Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

یہ منظر دیکھ مفرا جی جان سے جلی تھی۔۔ پہلے ہی کالج کی سب منحوس ماری لڑکیاں زہر لگ رہیں تھیں اسے۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتی جبران کے قریب آئی جو ہنس ہنس کر لڑکی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
وہ بھناتی گاڑی کی جانب بڑھی اور جان بوجھ کر ناراضگی سے پچھلی جانب کا دروازہ کھول کر کھٹاک سے اس میں بیٹھ گئی۔ مگر بیٹھتے ساتھ ہی کمر کسی چٹانی چیز سے ٹکرائی تو وہ گڑبڑا گئی۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو دنگ رہ گئی ۔
جبران بڑی شرارتی اور معنی خیز مسکان لیے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔
تبھی باہر کھڑا ایشان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔
وہ منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہی تھی اور ساتھ کنفیوز تھی کہ ان نمونوں میں سے اس کے والا کون تھا۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایشان نے اپنی بھابھی کی پتلی ہوئی حالت دیکھ دانتوں تلے لب دبایا۔ یہ ساری شرارت پیچھے بیٹھے جبران کی تھی۔۔
اسی نے ایشان کو چپ رہنے کے لئے بولا تھا۔ یہ تو صرف وائٹ پیلس کے رہائشیوں کو معلوم تھا کہ جبران کی گھنی مونچھوں کے بلکل ساتھ بڑھی ہوئی گھنی بئیرڈ میں ایک سیاہ دھبے کا نشان تھا جو اسے ایشان سے مختلف بناتا تھا۔ سامنے بیٹھی اس معصوم کو نہیں۔۔
اب مفرا سمجھ نہیں پا رہی تھی جبران سمجھ کر کسے مخاطب کرے،، عجیب خجالت کا سامنا تھا تبھی ایشان کو ہی اس کی ہونق شکل پر رحم آیا تھا۔

ہائے بھابھی،، میں آپ کا پیارا دیور ایشان کبیر ابراہیم،، دیور اس لئے کہ آپ کے ہبی پورے آٹھ منٹ بڑے ہیں مجھ سے،، وہ خوشگوار لہجے میں بولا تو مفرا نے مسکرا کر سر ہلایا اور نروٹھے پن سے پاس بیٹھے ہبی جی کو گھورا۔
تب جبران نے اس کی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا تھا۔ وہ شدید بوکھلائی۔ ایشان اب ڈرائیونگ کی جانب متوجہ تھا۔ مگر دا گریٹ جےکے مفرا کے ہوش اڑا چکا تھا۔
ہیے نہیں کرو پنک روز،، اتنے غصے میں پنک سے ریڈ کشمیری سیب بنو گی تو میں کھا جاؤں گا،، زرا سا جھک کر کان میں کی گئی بوجھل سی سرگوشی نے مفرا کو پانی پانی کر دیا تھا۔

وہ بری طرح کسمسائی،، آپ،،، آ،، آپ،، بہت،،، اس نے دانت پیسے مگر بات مکمل نہیں کر پائی۔
جبران نے سے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا اور بمشکل قہقہہ ضبط کیا اور اپنے لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہو گیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ﮐﺐ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﺗﻮ ﻻ ﻋﻼﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ_ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭاﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﺳﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﺭﻭﺡ ﮐﺎ ﺍﻧﺎﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻋﺸﻖ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﮐﻮ
ﺳﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﺫﮨﻨﻮﮞ پہ ﺭﺍﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮦ ﻓﻘﯿﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺎﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﻞ ﻧﮧ ﺁﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻋﺸﻖ ﺧﻮﺩ پر ﮨﯽ ﻇﻠﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﺧﻮﺩ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

وہ کرسی سے بندھی شدید مزاحمت کرتی بری طرح رو رہی تھی۔
وہ بول کر گیا تھا کہ پلک بھی مت جھپکنا ،،یہاں نیند آ کسے رہی تھی وہ تو بھاگنے کو پر تول رہی تھی۔ تبھی دروازہ کھول کر ایک لڑکی اندر آئی تھی۔
اے،، ادھر آؤ، کھولو مجھے،، جانے دو،، پلیز،،، وہ پھر چلائی۔
مگر سامنے سونیا تھی۔ جبران اور ایشان کی خاص چہیتی،
جو اب یوں بن گئی تھی جیسے گونگی بہری ہو۔ اب روم میں آ کر اس نے لائٹ آن کی تھی۔
تب سامنے ہی دیوار پر نصب ایک بڑی ایل ای ڈی میں سونیا نے یو ایس بی ڈرائیو لگا کر ایل ای ڈی آن کی تھی۔۔
یہ سر نے بولا ہے کہ آپ نے دیکھنا ہے،، اب میں چلتی ہوں ،،وہ کہہ کر جا چکی تھی۔
اب آروشے تھی اور سامنے سکرین پر کچھ غیر متوقع مناظر،، آروشے جنھیں حیرت سے پھیلی نگاہوں سے دیکھنے میں محو ہو گئی۔۔

ایک گھر تھا جس میں وہ بچوں کی طرح کھلونوں سے کھیلنے میں مصروف تھی۔ پھر وہ شخص جو اسے اب ظالم درندہ لگ رہا تھا بڑے پیار سے اس کی کئیر کرنے میں مصروف تھا ۔ویڈیو میں علیزے بھی تھی۔۔ جو ایش کو ڈاکٹر پکار رہی تھی۔۔ کافی دیر اسی طرح کے مختلف سینز چلتے رہے جن میں وہ کبھی اس کے ساتھ کھیل رہا تھا تو کبھی اسے کھلانے پلانے، میڈیسن دینے میں ہلکان ہو رہا تھا۔۔
اگلی ویڈیو میں علیزے اسے میکسی میں تیار کر کے باہر لاؤنج میں لا رہی تھی۔۔ پھر بڑی وضاحت سے اس پورے نکاح کو دیکھا تھا اس نے جو علیزے نے اپنی مرضی سے کروایا تھا۔۔بعد میں اس شخص کا اٹھا کر آروشے کے کمرے میں لے جانا۔۔
پھر مناظر تبدیل ہوئے تھے۔۔ اب وہ ایک نہایت بڑے اور شاندار سے گھر میں تھی۔۔
اب علیزے اس کے پاس نہیں تھی( شاید علیزے نے اسے رخصت کر دیا ہو) صرف وہی شخص تھا اس کے پاس اور اس کی فیملی تھی۔
پھر اسی گھر کے اسی طرح کے اور کافی سارے مناظر تھے۔۔

پھر ایک سین آیا تھا جس میں وہ واش روم داخل ہوا تھا۔۔شاید وہ اس کی ان معصوم حرکتوں کی کہانی ساری زندگی یاد رکھنا چاہتا ہو تبھی وہ سب ریکارڈ کیا ہو۔اور شرٹ پر کیمرہ لگا ہو۔
وہ واش روم داخل ہوا تو وہ باتھ ٹب میں گھسی بیٹھی تھی۔۔ کافی ساری ییلو ڈکلنگ بیشمار جھاگ میں چھوڑے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے میں مصروف تھی۔۔
پھر آگے جو بھی ہوا دل کیا آنکھیں بند کر لے۔۔مگر یہی تو اجازت نہیں تھی اسے کہ اس جن سے اتنا خوفزدہ ہو گئی تھی کہ آنکھیں بھی بند نہیں کر سکی۔
کاش وہ سکرین پر چلتی اس حقیقت کو جھٹلا سکتی مگر یاد کروانے والے نے اس کے پاس کوئی آپشن نہیں چھوڑا تھا۔۔

پھر اور کئی مناظر تھے اسی طرح کے،، پھر شاید وہ کہیں جا رہا تھا۔وہ اس سے بحث کر رہی تھی کہ مت جاؤ۔۔ وہ بڑے پیار سے اسے سمجھا رہا تھا کہ اسے جانا ہے۔
اس کے بعد جو وہ کر کے گیا تھا وہ ناقابلِ ہضم تھا۔۔ وہ سر تا پا پسینے میں بھیگ چکی تھی۔۔
پھر ان کے اسلام آباد والے گھر کے مناظر تھے اور سکرین اس کے بعد خود ہی آف ہو گئی۔
تو وہ اس لئے بول کر گیا تھا کہ اس کہ یادیں وہ کبھی بھولنے نہیں دے گا۔۔ اب وہ لڑکی اندر آئی تھی۔ آروشے کا رونا خود بخود بند ہو چکا تھا جانے کیوں ؟
وہ لڑکی اسے خاموشی سے کھول کر دوسرے روم میں لے گئی تو وہ چپ چاپ ساتھ چل دی تھی ۔اب سونیا نے اس کے سامنے کھانا رکھا تھا۔ وہ نوالہ بنانے لگی تو آروشے نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا کہ وہ خود کھا سکتی ہے۔
آروشے نے بمشکل کھانا کھایا اور اس نے اسے میڈیسنز دیں۔۔ تب وہ کمفرٹر میں دبک گئی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو
ورنہ مر جائیں ابھی مر کہ منا لیں تم کو

ماہر اس کے پیچھے کھڑا اسے گہری نگاہوں سے دیکھ کر پکارا تھا۔
وہ جس کی پیچھے کھڑے شخص کی آواز سن کر حلق میں جان اٹک چکی تھی۔ یونہی ناراضگی سے گٹھڑی سی بن کر تکیے میں منہ دے لیا۔
مگر اصل میں تو وہ اپنی اٹکی سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے بے حد قریب آ کر بیٹھ گیا۔ وہ پرے کھسکنے کو تھی جب ماہر سوہم خان نے اپنا ایک ہاتھ بیڈ پر رکھ کر اس کے فرار کا رستہ مستود کر دیا۔۔
نہیں ڈرتی مجھ سے مارش میلو؟ سنجیدگی سے پوچھا گیا۔۔
نہیں،، تکیے میں منہ دئیے ہی جواب آیا۔

آں،، ہاں،، مگر آج رات ڈرو گی،، اور پناہ بھی مانگو گی مجھ سے مارش میلو ،،، وہ اطمینان سے بولا۔
مگر ادھر اسکے ہوش اڑے تھے اس گھبمیر لہجے میں بولے گئے معنی خیز جملے سے۔۔
ماہر نے اس کے گرد بازو لپیٹ کے اسے اپنے روبرو کیا۔۔
آ،،، آپ،،، نے جانے کک،، کا،، جھوٹ کیوں بولا،، اس کی پرحدت نگاہوں کی تاب نا لاتے ہوئے جب اسے کچھ اور نا سوجھا تو لڑکھراتے پوچھ بیٹھی۔۔
پہلے تم۔ بتاؤ مجھ سے دور کیوں گئی تھی؟ چھپی کیوں تھیں،، ہاں بولو زرا،، ماہر نے اس سینے میں بھینچا تھا۔ اور منہ اس کی گردن میں چھپایا۔۔
اس سے الجھ تو بیٹھی تھی مگر اب جب وہ حساب لینے بیٹھا تھا تو روح کی روح فنا ہو رہی تھی۔۔سانسوں کا توازن بگڑ رہا تھا۔
مم،،، ماہر،، آ،،، آپ،، مم،، مجھے ڈرا،، رہے ہیں،، وہ روہانسی ہوئی،

ابھی سے،، ابھی تو منہ زور طوفان اور اس مونسٹر کا جھیلنا ہے تمھیں وہ بھی آج ہی،، بوجھل آواز کی سرگوشی اس کی جان ہوا ہونے لگی تھی۔۔
تب وہ اس پر ابھی فی الحال کے لئے ترس کھاتا زرا سا پیچھے ہٹا تھا مگر اسے چھوڑا نہیں۔۔
سنو روح،، سانس بحال کرو،، خود کو تیار کرو،، کیونکہ آج جان بخشی نہیں ہو گی،، وہ نرمی سے اسے چھوڑتا اٹھ کر کھڑا ہوا۔
وہ گہرے گہرے سانس لیتی بے حال ہو رہی تھی۔۔
ابھی فی الحال جا رہا ہوں مگر تمھارا انتظار کروں گا،، منیب تمھیں تیار کر کے جدھر لائے گا اس کے ساتھ چلی آنا مگر زرا جی کڑا کر کے آنا،، وہ اطمینان سے کہتا اس کے ہاتھوں کے طوطے چڑیاں کبوتر سب اڑا چکا تھا۔
کک،، کدھر،،، مم،، مجھے،، کہیں،، نن،، نہیں،، جانا،، وہ روہانسی ہوئی۔۔
ماہر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں،،ان نگاہوں کے سوال کا مطلب سمجھ کر وہ بے اختیار نگاہیں چرا گئی تھی۔۔
میں انتظار کروں گا،، نہیں آئیں،، تو یقین کرو اس انتظار کے بعد کا وائٹ پیلس لوٹا ہوا ماہر سوہم خان زیادہ خطرناک ہوگا تمھاری چھوٹی سی جان کے لئے،،،
وہ کہہ کر چلا گیا مگر رواحہ کافی دیر تک خود کو سنبھالنے کی تگ و دو کرتی رہی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر اپنے روم میں لیپ ٹاپ گود میں رکھے صوفے پر ٹانگیں پھیلائے نیم دراز تھا۔ وہ آفس کم ہی جا رہا تھا
وہ جانتے تھے کہ دشمن اسے ٹارگٹ کیے بیٹھے ہوں گے۔مگر کورٹ کی تاریخ آنے تک وہ ان کے ہاتھ نہیں لگنا چاہتا تھا۔۔
فجر آہستگی سے اندر آئی تھی۔ ہاتھ میں کافی کا مگ تھا جو اس نے لا کر ماہ بیر کے پاس ٹیبل پر رکھا تھا۔

اب وہ بیڈ پر بیٹھ کر اپنی انگلیاں چٹخانے لگی اور بار بار ایک نگاہ سامنے بیٹھے بندے کو بھی دیکھ لیتی۔۔
جانے کیوں مگر صبح سے دل عجیب طرح سے بے چین سا تھا مگر ماہ بیر اسے کچھ الٹا سیدھا سوچنے ہی نہیں دے رہا تھا اور خود میں ہی الجھائے رکھا تھا۔
سوچا نہیں تھا یہ سڑیل یوں مہربان ہو جائے گا۔۔ وہ اس کا اس قدر خیال رکھ رہا تھا فجر کو خود حیرت ہو رہی تھی کہ اگر وہ اس سے اس قدر محبت کرتا ہے تو پہلے اسے اتنی تکلیف کیوں دیتا تھا۔
جب وہ مسلسل اس کی جانب دیکھے گئی تو وہ چونکا تھا۔ اور اس کی جانب دیکھا۔۔
ہیے کچھ چاہیے؟
نن،،، نہیں،، وہ چوری پکڑے جانے پر گڑبڑائی تو ماہ بیر اس کی حالت سے محظوظ ہوا۔تبھی اس کا فون رنگ ہوا تھا۔
وسیع کا تھا بے وقت۔۔ یقینا کوئی منحوس خبر ہوگی۔۔
او نو ،،ناٹ اگین،، وہ جو پرسکون سا اپنی زندگی کے پاس بیٹھا تھا اور جلد ہی اٹھ کر اس کے ساتھ چھیڑ خانی کا ارادہ رکھتا تھا اب برے برے منہ بنانے لگا ۔۔
فون یس کر کے کان کو لگایا۔۔ بولو وسیع؟
سر بری خبر ہے؟ آپ نے میم کی ،،،مطلب حویلی میں ان پر نظر رکھنے کو بولا تھا میں نے دو میڈ بھیجیں تھیں ان کے پاس تو انھوںنے فون کر کے بتایا کہ وہ شدید بیمار ہیں،، اور اب بے ہوش ہو چکی ہیں،،
واٹ،،، ماہ بیر جھنجھلایا۔
یس سر،، وسیع نے تصدیق کی۔
تو مجھے کیوں بتا کر ٹائم ویسٹ کر رہے ہو ہوسپیٹل لے کر جاؤ انھیں،، میں آتا ہوں،، ماہ بیر نے کن اکھیوں سے فجر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور اب چہرے پر ہوائیاں اڑ گئیں تھیں۔
یس سر،، اس نے فون رکھا۔

کک،،، کون،، بیمار ہے،، وہ گھبرائی سی اس کے قریب آئی۔۔
دوست کی مدر،، وہ نگاہیں چرا کو بولا۔ اور ٹیبل سے اپنا موبائل اور وائلٹ اٹھایا۔۔
پیچھے مڑ کر اس کا گھبرایا چہرہ دیکھا۔
اور قریب ہو کر اس کا ماتھا چوما۔۔ سب ٹھیک ہے،، کچھ الٹا سیدھا مت سوچو،، بس اپنا اور میرے بےبی کا خیال رکھو۔
کہتا وہ چیزیں اٹھا کر چلا گیا۔ مگر ایک بیٹی کے دل کو کیسے سمجھاتا جو پسلیوں سے سر ٹکرا رہا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

شفا بے تحاشا خوش تھی۔۔ اس کے پاپا اٹھ کر گئے تھے اس کے بعد سے اس نے اس سیف کا منحوس چہرہ نہیں دیکھا تھا ہان مگر پھپھو بیچاری ضرور شرمندہ شرمندہ سی اس کے آگے پیچھے پھر رہی تھیں۔
وہ پھپھو کے ساتھ کچن میں تھی۔اور آج نیا خبط سوار ہوا تھا ان کا ہاتھ بٹانے کا۔۔باہر کامران حسن ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے اور پھپھی بھتیجی کی کھٹر پٹر ملاحظہ کر کے مسکرا رہے تھے۔

مگر کچھ ہی دیر میں حسن مینشن میں شفا کی دلخراش چیخوں سے گونجا تھا۔ زرا سی بے احتیاطی سے کھولتا آئل چھلک کر اس کا بازو جلا گیا تھا۔ زیادہ حصہ نہیں جلا تھا مگر تھوڑے سے جلے حصے نے ہی اس کو تڑپا دیا تھا۔۔ کامران بوکھلائے۔مگر جلد ہی وہ دونوں اسے لئے ہوسپیٹل پہنچے تھے۔
اس کی آہ و بکا جاری تھی۔ جب اسے ایک سسٹر پرائیویٹ روم میں لے کر گئی۔

سوری ٹو سے مسٹر کامران حسن اس وقت کوئی ڈاکٹر ہوسپیٹل میں اویل ایبل نہیں ہے، مگر میں کوشش کرتی ہوں کسی کو بلانے کی۔۔
سسٹر باہر آئی تھی جب سامنے سے ڈاکٹر آریان آتے دکھائی دئیے۔
وہ لپک کر ان کے قریب آئی ۔۔
ڈاکٹر،،
ٹائم ویسٹ مت کریں سسٹر،، اور میڈیکل سٹور سے یہ میڈیسنز ڈریسنگ اور انجیکشن لے کر آئیں۔۔ آریان نے اسے پیپر پکڑایا اور خود روم میں آیا۔
سامنے دیکھا تو رو رو کر جہاں اس نے اپنا چہرہ لال سرخ کر لیا تھا۔ وہ ماسک لگائے قریب آیا۔
ہٹیے مجھے چیک کرنے دیں سر،،
ڈاکٹر پلیز،، جلدی سے اسے کوئی میڈیسن دے دیں،، میری بچی بہت تکلیف میں ہے،،، کامران کی آنکھیں بھی نم تھی۔۔
پلیز سر آپ باہر ویٹ کریں،، سسٹر سنبھال لیں گی انھیں،، آریان نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو انھیں باہر جانا پڑا۔

آریان نے بازوچیک کیا جس پر موٹے موٹے چھالے بن چکے تھے۔اتنے میں سسٹر وہ سامان لیے اندر داخل ہوئی تھی۔
آریان سیزر لیے اس کی جانب مڑا ڈیڈ سکن الگ کرنے کے لئے،،، شفا نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اوپر دیکھا ۔آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں۔۔
وہ سیکنڈوں میں سامنے کھڑے اپنے مسیحا کو پہچان چکی تھی۔
آریان سیزر لیے اس کے بازو پہ جھکا شفا نے چیخ مار کر بازو پیچھے ہٹایا آریان نے تیکھے چتونوں سے اسے گھورا۔

اب کیا سیزر سے بازو کاٹو گے وائٹ چلغوزے،، وہ غرا کر بولی۔ آریان نے دانتوں تلے لب دبایا۔
جبکہ نرس نے حیرت سے اس چھوٹی سی نازک لڑکی کو دیکھا کیونکہ جب سے وہ ہوسپیٹل میں آیا تھا ڈاکٹر آریان نے کم ہی کسی کو منہ لگایا تھا۔
ایسے بات کرنا تو دور کی بات ڈاکٹر آریان سے بات کرنے کے لئے سو بار سوچنا پڑتا تھا۔
اور تو اور سب ڈاکٹرز تو کانفرنس روم میں تھے تو ڈاکٹر آریان یہاں اچانک کیسے آ گئے تھے۔

رئیلی؟ فاقے زدہ چھپکلی،، پہلے والا علاج بھول گئی کیسے کیا تھا؟
آرایان نے اچھی طرح یاد دلایا تھا۔
سسٹر نے دلچسپی سے انھیں دیکھا۔
کیونکہ ان انوکھے ڈاکٹر اور پیشنٹس کا یہ دنگل یقینا اب بڑا دلچسپ اور دیکھنے لائق ہونے والا تھا۔

Continue,,,,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓