے، شروع دن سے اس جے کے والے رومال کے پیچھے آپ تھے،، آپ کا اصل چہرہ کیا ہے یہ والا یا وہ والا،، میں سمجھ نہیں پائی،، آپ کی حقیقت جانے بغیر میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی،، مفرا بولتی رہی اور وہ سنتا رہا۔

اوکے رائٹ،، میرے ساتھ چلو تو سہی،، حقیقت بھی جان لینا،، جبران نے صلح جو لہجہ اختیار کیا مگر،
نہیں میں نہیں جاؤں گی،، مفرا نے کہا تو اب کی بار جےکے کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
کلائی سے جکڑ کر اسے بیڈ سے نیچے اتارا تھا۔ کوئی نو نہیں سنوں اب میں،، سمجھیں، فورا ریڈی ہو کر باہر آؤ ،، جبران کا لہجہ سخت ہوا،، وہ کسمسائی۔۔
آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے،، وہ روہانسی ہوئی۔۔
بلکل کر سکتا ہوں،، نکاح کیسے کیا تھا بھول گئیں،، جبران نے اطمینان سے کہا۔۔
مگر جب وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی تو جبران کو غصہ آیا۔ تبھی اسے کلائی سے تھام کر باہر لایا تھا۔
سعد انھیں ایسے دیکھ حیران ہوا۔

سعد بھائی چلتا ہوں،، ناراض ہیں بیگم،، اتنے دن آیا جو نہیں ملنے ، مگر آپ ٹینشن مت لیں،،اپنے خاص طریقے سے منا لوں گا،،ڈرائیور بھیجوں گا، آپ بس میری پنک روز کا ضروری سامان بھجوا دیجئے گا۔۔
مفرا ہکا بکا اس کی بولڈ چلتی زبان ملاحظہ کر رہی تھی۔۔ سعد نیچے منہ کر کہ ہنس دیا نمرا نے پہلو بدلا مگر وہ ڈھیٹ اس کا ہاتھ تھامے یونہی اطمینان سے باہر نکلا۔۔ اور لا کر اسے گاڑی میں بٹھایا۔ خود آ کر ڈرائیونگ سیٹ ہر بیٹھا۔
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ مجھے اکیلا کیوں نہیں چھوڑ،،

ہیے شٹ اپ،، جبران غرایا تو اس کی زبان کو بریک لگی،، اندر کچھ نہیں بولا تو کیا مطلب کچھ بھی بولتی رہو گی،، اور چھوڑنے کی بات کیا کر رہی ہو،، وائفی،، میں تو یہ سوچ کر لے جا رہا ہوں کہ بہت وقت لے چکی تم اس رشتے کو سمجھنے کے لئے،، اب میں اس رشتے کا باقاعدہ آغاز کرنے والا ہوں ایز ہزبینڈ وائف،، دورجانے کی بات تو بھول ہی جاؤ،، میں تو تمھاری سانسوں پر بھی دسترس چاہتا ہوں اب،،
اس کا لہجہ، مفرا پر اٹھتی نگاہیں اور الفاظ اسقدر معنی خیز تھے کہ مفرا پہلو بدل کر رہ گئی۔۔چہرہ لہو چھلکانے لگا۔۔ وہ رخ کھڑکی کی جانب موڑ گئی۔۔

اب اس جن سے الجھنا بے معنی تھا سو وہ چپ چاپ بیٹھی رہی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ بھیگا مہکا وجود لیے کچن میں داخل ہوئی تو روحا نے حیرت سے اسے دیکھا کہ اس کا تو روپ رنگ ہی بدل چکا تھا۔
آروشے کے چہرے نے لہو چھلکایا ۔۔
وہ چپ چاپ آگے بڑھ کر ناشتہ بنانے لگی اور اس ظالم کو بیڈ ٹی دینے کا پروگرام تھا جو رات اس پر طوفانی بادل بن کر برسا تھا۔

آروشے کس کے لئے بنا رہی ہو چائے،، روحا کو حیرت ہوئی،، کیونکہ اتنی لائٹ چائے تو بس ایشان پیتا تھا۔۔
وہ بڑی ماں،، ان کے لئے،، وہ شرم سے دہری ہوئی اور رخ موڑے ہی رکھا۔
کچھ لوگوں کے تو رنگ ڈھنگ ہی بدلے بدلے لگ رہے ہیں ،،خیریت نہیں لگتی،، روحا نے ہنسی دباتے چھیڑا تو کپ میں ڈالی چائے پر اس کی گرفت سخت ہوئی ۔۔ فورا ٹرے اتھا کر کچن سے کھسک آئی۔۔

ایشان کی ابھی ابھی آنکھ کھلی تھی۔اوندھے لیٹے اپنے پہلو میں دیکھا تو بیڈ خالی تھا۔ وہ گہرا مسکراتا پھر تکیے میں منہ دے گیا۔جب دروازے سے اس کی مہکتی آہٹ اندر آتی سنائی دی۔۔
آروشے اس کے قریب کھڑی تھی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔ اب اسے اٹھانا دنیا کا مشکل ترین مرحلہ لگ رہا تھا۔
ایش،،، بلآخر اس نے پکار ہی لیا۔ وہ جو جاگ رہا تھا یونہی جان بوجھ کر لیٹا رہا۔
آروشے نے ہلکا سا کندھا ہلایا وہ جھٹکے سے سیدھا ہوا اور اسے کھینچ کر اپنے سینے پر گرایا۔ اس اچانک افتاد پر وہ بوکھلائی۔
ای،،، ایش،،، کپکپاتے لبوں سے پکارا۔
یس روشے بےبی،، اب بتاؤ،، اب تو کوئی شکایت نہیں ناں اپنے ایش سے،، اس کا لہجہ اب بھی خمار آلود تھا۔آروشے کو جھرجھری آئی۔۔

ایش،،، چھوڑیں کوئی آ جائے گا ،،پلیز،، وہ روہانسی ہوئی۔
نہیں آئے گا کوئی، سب وائٹ پیلس جانے کی تیاری کر رہے ہوں گے،،
لیکن فجر آپو تو،،
غائب ہیں حویلی سے،، میری روشے بےبی کو اب تک پتہ نہیں چلا،، لے اڑے بھائی انھیں،، ایشان نے شرارت سے کہا۔ اسے واقعی حیرت ہوئی۔
وہ میں آپ کے لئے چائے لائی تھی،، روشے نے اس کی گستاخ نگاہوں سے راہ فرار چاہتے ہوئے اس کی توجہ دوسری جانب مبزول کرنی چاہی۔۔پر
رائٹ ،تم میری پرمیشن کے بغیر یہاں سے اٹھ کر کیوں گئی،، یو نو واٹ مجھے چائے نہیں چاہ چاہیے،، چاہ سمجھتی ہو،، ایشان نے چھیڑا اور نگاہیں اس کے ہونٹوں پر ٹکائیں،، تو وہ بوکھلا گئی۔۔
ایش لیو می،، اس نے جھنجھلا کر اسی کے سینے میں منہ دے لیا تو ایشان نے قہقہہ لگاتے اسے ایک طرف اتارا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ بھی جلدی سے سیدھی ہوئی۔
جاؤ جلدی سے ریڈی ہو جاؤ ہمیں نکلنا ہے،، ایشان نے کہا تو اس نے وہاں سے کھسکنے میں ہی آفیت سمجھی۔۔

وہ سب وائٹ پیلس واہس لوٹے تھے۔۔ آروشے ایشان کے پہلو میں سہمی سی اندر داخل ہوئی ،، سامنے سے ماہر خان آتا دکھائی دیا تو وہ بے اختیار ایشان کی چوڑی پیٹھ پیچھے چھپ سی گئی تھی۔ اس بات نے اسے پھر دکھ پہنچایا تھا تبھی وہ دھیمے قدموں سے چلتا ایشان کے سامنے آیا تھا۔
روشے بیٹا سامنے آؤ،، اس نے نرمی سے کہا تو آروشے جھجھکتی سامنے آ گئی۔۔
ماہر خان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ سوری بیٹا،، جانتا ہوں جو بھی ہوا اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں تھا،، اس لئے سوری،، گرین مونسٹر کہ منہ سے یہ گولڈن لفظ نکلتے سن سب ہی چونکے تھے۔۔
مگر وہ کہتا باہر نکلتا چکا گیا۔۔ رواحہ پلر کے پیچھے سے اسے دیکھتی رہی۔
سب واپس لوٹ آئے تھے۔ مگر ان میں سب کچھ بگڑتا چلا رہا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آج ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔۔ آریان کا نکاح تھا آج۔۔ وائٹ پیلس کی رونقیں لوٹ آئیں تھیں۔ مگر ان دونوں میں ایک سرد سی دیوار آ چکی تھی ۔بہت ضروری بات پر ہی ماہر اور وہ ایک دوسرے کو مخاطب کرتے تھے۔۔ ایک ہی کمرے میں جیسے دو اجنبی رہ رہے تھے۔ رواحہ نے کئی بار اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر ہمت نہیں ہوئی۔۔ ہاں اس کے الفاظ سخت تھے۔ وہ وضاحت دینے کئی مرتبہ آیا تھا اس کے پاس،، مگر بدلے میں اس نے بھی تو کچھ کم نہیں کیا تھا۔ اپنے الفاظ کے تیروں سے اسے گھائل کر کے رکھ دیا تھا ۔ جیسے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔۔

سب نکاح کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔ وائٹ پیلس میں ایک ہنگامہ سا برپا تھا۔
آریان نے گولڈن شیروانی پہنی تھی۔۔ آج بس نکاح تھا۔ رخصتی کامران حسن شفا کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد حسن مینشن سے کرنے والے تھے۔۔ شفا نے گولڈن میکسی پہنی ہوئی تھی۔ جس کے گھیرے میں ہلکا سا شاکنگ کلر کا ٹچ تھا ۔اس مناسبت سے سب نے شاکنگ کلر کی ہی مختلف شیڈز میں ڈریس پہنے ہوئے تھے۔۔

جب منی اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ سخت قسم کا منہ پھلا کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔منی کو ہنسی آئی۔۔
آئے کیا ہوا ماہر خان کی مارش میلو کو،، منی نے چھیڑا۔
یہ کیا ہے منی،، مجھے یہ نہیں پہننا،، وہ جو اپنے گرد دوپٹہ پھیلائے بیٹھی تھی۔ جھنجھلا کر دوپٹہ اتارا تو منی کو مزید ہنسی آئی۔ شاکنگ فراک میں گلے ہی زرا گہرے تھے،، مگر وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی ۔۔ جیسے مومی گڑیا شاکنگ لباس میں اس کے سامنے کھڑی ہو۔۔

آرے ہٹ،، میرے سامنے یہ نخرے مت کر،، جب وہ تیری ہری بلا تیرا حشر بگاڑے گا تو اسے دیکھائیو یہ نخرے،، منی نے چٹخارہ لے کر کہا اور یہ وہی لمحہ تھا جب وہ بلیک ٹو پیس میں نک سک سا تیار اندر داخل ہوا تھا ناصرف منی کی بات سن لی تھی بلکہ سامنے کھڑی اپنی مومی گڑیا کا توبہ شکن حسن بھی ملاحظہ کیا،، وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں بری طرح پھنسا تھا مگر بہت جلد ہی اس کے گڑبڑا کر دوپٹہ اٹھانے پر اپنی کیفیت پر قابو پاتا اس پر سے نگاہیں پھیرتا ڈریسنگ روم میں گم ہوا تھا۔
رواحہ نے لال بھبھوکا چہرہ لیے منی کو گھورا تو وہ دانت نکالنے لگی۔۔

وہ جو کچھ بھی لینے آیا تھا اندر بھول چکا تھا کہ کیا کرنے آیا ہے تبھی اپنی کنپٹیاں سہلائیں تھیں۔ اور واپسی کے لئے قدم موڑے ان کے قریب سے گزرتے اب کی بار اس نے اپنی بے ایمان ہوتی نگاہوں کو ہر گز دیدار کا جام پی کر بہکنے کی اجازت نہیں دی تھی۔۔ تبھی اس کی جانب دیکھے بغیر کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
اور اس کے اندر جو ایک بیوی تھی جو چاہتی تھی کہ اس کا یہ سجا سنورا روپ شوہر کی نگاہ ناز سے معتبر ہو اس کی حسرت حسرت رہی تبھی دو آنسو ٹوٹ کر گریبان میں جزب ہوئے تھے۔ جنھیں اس نے منی سے بمشکل چھپایا تھا۔۔

سب باہر اکٹھا ہو رہے تھے۔ آروشے تیار ہو کر کسی سے چھپتی پھر رہی تھی۔ اندر روم میں وہ واش روم میں نہا رہا تھا اس نے کہا تھا کہ تیار ہو کر مجھے دکھائے بغیر باہر مت نکلنا ۔۔ مگر وہ اس ایک ہفتے میں اسے اس قدر پریشان کر چکا تھا کہ اس نے تیار ہو کر روم سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔۔
مفرا کی الگ جان عذاب میں پھنسی تھی۔ ایک ہفتہ ہو چکا تھا اسے واپس لوٹے۔ وہ منہ سے کچھ نہیں بولتا تھا مگر وہ نگاہیں اور ان کے سوال توبہ،، تبھی وہ تیار ہو کر کچن میں چلی آئی تھی۔۔

فجر تیار ہو کر بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔ طبیعت خراب سی تھی پاؤں پر سویلنگ ہو رہی تھی۔۔ماہ بیر فریش ہو کر باہر آیا تو اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا۔ چلیں جان،،
جی،، وہ نقاہت بھری آواز میں بولی اور اس کے ساتھ ہو لی۔۔
شفا اپنے کمرے میں سیڈ سی تھی کیونکہ اس کے پاپا نہیں تھے ہاں مگر انھوں نے نکاح کی خبر اس سیف تک ضرور پہنچا دی تھی اور یہ بھی بول دیا تھا کہ اب ان کا شفا سے کوئی تعلق نہیں ۔
شفا کی فون پر خفیہ طریقے سے بات ہوئی تھی اپنے پاپا سے۔۔

رواحہ اور پنکی اسے باہر لے کر آئے۔۔آریان کی نگاہ ٹھہر سی گئی تھی اس پر،، اس قدر حسین لگ رہی تھی وہ کہ بے اختیار اس چھوٹے مگر خطرناک جلاد کا دل دھڑکا گئی تھی۔۔
اسے لا کر صوفے پر آریان کے پہلو میں بٹھایا گیا۔ نکاح کی شروعات ہوئی اور جلد ہی ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پا گیا۔ اور شفا کامران حسن شفا آریان پاشا ابراہیم بن گئی۔۔
وہ اب پاس بیٹھے شخص کی وقتا فوقتا ً خود پر پڑتی گہری نگاہوں سے فطری جھجھک محسوس کر رہی تھی۔۔

نکاح کے وقت ریشماں بھی باہر موجود تھیں جو اب اپنے کمرے میں جا چکی تھیں تبھی ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوا تھا لاؤنج میں ۔۔
سب نے کافی انجوائے کیا۔۔ منی نے ڈانس کرتے ہوئے بیچ میں دلہا دلہن کو بھی گھسیٹ لیا تو کافی ہوٹنگ ہوئی۔
ماہر ایک طرف بظاہر لاپرواہ سا کھڑا تھا اسے پتہ تھا وہ بار بار اس کی جانب دیکھ رہی ہے۔ اسی لیے خود اس کی جانب دیکھنے سے گریز ہی کر رہا تھا۔
فجر کی طبیعت کی وجہ سے ماہ بیر اسے روم میں چھوڑ آیا تھا بلکہ اسے کھانا اور میڈیسن دے کر آرام کرنے کا بول کر آیا تھا آج اس کا آریان کی ویسی درگت بنانے کا فل پروف پروگرام تھا جیسا ماہر کے نکاح پر انھوں اس کا بنانا چاہا تھا مگر اس کی زد میں فجر آ گئی تھی۔۔

وہ باہر آیا۔۔شفا کو اس کے روم میں لے جایا جا چکا تھا۔ تبھی وہ پلان کے مطابق آریان کے پاس آیا تھا۔
یار برو،، ایک ملاقات ہی ارینج کروا دیں،، زیادہ کچھ نہیں بس ایک گفٹ دینا ہے اسے،، وہ آنکھ ونک کر کے بولا۔ نہیں جانتا تھا اپنی شامت کو خود ہی دعوت دے رہا ہے۔
اوکے تم یہ سوفٹ ڈرنک پیو اور چل کرو میں ارینج کر کے آتا ہوں، وہ گہری مسکان لیے بولا۔

آریان نے سوفٹ ڈرنک جس میں وہی ٹیبلٹ تھی اپنے لبوں سے لگائی اور ایک ہی سانس میں پی گیا۔
ادھر ماہ بیر نے شفا کے پاس عاشی کو بھیجا تھا جوس دے کر جو وہ اسے پلا آئی تھی۔۔ اب ان کی اوٹ پٹانگ حرکتیں ریکارڈ ہونی تھیں اور بعد میں آریان کی واٹ لگانی تھی اس نے۔۔

جاؤ آریان وہ روم میں تمھارا ویٹ کر رہی ہے،،، وہ کہتا شیطانی سی ہنسی ہنستا اپنے روم میں چلا آیا۔
آریان اس کے روم کی جانب گیا ۔۔ مگر راستے میں ہی دماغ گھوم چکا تھا۔ لڑکھڑاتا اس کے روم میں داخل ہوا جہاں وہ تالیاں مار مار کر ہنسنے میں مصروف تھی۔۔ وہ آگے بڑھا۔۔
اسے یہ تو یاد تھا کہ وہ اسے گفٹ دینے آیا ہے سو شیروانی کی سائیڈ پاکٹ میں سے وہ ڈبیہ نکالی تو وہ ہاتھ سے چھوٹ گئی۔
وہ اس کے قریب آیا۔۔ وہ اٹھ کر اس کے روبرو کھڑی ہوئی اور زبردستی آنکھیں کھول کر غور سے اسے دیکھے گئی۔۔

ٹوم کہیں کے،،،، قسم سے وائٹ چلغوزے بڑے فنی لگ رہے ہو،، ہاہاہا ہاہاہا وہ نشے میں جھولتی اس کے بازو سے لٹک کر جیسے جھولا جھول رہی تھی۔وہ خود کب ہوش میں تھا۔
(آج ماہ بیر نے اپنا پورا کا پورا بدلہ نکالا تھا دا گریٹ آریان پاشا ابراہیم سے )

ہاہاہا،، فاقے زدہ چھپکلی،، تم ہو تو کیوٹ،، مگر پوری آفت ہو،، ان جھیل ایبل،،، آریان نے اپنا بازو ہلاتے کہا۔
اے،، وہ چلائی،، فاقے زدہ چھپکلی مم،، مت بولا کرو یار،، کچھ تو عزت دو،،
تو اور کک،، کیا بولوں؟
وہ گولڈن شیروانی میں کمرے کے بیچوں بیچ بیٹھ کر گولڈن میکسی میں اس آفت کو اپنے پاس بٹھاتا یوں بولا جیسے اس سے زیادہ ضروری کام آج ہو ہی نہیں سکتا۔

اونلی چھپکلی بول لیا کرو،، یار،،، فاقے زدہ نہیں،، وہ پھر چلائی۔۔
اور تم بھی مجھے واٹ چلغوزہ مت بولا کرو،، آفت،،
تو کیا بولا کروں؟ وہ جھولتی پوچھ بیٹھی۔
ارے چلغوزہ وائٹ تھوڑی ہوتا ہے،، براؤن بولا کرو براؤن،،
آریان نے اسے پتے کی بات بتائی۔
ہم یہاں نیچے کیوں بیٹھے ہیں براؤن چلغوزے؟ شفا نے پوچھا تو آریان نے زمین پر کچھ ٹٹولا،،

وہ ہوتی ہے ناں منہ دکھائی،، وہ گفٹ ابھی نیچے گرا، اچھا ہوا گر گیا، اس چھپکلی جیسے منہ میں نیا کیا ہے،، ہاہاہا،،، وہ ہنسے گیا۔۔
شفا نے اپنی سینڈل نکال کر اس کے گھٹنے پر بجائی۔۔
آؤچ،،، ارے یہ کیا کر رہی ہو آفت،، اس نے جھولتے ہوئے گھٹنا سہلایا،،

نیا تو اس چلغوزے میں بھی کچھ نہیں ،،،،،، ہے وہ ہی فولاد کی اولاد،،چیک کر رہی تھی،،، ہی ہی ہی،،، وہ بھی جھولتی ہنسی سے دوہری ہونے لگی۔۔ارے وہ دیکھو میرا گفٹ،، شفا نے ایک جانب اشارہ کیا۔
تو دونوں اس مخملی ڈبیہ پر جھپٹے،، سب سے پہلے وہ بدنصیب شفا کے ہاتھ لگی تھی۔۔
ہیے مجھے دو میں دوں گا تمھیں،، آریان نے برا منایا۔۔
اوکے اوکے،، ڈانٹو تو مت،، شفا نے بھی شرافت کا مظاہر کرتے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا اور اس کے ہاتھ سے وہ ڈبیہ لیتے لیتے ہی اسے پانچ دس منٹ ہو گئے۔
پھر فائنلی آریان نے ڈبیہ میں سے رنگ نکالی اور شفا کو بمشکل ہی مگر پہنا دی۔۔
دونوں نے کلیپنگ کی شفا ہنسے گئی۔۔
ہیے یو نو واٹ گفٹ دینے کے بعد دلہا کیا کرتا ہے؟ آریان نے پوچھا۔

کیا کرتا ہے؟ دلہن تو شرماتی ہے،، ایسے،، اس نے دوپٹے کا کونا دانتوں تلے دبایا اور دہری ہو کر شرمانے کی ایکٹنگ کی۔۔
اور دلہا کس کرتا ہے اور وہ میں بھی کروں گا،، آریان اس کے قریب کھسک آیا۔۔
پر دلہن کو تو شرم آ رہی ہے ناں،، وہ پھر آدھا چہرہ دوپٹے میں چھپا کر دوہری ہوئی۔۔
تو بعد میں شرما لینا ناں،،، آریان نے اس کا بازو تھام کر اسے فرش پر سے اٹھایا۔
اب وہ دونوں بیڈ پر بیٹھے تھے۔۔ اب میں کس کروں گا تم بعد میں شرمانا اوکے،، آریان اس کے مزید قریب ہوا۔۔
اوکے،، شفا بھی اس کے قریب ہوئی۔۔

آریان اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا جب وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر بیڈ پر لڑھک گئی۔۔
اففف بولا بھی تھا بعد میں شرمانا،، آریان نے کندھے اچکائے اور وہیں پیچھے کو لڑھک کر وہ بھی ہوش کھو بیٹھا تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓