Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

آج دس دن ہو چکے تھے نایاب کو گئے مگر ماحول کی افسردگی کسی طور کم نہیں ہوئی تھی۔
ہوتی بھی کیسے ایک تو ایشان کوما سے باہر نہیں آیا تھا اوپر سے ماہ بیر نے فجر سے ملنے اور اس کے پاس جانے کی کوشش کی تھی تو فجر نے طوفان مچا دیا تھا کہ ایک مرتبہ تو ریشماں بھی گھبرا گئیں تھیں۔
وہ چیختی چلاتی اپنے ہی بال اور منہ نوچنے لگی تھی اور پھر بے ہوش ہو گئی جے کے نے سختی سے کہا تھا کہ اب اگر زرا بھی اس کی مرضی کے خلاف کچھ کیا یا اسے سٹریس پہنچا تو اس کا بچہ بلکل نہیں بچ پائے گا۔ ہوش میں آنے پر اس نے ریشماں سے صاف الفاظ میں بول دیا تھا کہ اگر وہ اس کے سامنے آیا تو وہ خود کو اور اپنے بچے کو ختم کر لے گی۔

ماہ بیر کے پیروں نیچے سے زمین کھسک چکی تھا۔ آج دس دن ہو چکے تھے اس ظالم نے ایک جھلک بھی نہیں دیکھنے دی تھی خود کی۔۔وہ کسی صورت مان کے نہیں دے رہی تھی۔۔ اور تو اور وائٹ پیلس واپس بھی نہیں لوٹی تھی۔ حویلی میں اس کے پاس روحا سوہم ،خان، آروشے، عاشی، اور شیلا رک گئیں تھیں زبردستی۔۔ آروشے بھی فجر کے پاس حویلی چلی آئی تھی۔۔

ماہ بیر کے سینے میں سانس الجھی ہوئی تھی۔ دس دن ہو گئے تھے اس نے اپنے کمرے میں قدم بھی نہیں رکھا تھا اپنے آفس میں ہی بیٹھا رہتا یا پھر ابراہیم ہاؤس چلا جاتا۔۔ صبر کے گھونٹ پینے کے علاوہ کوئی چارہ نا تھا کیونکہ وہ اب اپنی محبت اور بچے کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ریشماں نے حکم دیا تھا اسے کہ وہ فجر کی مرضی کے خلاف اس سے نہیں ملے گا۔۔

وہ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے۔ کیس فائل ہو چکا تھا۔ ماہ بیر ان کو کیس کی ڈیٹلز بتا رہا تھا۔۔
کہ پھر اتنے دنوں کے حبس زدہ ماحول میں ایک خوشگوار خبر تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی۔ جب ماہر کے فون پر جےکے کی کال آئی اور اٹینڈ کرنے پر یہ خبر ملی کے ایشان کو کوما سے باہر آ چکا ہے اور اب ہوش میں ہے،،

رئیلی،، دیٹس گریٹ جبران،، آئی ایم سو ہیپی،، ماہر نے کہا تو سب نے اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔
ایشان کوما سے باہر آ گیا ہے،، ہوش میں اور بلکل ٹھیک ہے،، ماہر نے کہا تو سب کے چہرے پر ایک خاص چمک سی آئی۔۔
وہ ہر کام پسِ پشت ڈال کر ہاسپٹل کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

شفا اس خالی سے کمرے میں منہ بسورے بیٹھی تھی سب بہت اچھے تھے اس کا خیال رکھتے تھے۔وہ کالج بھی جا رہی تھی مگر اسے اپنے پاپا یاد آ رہے تھے۔ یہاں بہت مشکل سے ایڈجسٹ ہوئی تھی۔ شروعاتی دنوں میں تو اسے نیند بھی اتنی مشکل سے آتی تھی۔۔ایک چیز سے بھی وہ بری طرح جھنجھلاہٹ کا شکار تھی اور وہ یہ کہ ایک شخص کی سوچیں اور اس کے لئے خاص قسم کی فیلنگز اس کے دل و دماغ کو آکٹوپس کی طرح جکڑ رہیں تھیں۔۔ اپنے پاپا کے پاس تو ابھی خود رو رو کر چیزیں مانگتی تھی اور کہاں اپنی جان ان جھمیلوں میں پھنسا بیٹھی تھی۔جس سے وہ دامن بچانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی مگر کچھ کر نہیں پا رہی تھی۔۔
اپنے پاپا کے لیے بہت فکر ہو رہی تھی اسے۔۔

اب بھی وہ انھیں بہت زیادہ مس کر رہی تھی۔ اور صوفے پر بیٹھی انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔تبھی اس نے گاڑیوں کی آوازیں باہر جاتی سنیں تھیں ۔۔یقینا وہ کہیں جا چکے تھے تو گھر ہو کر آنے کا خیال اسے آیا یہ جانے بغیر کہ وہ سیف کتے کی طرح گھات لگائے بیٹھا رہتا تھا کہ کب وہ سکیورٹی کے بغیر باہر نکلے اور وہ اسے اپنے قبضے میں لےلے۔۔

وہ دبے قدموں اپنے روم سے باہر نکلی اور سیڑھیاں اتر کر سیکنڈ فلور سے نیچے آئی پیچھے کی جانب کے بنے کوریڈور میں سے گزر کر وہ پچھلے لان میں نکلی۔۔ ایک نظر شاروں طرف دیکھ کر اس نے لان میں قدم رکھا ۔ ابھی پچھلے گیٹ کے پاس پہنچی تھی جب وہ جن گیٹ سے نکل کر سامنے آیا۔۔
کدھر فاقے زدہ چھپکلی؟ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے وہ اطمینان سے اس کے سامنے پھیل کر کھڑا تھا۔

ہٹو سامنے سے وائٹ چلغوزے،، میں جدھر بھی جاؤں تمھیں اس سے کیا؟ وہ بھی سنجیدگی سے بولی۔
نہیں ہٹوں گا کیا کرو گی؟
میں تمھارا سر پھاڑ دوں گی،، اس نے دانت کچکچائے۔
ہوووووووو،،، میں تو ڈر گیا،، کوشش کر کہ دیکھو،،، آریان نے چھیڑا۔
تو وہ بھنا کر اس پر جھپٹی،، اب وہ اس پر مکے اور پاؤں سے کک رسید کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر وہ بہت تیزی سے ایک ہی جگہ کھڑا مسکراتے اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔
کچھ ہی دیر کی تگ و دو کے بعد آریان نے مضبوطی سے اس کی کلائی پکڑی تھی اور اسے لئے اس کے کمرے میں آیا۔۔

کمرے میں آ کر اسے بیڈ پر پٹخا۔۔ اپنی بے بسی پر شفا رو دی۔ اووو، چچ، چچ،،(آریان نے افسوس کیا )امید نہیں تھی یہ شیرنی بھیگی بلی بن جائے گی،،وہ تمھارا کزن بردر باہر تمھاری تاک لگائے بیٹھا ہے کہ کب تم باہر نکلو اور کب وہ تمھیں پکڑ لے،،،،، وہ آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا۔
شٹ اپ یو،، تمھارے پاپا تم سے بدگمان ہو کر تم سے نفرت کر کے تمھاری انسلٹ کر کے تمھارے کردار کو مشکوک ٹھہرا کر تمھیں گھر سے نکالتے تو تب میں پوچھتی تمھیں،، شفا نے اپنی بھڑاس نکالی۔۔
شادی کرو گی مجھ سے،،اپنے پاپا سے اس انسلٹ کا بدلا لینے کے لئے،، آریان نے کہا تو اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے بیٹھے اس پاگل بندے کو ملاحظہ کیا۔۔ جو سوال گندم جواب چنا کی طرح الٹی ہی ہانک رہا تھا۔
اونہووووں،، تاکہ ان کا شک یقین میں بدل جائے کہ ہمارا چکر چل رہا تھا،،
تو کیا نہیں چل رہا تھا،، آریان نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تو وہ جانے کیوں بے اختیار گڑبڑا گئی۔۔

مم،، مطلب،، کیا بکواس ہے،، کب چل رہا تھا،، سچ بولتے ہوئے بھی اس کی زبان لڑکھڑائی۔
تب آریان اپنی جگہ سے جھٹکے سے اٹھا تھا۔ اسے بازوؤں سے دبوچ کر اپنے روبرو کھڑا کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
میری بات غور سے سنو،، وہ تم ہو جس نے مجھے بے حد ڈسٹربڈ کر رکھا ہے،، وہ تم ہو جس نے میرا چین سکون سب برباد کر دیا ہے وہ تم ہو جس کی وجہ سے میں اپنے کام پہ کانسٹریٹ نہیں کر پاتا،پاس آتی ہو تو سکون میں رہتا ہوں دور جاتی ہو جیسے عذاب میں پھنس جاتا ہوں،، اب تمھیں ہی اس کا حل نکالنا ہے مجھ سے شادی کر کے،، آئی بات سمجھ میں کہ نہیں،،

دا گریٹ آریان پاشا ابراہیم اظہار محبت بھی کر رہا تھا اور وہ بھی غنڈوں والے سٹائل میں،، شفا کو سانپ سونگھ گیا کیوں اب وہ جس طریقہ سے اسے دیکھ رہا تھا،، شفا کے لئے ناقابلِ فہم تھا۔
وہ اس کے بازو چھوڑ کر واپس گیا تھا۔ اور اپنے روم سے میڈیکل باکس لایا ۔۔دس دن میں زخم کافی مندمل ہو چکا تھا۔ ڈریسنگ مسلسل اسی نے کی تھی۔۔
اب بھی وہ اس کی ڈریسنگ کر رہا تھا۔۔اور شفا چور نگاہوں سے اس خبرو اور ڈیشنگ سے بندے کو دیکھ رہی تھی جس کی نگاہوں میں اسے اپنے لئے ہمیشہ عزت و احترام نظر آیا تھا۔
نظر لگاؤ گی فاقے زدہ چھپکلی،، وہ مزے سے بولا تو شفا نے نگاہ پھیر لی۔
وہ بھی خاموشی سے باکس اٹھا کر ایک گہری نگاہ اس پر ڈال کر کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔
شفا کو اس کا طریقہ عجیب لگا تھا وہ سب کہنے کا ، اگر اس نے اقرار نہیں کیا تھا انکار بھی ہر گز نہیں کیا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہر سوہم خان اور وہ ہاسپٹل پہنچے تھے۔۔ یوں تو سب ہی خوش تھے مگر جو خوشی کی چمک ماہر اور جےکے کے چہروں سے ظاہر ہو رہی تھی وہ شاید ہی کسی اور کے چہرے سے ظاہر ہو رہی ہو۔
ماہر اس کے قریب بیٹھا اس سے دھیمے دھیمے باتیں کیے گیا۔۔جب وہ سب آئے تھے اس نے ایک نظر دروازے پر ڈالی تھی مگر اس کی نگاہ مایوس ہو کر واپس لوٹی تھی۔۔
جلد ہی اس نے ڈسچارج لے لیا تھا کہ وہ اکتا گیا تھا ہاسپٹل لیٹے لیٹے۔

وہ سب اسے لیے وائٹ پیلس لوٹے تھے۔۔
ماہر نے اس کے ضد کرنے کے باوجود اسے لا کر اس کے روم میں بیڈ پر لٹا دیا تھا۔ اور خود پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا۔ اب وہ ایپل کاٹ کر پلیٹ میں رکھتا جا رہا تھا اور ایشان کے کڑوے کڑوے منہ بنانے کے باوجود اسے کھانے کے لئے فورس کر رہا تھا۔۔
ایشان نے وائٹ پیلس لوٹ کر ایک گہری نظر سے چاروں اور دیکھا تھا۔ مگر نگاہیں جس کی متلاشی تھیں۔ وہ کہیں نہیں دکھی تھی۔۔وہ جسے اس کی ایک ایک بات یاد تھی یہ بھی کہ روشے نے کہا تھا اسے سب ڈانٹ رہے ہیں ،،سب رلا رہے ہیں،،
وہ سب یہ کیوں کر رہے تھے وہ بھی ایشان جانتا تھا کہ سب اس چوٹ کا زمہ دار آروشے کو سمجھ رہے ہوں گے۔مگر حقیقت کیا تھی یہ تو بس ایشان جانتا تھا۔

اب بھی ایپل کا ٹکڑا منہ میں رکھتے وہ کب سے ادھر ادھر اور دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا۔
آروشے کدھر ہے بھائی،،،
تمھیں پتہ ہے ایشان،، میں نے رستم کا کیا حال کیا، سچ مجھے تو ہنسی آ رہی تھی اس کی حالت پر،،، ماہر نے مصروف سا کہا۔
میں نے پوچھا آروشے کہاں ہے بھائی،، اب اس نے سنجیدگی سے قدرے اونچی آواز میں پوچھا تھا۔۔
یو نو واٹ ایشان،، ہم نے کیس فائل کر دیا ہے اب جلد ہی یہ،،

بھائی آپ میری بات اگنور کرنے کی کوشش کیوں کر رہیں مجھے بتائیں آروشے کہاں ہے،، مجھے فکر ہو رہی ہے،، وہ اکتا کر بولا۔

Eshaan Forget it,, She’s not deserve you. She is very selfish,,,,
چھوڑ دو اسے،،، ماہر سوہم خان نے اطمینان سے کہا،، ایشان نے بے یقینی سے اس گرین مونسٹر کو دیکھا۔
کیا آپ چھوڑ سکتے ہیں رواحہ بھابھی کو،، ایشان کے سوال نے ایک مرتبہ تو اسے سن کر دیا تھا مگر اس نے ایشان کو سمجھانے کی خاطر بے حسی سے اپنے دل کو پاؤں نیچے کچلتے جھوٹ بولا۔

ہاں چھوڑ سکتا ہوں،،،آسانی سے چھوڑ سکتا ہوں، تم اچھی طرح جانتے ہو ہم کون ہیں،، ہمارا جینے کا مقصد کیا ہے،، ہمارا کام،، یہ عشق پیار محبت صرف وقتی طور پر گھر تک بس،،سکون حاصل کرنے کے لئے،، باہر ہم جو ہیں بس وہ ہیں،، سن لیا میرا جواب اب تم جواب دو،،
اور اس سے پہلے ایشان جواب دیتا چھناکے سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز سے دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔

وہ جو ایشان کے لئے خوشی خوشی سوپ لا رہی تھی یوں لگتا تھا جیسے پگھلا ہوا سیسیہ اس کے کان میں انڈیلا گیا ہو۔ اور اب کھڑی پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ رہی تھی۔
آخر کتنے روپ تھے اس شخص کے،، کس پر اعتبار کرتی۔ کتنی آسانی سے اسے چھوڑنے کی بات بولی تھی اس نے ۔ کتنی بےدردی سے اس کی ذات کو بے وقعت کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس اور نسوانیت کی دھچیاں بکھیری تھیں۔۔
دس دنوں سے اس نے ڈھنگ سے اسے وقت نہیں دیا تھا ۔راتوں کو ہاسپٹل ہوتا دن میں جانے کونسے جمھیلوں میں الجھا رہتا تھا۔ رواحہ نے کمپرومائز کیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی وجہ سے پریشان ہے اور اب یہ سب،،،

ہیے روح میرا وہ مطلب،،،، وہ اٹھ کر اس کی جانب بڑھا مگر وہ منہ پر ہاتھ رکھتی الٹے پیروں وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔
وہ اپنے کمرے میں آنے کی بجائے منی کے روم میں آ کر دروازہ لاک کر کے فرش پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔
منی واش روم سے باہر نکلی تو اس کی جانب لپکی۔
اے کیا ہوا تجھے،، مارش میلو،، منی اس کے قریب آئی تب وہ ضبط کھوتی ہوئی اس سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔

ادھر ایشان نے اس گرین مونسٹر کی آنکھوں سے شعلے نکلتے صاف دیکھے تھے۔
بھائی یہ کیا کیا آپ نے،، ایشان جھنجھلایا۔ وہ سرخ آنکھیں لیے ایشان کے کمرے سے تو کیا وائٹ پیلس ہی باہر نکلتا چلا گیا۔اچھی طرح جانتا تھ جو بگاڑ دیا ہے اس پھر سے سنوارنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔
دل دکھایا تھا اس نازک سی جان کا اب دل تو کر رہا تھا خود کو ہی آگ لگا دے۔ منی کے روم کے آگے سے گزرتے دلدوز سی سسکیوں نے گرین مونسٹر کی جان حلق میں اٹکائی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

مفرا دن رات کی سر توڑ محنت اور جان مارنے کے بعد اب وہ اینول سمسٹر کے لئے ریڈی تھی اور یہ سب ممکن ہوا تھا جبران کی انتھک محنت کی وجہ سے ۔ دن با دن اس کے دل میں جبران کے لئے محبت پروان چڑھتی جا رہی تھی۔ اسے معلوم ہوا تھا ایشان کے بارے میں تو وہ وائٹ پیلس چلی آئی تھی۔ مگر جبران نے اسے بول دیا تھا کہ تم بے فکر رہو اور اپنی پڑھائی پر کونسٹریٹ کرو۔

وہ تو فجر کے پاس حویلی بھی جانا چاہتی تھی مگر جبران بس اسے فجر سے ملوا کر واپس لے آیا تھا۔ جب اس نے فجر کے پاس رہنے کی ضد کی تو جبران نے دھمکی دی کہ وہ اسے سعد کے پاس بھیج دے گا تب وہ واپسی کے لئے مانی تھی۔۔ وائٹ پیلس سعد سے ملنے کے لئے بھی چلی جایا کرتی تھی۔۔ نرما نے اس کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کر لی تھی۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔
آج کالج میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا تھا۔
جس میں اسے بھی سپیچ دینی تھی اس نے سخت محنت کی تھی۔
ایوننگ فنکشن تھا۔ وہ مکمل تیاری کے ساتھ کالج گئی تھی۔

ادھر جبران کو مسلسل کمپلینز ملیں تھیں کے مفرا والے کالج میں کچھ غنڈے اندر گھس کر ایک لڑکی کو ہراساں کر رہے تھے آج جب وہ ایشان کی جانب سے بے فکر ہوا تو آج ان غنڈوں سے نمٹنے کا وقت آن پہنچا تھا یہ جانے بغیر کے ان سب
Executioners
کے ستارے گردش میں ہیں تو ابھی وہ مفرا کے کالج میں جا کر کچھ نا ہی کرے تو بہتر ہے۔ وہ تو یہ بھی بھول گیا کہ آج سیمینار ہے اور مفرا وہاں موجود ہوگی۔

وہ اپنی سپیچ دے کر آئی گیا۔
بے تحاشا کنفیوز تھی۔ تبھی واش روم کی جانب آئی تھی۔ جو کالج کی بیک سائیڈ پر تھا۔ وہ واش روم سے فریش ہو کر واپس آ رہی تھی جب کچھ غیر معمولی لگا۔ کالج کے طویل و عریض بڑے ہال میں سے گزرتے اسے مختلف آوازیں آئیں تھیں۔ جو اوپر والے فورتھ ائیر کے فلور سے آ رہی تھیں۔ خوف محسوس ہوا مگر تجسس سے مجبور اس نے آہستگی سے قدم آگے بڑھائے۔

اوپر آئی تو ایک روم سے کراہنے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ وہ کانپتی ٹانگوں سے آگے بڑھی۔ اور کھڑکی کے پٹ میں سے اندر جھانکا۔
اندر کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ وہی شخص رومال باندھے جس کے رومال پر جے کے لکھا ہوتا تھا تین لڑکوں کو بری طرح ٹارچر کر رہا تھا۔ مگر مصیبت تو یہ تھی کہ آج وہ اس شخص کو نا صرف پہچان گئی تھی۔ بلکہ جےکے کا مطلب بھی سمجھ گئی تھی کیونکہ وہ اس کا جبران کبیر تھا۔

اندر آج جبران غصے سے پاگل ہو چکا تھا۔ کیونکہ ان تینوں بگڑے رئیس زادوں کی اتنی ہمت بڑھ گئی تھی کہ وہ اس لڑکی کو بلیک میل کر کہ یہاں تک لا چکے تھے۔ اور اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب جبران رحمت کا فرشتہ بنا وہاں پہنچ چکا تھا ۔اس نے لڑکی کو وہاں سے نکال دیا تھا۔ مگر ان تینوں کی جلاد کے ہاتھون شامت آئی تھی اب جبران کا اسکیلپل ان کے جسموں پر سفر کر رہا تھا۔ جلد ہی وہ بے ہوش ہو کر نیچے زمین پر ڈھیر ہو چکے تھے۔۔
اس نے اپنے آدمیوں کو فون کیا کہ آ کر کچرا صاف کر جائیں تب وہ اچانک مڑا تھا اور نظر کھڑکی میں کھڑی خوف سے سفید پڑا چہرہ لیے مفرا پر پڑی۔
اس نے فون رکھا، اور اس کی جانب بڑھا تھا۔ جب وہ ہلکی سی چیخ مار کر وہاں سے بھاگ چکی تھی۔
جبران نے گہری سرد سی آہ بھری اور اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر حویلی کے لاؤنج میں بیٹھا تھا، آنکھیں نم تھی،، اور مسلسل بے خوابی کے باعث لال انگارا ہو چکی تھیں۔
پلیز، چھوٹے پاپا اسے کہیں رحم کھائے مجھ پر،، اس نے بے بسی سے کہا سوہم خان کو اس پر ترس آیا۔۔
عاشی جسے ماہ بیر کے آنے کی اطلاع فجر تک پہنچانے کا کہا گیا تھا اب لٹکا ہوا منہ لے کر اندر سے باہر آئی تھی ۔۔
اس نے کہا جاؤ تم،، وہ نہیں ملے گی تم سے ماہ بیر،، عاشی نے دو ٹوک جواب دیا۔

اسے کہو تم نے نہیں ملنا نا ملو مگر مجھے میرے بچے سے ملنے دو، ڈیم اٹ،، ماہ بیر شاید پاگل ہو چکا تھا اس کی جدائی سے،، تبھی اتنی بے تکی باتیں کر رہا تھا۔
جاؤ کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو بولو اسے،، ماہ بیر نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔
عاشی پھر فجر کے کمرے میں آئی تھی۔ وہ جو قران پاک کی تلاوت کر رہی تھی اس پیغام پر تلووں پہ لگی اور سر پر بجھی۔
جا کہ کہو ان سے آپ نے کسی ماں کو اس کی بیٹی سے ملنے دیا تھا تو خود کے لئے بھی یہ امید ہر گز نا رکھیں۔۔ اب اپنے پر آئی ہے تو بھگتیں،، اور اب اگر آپ ان کا پیغام لے کر میرے پاس آئیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ فجر نے سرد وسپاٹ لہجہ میں کہا تھا۔

عاشی باہر چلی آئی۔ ماہ بیر نے آس بھری نگاہوں سے عاشی کو دیکھا مگر اس کے منہ سے فجر کا جواب سن کر وہ بے اختیار کھڑا ہوا تھا جب سوہم خان نے اس کا ہاتھ تھاما۔
صبر کرو ماہ بیر،، پیشنس سے کام لو،، نہیں تو سنوارنے کی بجائے سب اور بگاڑ دو گے،، پلیز اٹس آ ریکویسٹ،،
ماہ بیر نے اذیت کی انتہا سے اپنے لب کچلے تھے اور تن فن کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

Continue,,,,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ہر جمعہ کو ایپی کی چھٹی،، یعنی رائٹر کی چھٹی، یاد ہے ناں😷😷🙊🙊