No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
رستم دادا چندہ میڈم بنگلے میں نہیں ہیں ،،،،،،اس کے غنڈے نما آدمی نے ڈرتے ڈرتے رستم کو بتایا۔۔
کیا،، وہ دھاڑا،،، رستم نے پسٹل نکال کر بتانے والے کا بھیجا اڑایا تھا۔۔۔
تبھی اس کے آدمی حرکت میں آئے تھے۔۔
رستم دادا کچھ ہی دیر میں بنگلے پر پہنچ چکا تھا۔۔ اس کے گارڈز اور غنڈے چاروں اور بنگلے میں پھیل گئے تھے۔۔
رانی بائی کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں۔۔
اور پھر یہی ہوا،،، ڈرتے ڈرتے رانی بائی نے رستم دادا کو بتایا۔۔کہ چندہ پورے بنگلے میں کہیں نہیں ہے۔۔
سالی ایک چیونٹی جتنی نازک لڑکی کو قابو میں نہیں کر سکتی،، دعا کر مل جائے،،، نا ملی تو سب سے پہلے تیرا بھیجا اڑاؤں گا،، سالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،
وہ دھاڑتا رانی بائی اور اپنے بندوں کو مغلظات بکتا رہا۔۔۔آج اگر چندہ نا ملتی تو قیامت لانی تھی اس فرعون نے،،،،،،،،، اور مل جاتی شاید تب بھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
مرتے پڑتے وہ لاہور میں راوی روڈ پر موجود چھوٹی سی بستی میں اپنی بہن کے گھر پہنچی تھی۔۔
جو اس کے ساتھ ہوا تھا جو کچھ ہو چکا تھا وہ اسے برباد کرنے کو کافی تھا۔۔
اور اب جو ہفتے کے بعد ہونے والا تھا وہ تو اسے ہر گز منظور نہیں تھا۔۔
مر کر بھی نہیں۔۔۔
ناجیہ اسے دیکھ تڑپی تھی روح،،، رواحہ،،، میری گڑیا کہاں چلی گئی تھی ہمیں چھوڑ کر،،،،،
وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ دھاڑیں مار مار کر رو رہیں تھیں۔۔
تبھی ناجیہ کا شوہر اندر داخل ہوا تھا اور اسے دیکھ اس کے چہرء پر ہوائیاں اڑی تھیں۔۔
تم،،، تم،،، روح،،، کیوں آئی یہاں،،، تمھیں پتہ ہے نا،،، وہ رستم،، کتے کی طرح بو سونگھتے یہاں تمھارے پیچھے چلا آئے گا،،، اور ختم کر دے گا ہم سب کو،،، تمھارے اس جرم کی پاداش میں میں اور میرا خاندان مارا جائے گا،،،
وہ دھاڑا اور اس کی کلائی پکڑ اسے ناجیہ سے الگ کر باہر کی جانب گھسیٹا تھا۔۔
نہیں بھائی،،، نہیں مجھے بچا لیں،،، خدا کا واسطہ میں اس جہنم میں واپس نہیں جانا چاہتی،،، پلیز بھائی،،، آپ کو خدا کا واسطہ،،،
ناجیہ اور وہ دونوں اس کے سامنے گڑگڑا رہے تھے۔۔
تبھی محلے میں ہلچل سی ہوئی تھی۔۔
گاڑیوں کی اور فائرنگ کی آوازوں سے ان کے چہرے خوف سے سفید ہڑے تھے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سوہم اس لڑکی کو گھسیٹتا اس کے بتائے گئے ایڈریس تک لایا تھا۔۔ جو پرانی گولی مار کا تھا۔۔
سوہم نے اسے اس قدر ڈرایا تھا کے بڑی شرافت سے اس نے اپنا گھر کا پتا بتا دیا تھا۔۔
اسے اس کے ماں باپ کے حوالے کر کے وہ واپس آیا تھا۔۔
بیسمنٹ میں پہنچ کر جے کے سے سب انفارمیشن لیں،،
جے کے نے ضروری پیپر اور ڈاکومنٹس ماہ بیر کو تمھائے تھے۔۔
ایشان نے وہ آدمی بیسمیںٹ کے بلیک روم میں پہنچا دیا تھا جو سوہم خان کو چاہئے تھا۔۔
آج ان کے ساتھ سونیا کرن اور عاشی بھی موجود تھیں،،،
سوہم اب اگلا لاحہ عمل بتانے لگا تھا انھیں۔۔
جے کے،، میں اور منیب لاہور جا رہے ہیں،، ہمارے ساتھ عاشی بھی ہوگی۔۔
ان کی سرغنہ کی گردن تک پہنچنے کے لئے ہمیں لاہور بھی چھاننا پڑے گا۔۔
اور اس کی تلاش تم لوگ یہاں بھی جاری رکھو گے اور یاد رکھنا وہ صرف سوہم خان کا شکار ہے۔۔
سب نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
مِفرا اپنے روم میں بند تھی۔۔
تین دن ہو گئے تھے آج اسے اسی کے روم میں بند کر رکھا تھا۔۔
بھائی نے جانتے بوجھتے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی تھی۔۔۔
اسے مکمل طور پر پاگل ثابت کر دیا گیا تھا۔۔
دروازہ ہلکی سی آہٹ کے بعد کھلا تھا۔۔
گھٹنوں میں سے سر نکال کر اس نے سامنے دیکھا تھا،،، نرما بڑی تلخ اور معنی خیز سی مسکان لئے اس کے سامنے آئی تھی۔۔
کیسا لگ رہا ہے مِفرا جی،،،، پاگل بن کر،، ویسے مجھے تو بہت مزا آ رہا ہے،،، روز روز کے تماشے دیکھ کر،، ہاہاہا ہاہاہا،، میرا مطلب تماشے کری ایٹ کر کے،،،،
کمرے میں اس کا مکروہ قہقہہ گونجا۔۔
مِفرا نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔اب تو رو رو کر آنکھیں بھی خشک پڑ چکی تھیں،،
آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے،، ملگجا سا حلیہ،، وہ برسوں کی کمزور مریضہ لگ رہی تھی۔۔
مگر اس سب کے باوجود اس کی قدرت کی جانب سے عطا کردہ خوبصورتی تھی جو ماند نہیں پڑتی تھی اور یہی بات نرما کے لئے ناقابلِ برداشت تھی۔۔
آں،، آں،، آں،،، تمھارے چہرے سے لگ رہا ہے،، کہ تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہو ،،چلو کیا یاد کرو گی،،، آج پوچھو کیا پوچھنا ہے کیونکہ میں جواب دینے کے موڈ میں ہوں،،
انداز شاہانہ تھا۔۔
کیوں،،، کیوں کیا ایسا میرے ساتھ،،، کیوں کر رہی ہو،،، تم تو میری سب سے زیادہ اچھی دوست اور کزن تھیں،، تو پھر کیوں کیا۔۔
مِفرا نے اپنی روح تک کو بےچین کرنے والا سوال اس ظالم لڑکی سے پوچھ ہی لیا۔۔
کیونکہ زہر لگتی تھی شروع دن سے تم اور یہ تمھاری خوبصورتی مجھے،، وہ پھنکاری،،، ہر بار،،، بار بار ریجیکشن ملی مجھے،، حتیٰ کے وہ عمیر،،، وہ عمیر جو بچپن کی محبت تھی میری اس نے بھی مجھے چھوڑ کر تمھیں چنا،،،،وہ چلائی،،،،، میرا بس چلتا تو کب کی یہ تمھارا خوبصورت چہرہ تیزاب سے جلا دیتی۔۔ پر اٹس اوکے جانی،،، میں نے تم سے بدلہ لینے کو تمھاری بھابھی بن کر اس سے بھی زیادہ دردناک اور ازیت ناک زندگی سوچی ہے تمھارے لئے،، کہ پاگل بن کر تو یہ خوبصورتی بھی تمھارے کسی کام کی نہیں ہوگی،،
وہ سکون سے بولی۔۔
اب چت بھی میری اور پٹ بھی،، یعنی میرا بدلہ بھی پورا ہوگا اور تمھارے نام کی پراپرٹی بھی میرے پاس آئے گی۔۔ میں نے ہی تمھیں پاگل بنایا،، ہر بار خود کو چوٹ پہنچائی،، الزام تم پہ لگایا،، وہ چیزیں جو تمھیں دکھائی دیتیں اور بعد میں غائب ہو جاتیں وہ میں ہی کرتی رہی ہوں تمھارے ساتھ،،، داد تو دو یار،،،
اس نے خباثت سے ایک آنکھ ونک کی۔۔
پھر ہاتھ میں پکڑا چاقو اس کی گردن پر رکھ کر مِفرا کا خوفزدہ چہرہ دیکھ مکروہ قہقہے لگائے۔۔
مگر اپنے پیچھے سعد کی آہٹ پا کر وہ چاقو تیزی سے مِفرا کے ہاتھ میں تھما کر دونوں ہاتھوں اس کے ہاتھوں پر رکھ کر چیخنا چلانا شروع کر دیا۔۔
چاقو کی نوک سے اپنا چہرہ بھی تھوڑا سا زخمی کر لیا۔۔
بچاؤ مجھے سعد یہ پاگل میرا گلا کاٹ دے گی۔۔بچاو مجھے،،میں تو اس کی خیریت پوچھنے آئی تھی،،اسے کھانا دینے آئی تھی۔۔،، وہ بری طرح چلائی۔۔
سعد نے آ کر ان کے ہاتھوں سے چاقو چھینا۔۔ اور ایک خونخوار نگاہ مِفرا پر ڈالی۔۔ اور روتی بلکتی نرما کو باہر لے جا کر ڈور باہر سے لاک کر دیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ماہ بیر ایک بہت ضروری کام میں مصروف تھا جب دوبارہ بی جان کی کال آئی۔۔
لاکھ جھٹپٹانے کے باوجود وہ ان کی کال اگنور نہیں کر سکتا تھا۔۔
آگے سے جو حکم اس کو سننے کو ملا وہ اسے کانٹوں پر گھسیٹنے کو کافی تھا۔۔
ماہ بیر،، میری سہیلی کی پوتی ہوئی ہے آگے پیچھے کوئی نہیں ان کا،، آج رات میں اس کے ساتھ رکنے والی ہوں اور فجر حویلی میں اکیلی ہے،، تو اسے میرا حکم سمجھو کے آج رات تم حویلی میں گزارو گے۔۔
یہ کہہ کر وہ فون رکھ چکیں تھیں۔۔
جبکہ وہ چالاک
Executioner
یہ بھی جان گیا تھا کہ بی جان محض اسے اس کے قریب لانے کو یہ حربے آزما رہی ہیں ،،تاکہ کوئی سبب بنے کہ ماہ بیر اسے اپنا لے،،
یہ سوچ سوچتے ہی اس کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔۔
بالوں کو ہاتھوں کی مٹھیوں میں جکڑا۔۔ کنپٹیوں کی پھٹتی رگوں کو ہاتھوں سے دبا کر پر سکون کرنے کی ناکام کوشش کی۔۔
رائٹ،،، تو بی جان چاہتی ہیں میں اس کے قریب آؤں،،،
اونہہہہہہہہ،،، آؤں گا،،، ضرور آؤں گا،،
مگر نئے سرے سے اس کو زخموں سے چھلنی کرنے کے لئے،، اور اس بار یہ زخم اس کے جسم پر نہیں روح پر لگیں گے بی جان۔۔
برا کرتی ہیں آپ جو مجھے ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہیں،،،،
وہ بلکل سفاکانہ ارادے باندھتا وہاں سے اٹھا تھا۔۔
اہنے موبائل سے ایک نمبر ڈائل کیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
علیزے اپنا سر تھام کر بیٹھی تھی کہ کس مصیبت میں پھنس گئی تھی
وہ جب سے نیند سے اٹھی تھی ایک ہی ضد کیے جا رہی تھی۔۔
روشے بےبی کو ایش چاہیئے اپنا فرینڈ چاہیئے ابھی چاہیئے ،،وہ پاؤں پٹخ پٹخ کر رو رہی تھی اور کچھ کھا پی بھی نہیں رہی تھی۔۔
علیزے رات تک روہانسی ہو چکی تھی۔۔
کیونکہ اس سے پہلے آروشے نے کبھی ایسے تنگ نہیں کیا تھا،،،، ایسے ضد نہیں کی تھی۔۔
آپو مجھے اپنا فرینڈ چاہیے ناں،، مجھے ایش چاہئے،، اتنی مشکل سے مجھے فرینڈ ملا تھا،، اچھے اچھے والا،،، ڈیول نہیں،،، مجھے چاہیے،،،
اب تو رو رو کر اس کی ہچکی بھی بندھ چکی تھی۔۔
مگر علیزے یہ فاش غلطی کر بیٹھی تھی کہ محض اسے اپنا نمبر دیا تھا۔۔
اس کا نمبر یا ویزیٹنگ کارڈ تو لیا ہی نہیں،،،
اب کیسے اسے بتائے کہ ایک پاگل جھلی لڑکی کو اس کی اچھائی نے کتنا ڈسٹرب کر دیا ہے۔۔
وہ تو شاید نیکی کر کے اب تک بھول بھی چکا ہوگا کہ کسی روشے بےبی کو جانتا بھی ہے کہ نہیں۔۔
دیکھو روشے اگر ایش کو پتا چلا کہ روشے بے بی نے اپنی آپو کا کہنا نہیں مانا تو وہ کٹی ہو جائے گا روشے بےبی سے ،،،،،روشے چاہتی ہے کہ وہ کٹی ہوجائے آپ سے،،،
آروشے نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔۔
تو پھر آپو کے کہنے پہ کھانا بھی کھاؤ اور میڈیسن بھی لو۔۔
نو،،، اس کی وہی ایک تکرار،،، علیزے نے پھر سر پکڑا،،
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ اپنے کام میں مصروف ہونے کے باوجود بھی وہاں جیسے نہیں تھا۔۔
عجیب ہی خالی پن تھا۔۔
ادھورا پن۔،،،
جیسے کچھ پیچھے چھوٹ گیا تھا،،،
جیسے کچھ کھو گیا تھا۔۔
جیسے وہ وہاں موجود ہو کر بھی کہیں اور تھا،،
اور اپنی اس کیفیت سے ایشان بری طرح جھنجھلا رہا تھا۔۔
اس نے سب کام چھوڑ کر ایک پل جو بیٹھ کر سوچا تھا کہ کیا تھا جو اتنی بے چینی کا سبب بن چکا تھا۔۔
الجھن کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔۔
آخر کار زہن میں جھماکا سا ہوا اور دل نے چپکے سے ایک نام پکارا ۔۔بہت چپکے سے۔
روشے بے بی۔۔
اوہہہہہہ مجھے تو یاد ہی نہیں،،،
اس نے فون نکالا اور موبائل میں تازہ کیا سیو نمبر ڈائل کیا جو دوسری بیل پر ہی رسیو کر لیا گیا تھا۔۔
ہیلو،،، آپ ایش ہیں،، مطلب ڈاکٹر جبران کبیر،،، اگر ہاں تو میں شکرانہ ادا کرنے والی ہوں کیونکہ آروشے نے بہت تنگ کیا ہوا ہے۔۔
اس کی حالت بگڑتی چکی جا رہی ہے۔۔
سامنے سے ایک ہی سانس میں بولا گیا تو وہ پہلے تو حیران ہوا پھر ایک لمبی سی سانس بھری۔۔
ہیلو ،،،ہیلو،،،کون ہے،،، علیزے کو بھی شاید اپنی جلد بازی کا احساس ہوا تھا۔۔
میں جبران ہی ہوں مس،،، کیا ہوا ہے آروشے کو،،، وہ جانے کیوں مگر مزید بے چین ہوا تھا۔۔
وہ ج. سے نیند سے بیدار ہوئی ہے آپ کو پکارے جا رہی ہے،، رات ہو چکی ہے نا کھانا کھا رہی ہے نا میڈیسن لے رہی ہے،،، بہت ضد کر رہی ہے،،، وہ شاید اب تنگ آ کر روئی تھی۔۔
کیا کہہ رہی ہے،، ایشان کو سکون سا ملا تھا۔۔حیرت کی بات تھی۔۔
مجھے میرا فرینڈ ایش چاہئے،،، کک،،، کیا،،، آپ،،، پپ. پلیز،، آ سکتے ہیں،، ممم،،، میں ،،جانتی ہوں رات کے اس وقت،، بہت آکورڈ لگ رہا ہو گا،،، اور آپ،،، جج،،، جانے مجھے کیا،، سمجھیں،، مم،، مگر میں بہت مجبور،، ہوں ایک مرتبہ یہ کھانا،،، کھا لے اور میڈی لے کے تو مجھے،،، سکون آئے۔۔
رائٹ،،، ویٹ کریں،، اسے بولیں اس کا ایش آ رہا ہے۔۔
ایشان نے اطمینان سے کہا رگ و پہ میں سکون سا دوڑا۔
ہر کام پسِ پُشت ڈال کر وہ گاڑی کی چابیاں،، اپنا والٹ موبائل لے کر تیزی سے باہر نکلا تھا۔۔
Continue,,,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
