Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️💣💣💣❤️❤️❤️❤️💣

وائٹ پیلس گہری تاریکی اور خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا جب فجر کی اذان کی آواز نے ہر سو پھیل کر فضا میں ایک پاکیزگی طاری کر دی۔۔
تب رحاب فجر کی نماز، کے لئے اٹھی تھی کیونکہ بےبی کے رونے کی آواز آ رہی تھی اسی لئے فجر کی آنکھ بھی کھل گئی تھی۔۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ کیونکہ رونے سے وہ گلابی سا چھوٹا سا وجود سرخ پڑ چکا تھا فجر نے جلدی سے اٹھا کر اسے خود سے لگایا۔۔

فجر میں نماز اور تلاوت کے لئے اپنے کمرے میں جا رہی ہوں تم بےبی کو فیڈ کروا کر آرام کرنا،، یہ بھی سو جائے گا،، رحاب نے کہا تو اس نے اطمینان سے اثبات میں سر ہلایا اب بھلا اسے کیا پریشانی تھی جس سے پریشانی تھی وہ تو جانے کہاں سویا ہوگا۔
رحاب باہر نکلی تو ماہ بیر جو مسجد سے نماز ادا کر کے لوٹا تھا بڑی ماں کو اپنے روم میں جاتے دیکھ سرشاری کی کیفیت میں اپنے کمرے کی جانب یہ دعا کرتا بڑھا کہ وہ جاگ رہی ہو کیونکہ اس کے کسے بل نکالنے کا پکا ارادہ رکھتا تھا۔

وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ ہونق سی بےبی کے ساتھ گھل رہی تھی جو شاید اپنے باپ کی جگہ لیے اپنی ماں کو پریشان کر رہا تھا۔۔
جیو میرے شیر،، ماہ بیر کو اپنے بےبی پہ ڈھیروں پیار آیا دل میں اس کی ہزاروں بلائیں لے ڈالیں جو اس وقت اپنی ماں کو جگائے ہوئے تھا جس وقت اس کا ڈیڈ چاہتا تھا۔۔
اونہہہہہہہ،،، آخر اپنے ڈیڈ پر گیا ہے ناں،، پریشان کرنے میں مزا آ رہا ہے اپنی مما کو،، وہ جھنجھلائی سی با آواز بلند بڑبڑائی۔ ماہ بیر گہرا مسکرایا اور پیچھے مڑ کر ڈور لاک کیا۔
آہٹ پا کر وہ چونکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا مگر اسے دیکھ کر فورا سیدھی ہو گئی اور جان بوجھ کر رخ موڑ کر بےبی کی جانب متوجہ ہو گئی۔۔
وہ بھی ڈھیٹ بنا اطمینان سے آ کر بیڈ پر بلکل اس کے پیچھے نیم دراز ہو گیا۔ بےبی کے رونے کی آواز شدت اختیار کر رہی تھی۔۔

افففف،،، رحاب مما نے کیسے کروایا تھا۔۔ وہ اس قدر چھوٹا تھا کہ اپنی خوراک حاصل کرنے کے زریعے تک پہنچ ہی نہیں پا رہا تھا۔۔ فجر روہانسی ہو چکی تھی مگر اسے سنبھال نہیں پا رہی تھی۔ جبکہ وہ روئے جا رہا تھا۔
اب ماہ بیر اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔ گاؤ تکیہ اٹھا کر اس کی فولڈ کی گئی ٹانگ کے نیچے رکھا اور دو تکیے جوڑ کر اس کی کمر کو سہارا دیا۔
“اب کرواؤ فیڈ اسے،، ماہ بیر نے نرمی سے کہا اور دوبارہ اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا تاکہ وہ ایزی رہے ۔۔فجر نے بےبی کو خود سے لگایا۔۔اب وہ قدرے آسانی سے اسے فیڈ کروا پا رہی تھی۔ پرنس بھی اب اپنے شغل میں مصروف ہو چکا تھا۔ بہت جلد پیٹ بھر جانے پر وہ دوبارہ گہری نیند سو چکا تھا۔ فجر نے بھیگی آنکھوں سے جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔۔ کیا تھا پیچھے بیٹھا بےمہر شخص اسے اتنی تکلیف اور نازک وقت چھوڑ کر چلا گیا تھا ایسے ہی اس کے پاس ہوتا تو ،،،
وہ بے آواز روتی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔

میں نے تو بےبی گرل کا نیم سوچا تھا بٹ جو اللہ تعالیٰ کو منظور،، ماہر بھائی جاتے ہوئے مجھے اور تمھیں مبارک دے کر گئے تھے،، اور نیم بھی بتا کر گئے،، ارشن ماہ بیر راسم اچھا ہے ناں،، وہ نرمی سے دوستانہ لہجے میں بولا۔
فجر نے بےبی کو پاس لٹایا۔ اب مشکل تو یہ تھی کہ اگر وہ خود نیم دراز، ہوتی تو اس شخص کے پہلو سے جا لگتی۔ مگر وہ ایسا کرنا چاہتی نہیں تھی۔ آنسو بھی تو بغاوت کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔۔
ماہ بیر بے تحاشا چونکا تھا۔ وہ اب کی بار زور زبردستی کر کے اسے منانا نہیں چاہتا تھا تبھی ضبط کیے بیٹھا تھا۔ مگر اب یہ فیل ہوا کہ وہ رو رہی تھی تو وہ تڑپ اٹھا تھا۔
ہیے فجر،، میری جان،، بازو سے تھام کر اس کا رخ اپنی جانب کیا۔
چھوڑیں مجھے،، وہ پھنکاری۔ مگر یہاں اثر کسے تھا۔ ماہ بیر نے اس کا بھیگا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا۔۔

بس بھی کرو جان،، کیوں سزا دے رہی ہو خود کو، مجھے سزا دے کر،،ہم میں سے کسی کی مسز نہیں جانتی ہمارے بارے میں ،،، مگر تم تو جانتی ہو ناں تو پھر یہ ناراضگی اور بے رخی کیوں؟ جانتا ہوں بہت نازک وقت سے گزری ہو،، بہت تکلیف جھیلی ہے یہ بھی جانتا ہوں،، مگر ایک سپاہی بھی تو ہوں،، میری مجبوری سمجھو میری جان،، ماہ بیر نے نرمی سے اسے سمجھایا اور اپنے لبوں سے وہ قیمتی موتی چنے۔۔
فجر اس کی بانہوں میں اور بکھری۔۔

آپ کو تو ایک مرتبہ بھی خیال نہیں آیا ناں،، نا میرا نا اپنے بےبی کا،، نہیں تو ایک مرتبہ ہی سہی آپ لوٹ کر آتے،، ہماری پرواہ ہوتی تو تب ناں،، تو اب میری زرا سی بے رخی سے کیوں تڑپ رہے ہیں جائیے اب وہیں جہان سے آئے ہیں،، ہمیں بھی نہیں پرواہ آپ کی،
وہ خالصتاً لڑاکا بیوی والے سٹائل میں بھرائی ہوئی آواز میں بولی تو ماہ بیر کو بڑی ہنسی آئی۔ مگر ہنسنے کا مطلب تھا پہلے سے چھڑی ہوئی کو اور چھیڑنا سو چپ چاپ اسے دیکھے گیا
یار ایسا تو مت بولو،،
“کیوں نہیں بولوں،،؟ وہ چمکی۔
اوکے،، رائٹ،، ایک مرتبہ پھر بولو جائیں،، تو چلا جاؤں گا،، ماہ بیر آبرو اچکا کر کہا۔
جائیں،، اطمینان سے کہا گیا۔۔
ماہ بیر اپنی جگہ سے اٹھنے لگا جب فجر نے بھنا کر اس کا گریبان پکڑا تھا۔ اور بری طرح اسکے سینے پر مکے برسائے۔۔
بہت بہت برے،، ظالم ، جلاد اور بدتمیز ہیں آپ،، وہ جھنجھنا اٹھی۔۔

بے شرم بھی تو ہوں،، کمر میں ہاتھ ڈال کر ایک گردن کے گرد لپٹا اور اسے لیے تکیے پر نیم دراز ہوا۔۔
ماہ بیر،،، وہ بری طرح بوکھلائی۔۔ مگر وہ اس کی سانسوں پر دسترس حاصل کر چکا تھا۔ فجر کسمسائی۔۔
مگر اتنے دنوں کی تشنگی تھی اتنی جلدی وہ سیر ہونے والا تھوڑی تھا۔۔ سو خود کو سیراب کیے گیا۔۔
فجر بے حال ہو چکی تھی اس کی شدت سے ماہ بیر کو شاید اس پر رحم آیا تھا تبھی پیچھے ہٹا اور دلچسپی سے وہ لال قندھاری چہرہ دیکھا۔۔
یہ کیا بدتمیزی تھی،، میں چلہ میں ہوں،، فجر نے نروٹھے پن سے اسے گھورا۔
یہ تم لڑاکا بیویوں کی طرح زبان کے جوہر دکھائے جا رہیں تھیں تو تمھیں شٹ اپ کیا تھا،، اور رہی بات چلہ کی تو چپ ہی کروایا ہے تمھیں کوئی اور گستاخی تو نہیں کی،،
وہ معنی خیز سا بولا تو فجر نے گھبرا کر اس کے سینے میں منہ دے لیا کہ ان کے منہ کون لگتا کہ وہ تو لگتا تھا پیدائشی بے شرم ہیں سارے کے سارے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

منیر بنا جل کے مچھلی کی طرح تڑپتا پھر رہا تھا۔یہ لوگ اپنے ناصرف ناپاک مقاصد میں بری طرح ناکام ہوئے تھے بلکہ بھائی اور اس کے خاص الخاص آدمی بھی سرے سے غائب تھے۔۔ جو وکیل(ماہ بیر) کا آدمی انھوںنے نے پکڑا تھا وہ اور اس کا خاندان بھی سرے سے غائب تھا۔
اگر تو اس کا بھائی ان جلادوں کے ہاتھ لگ چکا تھا تو یہ کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔۔
مگر وہ کسی بھی طرح کسی بھی قیمت پر اپنے بھائی کو سہی سلامت واپس لانا چاہتا تھا۔

تبھی کسی بھی طرح اس گرین مونسٹر کا نمبر حاصل کر کے اسے فون ملایا تھا۔ جو دوسری بیل پر رسیو کر لیا گیا ۔ مگر ادھر خاموشی چھائی رہی۔
ماہر سوہم خان جو غم وغصے میں خون آشام بلا بن چکا تھا۔ شرر بار نگاہوں سے فون کو گھور کر فون سپیکر پر لگایا۔
اے جلاد،، میرے بھائی کو چھوڑ دو،، اگر اسے کچھ ہوا تو پورا پاکستان جلے گا،، سمجھے،، میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا،، تمھارے اس ملک کی،، تم لوگ جلاد ہو ناں،، لڑائی پرسنل ہو کر نہیں لڑتے،

رئیلی،، پرسنل لڑائی کی شروعات کس نے کی؟ اور شاید تم بھول گئے چیمہ جلادوں کا ایک اصول اور بھی ہے آنکھ کے بدلے آنکھ جان کے بدلے جان،،
مگر چن،،،،، میرا مطلب ہے تمھاری بیوی کو کسی نے کچھ نہیں کہا، اس نے خود زہر کھایا،،
مجبور کس نے کیا چیمہ،، تمھارے بھائی نے،، ماہر نے دانت پیسے۔
مگر وہ زندہ سلامت ہے تمھارے پاس تو جان کے بدلے جان کیوں،،، چیمہ نے جتایا۔
میری بیوی سہی سلامت ہے منیر چیمہ،، مگر اس سب میں میرے بچے کی موت ہو گئی ہے تو جان کے بدلے جان،، ماہر کا سرسراتا لہجہ منیر چیمہ کا دل بیٹھا۔ اور کیونکہ میری بیوی سہی سلامت ہے تو فکر مت کرو چیمہ،، جتنی سوچی ہے اس سے کافی آسان موت دوں گا تمھارے بھائی کو،،
اے،،، وہ حلق کے بل چلایا۔
ماہر سوہم خان نے فون بند کر دیا تھا۔ وہ تو پہلے ہی موت کا فرشتہ بنا گھوم رہا تھا۔ مگر سکون کہیں نہیں تھا۔ کہیں بھی نہیں۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

فیصلہ کی گھڑی آن پہنچی تھی۔۔ ان سب کو پھر اسلام آباد آنا پڑا۔
منیر چیمہ نے اپنے بھائی کو ڈھونڈنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی مگر اس کو نہیں ملنا تھا نا ملا۔۔
وہ پاشا کو ہزار طرح کی آفرز بھی دے چکا تھا۔ مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہو کر دے رہے تھے۔۔
وہ جو کرپٹ منسٹر ان لوگوں نے اپنے ساتھ ملائے تھے اب ان کی ہار ہوتے دیکھ منظر سے یوں غائب تھے جیسے دھماکے کی آواز سن کر کوے اڑ جاتے ہیں اور پھر دکھائی نہیں دیتے۔۔

آج پھر سب عدالت میں موجود تھے۔ یہ ان کے لئے ایک تاریخی لمحہ تھا جب چیف جسٹس نے فیصلہ سنایا۔
تمام گواہوں اور ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عدالت اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ میجر عاصم، اور ان کے پرائیویٹ ڈیٹیکٹوز، پاشا ابراہیم، سوہم خان، راسم حفیظ اور کبیر ابراہیم پر غداری کیس بلکل بےبنیاد اور جھوٹا تھا، اسی لیے یہ عدالت انھیں ہر الزام سے با عزت بری کرتی ہے،،
ان سب کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
اب منیر چیمہ اور کھرل کو حراست میں لیتے ہوئے انھیں سزائیں سنائی جا رہی تھی۔۔
آج
Executioners
کے لئے فتح کا دن تھا۔۔ دشمن کو بہت بری طرح شکست ہو چکی تھی۔۔ اور وہ سب فاتح بن کر وائٹ پیلس لوٹے تھے۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ کافی دیر سے راکنگ چئیر پر بیٹھا رستم اور اس کے آدمیوں کی چیخیں سن کر سکون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ بلیک پینٹ کے اوپر بلیک ہڈی، لال انگارا شرر بار کائی جمی آنکھوں سے نکلتے سبز شعلے اور سرخ چہرہ جو کوئی عام انسان دیکھ لیتا تو یقینا اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔
رستم بول نہیں سکتا تھا مگر اس قدر اذیت سے دوچار کر دیا گیا تھا کہ اپنے منہ سے غوں غاں جیسی وحشت ناک آوازیں نکال رہا تھا۔۔
اور یہی بھیانک بھدی آوازیں کسی کے سکون کا باعث تھیں۔
آج دو ماہ ہو چکے تھے۔ اس حادثے کو، مگر وہ ایک سیکنڈ ایک پل کے لئے بھی اس حادثے کو اپنے زہن سے کھرچ کر نہیں پھینک سکا تھا۔

آج وائٹ پیلس میں اسی کے کہنے پر بڑے پیمانے پر ماہ بیر کے بیٹے کی خوشی تھی۔ اور ان کے لئے جشن کا وقت،،
اسے پاشا، سوہم اور کبیر بارہا فون کر چکے تھے مگر اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اپنی جان ایک مسلسل عذاب میں جھونک رکھی تھی۔ اب بھی اس کے آدمی رستم اور اسے کے آدمیوں کو جسموں کو گرم سلاخوں سے داغ کر ان پر کبھی نمک لگاتے کبھی کھولتا پانی گراتے۔
پورے اپارٹمنٹ میں ان کی چیخیں گونج رہیں تھیں مگر وہ راکنگ چئیر پر یوں جھول رہا تھا جیسے کہ لوری سنائی جا رہی ہو۔۔

تبھی فون رنگ ہوا، کس نے گستاخی کی تھی اسے چھیڑنے کی۔
وائٹ پیلس میں تو کسی کی بھی اتنی پہنچ نہیں تھی جو اسے ابھی فون کر سکے۔ اس نے شعلہ بار نگاہوں سے فون کو دیکھا۔ مگر ریشماں دادو کا نمبر دیکھ کر جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وائٹ پیلس میں جشن کا سماں تھا۔ آج پھر اسے تازہ مہکتے گلابوں سے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔
سب تیار ہو رہے تھے۔۔
مگر ایک کمرہ تھا جہاں سوگواریت سی چھائی ہوئی تھی۔۔

منی اس کے سرہانے بیٹھی کب سے آوازیں دی جا رہی تھی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ دو ماہ بہت تھے رونے کو،، سوگ منانے کو،، اب تو رو رو کر آنکھیں بھی خشک ہو چکیں تھیں۔
اب تو اپنا خیال رکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ نا سجتی تھی نا سنورتی تھی۔ نا ڈھنگ سے کھاتی تھی نا پیتی تھی۔
منی ہی تھی جو اس کے پیچھے ہلکان ہوئی رہتی۔ جانتی تھی اس ہری بلا کا غصہ،، جب دماغ گھومتا تھا تو یونہی کئی کئی دن غائب رہتا تھا۔
ہاں مگر جب لوٹے گا تو اسے اس کی سب سے قیمتی چیز بلکل سہی سلامت چاہیے ہو گی۔ اور اگر ایسا نا ہو پایا تو شامت منی کی آنی تھی۔ کچھ بعید نا تھا وہ مونسٹر منی کے ہی گلے پڑ جاتا۔

اے مارش میلو،،، اٹھ جاؤ،، سہیلی،، سب تیار ہو رہے ہیں تم بھی تیار ہو جاؤ،،
مگر وہ تکیے میں منہ دئیے لیٹی رہی۔۔مگر کچھ یاد آنے پر جھٹکے سے اٹھی تھی۔
سنو منی،،، وہ کہاں ہیں ؟ یہ بات یہاں کسے معلوم ہوگی،، رواحہ کا سرد و سپاٹ لہجہ کہ منی بھی چونک گئی۔۔
اس کے چہرے کی جانب دیکھا جو گلاب کی طرح مرجھا چکا تھا۔
ماہ بیر کو،، منی کے کہنے کی دیر تھی وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ اور تن فن کرتی باہر نکلی۔۔
وہ جو تیار ہو کر اپنے روم سے نکل رہا تھا۔ انھیں ٹوٹی بکھری حالت میں دیکھ کر نگاہیں چرا گیا۔۔ مگر وہ اس کے سر پر پہنچ چکی تھی۔۔

ماہ بیر وہ کدھر ہیں،،؟ کب آئیں گے،، ؟ وہ بھرائی آواز میں چلائی۔
آ جائیں گے بھابھی بہت جلد آپ،،
نہیں مجھے سہی طرح بتاؤ کب آئیں گے،، رواحہ نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
ماہ بیر نے لب کاٹتے رخ موڑ لیا۔ وہ کیا کر سکتا تھا جس کی خاطر وہ ٹوٹ رہی تھی بکھر رہی تھی وہ کونسا اس کی حالت سے انجان ہوگا۔ جو اسے کوئی اسپیشل پیغام دینا پڑتا اسے۔ ماہ بیر باہر نگاہیں چراتا نکل گیا۔ منی بھاگ کر باہر آئی اور اسے بازو سے تھام کر گھسیٹ کر اپنے روم میں لے گئی۔
مگر آج اسے کے رونے اور آہوں اور سسکیوں میں کے کمی نہیں آ رہی تھی۔

تبھی ایک مرتبہ پھر وہ بھناتی اٹھی تھی۔ منی نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بپھری شیرنی آج اس کے قابو نہیں آ رہی تھی۔
رواحہ ریشماں کے کمرے میں آئی تھی اور ان کی گود میں سر دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
“ارے کیا ہوا بچی،،، وہ جو سب کچھ جانتی تھی جان بوجھ کر پوچھا تاکہ اس کا دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔۔
وہ ہچکیوں کے دوران سب بتاتی چلی گئی ۔۔ریشماں سکون سے سنے گئی۔
“بات کرنی ہے اس سے،،؟ ریشماں نے مبہم سا مسکرا کر پوچھا تو اس نے بھیگا چہرہ لیے اثبات میں سر ہلایا۔
تب ریشماں نے فون ملایا۔

وہ جو ریشماں کا نمبر دیکھ کر چونک گیا تھا۔یہی وہ وجود تھا جس کا احترام اتنا تھا کہ وہ ہر گز بجتے فون کو اگنور نہیں کر سکتا تھا تبھی دوسری بیل پر فون یس کر کے کان کو لگایا۔
جی ریشماں دادو،، حکم؟ اس نے لہجے کو حتی الامکان متوازن رکھنے کی کوشش کی۔
“سزا کی طوالت کا پوچھنا تھا بچے؟ اتنا ہی طول دو اس سزا کو جتنا اگلی جان برداشت بھی کر سکے، اگر بات برداشت سے باہر ہو گئی تو پھر نقصان تم ہی اٹھاؤ گے،، ریشماں نے مبہم سا سمجھایا اس نے بے دردی سے اپنے لب کاٹے۔
“اپنا ضبط بھی تو آزما رہا ہوں ناں ریشماں دآئی۔۔
اور دور اس لیے ہوں کہ پاس ہوتا تو اپنے ہاتھوں سے ہی ناں گلا دبا دیتا سزا کے طور پر،، اس نے بے دردی سے اپنے لب کچلتے کہا۔

تب رواحہ نے ریشماں سے فون لے کر کان کو لگایا تھا مگر بولنے کی ہمت نہیں ہوئی وہ بھی دبی دبی سسکیاں سن کر چونکا تھا۔
سنیں،، آئم سوری،، لوٹ آئیں ناں واپس،، وہ بمشکل ہی بول پائی۔
مگر ادھر طویل خاموشی چھائی رہی۔۔ وہ بھی اس کی سانسوں کی بھاری آواز سنیے گئی۔ مگر جلد ہی فون رکھ دیا گیا تھا۔
رواحہ منہ پر ہاتھ رکھتی اپنے کمرے میں بھاگ آئی۔۔
فون میں پیچھے سے آتی سمندر کی لہروں کے شور سے اسے اس بات کا تو اندازا ہو گیا تھا کہ وہ اس وقت اپارٹمنٹ میں اپنے کمرے کی بالکونی میں بیٹھا تھا۔
اس نے آنسو صاف کیے۔
اونہہہہ،، نہیں آئے گا تو نا سہی وہ تو جا ہی سکتی ہے ناں،، اس بے مہر شخص کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑنے کے لئے اور یہ پوچھنے کے لئے کہ زیادہ نقصان کس کا ہوا ہے۔ کس کے دامن میں زیادہ خسارے آئے ہیں۔۔
منی،، مجھے اپارٹمنٹ جانا ہے،، تیاری کرواؤ،، وہ منی کو بول کر اپنا آج کا ڈریس اٹھائے واش روم گھس چکی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

شفا تیار ہو کر وائٹ پیلس پہلے ہی آ گئی تھی اور مگن سی اندر کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ کسی چٹانی چیز سے ٹکرائی۔
اشششششششش،،،،، اس نے اپنی چھوٹی سی ناک پر ہاتھ رک کر اوپر دیکھا تو شاکڈ رہ گئی۔ آج کئی مہینوں بعد وہ اپنی تمام تر وجاہت سمیت اس کے سامنے تھا۔ جو رائل بلو ٹو پیس میں اپنے پیچھے ہاتھ باندھے دلچسپی سے بلکہ مبہوت سا اس کا سجا سنوار روپ دیکھ رہا تھا۔۔
اسلام وعلیکم،، شفا کو کچھ اور تو نہیں سوجھا تو ہڑبڑاہٹ میں سلام پیش کیا۔ جس کا کسی نے گہری مسکان لیے جواب دیا۔

وعلیکم السلام ،، کیسی ہو،،
بلکم ٹھیک،، وہ کہہ کر کھسکنے لگی جب،،
جھوٹی،، کتنی جھوٹی ہو تم،، آریان کے شوشے پر اس نے پیچھے مڑ کر حیرت سے اسے دیکھا۔
واٹ،، ہاؤ ڈئیر یو، میں نے کیا جھوٹ بولا؟ اس نے اچنبھے سے پوچھا۔
میں نے تمہیں کب ڈارلنگ اور جانو بولا جو تم نے مجھے سب کے سامنے بدنام کیا کہ میں تمھیں ڈارلنگ اور جانو بولتا ہوں،،
آریان نے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ دئیے اطمینان سے بول کر اسے اپنی باتوں میں پھنسایا۔
کب میں نے کب بولا اور کس کو ؟ شفا کی آنکھیں پھیل گئیں اس کے شوشوں پر،،
رئیلی،، اور وہ کس نے بولا تھا،، جب تک بیٹا ممی بولے تب تک بیٹا تیرا ہے، اب تیرا بیٹا ڈارلنگ بولے اب تیرا بیٹا میرا ہے،، آریان نے اطمینان سے روانی سے کہا تو شفا کے چہرے نے لہو چھلکایا۔

یو،،،،، بہت بدتمیز ہیں آپ،، وائٹ چلغوزے،،اور حرکتیں بھی،، اففف،،، لیڈیز کی پرائیویسی نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے،، بٹ آپ لوگ،، وہ خفت مٹانے کو جانے کیا کیا بولے گئی۔
جبکہ آریان کا ہنس ہنس کر برا حال ہو چکا تھا۔
بہت سوئیٹ اور انوسنٹ لگ رہی ہو،، ڈارلنگ،، اتنے مہینوں بعد ہبی واپس لوٹا ہے،، ایک کس تو بنتی ہے جو نکاح والی رات ادھوری رہ گئی تھی،، وہ آج جانے کونسے کونسے اگلے پچھلے حساب نکال کر بے باک کرنے بیٹھ گیا تھا۔۔تبھی گہری نگاہوں سے وائٹ میکسی میں سرخ رنگ میں رنگے لبوں اور اپنے پٹاخے کو غور سے دیکھا۔

واٹ دماغ تو نہیں چل گیا آپ کو،، خیر میں آپ کے منہ ہی کیوں لگ رہی ہوں،، وہ دامن بچا کر جانے لگی۔
پھر آج رات ویٹ کرنا تمھاری سوئیٹ چیک پر پھر فاقے زدہ چھپکلی بنانے آؤں گا،، آریان نے اسے وارن کیا جیسے کہنا چاہتا ہو جو مانگا ہے ابھی دے کر جان چھڑاو نہیں تو،،
واٹ،،،،شفا کو ایک اور بات یاد آئی۔۔” اور آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے ہی گھر میں آ کر میرے ہی روم میں میری چیک پر وہ چھپکلی بنانے کی،،؟ وہ پھنکاری۔
جیسے آج ہوگی ہمت،، تمھارے ہی گھر میں تمھارے ہی روم میں تمھیں کس کر کے آؤں گا،، وہ اطمینان سے بولتا پیچھے سے آتے کامران حسن کی جانب بڑھ گیا
اونہہہہہہہہ،، چلغوزہ،، دھمکیاں،، شفا لاپروائی سے آگے بڑھی۔ مگر نہیں جانتی تھی وہ سن آف پاشا ابراہیم ہے باپ کی طرح
سرپھرا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ناول کی گولڈن جوبلی کی خوشی میں ایکسٹرا لونگ ایپی۔😷😷congratulations اب رسپانس بھی شاندار ہونا چاہئے 😷😷