No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اب تو میری رگ و پے میں سرایت کرچکا ھے لمس تیرے احساس کا
وگرنہ تجھ سے ملنے سے پہلے ،،، میں بھی تھی مجھ میں جگہ جگہ…
مفرا نے سوالیہ نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔
ایڈمیشن فارم ہے تمھارا، میڈیکل کالج میں پڑھ رہی تھیں ناں،، تھر ائیر چل رہا تھا،، تو اب ادھر کے قریبی میڈیکل کالج کا میں ایڈمیشن کروایا ہے تمھارا میں نے ،،جلدی سے ریڈی ہو جاؤ آج پرنسپل سے ملوانا ہے تمھیں،،
وہ تفصیل بتاتے ڈریسنگ کی جانب بڑھ گیا تھا۔
چاکلیٹ براؤن ڈنر سوٹ میں سرخ و سفید رنگت اور اونچا لمبا سر وقد ،مردانہ وجاہت کا شہکار وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا مصروف سا گھڑی اٹھا کر اپنے ہاتھ میں پہن رہا تھا۔
وہ جو چور نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جبران نے اچانک آئینے میں سے اسے دیکھا تو بری طرح گڑبڑائی۔اور نگاہ پھیر لی۔
جبران گہرا مسکرایا۔
تو کیا ہم گھر نہیں جائیں گے؟ وہ پوچھ بیٹھی۔
کیوں بھابھی کی کچھ زیادہ یاد ستا رہی ہے؟ جبران نے چھیڑا اور دانتوں تلےلب دبایا۔
آپ نے کئی جھوٹ بولے ہیں ہم سے؟ وہ اس کا مزاق اگنور کرتی آبرو اچکا کر بولی۔
مثلاً ؟ جبران کا اس کو چھیڑنے کا دل کر رہا تھا، چاہتا تھا وہ اپنے دل میں چھپی ہر الجھن کا زکر اس سے کرے، اس سے شئیر کرے۔
مثلاً کہ آپ کے گھر میں کوئی نہیں ہوتا سب امریکہ میں ہوتے ہیں ،پر ادھر یہ سب، وہ الجھی الجھی سی بھی اس کے دل میں اتری۔
جانتا ہوں کافی سارے جھوٹ بولے ہیں مگر ان کا آنسر رات کو دوں گا فرصت میں ابھی جانا ہے ہم نے، وہ معنی خیز لہجے میں بولا تو مفرا کے ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی گئیں۔
تبھی جبران کا فون رنگ ہوا تھا۔۔ ہوسپٹل سے تھا۔ فون یس کر کے کان کو لگایا۔
یس ڈاکٹر جبران کبیر اسپیکنگ؟
ڈاکٹر،، فوراََ ہوسپیٹل پہنچیں،، علیزے میم کی طبیعت بہت خراب،، وہ کسی بھی وقت،، آپ پلیز فوراً آئیں۔
دوسری جانب کی بات سن کر جبران نے ٹینشن میں ماتھے پر دو انگلیاں پھیریں۔ ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے بے تحاشا مضبوط اعصاب کے مالک ہونے کے باوجود وہ پریشان ہوا تھا۔ ایشان بھی یہاں نہیں تھا اگر اسے کچھ ہو جاتا تو؟
سنو مفرا تم ریڈی رہنا میں کچھ دیر تک لوٹوں گا، ہاسپٹل میں ایمرجنسی ہو گئی ہے،، مجھے ابھی جا نا ہوگا۔
وہ کہتا فوراََ وہاں سے نکلا تھا۔ تیز ڈرائیونگ کرتے ہاسپٹل پہنچا تھا۔
تیز تیز قدم اٹھاتا وہ سیکنڈ فلور پر موجود آئی سی یو میں پہنچا تھا جہاں علیزے گہرے گہرے سانس بھرتی اپنے آخری سانسیں لے رہی تھی۔
علیزے،، جبران لپک کر اس کے قریب آیا۔ وہ جو اسے سب کچھ بتا چکا تھا۔علیزے مطمئن ہو چکی تھی۔ اور علیزے کے لئے اب بھی یہی تھا کہ سامنے بیٹھا شخص روشے کا ایش ہے۔۔ کیوں کے اگر اسے پتہ چل جاتا کہ روشے اور ایشان یہاں نہیں ہیں تو وہ سو طرح کے سقال کرتی۔۔جبران کو دیکھ نیم مردہ وجود میں حرکت ہوئی تھی۔ اشارے سے قریب بلایا ۔ جبران اس کے قریب بیٹھا۔ اس نے اپنا آکسیجن ماسک ریموو کیا۔
جبران نے منع کرنا چاہا مگر اس نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔
ڈاکٹر،، جانے کا وقت آ گیا،، اس نے زخمی سی مسکراہٹ اپنے خشک اور سیاہ پڑتے ہونٹوں پر سجاتے اسے کہا۔۔
جبران کے اعصاب چٹخ گئے۔۔ لاسٹ سٹیج پر تھی۔ کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اور یہیں ہر انسان پر اسے بنانے والے کی حیثیت اور طاقت ظاہر ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر،، روشے کا بہت،،،،،، خیال رکھنا،، میری قربانی،،،،،، ضائع مت ہونے دینا،،وہ بہت معصوم ہے،،،،،،، اس کا بہت خیال،،،،،،،،،،،،،،میں نے اس کے لئے،،،،، ویڈیو میسج چھوڑا ہے،،، جب،، ٹھیک ہو جائے تو،،،
تبھی علیزے کی سانس اکھڑی تھی۔
جان کنی کا علم تھا۔جبران کے لئے یہ اعصاب شکن تھا۔ مگر پھر بھی وہ اس نازک لڑکی کو مرتے دیکھ رہا تھا۔ اور اگر آروشے ٹھیک ہوتی اور اس کے پاس ہوتی تو جیسے قیامت ہی برپا ہو جاتی۔
کچھ پلوں کی سانسوں کی موت سے آخری جنگ تھی۔جو آخر موت کی جیت پر ختم ہوئی۔
اس کی ساکت ہوئی آنکھوں کی پتلیوں میں جانے کتنے غموں کے ڈیرے اور حسرتوں کی آماجگاہ نے بسیرے کر رکھے تھے۔ جو زیادہ دیر جبران دیکھ نہیں پایا تھا۔تبھی اس کی مردہ آنکھیں بند کرتا چلا گیا۔
جبران کی آنکھیں شدتِ ضبط سے سرخ انگارا ہوئیں تھیں۔ ای سی جی مشین پر ساکت ہوتی لائنز سے ڈاکٹر اور نرسز چونکے تھے۔
ڈاکٹر جبران شی از،،، ڈاکٹر فیصل جھجھکے۔۔
نو مور،،، آئی نو،،
وہ جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکلتا چلا گیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ بیڈ پر اپنے ٹوائز بکھیرے مگن سی بیٹھی تھی۔ پیچ کلر کی شارٹ فراک اور ٹراؤزر میں معصوم چہرہ ہر فکر و پریشانی سے دور تھا۔
ایشان بلکل اس کے سامنے بیٹھا ڈاکٹر جنت سے فون پر بات کر رہا تھا اور انھیں آروشے کی تمام ڈیٹیلز بتا رہا تھا۔
تبھی آروشے بیڈ سے نیچے اتر کر ایشان کے قریب آئی تھی ہاتھ میں ایک خوبصورت ڈول تھی۔ ایشان جو اپنی بات مکمل کر کے فون رکھ چکا تھا۔ اس کی جانب متوجہ ہوا ۔
یہ دیکھو ایش میری علیزے ڈول،، بلکل آپو جیسی بیوٹی فل سی، میری پرنسز،، وہ جانے کیوں مگر ڈول کو چومے چا رہی تھی۔
ایش آپو کب آئیں گی؟اتنےےےےےےےے سارے ڈیز ہو گئے آپو نہیں آئیں۔ ایش آ گیا،، بٹ آپو نہیں آئیں،، مجھے آپو چاہیں،، مجھے علیزے چاہیے،، وہ جانے کیوں مگر ضد سی کرنے لگی۔
تبھی ایشان کے موبائل پر میسج بلنک ہوا تھا۔ جبران کا تھا ۔ اس نے کھول کر دیکھا تو پیروں نیچے سے زمین کھسکی۔ کیسی روح فرسا خبر تھی۔ سامنے اس معصوم چہرے کو دیکھا جو ابھی تک علیزے ڈول کو چومنے میں مصروف تھی۔
ایش ٹیل می آپو کب آئیں گی؟ اس نے پھر ایشان کو دیکھا۔ ایشان کی سرخ آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ تبھی اسے کھینچ کر سینے میں بھینچا۔
ائم سوری،، آروشے،، آئم رئیلی ویری سوری،، ایشان کے آنسو آروشے کے کندھے پہ شرٹ میں جزب ہوئے تھے۔
جنھیں محسوس کر روشے کے نین کٹورے حیرت سے پھیلے تھے۔
ہووووووو،، واٹ ہیپنڈ ایش،، کس نے مارا،، میرے ایش کو،، ابھی بتاؤ میں ابھی ماروں گی اس کو،، آروشے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ اس کی نم ہوئی آنکھیں دیکھ کر بولی۔
ایشان روتے ہوئے اپنی کارٹون کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
ایش سیڈ ہے؟ اب وہ اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کو پوچھ رہی تھی۔
یس،، ایشان نے کہا کیوں کہ وہ علیزے کی ناگہانی موت سے بہت دکھی تھا۔
اوکے ،،ابھی روشے بےبی، ایش کو ایک میجک والی کسی اور ہگ دے گی تو ایش ہیپی ہو جائے گا۔ وہ اسے پیار سے پچکارتے بولی۔
دو،، ایشان نے شکر ادا کیا کہ اس کا دھیان آپو پہ سے ہٹ چکا تھا۔ آروشے نے اس گلے لگایا اور ماتھے پر اپنے لب رکھے۔
یو فیل بیٹر؟ روشے بےبی نے آنکھیں پٹپٹا کر کہا۔
یس،،،، ایشان نے کہتے چپکے سے اس کی علیزے ڈول چھپا دی تھی۔
اب تو وقعی علیزے ڈول اپنی چھوٹی جان سے پیاری بہن کی نگاہوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھپنے والی تھی، اوجھل ہونے والی تھی۔وہ اس کا دھیان دوسری جانب بٹا کر باہر لاؤنج میں آیا تھا۔ جہاں ابھی ابھی گرین مونسٹر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا تھکا ہارا لوٹا تھا۔اسے بھی جبران کا میسج آ چکا تھا۔
ایشان ،،اس نے ایشان کو پکارا۔
جی بھائی،،
بہت دکھ ہوا یار،، علیزے کا مگر اب تم بھی سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھانا، جبران نے سونیا کو میرے ساتھ بھیجا ہے،
میں سوچ چکا ہوں،، وہ سنجیدگی سے بولا۔
ماہر نے اسے غور سے دیکھا تھا جو اپنی اور آروشے کی زندگی سے کھیلنے چلا تھا۔ اور داؤ ہر ان کا رشتہ لگا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رواحہ ظہر ادا کر کے ہٹی تھی جب منی اس کے کمرے میں آئی۔ مگر اسے غور سے دیکھ کر چونک گئی۔۔
ارے یہ تمھارے ہونٹ پہ کیا ہوا مارش میلو،، لہجہ کافی معنی خیز تھا مگر یہاں غور کون کر رہا تھا۔۔
کچھ نہیں،، رات شاید کسی مچھر نے کاٹ لیا،، وہ نگاہیں چرا کر بولی۔
اے اتنی اداس کیوں ہو سہیلی ،،وہ سبز بلا یاد آ رہی ہے کیا،،وہ پریشان ہوئی۔
وہ منی،، وہ رات میرے خواب میں آئے،، اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔
جنھیں دیکھ کوئی بے چین و بیقرار ہوا تھا۔
تو،، کیا بول رہا تھا جلاد کہیں کا،، منی نے دانتوں تلے لب دبایا۔
بول رہے تھے جلد لوٹوں گا،، اس نے دھیمے سے کہا۔
اور تنگ تو نہیں کیا میری سہیلی کو خواب میں،، منی نے چھیڑا تو رواحہ کا چہرہ لہو چھلکانے لگا۔۔
نن،، نہیں،، منی پلیز تنگ مت کرو،، وہ جھلائی۔
اونہہہہ تنگ میں نے کیا کرنا،، تنگ تو اس نے کیا ہوگا،، کالے لباس میں سبز بلا نے ڈرایا ہوگا میری نازک سہیلی مارش میلو کو ،، وہ بھی ہاتھ لہراتی اپنی لے میں بول گئی ۔جبکہ رواحہ بے تحاشا چونکی۔
منی میں نے خواب میں ان کے ڈریس کا کلر تو بتایا ہی نہیں تو؟ رواحہ نے آبرو اچکا کر منی سے پوچھا تو منی شدید گڑبڑائی۔
ارے مجھے یاد آیا میں نے تو اماں ریشماں کو چائے دے کر آنا تھا۔ وہ کہتی وہاں سے کھسک گئی۔
رواحہ جھنجھلائی۔
تو مطلب رات وہ آئے تھے۔۔ مگر واپس کیوں گئے۔۔ کندھے پر پٹی بندھی محسوس ہوئی تھی۔۔ کیا چھپا رہے ہیں۔ اس تکیہ اٹھا کر زمین پر پٹخا۔۔ اور بے آواز گھٹنوں میں منہ دئیے رو دی۔۔ تبھی فون رنگ ہوا تھا جو ایک دو دن پہلے ہی منی نے اسے دیا تھا۔ مگر اس پر کال پہلی مرتبہ آئی تھی۔
مسلسل بجتی بیل پر اس نے گھٹنوں سے چہرہ نکالا اور فون دیکھا ۔ فون کے وال پیپر پر ایک خوبرو سے شخص کی تصویر جگمگا رہی تھی۔ اور نمبر پر ماہر لکھا ہوا تھا۔
اس نے بمشکل یس کر کے فون کان کے ساتھ لگایا۔ مگر بہتے آنسوؤں کی وجہ سے خاموش ہی رہی۔
ائم سوری میری مارش میلو،،اس محبت کی پہلی نشانی کے لئے،، جانتا ہوں بہت نازک ہو،، مگر تمھیں اتنے دنوں بعد اتنے قریب دیکھ کر پاگل ہو گیا تھا،،
چپ بلکل چپ،، بہت برے ہیں آپ،، آپ آئے تھے،، اور چلے گئے کیوں؟ کیا چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں آپ مجھ سے،، آپ کے کندھے پر پٹی بندھی تھی،، کیوں گئے آپ؟ وہ پھٹ پڑی۔
اگر رکتا تو قیامت آ جاتی روح،، برداشت کر پاتی میرا پاگل پن،، سہہ پاتیں میرا جنون اور شدتیں؟ وہ پرسکون تھا۔ آنکھیں موندے بیڈ پر لیٹا تھا۔ رواحہ کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔۔
رونا بند کرو روح،، بولا نا جلد لوٹوں گا،،
آپ کو کیا میرے ہنسنے اور رونے سے،، اور آپ مجھ سے کیا چھپا رہے ہیں؟
کچھ نہیں روح ،،پلیز یقین کرو یار،، اور جلد ہی میں تمھارے یہ سارے ڈر نکال دوں گا،،
میں آپ سے بات ہی کیوں کر رہی ہوں،، وہ جھلائی۔۔ اور فون رکھ دیا۔ ماہر کے لبوں پر گہری مسکان سجی۔۔ رات کی کار گزاری یاد آئی تو ایک مرتبہ پھر رگ و پہ میں سرور سا دوڑ گیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آریان اپنے روم کی بالکونی پر کھڑا رات کے واقعات اپنے زہن میں دہرا رہا تھا۔ اس پاگل لڑکی نے بہت بری طرح اسے ڈسٹرب کیا تھا۔رات بہت اچانک وہ بہت ہی بری طرح اس کے اعصاب پر سوار ہوئی تھی۔۔ جس سے وہ بری طرح جھٹپٹا رہا تھا۔ سوچا نہیں تھا ہیلپ کر کے یوں مصیبت گلے ڈال لے گا۔ کچھ ہی دیر میں ہوسپیٹل کے لئے بھی نکلنا تھا۔ پریکٹس سٹارٹ کرنی تھی اور جبران نے بڑے سٹریکلی آرڈرز دئیے تھے کہ وقت کی پابندی رکھنی ہے۔ ایوننگ ڈیوٹی تھی سو اسے اپنے کام پر کانسٹریٹ کرنا تھا جو وہ ہر گز نہیں کر پا رہا تھا۔
وہ ابھی انھیں سوچوں میں الجھا تھا کہ بیرونی گیٹ سے میڈم خراماں خراماں چلتی اندر آ رہیں تھیں۔
ایک تو اس لڑکی کو اپنے گھر چین نہیں،، وہ دل میں دانت پیس کر بولا۔ ادھر شفا بھی اسے دیکھ چکی تھی۔ ہاتھ ہلا کر اسے وش کیا تو آریان اور بھی جبنجھلایا اور بالکونی سے ہٹ گیا۔
وہ رات کافی دیر اسے سوچتی رہی تھی۔ وہ سیف کا بچہ تو ناک تڑوا کر پتہ نہیں کہاں گیا تھا۔ صبح کو بھی اس منحوس کا سامنا نا ہو لہذا وہ جلد ہی کالج کے لئے نکل گئی۔ کالج سے واپسی پر وہ گھر جانے کی بجائے اب سیدھا ادھر آ گئی تھی۔
بیگ کمر پر تھا۔ اندر لاؤنج میں داخل ہوئی تو پہلے کی نسبت کافی رونق نظر آئی۔ پاشا، کبیر اور سوہم بھی ادھر ہی بیٹھے تھے۔
ہائے ایوری ون،، اس نے اونچی آواز میں وش کیا۔
رحاب اسے دیکھ کر مسکرائی۔ وہ سیدھا پاشا کہ پاس گئی۔
اتنےےےے دنوں بعد ہینڈسم انکل آپ نظر آئے مجھے،، کہاں تھے آپ،، وہ جتنی فری ہو کر ہاشا ابراہیم سے بات کر رہی تھی۔ سوہم اور کبیر کو حیرت ہی ہوئی۔
بزنس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا،، ان سے ملو یہ دونوں میرے بھائی ہیں،،
جی جی نظر آ رہا ہے ،، ایک تو آپ سب لوگ اتنے ایجڈ ہو کر بھی اتنے ہینڈسم ہیں ایک میرے پاپا ہیں ڈی آئی جی ہو کر بھی توند نکلی ہوئی ہے ویسے آپس کی بات ہے کس چکی کا آٹا کھاتے ہیں آپ لوگ،، اس کے شوشے پر سب ہی ہنس رہے تھے۔
اور یہ تو ماہر بھائی کے ڈیڈ لگتے ہیں ہے ناں،،، وہ اکسائٹڈ سی سوہم خان کے پاس بیٹھ گئی۔۔
یس سہی گیس تھا اور اب میں نے یہ پوچھنا تھا کہ یہ چھوٹی سی گڑیا کہاں سے آئی ہے۔
پھر شفا تھی اور اس کی چلتی زبان،، فیورٹ ہابی دماغ کی دہی کرنا جو وہ بخوبی ابھی کر رہی تھی۔
تبھی آریان مکمل ڈاکٹرز والے حلیے میں وائٹ کوٹ پہنے اسٹیتھواسکوپ گلے میں لٹکائے باہر نکلا تھا۔۔ جسے دیکھ کسی کی آنکھیں حیرت سے ہھیل گئیں تھیں۔
مام میں ہوسپٹل جا رہا ہوں۔۔ وہ اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈال کر باہر نکلا۔
میں بھی چلتی ہوں،، شفا جلدی سے بول کر اس کے پیچھے لپکی جو سب نے نوٹ کیا۔
شفا باہر آئی تو وہ گاڑی ان لاک کر رہا تھا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی۔۔
واؤ،، تم ڈاکٹر ہو،، شفا اس کے سامنے آئی تھی۔ اس نے سرد سی آہ بھری۔
تمھیں کوئی شک ہے،، اس نے آبرو اچکا کے پوچھا۔
ایکچوئلی،، یس،، وہ کیا ہے ناں شکل سے تو کوئی جمناسٹک ماسٹر لگتے ہو اسی لئے کنفرم کر لیا، وہ چہک کر بولی۔
آں ہاں شکل سے تو تم بھی بھنگن لگتی ہو میں نے کبھی کنفرم کیا؟ آریان نے سکون سے کہا۔
واٹ،،، میں تمھیں بھنگن لگتی ہوں،، اتنی خوبصورت لڑکی اپنی زندگی میں کبھی دیکھی بھی ہے؟ وہ پونی ٹیل جھلاتی پوچھ بیٹھی اور آریان کا دل اس پاگل لڑکی کی عقل پر ماتم کرنے کو کیا۔ جو جانے انجانے کسی غیر لڑکے کی توجہ اپنے نوخیز حسن پر دلا رہی تھی۔
آریان نے سفید یونیفارم میں روئی کی طرح اس نازک وجود اور سرخ ہونٹوں پر سے نگاہ چرائی،، اور گاڑی میں سے نکال کر دو چیزیں اس کی جانب بڑھائیں۔۔
واٹ از دس؟ شفا کی آنکھوں میں حیرت تھی۔۔ مگر دونوں چیزیں تھام لیں۔
یہ پیپر سپرے ہے،، بہت پاور فل،، اگر کسی کی آنکھوں میں پڑ جائے تو نانی یاد آ جائے اسے،ہر وقت پاس رکھنا اپنے ،، اور اس سے یہ بٹن پش کرتے ہی الیکٹر شاک لگتا ہے،، کہ اگلے بندے کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔ سیلف ڈیفنس کے لئے تم جیسی ہر لڑکی کے پاس ہونا چاہئے،، اپنی حفاظت خود کرنا سیکھو کسی پر ڈیپینڈ ہونے سے بہتر ہے۔ وہ کہتا گاڑی میں بیٹھ جا چکا تھا۔۔
یہ بندہ ہر ملاقات کے بعد اسے حیرت میں مبتلا کر دیا کرتا تھا۔ اس نے اطمینان سے دونوں چیزیں پہلو میں بنی پاکٹ میں ڈالیں اور اپنے گھر کے لئے نکلی۔
اونہہ شیطان کہیں کے اب ہاتھ لگانا مجھے دیکھنا کیا حشر کرتی میں تمھارا،، اب میرا فرینڈ میرے ساتھ ہے۔۔
ہیں فرینڈ،، دل نے جیسے آبرو اچکا کر پوچھا ہو۔۔
شٹ اپ،، اس نے دل کو ڈپٹا اور با آواز بلند بڑبڑاتی باہر نکلی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا ضروری پیپر فائل میں رکھ رہا تھا۔ بہت ضروری ثبوت اور پیپر ہاتھ لگے تھے۔ کیس بھی ری اوپن کرنے کی فائل دائر کروا چکا تھا۔۔
تبھی فون کی بیل رنگ ہوئی تھی۔ یس کر کے کان کو لگایا۔
بولو وسیع؟ ماہ بیر عجلت میں تھا یہ پیپر کسی محفوظ مقام تک پہنچانے تھے۔
سر بری خبر ہے،، وہ منیر چیمہ اور رستم پھر ادھر آ گئے ہیں،، انھیں یہ تو نہیں پتہ کہ آپ کون ہیں ہاں مگر وہ وکیل جس نے یہ کیس ری اوپن کیا ہے اس کے متعلق وہ ایڑھی چوٹی کا زور لگائیں گے جاننے کے لئے اور اسے اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے،، سو وہ آپ کے آفس کی جانب آ رہے ہیں ،،
واٹ،، ماہ بیر چونکا۔
اوکے رائٹ ابھی میرے پاس ضروری پیپر ہیں، میں نکل رہا ہوں تم سب کو آگاہ کر دو،،
سر آپ کی جان کو خطرہ ہے،، وسیع چیخا۔۔
میں نہیں ڈرتا،، اپارٹمنٹ جاؤں گا،، وی کہتا فون رکھ چکا تھا۔ وہ پیپر لے کر ہچھلے دروازے سے نکلا تھا۔
گاڑی فوراً نکالی تو دیکھا کہ ایک اور گاڑی تعاقب میں ہے اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی تبھی ماہ بیر کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تھی۔
Continue,,,,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
