No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
ماہ بیر نے ماہر سوہم خان کو بتایا تھا کہ دشمن کیس فائل کرنے نہیں دے رہے۔۔ماہ بیر نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا کیس ری اوپن ہو مگر کوئی نا کوئی بات ایسی ہو رہی تھی کہ اسے شک ہو گیا کہ ضرور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں تب ماہر سوہم نے کہا تھا میں اس منیر چیمہ کا دھیان بٹاؤں گا یہ کام پھر کرنا۔
تب اسی نے جان بوجھ کر ان تک اپارٹمنٹ کی اطلاع پہنچائی تھی وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یقینا اس کی سوچ کے مطابق رستم خود چل کر اس کے پاس آئے گا اپنی ہڈیوں کا کچومر بنوانے۔۔ اور ہوا بھی یہی چندا کے چکر میں وہ بھوکے شیر کے پنجرے میں گھس آیا تھا۔ بس مجبوری یہ تھی کہ ماہر ابھی اپنے اسکیلپل کا یوز نہیں کر سکتا تھا اس پر،،، اسی لئے خود اس کے قریب نہیں گیا۔ اسے زندہ بھیجنا تھا منیر چیمہ کے پاس،،، مگر زخمی تاکہ وہ اس کی جانب متوجہ ہو جاتے ۔۔نہیں تو منیر چیمہ کو اس کے ٹکڑے چننے میں ہی کافی دن لگ جاتے۔
ہوا بھی یہی تھا جب وہ ادھ مری حالت میں انھیں کوڑے کے ڈھیر سے ملا تھا۔ تو منیر چیمہ غصے سے پاگل ہو چکا تھا۔۔
اسے کافی بے رحمی سے مارا گیا تھا۔ کہاں کا کیس کون سا کیس، وہ اپنے بھائی کے تکیے سے لگ کر بیٹھ گیا تھا۔
اب تک ان کے بندے کتوں کی طرح مال کی بو سونگھتے پھرے تھے مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔
اور تو اور جہاں انھیں نایاب ملی وہاں سے وہ بھی غائب تھی مطلب وہ صرف ان گدھوں کے سامنے چارہ پھینکا گیا تھا۔۔
پر افسوس یہ سمجھنے میں منیر چیمہ کو کافی دیر ہو چکی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یہ خبر وائٹ پیلس کے مکینوں پر بجلی بن کر گری تھی کہ ایشان کوما میں چلا گیا ہے۔۔
جےکے ایشان کے پاس ہاسپٹل میں تھا باقی سب کو اس نے واپس بھیج دیا تھا سب واپس آئے تو سب کے منہ لٹکے ہوئے تھے۔۔
اب سب سے جو بڑا اور تکلیف دہ مرحلہ تھا وہ فجر کو اس کی ماں کی موت کے بارے میں بتانے کا تھا۔
سب لاؤنج میں جما تھے۔ فجر رحاب کے پاس بیٹھی تھی۔۔ اور ان سے ایشان کی طبیعت کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔۔
رحاب نے اسے تسلی دے دی تھی۔تبھی عاشی اندر سے اس کا ضروری سامان لے کر آئی تھی۔رحاب نے عاشی سے لے کر اس پر چادر اوڑھائی۔
بڑی ماں یہ کیا کر رہی ہیں آپ ،، اسے حیرت ہوئی۔۔
ہم حویلی جا رہے ہیں فجر،، رحاب نے نگاہیں چرا کر کہا تھا۔
لیکن کیوں،، سب خیرت ہیں ناں؟ امی ٹھیک تو ہیں ناں؟ فجر کے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔۔
اور یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں تھیں کہ ریشماں بھی ان کے ساتھ حویلی جانے کے لئے باہر نکلیں تھیں۔
سب خیرت ہے،، چلو،، رحاب نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اور اسے لے کر باہر آئے۔
وائٹ پیلس میں بس آروشے اور شفا رکی تھی۔ وہ بھی ان کے ساتھ جانا چاہتی تھیں مگر بول نہیں پائیں اور وہ آروشے کی طبیعت کے باعث اور شفا کے پہلے ہی اتنے ڈسٹربڈ ہونے کے باعث انھیں ساتھ لے جانا نہیں چاہتے تھے۔۔ مفرا سعد کے پاس تھی۔
باقی سب گاڑیوں میں بیٹھ کر نکلے تھے۔ رواحہ بھی فجر کے ساتھ تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
گاڑیاں حویلی کے طویل و عریض لان میں رکی تھیں۔ وہ سب گاڑیوں سے اترے تھے۔ فجر کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ حویلی کے درو دیوار سے عجیب قسم کی وحشت ٹپک رہی تھی۔۔
حویلی کے بڑے سے لاؤنج میں صفہِ ماتم بچھی دیکھ فجر نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان سب کی طرف دیکھا تھا۔جب فضا میں ایمبولینس کی دلدوز آواز گونجی تھی۔
فجر الٹے پیر باہر کی جانب بھاگی تھی۔۔
فجر،، اس طرح مت بھاگو،، فجر،،،
رواحہ ،زمل ،روحا،، اور رحاب اس کے پیچھے لپکی تھیں۔۔ وہ بھاگ کر لان میں آئی تھی۔ جہاں ایمبولینس رکی تھی۔ شال کندھوں سے اتر کر جانے کہاں گری تھی۔ دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا۔۔ ایمبولینس سے اترتے ماہر سوہم خان کو دیکھ وہ پھتر کی بن چکی تھی۔ جب انھوں نے اتر کر گاڑی کے پیچھے سے ایک مردہ وجود باہر نکالا۔
ماہ بیر نے گاڑی سے اتر کر رونے کی زیادتی کی وجہ سے لال انگارا آنکھیں سے اس کی جانب بے بسی سے دیکھا ۔
آنکھیں سے آنکھیں ٹکرائیں ۔آج ماہ بیر کو اس کی آنکھوں میں دیکھنا دنیا کا مشکل ترین امر لگ رہا تھا۔
وہ خالی دل اور خالی زہن سے اپنی جانب بڑھتے انھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ سب کیوں رو رہی تھیں جانے کیوں فجر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
رواحہ نے اس کے کندھوں پر شال دی تھی۔ اسے لیے لاؤنج میں آئے تھے۔ نایاب کی چارپائی لاؤنج میں رکھ دی گئی تھی ۔ وہ کچھ بھی ری ایکٹ نہیں کر رہی تھی۔ حتی کے تب بھی نہیں جب رحاب نے نایاب کے چہرے سے چادر ہٹائی تھی۔
اسے پاس ہی چئیر پر بٹھا دیا گیا تھا۔ وہ بس خاموش سی نایاب کے سفید و سرد پڑے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی۔
کافی دیر ہو چکی تھی۔نایاب کو غسل دے دیا گیا اب جلد ہی اس کی آخری رسومات بھی ادا کر دی جانی تھی۔
ڈیڈ انھیں رلائیں،، آریان کو پریشانی ہوئی اور سرگوشی نما آواز میں پاشا کے کان میں کہا۔
پاشا نے ریشماں کے کان میں کچھ کہا تبھی ریشماں اس کے قریب آئی تھی۔
فجر،، آخری بار ماں کو کچھ بول دو،، پھر یہ سننے نہیں آئے گی۔ ریشماں نے فجر کا کندھا ہلایا۔
فجر وہ ہستی جا رہی ہے جو تجھے اس دنیا میں لائی،، ماں جا رہی ہے فجر،، واپس نہیں آئے گی،، اب جب ریشماں کی باتیں اسے سمجھ آنے لگی،، جب شعور اجاگر ہوا تو یہ ادراک ہونے پر کہ اس کی دنیا اندھیر ہو چکی ہے،،، اس کی جنت منوں مٹی تلے جا سوئے گی فجر کی دلخراش دھاڑوں نے پوری حویلی کے درو دیوار کو ہلا ڈالا تھا۔
سسکیاں تھیں کہ ختم نہیں ہو رہیں تھیں،، اس کی بے بسی میں ڈوبی آہیں تھیں جو ہر آنکھ اشکبار کر رہی تھیں۔
امی اٹھ جائیں ناں،،، دیکھیں میں ملنے آ گئی آپ سے،، وہ جانے کیا کیا بول رہی تھی۔ اور سب کے کلیجے پھٹ رہے تھے۔
باہر سر جھکائے کھڑے ایک شخص کا دل کیا خون کے آنسو روئے۔ ایک بیمار ماں سے اس کی بیٹی کو دور رکھا کہ آخر وقت تک وہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں سکیں۔ جانے کتنی باتیں کتنی حسرتیں دل میں چھپائے وہ ماں اب جا چکی تھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔۔
جب جنازہ اٹھایا گیا تب فجر جیسے پاگل سی ہوئی تھی اپنے ہی بال نوچ ڈالے تھے۔ مگر جانے والوں کو کون روک پایا ہے آج تک،، تب وہ غشی کھا کر بےہوش ہوئی تھی۔۔
سب خواتین نے اسے سنبھالا تھا صد شکر کہ آریان اس کی طبیعت کی وجہ سے اس کے پاس ہی رک گیا تھا،، آریان نے اس کو سکون آور انجیکشن دیا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ شام کے وقت جلے پیر کی بلی بنی پورے وائٹ پیلس میں چکراتی پھر رہی تھی۔ جبھی آریان بہت خراب موڈ کے ساتھ وائٹ پیلس کے لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔
آن،،،،،، آروشے نے ہمت کر کے پکار ہی لیا۔۔
آریان ٹھٹھک کر رکا ۔مگر اس کی جانب دیکھا نہیں،، یس،،
وہ، جج،، جو، کچھ بھی ہوا اس میں میری کوئی مم،،، مسٹیک نن،، نہیں تھی۔۔وہ انگلیاں چٹخاتی بھرائی آواز میں بولی۔ حلق میں آنسو کا پھندا سا لگ چکا تھا۔۔
تو،،،،،؟ ایک لفظی سوال آیا۔
آروشے نے بےبسی سے اپنے لب کاٹے۔ مجھے ملنا ہے ان سے،، وہ بمشکل ہی بول پائی۔
کیا کریں گی مل کر ،،کومے میں چلے گیا ہے وہ،،، آریان نے دانت پیس کر کہتے اس کے سر پر بم پھوڑا۔ تب وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
پپ،،، پلیز، آن،، مجھے تب بھی ان سے ملنا ہے،،جج جب میرے پاگل پن میں انھوں نے مم مجھے اکیلا نہیں چھوڑا،، تت،،تو میں بھی نہیں چھوڑو گی ،،آئی لو ہم آن ،،سنا تم نے آئی لو ہم،،میں نہیں جی سکتی ان کے بغیر،، وہ ہاتھ جوڑ بیٹھی۔
آریان نے اپنے لب کچلے،، ماہر بھائی نے کیا بولا پتہ ہے نا آپ کو،، اور اگر انھیں پتہ چل گیا تو جانے کیا قہر ڈھائیں گے۔۔ آریان نے سنجیدگی سے کہا۔۔
میں کچھ نہیں جانتی آن،، مجھے ملنا ہے ان سے،، اگر وہ ہوتے تو مجھے رلاتے،، روشے بےبی نے جلاد کو ایموشنل بلیک میل کرنا چاہا۔ مگر وہ اس کے آنسوؤں سے پگھل گیا تھا۔
اوکے شال اوڑھ کر آئیں،، چلتے ہیں،، وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ بھاگ کر اپنے روم سے شال لینے گئی۔۔
شفا کافی دیر سے اسے اتنے سنجیدہ روپ میں پہلی مرتبہ دیکھ رہی تھی۔
تبھی آروشے باہر نکلی تھی۔ وہ دونوں باہر نکلے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ہوسپیٹل میں داخل ہو کر اس کی دھڑکن معمول سے بہت تیز ہوئیں تھی۔۔ آریان اسے لئے مختلف راستوں سے گزرتا اوپر والے فلور پر آیا تھا۔
اسے آئی سی یو سے سیکنڈ فلور پر شفٹ کیا گیا تھا۔
ایک پرائیویٹ روم تک پہنچ کر آریان رک گیا تھا۔ جاؤ اندر آپ،، میں یہیں رکتا ہوں، جلدی باہر آئیے گا، وقت نہیں ہے،، ماہر بھائی حویلی سے گھر آ گئے تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔ آریان نے کہا تو دھڑکتے دل کے ساتھ ڈور دھکیل کر اندر داخل ہوئی۔
قدم من من کے بھاری ہو رہے تھے۔
سامنے ہی وہ زندہ دل شخص زرد سی رنگت کے ساتھ سفید بیڈ پر لیٹا تھا۔ سر پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتی اس کے قریب گئی۔ پھر پاس پڑی چئیر پر بیٹھنے کی بجائے بیڈ پر ہی ٹک گئی۔۔
بے آواز آنسو بہاتی وہ آنکھوں میں تشنگی لیے اس کے خوبرو چہرے کو بے چین نگاہوں سے دیکھے گئی۔
پھر نرمی سے اس نے اپنا سر اس کے سینے پر ٹکایا تھا ۔۔ آروشے کے آنسوؤں نے اس دشمنِ جاں کی شرٹ بھگوئی تھی۔
ایش،،، ناراض ہو گیا روشے بےبی سے،، ائم سوری ایش،، آپ کی روشے بےبی کتنی سیلفش ہے ناں،، آپ کو سمجھا ہی نہیں،، نا آپ کی محبت کو،، نا خود کی فیلنگز کو،، سچ میں کتنی ناسمجھ اور الو کی پھٹی ہے ناں آپ کی روشے بےبی،، یو نو واٹ ایش،،،میں کمپلین کرنے آئی ہوں سب کی،، سب آپ کی روشے بےبی کو ڈانٹ رہیں ،،رلا رہیں ہیں،،
وہ روئے گئی۔۔ اس سے اپنے دل کی باتیں کیے گئی۔۔ یہ جانے بغیر کے وہ سن سکتا ہے، محسوس کر سکتا ہے۔۔ اپنی روشے کو اپنے قریب محسوس کر رہا ہے۔۔ روح جھٹپٹا رہی ہے اس کی باتوں سے،، دل دماغ زور لگا رہے ہیں کہ اٹھ کر بیٹھے اور اس بکھرے نازک وجود کو خود میں سمیٹ لے۔۔
ایش، جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ناں،، اس نے سر اٹھایا اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا،، مم،، مجھے آپ کو،، بب بہت ضروری بات بتانی ہے ایش،،،، ایش آئی،، آئی لو یو،، سنا آپ نے بہت محبت کرتی ہوں میں آپ سے ،،، آپ ٹھیک ہو جائیں ناں،،،
اس نے اپنے لرزتے کانپتے لب اس کے ماتھے پر،، اس کی آنکھوں پر رکھے تھے۔۔
اس کے آنسو ایشان کی گالوں پر گرے تھے۔
آریان نے دروازہ ناک کیا تھا۔۔ تو وہ آنسو صاف کرتی پیچھے ہٹی تھی۔۔
چلیے،، آریان نے کہا تو وہ بمشکل ہی اٹھ پائی تھی۔۔ آریان اسے لیے باہر نکلتا چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایپی شارٹ ہے😓بزی تھی😷 کل کو لونگ سی دوں گی۔۔
