No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💣💣
ماہر دھیمے قدموں سے چلتا ہاسپٹل کے اس پرائیویٹ روم میں داخل ہوا تھا جس میں ابھی ابھی اس کی زندگی کو نیم جان حالت میں شفٹ کیا گیا تھا۔۔
وہ بیڈ کے قریب آیا۔ شدت ضبط سے بے حال ہو چکا تھا۔ وہ جو نیم جان گہری غنودگی میں تھی اپنے آس پاس ایک مخصوص خوشبو اور آہٹ پا کر بڑی شدت سے چاہا تھا کہ آنکھیں کھول کر اسے اپنے پاس دیکھے مگر لاکھ کوشش کے باوجود آنکھیں نہیں کھول پائی تھی۔
وہ بیڈ پر اس کے پاس بیٹھا۔ اس کے ارد گرد بیڈ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اس کے چہرے پر جھکا تھا۔
رواحہ نے وہ گرم مہکتی سانسیں غنودگی میں بھی اپنے چہرے پر محسوس کی تھیں۔ اور پھر گرم نمکین قطرے اس کے چہرے پر گرے تو رواحہ کی روح بے چین ہوئی۔
ماہر نے لال انگارا آنکھوں سے اس ظالم بے وقوف لڑکی کو دیکھا جس کی ایک نادانی اور ناسمجھی نے اس سے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چھین لی تھی۔ وہ جھکا اور اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔
معاف نہیں کروں گا تمھیں رواحہ ماہر سوہم خان،، کسی صورت نہیں،،کڑی سزا دوں گا تمھیں ،،اپنی نادانی میں بہت بڑا نقصان کر چکی ہو میرا،، اپنے شوہر پر بھروسہ اور اعتبار نا کرنے کی سزا بھگتنی ہے تمھیں،، میرے بچے کی جاں کی رائیگانی کا حساب لوں گا تم سے،،
اس کے ایک ایک لفظ میں کرب و اذیت کا جہاں آباد تھا۔ رواحہ غنودگی میں کسمسائی جیسے اسے کچھ کہنا چاہتی ہو اسے روکنا چاہتی ہو،، مگر وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اس کو دیکھتے اپنے قدم پیچھے لیے۔۔
اس سے پہلے غم وغصے سے کلیجہ پھٹ جاتا وہ روم سے تیزی سے نکلا۔ منی جو باہر کھڑی تھی اسے اتنی تیزی سے جاتے دیکھ اس کے پیچھے لپکی۔
سامنے سے آتے سوہم اور روحا بھی اسے تیزی سے جاتا دیکھ چونکے تھے۔۔
“کدھر جا رہے ہو ماہر،، روحا تڑپی۔ اسے اس حالت میں چھوڑ کر مت جاؤ،، مانا کے اس بچی سے نادانی ہوئی مگر اس نے ماں ہوتے ہوئے اپنا بچہ کھویا ہے،، ماہر مت دو اسے اتنی بڑی سزا،، روحا نے کہا مگر وہ خاموشی سے تنی رگیں اور بھنچے جبڑے لیے کھڑا زمین کو گھورے گیا۔۔
کدھر جا رہے ہو ماہر؟ سوہم نے اس کے خطرناک تیور دیکھ پوچھا۔
پاشا ڈیڈ کے پاس جا رہا ہوں ڈیڈ،، آپ بھول گئے شاید، کے ہمارا کام ابھی ادھورا ہے،، وہ سنجیدگی سے بولا مگر سوہم خان کی جانب دیکھنے سے گریز ہی کیا۔
وہ ہم دیکھ لیں گے ماہر،، تم اب اس بچی کے پاس رہو جس نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے،، سوہم نے کہا تو ماہر نے شاکی نگاہوں سے اپنے ڈیڈ کو دیکھا۔۔
تو پھر اسے اس بات کا بھی سوگ منا لینے دیجئے ڈیڈ کیونکہ اس نے مجھے بھی کھو دیا ہے،، وہ کہتا رکا نہیں چلا گیا۔۔ روحا نے اسے روکنا چاہا مگر سوہم خان نے منع کر دیا۔
جانے دو اسے روح،، روٹھ کر جائے گا کہاں؟ آخر یہیں لوٹے گا ،،وقتی غم وغصے میں ہے،، جانے دو،، سوہم نے اسے منع کر دیا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اگلے دن رواحہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تھیں۔ اپنے ارد گرد دیکھا سب اپنے اور مہربان چہرے دیکھائی دئیے۔ مگر ایک وہی نہیں تھا جس کی آہٹ کو بھی ترس گئی تھی۔۔
اپنے وجود پر غور کیا تو ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہو جانے کا اندازہ ہونے پر پورے ہاسپٹل میں اس کی آہیں اور سسکیاں گونجی تھیں جو کسی نے سنیں تو تھیں مگر شدید قسم کا بے حس بن گیا اب جب اس کو سزا دینے کا فیصلہ کیا تھا تو نارسائی اور ہجر کا پہاڑ اپنے سینے پر بھی تو رکھنا تھا۔۔
اسی دن شام کو ڈسچارج کر کے اسے وائٹ پیلس واپس لایا گیا تھا۔ اور اب وہ اپنے بیڈ پر لیٹی خالی خالی نگاہوں سے چھت کو گھورتی برسوں کی مریضہ لگ رہی تھی۔ جب منی سوپ کا باؤل ہاتھ میں تھامے اندر داخل ہوئی۔۔
اندر آ کر اسے سہارا دے کر تکیے پر نیم دراز کیا اور دھیرے دھیرے اسے سوپ پلانے لگی۔۔
سنو منی،، وہ ہاسپٹل مم،،، میں آئے تھے ناں،، رواحہ نے پوچھا۔ منی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
ناراض ہو کر چلے گئے ناں مجھ سے،، رواحہ نے پوچھا تو
اونہہہہہ،،،،، اس نے مبہم سا جواب دیا رواحہ بلکل خاموش ہو گئی۔۔ اب اسے چپ ہی لگنی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ماہ بیر دھیرے سے اپنے روم میں داخل ہوا تھا۔ سب فجر کے آس پاس تھے۔ کل سے ماہ بیر کو اس نے اچھے خاصے عذاب میں جھونکا ہوا تھا کہ اس نے ایک مرتبہ بھی اس سے ہمکلام ہونے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔
کافی دیر ہو گئی تھی جب سب آہستہ آہستہ اپنے اپنے روم میں جانے لگے۔۔ ماہ بیر نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا۔۔ بیڈ کے قریب جا کر رحاب کی گود سے قریب سے اس گلابی گٹھڑی کو اپنی گود میں بھر کر جی بھر کر پیار کیا مگر
بڑی ماں پلیز،، میرے پاس رک جائیں،، میں کیسے سنبھالوں گی اسے یہ رونے لگا تو میں بھی رونے لگوں گی،، پلیز میرے پاس رک جائیں،، اس نے رحاب کو دیکھا کر رونی شکل بنا کر کہا۔۔ماہ بیر پہلو بدل کر رہ گیا۔
ٹھیک ہے فجر،، گھبراؤ مت میں تمھارے پاس ہی ہوں،، ایسا کرو ماہ بیر کسی اور روم میں چلے جاؤ،، میں یہیں فجر کے پاس رک جاتی ہوں ابھی اسے بےبی سنبھالنے کا تجربہ نہیں تو گھبرا جائے گی۔۔
جی بڑی مما،، اس نے دھیمے سے کہا اور ایک شکوہ بھری نگاہ اس ظالم لڑکی پر ڈالی جس نے خواہ مخواہ اسے خود سے دور کر کے خود ساختہ سزا کے عذاب میں جھونکا ہوا تھا۔۔
وہ بے حس بنی تکیے پر نیم دراز ہو کر آنکھوں پر بازو رکھ گئی۔ تب ماہ بیر نے بیٹے کو رحاب کو تھمایا اور روم سے نکلتا چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایشان اپنے روم میں داخل ہوا تو روم خالی تھا۔ اس نے سرد سی آہ بھری۔ تبھی فون رنگ ہوا۔ جےکے کا تھا یس کر کے کان کو لگایا۔
” ایشان مفرا تمھارے روم میں ہے آروشے کے پاس،،؟ جبران نے پوچھا تو ایشان کو ہنسی آئی۔۔
“اور میں فون کر کے پوچھنے والا تھا کہ روشے بےبی مفرا بھابھی کے پاس ہے،،؟ ایشان نے کہا تو جبران کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔
مجھے پتہ ہے یہ دونوں کدھر ہو سکتی ہیں،،؟ جبران نے کہا تو ایشان اپنے روم سے نکلا۔ ان دونوں کا رخ اپنی ماں کے کمرے کی جانب تھا۔۔
ہلکی دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئے تو وہ دونوں واقعی زمل کے ساتھ اس کے بیڈ پر بیٹھی تھیں۔ مفرا زمل کے سر میں مالش کر رہی تھی جبکہ آروشے زمل کی گود میں سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی۔۔ ان دونوں نے معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ایشان اور جبران اندر داخل ہوئے تو ان دونوں نے ہی پہلو بدلا تھا۔۔ آروشے نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیں۔۔
کیا ہو رہا ہے مما،، ایشان نے ہی بات شروع کی۔ نگاہوں کا فوکس وہ تھی۔
کچھ خاص نہیں،، ایسے ہی بس لیٹنے لگی تھی تو مفرا نے کہا مالش کردوں آپ کے سر میں،،
مفرا فری ہو کر روم میں آؤ،، مجھے بھی ایک خاص کام ہے تم سے،، جےکے زرا بے شرم واقعہ ہوا تھا تبھی دھڑلے سے بول بھی دیا مفرا نے پہلو بدلا۔
آپ وہ کام ادھر ہی مجھے بتا دیں میں کر دوں گی،، مفرا نے بھی سنجیدگی سے کہا۔ زمل کو ہنسی آئی۔ وہ بچی تو نہیں تھی سمجھتی تھی یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا تھا۔۔
جبران تو کھڑا بحث کر رہا تھا جبکہ ایشان اسے سوتا بنا دیکھ اپنے روم میں واپس لوٹ چکا تھا۔۔
میرے بھی سر میں درد ہے مفرا،، مجھے بھی مالش کروانی ہے،،اور ویسے بھی کچھ اور کام بھی ہیں جو روم میں جا کر بتاؤں گا،، اس نے مزے سے کہا۔ جلاد ہوں اور ڈھیٹ نا ہوں۔۔ ہو نہیں سکتا تبھی ماں کے سامنے اپنی زبان کے گوہر دکھانے سے باز نہیں آ رہا تھا وہ لال بھبھوکا چہرہ لیے اب جبران کو بری طرح گھور رہی تھی۔
جاؤ مفرا جا کر بات سن آؤ،، زمل نے کہا تو ۔
آپ چلیں میں آتی ہوں،، اس نے دانت پیس کر کہا تو جبران نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔ اور واپس چلا گیا۔۔ مفرا نے زمل کے بال سمیٹے اور کمرے سے باہر نکلی۔۔
مگر غصہ اس قدر تھا کہ اپنے کمرے میں آنے کی بجائے رواحہ کے کمرے میں چلی گئی۔۔
لیپ ٹاپ پر لاؤنج کا منظر دیکھ جبران کے ماتھے پر بل آئے تھے۔۔
ادھر ایشان بے حد بے چینی سے اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا تبھی فون رنگ ہوا۔ جےکے کا تھا اس نے مسکرا کر یس کر کے کان کو لگایا۔
کیا ہوا جے کے؟ ایش نے چھیڑا۔
اونہہہ لگتا ہے خواتین کے کسے بل اپنا جلادی روپ دکھا کر نکالنے پڑیں گے،، جےکے نے جل کر کہا۔
رائٹ کیسے؟ ایشان نے پوچھا کیونکہ معاملہ تو اس کی برداشت سے بھی باہر ہو چلا تھا۔
باہر آؤ،، جبران نے کہا تو وہ روم سے باہر آیا۔۔
مفرا نے رواحہ کو چیک کیا جو میڈیسن لے کر گہری نیند سو رہی تھی۔ اور منی اس کے سرہانے جاگ رہی تھی۔ تبھی ہلکی دستک دے کر کوئی اندر داخل ہوا۔ مفرا چونکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا اور بھونچکی رہ گئی مگر،،
کیا یار بھابھی اپنے ہبی سے ناراضگی ہے مجھ سے تو نہیں،، ایک تو میرے والی بھی ناراض ہے سر میں بہت درد ہے ایک کپ چائے تو بنا دیں پلیز،، آنے والے نے روانی سے کہا۔۔
اوکے ایشان چلیں،، میں بنا دیتی ہوں چائے،،
منی کو ہنسی ضبط کرنا دوبھر ہو گیا تھا کیونکہ مفرا تو ہونق بنی سر اثبات میں ہلا کر اس کے پیچھے ہولی تھی۔۔ جبکہ منی اچھی طرح جےکے کو پہچان چکی تھی۔۔
وہ دانتوں تلے لب دباتا آگے آگے ہو لیا۔۔ دونوں کچن میں آئے۔ وہ ڈائننگ ٹیبل پر براجمان ہو چکا تھا۔
ادھر ایشان پھر ناک کر کے زمل کے روم میں داخل ہوا تھا۔ آروشے اب بیڈ کراؤن سے لگی اداس سی نیم دراز تھی۔۔
زمل بھی سونے کی تیاری کر رہی تھی جب،
بھابھی، اپنے ہبی سے ناراض ہیں،، مجھ سے تو نہیں،، ایک تو میرے والی بھی ناراض ہے،، آپ ایک کپ کافی کا بنا کر دے سکتیں ہیں مجھے پلیز،،، اس نے بیچارگی سے کہا تو آروشے کو ناچار اٹھنا ہی پڑا جبکہ ایشان کے اس شوشے پر زمل نے پہلے حیرت سے پھر غصے سے ایشان کو گھورا۔ مگر وہ آنکھ ونک کرتا آروشے کے پیچھے ہو لیا۔
وہ لوگ لاؤنج میں آئے تھے جب بہت اچانک ایشان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے بازوؤں میں بھر لیا۔۔ اس کے لمس سے آروشے کو پہچاننے میں سیکنڈز نا لگے کہ یہ اس کا ایش ہی ہے اور اسے یقینا الو بنا چکا ہے۔ وہ بری طرح مچلی۔ مگر ایشان اسے اپنے روم میں لا کر ڈور لاک کر چکا تھا۔۔ وہ بول نہیں رہی تھی مگر سخت مزاحمت کر رہی تھی۔ پھر آخر پھٹ پڑی۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی اس طرح دھوکے سے مجھے یہاں لانے کی،، ہاو ڈئیر یو، کھولیں یہ ڈور،، مجھے مما کے پاس جانا ہے،، وہ غرائی۔
ہوووووو،، روشے بےبی نے مما کے پاس جانا ہے،،؟وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اپنے بے حد قریب کر کے دوسرے ہاتھ سے اس کی گال سہلاتا بولا۔ فی الحال تو ہبی اتنے ماہ بعد واپس لوٹا ہے اسے ٹائم دو،، پیار و محبت دو،، سکون دو،، تب اوروں کا سوچنا روشے بےبی،، سرگوشی میں کہتا وہ اس کی گردن پر جھکا تھا۔ کچھ دیر بعد ہی اس کی لو بائٹ کا نشان اس کی گردن پر آیا۔
ایش دور ہٹیں مجھ سے،، وہ اس کی بانہوں میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔۔
نو،، روشے بےبی،، بس تمھارا ایش ایک یہی کام نہیں کر سکتا،، لہجہ خمار آلود تھا۔
اونہہہہہہ اور اتنے ماہ سے کیا کر رہے تھے،، دور ہی تھے ناں،، تو اب دور ہی رہیں،، آروشے نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا۔مگر وہ اس کی کلائیاں جکڑ کر کمر سے لگا چکا تھا اتنے دنوں کے بعد اس نازک گداز وجود کی قربت پا کر وہ مچل گیا تھا تبھی آروشے کی یہ مزاحمت اسے بہت ناگوار گزر رہی تھی۔۔
سوری یار،،، مجبوری تھی ناں یار،،، مگر اب ہر پل ہر وقت میں تمھارا سایہ بن کر تمھارے پاس رہونگا آئی پرامس،،اینڈ سوری پلیز،، لہجہ صلح جو تھا۔ مگر وہ سسکتی اس کے شدت سے بےحال اسی کے سینے میں منہ دے گئی تھی۔۔
ایشان نے نرمی سے اسے خود میں سمیٹا۔ اور مہینوں کا وہ غبار دھل جانے دیا۔
آہہہہہہہہہہہہ،،،، آروشے کے منہ سے ایک سسکی سی برامد ہوئی تو وہ بے تحاشا چونکا۔
ہیے کیا ہوا آروشے،،، ایشان نے اس کا چہرہ تھام کر اپنی جانب کیا جس پر تکلیف کے آثار تھے۔۔ تب اسے احساس ہوا وہ کافی دیر سے اسے لیے دروازے کے پاس ہی کھڑا ہے۔ ایشان نے اسے اٹھا کر نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔۔ آروشے کو اپنے نیچے ڈھیر سارے ریپرز کی آواز آئی تو حیرت سے بیڈ پر دیکھا جو پورا چاکلیٹس اور اس کی فیورٹ مختلف چیزوں سے لدا پڑا تھا۔ وہ جو اتنے ماہ سے ٹینس تھی برے برے خیالات دماغ میں ہلچل مچاتے تھے کہ اتنی محبت کا عادی بنا کر وہ جانے کدھر غائب ہے یا وہ اکتا تو نہیں گیا اس سے،، یا اس کی جی بھر گیا۔ اب پھر اسے پرانے روپ میں دیکھ کر رگ و پہ میں سرشاری سی دوڑ رہی تھی۔۔ جبکہ مسلسل اس کے سوری بولنے سے بھی سکون مل رہا تھا اور یہ احساس تھا کہ واقعی کوئی مجبوری ہوگی۔
جبکہ ایشان اس کی ناراضگی کے چکر میں وہ اتنی اہم بات تو بھول ہی چکا تھا۔ اب نگاہوں کا فوکس ادھر تھا جہان آروشے نے اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔ آروشے کی نگاہ ایشان کی نگاہوں سے ہوتی ہوئی اپنے پیٹ پر پڑی جہاں کچھ دیر پہلے اسے اپنے جونیر جلاد سے کک پڑی تھی اور وہ درد سے دہری ہوئی تب اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ پیٹ پر رکھا تھا۔
آروشے کے چہرے نے لہو چھلکایا۔ اور فوراَ ادھر سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔
جبکہ ایشان اب زرا سا اس کے پیٹ کی جانب جھکا تھا۔۔
ہائے جونئیر روشے بےبی،، مائی ڈول،، میں تمھارا ڈیڈ،، بہت جلد ملیں گے،،تقریباً فائیو منتھ کے بعد،، بس اپنی مما کو زیادہ پریشان نہیں کرنا،، جیسے ابھی کیا تھا،، اور مما اور ڈیڈ کے پرائیویٹ مومنٹس میں تو بلکل بھی نہیں،، میرا پیارا بچہ،، یہ بول کر ایشان نے اپنے بےبی کو چوما تھا جیسے۔
آروشے نے چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا تو ایشان اس کی اس ادا پر فدا ہوا۔ وہ اس کے قریب کھسک آیا۔ جبکہ آروشے اب مسکراتی ان چاکلیٹس کے ڈھیر کہ جانب متوجہ ہو چکی تھی۔۔
تو میری جان میں یہ سمجھوں کہ میں نے منا لیا اپنی زندگی کو،، ایشان مسکرایا۔
سوچ کر بتاؤں گی ابھی تو جونئیر اور سنئیر روشے بےبی کو چاکلیٹس کھانے دیں،، وہ ایک ریپر کھولتی اپنے منہ میں چاکلیٹ رکھتی لاپروائی سے بولی۔
چلو مل کر کھاتے ہیں،، ایشان نے اس کے چاکلیٹ سے بھرے لبوں کی جانب دیکھ کر کہا۔
کیا مطلب،،؟ روشے کی بات پوری نہیں ہو پائی تھی جب وہ اسے مطلب اچھی طرح سمجھا رہا تھا۔
ایشان نے اس کا نازک گداز وجود نرمی سے خود میں سمیٹ لیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ جلدی جلدی میں اس کے ساتھ چلی آئی تھی مگر اب اس کی مخصوص پرفیوم کی خوشبو اور نگاہوں کی حدت سے بہت اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا یہ شخص ایشان نہیں جے کے ہے اس کا جبران کبیر ابراہیم،، جو اسے آسانی سے بے وقوف بنا چکا ہے مگر وہ اتنی جلدی اس پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی کہ وہ جان گئی ہے۔
مگر سامنے جے کے تھا جو اس کے ہاتھوں کی لرزش اور ماتھے پر بار بار آتے پسینے سے جان چکا تھا کہ وہ جان گئی ہے۔
مفرا نے چائے بنا کر اس کے سامنے کپ رکھا اور وہاں سے جانے لگی تبھی اس کی کلائی جےکے کی آہنی گرفت میں آئی تھی۔
جبران اپنی جگہ سے اٹھا۔ ایک ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھام کر دوسرے میں اس کی کلائی اپنے روم کی جانب آیا تھا۔ مفرا کا چہرہ سفید پڑا۔
چھوڑ دیں جبران نہیں تو اچھا نہیں ہوگا،، وہ غرائی۔ مگر سامنے جبران تھا۔
روم میں آ کر وہ ڈور لاک کر چکا تھا۔ اطمینان سے بیٹھ کر چائے پی۔ مفرا نے باہر جانے کی کوشش کی مگر ہمیشہ سے اس سے آسانی سے کھلنے والے ڈور نے آج اس سے جانے کیا بیر باندھ لیا تھا جو کھل کر نا دیا۔
تب وہ پاؤں پٹختی آ کر بیڈ پر اپنی سائیڈ لیٹ کر کمفرٹر میں دبک چکی تھی۔ جبران گہرا مسکرایا۔ (یعنی آ بیل مجھے مار)
جبران نے اپنے آرام دہ کپڑے پہن کر آیا اور لائٹ آف کر کے اپنی سائیڈ لیٹ گیا۔
مگر کچھ دیر بعد ہی مفرا کو اپنے پیٹ پر کچھ رینگتا محسوس ہوا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ جھٹکے سے اٹھی اور فورا لائٹ آن کی۔۔ مگر یہ کیا وہ تو دوسری جانب رخ کیے لیٹا تھا۔ مفرا نے اس کی پیٹھ کو گھورا۔
کیا ہوا بےبی،،
آ،، آپ نے مجھے چھوا،، مفرا نے کہا تو وہ مسکرا دیا۔
نو ایکچوئلی، تمھارے خود کے دل و دماغ میں یہی چل رہا ہے کہ میں ایسا کروں گا،، بٹ سی،، میں تو اپنی جگہ پر ہوں،، جبران نے اطمینان سے کہا تو مفرا کا دل کیا شرمندگی سے ڈوب مرے۔
تبھی جھنجھلا کر لائٹ آف کی اور سائیڈ لیمپ جلا دیا دوبارہ کمفرٹر اوڑھ کر لیٹ گئی۔۔
مگر پھر پیٹ پر کچھ سرکتا محسوس ہوا تو پھر گڑبڑا کر اٹھی اور لائٹ آن کی۔
مگر وہ تو پھر اسی پوزیشن میں لیٹا تھا۔ ” کہیں تمھیں پھر تو نہیں لگا کے میں نے تمھیں چھوا مفرا بےبی،، وہ دوسری جانب رخ کیے لیٹا ہی دانتوں تلے لب دبا کر بولا ۔
“نہیں مجھے ایسا کچھ نہیں لگا ،،مفرا نے تڑخ کر کہا اور پھر لائٹ آف کر کے لیٹ گئی۔۔
مگر کچھ دیر بعد ہی دوبارہ پیٹ پر کچھ رینگتا محسوس ہوا ۔ مگر اب کی بار وہ جی کڑا کر کے لیٹی رہی۔ مگر پھر جلد ہی اپنی کمر پر اس کے انگلیوں اور ہونٹوں کی پرشدت سی گستاخیوں سے وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ ہی اسے پریشان کر رہا تھا۔۔ مفرا نے بغیر کچھ بولے اس سے دور جانا چاہا مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ کمفرٹر میں آ کر مکمل اس پر قابض ہو چکا تھا۔
نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کا چہرہ اونچا کیا اور گردن پر دہکتے لب رکھے۔
شاید اب بھی آپ یہی کہیں گے کہ بس مجھے لگ رہا ہے کہ آپ مجھے چھو رہے ہیں،، وہ اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے درمیان بمشکل بول پائی۔۔
نو پنک روز،، اتنے دنوں کی دوری کا عذاب جھیلا ہے کہ اب خود کو تمھیں ،،،تمھاری روح میں اترتا محسوس کرواؤں گا،،
جبران نے کہتے اسے خود میں سمٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
نیکسٹ اپڈیٹ 3k لائکس پر ملے گی😷😒😬😞😞
