No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
گہری رات کا اندھیرا چہار سو پھیل چکا تھا۔ اسلام آباد کے پوش ایریا کے بنگلوں سے زرا ہٹ کر کچھ ویرانے میں یہ سابقہ ڈیفنس منسٹر کا پرانا فارم ہاؤس تھا۔ باہر بے شک گہرا سناٹا، تاریکی اور ویرانی تھی مگر فارم ہاؤس کے اندر جشن کا سماں تھا۔
فارم ہاؤس کے چاروں طرف بہت سخت اور جدید طرز ٹیکنالوجی کی سکیورٹی تھی۔
سی سی ٹی وی کیمرے، لیزر ریزز جو ساؤنڈز کیچ کرتی تھیں، جرمن شیفرڈ ڈوگز جو چاروں اور پھیلے ہوئے تھے۔ خاص فائٹرز جو کہ گارڈز کے ساتھ ساتھ پہرہ دے رہے تھے۔شارپ شوٹرز، جو کہ عمارت کی بالکونیز پہ سخت الرٹ کھڑے تھے۔
اسی عمارت کے وسیع و عریض لاؤنج میں سابقہ ڈفینس منسٹر مالک صاحب، ہیلتھ منسٹر کھرل صاحب، ہوم منسٹر منیر چیمہ بادشاہ اس کا چھوٹا بھائی رستم بادشاہ کے علاوہ اور بھی بڑی حساس اور اہم شخصیات موجود تھیں۔
یہ دن ان کے لئے بہت بڑا تھا۔یہ وہ درندے تھے جو نوچ نوچ کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں ۔ڈفینس منسٹر کی سالوں کی محنت اب کچھ دنوں میں رنگ ل والی تھی۔
قطرہ قطرہ کر کے حساس مقامات سے اسلحہ اور دیگر قیمتی ہتھیار چوری کر کے اب یہ سامان بہت بڑے پیمانے پر بہت جلد بارڈر پار اسمگل ہونے والا تھا جس کی اندر پلینگ کی جا رہی تھی۔
نہیں جانتے تھے کہ ان کے پیچھے وہ ہیں جو بہت جلد ان کی بارات نکالنے پہنچنے والے ہیں۔
ایک ٹرالر باہر آ چکا تھا۔جسے ہر طرح سے چیک کر لیا گیا تھا۔ اور اب وہ اندر سکون سے بیٹھے اگلی پلاننگ کر رہے تھے۔ دو ہفتے کہ بعد پلان کے تحت کافی سارے گندم سے لدے ٹرالر جو کہ بارڈر کے کے پار جانے والے تھے انھیں میں ان کے ٹرالر نے شامل ہو کر بارڈر پار جانا تھا۔
ہوم منسٹر صاحب ،،سالوں کی محنت ہے پلین تو پرفیکٹ ہے کوئی بھی گڑ بڑ نہیں ہوگی،،آپ کی موجودگی میں ہونی بھی نہیں چاہیے ، اربوں کا مال ہے آخر محنت رنگ لانے والی ہے، کھرل صاحب مکروہ قہقہ لگا کر بولا۔
بلکل کیوں نہیں ایسا ہی ہوگا۔اس وقت کا کتنا انتظار کیا ہم نے، جو راستے میں دیوار آئی گرا دی، جس نے ہمارے پلان میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی وہ جڑ سے اکھاڑ دی گئی، اب اس پلان کو کامیاب ہونے میں خود خدا بھی نہیں روک پائے گا۔
منیر چیمہ طاقت کے نشہ میں چور کفر بکتا یہ بھول گیا کہ جس خدا کے بارے میں بول رہا ہے کائنات کا سب سے بڑا پلانر تو وہی ہے اور خدائی دعوے کرنے والوں کا تو یوں غرور خاک میں ملا دیا جاتا ہے کہ نا وہ زمین کا رہتا ہے نا آسمان کا۔
وہ اپنی پلاننگ کرتے رہے، یہ تو وقت ہی طے کرنے والا تھا کہ کون پلانرز ہیں اور کون گیم چینجرز۔۔
کیونکہ باہر اس ٹرالر کے نیچے سے نکلنے والے وہ چار فرد جو مکمل سیاہ لباس میں تھے۔ اب اتنی سکیورٹی کے موجودگی میں لبوں پر تمسخرانہ ہنسی سجائے وہیں کہیں اندھیرے میں غائب ہو چکے تھے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
پھر نکلے ہیں دیوانے کئی پھونک کےگھر کو😞
کچھ کہتی ہے یہ راہ🤫 ہراک راہ گزر سے😔
انھیں یہاں آئے آج چودہ دن ہو چلے تھے۔۔اپنی منزل اپنے مقصد کے بہت قریب تھے۔ آج کا سارا ٹاسک کمپلیٹ کر کے کل کے لئے بلکل تیار وہ اب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ وہ گرین مونسٹر اپنے روم میں داخل ہوا تھا۔
وہ دھشت و جنون جو باہر اپنا کام مکمل کرتے اس کی آنکھوں میں موجود تھا ۔اب روم میں داخل ہو کر آنکھوں سے وحشت چھلکنے کو تھی۔ وہ بال کبھی مٹھیوں میں جکڑتا، کبھی ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر دوسرے ہاتھ کا مکا برساتا اپنے روم میں ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا۔
آخر جب رہا نا گیا۔ تو الماری کی جانب بڑھا۔ اور الماری سے اپنا لیپ ٹاپ نکالا۔ آن کر کے اپنے سامنے رکھا ۔
رات گہری تھی۔ اور رواحہ کی سانس سینے میں الجھی تھی۔آج چودہ دن ہو گئے تھے پل پل بے سکونی اور بے چینی میں گزرتے۔ وہ تو پوچھ پوچھ ہار گئی تھی رحاب مما سے روحا، زمل سے مگر ان کا ایک ہی جواب کہ بزنس کے سلسلے میں بیرون ملک ہے۔
مگر ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ اب اتنی بھی پاگل نہیں تھی۔کیونکہ بیرونِ ملک ،بیرونِ ملک ہی ہے ناں کالے پانیوں میں تو نہیں گئے ناں جہاں سے ایک فون کال بھی نا ہو سکے۔ اب بھی پہلے عشاء کی نماز ادا کی گھنٹوں بیٹھ کے ان کی سلامتی کی دعائیں مانگی کیونکہ دل میں مسلسل وسوسے اور وہم ستا رہے تھے۔ ایک عجیب اور انجانا سا خوف تھا جس نے دل و دماغ پر اپنا قبضہ جما لیا تھا۔
جائے نماز سے اٹھی ۔اسے فولڈ کر الماری میں رکھ کر پیچھے مڑی ہی تھی کہ دیوار میں اس کی تصویر دیکھ کر ٹھٹھک گئی ۔یہ پہلے تو یہاں نہیں تھی۔شاید منی نے لگائی تھی۔ وہ تڑپ کر تصویر کی جانب بڑھی اسے اتار کر بیڈ تک آئی تھی۔ بیڈ پر بیٹھ ان سبز کائی نما جھیلوں کو دیکھا اور ان میں ڈوب کر ابھری۔
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے.
ہمارے رخ پہ کہیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا… ؟
وہ بے آواز روتی چلی گئی تھی
ادھر اپنے کمرے کے منظر پر نگاہ اٹھی تو دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی۔ وہ شاید عشاء کی نماز پڑھ کر اب بیڈ پر بیٹھی تھی۔ اور جس چیز نے اتنے اعصاب شکن ماحول میں بھی اس گرین مونسٹر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیری تھی وہ یہ تھی کہ میڈم اس کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔
جلدی سے دراز میں سے وہ فون نکالا جس سے صرف منی سے بات ہوا کرتی تھی۔ نمبر ڈائل کیا جو دوسری بیل پر رسیو کر لیا گیا۔
سلام دعا کے بعد
منیب روح سے بات کرواؤ،،
بڑے ظالم ہو گرین مونسٹر،، ایک نازک سی جان کو،، میری مارش میلو کو کس عذاب میں جھونک گئے ہو،، وہ جھنجھلائی۔
آں ،،ہاں،،ابھی وہ عذاب تو کچھ بھی نہیں منیب ، تمھاری اس نازک جان مارش میلو کو مجھے جھیلنا پڑا تو پناہ مانگے گی مجھ سے ،، وہ سکون سے بولا منی نے سامنے والے کی معنی خیزی ،تڑپ اور بے چینی پر دانتوں تلے لب دبایا اور اس کے کمرے میں داخل ہو کر فون اس کی جانب بڑھایا۔
رواحہ نے منی کو سامنے آتا دیکھ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔ اور آہٹ پاتے ہی تصویر دوپٹہ کے نیچے چھپا لی۔
ماہر سوہم خان کا ہے فون،، تم سے بات کرنا چاہتا ہے، منی نے کہا تو رواحہ کو آگ لگی۔
مجھے نہیں بات کرنی ان سے بول دو، اس نے ناراضگی سے منہ بنا کر رخ پھیرا۔
منی فون کان سے لگا کر ابھی کچھ بولتی کہ، اسپیکر آن کرو منیب،،
منی نے اسپیکر آن کیا تو بھاری سرسراتی آواز کمرے میں گونجی۔ روح اگر نہیں چاہتی کہ نکاح کی رات کا ادھورا چھوڑا کام ابھی آکر پورا کر کے تمھارے ہوش ٹھکانے لگاؤں تو بات کرو مجھ سے ،، ماہر نے اطمینان سے کہا مگر ادھر وہ گڑبڑا کر اچھل پڑی۔
مسکراتی منی کو دیکھ اس کے چہرے نے لہو چھلکایا فورا فون پکڑ کر اسپیکر سے ہٹا کر فون کان کو لگایا۔
منی فون پکڑا کر وہاں سے ہٹی۔
مم،، میں نے کہا ناں مم،، میں نے آ،،، آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی،تو کیوں فورس کر رہے ہیں،، وہ لال بھبوکا چہرہ لئے جھلائی مگر تصویر ہنوز گود میں تھی جس پر وہ اپنی مخروتی انگلیاں عقیدت سے پھیر رہی تھی ۔وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین دیکھ پھر مسکرایا۔
اوکے اسے چھوڑو یہ بتاؤ کیا کر رہی ہو؟ سوہم نے سکون سے پوچھ کر اسے بے سکون کیا۔
کک،، کچھ، نہیں،، رواحہ نے چور نگاہوں سے تصویر کو دیکھا تھا۔
آں ہاں،، مجھے جانے کیوں لگا کہ ابھی ابھی تم نے میری گال پہ ہاتھ پھیرا،،ماہر سوہم نے اس کی حیرت سے پھیلی آنکھیں دیکھ اب انجوائے کیا تھا۔
اونہہہہہہہ،، خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں،دیکھئے دیکھئے، وہ تلملائی مگر فریم سے بازو لپیٹ کے اسے سینے سے لگا لیا۔
اہہہہو،، اور اب مجھے جانے کیوں لگا کہ تم نے مجھے سینے سے لگایا ہے،، اطمینان قابلِ تعریف تھا۔ادھر وہ اپنی جگہ سے اچھلی اور حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔
یہاں وہاں نہیں میری جان اپنے دل میں اپنے اندر جھانکو، ادھر ہوں میں، اب تو اس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکی تھیں۔
مگر اس کی شرارت سمجھ ایک گہری سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی۔ اب فون کیوں کیا آپ نے؟ وہ تڑخ کر بولی۔
تم مجھے بار بار چھو کے سینے سے لگا کے ڈسٹرب کر رہیں تھیں تو یہی کہنے کو فون کیا تھا کہ نا کرو مارش میلو،، نہیں تو میں گستاخیوں پر اتر آیا تو پناہ مانگو گی مجھ سے،،
بھاری بوجھل گھمبیرتا سے بھر پور لہجہ نے رواحہ کے رونگٹے کھڑے کیے تھے۔
اسکرین پر اس کے ماتھے پہ پسینے کی ننھی ننھی بوندیں دیکھ اس کی مسکراہٹ ہونٹوں سے جدا ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔
آ،،، آپ،،، کک،، کو غلط فہمی ہوئی،، مم،، میں تو کچھ نہیں کر رہی،، اب رواحہ نے دانتوں تلے لب دبا کہ تصویر میں اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے۔
ماہر سوہم خان کے دل میں گدگدی سی ہوئی۔
ہممم کافی میٹھا اور نرم تھا سچ میں ماش میلو کی طرح،، ماہر کے شوشے پہ وہ چونکی۔
کک کیا؟
ابھی میرے فور ہیڈ پہ جو تم نے لمس چھوڑا اس کی بات کر رہا ہوں ماش میلو،،
اب سچ میں رواحہ کے اوسان خطا ہوئے تھے،، سانس کا توازن بگڑا تو وہ شاکنگ پنک کرتی شلوار میں پوری کی پوری گلابی ہو گئی تھی۔
ویسے یہ شاکنگ پنک پلس ریڈ ماش میلو دکھنے میں بے تحاشا مزیدار لگ رہا ہے، وہ گرین مونسٹر تو آج اس کی چھوٹی سی جان اپنی باتوں سے لینے پر تلا بیٹھا تھا۔
آ،،،، آپ،،، ککک،،، کہاں،، ہیں،، مم،، مجھے،، دیکھ،، رہیں ہیں،، ناں،، آ،،، آپ،،
وہ لال ٹماٹر ہوئی اور سہم کر پوچھا۔
اور افسوس اسی بات کا ہے کہ صرف دیکھ پا رہا ہوں نہیں تو تمھاری رگ و جاں میں اتر جانا تھا میں نے،، لہجہ اور بات کافی معنی خیز تھی۔
رواحہ فوراََ سے پہلے کمفرٹر میں دبک گئی تھی۔ ماہر کی مسکراہٹ پھر گہری ہوئی۔
چودہ دن کے بعد آج آپ کو میری یاد آئی آج آپ نے فون کیا، کیوں؟ وہ بھرائی آواز میں شکوہ کر بیٹھی۔
تم دن گن رہی ہو؟ ماہر نے اس کی چوری پکڑی تو وہ پھر بوکھلا گئی اور فون بند کر دیا۔ ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کر دی۔
ماہر نے سکرین اندھیرے میں ڈوبی دیکھی تو ایک سرد سی آہ بھری۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کامران حسن کو کہیں سے بھنک لگی تھی کہ ان کی بیٹی وائٹ پیلس جاتی رہی ہے تو انھوںنے ایک ہنگامہ مچا دیا تھا۔
شفا کو پہلی مرتبہ زندگی میں اس قدر ڈانٹ پڑی تھی کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
کامران نے اس پر زرا سی سختی کرنا شروع کر دی تھی۔اور اس کے بےجا باہر نکلنے پر پابندی لگا دی۔
اب بھی وہ اپنے کمرے میں اداس سی بیٹھی۔ جب کامران ناک کر کے روم میں داخل ہوئے۔وہ ناراضگی سے منہ پھیر گئی۔
ہممم تو پاپا کی پری پلس آفت ناراض ہے پاپا سے اب کیا کیا جائے؟
وہ اس کے پاس بیٹھتے بولے۔ اس نے جواب نہیں دیا اور یونہی منہ پھلا کر بیٹھی رہی۔
اوکے رائٹ سوری بابا،، مجھے آپ کو نہیں ڈانٹا چاہیے تھا۔ اب خوش،،
یس،، وہ مسکراتی اچھل پڑی۔
مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی منمانی کرو گی۔ بغیر کسی وجہ کہ اب بھی گھر سے نکلنے کی پرمیشن نہیں ہے آپ کو، رائٹ،،
اوکے پاپا، اس نے برا سا منہ بنایا۔ مگر دل میں جو ٹھانی ہوئی تھی وہ تو کرنی ہی تھی مس آفت نے۔
اوکے میرے پاس ایک گڈ نیوز ہے اور ایک بیڈ نیوز پہلے کونسی سناؤں؟
بیڈ نیوز،، اس نے اداسی سے کہا جانتی تھی جب اس کے پاپا کو کہیں جانا ہوتا تھا تو وہ ایسے ہی اسے بہلا کر بتایا کرتے تھے۔
میں کچھ دنوں کے لئے اسلام آباد جا رہا یوں،، تو میری بریو گرل کو پھر سے اکیلا رہنا پڑے گا۔
اینڈ گڈ نیوز،، شفا نے آبرو اچکا کر پوچھا۔۔
تمھاری پھپھو دبئی سے آ رہی ہیں،، پرسوں،،
او نو پاپا یہ بھی بیڈ نیوز ہی ہے،، وہ روہانسی ہوئی۔
شفا بری بات بیٹا،، وہ ناراض ہوئے
او نو،، نو،، پاپا مجھے پھپھو سے کوئی پرابلم نہیں بلکہ وہ تو بہت سوئیٹ ہیں بٹ وہ ان کا چپکو بیٹا بنٹی،، افففف، اس نے کڑوا سا منہ بنایا تو کامران قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
وہ چپکو نہیں بیٹا بس بچپن سے آپ سے فرینڈشپ کرنا چاہتا ہے اور آپ اتنا ہی اس سے دور بھاگتی ہیں۔
او کم آن پاپا آئی کانٹ ٹولریٹ ہم ایکچوئلی،،
کامران ہنستے چلے گئے تو اس نروٹھے پن سے انھیں گھورا اور وہاں سے واک آؤٹ کر گئ۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جبران نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا تھا۔ تو ماتھے پر بےشمار بل آئے۔
ان دنوں وہ جب سے یہاں تھا اس نے پل پل اس پر نظر رکھی تھی وہ اس کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک پل کو بھی غافم نہیں ہوا تھا۔ ان دنوں سکون ہی رہا اور کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی تھی۔
مفرا کو جیسے سمجھایا تھا بلکل اس کے مطابق وہ اپنا زیادہ تر وقت کمرے میں ہی گزارتی تھی۔کمرہ کھڑکیاں لاک کر کے۔ بس سعد کی موجودگی میں کمرے سے باہر نکلتی تھی۔
اس نے اسکرین پر دیکھا تو نرما کچن میں گھسی کھڑکیاں بند کر کے اپنے منہ پر دوپٹہ رکھ کر چولہے سے گیس آن کر دی تھی ۔
دورازہ بند کر کے باہر کھڑی ہو گئی ۔
جبران سمجھ گیا تھا وہ کیا کرنے والی ہے تبھی فورا مفرا کو اتنے دنوں بعد کال ملائی تھی۔
تیسری بیل پر کال لرزتے جھجھکتے رسیو کی گئی تھی۔
ہیلو،، دھیمی آواز نے جبران کے کانوں میں رس گھولا۔
سنو مفرا غور سے میری بات سنو،، ابھی کچھ دیر تک نرما تمھیں بلانے آئے گی۔تم کسی صورت روم سے باہر نہیں نکلو گی۔ انڈراسٹینڈ،،
کک،،، کیا، ہوا، سب، خیرت،کیا کرنے والی ہے وہ، مفرا خوفزدہ ہوئی۔
وہ سب میں تمھیں بعد میں بتاؤ گا ابھی کھڑکیاں دروازہ اچھے سے لاک کر لو، اور خبردار باہر مت نکلنا، بلکہ جواب ہی نہیں دینا جب تک سعد بھائی نہیں آتے اہنے روم سے مت نکلنا۔
جج،، جی،، لاک ہی ہیں کھڑکیاں اور دروازہ،، ابھی وہ کچھ اور کہتی کہ اپنی جگہ سے اچھلی کیونکہ نرما دروازہ دھڑ دھڑا رہی تھی۔
مفرا باہر آؤ میرے بازو میں درد ہے مجھے کھانا گرم کر کے دو فوراً،، وہ چلائی۔
وہ صرف کہہ رہی یے کھانا گرم کر کے دو ،مفرا نے کہا تو جبران کے ماتھے پر بل آئے۔
چولہے آن کر کے کچن میں گیس بھر کر آئی ہے تمھیں زندہ جلانے کا ہرواگرام ہے اس کا۔ وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تو مفرا سہم کو رو پڑی۔
ہیے ہیے،، ڈرو نہیں میں جو تمھارے ساتھ ہوں۔چلو بیڈ پر لیٹو،،
مفرا باہر آتی ہو کہ نہیں،، سنائی نہیں دے رہا بہری ہو گئی ہو،، باہر وہ چلائے جا رہی تھی۔
مفرا کے آنسو تواتر سے بہے چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔
اس کی مت سنو مفرا میں نے کہا بیڈ پر لیٹ کر کمفرٹر اوڑھ لو اور مجھ سے بات کرو۔
مفرا نے فورا عمل کیا۔اب وہ کوشش کر رہی تھی کہ نرما کی بکواس نا سنے بلکہ اپنا دھیان اس ظالم کی جانب لگائء جو اسے یہاں پھر اس پاگل عورت نرما کے آسرے پر چھوڑ گیا تھا۔
پوچھو گی نہیں مجھے کیسے پتہ چلا،، جبران نے اس کا دھیان بٹانے کو اس کی توجہ دوسری جانب مبزول کروائی۔
آپ کو ،،،کک،، کیسے پتہ چلا؟
کم آن یار کیمرے لگا رکھے ہیں میں نے پورے گھر میں ،کبھی اپنی چھوٹی سی عقل کو بھی استعمال کر کے کرو،، ۔
تت،، تو، کیا، آپ مجھے بھی دیکھ رہے تھے،، مفرا کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔وہ جو دوپٹے کے بغیر کمرے میں شتر بےمہار موجود ہوتی تھی اور بیڈ ہر کسی بھی طرح آڑھی ترچھی لیٹی رہتی تھی۔
اسے سوچ کر جھرجھری آئی۔
ظاہر سی بات یے تمھیں دیکھنے کے لئے تو لگا رکھے ہیں ،،اب میرا ٹیسٹ اتنا خراب نہیں کہ اس پاگل نفسیاتی مریضہ کو دیکھتا پھروں،،جبران نے برا منایا۔
آپ بہت برے ہیں بندہ کبھی کسی بھی حالت میں ہو سکتا ہے اور آپ،، مفرا نے برا سا منہ بناتے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
تو کیا ہوا تمھارے جسم و جاں کا مالک ہوں تمھیں کسی بھی حال میں دیکھ سکتا ہوں میں ،،اس چیز کا لائسنس ہے میرے پاس،، وہ اطمینان سے بولا تو مفرا پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔
بولتی بند ہو گئی پھر کچھ یاد آیا۔
آپ آج مجھے بتائیں کہ وہ کون ہے جو نرما جو سزا دیتا ہے، بتائیں مجھے،، وہ ضدی لہجے میں بولی تو اس نے سرد سی آہ بھری ۔
اوکے رائٹ ،،پرامس کرتا ہوں آ کر بتاؤں گا۔
کب آئیں گے آپ،، اس نے بیقراری سے پوچھا مگر اپنی جلد بازی پر اپنے ہی لب کچلے۔
وہ گہرا مسکرایا،، تم انتظار کر رہی ہو؟
سس،، سعد،، بھائی ہوچھ رہے تھے،، مفرا نے بہانا گھڑا،، وہ خوب سمجھتا تھا کہ کون پوچھ رہا تھا۔
دو تین دن تک لوٹ آؤں گا۔ تیسرے دن نہیں آ سکا کسی بھی وجہ سے نہیں لوٹا تو ایک گاڑی آئے گی جس میں زمل نامی خاتون ہوں گی وہ میری مما ہوں گی۔پک بھیج دوں گا تمھیں، بغیر سوچے سمجھے ان کے ساتھ چلی جانا۔
کک،، کیوں،، ،،مم،، مگر،،
نو کوئی اگر مگر نہیں نا کوئی سوال،، بس جو بول رہا ہوں کرتی جاؤ،
مم،، مگر،، آپ کیوں نہیں آئیں گے،، اسے حیرت تھی وہ یہ کیا بول رہا تھا۔
بعد میں بتاؤں گا پنک روز،، ابھی میری مشکل مت بڑھاؤ، یہ کہہ کر جبران نے فون رکھ دیا تھا۔
مفرا کو اور رونا آنے لگا مگر زور سے آنکھیں بند کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
