Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اپارٹمنٹ پر چاروں جانب سے فائرنگ ہو رہی تھی۔مگر ماہر سوہم خون کے اطمینان میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی تھی جو یونہی سکون سے بیٹھا رہا جبکہ رواحہ کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید ضرور پڑ چکا تھا۔
وہ جو دونوں لاؤنج میں زمین پر پھولوں کی چادر کے اوپر بیٹھے تھے۔ ٹیبل پر بریک فاسٹ کے برتن پڑے تھے۔ ابھی ابھی تو بریک فاسٹ ختم کیا تھا انھوںنے تو یہ کیا افتاد آن پڑی تھی۔
مم،، ماہر یہ،، سب،، وہ اس کے قریب کھسک آئی۔
ماہر نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے ساتھ لگا لیا۔

کچھ نہیں ہے،، بس ڈرنا نہیں تم نے،، سمجھیں میں نے کیا بولا،، ڈرنا نہیں،، ماہر کا لہجہ سنجیدگی لیے تھا۔
تبھی دھاڑ سے لاؤنج کا دروازہ کھول رستم اور اس کے غنڈوں کو اسلحے سمیت اندر آتا دیکھ رواحہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔
جبکہ اندر کے ماحول کو دیکھ رستم کے قدم صوفے کے پار ٹھٹھک کر رکے تھے۔ سامنے ہی وہ کسی اور کے پہلو میں آدھی دلہن بنی بھیگا مہکا وجود لیے کسی اور کے پہلو میں بیٹھی دیکھی تو وہ غصے سے پاگل ہو گیا۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی چندا بائی کسی اور کی سیج،،

ابے بھونکنے والے کتے،، ماہر نے اطمینان سے کہتے کافی کا مگ منہ سے لگا کر ایک گھونٹ بھرا تھا،، میری بیوی کا نام رواحہ ماہر سوہم خان ہے،، اور اس سے کیا مخاطب ہو رہے ہو مجھ سے بات کرو،،
ماہر نے سکون سے کہتے اسے تھوڑا اور قریب کیا۔ تو رستم نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے بیٹھے اس سبز آنکھوں والے جواں مرد جن کی دیدہ دلیری اور اطمینان ملاحظہ فرمایا۔
جبکہ وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑے بیٹھی تھی۔
تمھیں مجھ سے ڈر نہیں لگ رہا،، اپنی دردناک موت سے،، اور جب تمھاری آنکھوں کے سامنے میں اس کے ساتھ،،،

نہیں تم جیسے کتوں سے کیا ڈرنا،، ماہر نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی وہ اس کی بکواس سن کر اپنا میٹر شارٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
زرا چندہ بائی سے تو پوچھو اسے مجھ سے ڈر لگتا ہے کہ نہیں،، وہ چٹخارہ بھر کر بولا اب اس گیم میں اسے بھی مزا آنے لگا تھا۔

آج کے بعد اسے بھی نہیں لگے گا،،اور اسے چندہ کہنے والے کی زبان بھی نہیں رہے گی اس کے منہ میں،، اطمینان قابلِ رشک تھا گرین مونسٹر کا۔۔
مم،،ماہر،،،،، ی،،،، یہ،، وہ بے آواز روتی اس کی شرٹ بھگو رہی تھی۔۔
ہیے ڈارلنگ ڈونٹ وری ڈئیر،، وہ کیا کہتے ہیں ناں سمتھنگ سالے صاحب ہیں،، بہن کا ناشتہ لے کر آیا ہوگا،، ماہر نے اسے پیار سے پچکارا۔۔رواحہ نے حیرت سے اپنے قریب اس بندے کو دیکھا۔

بکواس بند کرو تم ،،،،یہ صرف میری ہے،،، اور میری ہی رکھیل،،
شٹ اپ یو باسٹرڈ،، ماہر دھاڑا،، موڈ آف مت کرو سالے کمینے صاحب،، وہ کیا ہے نا سہاگ رات کے بعد میرا موڈ بڑا خوشگوار ہے،، تو منہ سنبھال کے بات کرو،، وہ لاپروائی سے بولا۔
تم سے تو اب میری پسٹل بات کرے گی حرام زادے،، وہ چیخا اور اپنی گن کا رخ ماہر کے سینے پر رکھ کر نشانہ لیا تھا۔ وہ مسلسل فائر کرتا رہا۔ مگر پسٹل خالی دیکھ اس کے ہوش اڑے تھے۔۔
رواحہ نے خوف کے مارے اس کی گردن میں منہ دیا تھا۔
ایک اور کوشش کر لو،، ماہر نے کہا۔

ہیے یو،، یہ میری پسٹل خالی کیوں ہے،، لوڈڈ گن دو،، مگر یہ دیکھ کر اس پر غشی طاری ہونے والی ہو گئی جب اسی کے ساتھ آئے آدمیوں نے اسی کے سر پر گنز تان لیں تھیں۔۔
ہیے روح سامنے دیکھو،، ماہر نے کہا تو اس نے کانپتے سامنے دیکھا۔
میں نے کہا تھا ناں،، کہ میں تمھارا ڈر نکالتا دوں گا۔۔اب آگے جو ہوگا وہ تمھیں اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے،، تم نے آنکھیں بند کیں تو سزا بیڈ روم میں دوں گا جس کے سنگین نتائج کی زمہ دار تم خود ہوگی،، آخری بات اس نے سرگوشی میں کہی تھی،، اس نے اچھے بچوں کی طرح جلدی جلدی اثبات میں سر ہلایا تو وہ مسکرا دیا۔
گڈ گرل،، پھر وہ گارڈز کی جانب متوجہ ہوا، سٹارٹ کرو،، سرسراتا لہجہ تھا ماہر کا،،

کیا مطلب،،
اس سے پہلے کے ماہر اسے مطلب سمجھاتا گارڈز ٹوٹ پڑے تھے اس پر،، اور اپنی رائفلز سے روئی کی طرح دھنک رہے تھے اسے۔۔
رستم کی چیخ و پکار پورے اپارٹمنٹ میں گونج رہیں تھیں۔ رواحہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب دیکھ رہی تھی جبکہ ماہر کافی کے گھونٹ بھرتا اب جیسے پاؤں پسار کر ایک پیر پر دوسرا پیر رکھے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا یہ ایکشن فلم خوب انجوائے کر رہا تھا۔
ہیے انجوائے کرو جان،، سوہم نے اس کی کمر پر پکڑ مضبوط کی۔

کچھ ہی دیر بعد رستم کا حشر بگڑ چکا تھا ۔لہولہان وہ آدھ مرا ہو چکا تھا۔جب گارڈز ہانپتے پیچھے ہٹے۔ اور ماہر کی جانب دیکھا۔۔
تھک گئے کیا؟ماہر نے آبرو اچکا کر پوچھا۔۔
نو سر،،
تو پھر رکیں کیوں سٹارٹ،، گارڈز پھر اس کی جانب لپکے۔۔
اے رک جاؤ،، جانتے نہیں میں کون ہوں ؟ رک جاؤ،، سٹاپ اٹ،،
مگر گارڈز اس پر پھر بھوکے شیروں کی طرح ٹوٹے تھے۔۔
مم، ماہر،، یہ،، سب،،روکیں اسے،،،، رواحہ کی حالت خراب ہو رہی تھی یہ خون خرابہ دیکھ کر تبھی اس کے سینے میں منہ دیا تھا۔

گارڈز پھر رکے،، مر مرا جائے گا سر،، ان میں سے ایک نے کہا۔
ہممممم،، لے جاؤ،، لے جا کر کسی گٹر میں پھینک دو،، ماہر نے کہا تو گارڈز نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کی جانب بڑھے جو زمین پر لیٹا بری طرح کراہ رہا تھا۔
سٹاپ،، ماہر نے کہا تو گارڈز کو رکنا پڑا۔
یس سر،،
لے جانے سے پہلے ایک کام کرو ؟مجھے اس کی زبان چاہیے،، وہ اطمینان سے بولا۔ رواحہ کی جان ہوا ہوئی۔۔ اور سختی سے اس کے سینے میں چھپ گئی۔
تمام گارڈز نے نگاہیں جھکائیں ہوئیں تھیں۔۔کسی ایک بھی جرأت نہیں تھی نگاہ اٹھا کر اس ہری بلا کی زندگی پر ڈالتا۔۔
اور رستم کے بھی رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔ اس بار شاید وہ غلط بندے سے الجھ بیٹھا تھا۔اسے تو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی تھی کہ اڈے سے اس کے ساتھ آئے گارڈز نے یہ پینترا کیوں بدلہ تھا آخر؟
تو کیا وہ جو پنجاب سے خود کو بڑی توپ چیز سمجھ کر آئے تھے ہر پل ان کی نگاہوں میں تھے ؟
ایک گارڈ سوئس نائف لیے رستم کے اوپر جھکا۔۔

نن،، نہیں،، نہیں،، ا،،، اب،،، نہیں بولوں گا،، چن،،،، مم،، مطلب،، کک،، کچھ،،، نہیں بولوں گا،، نن،،، نام،، بھی،، نہیں،، لل،، لوں، گا،، رستم گھگھیا گیا اور ہاتھ جوڑ کر بولنے لگا تھا۔۔
ماہر گہرا مسکرایا۔
اور اس کی منحوس شکل یہاں سے گم کرنے کا اشارہ کیا۔
گارڈز اسے گھسیٹتے وہاں سے لے جا چکے تھے۔ اور جاتے وقت اپارٹمنٹ کے کھڑکیاں دروازے دوبارہ بند کر کے جا چکے تھے۔

اب وہ پھر اپنی لرزتی کانپتی مارش میلو کی جانب متوجہ ہوا تھا۔ جو اس کی شرٹ کندھے سے اپنے آنسوؤں سے بھگو چکی تھی۔ تب سوہم نے اسے بازوؤں سے تھام کر خود سے الگ کیا تھا۔
ہیے روح دیکھ لو،، اچھی طرح سمجھ لو،، اور اپنے زہن میں بٹھا کر اپنا ہر ڈر نکال دو کہ ہمھارے ان دشمن کی میرے آگے کیڑے مکوڑوں جتنی اوقات بھی نہیں،، جنھیں مسلنے میں مجھے اٹھ کر ان تک جانے کی بھی زحمت گوارا کرنی پڑے،، سمجھ گئی ناں
اور اپنی شرٹ اتار کر صوفے پر اچھالی۔۔
ی،، یہ،، ک،، کیا کر رہے ہیں آپ،، وہ اثبات میں سر ہلاتی بوکھلائی

روح رونا بند کرو،، پہلے ہی تم ایک سزا تو اپنے نام کروا چکی ہو،، اب اگر رونا بند نہیں کیا تو یہ آنسو میں اپنے لبوں سے چنوں گا،،
ماہر نے وارننگ دی۔۔
کک،، کونسی سزا،، اسے سب کچھ بھول گیا،، اور سانس لفظ سزا پر اٹک گیا۔۔ ماہر سوہم خان اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا اس کا دھیان اس پر سے ہٹانے میں ،،
میں نے کہا تھا کہ اگر تم نے اپنی آنکھیں بند کیں تو سزا میں بیڈ روم میں جا کر دوں گا،، وہ اس کے بال کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے خمار آلود لہجے میں بولا۔

ماہر،، ابھی وہ کچھ کہتی جب. ماہر نے جھک کر اس کی آنسو اپنے لبوں سے چنے تھے۔۔ مگر جان ہوا تو تب ہوئی جب ماہر کے اس نازک وجود پر سرسراتے ہاتھوں نے اس کا اپر کندھوں سے نیچے کھسکایا تھا۔
رواحہ کا دل پسلیوں سے ٹکرایا،، غیر ہوتی حالت میں سانس لینا دوبھر ہو گیا۔ تب اس نے بے اختیار ہی اپنا منہ اس کے سینے میں چھپایا اور گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔
تب ماہر سوہم خان نے پھر اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔ وہ بری طرح گھبرائی تھی۔۔
ماہر،، آپ،،، ماہر نے اسے بیڈ روم لے جاتے ہی اس کے چہرے کے ایک ایک دلکش نقش کو چوما تھا۔ رواحہ نے اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی۔۔
ماہر بیڈ روم میں داخل ہونے لگا تھا جب رواحہ نے بوکھلا کر دروازے کا ہینڈل پکڑا تھا۔
مم،،، ماہر،، مجھے،، نن،، نہیں جانا،، اندر،،، وہ رونے والی ہوگی۔ماہر کا قہقہہ ضبط کرنے کے چکروں میں چہرہ سرخ ہو گیا۔

اس نے ڈور بند کر کے اسے دروازے پر ہی اتارا۔۔رائٹ پھر جو کچھ کرنا ہے ادھر ہی کر لیتے ہیں،،ویسے بھی مارش میلو تو ہو،،کہیں بھی ایڈجسٹ کر جاتی ہو،، ماہر کے شوشے پر رواحہ کے چہرے نے لہو چھلکایا۔
ماہر نے اس کے کندھے سے شرٹ نیچے کھسکا کر اپنے دہکتے لب رکھے تھے جب وہ جی جان سے لرزی۔ ماہر کے اب کے لمس میں رات سے زیادہ شدت اور ہاتھوں کی پکڑ میں ناقابلِ برداشت سختی محسوس کر رواحہ کی سانس حلق میں اٹک چکا تھا۔۔
مزاحمت کرتے رواحہ نے اپنے ہاتھ اس کے سینے پر رکھے تھے مگر وہ اس کی کلائیاں تھام دیوار سے لگا چکا تھا۔
بلکل ہوش سے بیگانہ ہوتے ماہر نے اس کے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیتے اپنی شدتیں بکھیری تھیں۔۔
کافی دیر وہ خود کو سیراب کرتا رہا۔ جب احساس ہوا کہ وہ بری طرح بے حال ہو چکی تو ماہر نرمی سے پیچھے ہٹا تھا اور دلچسپی سے اس کا لال قندھاری چہرہ دیکھا تھا۔
وہ پھر خود کو اس نرم و گداز وجود میں گم کرتا مگر فون پر بجنے والی ایک خاص بیل سے وہ بری طرح چونکا تھا۔

روح جلدی سے شال اڑھو ہمیں جانا ہے،، وہ کہتا تیز ہاتھوں سے موبائل، کیز اور والٹ اٹھاتا پاکٹ میں رکھنے لگا۔
کیا ہوا سب خیریت ہے ناں،، اس کی آنکھوں کے سبز شعلے جو ابھی ابھی بیل سنتے بجھ چکے تھے کہ ایک مرتبہ تو رواحہ کو بھی جھرجھری سی آئی تھی یہ ابھی کچھ دیر پہلے والا ماہر سوہم خان تو نہیں تھا۔
سب خیریت ہے جان،، جلدی کرو،، وہ اس کی جانب دیکھنے سے گریز ہی کر رہا تھا۔۔
رواحہ نے جلدی جلدی چادر اوڑھے ماہر نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے تیزی سے لیے باہر نکلا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر کافی دیر سے نایاب کے سینے سے لپٹا روئے جا رہا تھا۔۔اتنے برسوں کا غم غلط کرنا کون سا مشکل امر تھا۔
مجھے حقیقت معلوم ہو چکی ہے ماں،، آپ نے کتنا کچھ سہا ،،،کاش ایک چھوٹا سا اشارہ ایک معمولی سا سرا ہاتھ میں تھمایا ہوتا تو میں ان دشمنوں کو تختہ دار پر لٹکا دیتا،، ۔مگر آپ،،

ماہ بیر،، فجر کا ،،،خیال رکھنا،،،، آخری سی ہچکیاں محسوس ہوتی تھیں جو اس کمزور اور نحیف سے وجود کے منہ سے برآمد ہو رہی تھیں،، نایاب کو تو کچھ کرنا ہی نہیں پڑا تھا لقمہ اجل بننے سے پہلے مولا کریم نے اس کی مشکل حل کر دی تھی۔

ایسے مت بولیں آپ،، ابھی تو آپ کو اپنے نواسے نواسی کو گود میں کھلانا ہے،، پلیز ایسا مت بولیں،، غم سے کلیجہ پھٹا جاتا تھا۔
ماہ بیر کو اس آغوش میں بہت سکون محسوس ہو رہا تھا
مگر جلد ہی اپنے کندھوں کے گرد لپٹے ان مضبوط ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑتی محسوس ہوئی تو ماہ بیر کی روح فنا ہوئی۔۔
ماں،، لال انگارا آنکھیں لیے وہ چلایا۔۔
مگر یہی وہ مرحلہ تھا،، بلکل یہی جہاں وہ سو کالڈ
Executioners
بھی آ کر بلکل بےبس ہو جاتے تھے۔۔۔
وہ ہر غم اپنے سینے میں دبائے آخری بار بیٹی سے ملنے کی حسرت لیے دارِ فانی سے کوچ کر گئی تھی۔۔
ماہ بیر آج سہی معنوں میں تہی داماں ہوا تھا۔۔ وہ کافی دیر وہیں بیٹھا بے آواز آنسو بہاتا رہا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ رواحہ کو گھر چھوڑ کر ہاسپیٹل پہنچا تھا۔۔ جب اس نے ہاسپٹل میں قدم رکھے تو عجیب طرح کی ہلچل سی مچی تھی ہاسپٹل میں،،
وہ بھسم کر دینے والے انداز میں آگے بڑھا تھا۔

جبران وٹ ہیپنڈ،، کیا ہوا ایشان کو،، ڈیم اٹ،، سب میرا منہ دیکھ رہے یو کوئی بتائےگا کیا ہوا ہے اس کے ساتھ اور کیسے،، یا اپنے طریقے سے پتہ کرواؤں،، اس گرین مونسٹر کی دھاڑ پورے ہوسپیٹل میں گونجی تھی کہ سب تھرا اٹھے تھے۔
پاشا،، سوہم اور کبیر کو تو معلوم تھا وہ ایشان کے معاملے میں کتنا ٹچی تھا۔اسی لیے خاموش بیٹھے رہے پتہ تھا جب تک وہ اپنی بھڑاس نہیں نکالے گا سکون سے نہیں بیٹھے گا ۔
وہ مخاطب جبران سے تھا۔ گھور منی کو رہا تھا کہ اس نے بھی اسے نہیں بتایا تھا اور جان حلق میں روشے بےبی کی اٹکی تھی۔

تب جبران نے آگے بڑھ کر اسے حقیقت بتا دی تھی۔ مگر وہ آپے سے باہر ہی ہوا تھا یہ سن کر،،
منیب اس لڑکی کو لے جاؤ یہاں سے،، اس سے پہلے کہ میں اس کی جان لے لوں،،، لے جاؤ اسے،، وہ دھاڑا،، آروشے پھوٹ پھوٹ کو روتی اور نفی میں سر ہلانے لگی۔
نن،، نو میں،، ایش،،
شٹ اپ یو ،،،،،،،،،، گیٹ لاسٹ فرام ہئیر، منیب اب یہ مجھے ایشان کے آس پاس بھی دِکھی تو تمھاری چمڑی ادھیڑ دوں گا میں ،،کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو لے کہ جاؤ اسے یہاں سے،،
منی جھٹکے سے آگے بڑھی تھی اور اس کا بازو پکڑ کر گھسیٹتی اسے باہر لے گئی تھی۔۔
آریان نے منی کو اشارہ کیا تو اس نے سر ہلایا ۔۔ آریان نے اس کا بازو تھام کر اسے گاڑی میں بٹھایا تھا۔۔ سارے رستے وہ زاروقطار روتی رہی تھی۔۔
آریان کی بھی رگیں تنیں ہوئیں تھیں۔
غصہ تو سب کو ہی تھا اس پر،، مگر سب جانتے تھے کہ وہ ایشان کے لئے کیا ہے بس تبھی خاموش تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

چھ گھنٹے کے میجر آپریشن کے بعد بھی ڈاکٹرز نے تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا۔۔
پھر آخر ساتویں گھنٹے کے بعد کچھ ڈھنگ کی خبر ملی کہ وہ خطرے سے باہر ہے۔۔ سب نے ہی سکھ کا سانس لیا تھا۔۔ اور سب سے بڑی خوشخبری کی بات تو یہ تھی کہ پچھلی چوٹ کے بعد جو اس کی رگوں میں خون جم گیا تھا وہ بھی سرجری کے زریعے ٹھیک کر دیا گیا تھا۔ یعنی اب وہ مکمل صحت یاب ہو جائے گا اس کی امید بھی تھی ۔۔مگر ڈاکٹرز نے یہ بھی کہہ کر ڈرا دیا تھا کہ وہ کوما میں بھی جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ادھر نایاب کی ڈیتھ اور حقیقت معلوم ہونے پر ان سب کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی۔۔
کہیں بھی سکون نہیں تھا۔۔ ہر طرف اداسی اور مردنی سی چھائی تھی۔
اور ابھی تو انھیں سب سے بڑا مرحلہ جو پار کرنا تھا وہ فجر کو اس کی ماں کی موت کے بارے میں اطلاع دینا تھا وہ بھی اس حالت میں،،
یہ سوچ کر ہی ماہ بیر کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے کہ وہ کیسا ری ایکٹ کرے گی

Continue,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اے بھنڈی یہ سرپرائز اسپیشل تمھارے لیے😘😘😘😘