Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39


❤️💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آج کافی زیادہ دنوں کے بعد جب وہ خود کو مکمل صحت یاب محسوس کر رہا تھا تو آدھی رات کے وقت بلو جینز کے اوپر بلیک ہڈی پہنے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اپنی دانست میں بڑی خاموشی اور چپکے سے وائٹ پیلس سے باہر نکل رہا تھا جب ایک بھاری آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔
حویلی جا رہے ہو؟ ماہر سامنے آیا تھا۔ بکھرے حلیے بکھرے وجود بڑھی بئیرڈ میں وہ قابلِ رحم حال میں تھا ایشان نے ترحم بھری نگاہ اپنے بھائی کی دگرگوں حالت پر ڈالی۔
جی،، اس نے سنجیدگی سے قبول کیا۔۔

تمھیں کیا لگتا ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اس سے الگ ہو جاؤ، اس نے تمھیں چوٹ پہنچانے کی کوشش کی اور یہی بات میں برداشت نہیں کر سکتا۔ اس نے خطرناک حد تک سنجیدہ لہجے میں کہا۔

اور آپ کو کس نے کہا کہ وہ چوٹ آروشے نے مجھے پہنچائی تھی،، وہ نازک جان،، جو خود کو نہیں سنبھال سکتی،، اس غریب نے اپنی پوری جان لگا کر مجھے بس ایک سائیڈ کیا تھا ، میں پیچھے ہٹ کر اس کی جانب مڑا اور میرا پاؤں نیچے گرے باڈی سپرے کی بوٹل پر آ گیا جس سے پھسل کر میں گرا تھا، جو غلطی اس نے کی ہی نہیں اس کی پاداش میں سب اسے قصور وار سمجھتے رہے،، اسے ڈانٹتے رہے،، یہ جانتے ہوئے کہ وہ میرے لئے کیا ہے،،
ایشان ناراض سا تھا۔

واؤ،،، ویری گڈ،،، بہت اچھے،، گدھے،، الو کے پٹھے،،، تمھاری وجہ سے میں نے اپنے والی ناراض کر دی اور تم مجھ سے ناراض ہو رہے ہو،، ماہر نے اسے گھورا۔
تو آپ سے کس نے کہا تھا جو کر نہیں سکتے وہ بولیں،، اور وہ بھی اتنی بڑی بڑی باتیں ،، اب دیکھیں کیا حال ہو گیا ہے آپ کا،، ایشان کو بے حد افسوس ہوا۔۔
اوکے بھائی چلتا ہوں میں،، وہ جانے لگا۔
یہ کوئی وقت ہے جانے کا،، وقت دیکھا ہے،، ماہر نے آبرو اچکا کر پوچھا۔

یہی تو وقت ہے بھائی جانے کا،، اس نے آنکھ ونک کرتے بے حد شرارت سے کہا کہ ایک مرتبہ تو وہ مونسٹر بھی گڑبڑا گیا۔
Besharmi on the peak,,,
بیغیرت،، کچھ تو شرم کرو بڑا بھائی ہوں تمھارا،، ماہر نے دانت پیس کر کہا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔۔
میں تو کہتا ہوں بھابھی کو بھی منانے کا یہی سہی وقت ہے کوشش کر کے دیکھ لیں شاید بھابی مان جائیں۔
وہ کہہ کر رکا نہیں نہیں کھسک لیا۔ کہ اسے بھری جوانی میں اپنے دانت بہت پیارے تھے۔۔
مگر وہ گرین مونسٹر وہی سنجیدگی لیے اندر کی جانب بڑھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ پوری حویلی میں بولائی بولائی گھومتی تھی۔۔ ایک ماہ ہو چکا تھا۔ جب سے سنا تھا وہ کوما سے باہر آ گیا ہے اور ٹھیک ہے تب سے دل کو سکون تھا مگر جب وہ دن رات کے پل پل انتظار کے بعد بھی اس سے نا ملنے آیا تو وہ قسمت کی ستم ظریفی پر جی بھر کر روئی تھی۔ ایک مہربان ڈاکٹر کو شاید اپنی نیم پاگل مریضہ پر رحم آیا ہو۔۔ یا شاید ایک بیمار بہن کی پاگل بہن سے ہمدردی ہوئی ہو۔ اگر محبت ہوتی تو وہ پہلی فرصت میں اس کے پاس آتا۔۔ اسے یوں بے یارومددگار اور بے آسرا نا چھوڑتا۔ دن یونہی بے چین سے گزرتے رہے۔

آج بھی رات گہری تھی سب اپنے اپنے رومز میں تھے۔۔فجر کی طبیعت کچھ خراب تھی تو اس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس کے منع کرنے کے باوجود آروشے اس کے لئے کچن میں سوپ بنا رہی تھی اسے کب سے کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔ مگر اگنور کیے گئی۔۔رات کی تاریکی اور خاموشی میں جھینگروں کی آوازیں ماحول میں عجیب سی پر اسرایت بکھیر رہی تھیں۔ ایسے میں وہ بلکل اکیلی کچن میں اور کچھ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کب سے کسی کی نگاہوں کے حصار میں ہے تو ڈر تو لگنا تھا۔

وہ جلدی سے سوپ باؤل میں ڈال کر فجر کے پاس آئی۔
میرے منع کرنے کے باوجود تم اپنی کر کہ ہی مانی ناں،، فجر نے سوپ دیکھ کر کڑوا سا منہ بنایا۔
اور آپ کو پتہ ہے میں یہ آپ کو پلائے بغیر نہیں مانوں گی آپو،، وہ بھی اطمینان سے بولی تو فجر کو ناچار سوپ پینا پڑا۔ آروشے نے زبردستی اسے سارا سوپ پلایا اسے لٹا کر اس پر کمفرٹر درست کیا اور باؤل لے کر کچن میں چلی آئی۔

ابھی باؤل سنک میں رکھ کر پلٹنے والی تھی کہ اپنے پیچھے کسی آہٹ کی سرسراہٹ پا کر وہ تھرا اٹھی۔ اس کے قدم وہیں جم گئے تھے۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔۔
جان تو تب نکلی جب پیٹ پر دو آہنی ہاتھ لپٹ کر اسے اپنے چٹانی حصار میں لیا گیا،، آروشے کے اوسان خطا ہوئے،، چلانے کو منہ کھولا مگر اتنی ہی تیزی سے مضبوطی سے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز کا گلا گھونٹنا گیا تھا۔

آروشے کی تو جان ہی نکل گئی تھی مزاحمت کیا کرتی،، مگر تڑپی تو اس وقت جب پچھلی گردن پر سفر کرتا ایک دہکتا لمس اپنی شدت بکھیرنے لگا۔ آروشے کے آنسوؤں نے وہ بھاری ہاتھ بھگویا۔ خوشبو تو جانی پہچانی تھی مگر وہ اس قدر سہم گئی تھی کہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ وہ بری طرح مچلی جب ایک بھاری گھمبیرتا سے بھر پور آواز اس کے انتہائی قریب کان میں گونجی۔۔
کوشش بھی مت کرنا روشے بےبی،، آج تمھاری کوئی مزاحمت کوئی آنسو میرے جزبوں کے اس منہ زور سمندر کے آگے بند نہیں باندھ پائے گا۔ اب ان ہونٹوں نے اس کے کان کی لو کو چوما تھا آروشے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔۔
ایشان نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔

بدن کی رمز سمجھ ‘ رُوح کا اشارہ سمجھ
مجھے سمجھ ‘ نہ سمجھ ‘ دُکھ میِرا خدارا سمجھ

تجھے ہم اور کسی کا نہ ہونے دیں گے کبھی
تُو بھا گیا ہے ہمیں ‘ خود کو اب ہمارا سمجھ

چھوڑیں مجھے،، چلے جائیں یہاں سے اس سے پہلے میں آپ کو اور نقصان پہنچاؤں،،، وہ بے تحاشا رو دی تھی۔
تب ایشان نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑا تھا۔اس کے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر باندھ کر اسے اپنے بے حد قریب کیا۔۔
بلکل درست نقصان تو پہنچاتی آئی ہو تم ،،مگر اس میرے مسکین سے دل کو،، آج اسی نقصان کی تو بھرپائی کرنی ہے تم نے،، محبت کا ہر حق ہر خراج وصول کروں گا تم سے روشے بےبی،، ایشان کا سرسراتا لہجہ مگر یہاں غور کون کر رہا تھا۔

کون سی محبت کی بات کر رہیں ہیں آپ،، وہ جو کبھی آپ کو تھی ہی نہیں،، صرف ہمدردی تھی ایک پاگل لڑکی سے،، اگر محبت ہوتی تو یوں مجھے بے سرو سامان نہیں چھوڑتے،، اگر ہوتی تو ٹھیک ہوتے ہی مجھ سے ملنے آتے،، اگر ہوتی تو میری خبر لیتے کہ کس حال میں ہوں اور کیسی ہوں،،
اتنے دنوں کا غبار تھا جو اپنے دل میں جمع کیے جا رہی تھی آج وہ سامنے آیا تو پھٹ پڑی۔۔تواتر سے بہتے آنسو گال بھگو رہے تھے۔ ایشان نے اچانک جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھایا۔۔
ی،، کک،، کیا کر رہے ہیں آپ،، نن،، نیچے اتاریں مجھے،، وہ بوکھلا گئی۔۔

مگر آج وہ اس کی سن نہیں رہا تھا تبھی اسے لیے دھیمے قدموں سے چلتا اس کے روم میں لایا تھا۔ اندر داخل ہو کر پاؤں سے ڈور لاک کیا اور اسے لا کر بیڈ پر لٹایا۔۔
مگر آروشے کے ہوش تو تب اڑے تھے جب اپنے نیچے کچھ ٹھنڈا اور نرم و دبیز سا محسوس ہوا تھا۔ غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ پورے کمرے میں تازہ سرخ گلاب بھر دئیے گئے تھے۔۔ اب کمرے سے ہٹ کر نگاہ سامنے کھڑے شخص پر پڑی جو اپنی ہڈی نکال چکا تھا وہ بے تحاشا گھبرائی۔۔
یہ،، کک،، کیا کر رہے ہیں آپ،، جائیے یہاں سے،، اس نے لاکھ اپنا لہجہ مضبوط کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ اب سہی معنوں میں اس کے یوش ٹھکانے لگے تھے۔۔

ایشان اس کی جانب مڑا اور گہرا مسکرایا، وہ گرے فراک اور بلیک ٹراؤزر دوپٹے میں اس کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔۔ تبھی وہ بیڈ پر نیم دراز ہو کر اس کے اوپر جھکا تھا۔

وہ میں تمھیں بتانے لگا ہوں کہ محبت ہے یا ہمدردی کا بخار آیا تھا۔ رات گزرنے دو صبح کو خود ہی ڈیسائیڈ کر لینا،، کیا کہا تھا ابھی تم نے روشے بےبی،، اگر محبت ہوتی تو تم سے ملنے آتا،، لو آ گیا،، اور اتنے قریب آؤں گا کہ تمھیں خود میں سے بھی میری خوشبو آئے گی،، کیا کہا تھا تمھاری خبر نہیں لی،، لو آج روشے بےبی کی خبر ہی لینے آیا ہے ایش،، اور ایسی خبر لوں گا کہ پناہ مانگو گی مجھ سے،،
ایشان کے لہجے اور آنکھوں سے آج الگ ہی قسم کے حدت کے احساس نے آروشے کے رونگٹے کھڑے کیے تھے۔۔
آ،،، آپ،، مجھے،، ڈرا رہے ہیں،، مم،، مجھے ڈر لگ رہا ہے،، وہ لرزتی کانپتی پیچھے کھسکنے لگی جب ایشان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا تھا۔۔

ہمممممم،، لگنی بھی چاہیے،، کیونکہ آج ایش اپنی روشے بےبی پر رحم کھانے کے موڈ میں ہر گز نہیں ہے،، یہ بول کا ایشان نے اس کی بیوٹی بون پر اپنے لب رکھے تھے۔
ای،،، ایش،،، آروشے نے بولنے کی گستاخی کی تھی جب ایشان نے اس کی سانسوں کو اپنے قبضے میں لیا تھا۔ آج ایشان کے عمل میں شدت تھی۔ اور لمس میں جنونیت،،
اس کی پکڑ میں سختی تھی کمر کو سہلاتے ہاتھ نے کندھے سے فراک نیچے کھسکائی تھی تبھی اس کی شدتوں سے بے حال ہوتے آروشے نے اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے ساتھ اس سے دور جانا چاہا جو اس کے ایش کو کافی ناگوار گزرا تھا۔ تبھی اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود میں بھینچ کر اس پر قابض ہو کر فرار کا ہر رستہ مستود کیا تھا۔۔

رات گہری تھی اور ایشان کی محبت کا ہر رنگ بھی گہرا تھا۔تبھی آج آروشے اس کہ محبتوں سے اپنا دامن نہیں بچا پائی تھی اور آخر اس سے ہار کر اپنا وجود اس کے سپرد کر دیا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

پورا ایک ماہ ماہر سوہم خان نے خود کو وائٹ پیلس سے دور رکھا تھا۔ کیس میں ایسا الجھایا خود کو کہ دل ودماغ جو ایک اذیت میں تھی ہر وہ اذیت بھول جائے مگر بے سود۔۔ دو تین مرتبہ آیا تھا وہ۔۔ اور زبردستی کرنے کی بجائے منی کو پیغام دے کر بھیجا کہ آئے وہ اور ماہر کی بات سن جائے مگر اس کے بےدردی سے کیے گئے انکار نے ماہر خان کو توڑا تھا۔ پل پل اس گرین مونسٹر کو اذیت کی بھٹی میں جھونک کر اس کا روم روم جلایا تھا۔ آج وہ پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وائٹ پیلس آیا تھا۔۔

آج سوہم خان کو وائٹ پیلس سے گئے ہوئے ایک ماہ پورا ہو گیا تھا پر وہ ظالم تھا جو اتنی کڑوی کسیلی باتیں کرنے کے بعد ایسا غائب ہوا تھا کہ ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کے اس کی باتوں کی وجہ سے اس کی مارش میلو کس حال میں ہو گی اس پر کیا کیا گزر رہی ہو گی کیسے اس کی ہتک آمیز باتوں سے اس کی معصوم سی مارش میلو کا دل دکھا ہو گا ۔۔ ہاں اس نے منی کو بھیجا تھا مگر وہ اتنی ارزاں تو نہیں تھی کہ وہ پیغام بھیجتا اور رواحہ دوڑی چلی جاتی۔۔

رات کا وقت تھا ریشمان سو چکی تھیں۔۔
اب بھی ریشماں کے کمرے میں روح بیڈ پر اپنی ٹانگوں کے گرد بازو لپیٹ کے گھٹنے کے اوپر چن رکھ کے مسلسل اس گرین مونسٹر کے کہے گئے الفاظ کے بارے میں سوچ رہی تھی اس ایک ماہ میں اس نے اس ایک کام کے علاوہ کیا ہی کیا تھا کیا سچ میں اس کی ذات اس ظالم کے لیے اتنی ارزاں تھی کہ اتنی آسانی سے وہ اسے چھوڑ دیتا۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب پاس ہی پڑا فون وائبریٹ ہوا۔۔ بیل بج بج کے بند ہو گئ لیکن روح کی سوچوں کا تسلسل نہیں ٹوٹا۔

ایک بار پھر بیل بجنا شروع ہوئی اس بار روح کی سوچوں کے شیشے میں ایک دراڑ آئی اور اس نے بڑی بے یقینی سے گردن موڑ کے دیکھا کچھ سمھ میں آیا تو ہاتھ بڑھا کر فون ہاتھ میں تھاما لیکن تب تک بیل بند ہو چکی تھی۔۔ بیزاری اپنے عروج پر تھی۔۔
اتنی دیر میں بیل پھر سے بجنا شروع ہو گئ روح نے کچھ سوچ کر دھڑکتے دل کے ساتھ فون یس کر کے کان کو لگایا
ہ،،ہیلووو،،،،
مگر جو سامنے سے آواز اور بات سننے کو ملی اس نے رواحہ کو ہلا ڈالا تھا۔۔

ہیے روح،، جلدی سے روم میں چلی آؤ نہیں تو مر جاؤں گا یار،، بےبسی سے بولا گیا مگر وہ کھٹاک سے فون بند کر کے ایک سائیڈ پر رکھ چکی تھی۔۔
ریشماں جو کچی نیند میں تھیں اسے دیکھنے لگی جو گھٹنوں میں منہ دئیے سسک پڑی تھی۔۔
تبھی آہٹ ہوئی۔۔کلک کی آواز پر دروازہ کھلا اور وہ دھیمے قدموں سے چلتا اندر آیا۔۔ایک گہری نگاہ اس گھٹڑی پر ڈالی۔ریشماں اٹھ کر بیٹھ گئی حیرت و پریشانی سے اس ہری بلا کی ٹوٹی بکھری حالت ملاحظہ کی۔ وہ جو گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھی تھی وہ اگر ایک مرتبہ سر اٹھا کر اسے دیکھ لیتی تو اسے بھی شاید اس پر رحم آ جاتا۔۔
ارے بچے کیا ہوا ہے،، سب خیرت تو ہے،، کیا حال بنا رکھا ہے اپنا،، ریشماں اٹھ بیٹھی اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔

کچھ نہیں دادو،، زندگی روٹھ بیٹھی ہے اسے ہی منانے کی کوشش کر رہا ہوں،، وہ بیڈ کے قریب آیا اور ایک گہری نگاہ پھر اس پر ڈالی۔۔ریشماں نے دونوں کو گہری نگاہ سے دیکھا۔۔
رواحہ سمٹی مگر گھٹنوں میں سے منہ نہیں نکالا۔۔ اس کے رونے کو محسوس کر وہاں کھڑے ایک شخص نے بے دردی سے دانتوں تلے اپنے لب کچلے۔۔
اب وہ ہمت کر کے اس سے مخاطب ہوا تھا۔
ہیے روح تم غلط سمجھیں تھیں جان،، میرا کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا،،،

اور وہ جو اس کے الفاظ کی اذیت کا پورا پورا بدلہ لینا چاہتی تھی اپنا حساب بے باک کرتی بولی،،
آپ کو پتہ دادو،، شروع دن سے میری ذات بہت حقیر اور ارزاں رہی ہے،، ہر کوئی بس مجھے سکون حاصل کرنے کے لئے پانا چاہتا تھا،، وہ جو درندہ تھا وہ بھی چندہ بائی بنا کر مجھے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا ہمیشہ،، نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کی منافقت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اس نے،، اور،،،،،

بس اتنا ہی سن سکا تھا وہ ،،،اس سے آگے وہ برداشت کر ہی نہیں سکتا تھا،، غصے سے پاگل ہوتے اس نے رواحہ کا بازو دبوچ کر اپنے روبرو کھڑا کیا تھا۔۔
چٹاخ،،،، پورے کمرے میں تھپڑ کی آواز گونجی تھی۔۔وہ تیورا کر پیچھے گرنے لگی جب ماہر نے اس کا بازو پکڑ کر پھر اسے سامنے کیا۔
سوہم خان پاگل ہو گئے ہو،، ہمت بھی کیسے کی ہاتھ اٹھانے کی؟ ریشماں اٹھ کر ان کے قریب آئیں ۔۔
پانچویں انگلیوں کے نشان اس کی نازک گال پر آئے تھے۔ ہونٹ پھٹ چکا تھا وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ڈری سہمی اس کا ڈیول روپ دیکھے گئی۔

ہوش میں تو مسز ماہر سوہم خان،، دماغ ٹھکانے پر ہے ناں،، جانتی ہو کیا کہا ابھی تم نے مجھے،، گالی دی ہے خود کو، مجھے،، میری محبت،، جانتی ہو اس نام سے پکارنے پر میں نے اس کی زبان کٹوا دی،، تو تمھاری کیسے ہمت ہوئی خود کو اس نام سے پکارنے کی،، ہاؤ ڈئیر یو رواحہ ہاؤ ڈئیر یو،،،
وہ چیخ رہا تھا چلا رہا تھا اور اسے جھنجھوڑ رہا تھا رواحہ کو لگا اس کا بازو آج وہ مونسٹر جڑ سے اکھاڑ دے گا۔

ان کی آوازیں سن کر پاشا،، رحاب،، زمل اور کبیر ریشماں کے روم میں آئے تھے،،
کیا بات ہے سوہم خان،، اتنی رات کو کیوں چلا رہے ہو کیا ہوا ہے،، پاشا نے سنجیدگی سے پوچھا،،
ارے باؤلا ہو گیا ہے،، ہاتھ اٹھایا ہے بچی پر،، پوچھو زرا اس سے،، ریشماں کا تو صدمے سے برا حال تھا۔
پاشا نے آگے بڑھ کر اس کی گرفت سے رواحہ کو آزاد کروایا تو وہ رحاب کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی،،

بچی نے گالی دی ہے ہمارے رشتے کو ،،،مزاق بنا کے رکھ دیا ہے میری محبت کو،، اور اس سے پوچھیں زرا کس سے کمپیریزن کر رہی ہے اپنے شوہر کا،، ڈیڈ،،،، ٹو ہیل ود دس،،، میں پاگل ہو جاؤں گا اور برداشت نہیں کر سکتا،، وہ بال مٹھیوں میں جکڑتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔
رواحہ کو بھی پتہ تھا وہ کیا کچھ بول چکی ہے تبھی رونے میں اور شدت آئی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آج فجر ماہ بیر کے نکاح کو 15 سال پورے ہو چکے تھے مگر انہیں بچھڑے ہوئے ایک ماہ یعنی پورے تیس دن افففف یہ جدائی جس نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔۔ کتنا منانے کی کوشش کی تھی اسے مگر وہ تو جیسے پتھر کی بن چکی تھی۔۔ ماہ بیر کو اس کی تکلیف کا احساس تھا تبھی وہ اس کے قریب آنے کی اس کی کئیر کرنے کو تڑپ رہا تھا۔
جبھی آج وہ اپنے صبر کا دامن ہاتھوں سے چھوڑتا وائٹ پیلس سے نکلا اور حویلی پہنچا ۔۔ حویلی پہنچ کر اس کا رخ سیدھا اس دشمن جان کے کمرے کی جانب تھا۔کمرے میں داخل ہوا تو ۔ وہ بیڈ پر لیٹی سو رہی تھی ۔۔ریڈ کلر کی کھلی فراک چوڑی دار پجاما پہنے ایک الگ ہی روپ تھا چہرے پر،،ماہ بیر ٹھٹک کر روکا،، اسے جی بھر کے دیکھا ،،

وہ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آ کر بیڈ پر نیم دراز ہوا تھا اور وہ جو آج بوجھل طبیعت کے ساتھ بڑی مشکل سے ابھی ابھی سوئی تھی اور کچی نیند میں ہی تھیں۔ اس کی خوشبو اپنے آس پاس محسوس کر کے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔ اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ بھنا کر اٹھی تھی۔۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں ،، وہ چلائی میں نے بولا تھا نا کہ اگر میرے قریب بھی آئے تو مار لوں گی خود کو،،

رئیلی ،،،، مارو مار کے دکھاؤ ،، اطمینان قابل دید تھا ماہ بیر کا مگر ماتھے پر ڈھیر سارے بل،، غصے سے سرخ پڑتا چہرہ اور تنی رگیں۔۔ اور اس کے اسی سڑیل روپ سے فجر خائف رہتی تھی تبھی
فجر گھبرائی مگر اس ڈھیٹ کو اثر کیوں نہیں ہورہا۔۔
آپ جاتے ہیں یا میں ریشماں دادو کو فون کرو ابھی کے ابھی ،،، اس نے دانت پیس کر کہتی ادھر ادھر فون تلاش کرنے کے لئے نگاہ گھمائی۔۔جب بجلی کی سی تیزی سے ماہ بیر نے اسے بازو سے کھینچ کر خود کے قریب کیا وہ کٹی ڈال کی طرح اس کی بانہوں میں آ گری تھی

Continue,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓