Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

آج کورٹ کی پہلی ہیرئنگ تھی اور وہ سب اسلام آباد کچھ دن پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔۔ آج کورٹ میں غیر معمولی رش تھا۔۔ میڈیا والے بڑے پیمانے پر اس کیس کی کوریج کرنے والے تھے۔ پاکستان کی تمام سیاسی اور دفاعی ماہرین کی نظر اس کیس پر جم چکی تھیں۔

پاشا اور ماہ بیر گاڑی سے اترے تو میڈیا والے لپک کر ان کے پاس آئے مگر انھوں نے نو کمنٹس بول کر معزرت کرتے آگے بڑھے۔۔ اور کورٹ کے اندر داخل ہو گئے۔۔
ان کے پیچھے ہی کھرل اور منیر چیمہ کی گاڑیاں بھی اگے پیچھے آ کر رکیں تھیں۔ مگر انھوںنے بھی کوئی بات نہیں کی تھی پہلے ہی میڈیا والے ان کی عزت کی دھچیاں اڑانے میں مصروف تھا کیونکہ پاشا ابراہیم نے ثبوتوں کے کچھ کچھ نمونے پہلے ہی میڈیا تک بھی پہنچا دئیے تھے تاکہ دشمن کوئی شیطانی کھیل کھیلنے کے بارے میں سوچنے کی بجائے دوسری جانب بھی الجھا رہے۔۔

کورٹ کی ہیرنگ شروع ہوئی۔۔
یور آنر یہ کیس ہے ان چار پرائیویٹ ڈیڈیکٹوز کا جنھیں آج سے پچیس سال پہلے سچ بولنے کی پاداش میں جھوٹے الزامات میں پھنسا کر جھوٹے گواہوں اور ثبوتوں کو بنیاد بنا کر ملک غدار ثابت کیا گیا اور ان کے ساتھ قوم کے ایک وفادار سپاہی میجر عاصم کو حساس ادارے میں ہونے والی کرپشن کی نشاندہی کرنے پر اپنی لپیٹ میں لے لیا گیا۔۔
ماہ بیر کے سرسراتے لہجہ اور آواز سے کورٹ میں پن ڈراپ سائلنس چھائی ہوئی تھی۔۔
اس کے سامنے مخالف وکیل نے بولنے کی کوشش کہ مگر اس کے سامنے مخالف زرا پانی بھرتا ہی نظر آیا تھا۔۔
ہیئرنگ اچھی رہی۔عدالت کا وقت ختم ہوا تو چیف جسٹس صاحب نے اگلی ہیرنگ میں عدالت میں گواہ اور ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا۔۔

پاشا کھڑا ہوا۔ماہ بیر نے اپنی فائل اور چیزیں سمیٹیں۔۔وہ عدالت سے باہر نکلے تھے۔۔ پاشا ابراہیم اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے ماہ بیر کے اور اپنے خاص بندوں کے ساتھ باہر نکلا تھا جب کھرل اور کمینہ منیر چیمہ ان کے سامنے آئے۔۔
وہ خون خوار نگاہوں سے پاشا ابراہیم کو دیکھ رہے تھے جس کے اطمینان میں خاطر خواہ کمی نہیں آ رہی تھی۔
وہ بلکل اس کے سامنے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا تھا۔۔

“ترس آتا ہے تم پر پاشا ابراہیم یا سو کالڈ
Executioner
،، تم لوگوں کا پھر سے کیا حشر ہونے والا ہے تم جانتے نہیں،، جو ہم سے پھر سے الجھنے چلے ہو،، اگر تمھیں یہ لگتا ہے کہ میری طاقت کم ہو گئی ہے تو یہ تمھاری غلط فہمی ہے،، تمھیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟
کھرل کا لہجہ ہتک آمیز تھا۔
“جو تمھارے سامنے کھڑا ہو کر یہ کہے کہ مجھے تمھاری گیڈر بھبھکیوں سے ڈر نہیں لگتا تو یا تو وہ پاگل ہو گا یا ظاہر ہے
Executioner
ہی ہوگا،، تو اب جو تمھارے سامنے کھڑا ہے وہ پاگل جلاد ہے تو تم تو اب اپنی خیر مناؤ،،، پاشا نے اطمینان سن گلاسز پہنتے کہا ماہ بیر بھی مسکرایا، تو سامنے والوں کو آگ لگی۔

“چلو ابھی یہیں اسی جگہ سامنے کھڑے ہو کر چیلنج کرتے ہیں کہ اگلی ہئیرنگ میں جو ثبوت اور گواہ پیش کرنے والے ہو وہ کبھی عدالت تک نہیں پہنچ پائیں گے،،ہم پہنچنے دیں گے تو تب ناں، چاہو تو ریکارڈ کر لو،،، یا لکھ کر لے لو پاشا ابراہیم،، وہ کہتے ہاتھ پر ہاتھ مارتے مکروہ قہقہہ لگا کر ہنسے تو پاشا پھر مسکرایا۔
ُ
بھونکتے رہو،، کیونکہ بھونکنے میں نا دماغ لگتا ہے نا اینرجی ویسٹ ہوتی ہو،، پاشا کہتا ماہ بیر کے ساتھ شان سے آگے بڑھ گیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے

پھر سے پورا ڈیڈھ ماہ ہو چکا تھا انھیں وائٹ پیلس سے گئے۔۔مفرا بھی وائٹ ہیکس واپس لوٹ آئی تھی ۔ وہ آ کر اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گئی تھی۔مگر اکثر دل میں ایک ہوک سی اٹھتی۔۔کیا تھا وہ شخص جس کی قربت نے دنیا بھلا دی تھی وہ ایک ہفتہ جنت نظیر وادیوں میں اس کی محبت کی بارشوں میں بھیگتے کیسے گزرا پتہ ہی نا چلا۔ کیا تھی اس کی قسمت بھی ہمیشہ ادھی ادھوری خوشیاں مقدر میں لکھ دی جاتی تھیں ۔۔اب جب روم روم اس کا نام پکارتا تھا تو ناصرف اس سے دور ہو گئی تھی بلکہ اس کی شخص کی زندگی کی مسٹری وہ ابھی تک حل نہیں کر پائی تھی کہ آخر اصل میں وہ ہے کون ۔۔

اور ان میں سے کوئی بھی تو نہیں لوٹا تھا۔ جانے کن گورکھ دھندوں میں کھوئے تھے کہ کسی نے پلٹ کر خبر تک نہیں لی تھی۔
فجر دن میں ان کے ساتھ ساتھ ہنستی بولتی تھی۔ مگر رات کی تنہائیوں میں چھپ چھپ کر روتی تھی۔۔
اس حالت میں اسے تنہا چھوڑ کر جانے والے نے ایک بار بھی اس کے بارے میں نہیں سوچا تھا شاید۔۔

رواحہ اپنے کمرے میں تکیے میں منہ دئیے ایک ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھے بوجھل طبیعت کے ساتھ لیٹی آنسو بہا رہی تھی۔۔اپنے وجود میں آنے والی خوشگوار تبدیلی وہ محسوس کر چکی تھی۔۔ اس بے مہر ظالم نے جا کر ایک فون کال کرنے کی بھی کوشش نہیں کی تھی نا ہی اسے بتا کر گیا تھا کہ کہان اور کیوں جا رہا ہے اور کب لوٹے گا۔
تبھی دروازہ کھول کر منی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔ اور اسے حسب معمول تکیے میں منہ دئیے روتے دیکھا تو اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔۔
مارش میلو،،، کیا ہوا؟ منی نے اس کے گھنے ریشمی بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔
کیوں منی،، آخر کیوں کرتے ہیں وہ میرے ساتھ ایسا،، جھوٹے ہیں وہ،، جھوٹ بولتے ہیں،، محبت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں ،،کوئی محبت نہیں ہے انھیں مجھ سے،، کوئی پرواہ نہیں ہے انھیں میری،، وہ پھٹ پڑی۔ یہ جانے بغیر کہ اس کی یہ گوہر افشانیاں نا صرف کوئی سن رہا ہے بلکہ اس کے ماتھے پر گہرے بل بھی لا رہا ہے۔۔

نہیں کرو مارش میلو،، وہ سنے گا تو اس کو برا لگے گا،، منی نے اسے آگاہ کرنا چاہا کہ وہ ہر وقت ہر پل کسی کی نگاہ میں ہے۔۔
منی آخر میں پوچھتی ہوں کہ وہ چاہتے کیا ہیں ؟ کرتے کیا ہیں؟ جاتے کہاں ہیں؟ مجھے ان سوالوں کے جواب کبھی ملیں گے؟ وو جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہی تھی تبھی باہر سے آروشے کی چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں تھیں وہ دونوں باہر لپکیں۔۔

آج آروشے نے رو رو کر پورا وائٹ پیلس سر پر اٹھایا ہوا تھا اسے ہر حال اور ہر قیمت پر اپنی علیزے آپو سے بات کرنی تھی۔ اور تو اور اس نے دو دن سے کچھ کھایا بھی نہیں تھی۔۔ رواحہ اور منی اندر کا سب کچھ بھلائے اب آروشے کی جانب متوجہ تھیں۔

اور یہ آروشے والی بات ان تک ناں پہنچتی یہ تو ناممکن تھا۔ ایشان بہت غصے میں اور ٹینس تھا۔ ایک تو اس کی وجہ سے اپنا کام سہی طرح سے نہیں کر پا رہا تھا اور دوسرا اس کی فکر بھی تھی۔۔
تبھی وائٹ پیلس میں پڑا لینڈ لائن فون چنگھاڑا تھا۔۔

زمل نے فون اٹھایا تو ایشان تھا۔ انھیں خوشگوار حیرت ہوئی۔
ایشان میرے بچے کیسے ہو اور سب،،
مام،، وقت نہیں میرے پاس بہت ضروری کام میں بزی ہوں آروشے کو فون دیں۔ ایشان کا سنجیدہ سا لہجہ، زمل نے روتی آروشے کو فون تھایا۔۔
اس نے سوالیہ نگاہوں سے سوں سوں کرتے فون تھام لیا۔
ہیلو،، کانپتی آواز میں پوچھا گیا۔

آروشے واٹس پرابلم ود یو؟ہاؤ ڈئیر یو؟ تم اپنے ساتھ ایسا کیسے کر رہی ہو؟ کھانا کیوں نہیں کھارہی ہو؟ اور یہ سب؟ ایشان نے سنجیدگی سے پوچھا اس کی آواز سنتے ہی اور اتنے دنوں سے جو ایک بڑی خوشخبری سینے میں چھپائے گھٹ رہی تھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
ایشان نے اپنے لب کچلے۔۔ وہ پوچھتا رہا مگر وہ روئے گئی تو زمل نے اس کے ہاتھ سے فون لے لیا۔۔
مام،، آپ ایسا کریں آروشے کو علیزے کی ڈیتھ کا بتا دیں،، ایشان نے سنجیدگی سے کہا جو وہ درد اسے دینے والا تھا اس کو کیسے تڑپتے بلکتے، روتے سسکتے دیکھے گا۔۔ تبھی یہ کٹھور فیصلہ لیا تھا اس نے ۔۔

ایشان،،، زمل شش و پنج میں مبتلا ہوئی۔
پلیز مام،، اپنے بیٹے کا اتنا سا بھی کام نہیں کر سکتی ہیں آپ؟ اس نے ایموشمل بلیک میل کیا۔۔
زمل کو اس کے کہے کے مطابق کرنا پڑا تب وائٹ پیلس آروشے کی چیخوں سے گونجا تھا اور وہ غش کھا کر بے ہوش ہو گئی۔ ایشان نے اپنے کان اور اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں جیسے۔۔

منی آروشے کو اٹھا کر اس کے روم میں لے گئی۔۔ وائٹ پیلس میں اس طرح کی ایمرجنسی کے لئے سونیا ہر وقت ان کے پاس موجود تھی اب بھی اسی نے آروشے کو چیک کیا تھا جب سونیا نے زمل کو ایک خوشخبری سنائی۔۔ وہ خوش تو بہت تھی مگر اب آروشے کو سنبھال پانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا کیونکہ اہنے بےوقوف الو کے پٹھے کی وجہ سے اسے اس نازک صورتحال میں وہ اتنا بڑا غم دے بیٹھی تھی۔ تبھی اس گدھے کو کوس رہی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رات کے دو بجے ہر طرف ہو کا عالم تھا رواحہ جو کہ دن میں اتنا روئی تھی اب تو آروشے کے دکھ کی وجہ سے مزید سوگواریت طاری ہو گئی تھی۔۔ آروشے کی جانب سے ملنے والی گڈ نیوز نے سب کو خوش بھی کیا تھا۔۔ مگر اس کے دکھ نے رواحہ کو مزید دکھی کر دیا تھا۔ اب بھی آنسو بہاتی وہ اپنے پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھے رو رہی تھی۔

یہ جانے بغیر کے ایک سیاہ ہیولہ اپنے موبائل میں اس کی ایک ایک ادا دیکھتا رات کے اندھیرے میں وائٹ پیلس داخل ہوا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا آبزرو کر رہا تھا دو تین دن سے وہ کیوں بار بار یہ عمل دہرا رہی تھی ماہر سوہم خان الجھن میں تھا۔۔ کسی کے کسے بل نکالنے تھے تبھی رات کے اندھیرے میں ماہر، ماہ بیر، اور آریان وائٹ پیلس داخل ہوئے تھے۔۔
وہ اپنے روم کی طرف آیا۔ دبے قدموں روم میں داخل ہوا تو ملگجے اندھیرے میں معمول کے مطابق گئے رات کو ان گونجتی سسکیوں نے اسے جبڑے بھینچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ آہستگی سے چلتا لاک لگاتا بیڈ تک آیا۔۔ کچھ بھی بولے بغیر اس کے بہت قریب نیم دراز ہو گیا۔۔

وہ اس کا لمس پاتے ہی، اس کی موجودگی محسوس ہی بہت ناراضگی سے خود میں سمٹ گئی اور اس سے پرے کھسکنے کی کوشش کرنے لگی۔۔تبھی گرین مونسٹر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سختی سے خود میں بھینچا تھا۔۔
اتنی غلطیاں کر چکی ہو مارش میلو،، کہ تمھیں سزا دینے مجھے خود آنا پڑا،، اب بولو جو دوپہر منیب کو بولا تھا،، میں تمھارے ان ہونٹوں سے سننے آیا ہوں،، وہ انگھوٹے سے اس کے گداز، لب سہلاتا بولا ۔۔
کک،، کیوں آئیں ہیں اب آپ،، کس لیے،، وہ پھر سسک پڑی آنسوؤں کا پھندا سا گلے میں لگ چکا تھا۔تبھی بات پوری نہیں ہو پائی ساتھ ساتھ شدید مزاحمت کرتے اس نے اس مونسٹر سے دور جانا چاہا۔۔۔مگر یہ ایک ہرنی کی ایک شیر کے سامنے مزاحمت تھی۔تبھی وہ ایک ہی جھٹکے میں اسے اپنے سینے سے لگا کر اس کے ہاتھ کمر پر باندھے اسے بےبس کر چکا تھا۔۔
ماہر نے جھک کر وہ آنسو اپنے لبوں سے چنے۔۔
مم،، ماہر،، رواحہ کی بات پوری نہیں ہو پائی تھی۔ آج اس کے تیور بڑے جارحانہ تھے۔۔

رواحہ کو لگا آج وہ ہونٹوں سے اس کے جسم سے جان کھینچ لے گا۔۔ وہ سینے میں سانس اٹکنے کی وجہ سے بری طرح مچلی تب ماہر نے اس آزادی بخشی تو وہ اس کے سینے پر ہی گر کر گہرے سانس بھرنے لگی۔۔اس کے ریشمی بالوں کی آبشار نے ماہر کے کشادہ سینے کو ڈھانپا تھا۔۔ تب ماہر کے ہاتھ نے اس کے کندھے سے اس کی شرٹ نیچے کھسکائی تھی۔۔آج وہ سہی معنوں میں اسے مونسٹر ہی لگ رہا تھا جو رواحہ کی پرواہ کیے بغیر بس اپنی ہی منمانیاں کیے جا رہا تھا۔ ماہر نے اس کے کندھے پر اپنے لب رکھے رواحہ نے گھبرا کر اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی۔۔

مگر وہ کندھے سے اس کی بیوٹی بون تک کا سفر بڑی تیزی سے کر چکا تھا۔ کمر پر بندھا ہاتھ جیسے جسم میں پیوست ہو رہا تھا۔ آج اس کے لمس اور قربت میں کتنا جنون کتنی شدت و دیونگی تھی یہ وہ اچھی طرح جان چکی تھی تبھی بے حال سی ہوتی اس ظالم شخص سے پناہ مانگنی چاہی،،
آئم سوری،، ممم،، مہر پلیز،، رواحہ کے آنسو اس کے سینے میں جزب ہوئے۔۔
مگر اب کچھ فائدہ نہیں تھی۔ وہ اس مونسٹر سے خود ہی الجھی تھی تو اب بھگتا بھی تو اسے ہی تھا۔ وہ جو اسے ایسے نرمی سے چھوا کرتا تھا کہ کہیں وہ مارش میلو کی طرح اس کے ہاتھوں ضائع نا ہو جائے آج سارے لحاظ بھلائے اسے پور پور اپنی شدتوں کی بارش میں بھگو رہا تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آریان اپنی مام سے مل کر اب شفا کی کھڑکی سے اس کے روم میں داخل ہوا تو ایک اور سرپرائز اس کا منتظر تھا۔۔ شفا میڈم روم میں نہیں تھی۔۔اس کا کیا مطلب تھا؟
یہ ہو سکتا تھا کہ اس کہ پھپھو اور وہ کزن واپس چلے گئے ہوں اور وہ دوبارہ حسن مینشن چلی گئی ہو۔۔
افففففف اس نے اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔۔ بہت کم وقت کے لئے یہاں آیا تھا اور اب یہ۔۔

اففف یہ لڑکی،، اس نے برا سا منہ بنایا۔ مگر ان کے گھر جا کر بھی شرف ملاقات حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔ وہ فورا کھڑکی سے باہر کود کر وائٹ پیلس سے نکل کر حسن مینشن آیا ۔۔
راستوں کا تو خود ہی محترمہ بتا چکی تھی۔۔ وہ چپکے سے اس کے روم میں داخل ہوا جو بڑے مزے سے بیڈ پر لیٹی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔۔

وہ اس کے قریب آیا۔۔ وہ بہت گہری نیند میں تھی۔
آریان اس کے قریب بیٹھا کافی دیر اسے دیکھے گیا۔۔ پھر اس کے پاس چٹکی بجائی مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی ۔۔ اس کی بکس اور پیپرز بیڈ پر ہی بکھرے تھے شاید پڑھ کر لیٹ نائٹ سوئی تھی تبھی نہیں اٹھ رہی تھی۔ آریان کو شرارت سوجھی۔۔

تبھی اس کے پاس پڑا پین اٹھا کر اس کی گال پر ایک چھوٹی سی چھپکلی بنا دی تھی اور چھپکلی کے پیٹ کی بجائے سکیلٹن بنا دیا یعنی فاقے زدہ کا لوگو(logo) لازمی تھا۔۔
وہ گہرا مسکرایا اور ایک سلگتا لمس اپنی خود کی بنائی گئی پینٹگ پر چھوڑا۔۔
I miss you a lot screw Lizard,,,,,
اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔ کان کہ لو کو چوما اور وہاں سے سرد سی آہ بھر کر نکل آیا۔۔ ہاں مگر اسے نکاح کی رات وال ویڈیو سینڈ کرنا نہیں بھولا تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر کب سے اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے لئے چاکلیٹس،، ریڈ روزز کا بوکے اور جانے کیا کیا لایا تھا مگر وہ روئے گئی مگر کچھ بول نہیں رہی تھی۔۔خود کو تو ہاتھ بھی نہیں لگانے دے رہی تھی۔۔ وہ زرا قریب آنے لگتا تو وہ بدک جاتی۔۔
فجر پلیز،، سوری یار،، اچانک جانا پڑا،، اس نے جھوٹ بولا۔۔
مر گئی فجر،، آپ،،

شٹ اپ فجر،،، وہ دھاڑا،، کیا بکواس کر رہی ہو،، خبردار جو منہ سے ایسے لفظ نکالے۔ وہ جو اتنے نازک مرحلے سے گزر رہی تھی۔ چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی تھی۔ پاؤں پر ورم،، بکھری حالت اور اب اپنے منہ سے ایسی بدفعل باتیں نکال رہی تھی ماہ بیر دہل ہی تو گیا تھا۔۔تبھی اب سارا لحاظ ایک جانب رکھے اس کی جانب بڑھا تھا۔۔
اس کے بہت قریب ہو کر اس کا بکھرا وجود بانہوں میں بھرنا چاہا مگر وہ پھر مچلی۔
چھوڑیں مجھے،، خبردار مجھے چھوا،، فجر سسکی۔
تمھیں کون چھو رہا ہے میں تو اپنی پرنسس سے ملنے اس کے پاس آیا۔ اس نے بے شرمی سے اس کے ممتا بھرے وجود پر اپنے لب رکھے۔۔
ماہ بیر بہت برے ہیں آپ،، فجر نے اس کے سینے پر مکے برسائے۔
اتفاق سے تھوڑا بے شرم بھی واقع ہوا ہوں،، ماہ بیر نے اس کی دونوں کلائیوں کو نرمی سے فولڈ کر کمر سے لگایا اور اس کو اپنے سینے سے۔۔

وہ اس کی جانب شکایتی نگاہوں سے دیکھے گئی۔۔
کیا دیکھ رہی ہو میریجان،، ماہ بیر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
آپ ایسے مجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اگر ہیچجے سے مجھے کچھ،،،
فجر،،، وہ پھر غرایا۔۔
خود جو مجھے چھوڑ کر جاتے ہیں اور مجھے تو بولنے تک نہیں دے رہے سوچیں میرا کیا حال ہوگا آپ،،،
کچھ عرصے کی بات ہے میری جان،، برداشت کر لو،، پھر ہمیشہ تمھارے پاس رہوں گا آئی پرامس،، ماہ بیر نے اسے خود سے لگایا اس نے ہھر بولنا شاہا تو ماہ بیر نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی تب فجر نے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔۔

اگلی صبح ازان کے وقت وہ چلے گئے،، پھر انھیں ادھورا انھیں سوتا چھوڑ کر،،ان کی باتیں ادھوری چھوڑ کر،، ان کی باتیں سنے بغیر،، جو وہ کہنا چاہتی تھیں۔ خاص کر رواحہ جسے پور پور محبت کی بارش میں بھگویا مگر یہ بھی نا سنا کہ وہ سب سے پہلے جو خبر اسے سنانا چاہتی ہے ابھی تک کسی کو نہیں بتائی تھی۔۔ آنے والے کی دادی کو بھی نہیں ۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اج کورٹ کی تیسری سنوائی تھی اور عدالت میں تمام ثبوت اور گواہ پیش کیے جانے تھے۔۔
اپارٹمنٹ سے ماہر ، ایشان اپنی گاڑی میں نکلے تھے۔ ان کے آگے پیچھے تین گاڑیان اور تھیں۔۔
رخ عدالت کی جانب تھا۔ آج جو گواہ اور ثبوت پیش کیے جانے والے تھے تو یقینا فیصلہ ان کے حق میں آنے والا تھا۔
شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی گاڑیاں اپنی منزل کی جانب گامزن تھیں۔

تبھی ان کے تعقب میں آتی گاڑیاں ان کے دائیں بائیں سے گزری تھیں۔ وہ لوگ اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔۔
تبھی عدالت جاتی ان تین گاڑیوں میں بم بلاسٹ ہوئے تھے جن کی آواز، دور دور تک سنائی دی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓