Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

میری زندگی، تیرا پیار،
تو قریب میرے دل کے ، یہ نصیب میرے دل کے،
سوہنیا تیرا پیار

گہری رات، سناٹا، تنہائی اور چھت کی ریلنگ کے قریب کھڑے وہ دو نفوس جن کی دھڑکنیں عشق کی تال پر محوِ رقص کرتی ایک ہی لے پر دھڑک رہیں تھیں۔۔رواحہ جیسے اپنی جگہ پر منجمد ہو چکی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ان دونوں کو چھو کے گزرتے محبت کی خوشبو چاروں جانب بکھیر رہی تھی۔
دونوں خاموش تھے۔بس ایک دوسرے کی موجودگی، دھڑکنیں اور خوشبو روح تک محسوس کر رہے تھے۔
اب وہ دھیمے قدموں سے چلتا بلکل اس کے روبرو آیا تھا۔ کئی پل ایک دوسرے کی نگاہوں سے روح میں اترتے گزرے تھے۔

میں نے لاکھ کوشش کی تم سے دور رہنے کی ۔مگر رہ نہیں پایا،، یہ میرے عشق کی انتہا سمجھو یا جنون کی حد، کہ تمھیں پائے بغیر اب شاید چین سے مر بھی ناں پاؤں،، جس دن تمھارے لبوں سے انکار سنا تو تہیہ کر کے گیا تھا کہ نہیں آؤں گا، تمھارے بغیر مر نہیں جاؤں گا،، مگر آج جب تمھارے بغیر واقعی مرنے لگا تو چلا آیا۔ اب مجھے انکار کی وجہ جاننی ہے۔

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تو اسے نگاہ چرانی پڑی۔
جبکہ ماہر سوہم خان پاگل نہیں تھا، مشہورِ زمانہ جلاد ہونے کے ساتھ ساتھ گرین مونسٹر تھا۔ تو کیسے نہیں جانتا اس کا ڈر وہم اور وسوسے۔ مگر مشکل تو یہ تھی کہ وہ اسے اپنے بارے میں اپنی طاقت کے بارے میں بھی نہیں بتا سکتا تھا۔
نہیں بتا سکتا تھا اسے حقیقت کہ وہ جس شخص سے خوف کھائے بیٹھی ہے اس طرح کے کتے تو گرین مونسٹر جیب میں لیے ہھرتا تھا۔
اور وہ اس وجہ سے خود کو ماہر سے دور کرنا چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے ماہر سوہم خان کو کچھ ہو نا جائے تو وہ تو یوں بھی اس کے دور ہونے سے ایک عذاب جھیل رہا تھا۔سینے میں سانس الجھائے بیٹھا تھا ،،،مرنے کو تھا۔۔

آ،،،، پ،، نہیں،، جانتے،، آپ،، کچھ،، نن،، نہیں،، جانتے،، مم،، میرے، بارے میں،، مم،،، میں،، کہاں،، سے،، آئی،،،، ہوں،، کک،، کدھر،، رہی، ہوں،،
ماہر سوہم خان کو اس کی چالاکی پر ٹوٹ کر پیار آیا کہ وہ اصل بات چھپا گئی تھی،، اور ایک اسٹوپڈ سا بہانہ گھڑ گئی۔
اور اگر میں کہوں کہ میں سب جانتا ہوں رواحہ عبدالستار تو،، کہ کیسے چھوٹی سی عمر میں ہی تمھارے سوتیلے باپ نے تمھیں رانی بائی کے حوالے کر دیا۔۔ تمھاری ماں اسی صدمے سے تڑپتی مر گئی،، کیسے اس درندہ نے تمھاری اکلوتی بہن کے خاندان کو بھی ختم کر دیا۔
وہ بولتا گیا۔جبکہ وہ روانی سے بہتے آنسوؤں سمیت پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھے گئی۔ جو اب اس کے بے حد قریب آ چکا تھا۔ انگلیوں کی پوروں سے وہ آنسو چنے۔ اور ماتھے سے ماتھا ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔

مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ رانی بائی کے پاس رہنے کے باوجود تم چندا نہیں بن پائی۔ نا ہی دنیا کی کوئی بھی طاقت،، کوئی بھی مطلب کوئی بھی،، تمھیں چندہ بنا سکتی ہے، تم صرف میری ہو،، تمھیں صرف میرا ہونا ہے،، تم صرف میرے لئے بنائی گئی ہو۔
وہ نفی میں سر ہلانے لگی تو سوہم خان نے ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ بھرا
ہیے،، ڈونٹ یو ڈئیر،، کوشش بھی مت کرنا ایسے کہنے کی کہ تم میری نہیں۔ نہیں تو اپنے ہاتھوں سے جان لے لوں گا تمھاری، سمجھیں۔۔
اب خود پر قابو پانا مشکل ترین امر ہو چکا تھا سو وہ جھٹکے سے اس سے دور ہوا تھا۔ اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ پیچھے اس نے بے تحاشا بے بسی کے احساس سے اپنے لب کاٹے۔ اور اپنے کمرے میں بھاگ آئی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

صبح رواحہ کی بہت لیٹ آنکھ کھلی تھی ۔فجر کے لئے بھی بمشکل اٹھ پائی تھی۔ نماز پڑھ کر سوئی تو اب بارہ بجے کے قریب آنکھ کھلی تھی۔ مگر آنکھ کھلتے ہی اس ر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے اس کے کپڑے ایک بیگ میں رکھے ہوئے تھے ۔اور پورے بیڈ پر سرخ اور اورنج کمبنیشن کا برائیڈل ڈریس جیسے پھیلا پڑا تھا۔ساتھ جیولری باکس، سینڈل اور میک اپ کا ڈھیر سارا سامان،

منی ،،،منی،،، اس نے آوازیں دیں تو منی معنی خیز سی مسکراتی کمرے میں داخل ہوئی۔
ارے کیا ہوا سہیلی؟ کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے؟
یہ سب کیا ہے منی؟ رواحہ کے ہوش ٹھکانے لگے تھے یہ سامان اپنے روم میں دیکھ کر۔
یہ،،،،،، دلہن بھابھی،، آج تیرا نکاح ہے خیر سے ماں صدقے واری جائے میرے بھائی ماہر سوہم خان سے،، وہ شوخ ہوئی۔

ی،،، یہ کک،، کیا کہہ رہی ہو منی،، رواحہ کے سر پر بم پھوٹا تھا۔
ہاں ناں ٹھیک بول رہی ہوں،، سچی،،،، سب تیاریاں مکمل ہیں اور آج تو امریکہ سے آنا ہے اس خاص نکاح میں شرکت کرنے سوہم خان کے ماما بابا آنے والے ہیں، اب جلدی سے اٹھو ہم نے وائٹ پیلس بھی جانا ہے ناں بھئی۔۔
یہ،،، یہ،، کک،،، کیا،، منی،،، مم،، مجھے نہیں کرنی، یہ شادی،، وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
منی نے بے بسی سے اسے اور کن انکھیوں سے اندر آتے ماہر سوہم خان کو دیکھا۔۔

اس کی بات سن کر حسبِ معمول اس گرین مونسٹر کے ماتھے پر بل آئے تھے۔ روم میں آ کر اس نے منی کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا۔ منی کی جان حلق میں اٹکی۔
کہاں سامنے کھڑا وہ مونسٹر اور کہاں بیڈ پر بیٹھی وہ موم کی گڑیا۔
سوہم خان،،،
منیب جاؤ یہاں سے،، وہ دانت پیس کر بولا۔
وہ جھلاتی روم سے باہر گئی تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا جو موم کی گڑیا ہونے کہ باوجود اس گرین مونسٹر کی جان کا آزار بن چکی تھی۔اور اپنی اس فضول کی ضد اور بےجا وسوسوں سے اپنی اور اس کی جان عذاب میں جھونک رکھی تھی۔

روح،،
پلیز ایسا مت کریں میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی میں یہ نکاح نہیں کر سکتی میں،،،
شٹ اپ رواحہ ماہر سوہم خان ٹو بی،، پہلی اور آخری مرتبہ بول رہا ہوں دوبارہ نہیں کہوں گا۔چپ چاپ سامان اٹھاؤ اور چلو ہمارے ساتھ اور نکاح ہونے تک اگر اب تمھارے منہ سے میں نے انکار سنا تو تمھیں شوٹ کر کے خود کو بھی گولی مار لوں گا سمجھیں، فی الحال جو ہو رہا ہے ہونے دو بعد میں بات کریں گے اس ٹاپک پر،، ابھی ٹائم نہیں ہیں ۔۔مجھے ائیر پورٹ جانا ہے۔جلدی اٹھو۔
وہ کہتا لاپروائی سے باہر گیا تھا۔

منی اندر آئی تو وہ رونے کا ہی شغل فرمانے میں مصروف تھی۔اس نے سرد سی آہ بھری۔
منی نے آ کر سارا سامان پیک کیا تھا۔ وہ باہر ہارن پر ہارن دئیےگیا۔ وہ بے بسی سے روتی رہی۔ منی نے سامان باہر بھیجا اور اس کا ہاتھ تھام کر باہر لائی اس نے التجائیہ نگاہوں سے ایک مرتبہ پھر اس شخص کو دیکھا۔۔
اس نے لاپروائی سے نگاہیں چرائیں اور گاڑی کا دروازہ اپنی شہزادی کے لئے کھولا۔۔
وہ بیٹھ گئی۔ سارے راستے گاڑی میں اس کی سسکیاں گونجتی رہیں مگر وہ پتھر بنا بیٹھا رہا آج اگر زرا سی نرمی دکھاتا تو اس نے یونہی اس کی اور اپنی جان سولی پر لٹکائے رکھنی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وائٹ پیلس کی رونقیں لوٹ آئیں تھیں۔۔ سب تیار تھا۔۔آروشے کے لئے ایشان بہت ہلکا پھلکا ڈریس لایا تھا۔۔ فجر نے اسے تیار کیا تھا۔ بہت خوبصورت گرے فراک تھی۔وہ با آسانی کیری کر پارہی تھی۔ وہ پورے لاؤنج میں اچھلتی کودتی پھر رہی تھی۔سب اس کا بے تحاشہ خیال رکھتے تھے۔خاص کر فجر نے خود کو اسی میں گم کر لیا تھا۔ ایشان کے ساتھ اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیزوں کا خیال رکھتی تھی اب بھی وہ صبح سے اس سڑیل بلا سے بچنے کے لئے آروشے کے پاس ہی تھی اور ایشان کو بول دیا تھا کہ وہ فجر کو تیار کر کے خود بھی اسی کے ساتھ ہی تیار ہو جائے گی۔۔

ماہ بیر دو تین روم کے چکر لگا چکا تھا مگر وہ صبح سے اسے نظر نہیں آیا تھا وہ جھنجھلایا پھر رہا تھا۔
رواحہ کو پنکی نے گھیرا ہوا تھا۔شہر کی ٹاپ کی پارلر والی بلائی گئی تھی اسے تیار کرنے کو۔
امریکہ سے کبیر، زمل، سوہم اور روحا پہنچ چکے تھے۔ سب کے چہروں پر ایک طویل عرصے بعد ایک الگ ہی خوشی ایک الگ ہی چمک تھی۔
جبران موجود تھا مگر مفرا کو نہیں لایا۔ابھی اس کا مینٹل اسٹیٹ ابھی بھی اس قابل نہیں تھا کہ وہ اتنی اچانک یہ سب اور اس کی فیملی کو قبول کرتی۔ وہ مکمل جےکے کی نگرانی میں تھی اور ابھی تک تو کافی شانتی ہی تھی۔ اور نرما نے کوئی گڑبڑ نہیں کی تھی۔

سب تیار ہو کر لاؤنج میں پہنچ چکے تھے۔ پنکی کی شاگردوں نے ابھی سے ادھم چوکڑی مچا رکھی تھی۔ ماہ بیر اور جے کے ایک جگہ بیٹھے تھے۔۔
ماہ بیر کی نگاہیں کسی کی متلاشی تھیں۔

روٹھ کر ہم انھیں بھول جانے لگے
وہ ہمیں ،،،،،،،اور بھی یاد آنے لگے
ہم نے دل سے کہی اپنی مجبوریاں
دل کو لیکن یہ،، سارے بہانے لگے

آخر آنکھوں کو من چاہا منظر دکھائی دے ہی گیا۔ وہ سراپا قیامت بنی یوں اس کے سامنے آئی کہ نگاہ پھیرنا تو دور پلکیں جھپکنا تک ناممکن سا لگ رہا تھا۔ دل سینے میں نہیں جیسے کانوں میں دھڑک دھڑک کر پاگل ہوا تھا۔
گولڈن چولی اور ملٹی کلر لہنگے میں نفاست سے کیے گئے میک اپ میں توبہ شکن حسن تھا۔ یا شاید وہ پہلی مرتبہ تیار ہوئی تھی۔اسی لئے اس قدر حسین لگ رہی تھی۔
رحاب سے کوئی بات کرتے ہوئے اس نے خود کو کسی کی پگھلاتی نگاہوں کے حصار میں مقید پایا تو نگاہ بے اختیار اٹھی تھی۔
آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں۔ فجر نے فورا سے پہلے نگاہ پھیری۔
کہ کہیں دل کا چور آنکھوں میں نا دکھائی دے جائے ۔کتنا مشکل تھا اس شخص سے نفرت کرنا۔ اب تو یوں لگتا تھا جیسے روم روم میں بس چکا ہے وہ۔

ان کے قدموں میں گر جائیں مر جائیں ہم
اس طرح اپنی مٹی ٹھکانے لگے
ان سے اک پل میں کیسے بچھڑ جائیں ہم
جن سے ملنے میں شاید زمانے لگے

فجر کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ تبھی منظر سے غائب ہوئی۔ مولوی صاحب بھی پہنچ گئے تھے اور دلہن بھی تیار تھی۔ماہر اپنے روم سے تیار ہو کر نکلا تھا نیوی بلو کلر کے تھری پیس میں شہزادوں جیسی آن بان لیے وہ لاؤنج میں داخل ہوا تھا تو سب نے ہوٹنگ شروع کر دی۔
تبھی روحا اور رحاب لرزتی کانپتی رواحہ کو باہر لے کر آئیں تھیں۔وہ شاید اب بھی رو ہی رہی تھی۔ ماہر نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا۔
نکاح کی شروعات ہوئی اور بہت جلد ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پا گیا۔ لاؤنج میں مبارک باد کی صدائیں بلند ہوئیں تھیں۔
سوہم اپنے بیٹے کے پاس آیا تھا جسے ماں کی چوٹ، بیماری اور پھر کومے میں جانے نے گرین مونسٹر بنا دیا تھا۔
بڑے چھپے رستم نکلے یار،، بڑا میدان مارا، سوہم نے آنکھ ونک کرتے چھیڑا تو وہ مبہم سا مسکرایا۔
پلیز ڈیڈ،، اب آپ مت شروع ہو جانا۔ اس نے دوسری جانب دیکھا جہاں رواحہ میڈم ساس کے پہلو میں دبکی بیٹھی تھی۔ جیسے چوزا چیل کے ڈر سے ماں کے پروں میں دبک جاتا ہے۔ اسے خواہ مخواہ ہنسی آئی تو دانتوں تلے لب دبایا۔

آں ہاں گرین مونسٹر ہنستا بھی ہے وہ بھی اپنی برائیڈل کو دیکھ کر مجھے تو آج پتا چلا،، سوہم نے پھر شوشا چھوڑا۔
ماہر نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی۔ کیونکہ سوہم تو ہٹ نہیں رہا تھا چھیڑنے سے۔
ماہر نے نوٹ کیا تھا وہ مسلسل روئے چلی جا رہی تھی اس نے ایک سرد سی آہ بھری اور منی کو اشارہ کیا۔ منی اسے وہاں سے اس کے روم میں لے جا چکی تھی۔۔

آج وائٹ پیلس کی رونقیں اور سجاوٹ ہی الگ قسم کی تھیں۔پورے وائٹ پیلس کو دلہن کی طرح سجایا ہوا تھا۔
اس وقت لاؤنج میں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا۔نکاح ہو چکا تھا ۔دلہن دلہے کے کمرے میں پہنچا دی گئی تھی۔ پنکی کی شاگردوں نے اودھم چوکڑی مچائی ہوئی تھی جن میں منی اور شیلا بھی شامل تھیں۔منی تو آج پاگل ہی ہو گئی تھی۔ایشان ، اور آریان الگ سے دیوانے ہو رہے تھے ناچ ناچ کے۔اور ان کا پورا پورا ساتھ دے رہیں تھیں سونیا اور عاشی۔۔روشے بےبی نے بھی بیچ میں اپنا چمچہ ہلا رکھا تھا۔ہر کچھ دیر بعد ان کے بیچ میں گھس جاتی تھی۔۔جے کے اور ماہ بیر ایک طرف کھڑے بس دیکھ کر ہی مظوظ ہو رہے تھے۔۔
سب صوفوں پر بیٹھے تھے۔ آج تو سوہم پاشا اور کبیر نے ان پر نوٹوں کی برسات ہی کر دی تھی۔

دلہے میاں بلو تھری پیس پہنے سکون سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے پلر سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔جب منی اسے گھسیٹتے زبردستی سب کے بیچ کھینچ لائی تھی۔ وہ گرین مونسٹر اب بھی سب کے بیچ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
پنکی کی شاگردیں اسے چھیڑتی بڑی زور سے اس کے گال کھینچ رہیں تھیں مگر اس پر زرا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

ارے کہیں دلہے میاں کا اس لیے تو موڈ خراب نہیں کہ اسے کمرے میں نہیں جانے دے رہے ہو تم لوگ۔ پنکی نے ہانک لگائی۔
ارے نہیں وہ تو کوئی ایشو ہی نہیں کیونکہ آج ساری رات یہ اپنے ڈیڈ کے ساتھ گزارے گا آخر اتنے عرصے بعد جو ملے ہیں ۔۔سوہم نے اس کے گلے میں بازو ڈال کے بولا۔تو اس نے اپنے ڈیڈ کو گھورا۔
تو اور کیا؟ کیا خوب جمے گی جب مل بیٹھے گے باپ بیٹے، پاشا نے بھی مسکرا کر کہا تو ماہر جی کی جان پر بن گئی تھی۔
ڈیڈ یار پلیز،، وہ جھنجھلا کر بولا۔تو محفل زعفران زار بنی تھی۔ سب قہقہے لگا کر ہنسے تھے۔ اس نے جھینپ کر سر نیچے جھکایا تھا۔ سب نے اور خاص کر سوہم نے حیرت سے اس گرین مونسٹر کی سرخ پیشانی اور یہ انوکھا ہی روپ دیکھا۔ کچھ ہی دیر کے مزید ہلے گلے کے بعد بڑے سب اپنے اپنے روم میں جا چکے تھے کیونکہ رات کے دس بج چکے تھے۔

اس سے پہلے کہ وہ سب گرین مونسٹر کو مزید تنگ کرتے وہ سب کو پرے دھکیلتا اپنا فون کان سے لگائے باہر جا چکا تھا۔

ایشان کو آج ایک شرارت سوجھی تھی۔ وہ جو ماہ بیر کو دیکھ رہا تھا بار بار فجر کو دیکھتے ہوئے اس نے ان کا پیچ اپ کرانے کا ایک انوکھا طریقہ ڈھونڈھا تھا۔ اور اس شرارت کی ملی بھگت میں جےکے اور آریان بھی شامل تھے۔۔تبھی انھوں نے سوفٹ ڈرنک کے گلاس میں ایک طاقتور نشہ آور ٹیبلٹ ڈال دی تھی۔

فجر بھابھی،، ایشان نے اسے آواز دی جو اب اپنے روم کی جانب جانے لگی تھی۔
جی ؟ ،،،،وہ قریب آئی۔
یہ ڈرنک اپنے ہبی کو تو دے دیں،، انھوںنے منگوائی ہے۔ایشان نے کہا۔وہ تذبذب کا شکار ہوئی۔
وہ جو دور بیٹھا یہ سب کاروائی دیکھ رہا تھا۔ ان کی کرتوت بھی دیکھ چکا تھا۔
کاش انھیں بول پاتا کہ بیٹا جہاں سے تم لوگوں نے یہ سیکھا ہے اس کا پرنسپل آج بھی میرے پاس ٹیوشن لینے آتا ہے۔
ابھی تو اس شعلہ جوالا سے نمٹنا تھا جو ڈرنک لیے لمحہ با لمحہ جھجھکتی اس کے قریب آ رہی تھی۔آج تو وہ زہر بھی پلاتی ماہ بیر آنکھیں بند کر کے پی لیتا مگر یہ ڈرنک پی کر وہ جانے کیا کرتا،،،،

یہ آپ نے منگوائی تھی ڈرنک،، وہ جھجھکتی اس کی نگاہوں سے خائف جلدی سے اس کی جانب ڈرنک بڑھا کر وہاں سے جانے کو پرتول رہی تھی۔
نہیں چاہیے،، ایش کو جا کر واپس دو، بولو میں نے کہا ہے نہیں چاہیے،، یا آروشے کو جا کر پلا دو،، وہ اطمینان سے بولا۔
فجر کے چہرے پر سایہ سا آ کر لہرایا۔خود ہی مانگ کر شاید اب اس کے ہاتھ سے نہیں لے رہا تھا یہ سوچ کر ہی وہ کراہ اٹھی۔آنکھیں نم ہوئی۔
واپس مڑی۔۔مگر واپس جانے کی بجائے ایک سائیڈ آئی۔
اونہہہہہ،،، کھڑوس،، سڑیل،، اکڑو کہیں کے،، میں کونسا مری جا رہی ہوں سرو کرنے کے لئے،، گلاس اپنے لبوں سے لگایا اور ایک ہی سانس میں پی لیا۔
وہ جو اس کی جانب دیکھ رہا تھا ابھی کچھ سمجھتا کہ وہ گلاس خالی بھی کر چکی تھی۔
ایش، جے کے، اور آریان بھی ان کی یہ ساری کاروائی دیکھ رہے تھے مگر فجر کو وہ گلاس خالی کرتے دیکھ ان کے ہوش اڑے تھے۔
یقینا حشر خراب ہونے والا تھا فجر کا۔۔

اب وہ جہاں کھڑی تھی زور دار قہقہے لگانا شروع ہو چکی تھی۔
اسٹاپ اٹ،، وہ چلا کر بولی تو سب اس کی جانب متوجہ ہوئے،
وہ لڑکھراتی لاؤنج کے بیچ بیچ آئی۔۔
مجھے بھی ڈانس کرنا ہے،، میوزک لگاؤ،،

سنو اک تھی کانچ کی گڑیا سنو اک تھی پیار کی پڑیا
صدقے اس یار دے
سنو اک تھا پنڈ تھا شیرا، آیا کس کے باندھ وہ سہرا
صدقے اس پیار دے
جوگی ماہی ہیر رانجھا سب نوں جا کے میں یہ بولنا
بات بول کے راز کھولنا،،

ارے لگا ہوا ہے گانا،،،، ہاں،، منی نے کہا تو وہ منی کے ساتھ ہاتھ بھنگڑا اسٹائل میں اٹھا کر ڈانس کرنے لگی۔
اب تو آریان اور ایشان بھی آ کر ہوٹنگ کرتے اس کے ساتھ ڈانس کرنے لگے تھے۔ روشے بےبی بھی بیچ میں ہی تھک رہی تھی۔شیلا اور دیگر شاگردیں بھی ڈانس کر رہیں تھیں۔۔
تبھی اچانک فجر کو کسی نے اپنی جانب کھینچا تھا۔
ماہ بیر نے اس کی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنے بے حد قریب کیا، اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں تھاما۔۔
سب نے ہوٹنگ اور شور مچا کر وائٹ پیلس سر پر اٹھایا تھا۔

ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے تیرے بنا کیا وجود میرا
تجھ سے جدا کبھی ہو جائیں گے تو خود سے بھی ہو جائے گے جدا
کیونکہ تم ہی ہو، اب تم ہی ہو میری عاشقی اب تم ہی ہو۔

وہ دھیمے دھیمے اس کے ساتھ موو کرتا محوِ رقص تھا۔فجر نے خمار آلود نگاہوں سے اسے دیکھا اور اس کے سینے پر سر رکھا۔
سب نے معنی خیز نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ اب خجل سا ہو کر اسے بازوؤں میں بھر چکا تھا۔
سب کی ہلڑ بازی کے باوجود وہ اسے لیے اپنے روم میں آ گیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ کمرے میں داخل ہوا اور اپنے پیچھے ڈور لاک کیا۔ تازہ گلابوں اور موتیے کے پھولوں سے سجایا گیا پورا کمرہ۔وہ دھیمے قدموں سے چلتا آگے بڑھا۔
اس قدر فسوں خیز ماحول تھا کہ وہ بن پیے ہی مدہوش اور بے خود سا ہوا تھا۔۔آگے بڑھا تو بیڈ کو چھپاتی گلابوں کی جھالریں، اور بیڈ کے بیچوں بیچ مارش میلو برائیڈل صاحبہ تکیہ پر اوندھی لیٹی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔ اس کے لب اپنے آپ گہرا سا مسکرائے۔

وہ بیڈ کی ایک سائیڈ آ کر نیم دراز ہوا تھا۔ ہمیشہ کی طرح سرخ گٹھڑی اپنے آپ میں سمٹی۔مگر سیدھی ہونے کی زحمت اب بھی نہیں کی تھی۔
روح،، جزبات سے بھرپور بوجھل آواز میں پکارا۔
خبردار مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی آپ نے،، بات مت کریں مجھ سے،، وہ سوں سوں کرتی چلملائی۔
ماہر سوہم خان کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی۔ تو اور کیا کروں؟ زرا سا اس کی جانب جھک کر پوچھا ۔
سوال کافی معنی خیز تھا مگر یہاں غور کون کر رہا تھا۔
مجھے کیا پتا؟ وہ جھلائی۔

یہ دیکھو روح میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ مارش میلو، اس نے دانتوں تلے لب دبا کر کہا۔
وہ بھنا کر اٹھی۔ آپ مجھے چھیڑنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
نہیں تو، وہ چہرے پر معصومیت طاری کرتے بولا۔
جی بلکل،، منی یہ مجھے بولتی ہے آپ کیوں بول رہے ہیں؟ آبرو اچکا کر پوچھا گیا۔
میں نے تمھیں تو نہیں کہا ۔میں نے تو سچ مچ کے مارش میلو کا بولا کیونکہ مجھے یہ بہت پسند ہیں اور میں انھیں کھانے لگا ہوں۔ وہ مزے سے مارش میلو اپنے لبوں میں دباتا بولا۔
آپ مجھے چھیڑ رہے ہیں،، وہ جھنجھلائی۔
آں،، ہاں،، سچ میں،، مگر میں تو اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں،، تو اتنا بڑا الزام میری جان کہ میں نے چھیڑا،، جانتی ہو چھیڑنا کسے بولتے ہیں؟
اب اس نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے بےحد قریب کیا تھا۔وہ بوکھلائی۔۔ رونے سے سرخ پڑا چہرہ اور چھوٹی سی ناک،،نرم و گداز خوشبوؤں میں بسا نازک وجود،
ماہر کی نگاہوں کی تپش نے اس کے چودہ طبق روشن کیے تھے۔
چچ،، چھوڑیں،، پپ،، پلیز،،
اب بول سکتی ہو کہ میں نے تمھیں چھیڑا، وہ اس کے بے حد قریب ہوا۔
راوحہ کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ ماہر نے اس کندھے پر اپنے پر تپش لب رکھے۔رواحہ کی سانس اٹک گئی۔ کچھ پل ایسے ہی گزرے۔
جب رواحہ کی جان جسم سے نکلنے لگی تو وہ مچل کر اس کی گرفت سے دور ہوئی۔ اور لمبے لمبے سانس کھینچ کر اپنا سانس بحال کرنے لگی۔۔
وہ پھر رو دی تھی۔۔

آ،،، آپ بہت برے،، ہیں،،
وہ گہرا مسکریا،، اور کچھ،؟
آ،،،آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں،،، وہ سسکی،،
اور؟ ماہر اطمینان سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اسے سننا چاہتا تھا۔
آ،،،، آپ،، نے مم،،، مجھے،، دھمکی،، بھی،، دی،، روٹھا سا لہجہ تھا۔
سوری،،،، ایک لفظی جواب تھا،
نو،، میں ناراض ہوں،، اور خبردار مجھ سے بات کی،، وہ بچوں کی طرح منہ بنا کر اور رخ موڑا،
میں منا لوں گا،، وہ اطمینان سے بولا، مگر ابھی نہیں، ابھی میرا منانا نا تم افورڈ کر سکتی ہو نا برداشت کر پاؤ گی اسی لئے سو جاؤ،، وہ گھمبیر بوجھل لہجے میں بولا تو رواحہ کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی اور فوراً سے پہلے یونہی چینج کیے بغیر کمفرٹر میں دبک گئی۔
پاس بیٹھے گرین مونسٹر نے اس کی پھرتی پر دانتوں تلے لب دبایا تھا۔
آج جو فون کال آئی تھی اس نے اسے ہلکا سا ڈسٹرب کیا تھا اور اب وہ اس کے سونے کا انتظار کر رہا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ اسے لئے اپنے روم میں داخل ہوا تھا پاؤں سے ڈور آٹو لاک کیا۔

تو اس نے شور مچا دیا اور بچوں کی طرح اس کے بازوؤں میں مچلنے لگی۔
چھوڑیں مم،،،مجھے،، میں نے باہر جا کر اور ڈانس کرنا ہے،، آ آپ،، کے ساتھ اس روم میں تو بلکل نہیں رہنا،،
کیوں کیوں نہیں رہنا میرے ساتھ،، ماہ بیر نے اسے نیچے اتارا اور کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے بے حد قریب کیا۔
کیونکہ آپ بہت،،، بب،،، سڑیل،، ہیں،، آپ جانتے ہیں؟ وہ اب اس کا گریبان پکڑ کر بولی تھی۔۔آپ جانتے ہیں؟ آپ ایک سڑیل،، اکڑو،، اور کھڑوس ہیں؟
جانتا ہوں،،، وہ اطمینان سے بولا۔جیسے یہ اس کے منہ سے سننا ماہ بیر کے لئے ایک اعزاز تھا۔
آپ جانتے ہیں آپ کتنے برے ہیں، اور میں کتنی اچھی،، وہ اپنے پاؤں پر کھڑی بھی نہیں ہو پا رہی تھی، وہ ماہ بیر کے پیروں پر اسی کے سہارے کھڑی تھی۔
یہ بھی جانتا ہوں،، فجر سے زیادہ تو اس کا لہجہ خمار آلود تھا جو بن پیے ہی بہک چلا تھا۔
آپ جانتے ہیں مم،،، میں آ،،،آپ سے،، کتنی مم،، محبت کرتی ہوں، فجر نے اس کا گریبان جھنجھوڑا۔
جانتا ہوں،،،اور تم جانتی ہو میں تم سے عشق کرتا ہوں،، ماہ بیر نے اس کا ڈھلکتا دوپٹہ اتار کر صوفے پر رکھا۔
پھر مجھے مارا کیوں؟ فجر نے نشے میں جھولتے بے پر کی اڑائی۔
کب،، کب ہاتھ اٹھایا میں نے تم پر؟
تو کک،،، کیا،،، کیا،،؟
بس پیار کیا تھا،،
کیسے؟ وہ پوری آنکھیں کھولنے کی کوشش میں ہلکان ہوئی اور پوچھ بیٹھی۔
ایسے،،، ماہ بیر جھکا تھا اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو عقیدت و محبت سے چوما تھا۔
پھر گردن پر جا بجا اس کے پرتپش لب اپنی چھاپ چھوڑنے لگے۔ فجر نے زور سے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں اور اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑ رکھی تھی۔
ماہ بیر مدہوش سا ہوتا اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا اور اس کی سانسوں کی خوشبو سے اپنی سانسیں معطر کیں۔
وہ چند پلوں میں ہی بے حال ہو چکی تھی اس لئے اس کا کالر مٹھیوں میں جکڑ کر مچلی۔
وہ پیچھے ہٹا تو وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔
اب کیا ہوا ہاں،، اب کرنے دو پیار مجھے،،
نن نہیں اب،،، مم،، میں،، کہہ کر اس نے اپنے لب اس کی گال پر رکھے تھے۔ماہ بیر نے اپنی آنکھیں بند کیں۔
اس نے دونوں آنکھوں کو چوما تھا۔
اب بس ہو چکی تھی ماہ بیر کی تبھی اسے بازوؤں میں بھر کر نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔ خود اس کے اوپر جھکا تھا۔
وہ پور پور اسے اپنی محبت میں بھگونے لگا۔ اپنے عشق کی داستان اس کے وجود پر رقم کرنے لگا۔
اس نے بھی ماہ بیر کی گردن کے گرد اپنے بازو حمائل کیے تھے یوں جیسے خود سپردگی کا عالم ہو۔

رات گہری اور خاموش تھی مگر فجر کی چوڑیوں کی معنی خیز سی کھنک کمرے میں گونجتی رہی۔ آج ان کے ملن پر دھڑکنوں نے بھی ایک ہو کر محبت کی خوشبو سے تال میل بنائے رکھا۔
آج وہ وہ ایک ہو گئے تھے مکمل ہو گئے تھے۔ماہ بیر کے برسوں کے تڑپتے بھڑکتے دل پر اس کی محبت کی نرم پھوار پڑی تو روح تک میں سرشاری اتری تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓