Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

شفا کب سے اپنے بابا کے گلے لگ کر روئے جا رہی تھی۔۔ کامران حسن اس کی پیٹھ رب کیے جا رہے تھے۔۔
بابا آپ نے مجھے اسی دن کیوں نہیں بتایا یہ سب،، شفا سسکی۔

کیسے بتاتا رضیہ نے قسم دی تھی اور اسی دن ہاسپٹل سے آ کر مجھے سب بتا دیا تھا مگر وہ بیٹے کی طرف سے بے حد پریشان اور شرمندہ تھی،، اگر ہم وہ ڈرامہ نا کرتے تو وہ کم ظرف انسان خودکشی کا ڈرامہ رچا کر پھر رضیہ کو پریشان کرتا،، مجھے اس کا بہترین حل یہی لگا کہ تمھیں کچھ دنوں تک اپنے دوست کے گھر بھیج دیا،، اب پاشا اور میں نے مل کر یہی ڈیسائیڈ کیا ہے کہ اس جمعہ کو تمھارا نکاح پاشا کے بیٹے آریان سے کر دیا جائے،، رضیہ اور سیف کی وجہ سے میں شامل نہیں ہو سکتا مگر میری دعائیں تمھارے ساتھ رہیں گی۔۔
وہ حیرانگی سے اپنے بابا کو دیکھے گئی۔۔ کہاں تو وہ اسے وائٹ پیلس کی جانب رخ تک نہیں کرنے دیتے تھے اور کہا اب پاشا انکل کو اپنا دوست بول رہے تھے۔۔

بابا یہ کیا طول رہیں ہیں آپ،، وہ ان کے گلے لگ کر پھر رو پڑی،،
میں ٹھیک بول رہا ہوں،، وہی تمھارے لیے پرفیکٹ ہے ہاں مانتا ہوں پہلے میرے پاشا ابراہیم سے کچھ اختلافات تھے مگر وہ غلط فہمی تھی جو اب دور ہو چکی ہے تو بس چپ چاپ جو ہو رہا ہے ادے ہونے دینا،،
کامران نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا۔
وہ کچن میں چائے بنانے چلی گئی تھی۔۔ ابھی ابھی ماہر وائٹ پیلس سے نکلا تھا وہ لوگ جاگ رہے تھے تو کامران حسن یہ یقین کر لینے کے بعد کہ سیف سو چکا ہے شفا سے ملنے آیا تھا۔
وہ پچھلی باتوں کے بارے میں بیٹھے سوچے گئے۔۔ کہ وہ بھی ان جو باقی لوگوں کی طرح پچھلے کیس اور واقعات کی وجہ سے غدار ہی سمجھتے آئے تھے۔ مگر پاشا سے ہوئی ہچھلی ملاقات سے پہلے انھیں کیس کے ری اوپن ہونے کی اطلاع ملی تھی۔۔ تب پاشا نے انھیں سب کچھ بتا دیا تھا۔
اور اب وہ بیٹی کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ آسانی سے کر گئے تھے۔۔

شفا چائے بنا کر لائی تو پاشا اور کامران حسن باتیں کرنے میں مصروف تھے اور نکاح کی ڈسکشن کر رہے تھے۔۔شفا چپکے سے اپنے روم میں چلی آئی۔۔ یہ احساس کہ وہ سر پھرا اس کا ہونے والا تھا وہ دلی خوشی محسوس کر رہی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

فجر اس کی بانہوں میں مچل رہی تھی اور بری طرح رو رہی تھی۔۔
چھوڑیں مجھے،،، وہ مچلی۔۔مگر ماہ بیر کھڑے ہو کر اس بازوؤں میں اٹھا چکا تھا۔
ماہ بیر،، یہ کیا چھوڑیں مجھے،،
اششششش،،خاموش آواز نا آئے تمھاری،نہیں تو جو دنیا میں آخری رشتہ بچا ہے یعنی میں اسے بھی کھو دو گی،،مر جاؤں گا تمھارے بغیر،،، ماہ بیر نے کہا تو فجر کو اس کی باتوں سے سہم کر چپ کرنا پڑا۔۔وہ اسے لیے حویلی سے باہر آیا تھا رات کے اسوقت فجر کو عجیب لگا۔وہ ہر گز اس کے ساتھ کہیں نہیں جانا چاہتی تھی مگر وہ ظالم اب بھی وہی کر رہا تھا جو وہ کرتا آیا تھا اس کے ساتھ۔۔زبردستی۔
ماہ بیر نے اس لاکر گاڑی میں بیٹھایا۔۔خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔۔اور گاڑی لے کر اپنے فارم ہاؤس آیا جہاں وہ کبھی کبھی آیا کرتا تھا۔۔

وہ اسے اسی طرح گود میں اٹھائے فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوا اندر گھپ اندھیرا تھا ۔۔
کہاں لائے ہیں آپ مجھے،،چھوڑیں مجھے،، فجر کے آنسوؤں کا بھی اس جلاد پر خاطر خواہ اثر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ خود بھی بکھری سی حالت میں تھا۔ ملگجے سے حلیے میں بڑھی بئیرڈ میں وہ بہت بری حالت میں تھا۔۔
کتنا بولتی ہو تم فجر،، چپ نہیں رہا جاتا یا میں چپ کرواؤں اپنے طریقے سے،، وہ کہتا ہلکا سا اس پر جھکا۔۔ تو وہ گھبرائی اور گھبرا کر اس کے سینے میں منہ دے دیا ماہ بیر گہرا مسکرایا۔۔

وہ۔اسے لے کر لاونج میں آیا ۔۔ ایک دم لائٹس آن ہوئیں تھیں۔ماہ بیر نے اسے گود سے نیچے اتارا وہ پھٹی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی جہاں بلیک اور ریڈ بلونز لگے تھے اور بیچ میں ایک پیاری سی بچپن کی انکی پک اور وال پر 15 ائیرز کمپلیٹڈ لکھا تھا۔۔ فجر نے یہ سب دیکھا اور ماہ بیر کی جانب متوجہ ہوئی۔۔
یہ کس خوشی میں،،اب آپ جو بھی کریں مجھے کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،،سنا آپ نے؟فجر نے نگاہیں چرا کر غصے سے کہا

تمھارے لیے میری جان،، ماہ بیر نے اطمینان سے کہا۔
اور کیوں وجہ جان سکتی ہوں آپ تو نفرت کرتے ہیں نا مجھ سے پھر کیوں وجہ مجھے کوئی لینا دینا نہیں اس سب سے،، فجر نے اپنا دامن بچانا چاہا۔۔ جانتی تھی وہ اس کے دل پر کاری وار کر رہی ہے مگر اپنے دماغ کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔
ہیے ،،، یہ کس نے کہا میں تم سے نفرت کرتا ہوں کس نے بولا یہ؟ وہ عادت کے مطابق دھاڑا۔۔
آپ نہیں کرتے میں تو کرتی ہوں ناں ،،،وہ ادھر ادھر دیکھتے قرب سے بولی۔
اور یہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو فجر ماہ بیر اس کے قریب آیا۔۔

فجر نے ہمت کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں درد ، قرب افسوس ،محبت جانے کیا کیا تھا اور اسکے ساتھ ساتھ محبت کا ٹھاٹے مارتا سمندر ،وہ آنکھوں میں زیادہ نا دیکھ پائی جبکہ دوسری جانب دیکھتی بولی آئی ہیٹ یو ماہ بیر راسم حفیظ،، آئی ہیٹ یو،،،
ہاہاہاہاہا نو یو ڈونٹ ہیٹ می ،، مسز فجر ماہ بیر راسم حفیظ،،،

فجر کے بےاختیار آنسو نکل آئے وہ روتی زمین پر بیٹھتی چلی گئ ۔۔جب ماہ بیر بھی اسکے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا۔۔

ہیے ،پلیز ڈونٹ کرائی ،روؤ تو مت ،، آئم سوری آئم رئیلی سوری میری جان ،،ل میں جانتا ہوں میں بہت برا ہوں ،، میں تمھارے قابل نہیں ہوں پر میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں ،، میں تم سے نفرت کر ہی نہیں سکتا میں مانتا ہوں میں نے غلط کیا میں کیا کرتا ،،میں نے بہت کچھ کھویا اپنی مما اپنے ڈیڈ ،ساری دنیا اجڑ گئی میں بنا تحقیق کے تمھیں سزا دیتا رہا اور تمھیں خود سے دور رکھا لیکن جب سچائی معلوم ہوئی بہت دیر ہو چکی تھی ،، تم مجھے سمجھ سکتی ہو نا ،،،پلیز مجھے معاف کردو

وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑ گیا ۔۔آنسوؤں نے گال بھگو ڈالے فجر نے پہلی مرتبہ اس جلاد کو جھکا روتا اور ٹوٹا دیکھا تھا اس کے اندر کس قدر ازیت اور غم بھرا ہے یہ تو وہ جانتی ہی تھی مگر وہ اس کو خود سے دور کرنے پر اس قدر ٹوٹ جائے گا آج پتہ چلا تھا۔۔ اب وہ سب کچھ بھول کر ماہ بیر کو اسے عشق کا اعتراف کرتی سن رہی تھی جب بے اختیار دونوں ہاتھوں سے اسے تھاما۔۔ اور اسکے گلے لگ کے وہ بھی رو دی۔۔ دونوں نے اپنا غم غلط کرنے میں مصروف تھے۔

جب ماہ بیر نے اسے نرمی سے خود سے الگ کیا ،، ہیے ،، یو نو واٹ ؟ تم میرے جینے کا مقصد ہو ،، میری بچپن کی دیوانگی ،، عشق ،،میرا سب کچھ ،، میں نے تمھارے علاؤہ کسی کو چاہا تو کیا دیکھا تک نہیں۔ ،،،تم سے نفرت نہیں کر پایا ،،، حالانکہ جب نفرت کرنی چاہی تب بھی نہیں ،،، تم تو صرف میرے لیے محبت کرنے کے لیے بنی ہو میری محبت کی حقدار صرف تم ہو ،،، وہ دیوانہ وار اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چومتا آج کھل کر اعتراف محبت کر رہا تھا۔فجر اسکا لمس اس کی محبت محسوس کر رہی تھی۔۔

ماہ بیر ،، فجر نے اچانک پکارا۔
جی میری جان،،، ماہ بیر نے اس کی جانب دیکھا۔
ماہ بیر مم،،، میں بھی آپ سے محبت کرتی ہوں،،، وہ کہہ کر دوبارہ سسک پڑی۔۔
ماہ بیر مسکرایا ،، ہیے ،،،، اب روؤ تو نہیں اتنی حسین بات ایسے آنسوؤں سے تو نہیں بولو نا،،ایک کس کر کے بول دو ،، آخر میں شرارت سے بولا ۔۔
فجر سٹپٹائی ،،، بہت برے ہیں آپ،،، فجر نے ماہ بیر کے سینے پر مکے مارے ۔
وہ تو میں ہوں ،،لیکن اب تمھیں اچھا بن کے بھی دیکھاوں گا،،
تم۔نے مجھے مکمل کیا ہے فجر ،، میری زندگی میں آنے کا بہت شکریہ،، مجھے اپنانے کا،، میرے اتنے ستم سہہ کر بھی میرے نام سے اپنا نام جوڑے رکھنے کا ،،، اور پھر ماہ بیر نے اسکے پیٹ پر ہاتھ رکھا ، آئی وش یہ ایک پیاری سی ڈوول ہو بلکل اپنی ماما کی طرح،، وہ مسکرایا۔۔ کس قدر سکون تھا اس کی آغوش میں۔۔

نو نو اٹس ناٹ،، بے بی بوائے ہے یہ،، میرا بیٹا ہے آئی نو ،، فجر بولی،، ماہ بیر گہرا مسکرایا ،، اسکے پیٹ پر لب رکھے ،، اٹھ کر اسے گود میں اٹھایا اور لے جاکر ٹیبل پر بٹھایا ،،، کیک کاٹا ،، تھوڑا اس کے ہونٹ پر لگا کر خود اپنے ہونٹوں سے وہ کیک چنا تو فجر گڑبڑا گئ اور ماہ بیر کے سینے میں منہ دے لیا۔۔
ہیے اب تمھیں بھی ایسے ہی کیک کھانا ہے یار،، مسہ بیر نے شرارت دے کہا تو وہ اور زیادہ اس میں سمٹ گئی۔۔
مگر اتنے دنوں کی پیاس تھی اتنی جلدی کیسے بھجتی تبھی اپنے سینے سے اس کا چہرہ نکالا تھا۔۔ اور اس کی سانسوں کی مہک کر اپنی روح میں اتارا۔۔
آج کہیں جا کر اسے سکون لا تھا تبھی وہ خود کو اس کے وجود میں گم کرتا چلا گیا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ساری رات ماہر سڑکیں چھانتا پھرا تھا مگر سینے میں بھڑکا غم و غصے کا الاؤ کسی طور ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔۔ چٹختے اعصاب نے اس کے جان عذاب میں جھونک رکھی تھی۔۔یہ کیسی آگ لگائی تھی اس ظالم نے سینے میں جو کسی صورت ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی۔۔
اس وقت وہاں سے نکل آیا تھا ،،بچانا جو چاہتا تھا اس کو ،، خود سے،، اپنے ہاتھوں سے،، اپنے قہر سے،،
مگر اب تک وہ آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔۔تب چٹختے اعصاب لیے اس نے رات کے چار بجے گاڑی واپسی کے لئے موڑی تھی۔۔ اب اس غم وغصے کی آگ کو،، اسے ہی ٹھنڈا کرنا ہوگا جس نے اسے پیٹرول ڈال کر بھڑکایا تھا۔

وائٹ پیلس گہری تاریکی اور خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔ گاڑی جھٹکے سے طویل پورچ میں رکی،، وہ تنی رگیں لال انگارہ آنکھیں لیے اندر داخل ہوا تھا اور رخ سیدھا ریشماں کے کمرے کی جانب تھا۔۔ آنکھوں سے سبز شعلے سے نکل رہے تھے۔دروازے سے باہر کھڑے ہو کر اس نے لمبے لمبے سانس بھرے ۔ شاید چٹختے اعصاب کو سکون آجا تا مگر بری طرح ناکام ہوا تھا۔۔آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔

سامنے ہی وہ کارپٹ پر جائے نماز پر سکڑی سمٹی لیٹی ہوئی تھی۔۔ شاید تہجد کی نماز ادا کر کے ادھر ہی سو گئی تھی۔ سرخ چہرے پر انگلیوں کے اور مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان تھے۔ حجاب سٹائل دوپٹہ لیے وہ اس کی جان کا آزار بن چکی تھی۔۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھا۔ اور نیچے جھک کر اسے نرمی سے بازوؤں میں بھرا۔۔ وہ جو رو رو کر ابھی ابھی سوئی تھی۔کچی نیند سے جاگ چکی تھی۔۔ شعور اجاگر ہوتے ہی پتہ چلنے پر کہ کس صورتحال میں ہے اس نے سہم کر اسی گرین مونسٹر کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی تھی تب وہ جان گیا کہ وہ جاگ چکی ہے۔۔
جب وہ باہر نکلی تب وہ اس کے بازوؤں میں کسمسائی تھی۔ مم ماہر چھوڑیں مجھے،، وہ اتنی آہستگی سے بولی کہ ماہر کو بھی بمشکل ہی سنائی دی۔۔مگر وہ یوں بن گیا جیسے سنا ہی نہیں۔ وہ اسے لیے اس کمرے میں آیا۔۔اندر داخل ہو کر پاؤں سے ڈور لاک کر کے اسے دروازہ پر ہی نیچے اتارا تھا۔

رواحہ کی پھر آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔ مگر اسنے اس کے لبوں پر انگلی پھیری تھی۔۔
تمھیں احساس ہے تم نے مجھے کتنے سنگین الفاظ کہے،، جن کے وار نے میری روح تک کو چھلنی کیا ہے،، رواحہ تم جانتی ہو تم نے کیا کہا مجھے،، ماہر نے سرسراتے بھاری لہجے میں پوچھا تھا مگر اس کی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔۔
رواحہ کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔۔ اور اس ڈر نے ماہر کے سینے میں جیسے چھرا گھونپا تھا۔۔تب وہ جھکا تھا اور اس کی سانسوں کو اپنے قبضے میں لیا تھا۔۔ رواحہ نے مزاحمت نہیں کی تھی۔ مگر اس کی شدت ناقابلِ برداشت تھی۔۔ وہ اس کے زخمی لب کو جیسے اور زخمی کر رہا تھا۔ رواحہ کو لگا وہ آج اس کی جان لے لے گا۔۔ رواحہ کے آنسو تواتر سے اس کے گریبان میں گرے تو احساس ہونے پر وہ دور ہوا۔۔

یو نو واٹ روح ،،یہ جو ان لبوں نے گستاخی کی تھی ان کو اس کی سزا ملی ہے،،
اب ماہر نے اس کی نشان زدہ گال پر آہستگی سے انگلیاں پھیریں۔۔
رواحہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا جو اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا تبھی تو وہ خوفزدہ ہوئی تھی۔ ماہر کی انگلیوں نے گال پر موجود اس نشان کو چھوا تھا۔۔
سسسیییییی،،، اس کے منہ سے جلن سے سسکی برآمد ہوئی۔۔
اور اب اپنی جان، اپنی زندگی پر ہاتھ اٹھانے کی گستاخی کرنے کے لئے اس ہاتھ کو سزا ملے گی،، ماہر کے سرسراتے لہجے نے اسے حواس باختہ کیا تھا۔۔

کک کیا کریں گے آپ،، نن،، نہیں،، وہ بول نہیں پا رہی تھی۔۔ تبھی اس کا جملہ مکمل ہو پاتا وہ کھڑکی تک گیا تھا ۔۔اور اہنا ہاتھ درمیان میں رکھ کر اپنی پوری طاقت سے کھڑکی کے پٹ بند کیے تھے۔۔
آہہہہہہہہہہ،،، ایک چیخ برامد ہوئی تھی رواحہ کے لبوں سے،،تبھی وہ اس کی جانب لپکی،، وہ پیچھے ہٹ کر مڑا،، آنکھیں نم، ہونٹوں پر مسکان اور ہاتھ لہولہان تھا اس پاگل مونسٹر کا۔
یہ کیا کیا آپ نے،، رواحہ چلائی اور اپنا دوپٹہ اتار کر اس کے ہاتھ کے گرد لپیٹ دیا۔۔
ماہر نے کھینچ کر اسے سینے میں بھینچا تھا۔۔اور اسکی نازک گردن میں اپنا منہ دیا۔۔
رواحہ کو اپنی گردن پر نمی سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ تبھی اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔۔
(کوئی دیکھنے سننے والا ہوتا تو دیکھتا کہ وہ گرین مونسٹر جس کی ہیبت سے ایک زمانہ خائف ہے وہ اپنی مارش میلو کی پناہوں میں کیسے معم کی طرح پگھل رہا ہے)
ہیے روح،، تمھیں پہلے بھی بتا چکا ہوں محبت باوضو ہے میری،، مگر تم نے میری محبت ، میرے پاکیزہ جذبوں کو بے مول کیا ہے ،اور میری محبت کو پتہ نہیں کیا سمجھتی رہی ہو،، شاید ہوس،، مگر قسم کھاتا ہوں تمھاری اب جب تک اپنی محبت اپنے جزبوں کی پاکیزگی کا یقین نہیں دلا دیتا تمہارے قریب نہیں آؤں گا،،

ماہر نے اسے بازوؤں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا تھا۔۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس وقت کچھ نہیں بول سکی۔۔ رواحہ نے اپنے دل کو پاتال کی گہرائیوں میں اترتا محسوس کیا۔۔
وہ بیڈ پر اس کے پہلو میں نیم دراز ہوا تھا۔
سنو روح،، بھروسہ رکھو،، تمھارے قریب نہیں آؤں گا ۔ اب تمھیں میرے خوف سے کمرے سے باہر جانے کی ضروت نہیں، ہاں مگر اس کمرے سے کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے تمھیں،، اس نے آنکھوں پر بازو رکھے کہا۔۔
رواحہ کا دل کیا اس کی باتوں پر مزید پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ مگر اب شاید وہ سونے کی کوشش کر رہا تھا تبھی کروٹ بدل کر منہ پر زور سے ہاتھ رکھ کف سسکیوں کا گلا بمشکل گھونٹا تھا۔
دونوں ہی کانٹوں پر گھسیٹ لیے گئے تھے۔ سکون کیسے آتا۔

Continue,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓