No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
سوہم اور جےکے ایشان کے روم سے نکل کر سیدھا لاؤنج میں آئے تھے ۔جہاں سب موجود تھے۔ جنھیں ماہر سوہم خان نے بلایا تھا۔
ڈیڈ جبران نکاح کرنا چاہتا ہے، سوہم نے سکون سے کہا، سب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
پنکی بھی گہری مسکرائی، اب وہ وقت قریب تھا جب یہ چاروں جلاد بھی کھونٹے سے بندھ جاتے۔
واؤ ماہر، تم نے جےکے کا ہی نام لیا ناں، پاشا نے چھیڑا۔
کم آن ڈیڈ، جلدی کریں ہم نے نکلنا ہے۔وہ جھینپتا نگاہوں کا زاویہ بدلتا بولا تو پاشا اور رحاب اٹھ کر اپنے روم میں چلے گیے تیار ہونے۔
پنکی نے بھی اثبات میں سر ہلایا کہ وہ تیار ہے۔
تم جاؤ، میں سب کے ساتھ آتا ہوں، ماہ بیر میرے ضروری کام سے گیا ہے وقت پر پہنچ جائے گا۔سوہم نے کہا تو وہ وائٹ پیلس سے نکلتا چلا گیتھے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
مفرا ایک ہفتے سے اس گھر میں تھی۔
آزاد فضاؤں میں آزاد پنچھی بنی گھومتی تھی۔نہیں جانتی تھی کہ وہ ابراہیم ہاؤس میں ہے۔ سونیا اس کے ساتھ رہ رہی تھی۔ سونیا نے اسے کیسے سمجھایا بجھایا یہ ایک الگ قصہ تھا۔ سونیا نے اسے بتایا تھا کہ ڈاکٹر جبران کو بھی نہیں پتا تھا کہ تم ہوسپیٹل سے کیسے غائب ہو گئیں۔ اور یہ کہ اب بھی اسے ڈاکٹر جبران نے ہی بچایا ہے۔
بند پڑے ابراہیم ہاؤس کو مفرا نے بہت خوبصورتی سے سجا دیا تھا۔
اس دوران نرما اور اپنے بھائی کی تو اسے یاد بھی نہیں آئی ۔وہ بھائی جو اتنا بے حس ہو چکا تھا کہ ایک مرتبہ بھی اس کا حال احوال پوچھنے نہیں آیا۔ تو اب اسے بھی پرواہ نہیں تھی کسی کی۔
وہ شاور لے کر ٹاول سے بال رگڑتی واش روم سے باہر آئی تھی۔۔ جب کچھ غیر معمولی سا محسوس ہوا۔سیدھی ہوئی تو سارا خون نچڑ کر چہرے پر آیا تھا۔کیونکہ سامنے ہی دیوار سے ٹیک لگائے ڈاکٹر جبران اطمینان سے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی۔
ڈاکٹر آپ یہاں؟ اسے حیرت ہوئی، بنا دستک دئے یوں کسی کے روم میں آنا۔ نہیں جانتی تھی یہ تو پورا گھر ہی سامنے کھڑے شخص کا تھا۔
ہممم،، مجھے ڈاکٹر جنت نے بھیجا ہے۔انھوںنے مجھ سے کہا کہ آپ کا نکاح ہوگا مجھ سے، آج، ابھی اور اسی وقت،،
جیییییی،،،، جبران نے اس کا سر پر بم پھوڑا، یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟
کیوں، آپ کو میں پسند نہیں ؟ جبران نے برا منایا۔
نن،،، نہیں،، ایسی،، کوئی بات نہیں، مِفرا نے جھجھکتے کہا۔
تو اس کا مطلب پسند ہوں، جبران نے اسے گہری نگاہ سے دیکھا۔
مم،، میں نے،، ای،،، ایسے کب کہا،، وہ بوکھلائی۔
پسند نہیں ہوں، ناپسند بھی نہیں ہوں تو پھر کیا ہوں؟ وہ بظاہر جھنجھلا کر بولا مگر آنکھوں میں ایک شریر سی چمک تھی۔جس کا صاف مطلب تھا کہ وہ اسے تنگ کر رہا ہے۔
ایک منٹ،، مفرا کو کچھ یاد آیا، ڈاکٹر جنت نے مجھ سے تو کوئی بات نہیں کی۔آپ سے کب بول دیا؟مفرا نے آبرو اچکا کر ان کا جائزہ لیتے ہوئے سر تا پا گھورا۔
مجھے تو کہا ہے ناں، وہ سکون سے بولا۔
مگر میں کیسے مان لو ؟
آپ کو لگتا ہے میں آپ کو آپشن دے رہا ہوں؟ جبران بھی اب آگے بڑھا، وہ چند قدم پیچھے ہٹی۔ وہ دیوار سے لگی تو جبران نے اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھے۔
آپ میرے ساتھ زبردستی ایسا نہیں کر سکتے۔۔مفرا نے بغیر ڈرے اسے گھورا۔
رئیلی،، اور کون روکے گا مجھے، ویسے اس گھر میں رہنے کی بات ہے ناں تو ٹھیک ہے ایسے ہی رہ لیتے ہیں ۔۔۔وہ لاپروائی سے بولا
کیا،،،،،؟ مفرا کی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں۔مگر تبھی جبران کا فون رنگ ہوا تھا۔
جو کہ اس نے یس کر کے اس کی جانب بڑھایا۔مفرا نے فون تھام کر کان سے لگایا تو ڈاکٹر جنت تھیں۔اور جو انھوںنے اس سے کہا۔
وہ ماننا اس کے لئے بہت مشکل تھا۔
کیسے اپنی ساری زندگی ایک اجنبی انجان شخص کے ہاتھوں میں سونپ دیتی۔وہ بلکل بھی رضامند نہیں تھی۔مگر اب جبکہ اس کی مسیحا اس کی ہمدرد ڈاکٹر جنت نے بول دیا تھا تو اس کے پاس جیسے کوئی آپشن ہی نہیں تھا اور وہ یہ رسک اٹھانے کے لئے تیار تھی۔
مفرا نے خاموشی سے فون سامنے کھڑے خود کو گھورتے شخص کو دے دیا۔
وہ اب اس کی نظروں سے خائف جزبز سی کھڑی فرار کا رستہ تلاش کر رہی تھی۔
جبران اس کے صبیح معصوم چہرے میں وہ چیز تلاش کر رہا تھا جس نے اس مشہورِ زمانہ سفاک جے کے کو اپنا زر خرید بنا لیا تھا۔
تیار ہو جائیں، کچھ ہی دیر ہے، تیاری مکمل ہے، وہ اطمینان سے کہتا روم سے چلا گیا تھا۔
اب جب مفرا نے غور کیا تھا تو اپنے بیڈ پر شاپنگ بیگز رکھے نظر ائے تھے۔ اس نے جھجھکتے کھول کر دیکھا تو شاکنگ رنگ میں بہت ہی خوبصورت آنکھوں کو چندھیا دینے والی میکسی تھی، میچنگ سینڈل اور ہلکی پھلکی جیولری۔
اس نے سرد سی آہ بھری اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر میں سونیا کمرے میں داخل ہوئی۔
باراتی تو پہنچ بھی گئے، اور دلہن صاحبہ تیار نہیں، یہ کیا بھئی، سونیا نے اسے چھیڑا۔
شٹ اپ سونیا، مفرا نے اسے گھرکا،
اوکے بعد میں جلنا بھننا اب اٹھو اور یہ ڈریس پہن کر آؤ،جلدی، سونیا نے اسے ڈریس دے کر تقریباً واش روم کی جانب دھکیلا
پھر اس کے نا نا کرنے کے باوجود ہلکا ہلکا میک اپ کر کے شاکنگ لپ اسٹک بھی لگا دی۔
وہ چاندنی کی طرح دمک اٹھی تھی۔
سونیا بھی ایک مرتبہ تو حیران ہوئی تھی اسے دیکھ۔جب وہ انھیں ملی تھی تو برسوں کی مریضہ لگتی تھی۔مگر اب نظر نہیں ٹھہر رہی تھی۔وہ خود کو آئینے میں دیکھ خود میں سمٹی جا رہی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد سونیا اس پر چادر ڈالے اسے باہر لائی تھی۔۔وہ ایک نظر ہی دیکھ پائی تھی۔سب موجود تھے ۔ڈاکٹر جنت نے بھی شرکت کی تھی۔سخت نروس ہو رہی تھی۔
فکر مت کرو بعد میں انٹرو کروا دوں گی ابھی ریلیکس ہو کر بیٹھ جاؤ۔
وہ بیٹھی۔
نکاح شروع ہوا اور جلد ہی ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پا گیا۔
پاشا، ماہ بیر اور سوہم نے جبران کو گلے لگا مبارک باد دی۔
رحاب نے اسے ماتھے پر پیار دیا۔ اور پنکی نے ڈجہر سارے نوٹوں سے اس کی مظر اتاری۔
وہ پنکی کو اس فیملی کے ساتھ دیکھ حیران اور کنفیوز ہوئی ۔
جب سونیا پھر اس کے کان میں گھسی۔
تمھار سسرالی خاندان ایک مسٹری ہے، بعد میں آہستہ آہستہ سمجھ لینا ابھی چلو۔
سونیا اسے کمرے میں لے آئی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
باہر وہ خوش باش بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
آج سے کئی سال پہلے بھی وہ سب یونہی خوش باش تھے۔۔
سوہم خان کا بیٹا ماہر،
پاشا کی بیٹی میرال،
راسم کی بیٹی دانیہ، اور کچھ ہی عرصے بعد ماہ بیر پیدا ہوا
ابھی کبیر کے پاس کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ لیکن پانچ سال بعد ان کے ہاں جبران اور ایشان اور پاشا کے ہاں آریان نے جنم لیا۔
ماہر دانیہ اور میرال پندرہ سال کے تھے اور ماہ بیر چودہ سال کا
جب ان کے خلاف بہت بڑی سازش رچی گئی۔اور وہ سازش رچنے والے کوئی اور نہیں جنھیں وہ دردناک موت مار چکے تھے بادشاہ کا بیٹا چیمہ منیر بادشاہ، ڈفینس منسٹر اور ہیلتھ منسٹر شامل تھے۔ جن کی غداری کے ثبوت جلادوں نے اکٹھے کیا تھے اور ان کا مکروہ چہرہ چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے بے نقاب کیا تھا۔
انھیں دشمنوں کی سازشوں اور ملی بھگت سے ان پر بہت بڑا حملہ ہوا تھا اور بظاہر
Executioners
کو شکست ہوئی۔ اس سازش اور حادثے میں راسم اور فانیہ کی ڈیتھ ہو گئی۔
ماہ بیر کے زہن پر گہرا اثر ہوا تھا جب اسے یہ پتا چلا کے دشمنوں کی صف میں اس کی سوتیلی خالہ نایاب بھی شامل تھی۔جس کی بیٹی کے ساتھ فانیہ نے بڑی ہنسی خوشی اس کا نکاح کروایا تھا۔ یہ بات کافی حیران کن تھی کیونکہ بظاہر وہ تب زمانے کی ٹھوکروں میں رہ کر اچھی خاصی سدھر چکی تھی۔
دشمنوں کی نظروں میں وہ سب جلاد ختم ہو چکے تھے۔کیونکہ پورے وائٹ پیلس کو ایک دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔
بڑا مشکل وقت تھا وہ ۔جب وہ سب امریکہ میں چھپے رہے۔
پاشا نے بڑی مشکل سے اپنا خاندان سنبھالا تھا۔
اس حادثے میں روحا کو اتنی چوٹ لگی تھی کہ وہ کافی سال کوما میں رہی، جبکہ ریشماں پنکی اور باقی کہ ان کی شاگردیں اتنے عرصے حویلی میں بی جان کے اور فجر کے پاس رہیں۔
کافی وقت لگا دوبارہ سنبھلنے میں، وائٹ پیلس کو کہیں اور خفیہ جگہ شفٹ ہونے میں، دوبارہ پھر سے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال ان کا مقابلہ کرنے کے لئے طاقتور اور مضبوط بننے کی۔
پاشا رحاب کو لیے ، سوہم کے بیٹے ماہر اور ماہ بیر کے ساتھ پاکستان لوٹ آیا۔میرال اور دانیہ کی امریکہ میں ہی شادی کر دی گئی۔ پھر جبران اور ایشان بھی پاشا کے پاس آ گئے۔
جبکہ سوہم ،روحا، کبیر زمل اور آریان امریکہ میں ہی رہائش پزیر رہے۔
مگر اب آریان نے جب سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی وہ بضد تھا کہ پاکستان ہی جائے گا۔
سوہم کے بیٹے ماہر سوہم خان کے دل میں جو ان کی برباد ہونے کی آگ لگی تھی۔ اور اپنی ماں کی حالت سے جو دل میں غم و غصہ تھا۔ وہ اسے بےحس و پتھر بنا گیا تھا۔
اور اب وہ وقت تھا جب وہ پھر انبیٹ ایبل بن چکے تھے۔ جنھیں کوئی نہیں ہرا سکتا ہے۔کوئی شکست نہیں دے سکتا تھا۔
اب جبران کو چھیڑتے وہ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
شاندار سے لنچ کے بعد وہ سب وہاں سے رخصت ہوئے تھے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جبران آہستگی سے چلتا روم میں داخل ہوا تھا جب وہ آئینے کے سامنے کھڑی جیولری اتارنے کا شغل فرما رہی تھی۔۔
جبران کو تپ چڑھی، طیش کے عالم میں وہ اس تک آیا تھا۔اس پکڑ کر اپنی جانب گھمایا کمر پر گرفت آہنی تھی۔ وہ بوکھلائی۔
ارےےےے،،،چچ،چھوڑیں مجھے،،ی،،یہ کک کیا کر رہے ہیں؟
ابھی تو کچھ نہیں، ڈارلنگ، جبران نے اس کے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔
ہیے غور سے سنو، ابھی میں کچھ دیر کے لئے باہر جا رہا ہوں، ایک ضروری کام ہے، چینج مت کرنا، ہاں ہو سکے تو اپنے حسن کو اور سنوار لینا۔ آج جبران کا لہجہ خود بخود خمار آلود ہو چکا تھا۔مفرا کی سانس اٹکی۔
کیون،، کیوں،، میں تو کروں گی چینج، اور زہر لگ رہیں اس وقت آپ مجھے یوں دھونس جماتے، کان کھول کر سن لیں، یہ رشتہ صرف ڈاکٹر جنت کے کہنے پر جوڑا ہے میں نے، نہیں تو مجھے زرا برابر بھی اعتبار نہیں آپ پر، اسی لئے مجھ سے ابھی دس فٹ کے فاصلے پر رہیے گا ڈاکٹر، اسی لیے کیوں سج سنور کر بیٹھوں؟ میں تو چینج کروں گی۔
وہ تڑخ کر بولتی اس کی پوری بات سنے بغیر کچھ اور ہی سمجھتی اس کے بازوؤں میں مچلی۔
آں، ہاں، کر لینا چینج، اٹس اوکے، پھر میں دوبارہ اپنے ہاتھوں سے یہی پہنا دوں گا، آج تو گولڈن نائٹ ہے ناں تو سب چلتا ہے۔ وہ شرارت سے آنکھ ونک کر کے ہکا بکا اسے منہ کھولے دیکھے گیا۔
آپ ڈاکٹر نہیں ،بہت بڑے چھچھورے ہیں ،وہ پھر مچلی۔جبران اس خطاب پر گہرا مسکرایا۔
جو بھی سمجھو، مگر چینج مت کرنا، کہیں جانا ہے ہم نے،
کک،، کدھر،، مفرا کو خوف آیا۔
ایک بہت اسپیشل جگہ پر، ویٹ کرنا میرا اور آخری بار بول رہا ہوں چینج مت کرنا، نہیں تو دوسرا آپشن تو دے ہی چکا ہوں۔
وہ اس کے چہرے پر جھکا۔
مفرا کے چودہ طبق روشن ہوئے۔
مگر بندہ زرا شریف تھا۔ پھونک سے اس کے لب کو چھوتی لٹ کو پیچھے ہٹا کر کمرے سے نو دو گیارہ ہو گیا۔
پیچھے وہ دانت کچکچا کر رہ گئ۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ ٹریکنگ ڈریس اپنا سپورٹ بیگ کمر پر باندھے وائٹ پیلس کے سامنے سے گزر رہی تھی۔
نرالے کام تھے شفا کامران کے، لوگ صبح کو جاگنگ کرتے تھے اسے شام کو اس وقت یاد آیا تھا پارک میں جانا۔
پاشا کے ساتھ اس دن وائٹ پیلس میں اس نے خوب انجوائے اور ہنگامہ کیا تھا۔ پورا وائٹ پیلس گھوم کر بھی طبیعت سیر نہیں ہوئی تھی۔
واقعی ایک مسٹیریس پلیس تھی۔
جس میں عجیب سی کشش اور پراسراریت تھی۔وہ بہت اکسائیٹڈ ہوئی تھی۔
پنکی اور اس کی شاگردوں سے ملی ۔ان سے باتیں کیں۔ایک الگ قسم کا ایکپیرنس تھا جو حاصل ہوا۔
اب بھی قدم خود بخود وائٹ پیلس کی جانب اٹھے تھے۔
گیٹ تک پہنچے تو واچ مین اور گارڈز نے رستہ روک لیا۔
کدھر بیٹا جی، واپس جائیے، ادھر کہاں آ رہی ہیں، واچ مین نے جھڑکا۔
ہااااااااااا،، شفا کا منہ کھلا، اتنی بڑی مسٹیک، اوئی ماں، تم لوگ تو گئے پکا گئے،، وہ ڈرامہ کوئین الگ ہی دہائیاں دینے لگی۔
پتہ ہے ہینڈسم انکل پاشا کی کتنی بڑی والی لاڈلی گیسٹ ہوں میں ،اور اگر انھیں پتہ چل گیا کہ تم لوگوں نے مجھے اندر نہیں آنے دیا تو بینڈ بج جانی تم لوگوں کی، کیونکہ انھوںنے ہی فون کر کے مجھے یہاں بلایا، نہیں تو میں یہاں کیوں آتی، اور ویسے بھی آ چکی ناں میں ان کے ساتھ اندر، اور ان کی جان بھی بچائی تھی۔۔
وہ چھوٹی سی آفت اب کمر پر ہاتھ رکھے اتنی دیدہ دلیری سے جھوٹ بول رہی تھی کہ واچ مین اور گارڈ بھی اس کی بات پر ایمان لے آئے تھے کہ واقعی اسے پاشا سر نے بلایا ہوگا۔
اور وہ اپنی ہی ایکٹنگ پر عش عش کر اٹھی تھی۔
جھوٹ تو نہیں بول رہی لڑکی،، واچ مین نے آبرو اچکا ک اس آفت کو گھورا۔
اوکے، میں بات کرواتی ہوں، ہینڈسم انکل سے، وہ اب اپنی غائبانہ پاکٹوں میں ہاتھ مارنے لگی موبائل ڈھونڈنے کے لئے،
واچ مین اور گارڈز اسے اب بھی گیٹ پر روکے کھڑے تھے جب ان سب کی گاڑی گیٹ تک آئی۔
اس نے پنکی کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔
پنکی نے گارڈ کو اشارہ کر دیا کہ اندر آنے دو اسے۔
وہ تفاخر سے اپنی پونی ٹیل جھلاتی اندر داخل ہو گئی۔
وہ سب گاڑی سے اترے۔
پاشا نے اسے گھورا۔
بیٹا کیوں آئیں ہیں آپ یہاں، آپ کے پاپا نے منع کیا ہے تو،
جانے دیں ناں پاشا، بہت پیاری بچی ہے اور اس دن بھی خوب ہی رونق لگائی تھی ۔رحاب نے کہا۔
ارے ہاں ناں بہت پیاری ہے اور آفت اور دھماکہ بھی۔،اس کے بولنے سے پہلے ہی پنکی نے مسکرا کر کہا۔
جبکہ آفت اور دھماکہ کے خطاب پر وہ بھی شریر سی ہنسی ہنس
دی۔
ہنڈسم انکل پلیز اب ان گارڈ سے کہیں کہ مجھے مت روکا کریں اب تو میرا روز ہی آنا جانا لگا رہنا ہے ناں، اب دیکھیں میں جاگنگ کرنے وہاں پارک میں جاتی ہوں لوگ عجیب عجیب نظروں سے گھورتے ہیں میں یہاں آ جایا کروں گی ناں۔
یہ اتنےےےےےے بڑے لان میں خود بھی جوگنگ کروں گی اور سب کو کرواؤں گی۔
وہ پنکی کے بازو پر جھولتی چٹکی بجا کر بولی تو وہ بھی اس کے اوٹ پٹانگ بہانوں پر ہنس دئیے۔
اور سچ تو یہ تھا کہ وہ ان سب کو ہی بہت اچھی لگی تھی۔
پاشا مسکراتا اندر چلا گیا۔
بلکہ اب وہ ان کے کان کھانے میں زور شور سے مصروف تھی
اور اس آفت کے کہنے پر پنکی نے گارڈ کو بلا کر اس کے سامنے ہی بول دیا تھا کہ وہ بہت اسپیشل ہے اسے نا روکا جایا کرے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ماہر جبران اور ماہ بیر علیزے کی طرف آ رہے تھے۔
کیا اپ ڈیٹ ہے ماہ بیر، ماہر سوہم خان نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔
دونوں کراچی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں بزدل، ہر جگہ دیکھ لیا مگر کہیں نہیں ہیں، بائی ائیر لاہور گئے ہیں اور یہ بھی کنفرم ہے کہ وہ رستم اور منیر ہی تھے۔
ہممم،، مجھے لگا وہ رستم دام میں پھنس جائے گا مگر وہ منیر چالاک ہے ،کوئی بات نہیں آسان ہدف تو ماہر سوہم خان کو بھی پسند نہیں، کچھ اور سوچنا پڑے گا۔
وہ علیزے کے گھر پہنچ چکے تھے ۔اندر آئے تو وہ آروشے کے روم میں ہی تھی۔ جبران نے علیزے کے کچھ کرنے سے پہلے اسے بے ہوش کیا تھا۔
آروشے نے شور مچانا شروع کر دیا، گندے انکل،، گندے انکل ،،میں ایش کو بتاؤں گی،، وہ ڈشوم ڈشوم کرے گا تم لوگوں کو،، وہ خود بھی ہاتھ پیر چلا رہی تھی۔مجبورا سوہم کو اسے باندھنا پڑا۔
جبران علیزے کو لیے ہوسپیٹل کے لیے نکلا تھا۔۔ اور سوہم اور ماہ بیر آروشے کو لئے وائٹ پیلس کی جانب نکلے۔
جبران نے اسے ہوسپٹل ایڈمت کر دیا تھا۔خود ایک بہت ضروری کام کے لئے وہاں سے نکلا تھا۔
ماہ بیر اور سوہم وائٹ پیلس پہنچے تھے۔
وہ اس نازک سے وجود کو کندھے پر لادے ایشان کے روم میں داخل ہوا تھا.. پیر اور ہاتھ رسی سے باندھے ہوئے تھے اور منہ پر ٹیپ تھی۔۔آروشے بری طرح مچل رہی تھی۔۔
اس نے لا کر اسے صوفے پر گرایا تھا۔۔
وہ جو ابھی ابھی اتنے بڑے دھچکے کے بعد ہوش میں آیا تھا،،، ایک اچٹتی نگاہ اس گلابی وجود پر ڈال کر سوہم خان کی طرف دیکھا۔۔
تھنیکس برو،،،،، وہ مسکرایا،،، سوہم خان کبھی ہنستا نہیں تھا مگر آج وہ بھی کائی جمی آنکھوں سمیت مبہم سا مسکرایا۔۔
ایوری تھنگ فار یو مائی شیر،،،، وہ کہہ کر ایشان کا ماتھا چوم وہاں سے جا چکا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
