Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bloody Love Season 2

By Wahiba Fatima

وہ آروشے کو اپنے ہاتھ سے دوپہر کا کھانا کھلا رہا تھا۔ پاس ہی بیٹھی زمل روئے جا رہی تھی۔ مام پلیز،، وہ جھنجھلایا۔ ایشان تم سمجھتے کیوں نہیں،، آپ جےکے کو کیوں نہیں روک رہیں مام؟ اور بڑے پاپا آریان کو کیوں نہیں روکتے چھوٹا ہے وہ،،، وہ شکوہ کناں لہجہ میں بولا۔ جے کے کو وہ والا مسئلہ نہیں ،،اگر تمھاری طبیعت خراب ہو گئی تو،، زمل بھی جھلا کر بولی۔ ابھی وہ کچھ کہنے کہ لئے منہ کھولتا کہ تبھی کبیر روم میں داخل ہوا تھا۔ چلو ایش جانے کا وقت ہو گیا سب بیسمنٹ میں پہنچ چکے ہیں ،وہ سنجیدگی سے بولا۔ کبیر آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں، آپ نے کہا تھا کہ ہم صرف نکاح میں شرکت کے لئے پاکستان آئے ہیں۔۔اور تو اور بجائے ایشان کو روکنے کے اسے ساتھ چلنے کا بول رہے ہیں؟ تسلی رکھو زمل ،،ہم پر بھروسہ نہیں ہے کیا تمھیں، کبیر سنجیدگی سے بولا۔ یےےےےےےے،، ایش دیکھو مما پاپا فائٹ کر رہے ہیں۔ آروشے جو کب سے ان کی بحث معصومیت سے سن رہی تھی اب زمل اور کبیر کی بحث پر اچھلتی کودتی کلیپنگ کرنے لگی تو اتنی ٹینشن میں بھی وہ تینوں ہنس پڑے۔ ایشان نے اسے سمجھایا تھا کہ اس نے ان کو مما پاپا بولنا ہے۔

کبیر اس کے پاس آیا۔۔اور روشے بےبی کا ماتھا چوما۔زمل میری بیٹی کا ایسے ہی خیال رکھنا جیسے تمھارا بیٹا اس کا رکھتا ہے، تمھارے بیٹے کی قیمتی متاع حیات ہے یہ، سمجھ رہی ہو ناں،ایش کے جانے کے بعد تمھیں اس کا خیال رکھنا ہے وہ بھی بہت سارا،، کبیر نے جان بوجھ کر اس کا دھیان بٹانے کو اس کی توجہ آروشے کی جانب دلائی۔ ہاں مجھے تو جیسے پتا ہی نہیں،، وہ منہ بسور کر بولی۔ تو کبیر نے ہنس کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔ جبکہ آروشے ہونق بنی ابھی پاپا کے اس جملے میں اٹکی تھی ایش کہیں جا رہا ہے۔ اہہم اہممم،، ماما پاپا یار کچھ تو بچوں کا خیال کریں، میری تو خیر ہے بٹ آپ لوگوں کے اس رومینس سے میری روشے بےبی کے زہن پر نا الٹا اثر ہو،، وہ بے حد شرارت سے بولا تو کبیر جھینپ گیا جبکہ زمل نے ایشان کے بازو پر دھموکہ رسید گیا دونوں بہانے سے وہاں سے نکلے کہ آروشے کا ہوائیاں اڑا چہرہ دیکھ چکے تھے اب ایشان اسے اپنے طریقے سے سمجھا لے گا۔

تھا تو مشکل ہی،، کیونکہ اب تو وہ اس کی اس قدر عادی ہو چکی تھی کہ اسے زرا بھی کہیں جانے نہیں دیتی تھی۔اگر سوتے میں چھوڑ کر جاتا تو ایشان کی غیر موجودگی میں اس کی آنکھ کھلتی تو آروشے وہ ہنگامہ مچاتی کہ اسے سنبھالنا مشکل ہو جاتا کجا کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اسے جانے دیتی۔

ایشان الماری کی جانب بڑھا مگر اپنے پیچھے اسے سسکیاں سنائیں دیں تو ٹھٹھک گیا ۔ فوراََ پیچھے مڑ کر دیکھا تو آروشے زمین پر پاؤں پٹخ پٹخ کر رو رہی تھی ایک تو سب اس کو روکنے پر تلے بیٹھے تھے اور اب یہ کمزور کر رہی تھی۔ ایشان کی رگیں تن گئیں۔ بےدردی سے اپنے لب کچلے۔ اسی نازک غریب جان میں تو جان اٹکی تھی اس کی اور اگر اسے کچھ ہو جاتا تو؟ تو اس کا کیا ہوگا؟ بس یہ ایک سوچ تھی جس کے آگے وہ کچھ سوچ نہیں پا رہا تھا۔ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا۔جو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے میں مصروف تھی۔ کیا ہوا روشے بےبی کو، ایش گندہ ہے،، روشے بےبی کو چھوڑ کر جا رہا ہے،، علیزے آپو بھی نہیں آئیں،، ایش بھی جا رہا ہے،، نو،، نو،، میں نہیں جانے دوں گی ایش کو،، وہ ضدی لہجے میں بولی۔ ایشان نے ضبط کی آخری حدوں کو چھو کر صوفے پر بیٹھ کر اسے اپنی گود میں بٹھایا۔ یو نو واٹ روشے،، ایش اس لئے جا رہا ہے تاکہ روشے بےبی کہ لئے ڈھیر ساری چاکلیٹس، آئس کریم اور ٹوائز لے کر آئے۔ اس کی آنکھیں اس کی زبان کا ساتھ نہیں دیں رہیں تھیں مگر صد شکر کے اس کی گود میں بیٹھی وہ پگلی نادان تھی جسے وہ کھوکھلی باتوں میں الجھا سکتا تھا۔ سچی ایش،، وہ رونا بھول گئی اور بھیگی آنکھوں سے اب اس کی آنکھوں میں جھانک کر اس کی کہی گئی بات کا سچ تلاش کرنے لگی۔