No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
وہ لرزتے قدموں سے بلیک روم سے باہر آئی تھی۔ اس کا بیگ منی کے پاس تھا۔ فیروزی فراک ٹراؤزر میں وہ بڑی سی بلیک چادر میں تھی۔ سینے میں ایک حشر سا برپا تھا۔ باہر نکل کر اس نے ایک نظر چاروں اور ضرور دیکھا تھا۔ شاید کسی کی تلاش میں۔
مگر نگاہ ناکام واپس لوٹی تھی۔
اس نے نگاہیں جھکائیں۔ لاکھ چاہنے کے باوجود وہ منی سے یہ نہیں پوچھ سکتی تھی کہ،،،
نہیں، کچھ نہیں پوچھ سکتی تھی، کس حق سے پوچھتی، وہ تو امید کی ڈوری ہاتھ میں تھما کر دوسرا سرا ہی چھوڑ چکا تھا۔
کہاں ہم؟؟ کہاں محبت؟؟ جانے دیجئے , رہنے دیجئے , بس کیجئے…! یہ جو “ع” یہ جو “ش” یہ جو “ق” کرتا ہے یہ لاحق جس کو ہو جائے اسے برباد کرتا ہے.. ریاضی دان بھی حیران ہیں اس بات پہ آ کر… یہ کس کلیے کی نسبت سے جفت کو طاق کرتا ہے..
منی اور وہ دروازے کی جانب بڑھیں۔ یہ جانے بغیر کہ ،کوئی ہے،
کوئی ہے جو گہری خون اتری نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہا ہے۔
خود پر سے اختیار کھو کر اسے کہہ تو بیٹھا تھا کہ محبت ہے۔
محبت کا بہت مبہم سا اظہار کیا تھا۔
مگر اس سب کی اس کی زندگی میں گنجائش کب تھی۔کب اجازت دی تھی خود کو محبت کرنے کی۔
اسی لئے تو اسے خود سے دور کرنے جا رہا تھا۔ نہیں برداشت کر پارہا تھا اب یہ تکلیف، وجود کو تڑپاتی دوہری تکلیف۔
وہ منی کے ساتھ باہر آئی ۔باہر گاڑی تیار کھڑی تھی۔ایک الواداعی نگاہ پیچھے مڑ کر اس پراسرار سی عمارت کو دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔
گاڑی اس عمارت سے دور ہوتی جا رہی تھی اور اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑا تھا۔
اس کی آنکھوں کی نمی جو وہ اپنے اندر اتار رہی تھی۔منی بخوبی سمجھ رہی تھی۔مگر خاموش تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایشان صوفے پر سکون سے بیٹھا تھا۔اور روشے بےبی نیچے کارپٹ پر اپنے کھلونے بکھرائے بیٹھی اب اپنے فرینڈ ایش کے دئیے گئے موبائل میں ٹیمپل رن کھیلنے میں مصروف تھی۔
کچھ کچھ دیر بعد ایشان اس کے منہ میں فروٹ پلیٹ میں سے ایک چیز اٹھا کر اس کے منہ کے آگے لے جاتا جسے وہ بے دھیانی میں کھانے میں مصروف دی۔
اور ایشان ابھی تک بہت گہرے غم و غصے اور سوچ میں تھا۔جو علیزے نے بتایا تھا وہ اسے مینٹلی ڈسٹرب کرنے کو کافی تھا۔اور یہی اس کے لئے نقصان کا باعث تھا۔ کیونکہ اب اسے سر میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہو رہا تھا۔اسے لئے وہ اپنے زہن کو بٹانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔
اس نے اپنی بھر پور توجہ آروشے کی جانب مبذول کی۔
ایک دو مرتبہ روشے کے نرم گلابی لب ایشان کی انگلیوں کو ٹچ ہوئے تو اس کے ماتھے پر پسینے چھوٹ گئے۔
اب تیسری بار اس ایش کی فنگر اس کے دانتوں تلے آئی تھی۔ایشان جھنجھنا اٹھا۔
روشے بےبی بچے کی جان لو گی کیا، وہ بولا تو آروشے نے حیرت سے ایش کو دیکھا۔
روشے بے بی نے کیا کیا، روشے بےبی تو سائلنٹلی گیم کھیل رہی ہے،
وہ تو نا شور مچا رہی ہے نا کسی کو تنگ کر رہی ہے، آروشے برا مان گئی اور کیوٹ سا منہ بنایا۔
پر میں تنگ ہو رہا ہوں نا روشے بےبی، وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے بولا۔
بٹ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔
چلو ایک گیم کھیلتے ہیں، علیزے کے اشارہ کرنے پر اور سوہم کے اوکے کے سگنل پر ایش نے اپنا کام شروع کیا تھا۔
واٹ فرینڈ، روشے اکسائیٹڈ سی اس کی جانب مڑی۔
فرینڈ فرینڈ تو بہت کھیل لیا، کچھ نیو کرتے ہیں، جیسے میں دلہا بنوں گا اور تم برائیڈل، اچھے اچھے والے کپڑے پہن کر،
او،، یسسسسسس،، روشے بےبی برائیڈل بنے گی، واؤ، وہ کلیپنگ کیے گئی،
روشے بےبی کو کل سے آپو نے سائن کرنے سکھائے ہیں ناں؟ تو بس ایک انکل آپ سے سائن کرنے کو بولیں گے، آپ نے چپ چاپ سائن کرنے ہیں اور انکل کو ہر بات میں یس بولنا ہے ،اوکے
بٹ وائی؟ روشے بےبی کیوں کسی انکل کو یس بولے گی، آپو نے کہا تھا کسی بھی انکل کو کچھ نہیں بولنا، یس بھی نہیں، آروشے بےبی چمک کر بولی۔
ایشان کا دل کیا ماتھا پیٹ لے، اوکے رائٹ مگر وہ اچھے والے انکل ہوں گے ناں، اور آپو بھی ساتھ ہوں گی تو یس بولا جا سکتا ہے کیونکہ آپو بھی بولیں گی کہ اس انکل کو یس بول دو، اوکے،
اوکے اب وہ مان گئی،
بہت جلد علیزے نے بڑی مشکل سے اسے ریڈ کلر کی میکسی پہنا دی تھی جو وہ بلکل کیری نہیں کر پا رہی تھی۔
عجیب ہونق پن سا تھا۔کبھی وہ میکسی میں الجھ رہی تھی اور کبھی دوپٹے میں،
ادھر ایشان اطمینان سے بیٹھا تھا، جب پاشا، ماہر سوہم اور ماہ بیر مولوی صاحب کے ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔اتفاقا جے کے نہیں آ پایا تھا کہ اس نے ایک بہت پیچیدہ ہارٹ سرجری کا کیس نمٹانا تھا آج ۔زندگی اور موت کا سوال تھا تبھی پاشا نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ سرجری کرے۔کیونکہ نکاح میں شرکت اتنی ضروری نہیں تھی جتنی کہ ایک زندگی بچانا۔ پاشا کے ساتھ اس کے خاص وفادار بھی تھے۔ وہ سب لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
علیزے اندر آئی اور نکاح شروع کرنے کی اجازت دی اور خود آروشے کے پاس روم میں جا کر دوبارہ اسے سمجھانے لگی تاکہ گڑبڑ نا ہو جائے۔
کچھ ہی دیر بعد مولوی صاحب اندر آئے، جن کے ساتھ پاشا اور سوہم بھی تھے۔
آروشے عبداللہ کیا آپ کو یہ نکاح ہمراہ ایشان کبیر ابراہیم کے با عوض پچاس لاکھ حق مہر کے ہونا طے پایا ہے، قبول ہے۔
آپو وئیر از ایش، وہ تو برائیڈ گروم ہے ناں تو گیم کا تو مزہ ہی نہیں آ رہا، کتنی بورنگ گیم ہے، ایش کو بلائیں ہم مل کر گیم کھیلیں گے، نہیں تو میں گیم آبورڈ کر رہی ہوں۔
سرخ گھونگھٹ کے پیچھے سے آتی اس کی بڑبراہٹ اتنی تو بلند تھی کہ وہاں موجود سب ہی سن چکے تھے۔
روشے بےبی ابھی تو انکل نے جو پوچھا ہے اس کا آنسر دو جیسا کہ ایش نے کہا تھا نہیں تو وہ کٹی ہو کر چلا جائے گا، پھر ڈھونڈتی رہنا، علیزے نے دانت کچکچا کے کہا۔
اوکے، اوکے، آپو، وہ سیدھی طرح مان گئی،
مولوی صاحب نے تین بار پوچھا تو روشے بےبی نے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یس بول دیا، اور علیزے کے اشارہ کرنے پر سائن بھی کر دئیے۔
اب باہر جلد ہی ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پایا تھا۔ مولوی صاحب جا چکے تھے۔اب وہ بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
منع کرنے کے باوجود علیزے نے کھانے کا انتظام کروا لیا تھا وہ سب اٹھ کر کچن میں ڈائننگ ٹیبل تک ہی آئے تھے۔
جب وہ جھلاتی، الجھتی، گرتی پڑتی اندر داخل ہوئی تھی۔
آپو، ایش یہ کیسی بورنگ گیم ہے، روشے بےبی کو نہیں پہننا یہ کاسٹیوم، روشے بےبی ڈونٹ لائک دس،،
وہ منہ بنا کر بولتی بلکل کارٹون لگ رہی تھی۔کیونکہ اب سرخ دوپٹہ بھی عجیب طریقہ سے گلے میں جھول رہا تھا۔
علیزے سرو کر رہی تھی۔ایشان ہی اٹھا۔
چلو میرے ساتھ، ایشان نے اس کا بازو تھام کر جانا چاہا، مگر وہ میکسی میں پھر الجھی اور اس سے پہلے زمین بوس ہوتی ایشان اسے بازوؤں میں بھر چکا تھا۔
پاشا اور ماہ بیر نے معنی خیز نگاہوں سے اسے دیکھا۔جانے کیوں مگر وہ بھی بلش کر گیا۔
یےےےےےےےے، ایش نے روشے بےبی کو گود میں اٹھا لیا، واؤ، یہ ڈرٹی کاسٹیوم، ابھی روشے بےبی گرتی اور روشے بےبی کی ناک ٹوٹ جاتی،،
وہ اپنی ہی ہانکنے میں مصروف تھی۔
ایشان نے دانتوں تلے لب دبایا۔
کمرے میں لاکر ایشان نے اسے بیڈ پر اتارا، اور اب بلا جھجھک اس کا دوپٹے جس سے وہ اتنی بری طرح الجھ رہی تھی اس پر سے اتار کر فولڈ کر کے سائیڈ پر رکھ دیا۔ اس کا سکارف اٹھایا اور اس کی جانب بڑھا۔
نو، نو، ایش مجھے یہ کاسٹیوم بھی چینج کرنا، بہت بورنگ ہے، آپو کو بلاؤ، یا خود ہی کر دو،
وہ ایسی شانِ بے نیازی سے بولی کہ ایشان عش عش کر اٹھا۔
اوکے چینج کر لینا، پہلے ایش کا کہنا مانو، کھانا کھاؤ، اور میڈی لو، میں ابھی آتا ہوں، کہہ کر ایشان باہر آیا۔
علیزے نے پہلے ہی ٹرے تیار کر رکھی تھی جسے وہ لیے دوبار کمرے میں آیا۔
ایشان نے اسے کھانا کھلایا۔ وہ بہت غور سے اسے دیکھے گیا جو میکسی کے جگمگاتے موتی ستاروں سے کھیلتی ایک ایک نوالہ منہ میں ڈلوا رہی تھی۔ میک اپ اور کسی بھی سجاوٹ سے پاک سرخ و سفید چہرہ۔دودھیا جسم کے اوپر سرخ میکسی، گلے میں جھولتا سکارف، جو اس کا نوخیز سا حسن چھپانے میں بری طرح ناکام تھا۔
ایشان نے نگاہیں چرائیں، وہ کھانا کھا چکی تو اسے میڈیسن دی۔
وہ ٹرے لئے باہر آیا تو وہ سب جانے کے لئے کھڑے تھے۔
ایشان جانتا تھا یہاں کی لائیو ویڈیو کہیں چل رہی ہے۔ چہرے پر سوچ کے گہرے سائے تھے۔
وہ سب رخصت ہوئے، علیزے بے تحاشا تھک چکی تھی۔ اسی لئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میڈ نے کچن سمیٹا۔
ایشان کمرے میں آیا تو گہرا مسکرایا۔روشے بےبی وہیں آڑھی ترچھی لیٹ کر گہری نیند سو چکی تھی۔ ایشان آگے آیا اور اسے نرمی سے اٹھا کر سیدھا کیا۔۔
میکسی میں وہ نیند میں بھی ڈس کمفرٹ ہی تھی۔ تبھی وہ ڈریسنگ سے اس کی پنک ٹی شرٹ نکال لایا تھا۔ اس نے لائٹ آف کی۔ اور بیڈ تک آیا۔پیچھے مڑ کر سائیڈ لیمپ بھی آف کر دیا۔
کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد اس نے سائیڈ لیمپ آن کیا۔ اور میکسی فولڈ کر کے ڈریسنگ میں رکھ دی۔روشے بےبی اب پنک ٹی شرٹ میں حسبِ معمول بلکل گڑیا لگ رہی تھی۔اس نے کمفرٹر سہی طرح سے اس کے اوپر اوڑھایا۔
اس کے ماتھے پر پر حدت لمس چھوڑا۔
آج غم وغصے اور بے انتہا خوشی کی ملی جلی کیفیت نے اس کی طبیعت خراب کی تھی۔
سر میں وہی مخصوص ہلکا سا درد تھا ۔جو شدت اختیار کرنے لگا تھا۔اور اس سے پہلے وہ حسبِ معمول اپنے ہوش کھو بیٹھتا اسے یہاں سے جانا تھا۔
وہ باہر آیا۔گارڈز کو چند ضروری ہدایات دیتا۔ گاڑی نکالتا چلا گیا۔
وائٹ پیلس میسج کر چکا تھا۔اور پھر آدھے راستے میں اس پر بے ہوشی طاری ہوئی تھی۔
مگر سوہم کی اس پر نظر تھی سو وہ اس تک پہنچ چکا تھا۔ اسے لئے وائٹ پیلس آیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
مفرا جب ہوش میں آئی تو صدمے سے پھر نڈھال ہو چکی تھی۔کیونکہ خود کو اسی گندے مینٹل آزائلم کے اسی بیڈ پر پایا۔
بے یقینی سی بے یقینی تھی۔ ڈاکٹر جنت نے کتنا بھروسہ کر کے اسے ڈاکٹر جبران کے حوالے کیا تھا۔
پر ڈاکٹر جبران نے اسے اس نقاب پوش کے حوالے کر دیا جو اسے یقینا یہاں لایا تھا۔اس کا تو انسانیت سے اعتبار ہی اٹھ گیا تھا۔
رو رو کر بے حال ہو چکی تھی۔ اور اب تو اس کے پیروں کو ایک زنجیر بھی باندھ دی گئی تھی۔
اسے سونیا بھی وہیں چلتی پھرتی دکھائی دی تھی۔جسے اس نے شاکی نگاہوں سے گھورا تھا۔ مگر وہ نظر انداز کر گئی۔
وہ سہمی بیٹھی تھی۔جب ایک ڈاکٹر کے ساتھ کچھ لوگ اس کے بیڈ تک آئے۔
ڈاکٹر خباثت سے بولا، تمھیں سب پتہ چل گیا تھا، اچھی بات ہے، اب ہمیں آسانی ہوگی، جانتا ہوں ،،نرما،، تمھاری بھابھی نے مجھے بتایا تھا کہ تم پاگل نہیں ہو اسی لئے آج رات تمھیں یہاں سے لاہور کے ایک مشہور کوٹھے پر پہنچا دیا جائے گا، تمھیں بھی اور ہمیں بھی نوٹوں میں تول دیا جائے گا۔ تیار رہنا،
وہ اس کا گال تھپتھپاتا بولا، مفرا نے نفرت و حقارت سے منہ پرے کر لیا۔
وہ حیران تھی۔ پہلے وہ لیڈی ڈاکٹر اور اب یہ میل ڈاکٹر نرما نے کس کس کو پیچھے لگایا تھا اس کے ۔۔
وہ مکروہ پلین بناتے وہاں سے گئے تھے۔ تو اس نقاب پوش نے اسے اس دن اسی لئے نہیں مرنے دیا کہ وہ پھر اسے اس جہنم میں پھینکنا چاہتا تھا۔ اور اپنا حصہ وصولنا چاہا ہوگا۔
اس کی دل میں اس نقاب پوش کے لئے، ڈاکٹر جبران کے لئے ایک نفرت کا اور غم وغصے کا ایک طوفان سا اٹھا تھا۔
کاش اسے اس دن مرنے دیا ہوتا تو آج وہ یوں اپنی ذات کی دھچیاں بکھرتی دیکھنے کے لئے زندہ نہیں بچتی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
واشنگٹن کی مسلم کمیونٹی میں اس وقت کے ولا کے بلکل سامنے وہ بلیک پینٹ اور بلیک ہی ہڈی میں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے لمبا چوڑا شخص لمبے لمبے ڈگ بھرتا کے ولا کی جانب آ رہا تھا۔
حالانکہ وہ محض بائیس سال کا تھا مگر اپنے قد کاٹھ سے جواں سالہ مرد لگتا تھا۔اچانک جب اسے چاروں جانب سے دو بلیک اور دو فلپائن لڑکوں نے گھیر لیا۔
Where to go, dear? It’s time to pay our dues.?
وہ قہقہے لگاتے اس کے چاروں جانب گھومتے ہاکی ہاتھ میں تھامے اسے خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مگر سامنے والے کا اطمینان دیکھ کر ان کو آگ لگی تھی۔
Really,,, Try it?
دو لفظی جواب دے کر وہ خاموش ہو گیا۔
ایسے لگتا تھا کہ وہ سب ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ اور اس کی وجہ کوئی پرسنل دشمنی تھی۔
ان چاروں نے ایک ساتھ اس پر ہاکی سے حملہ کیا تھا۔وہ بڑی مہارت سے اپنا بچاؤ کرتا ۔ کچھ ہی دیر بعد وہ حملہ آور ہانپنے لگے تھے، تبھی اس نے وارننگ دی تھی،
I’m speaking last time because I don’t want to beat you…. Get out of here,,and this is my last warning,,,
وہ اب غصے میں دانت پیس کر بولا تھا تو وہ قہقہے گا کر ہنس پڑے۔اور ایک مرتبہ پھر اس پر ٹوٹ پڑے۔
مگر اب سامنے والا بھی اتنا اچھا نہیں تھا کہ زیادہ دہر پیشنس رکھ پاتا۔بہت جلد وہ اپنی ہی ہاکیوں سے اپنی ہڈی پسلی ایک کروا کر زمین پر پڑے کراہ رہے تھے ۔
وہ پنجوں کے بل اپنے کالج کے اس لڑکے کے پاس بیٹھا جسے لڑکی کو ہراساں کرنے کے چکر میں اس نے پورے کالج کے سامنے دھول چٹائی تھی۔
Why do you forget, dear? I’m Aryan Pasha Ibrahim.Now always remember this.. Basterds..
وہ کہتا اسی بے نیازی سے کے ولا کے اندر داخل ہوا تھا۔ سامنے بڑے سے لاؤنج میں میرال اسی کا انتظار کر رہی تھی۔
پلیز یار آپی کھانا دے دو بڑی بھوک لگی ہے۔ میرال اسے نروٹھے پن سے گھور رہی تھی۔جب
آریان ہاو ڈئیر یو، آج پھر تم جھگڑا کر کے آئے ہو۔آخر تم چاہتے کیا ہو؟
کبیر کی غراہٹ پورے کے ولا میں گونجی۔ ۔اور کچن میں موجود زمل نے پھر سر پکڑا تھا۔۔
اس کی کمر پر واقعی خون لگا ہوا تھا حالانکہ اس نے فل کوشش کی تھی کوئی ایسی نشانی نا ساتھ لائے جس سے پتا چلے کہ وہ جھگڑ کر آیا ہے۔
کم آن چھوٹے پاپا، جو میں نے کیا اسے جھگڑا نہیں سیلف ڈیفنس بولتے ہیں۔
وہ اطمینان سے بولا۔
اور اس سیلف ڈیفنس کے نام پر آج تک کتنوں کی ہڈیاں چٹخا چکے ہو تم، وہ دانت پیس کر بولا۔ کبیر تنگ آ چکا تھا اس سے جتنا وہ اسے ان چیزوں سے دور رکھنا چاہتا تھا وہ اتنا ہی۔
اونہہہہہہ،، چھوٹے پاپا آپ کو یہ کیوں لگتا ہے کہ
Executioners
کا جانشین ہو کر میں بزدل بن جاؤں، ڈیڈ نے مجھے خود سے دور کر دیا ،اور آپ دونوں یہ چاہتے ہیں کہ میں بزدل بن جاوں، مگر ایسا ہوگا نہیں ،چاہے مجھے ڈاکٹر بنائیں مگر میں وہی کروں گا جو میرے باپ چاچوؤں نے کیا، اور جو میرے بڑے بھائی کر رہے ہیں،
اس نے اطمینان سے کہتے کبیر کے سر پر بم پھوڑا۔وہ ہکا بکا منہ کھولے اسے دیکھا گیا کہ یہ سب اسے کس نے بتا دیا تھا۔
ایسے مت دیکھیں چھوٹے پاپا، پاشا ابراہیم کے بیٹے میں اتنے تو گٹس ہون گے ہی۔بہت جلد جا رہا ہوں پاکستان، ڈیڈ کو سرپرائز بھی تو دینا ہے، اپنی پریکٹس وہیں سٹارٹ کروں گا۔
اب وہ بلکل پاشا اسٹائل میں اپنی انگلیوں میں اسکیلپل گھما رہا تھا۔
کبیر کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں جبکہ میرال خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
حیران مت ہوں چھوٹے پاپا، اسے چلانے کا ٹیلنٹ خون میں شامل ہے میرے، وہ اسکیلپل کی جانب اشارہ کرتا ،پاشا کی کاربن کاپی آنکھ ونک کرتا سوہم اور روحا کے روم میں غائب ہو چکا تھا۔
کبیر نے ماتھا مسلا اور میرال کی جانب دیکھا تو اس نے کندھے اچکا دئیے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
پاشا وائٹ پیلس واپس آیا تھا سوہم اور ماہ بیر کہیں جا چکے تھے۔ایک ضروری کال آنے پر وہ بھی باہر آیا تھا۔
اپنا کام مکمل کر کے وہ وائٹ پیلس واپس آ رہا تھا جب وائٹ پیلس کے سامنے ہی گاڑی رک گئی۔
ایک عورت کافی دیر سے اپنا منہ چادر میں ڈھانپے گلی میں گھوم رہی تھی۔
کیا ہوا،؟ پاشا نے ڈرائیور سے ہوچھا۔
پتا نہیں سر شاید کچھ خرابی ہو، آپ چلیں میں چیک کرتا ہوں،
رائٹ، پاشا گاڑی سے باہر آیا تھا۔
گاڑی سے اپنا موبائل اٹھانے لگا تھا جب وہ عورت پاشا کی جانب لپکی، اور چادر میں سے بڑا سا خنجر نکال کر پاشا کی پیٹھ پر وار کرنا چاہا۔
وہ جو اکیڈمی سے واپس آ رہی تھی دیکھ چکی تھی۔یہ بھی کہ وہ عورت کے بھیس میں ایک غنڈہ ہے۔
وہ بجلی کی سی تیزی سے ان کے درمیان آئی تھی۔
اس غنڈے کا وار اپنی کتاب پر روکا تھا۔
اپنی پوری طاقت سے اس غنڈے کے سینے پر لات رسید کی تھی۔ نازک سی جان تو تھی اپنا توازن بھی برقرار نہیں رکھ پائی تھی۔ اور پاشا کی کمر سے ٹکرائی تھی۔
پاشا بھی الرٹ ہو کر مڑا تھا۔
یو باسٹرڈ، بزدل کمینے ،پیٹھ پر وار کرتے ہو،، پاشا نے اس چھوٹی سی تقریباً اٹھارہ سالہ آفت کو دیکھا جو میرون ٹی شرٹ میں جینز کی پینٹ پہنے میرون سکارف گلے میں لیے اپنے جاگرز اس کے سینے پر برسا رہی تھی۔
پاشا نے گارڈز جو کہ وہان پہنچ چکے تھے انھیں اشارہ کیا۔وہ اس بندے کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے جانے لگے۔
کدھر لے جارہے ہو اسے ،اس کا تو میں ہی دماغ درست کر کے پولیس کے حوالے کر دوں گی۔وہ گلابی چہرے کے ساتھ پر چلائی۔
ہٹو بیٹا، یہ میرے گارڈز ہیں اس سے خود ہی نمٹ لیں گے، آپ ہٹ جاؤ، چوٹ لگ جائے گی آپ کو،، پاشا نے نرمی سے کہا تو اس نے برا مناتے ایک جھٹکے سے پیچھے مڑ کر آنکھیں سکیڑ کر سامنے کھڑے اتنے ڈیشنگ اور ہینڈسم انکل کو دیکھا۔
آپ کو لگتا ہے کہ کوئی مجھے ہارم پہنچا سکتا ہے انکل، وہ فرضی کالر جھاڑتی بے نیازی سے بولی۔
واقعی جیسے اس نے خنجر کا وہ وار بہادری سے روکا تھا۔ مشکل ہی تھا کہ اسے کوئی نقصان پہنچاتا۔
واقعی تم ایک بریو گرل ہو اور تم نے میری جان بچائی اس لئے تھینکس، پاشا مبہم سا مسکرا کر بولا۔
یو نو واٹ انکل میں کسی اجنبی سے بات نہیں کرتی مگر آپ ایسے لگ رہا ہے جیسے کسی ہالی ووڈ کے ایکشن اور زیرو زیرو سیون فلم سیریز کے ہیرو ہیں، اینگری ینگ مین، اسی لئے آپ سے بات کر رہی ہوں۔ میں ادھر قریب ہی رہتی ہوں اور ڈی آئی جی کامران حسن کی بیٹی ہوں۔
وہ کافی باتونی لگتی تھی۔پاشا نے سرد سی آہ بھری۔
اور بیٹا جی بات تو میں بھی کسی کی نہیں سنتا، آپ کی جانے کیوں سن رہا ہوں،
وہ کہتے وائٹ پیلس کی جانب بڑھا۔
واؤ،، انکل آپ یہاں رہتے ہیں، لوگ کہتے ہیں یہ بہت مسٹیریس پلیس ہے، پاپا نے بہت سٹرکلی منع کیا ہوا ہے اس طرف آنے سے، پتا نہیں کیوں؟ پر میں ہمیشہ سے چاہتی ہوں کہ اس پیلس کو اندر سے دیکھوں کیا میں آپ کے ساتھ اندر آ سکتی ہوں۔
وہ اپنی اونچی سی پونی ٹیل جھلاتی اکسائیٹڈ سی بولی۔
نو، اپ کے پاپا آپ کا ویٹ کر رہے ہوں گے جائیے آپ، پاشا نے سنجیدگی سے کہا،
افف او،، پاپا تو شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں اور انھیں بتائے گا کون کہ شفا کامران حسن کہاں گئی۔
وہ اطمینان سے بولی۔
پاشا نے سرد سی آہ بھری، اس چھوٹی سی بریو لڑکی کو جانے کیوں اس کا جھڑکنے کو دل نہیں کیا۔تبھی اس نے کہا۔
چلو بیٹا، مگر یہ فرسٹ اور لاسٹ ٹائم آپ ادھر آئی ہیں سمجھیں آپ؟
ہممم سی، دیکھا جائے گا، آپ ابھی تو چلیں، وہ پونی جھلاتی خوشی خوشی پاشا کے آگے ہو لی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یہ ایک لڑکیوں کا دار الامان تھا۔ جہاں منی اسے لائی تھی۔
دوسری منزل کے ایک کمرے میں وہ اپنا سامان رکھے اداسی سے کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔
تمام پیپر فارمیلٹی پوری ہو چکی تھی۔منی اس کے ساتھ ہی تھی۔رواحہ نے بارہا اسے کہا تھا کہ وہ چلی جائے مگر وہ ڈھیٹ بنی رہی اور اسی کے ساتھ کمرے میں اس کا بیگ کھولے الماری میں چیزیں رکھنے لگی۔
ادھر نیچے اسی دار الامان کے سامنے دو بڑی بڑی گاڑیاں آ کر رکی تھیں جن میں رستم اور منیر تھے۔
بھائی آپ یہاں کیوں ائے ہیں؟ رستم نے منہ بنایا۔
تیری چندہ کو ڈھونڈنے، میں ان جلادوں کو جانتا ہوں. ،وہ لڑکیاں بازیاب کروا کر اپنے پاس نہیں رکھتے، دار الامان بھیج دیتی ہیں، آس پاس کے کئی تو میں چیک کروا چکا ہوں
اب یہی ہے جہاں تیری چندہ کے ہونے کے چانسس زیادہ ہیں۔
واقعی بھائی، وہ خوشی سے نہال ہوا، مگر آنکھوں میں خباثت بھری چمک بھی اتری۔
وہ گاڑی سے باہر آئے۔
اوپر کھڑکی میں کھڑی رواحہ کی نظر جب نیچے رستم کی جانب اٹھی تھی۔اس کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑا تھا۔
Continue.,,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
