Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔۔ جب وہ ایک جگہ رکی اور اس میں رضیہ بیگم اتر کر سیف سوار ہوا۔۔ رضیہ بیگم نے اسے التجائیہ نگاہوں سے دیکھا کہ شاید وہ باز آ جائے مگر وہ بے حسی سے اگنور کر کے چلتا بنا۔
گاڑی کراچی کی شہری حدود سے دور جا رہی تھی جب گاڑی کو بریک لگی۔۔
اب کیا تکلیف ہے،، سیف جھنجھلایا؟

سر راستہ بلاک ہے،، ڈرائیور نے اطلاع دی۔
واٹ،، کیا بکواس ہے،، اس نے سامنے دیکھا مگر سچ میں راستہ بلاک تھا۔ بڑے پتھروں سے راستہ بلاک کیا گیا تھا۔ وہ گاڑی سے اتر کر نیچے آیا تو اب پتھروں کے پار اندھیرے میں ایک شخص منہ پر رومال باندھے گاڑی سے ٹیک لگائے اطمینان سے کھڑا نظر آیا۔۔ہیے یو،،،، ہو دا ہیل آر یو،، وہ دھاڑا۔۔
تب وہ گاڑی سے دھیمے دھیمے قدم چلتا اس کی جانب بڑھتا گیا ۔جب اندھیرے سے روشنی میں آیا تو سیف اسے اچھی طرح پہچان چکا تھا ۔۔

سیف نے دانت کچکچائے ۔۔ ایک مرتبہ پھر آریان پہنچ چکا تھا اس کا پلان چوپٹ کرنے۔۔
یو،، نام کے بوائے فرینڈ،، آج اگر خیرت کی ضرورت ہے تو ہٹ جاؤ سامنے سے ،،،نہیں تو ،،
کیا کرو گے نہیں تو؟ آریان نے دلچسپی سے پوچھا۔۔ اب سیف اور گاڑی میں بیٹھے اس کے دو آدمی آریان کی جانب لپکے تھے۔

مگر افسوس زخمی شیر سے الجھے تھے۔ آریان نے ان کی ہڈیوں کا سرمہ بنا دیا تھا۔ اور اس سیف کی بھی وہ درگت بنائی کے اسے چھٹی کا دودھ یاد آ جائے ،،جلد ہی وہ منہ اور ہڈیاں تڑوا کر سڑک پر پڑے کراہ رہے تھے۔
آریان اطمینان سے گاڑی کی جانب بڑھا ۔ گاڑی کا ڈور کھول کر اسے غور سے دیکھا۔۔ یہ لڑکی کیوں اتنی ضروری تھی کہ اس پر نظر رکھنی پڑتی۔۔
اور پھر جب اس کی کڈنیپنگ کی نیوز ملی تو وہ غصہ سے جیسے پاگل ہو گیا تھا۔۔تبھی چلا آیا تھا۔اسے باحفاظت گھر واپس لانے۔
آریان نے جھک کر اس کا چہرہ تھپتھپایا،، مگر وہ ٹس سے مس بھی نا ہوئی۔ تب آریان نے اسے بازوؤں میں اٹھایا اور گاڑی کی جانب لے کر بڑھنے لگا۔ تب سیف نے اس کا پاؤں دبوچا تھا ۔آریان کا میٹر شارٹ ہوا اور اس نے سیف کے سینے پہ ایک ٹھوکر رسید کی۔

اسے گاڑی میں لٹایا اور گاڑی نکالتا چلا گیا۔
اور تو کچھ نہیں سوجھا وہ ہوش میں نہیں آ کر دے رہی تھی تو آریان اسے لیے ہاسپٹل آیا تھا۔
اسے انڈر آبزرویشن دے کر وہ باہر نکلا تھا اور اپنے ڈیڈ کو فون کر کے ہاسپٹل بلایا تھا۔
کچھ ہی دیر میں پاشا ہاسپٹل میں تھا۔ وہ آریان تک پہنچا جہاں آریان ڈاکٹر ثنا سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
ان کے مطابق اسے جو کلوروفارم کی مقدار دی گئی ہے وہ حد سے زیادہ تھی اور اس نے بہت برا ری ایکشن کیا اس کی باڈی پر، جبھی اسے ہوش نہیں آ رہا تھا۔ مگر ری ایکشن ختم کرنے کے اینٹی ڈوٹ دے دیا گیا تھا ۔رات کے دو تو پہلے ہی بج چکے تھے اب اسے صبح ہی ہوش آنا تھا۔
پاشا اس کے قریب پہنچا۔۔

خیریت آریان،، پاشا نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نو ڈیڈ،، خیریت نہیں،، اٹس ریڈیکیولس،، اس نے منہ بنایا اور اب تک کی اس کی تمام کی تمام باتیں سناتا چلا گیا۔۔ اپنی دانست میں اس نے فل کوشش کی تھی اپنی جانب کی بات چھپانے میں،،
کہ وہ کیوں اس پر اس کی حفاظت کے لیے نظر رکھ رہا تھا۔۔مگر سامنے پاشا ابراہیم تھا۔
کافی سرپھری اور بدتمیز لڑکی ہے ڈیڈ،، چھپکلی،، آریان نے برا سا منہ بنایا۔۔
باپ بھی تو اس کا سرپھرا ہے،، خیر بائے دی وے،، اس کے بھی تمھارے بارے میں یہی خیالات ہیں،، پاشا بظاہر سنجیدہ تھا مگر،،

واٹ،،، ڈیڈ کیا کہا اس نے میرے بارے میں؟ آریان کو شاک لگا۔
یہی کہ ہنڈسم انکل آپ تو اتنے ہینڈسم ہیں، آپ کا چلغوزہ لمبوترا بیٹا کس پر چلا گیا ہے؟ پاشا نے بول کر دانتوں تلے لب دبایا۔
واٹ،، آریان کو وہ زہر لگی اس وقت،، پیر پٹختا ڈاکٹرز کے بلانے پر باہر چلا گیا۔
پاشا مسکرایا۔

صبح بھاری بوجھل ہوتے اعصاب کے ساتھ شفا کی آنکھ کھلی تھی۔ خالی الزہنی کے ساتھ کافی دیر پڑی چھت کو گھورتی رہی۔ پھر دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو ایک ایک بات ،منظر آنکھوں کے آگے گھوما اور سب یاد آتا چلا گیا۔
یادداشت واپس آنے کے بعد اس کے یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور اس بیغیرت سیف کے بارے میں سوچ کر اسے پہلی دفعہ خوف محسوس ہوا کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔
وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ اٹھ کر چاروں طرف نگاہ دوڑائی تو پتہ چلا کہ وہ ایک ہوسپیٹل میں ہے ،،اسے شدید حیرت ہوئی۔

تبھی قدموں کی چاپ روم تک آتی سنائی دی۔ دروازہ کھول کر جو شخصیات اندر داخل ہوئیں تھیں انھیں دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی۔۔ وہ پاشا اور آریان تھے۔۔
کیسی طبیعت ہے، بیٹا،، پاشا اس کے قریب آیا،، وہ تڑپ کر اٹھی
مم،، میں کہاں ہوں،، ادھر کیسے آئی انکل،، مم،، مجھے اپنے گھر جانا ہے ابھی،، پاپا پریشان ہوں گے،،
رائٹ چلتے ہیں،، چلو،، وہ جو اس کے ہوش میں آنے کا ویٹ کر رہے تھے اسے لئے باہر نکلے۔۔ آریان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا جبکہ پاشا اور وہ پیچھے بیٹھے تھے۔ آریان نے بیک مرر میں سے دیکھا۔
وہ اضطراب کے علم میں اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی تب پاشا نے اسے بتایا کہ آریان نے اتفاقا اسے دیکھ لیا تھا اور اسے بچایا اور کیسے ہاسپٹل لایا۔
کیسے وہ ساری رات بے ہوش رہی۔۔

جھٹکے سے گاڑی حسن مینشن کے پورچ میں رکی تھی جہاں قریب ہی لاؤنج میں کامران حسن اور رضیہ بیگم بےچینی سے ٹہل رہے۔
وہ تینوں گاڑی سے نکل کر ان کی جانب بڑھے۔ شفا لپک کر کامران حسن کے سینے سے لگنا چاہتی تھی جب کامران حسن نے ہاتھ لہرا کر اسے روک دیا۔ وہ ٹھٹھک کر رکی۔

ساری رات کہاں تھیں شفا؟ اور ان لوگوں کے ساتھ کیا کر رہی ہو؟
وہ دھاڑے،، جبکہ شفا کر دل کیا ہر چیز تہس نہس کردے۔
یہ تو آپ اپنی بہن سے پوچھیں پاپا،،، پھپھو آپ بتائیں گی کہ میں بتاوں پاپا کو،، وہ دانت پیس کر بولی۔۔
شٹ اپ شفا،، اپنی بکواس بند کرو،، رضیہ کا کہنا ہے کہ یہ واش روم گئی تھی باہر آئی تو تم ہاسپٹل کے بیڈ پر نہیں تھی۔ اس نے تمھیں کافی ڈھونڈا مگر تم نہیں ملیں،،
کامران حسن نے کہا تو شفا نے شاکڈ سا ہو کر اپنی پھپھو کو دیکھا جو نگاہیں چرانے کی کوشش کر رہی تھی۔
یہ کیا بتائے گی ماموں،، اپنے عاشق کے ساتھ منہ کالا کر کے آئی ہے،، میں پکس دکھا چکا ہوں آپ کو کیسے گود میں اٹھائے،،

بھونکنا بند کرو سیف،، اور خبردار تم جیسے گھٹیا، گرے ہوئے شخص نے میرے کردار کے بارے میں بکواس کی،،، میں منہ نوچ لوں گی تمھارا،، شفا بھی دھاڑی۔
سچ ہمیشہ کڑوا لگتا ہے شفا بی بی،، جو لڑکی رات باہر گزار کر آتی ہے وہ کوئی شریف،،
شٹ اپ یو باسٹرڈ،،،شفا تڑپی اور اپنے باپ کے سرخ رویا چہرہ اور جھکے کندھے دیکھے،، پاپا آپ کچھ کیوں نہیں بول رہے،، چپ کرائیں اسے،، میں وضاحت دے سکتی ہوں اس سب کی،،

ماموں آپ اس کی مت سنیں، پھر کہانیاں گڑھ دے گی،، آپ میری بات سنیں،، یہ جیسی بھی ہے آپ کی عزت ہے، اور اب بھی مجھے قبول ہے،، آپ ابھی میرا اس سے نکاح کروا دیں،، سیف نے چٹکیوں میں ماموں کے مسئلے کا حل پیش کیا۔
شفا کے پیچھے پاشا اور آریان اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے۔ اور ان سب کو آبزرور کر رہے تھے۔ کامران حسن کو بھی،، اسی لئے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔
واٹ ڈو یو مین بائی جیسی بھی میں،،، گدی میں سے زبان کھینچ لوں گی تمھاری بھونکنے والے ڈوگ،،

شٹ اپ شفا،، اور سیف تم کیوں نکاح کرو گے ایسی لڑکی سے،، تم اچھے ہو اپنی جیسی کوئی اچھی لانا، یہ جن کے ساتھ آئی ہے انھیں کے ساتھ چلی جائے،،
کامران حسن نے سیف کی پلاننگ پر پانی پھیرا وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
پاپا،، وہ صدمے سے چلائی۔
نو،،، شفا مر گئیں آج سے تم میرے لئے اور میں تمھارے لیے،، مجھے کسی قسم کی کوئی بات نہیں سننی،، جاؤ یہاں سے،، جن کے ساتھ آئی ہو انھیں کے ساتھ جاؤ اب،، تمھارے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں،،
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ بھائی،، بچی ہے وہ،، رضیہ ہراساں ہوئیں۔

یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ماموں،، آپ یقین کریں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا میں خود ہی ٹھیک کر لوں گا اسے،،
نہیں سیف،، یہ میرا پہلا اور آخری اور بلکل حتمی فیصلہ ہے، شفا جاؤ یہاں سے،،
پر پاپا،، شفا نے ان کا بازو تھاما اور پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔
یو مے گو،،، ناؤ،،، کامران پھر دھاڑے،، سیف کو سانپ سونگھ گیا۔
(اونہہہہہہہ،، بددماغ بڈھا سارے پلان کی بینڈ بجا دی) سیف نے کامران حسن کی پیٹھ کو گھورا۔

آریان شفا کو گاڑی میں بٹھاؤ،، میں آتا ہوں،، پاشا نے اطمینان سے کہا۔
نو نو،،، میں کہیں نہیں جاؤں گی،، وہ مچلی
مگر آریان اسے بازو سے دبوچ کر سیف کی ناک کے نیچے سے نکالتا اسے آنکھ ونک کرتا لے جا کر گاڑی میں لاک کر چکا تھا۔سیف جل بھن کر کباب ہو گیا۔۔اب آریان گاڑی سے ٹیک لگا کر اپنے ڈیڈ کا انتظار کرنے لگا۔ اور سیف کی طرف ہتک آمیز نگاہوں سے دیکھتا رہا۔۔
پاشا کامران حسن کے قریب آیا۔۔
میں اس وقت کسی کے منہ نہیں لگنا چاہتا،، جائیے آپ بھی،،
پاشا نے کندھے اچکائے۔ اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔
سیف نے حسرت بھری نگاہوں سے گاڑی نکلتی دیکھی مگر کچھ کر نہیں پایا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ وائٹ پیلس پہنچے تھے۔۔ شفا بری طرح رو رہی تھی۔۔پاشا نے گاڑی میں اسے تسلی بھی دی۔۔اب بھی وہ اسے ساتھ لیے اندر آتا اسے سمجھائے گیا۔
ہیے مائی لٹل بریو گرل،، تم تو بریو ہو،، سب کچھ ٹھیک کردوں گا میں،، بھروسہ رکھو،، وہ اندر آئے تھے اور یہی وہ لمحہ تھا جب آروشے کی چیخ پورے وائٹ پیلس میں گونجی تھی۔۔سب گھبرا کر آروشے کے کمرے کی جانب لپکے تھے۔۔
ماہ بیر جو ہاسپٹل جانے کے لئے باہر نکل رہا تھا وہ بھی بھاگا تھا۔ آروشے کے کمرے میں پہنچے تو آروشے ایشان پر جھکی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔

ایشان زخمی حالت میں نیچے گرا ہوا تھا اور جو سب سے زیادہ تشویشناک بات تھی وہ یہ تھی کہ ایشان کے سر میں چوٹ لگی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔۔
ماہ بیر نے ایشان کا سر گود میں رکھا۔ منی بھی آ کر اس پر جھکی۔۔پنکی نے تو واویلا ہی مچا دیا تھا۔

کیا ہوا اسے،، کیسے چوٹ لگی،، بڑے پاپا جے کے کو فون کریں،، ماہ بیر دھاڑا تو آروشے سہمی تھی۔ ان سب کے ایسے ری ایکشن سے وہ ڈر گئی تھی۔ قصور وار جو وہی تھی۔
وہ مم میں نے تو بس انھیں ایک سائیڈ کیا تھا،، پپ،، پتہ نہیں کک،، کیسے گر گئے،، وہ بری طرح روئی۔۔
ماہ بیر نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا۔ ماہ بیر نے ہی اسے کندھے پر اٹھایا تھا۔ اور ہاسپٹل لیے دوڑا۔
سب آگے پیچھے ہاسپٹل پہنچے تھے۔ماہ بیر نے جب اسے سٹریچر پر ڈالا تب تک جبران بھی ہوائیاں اڑا چہرہ لیے ہاسپٹل پہنچا تھا۔تیز قدموں سے وہ ایشان کے قریب آیا تب آروشے اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔

ایشان،، ایش،،،اٹھو میرے بھائی،،،تم جانتے ہو میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا،، ماہ بیر،، کیسے ہوا یہ، وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتے ایشان پر جھکا ہوا تھا ماہ بیر نے ایک سرد اور خشک نگاہ سے آروشے کو دیکھا۔ اس کی نگاہوں کے تعاقب میں جبران نے بھی شعلے اگلتی لال انگارا آنکھوں سے اس خود غرض لڑکی کو دیکھا تھا جس کی خاطر اس کے بھائی نے کیا کچھ نہیں کیا تھا۔۔آروشے کے تواتر سے بہتے آنسوؤں میں اور زیادہ روانی آئی تھی۔۔ جب ان کو غصے اور نفرت سے خود کو دیکھتے پایا تھا۔اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی ۔۔

ایشان کو آئی سی یو میں لے جایا جا چکا تھا۔ ملک کے بڑے بڑے نیورو سرجنز کو بلا لیا گیا تھا۔
زمل کو رو رو کر برا حال تھا روحا اور ریحاب اسے تسلی دے رہیں تھیں۔۔
پاشا کبیر اور سوہم بھی وہیں موجود بے چین سے تھے۔

اگر آپ لوگ کہیں تو میں ماہر سوہم خان کو اطلاع دے دیتی ہوں،، منی نے کہا تو پاشا نے منع کر دیا۔ اور ایک نظر آروشے کے بھیگے سرخ چہرے کو دیکھا۔
رہنے دو منی،، علاج ہو لینے دو وہ جانے گا کہ کیا اور کس طرح ہوا تو پتہ نہیں کیا قہر ڈھائے گا۔۔
منی نے اثبات میں سر ہلایا۔
ایشان کی سرجری سٹارٹ کر دی گئی تھی۔ وہ سب کوریڈور میں بے چین سے ادھر ادھر چکر لگا رہے تھے۔ اس دوران ماہ بیر نایاب کے بارے میں تو بھول ہی گیا تھا۔

تبھی وسیع اس کے پاس آیا تھا۔۔
سر ادھر آئیں،، ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔
چلو ،،،ماہ بیر اس کے ساتھ آیا۔۔
یہ دیکھیں،، وسیع نے ٹیب نکال کر ایک ویڈیو پلے کر کے اس کے سامنے ٹیب کیا۔۔ماہ بیر نے ائیر پوٹس کان میں لگا کر وہ ویڈیو دیکھی۔
ویڈیو دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر سائے سے آ کر لہرائے تھے۔ اس قدر وحشت اور درندگی تھی اس کے چہرے پر کہ وسیع کو بھی جھرجھری سی آئی۔۔
ماہ بیر کنپٹیاں سہلاتا وہیں چئیر پر بیٹھتا چلا گیا۔
افففففففففففف یہ کیا یو گیا تھا اس سے،، اپنے آپ کو بڑا توپ کا لوئیر سمجھنے والا آج کیسی حقیقت کھل کر سامنے آئی تھی۔
فجر اس سے کہتی رہی ایک دفعہ اس کی بات سن لے مگر اس نہیں،،، اس نے نہیں سنی۔
ساری زندگی ایک بے قصور عورت سے نفرت کرنے میں گزار دی۔۔
ایک بیٹی کو اس کی ماں سے دور رکھا۔
اتنے سال اپنی محبت سے نفرت کرتے ہوئے خود سے دور رکھا۔ اب حساب لینے بیٹھا تھا تو کافی قصور نکلتے تھے اس کی طرف ۔
فجر سے کیسے نگاہیں ملائے گا۔

تبھی وسیع ہانپتا کانپتا ماہ بیر کے پاس آیا تھا۔۔
سس،، سر وہ نایاب میڈم،،، وہ جو اسی ہاسپٹل میں تھی وسیع دیکھنے گیا تھا مگر،،
کیوں کیا ہوا،،
مجھے لگتا ہے ان کے پاس زیادہ وقت نہیں،،
واٹ،،، ماہ بیر کو لگا اس کا سانس رک جائے گا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
بہت خوش ہوں اور خوشگوار موڈ ہے😍😍۔ اسی لئے لیٹ نائٹ سرپرائز ایپی دینے کا پروگرام ہے🤩🤩۔۔ اسی لئے کوئی سڑا کمنٹ کر کے موڈ کی واٹ لگانے کی کوشش بھی ناکرے۔😷😷