Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

غم سے نڈھال، دکھوں کی ماری، اپنے ہی شوہر کی دھتکاری اپنے بیڈ پر گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ آج دس دن ہو چکے تھے بی جان کو گئے اور اس کی حالت میں انیس بیس کا بھی سدھار نہیں آیا تھا۔ وہ یونہی سارا سارا دن روتی جب تھک جاتی تو بس یونہی ایک جگہ بیٹھی گھورتی رہتی۔ کھانا بھی بس زندہ رہنے کے لئے رحاب کے ہاتھوں زہر مار کر لیتی تھی۔اب بھی وہ اسی سچویشن میں بیٹھی تھی۔جب ماہ بیر تن فن کرتا اس کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔

بہت ہی اچانک ہی اسے بازوؤں سے تھام کر بیڈ سے نیچے گھسیٹتا اپنے روبرو کیا تھا۔
اس نے خالی خالی نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کی وحشت زدہ آنکھوں میں دیکھا۔
جو پوچھوں ہاں یا ناں میں جواب دینا، فجر تم نے ڈائیورس کا پیپر بی جان کو دکھایا تھا؟ سرخ لہو چھلکاتا چہرہ، بھسم کرنے والا انداز، لال انگارا آنکھیں، آج بھی اس بے مہر کو اس نیم جان وجود پر ترس نہیں آیا تھا۔

حوصلے ہی جواب دینے لگے
اس قدر اس نے آزمایا مجھے

فجر نے کوئی جواب نہیں دیا تھا خاموشی سے اسے دیکھے گئی۔
خدا کے لئے فجر، مجھے یہ مت کہنا کہ اس دنیا پر موجود ایک آخری خون کا رشتہ بھی میں نے تمھاری ہی وجہ سے کھو دیا، اب جواب دو مجھے، وہ ٹوٹے بکھرے لہجے میں بولتا ایک مرتبہ پھر اس پر ستم کے پہاڑ توڑنے میں مصروف تھا۔

تبھی اتنے سالوں میں آج پہلی مرتبہ سوہم طیش کے عالم میں اس کمرے میں داخل ہوا تھا۔ماہ بیر کے ہاتھ پیچھے جھٹکے تھے اس نے ۔ طیش و اشتعال میں گرین مونسٹر کی لال انگارا آنکھیں عجیب یی منظر پیش کر رہیں تھیں۔

اسٹاپ اٹ ماہ بیر، اگر اتنی ہی فکر تھی بی جان کی تو بھیجا ہی کیوں تھا وہ پیپر ، اول تو تم ایسا چاہتے ہی نہیں تھے، اگر ایسا کرنے ہی لگے تھے تو تینوں ایک ہی مرتبہ دے کر اپنی جان چھڑاتے، اور اب اسے الزام دینے کی ضرورت نہیں، اس نے نہیں دکھائے وہ پیپر بی جان کو، ناؤ گیٹ لاسٹ فرام حویلی، شکل گم کرو اپنی نہیں تو پٹو گے مجھ سے، سوہم غرایا تو وہ شرافت کا مظاہرہ کرتا مگر آگ کا شعلہ بنا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
سوہم نے ایک نظر اس سفید پڑتے چہرہ کو دیکھا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ کیونکہ حویلی میں غیر معمولی سی ہلچل ہوئی تھی۔

جب رحاب اس کے کمرے میں آئی تو وہ تڑپ تڑپ کر روتی اپنے بال نوچ رہی تھی۔ ایسی پاگلوں والی اس کی حالت پر رحاب کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔ رحاب سے اس کو سنبھالنا دوبھر ہو رہا تھا۔۔ تبھی پاشا کے ہمراہ اندر ریشماں داخل ہوئی تھی۔ پاشا انھیں عقیدت سے ہاتھ تھام کر اندر لایا تھا۔
جھریوں زدہ چہرے میں عجیب سا نور تھا کہ ایک مرتبہ تو انھیں دیکھ سب کا ہی سانس تھما تھا۔

فجر کی سسکیاں بھی اب بے آواز ہو چکیں تھیں ۔انھیں بیڈ پر بٹھایا گیا۔ دادو، فجر نے کہہ کر ان کی گود میں منہ دیا تھا اور پھر سسک پڑی۔ریشماں نے اس کا سر تھپتھپایا اور بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
کیا ہوا میری بچی کو، ریشماں کے لہجے میں ایک ٹھہراؤ سا تھا۔
دادو،، مجھے لگتا ہے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا، مر جاؤں گی میں ان تکلیفوں اور غموں سے،
ریشماں مبہم سا مسکرائی تھی۔

جب تمھیں یہ لگے کہ کلیجہ غموں سے پھٹ ہی جائے گا تو ایک پاک ہستی(محمدؐ) کے قصے یاد کر لیا کرو، پیدا ہونے سے پہلے ہی یتیم ہو گئے، اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین ہونے کے باوجود کونسی ایسی تکلیف ،غم اور پریشانی تھی جو انھوںنے برداشت نہیں کی، سب اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جاتے دیکھا۔ اتنے پتھر کھائے کہ جوتے خون سے بھر جاتے، بیٹیوں کو بھی کھویا اور بیٹوں کو بھی، حالانکہ اختیار رکھتے تھے کہ آسان زندگی گزار سکیں۔ بہت آسان، مگر ایسا نہیں کیا، بس صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، تو ان کے پیروکار ہونے کی وجہ سے ہمیں بھی تو صبر کرنا چاہئے ناں۔

مگر دادو، آپ (محمدؐ) تو اتنی عظیم الشان ہستی ہیں، اور میں بہت معمولی سی ،میں نہیں کر سکتی اتنا صبر مجھ سے نہیں ہوتا۔۔وہ بے بسی سے بولی۔

تو پھر ہماری مثال لے لو، مرد و عورت کے بیچ کی ہماری زندگی اس قدر اذیت ناک اور عذاب ناک ہے بچی، کہ سوچ ہے تمھاری، نامکمل، ادھورے ہم، تم تو ایک شخص کے دھتکارنے پر زندگی سے ہی خفا ہوگئی۔ہمارا حوصلہ دیکھو سگے ماں باپ کے دھتکارے ہوئے، ہر در پر دھتکار ملتی ہے ، ہر انسان سے۔ مردوں اور عورتوں کی اس دنیا میں جیسے ہماری تو کوئی جگہ ہے ہی نہیں، ہر کوئی یا تو غلیظ بھوکی نظروں سے دیکھتا یا حقارت کی نظروں سے۔
مگر پھر بھی شکر الحمدلله، صدقے جاؤں اس پاک پروردگار کے جس نے زندگی دی، جسمانی معذوری نہیں دی، اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ۔اور انسانیت کی خدمت کرنے کا موقع دیا ۔ دنیا نا سہی آخرت تو ملے گی۔

ریشماں کے لہجے میں عجیب سا سکون اور ٹھہراؤ تھا۔ فجر اب طوفان کے گزر جانے کے بعد کی طرح شانت تھی بلکل پر سکون، جیسے صبر آیا یو۔جیسے اس مہربان آغوش نے ماں کی نرم ممتا کی طرح سر سہلایا ہو۔

دادو، اب آپ جیسے کہیں گی میں ویسے ہی کروں گی، اب ان کی نفرت کو میرے صبر کا سامنا کرنا پڑے گا۔آخری بات دل میں بول کر اس نے سکون سے آنکھیں موندیں تھیں

جلد ہی وہ اتنے دنوں کے بعد بغیر میڈیسن لیے گہری پرسکون نیند سوئی تھی۔رحاب اور پاشا اسے دیکھنے دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے تو اسے دیکھ کر مسکرائے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رواحہ کو اس بند کمرے میں دسواں دن تھا۔وہ ییلو کرتی شلوار میں بڑا سا دوپٹہ حجاب سٹائل لیے بیڈ پر بیٹھی۔ اس دن کا سوچ کر اسے آج بھی جھرجھری آ جاتی تھی جب وہ سبز آنکھوں والا درندہ نما شخص اس کمرے میں اس کے اتنے قریب آیا تھا۔ اس نے اس سے دور بھاگنے کو اسے پرے دھکیل کر دوسری جانب جانے کی کوشش کی تھی۔

رواحہ اپنا توازن بر قرار نہیں رکھ سکی تھی تبھی واپس آ کر پھر اس خوفناک شخص کے چوڑے چٹانی سینے سے ٹکرائی تھی۔ تبھی وہ شدید خوفزدہ ہوئی تھی کہ اب کیا آزمائش آنی والی ہے اس پر۔اس نے بے تحاشا خوفزدہ ہرنی کی طرح سہم کر اس کی جانب دیکھا تھا جو اب پھر دیوار سے پن کیے اسے دیوار پر دائیں بائیں ہاتھ رکھے محویت سے تکنے میں مصروف تھا، رواحہ نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخیں دبانے کی کوشش کی تھی۔کیونکہ اس کا دوپٹہ بھی اب اس گرین مونسٹر کی قدم بوسی میں مصروف تھا۔مگر آنسوؤں نے روانی سے گال بھگوئے تھے۔

تبھی رومال کے پیچھے وہ سبز کائی جمی آنکھیں بھی بے چین ہوئی تھیں۔ اسی لئے وہ پیچھے ہٹتا چلا گیا تھا۔ الٹے قدموں چلتا وہ ڈور تک گیا تھا۔مگر ایک پل کے لئے بھی اس سے نگاہ نہیں ہٹائی تھی۔

تبھی وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا اور دروازہ بند ہو گیا۔ رواحہ کی جان میں جان آئی تھی۔اس کے ہونے سے تو سینے میں سانس ہی اٹک گئی تھی۔اسی دن ایک خواجہ سرا اندر آئی تھی۔رواحہ سے بیٹھ کر باتیں کیں ۔ اور سے کپڑے دے کر گئی تھی۔
اور آج کافی دن ہو گئے تھے اسے یہاں رہتے۔ وہ فی الحال یہاں محفوظ تھی اس کے لئے یہی کافی تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رستم ولا میں موت کا سا سناٹا طاری تھا جب اس سناٹے کو چیرتی تین چار گاڑیوں کے ٹائروں کی چرچراہٹ کی آوازوں نے فضا میں شور پیدا کیا تھا۔ وہ گاڑیاں رستم ولا کے پورچ داخل ہوئیں تو ایک بھگدڑ ایک گھبراہٹ سی تھی جو چاروں اور دیکھنے کو ملی،

سفید کلف لگا کھدر کا سوٹ پشاوری چپل پہنے وہ شخص کروفر سے گاڑی سے نیچے اترا تھا۔
منیر دادا آ گئے،، منیر دادا آ گئے ،سرگوشیاں عروج پر تھیں اور ہر کوئی اس کا استقبال کرنے بچھا جا رہا تھا۔مگر وہ حقارت بھری نگاہ ان آدمیوں پر ڈال کر اندر بڑھا تھا۔ پورے ولا میں ہیبت سی طاری تھی۔

وہ اندر کوریڈور سے گزرتا ایک شاندار کمرے کے باہر آ کر رکا تھا۔جس کے باہر دو گارڈ کھڑے تھے۔ دد،،، دادا،، ررستم،، دد، دادا نے منع کیا ہے کک،، کہ اندر کوئی نا آئے،، گارڈ گھگھیا گیا۔
دادا نے جواب میں اس کے سر پر اپنی گن نکال کر رکھی تھی۔ اس کی روح فنا ہوئی۔ اور وہ گھگھیا کر پیچھے کھسکتا چلا گیا۔
وہ اندر داخل ہوا تھا۔جہاں رستم خود کو شراب کے نشے میں ڈبو رہا تھا۔ بکھرا حلیہ ،بڑھی شیو، لال انگارہ آنکھیں،
آنے والے کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے۔

یہ کیا حال بنا رکھا ہے اپنا تم نے چھوٹے، ہر کام ادھورا چھوڑ رکھا ہے یہ کیا عورتوں کی طرح حجرے میں بند ہوئے بیٹھے ہو تم رستم،،،
مجھے چندا چاہیے بھائی،، نہیں تو میں مار لوں گا اپنے آپ کو، اس سے پہلے کے رستم کو مزید قوالیاں سننے کو ملتیں اس نے اپنا مسئلہ بتایا اور دانت پیسے۔

خوب بہت خوب، ایک عرصہ لگا ہمیں لوگوں کے دلوں میں اپنا ڈر اور ہیبت بٹھانے میں، انسانوں کو چیونٹیوں کی طرح جوتوں کے نیچے روندا، اور تم رستم دادا ،منیر دادا کے بھائی ہو کر ایک تل بھر کی چھوکری کو قابو نہیں کر سکے رستم ڈوب مرو، یا چوڑیاں پہن لو،اتنی ہی آگ لگی تھی تو اٹھا لاتے کوٹھے سے، اس دوسری چھوکری کے تو گھر تک گھس گئے تھے، ادھر کیا ہوا ، وہ دھاڑا،

وہ رانی بائی سالی بچ،،، اس کی وہ منہ دکھائی کی رسم وہ اصول اور میں ،،
اب تو ڈوب ہی مرو تم سو کالڈ رستم دادا نام ڈبو دیا منیر دادا کا بھی ،،،جانتے نہیں یہ اصول یہ پابندیاں معمولی انسانوں کے لئے ہیں ہمارے لئے نہیں زیادہ چوں چاں کرتی تو گولی مار دیتے رانی کو، اب عاشق بنے آہیں بھر رہے ہو،

مجھے وہ چاہیے بھائی، بچپن سے لے کر آج تک میں نے جو چیز کی خواہش کی ،آپ نے مجھے لا کر دی، میں پورا پنجاب چھان چکا ہوں مگر وہ مجھے کہیں نہیں مل رہی مجھے وہ چاہیے،، مجھے چندا چاہیے، اس نے اپنے بال نوچے۔۔
بند کر اپنا یہ تماشا ،،سمجھے،اور پوری بات بتا، ، منیر نے دانت پیستے کہا۔

رستم نے ساری بات بتائی، اور میرے آدمیوں کو اس جلاد سوہم خان نے مار ڈالا اور دھمکی دی اور کہا کہ مجھے کہے کہ میری معشوقہ جلاد کے پاس ہے مرد کے بچے ہو تو لے جاؤ، اس نے نظریں چرا کر کہا مگر جلاد سوہم خان کے نام پر سامنے والا بری طرح چونکا۔

اے یہ کیا کہہ رہے ہو، سوہم خان تو مر چکا ہے، اونہہہہہہہہہہ وہ جلاد بھول گئے شاید کے کیسے ہم نے انھیں کونوں کھدروں سے نکال نکال کر مارا تھا، جو دوبارہ منیر دادا سے الجھنے چلے ہیں،
اور تو، تو پنجاب میں ہی اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہ گدھے کی اولاد وہ تیرے باپ کراچی میں ہیں، منیر دھاڑ رہا تھا منہ سے جھاگ اڑا رہا تھا۔
اور پھر دونوں بھائی سر جوڑے مکرہ اور غلیظ پلین بنانے لگے

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

شہر کی مشہور سڑک پر ہیلتھ منسٹر کی گاڑی رواں دواں تھی۔
تبھی ان کی گاڑی سگنل پر رکی تو اس گاڑی کے لیفٹ رائٹ اور پیچھے تین اور گاڑیاں رکیں تھیں۔

سگنل سے ایک بچہ منسٹر کی گاڑی کے قریب آیا تھا اور ڈرائیور کو اپنی ٹوکری میں سے کھانے کی چیزیں بیچنے پر اصرار کرنے لگا۔مگر کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس بچے نے نمکو کے پیکٹ کے ساتھ بڑی صفائی سے اس ڈرائیور کو گن پکڑائی تھی۔ جس نے چہرے پر ماسک لگا رکھا تھا۔ وہ بچہ جا چکا تھا۔
اور اتنی ہی جلدی اور صفائی سے منسٹر صاحب گن پوائنٹ پر دوسری گاڑی میں شفٹ ہو چکے تھے۔منسٹر کی گاڑی اس ڈرائیور نے تھوڑی دور جا کر ایک مخصوص جگہ پر چھپائی تھی اور اپنی ہیوی بائیک پر ان گاڑیوں کا پیچھا کرتا بڑی جلدی ان تک پہنچ گیا تھا۔

شہر کی بیرونی حدود میں وہ گاڑیاں ایک بہت ہی ویران پرانی فیکٹری میں داخل ہوئیں تھیں۔ وہ تین تھے جنھوں نے اپنا چہرے رومال باندھ کر چھپائے ہوئے تھے۔چوتھا بائیک سے اترا تھا۔

ہیے یو کون ہو تم، اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ جانتے نہیں کون ہوں میں؟ چھوڑوں گا نہیں تم لوگوں کو میں،
منسٹر صاحب پھڑپھڑائے۔

مگر وہ انھیں دبوچ کر اندر لا کر ایک چئیر پر بٹھایا تھا جہاں ایک شخص ان کی جانب پیٹھ کیے کھڑا تھا۔۔ان چاروں میں سے ایک نے منسٹر کی چئیر کے سامنے ایک چئیر رکھی تب وہ شخص مڑا تھا جس کے چہرہ پر بھی رومال بندھا ہوا تھا۔وہ شخص اطمینان سے آ کر اس چئیر پر بیٹھ گیا۔اور باقی چار اس کے پیچھے کمر پر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔

منسٹر کو مطلق جیسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ کڈنیپ ہو چکا ہے اسی لئے اطمینان سے بولا۔
تم لوگوں کی تعریف؟

وہ تو دنیا کرتی ہے ،پاشا کی سرسراتی بھاری آواز سناٹے میں گونجی، اور دنیا گواہ ہے کہ ہمیں
Executioners
کے نام سے جانا جاتا ہے، بے رحم ،سفاک، ظالم اور جانے کیا کیا۔
اب ان پانچویں کی دائیں ہاتھوں کی انگلیوں میں ایک ہی اسٹائل میں اسکیلپل گھومتے دیکھ منسٹر کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں ابھری تھیں۔ اور کون نہیں جانتا تھا ان جلادوں کو تو ان کا ڈرنا بنتا تھا۔

پاشا نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو جے کے نے آگے بڑھ کر ایک ٹیبل پر رکھے، لیپ ٹاپ کو آن کر کے اس میں کچھ ویڈیوز ریکارڈنگز آن کر دیں اور پیچھے ہٹا۔
اب صورتحال کچھ یوں تھیں کہ مختلف سرکاری ، غیر سرکاری اور نیم سرکاری ہوسپیٹلز کی وہ ویڈیوز دیکھ منسٹر کی کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا۔ منسٹر کو سانپ سونگھ گیا۔

تو منسٹر جی، یقینا یہ جو آپ کی ناک کے نیچے مچھلی بازار کھلا ہوا ہے آپ انجان تو نہیں ہوں گے اس سب سے، اگر انجان تھے تو اب تو معلوم ہو گیا ہے مجھے امید ہے کہ فوراً کوئی اسٹیپ لیں گے، اگر جانتے بوجھتے یہ سب ہو رہا ہے تو پہلی اور آخری وارننگ اور ایک موقع دے رہا ہوں یہ غلطی سدھارنے کا، بعد میں بس
Executioners
کی انصاف کی عدالت میں سزائے موت ملتی ہے۔

تم لوگ ایسا کچھ نہیں کر سکتے، ہو کون تم لوگ آخر، اور ہوتے کون ہو سزائے موت کی دھمکی دینے والے، وہ جلاد تو ختم ہو چکے ہیں تو تم لوگ کون ہو، منسٹر کی زبان پھسلی اور جانتے بوجھتے انجان بنا۔

ہممم،، جیسے کہ ابھی کہا جلاد ہوتے ہیں ہم، اور جو ختم ہو چکے ہیں ان میں سے ایک میں ہوں، اور یہ جو پیچھے کھڑے ہیں انھیں میں نے ہی تیار کیا ہے۔ اور یقین کرو ان کا کام کرنے کا اپنا ہی طریقہ ہے، یہ مارتے پہلے ہیں اور ڈیٹیلز بعد میں نکالتے ہیں کہ بندہ سچ میں گناہ گار تھا بھی کہ نہیں ،پاشا نے اطمینان سے کہا۔
آخری وارننگ منسٹر ٹھیک کرو یہ سسٹم نہیں تو کہیں کے نہیں رہو گے۔
یہ کہہ کر پاشا سیٹ سے اٹھا تھا تب منسٹر کو اپنی گردن پر سوئی چبھتی سی محسوس ہوئی اس کے بعد اس کی آنکھ اپنی گاڑی میں اسے ٹریفک سگنل پر ہی کھلی تھی جہاں سے وہ غائب کیا گیا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

دس دن رحاب مما اس کے پاس رکیں تھیں، پھر جب وہ جانے لگے تو اسے بھی ساتھ آنے کو کہا مگر اس نے صاف انکار کر دیا تھا۔
شیلا نے جانے کس کے کہنے پر اس کے پاس رکنے کی ضد کی مگر اس نے کسی کی نہیں سنی ۔اور سب کو واپس بھیج دیا۔
اپنا صبر آزمانا چاہتی تھی۔

مگر شاید بھول گئی صبر کرنا الگ بات ہے اور بہادر بننا الگ، آج ہی رات کے اس پہر گیارہ بجے پوری حویلی اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔چہار او سناٹا اور قبرستانوں جیسی ویرانی تھی۔ جھینگروں کی دلدوز آوازیں الگ ہی منظر پیش کر رہیں تھیں اور فجر اپنے کمرے میں نیچے کارپٹ پر بیڈ سے ٹیک لگائے گھٹنے فولڈ کر کے ان کے گرد بازو فولڈ کیے بیٹھی بے تحاشا سہمی بیٹھی تھی۔

بیشک گیٹ پر گارڈز موجود تھے مگر وہ اس کے کسی کام کے نہیں تھے ۔ خوف و دہشت اسی کی رگوں میں سرایت کر رہا تھا۔ بار بار نگاہ ٹیبل پر پڑے بی جان کے فون پر ٹھہر رہی تھی۔
پھر خود سے تھک ہار کر لرزتے ہاتھوں سے فون اٹھایا اور اس سفاک و بے مہر کا نمبر ڈائل کیا۔

Continue,,,,,,,,,,,,,,