Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2


جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
کہنا یہ تھا کہ بحثیت ایک رائٹر جو اپنے ارد گرد معاشرے میں ہوتے ظلم و ستم دیکھتی ہوں اسے لکھ کر لوگوں میں اپنے اچھے برے کی پہچان کرانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کرنا چاہتی ہوں ہو سکتا ہے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔
💓💓💓💓💓💓💓💖💖💖💖💖💖💖💖

خون سے سنے ہاتھ لیے وہ آئی سی یو سے ابھی ابھی ایک ہارٹ سرجری کر کے باہر آیا تھا۔۔
جبران مریض کے لواحقین کو تسلی دیتے کہ سرجری کامیاب ہوئی اپنے آفس میں آیا تھا۔۔

یہ ایک غیر معروف پرائیویٹ ہوسپیٹل تھا۔۔۔جس کے باہر بڑے جعلی حروف میں ٹرسٹ ہسپتال لکھا تھا،، جسے پڑھ کر،، لوگ اس ہسپتال میں کھنچے چلے آتے تھے۔۔

آ کر موبائل سے اٹیچ کر کے بلو ٹوتھ ڈیوائس اپنے کان سے لگایا تھا۔۔
جو مائیکرو فون اس نے ہوسپٹل کے مشکوک ڈیپارٹمنٹس میں لگائے تھے
وہاں سے باری باری اس نے آوازیں سنتے اپنا کام شروع کیا تھا۔۔

وہ سکون سے بیٹھے ایک دم چونکا تھا۔۔
لیبر روم کے باہر افراتفری کی سی آوازیں آئیں۔۔ جب ایک نرس کی آواز فون میں گونجی۔۔

ایک بکری پھر سے حلال ہونے پہنچی ہے،،، آواز میں اکسائٹمنٹ تھی۔۔

کہاں کیسے،،، یار،، دوسری نرس چونکی۔۔

ارے یہ جو اندر چیخ چلا رہی ہے،، شور مچایا خواہ مخواہ،،، وہ بیزاری سے بولی۔۔ ابھی اس کا سی سیکشن سے بےبی ڈلیور ہونے والا ہے۔۔

وہ بکری ،،،،،،مگر کیسے،،،،،،، اس کی تو بلکل نارمل ڈلیوری ہے،،، تو سی سیکشن کیوں،،،

ارے یہ تو ہمیں پتہ ہے کہ نارمل ڈلیوری ہے ان کے لواحقین کو تھوڑی پتہ ہے،،، اب دس ہزار کی بجائے اسی ہزار نکلوانے ہیں سی سیکشن کے،،ڈاکٹر ہما نے کہا ہے،،،،، پہلی رازداری سے بولی۔۔

مگر اسے تو بہت تیز لیبر پین ہے ،،،، کبھی بھی ڈلیوری ہو سکتی ہے،،، وہ چمک کر بولی۔۔

ہم لیبر پین روکنے کا انجیکشن لگانے والے ہیں یہ کہہ کر کے یہ لیبر پین تیز کرنے کا انجیکشن ہے۔۔
پہلی اکڑ کر بولی۔۔

بس اتنا ہی سن پایا تھا جبران،، اور بلو ٹوتھ اتار کر موبائل دیوار پہ دے مارا۔۔

کیسی لوٹ مار تھی،،، کیسی اندھیر نگری تھی۔۔ وہ اٹھا اور لیبر روم کی جانب گیا۔۔

اس لڑکی کو دیکھا جو بلکل کم عمر لگی۔۔پہلی پہل بے بی تھا اور اب اگر یہ قصائی زبح کر دیتے تو وہ آگے کبھی نارمل بےبی پیدا نہیں کر سکتی تھی۔۔
اسے ہر مرتبہ سی سیکشن کے تکلیف دہ ،،،دردناک مرحلے سے گزرنا پڑتا۔۔۔۔

اس نے سونیا کو جو اس کی ساتھی تھی اور یہاں نرس تھی خاص اشارہ کیا تو وہ سمجھ گئی۔۔

سونیا نے بڑی رازداری سے اس کے شوہر کو ایک جانب لے جا کر سب بتا دیا اور اسے کہا کہ اپنی بیوی کو لے کر یہاں سے نکلے۔۔

سمجھ دار تھا جو سمجھ گیا اس نے شور مچا دیا اور اپنی وائف کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔۔

جبران اپنے آفس میں آیا۔۔۔
یہی ہوتا ہے جب لوگ ٹرسٹ کے چکر میں اپنے مریض کو بغیر چھان بین کیے کسی غیر معروف ہسپتال میں لے کر آئیں،، اور مریض کی زندگی اپنے ہاتھوں سے داؤ پر لگا دیں۔۔

اس نے اپنی کنپٹیاں سہلائیں تھیں۔۔ ٹوٹے فون کو دیکھا۔۔
جھٹکے سے اٹھ کر باہر نکلا تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ایشان نے ایک مرتبہ ایڈریس ریڈ کر کے زہن نشین کر لیا تھا۔۔
اور اب وہ مسلسل ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔

یو نو واٹ انکل،،،، وہ اچانک بولنے لگی جب ایشان نے تنگ آ کر اسے ٹوک ہی دیا۔۔

ہیے میں انکل نہیں ہوں،،، وہ نروٹھے پن سے اسے گھور کر بولا تو وہ سہم گئی۔۔

تو پھر،،، کون ہو،، میں کیا بولوں،،، سٹرینجر کو،، وہ بھی آنکھیں پٹپٹپا کر پوچھ بیٹھی تو ایشان نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔

میں تمھارا فرینڈ ہوں،،،، تم مجھے ایش بول سکتی ہو،،، اوکے،،، ایشان نے دوستانہ لہجے میں کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا،،،

اوکے ایش،،،، تو کیا اب ہم فرینڈز ہیں،، اسے ایک اور پتے کی بات معلوم ہوئی تو آنکھوں میں چمک آ گئی۔۔

آف کورس،،، یس،،، اب ایشان گہرا مسکرایا،،،

تو ،،،،تو،،،فرینڈ سے تو سب باتیں بول سکتے ہیں ناں،، وہ اکسائٹڈ سی بولی۔۔

یس،، بولو کیا بولنا ہے،،، ایشان نے پرمیشن دی،،، ساتھ بیٹھی گلابی سی گڑیا جو قریباً اکیس سال کی ہوگی جانے کیا ہوا ہوگا اس کے ساتھ کہ۔۔
ایشان کی سوچ کا رخ اب دوسری جانب مڑ چکا تھا مگر وہ اس کی جانب بھی متوجہ تھا۔۔

یو نو واٹ ایش،،، روشے بےبی صبح سے لوسٹ ہو گئی تھی تو روشے بےبی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا،،، تو تم میرے فرینڈ ہو ناں،، مجھے آئیسکریم اور چاکلیٹ کھلاؤ،،، وہ معصومیت سے بولی۔۔

ایشان کو افسوس ہوا یہ بات اس نے پہلے کیوں نہیں سوچی تھی۔۔
ایک فاسٹ فوڈ پوائنٹ کے باہر اس نے گاڑی روکی۔۔
گاڑی سے باہر آیا،، گاڑی لاک کر کے وہ اندر گیا۔۔کھانا پیک کروایا اور باہر آیا۔۔

گاڑی میں میں بیٹھ کر اس نے سمال سائز پزے کا پیکٹ آروشے کو تھمایا۔۔

واٹ از دس ایش،،،، سر خوشی سے پوچھا گیا۔۔

روشے بےبی کے لئے کھانا ہے۔۔
وہ جلدی سے پیکٹ کھول کر پزا کھانے لگی تھی۔۔بچوں کی طرح آدھی چیز اس کے منہ پر لگ رہی تھی۔۔

ایشان دیکھ کر مبہم سا مسکرایا۔۔
ایک وہی تو تھا جس کی موجودگی سے لگتا تھا کہ وائٹ پیلس میں بھی اب زندہ انسان رہتے ہیں۔۔
نہیں تو سوہم خان،،، جے کے اور ماہ بیر تو لگتا تھا،،، برف کے پتلے ہیں جن پر کوئی چیز اثر ہی نہیں کرتی تھی۔۔

مطلوبہ ایڈریس پر پہنچ چکا تھا،،،گردن گھما کر دیکھا تو روشے بےبی پیٹ بھرنے پر جانے کب سے بھٹکی کب سے خوار ہوتی تھکن سے چور اب گہری نیند میں تھی۔۔
وہ روشے بےبی کے بارے میں اتنا سوچنے میں محو تھا،، کہ دیکھ ہی نہیں پایا تھا۔۔

اس نے ڈور بیل بجائی۔۔ تو ایک لڑکی لال بھبوکہ چہرہ لئے اندر سے برآمد ہوئی۔۔
چہرے سے برسوں کی مریضہ لگ رہی تھی۔۔
چادر اوڑھ رکھی تھی۔۔جیسے کہیں جانے کو تیار تھی۔۔
اس نے سوالیہ نگاہوں سے ایشان کو دیکھا۔۔

آروشے حمدانی کا گھر یہی ہے،،، اس نام پر سامنے والی نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایشان کو دیکھا تھا۔۔

ہاں للل،،، لیکن،،،،، تت،،،، تم ،،،کیسے،،، جانتے ہو،، وہ اٹک اٹک کر بولی،،

کیونکہ وہ میرے ساتھ ہے،، اس نے گاڑی کی جانب اشارہ کیا تو وہ تڑپ کر گاڑی کی جانب لپکی،،،
مگر اسے سوئے دیکھ وہ جانے کہا سمجھی تھی۔۔

یو،،،، کیا ہوا اسے،،،؟ کہاں ملی تمہیں،،، ؟ کیا کیا تم نے اس کے ساتھ،،،؟ یہ بے ہوش کیوں ہے،،،؟
وہ صدمے سے بے حال اب گلاس ونڈو سے باہر شیشے ہر دونوں ہاتھ ٹکائے بے تحاشا روتی جو منہ میں ایا بولے چلی جا رہی تھی۔۔

مائنڈ یور لینگویج محترمہ،،،، کیا اول فول بک رہی ہیں،، کچھ کرنے والے گھر نہیں لایا کرتے،،، مار کر پھینک دیا کرتے ہیں،،،
ایشان نے برا منایا
پھر اس کے بھی جو منہ میں آیا بول دیا۔۔تھک کر سو رہی ہے وہ جانے کب سے بھٹک رہی تھی۔۔

ائم سوری،، میں بہت ڈر گئی تھی۔۔میں صبح سے اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو چکی ہوں،،، پتہ نہیں کتنے برے برے خیال آئے دماغ میں،،، اب تھک ہار کر پولیس اسٹیشن جانے لگی تھی۔۔
وہ سسکتی بتانے لگی۔۔

تو تمھارای فیملی کو ہوش نہیں ہے کہ خیال رکھ سکیں کہ ان کی ابنارمل بیٹی جو بلکل اپنا خیال نہیں رکھ سکتی کدھر ہے اور کیا کر رہی ہے ،،وہ تلخ ہوا۔۔

اس کی پوری فیملی میں ہی ہوں اس کی بڑی بہن،،، اور میں جاب پر تھی۔۔ اور اس نے کل کھیلتے کھیلتے ڈوبلیکیٹ کی اپنے پاس رکھ لی تھی،، شاید اسی سے ڈور کھولا ہوگا۔۔

وہ سرد و سپاٹ لہجے میں بولی تو ایشان کو افسوس ہوا۔۔اس نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔
لے جائیے اسے یہ بلکل ٹھیک ہے،،، وہ نارمل سا بولا
تو اس کمزور سی لڑکی نے بے بسی سے آروشے کو دیکھا۔۔
وہ تذبذب کے عالم میں کھڑی رہی۔۔

کک،،، کیا،،، آپ،،، مم،،، میری،،، ہیلپ کر دیں گے،،، اس نے ہچکچاتے بول ہی دیا۔۔

شیور،، ایشان آگے بڑھا،، ایک مرتبہ تو ہچکچایا،،، جو کہ ساتھ کھڑی لڑکی نے بخوبی نوٹ کیا،،، اور سکون کا سانس لیا،، جیسے کچھ خاص سوچ کر پر سکون ہوئی ہو،،،

ایشان نے اس نازک سے وجود کو بازوؤں میں بھرا اور اندر کی جانب بڑھا۔۔

چھوٹا سا گھر تھا۔۔وہ اندر آیا اور اسے ایک کمرے میں لے جا کر بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔ نازک سی جان سے زبردستی نظریں چرائیں۔۔
پھر فورا پیچھے بھی ہٹ گیا۔۔
وہ اس کی ایک ایک حرکت باریک بینی سے آبزرو کر رہی تھی۔۔
آپ کون ہیں،،، لڑکی نے تجسس کے مارے پوچھا،،،

میں ڈاکٹر جبران کبیر ہوں،، ہارٹ سرجن ہوں،،، وہ اطمینان سے بولا۔۔اور جانے لگا۔۔
میرا نام علیزے ہے آروشے، کی بڑی بہن،،، پلیز بیٹھیں میں چائے پلا کر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔

اب علیزے کی بیمار آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔۔

آئم سوری مجھے ابھی کچھ ضروری کام ہے،،، پھر کبھی سہی،،، ایشان کی زبان پھسلی،،،

تو کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ دوبارہ بھی روشے بےبی سے ملنا چاہیں گے،،،،اور اس پگلی سے ملنے آئیں گے،،،،کیونکہ یہ جن لوگوں کو لائک کرتی ہے اور جن پر ٹرسٹ کرتی ہے انھیں کبھی نہیں بھولتی،،،،،، علیزے نے یاس بھری نگاہوں سے اس لمبے چوڑے ہینڈسم اور ڈیشنگ پرسنیلٹی کے حامل اس شخص کی پیٹھ کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

شیور میں ضرور آؤں گا۔۔۔
اس نے بھی اس کمزور سی لڑکی کے ہاتھ ایک امید کی ڈور تھما دی تھی۔۔
کہ اب تو ایشان بھی جاننا چاہتا تھا کہ روشے بےبی کے ساتھ ہوا کیا تھا کہ وہ ایسی ہو گئی تھی۔۔

اس نے گاڑی میں بیٹھ ایک آخری نظر اس گھر پر ڈالے گاڑی وہاں سے نکالی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر ضروری ثبوت ڈھونڈتے اب سوہم خان کو انفارمیشن دینے وائٹ پیلس آ رہا تھا جب فون رنگ ہوا۔۔
فون پر جگمگاتے نمبر کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے۔۔۔۔
مگر مجبوری تو یہ تھی کہ وہ اس فون کال کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔۔

فون یس کر کے کان کو لگایا تو ادھر سے بی جان کی سسکیوں کی آوازیں سنائی دی تھیں۔۔
اور یہی سنا کر انھوں نے اپنا خاموش پیگام دے کر فون رکھ دیا تھا۔۔
وہ جھنجھنا اٹھا۔۔
گاڑی کا رخ کراچی شہر کے بیرونی علاقے کے ایک گوٹھ میں موجود ھویلی کی جانب موڑی،،،،،

سنسان اجڑی ویران حویلی،،،
وہ گاڑی سے نکلا،،،، سن گلاسز نکال کر پاکٹ میں رکھی۔۔اور پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے اندر بڑھا۔۔ اندر اٹھتے وحشت اور اشتعال کے طوفان کو اندر دبا رکھا تھا۔۔ جس سے ماہ بیر کے اعصاب چٹخ رہے تھے۔۔
وہ یہاں آنا نہیں چاہتا تھا۔۔مگر،،،،،

ویران حویلی میں اس کے بوٹوں کی دھمک گونجی تو ایک ننھی سی جان کی جان پر بن آئی تھی۔۔

فجر اوپر سے تیز بھاگی،،، نیچے آئی،،، اور بی جان کے ساتھ والے روم میں چھپ گئی۔۔
کیونکہ اس حادثے کے بعد وہ صرف ایک بار ہی اس کے سامنے آئی تھی۔۔
اور اس شخص کے ہاتھوں مرتے مرتے بچی تھی۔۔
کانوں میں ایک بھاری غراہٹ گونجی،،،
اب اگر زندگی میں کبھی میرے سامنے آئیں یا مجھے اپنی شکل دکھائی وہ دن تمھاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔۔ فجر ماہ بیر راسم،۔۔۔

وہ ہلکی دستک دے کر بی جان کے کمرے میں داخل ہوا۔۔
انھوں نے اسے اشارے سے پاس بلایا تھا۔۔وہ قریب گیا تو اسے چٹا چٹ چوم ڈالا جس سے اس کی وحشت میں اضافہ ہی ہوا تھا۔۔

کچھ پرانے طرز کی بنی حویلی کے ساتھ والے کمرے کی سیمنٹ کی بنی جالی دار کھڑکی سے چوڑیوں کی چھنک سنائی دے رہی تھی دل کیا پوری حویلی کو آگ لگا دے۔۔

کیسی طبیعت ہے آپ کی نانو جان،،، بھاری آواز خاموش کمرے میں گونجی۔۔

کبھی بھی بلاوا آ سکتا ہے ماہ بیر،،، اور میرے بعد اس کا کیا ہوگا یہ سوچ مجھے چین سے مرنے بھی نہیں دے گی۔۔جھریوں زدہ چہرے پر سے آنسو تواتر سے بہے۔۔۔

اس زکر سے اس کی رگیں تن گئیں تھیں۔۔چہرے پر چٹانوں جیسی سختی چھائی۔۔

کسی اچھے سے لڑکے سے شادی کرا دوں گا،،، وہ بے تاثر سرد لہجے میں بولا۔۔

یہ سن کر فجر نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے تھے۔۔ وہ اسی کمرے کی جانب گئی۔۔جہاں سے اس سب کی شروعات ہوئی تھی۔۔

بی جان شاکڈ سی اس پتھر کو دیکھتی رہیں،،، ماہ بیر پاگل ہو گئے ہو،،، اپنی منکوحہ کی کسی اور سے شادی کراتے غیرت نہیں آئے گی تمھیں ۔۔۔وہ آخر پھٹ پڑیں،،،

غلطی کی آپ نے بی جان ،،،بہت بڑی غلطی،، وہ کہتا جھٹکے سے وہاں سے اٹھا تھا اور اس روم کی جانب گیا جہاں سے وہ اپنی نفرت اور وحشت کو ہر بار نئے سرے سے تازہ کر کے جاتا تھا۔۔

وہ اس کمرے میں تھی۔۔باہر بوٹوں کی آواز اپنی جانب کمرے میں آتی سنائی دی تو اسے اپنی موت بلکل سامنے نظر آئی۔۔
تیزی سے دروازے کے پیچھے چھپ کر اپنا منہ پر زور سے ہاتھ رکھے۔۔کہ کہیں کوئی سسکی کوئی چیخ ہی نا منہ سے نکل آئے۔۔

وہ کمرے کے بیچ و بیچ اب پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اس کی جانب پیٹھ کیے سامنے دیوار کو گھور رہا تھا۔۔
بیشک اس نے اپنی چیخوں کا گلا گھونٹا ہوا تھا مگر پھر بھی وہ executioner
جان گیا تھا کہ اس کے علاوہ بھی روم میں وہ موجود ہے۔۔

اس نے پیچھے مڑ کر ایک مرتبہ پھر اپنے آہنی ہاتھ سے اس کا گلا دبوچا تھا۔۔
اس کی وارننگ سے عرصہ دراز کے بعد آج وہ پھر اس کے سامنے تھی۔۔
اپنی تمام تر نزاکت راعنائی اور خوبصورتی سمیت۔مگر اس پتھر پر ہلکی سی بھی خراش نہیں آنے والی تھی۔۔

کہا تھا نا میرے سامنے مت آنا،،، اس کمرے میں مت آنا،،، زندگی سے پیار نہیں تمھیں یا جلدی مرنے کا شوق ہے،،، کیوں آتی ہو میرے سامنے جب جانتی ہو کہ تم سے نفرت کرنے کے علاوہ زندگی میں کچھ کیا ہی نہیں ماہ بیر راسم حفیظ نے ،،،،،

وہ لال انگارا آنکھیں لیے اسے گھور رہا تھا۔۔۔ ایسے جیسے ابھی اسے ادھیڑ دے گا یا روند ڈالے گا،،،

چچ،،، چھوڑیں،،،،،، مم،،، مجھے،،،، گردن پر بڑھتے دباؤ کی وجہ سے وہ تڑپی۔۔۔ لہو چھلکاتا چہرہ اور نیر بہاتی بڑی بڑی آنکھیں،، اوپری ہونٹ کے اوپر کالا سیاہ چھوٹا سا قاتل تل۔۔۔
مگر اس بے حس کو اس نازک جان پر رحم نہیں آنے والا تھا جلد ہی وہ ہوش و خرد سے بیگانہ جب اس کے ہاتھ کے اوپر جھول گئی تو ماہ بیر کو ہوش آیا۔۔

فوراً ہاتھ پیچھے ہٹایا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔۔
وہ اس کے قدموں میں ڈھیر ہوئی تھی۔۔صرف بی جان کے خیال سے پنجوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اس نے اس کی نبض ٹٹولی تھی۔۔
جو بہت آہستگی سے چل رہی تھی۔۔
وہ ایک خونخوار نگاہ اس پر ڈالتا باہر نکلتا چلا گیا تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ ایک بہت بڑا بنگلہ تھا جہاں باقی لڑکیوں کے ساتھ چندہ کو بھی ساتھ لایا گیا تھا تاکہ وہ مستقبل میں ہونے والی محفلوں کے
آداب سیکھ سکے۔۔
کیونکہ اس کی منہ دکھائی کی رسم میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا۔۔

رانی بائی نزاکت سے اسے چھوٹی چھوٹی باتیں سکھا رہی تھی۔۔
کس طرح اٹھنا ہے کس طرح بیٹھنا ہے
ادائیں کیسے دکھانی ہیں،،
بولا چال رنگ ڈھنگ میں نزاکت کیسے لانی ہے۔۔

اسے ہر چیز دکھائی اور سمجھائی جا رہی تھی۔۔کچھ ہی دیر بعد رستم دادا پہنچنے والا تھا اور اسے ابھی سے دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔

چندہ رانی بائی سے اجازت لے کر بنگلہ گھوم پھر کر دیکھ رہی تھی۔۔
تبھی باہر آئی تھی۔۔

باہر گیٹ پر ایک بوڑھا بابا تھا جو چوکیدار تھا ۔۔وہ حسرت سے گیٹ کو دیکھے جا رہی تھی جب حیرت سے گنگ ہوئی۔۔

بوڑھا بابا اسے آنکھ سے اشارہ کر رہا تھا کہ گیٹ کراس کر جاؤ،،، اسے حیرت ہوئی،،
بابا جی نے پھر اشارہ کیا،،،
بھاگ جاؤ،،

وہ دوپٹہ اچھی طرح خود سے لپٹائے گیٹ کراس کر گئی تھی۔۔
یہ جانے بغیر کی اس کے یہ قدم اس کے سر پر کتنی قیامتیں ڈھانے والی ہے۔۔۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

گہری رات میں پاشا ایک ملگجے سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔
صبح کے مقابلے اب وہ کافی تھکا تھکا لگ رہا تھا۔۔

مگر جو وجود سامنے تھا اس کے قدموں میں بیٹھنے سے اسے سجون حاصل ہو سکتا تھا۔۔

جھریوں زدہ پرنور سے چہرے سمیت ریشماں پاشا کو دیکھ گہری مسکرائی تھی۔۔ جس نے اب بس ہر وقت عبادت کے لئے گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی۔۔

ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔

تو وہ دھیمے قدموں سے چل کر آتا اب ہمیشہ کی طرح ریشماں کے قدمون میں بیٹھ چکا تھا۔۔

کیا ہوا بچے پریشان ہے،، وہ سکون سے بولی،،

وہ چاروں اپنی زندگی خراب کر رہیں ہیں ریشماں،،،، وہ جو کر رہے ہیں وہ غلط ہے،، انتقام،،، بدلہ،،، خون خرابہ اور بس کچھ نہیں،،، آپ کے لاڈلے سوہم خان کا خون ماہر خان،،،، جو سوہم خان بن کر ایک سفاک قاتل بن چکا ہے۔۔
راسم کا ماہ بیر جو جیتی جاگتی لاشیں بچھانے والی مشین ہے،، اور میرے کبیر کے ایشان اور جبران مسیحا ہونے کے باوجود بے رحم قاتل ہیں ،،،ریشماں میں کیا کروں،،،
پاشا بے بسی سے بولا تو ریشماں مسکرائی۔۔

جانتے یو پاشا آج سے چھبیس سال پہلے مجھے تم چاروں کی جانب سے بھی یہی فکر لاحق تھی مگر پھر تم لوگوں کی زندگی میں ایسا کچھ ہوا کہ سب کچھ بدل گیا،،، ٹھیک ہو گیا،، دیکھنا اب بھی یہی ہوگا۔۔

ریشماں آپ سمجھ نہیں رہیں،،، یہ آپ کے پوتے تو جانے کس مٹی کے بنے ہیں جن ہر کوئی چیز اثر ہی نہیں کرتی،،،
وہ جھنجھلایا۔۔۔

ارے فکر نہیں کرو،،، مجھے لگتا ہے،،،میرا دل کہتا ہے کہ وہ وقت قریب آ رہا ہے جب وہ ٹوٹیں گے،،، جھکیں گے،، بکھرے گے،،، اور پھر سمٹ جائیں گے،،، دیکھنا تم،، وہ سکون سے بولیں تو پاشا نے ایک ٹھنڈی سی سانس بھری۔۔

یہ تو وقت نے ہی طے کرنا تھا کہ کیا ہونے والا تھا کیا نہیں۔۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ منی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا وائٹ پیلس لوٹ رہا تھا۔۔ منی سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتی تھی ۔

منی سے جیسے اس کا جنم جنم کا رشتہ تھا،، جیسے وہ جانے کتنی زندگیوں سے آپس میں خون کے رشتے سے جڑے تھے۔۔

اگلے ہفتے جس کام سے لاہور جانا ہے اس کے لئے تیار ہو منیب،،، اس نے منی کو مخاطب کیا۔۔۔

ہاں تیار ہوں،،،،

سوہم ائیر پوٹس کان میں لگائے محتاط ڈرائیونگ کر رہا تھا جب ایک جھماکے سے کوئی چیز آ کر گاڑی کے بونٹ سے ٹکرائی تھی۔۔

واٹ دا،،،، وہ چیخا،،، اور گاڑی سے باہر آیا۔۔
سامنے ہی زمین پر ایک لڑکی پڑی تھی شاید سر پر چوٹ آئی تھی

انھیں گاڑی سے نکلتے دیکھ وہ گھبرائی تھی اور بھاگنے کے چکر میں تھی۔۔
تبھی سوہم کے اشارہ کرنے پر منی نے اس کا بازو دبوچ کر گرفت میں لیا۔۔

اس کے ہاتھ میں چھوٹا سا سفری بیگ دیکھ سوہم کا دماغ گھومہ تھا۔۔
بھاگ رہی ہو گھر سے،،،،، وہ دھاڑا۔۔
منیب اس کی ٹانگیں توڑ دو،، سگنل پر بھیک منگوانے کے لئے کیسی رہے گی۔۔
وہ سکون سے بولا۔۔

پرفیکٹ،،،، منی نے کہا۔۔۔
تو لڑکی کے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔۔

Continue,,,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓