Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

وہ بکھری حالت میں لال انگارا آنکھیں لیے حویلی کے اس کمرے کے فرش پر بیٹھا تھا۔ جہاں چہار سو بہت دردناک یادیں بکھری ہوئی تھیں۔ بی جان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں تھیں۔
فجر کی دلدوز چیخوں سے پوری حویلی گونج اٹھی تھی۔ جو سسکیاں اسے سکون پہنچاتیں تھیں انھیں آہوں نے آج اس کے دل کو خون خون کیا تھا۔

سب نے اسے تسلی دی تھی۔مگر اس وقت وہ چاہتا تھا کہ اکیلا رہے۔ سینے میں جیسے غم کے طوفان سے اٹھے تھے۔ماں کے چلے جانے کے بعد ایک وہی تو مہربان وجود تھا جس سے ماں کی خوشبو آتی تھی۔

تبھی جبران، سوہم اور ایشان روم میں داخل ہوئے تھے۔ وہ زیادہ دیر تک اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ اندر آتے ہوئے سوہم نے ایش کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا تو وہ بلبلا اٹھا۔ سوہم چونکا ایشان کے چہرے کا رنگ اڑا ۔اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا۔
سوہم نے اسے بازو سے تھام دروازے میں ہی روکا تھا۔
اور غور سے اسے دیکھا۔ایشان کو اس گرین مونسٹر کی کائی نما گھوری سے جھرجھری سی آئی۔

What’s the matter, you’re okay,,?
سوہم کی ایکسرے نما آنکھیں۔

آف کورس بھائی میں بلکل ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے،، وہ حتی الامکان اپنا لہجہ نارمل کرتے بولا۔ اور روشے بےبی کا دیا زخم چھپا گیا نہیں تو اس گرین مونسٹر سے کچھ بعید نا تھی ایشان کا جینا حرام کر دیتا یا روشے بےبی سے دور کرنے کے لئے اسے بلیک روم میں ہی پھینک دیتا۔

ہممم،،، گڈ،، چلو،، وہ اندر آئے جہاں ماہ بیر بیڈ سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھا تھا۔جبران اس کے قریب بیڈ پر بیٹھا تھا۔
جبران موت کی وجہ بتاؤ، ماہ بیر کا ٹوٹا لہجہ، جبران بھی بے چین سا ہوا۔

میجر ہارٹ اٹیک،، اکھٹے ہی دو ہونے کی وجہ سے ڈیتھ ہو گئی۔جبران بمشکل بتا پایا۔ اب ماہ بیر کے سینے میں کچھ اور ہی سوچ کر طوفان سے اٹھے تھے۔کہیں فجر نے اس پیپر کے بارے بی جان کو تو نہیں بتایا تھا۔کہیں اس وجہ سے تو نہیں ٹینشن لی تھی۔کہیں یہی غم تو نہیں نگل گیا تھا ان کی جان،
اس کے تنے اعصاب پھٹنے کو تھے۔

مگر یہ وہ وقت تھا جب وہ اسے جا کر جھنجھوڑ کر پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ وہ تو ہوش میں ہی نہیں تھی۔ طبیعت بہت بری طرح خراب ہونے کی وجہ سے ہی جبران نے اسے سکون آور میڈیسن دی تھی۔ وہ اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا۔

جبران مجھے سکون آور میڈیسن دے دو، نہیں تو میرے اعصاب چٹخ جائیں گے،

جبران اٹھا اور میڈیکل باکس میں سے میڈیسن لے کر اسے دے دی۔
کچھ دیر تک وہ وہیں بیٹھے رہے۔جب ماہ بیر بھی گہری نیند سو گیا تو پھر وہاں سے نکل آئے تھے۔
اب ان دونوں کے پاس پاشا، رحاب، پنکی اور شیلا تھیں۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اس کی آنکھوں کے سامنے دھند سی تھی۔ اور وہ نیم غنودگی میں تھی۔ مگر یہ ضرور آبزرور کر سکتی تھی کہ وہ ہوسپیٹل کے بیڈ پر تھی۔ مِفرا اپنی جگہ سے لاکھ کوشش کے باوجود ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔ تبھی آہٹ سی محسوس ہوئی اور قدموں کی چاپ اندر آتی سنائی دی۔

جبران سونیا اور ایک اور سسٹر کے ساتھ آج ایک دو دن بعد اس کے روم میں آیا تھا۔ ایک نظر بیڈ پر لیٹے وجود کے چہرے پر ڈالی پھر قریب آ کر اس کی پلز چیک کیں، اور فائل سے ریکوری چیک کی۔ اس نے سونیا کی جانب آبرو اچکا کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

جب آپ اسے یہاں لایا تھا تو اسے وہ میڈیسنز دی جا رہی تھیں جس سے اس کی مینٹلی کنڈیشن بہت بری طرح خراب ہو جاتی مگر ٹائم رہتے علاج شروع ہو گیا۔ اسے ہوش میں آنے ہی نہیں دیا گیا۔ اس کے دماغ کو پرسکون رکھا گیا ہے۔ تاکہ ریکوری جلدی ہو، وہ میڈیسنز بہت خطرناک تھیں۔ ابھی شاید اس نے اپنی کوششوں سے وہ پوری نہیں لیں تھیں، تبھی بچ گئی، سونیا نے ڈیٹیلز بتائیں۔۔

مفرا دیکھ نہیں سکتی تھی ہاں مگر سن رہی تھی۔
ہممم گڈ،، جب یہ مکمل ریکور ہو جائے تو اسے ڈاکٹر جنت صاحبہ کے پاس لے کر جانا تمھاری زمہ داری ہے سونیا، وہ ہمارے ہوسپیٹل کی بہت اچھی سائیکالوجسٹ ہیں، اس کی کاؤنسلنگ وہیں کریں، اور مجھے اس کاؤنسلنگ کی مکمل ویڈیو لائیو اپنے فون میں چاہیں، یہ تمھاری زمہ داری ہے، جبران نے ایک گہری نگاہ بیڈ پر ڈال کر دوبارہ نگاہ ہٹائی۔

سونیا نے غور سے جے کے کو دیکھا۔کیا یہ باتیں اس نے جے کے منہ سے سنیں تھیں اور کیوں؟
کیوں؟ آپ اسے یہاں کیوں لائے ڈاکٹر ج،
شٹ اپ سونیا،، اس سے پہلے کہ سونیا اسے جے کے کہتی وہ غرایا تھا۔
Just shut up Sonia,, Complete your work quietly and mind your own business,,,,,
وہ سرد سے لہجے میں کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جا چکا تھا۔ سونیا نے نم آنکھوں سے پلٹ کر بیڈ پر لیٹے اس نازک گلابی سے وجود کو دیکھا جو اپنی آنکھیں کھولنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

سوہم اپنے اپارٹمنٹ میں آیا تھا۔ سینے میں وحشتوں کے ابال سے اٹھ رہے تھے۔ اعصاب چٹخ رہے تھے۔کہیں بھی سکون نہیں تھا ۔وہ اپنے روم میں آیا۔ کپڑے لے کر واش روم گیا اور کافی دیر شاور کے نیچے کھڑے ہو کر دماغ کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

تولیہ سے بال رگڑتا باہر آیا تو سامنے منی کھڑی تھی۔ کافی بنا کر لاؤ منیب میرے لئے، سوہم نے کہا اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔ منی کے باہر نکلتے ہی اس نے اسکرین آن کی تھی۔ اور بڑے غور سے اس کی جانب دیکھا جہاں وہ سرخ گھٹڑی بیڈ پر سمٹی سی لیٹی تھی۔سوہم کی نگاہ بے اختیار وال کلاک کی جانب اٹھی، عصر کا وقت تھا اور یہ،،،
سوہم نے پہلو بدلہ، مگر نظر اسکرین پر ہی ٹھہری تھی جہاں وہ جالی کا سرخ دوپٹہ سر سے پیر تک تانے دائیں کروٹ سمٹی ہوئی سی لیٹی شاید سو رہی تھی۔

سوہم نے اپنی چٹختی کنپٹیاں سہلائیں۔ جسم میں جو ایک صحرا تھا جو کبھی جلتا تھا اور کبھی بجھتا تھا۔ اور اب یہ تھی کہ
اس نے جبڑے بھینچے۔
اٹھ کیوں نہیں رہی،،
کہیں کچھ،،، اففففففففففف
تبھی منی کافی کا مگ لئے روم میں داخل ہوئی تھی ۔ اور مسٹر گرین مونسٹر ماہر سوہم خان کو تنی رگیں لیے ایل ای ڈی کی اسکرین کو گھورتے پایا۔

منی نے مگ اس کے آگے کیا۔ اس نے اسکرین آف کی۔یہیں رکھو میں آتا ہوں۔کہتا وہ ایک جھٹکے سے دانت پیستا اٹھا تھا۔منی نے معنی خیزی سے اس کی کمر کو گھورا۔

وہ لمبے ڈگ بھرتا بلیک روم تک آیا تھا۔ باہر ڈور پر مخصوص جگہ پر ہاتھ رکھا ڈور کھلتا چلا گیا جو صرف اس کے فنگر پرنٹ سے کھلتا تھا۔ دھیمے قدموں سے اندر آیا۔ بیڈ کے قریب آ کر رکا۔آہٹ پر بھی اس چھوٹی سی گٹھڑی میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی۔
وہ اس جانب کھڑا تھا جدھر اس نے کروٹ لی ہوئی تھی چہرہ سرخ دوپٹے میں چھپا ہوا تھا۔مگر دوپٹے کی حدود میں سے دائیاں ہاتھ اور کلائی باہر نکل کر براؤن شیٹ پر سفید روئی کے گال کا منظر پیش کر رہی تھی۔

اس نے چاہا کہ وہ اس کی پلز چیک کرے، اسی مقصد سے ہاتھ آگے بڑھایا ۔تو وہ شاکڈ سا اپنے ہاتھ کو دیکھے گیا جس میں واضح لرزش تھی۔ کبھی خون خرابہ کرتے اور انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے جس ہاتھ میں زرا برابر بھی لرزش نا آئی تھی آج وہ اس نازک سی کلائی کو چھوتے ہوئے کیوں لرز رہا تھا۔
اندر کا executioner بہت بری طرح جھٹپٹایا تھا۔ جبکہ منی اس کے روم میں اب اسکرین میں اس گرین مونسٹر کو موم کی طرح پگھلتے نہایت دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔

تبھی ماہر سوہم خان نے سر جھٹکتے کلائی تھام کر پلز چیک کیں،
مارش میلو کی طرح مخملی نرم کلائی،
دل کمبخت اپنی ہی ہانکنے میں لگا تھا۔
پلز نارمل چل رہی تھیں، اس کی نماز قضاء ہو رہی تھی۔
سوہم کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے دل کیا جھنجھوڑ کر اٹھا کر بٹھا دے۔آخر ایسی بھی کیا نیند،

تبھی آہستگی سے چہرے سے دوپٹہ نیچے سرکایا۔ اور اپنی جان ایک مسلسل آنے والے عذاب میں جھونک دی۔

وہ دل جو ہمیشہ چپ ہی رہتا تھا اس نے چپکے سے سرگوشیاں شروع کردیں۔

میں اگر تم سے کہوں ماہر سوہم خان کہ میں نے ابھی ابھی مجسم محبت کو اپنے سامنے دیکھا تو یقین کرو گے؟ کسی نے سینے کے اندر سرگوشی کی۔
محبوب کے جمال کی کیا تعریف کروں کہ وہ تو آنکھ کی بینائی کی رسائی سے بھی ماورا ہے، اے میرے محبوب تیرے دیدار کا پیمان لیے جیسے ہی میں عشق کے سمندر میں اترتا ہوں سمندر کا جوش بھی میرے جنون کے آگے ہار جاتا ہے اور میرے دیدار کرنے کی پیاس اور بھی بڑھ جاتی ہے۔(شاہ لطیف)

وہ اپنی جگہ پر بلکل ساکت اس کا غزالی چہرہ دیکھے جا رہا تھا شاید اس کی نگاہوں کے ارتکاز کی حدت کا اعجاز تھا کہ وہ بری طرح کسمسائی تھی۔
سوہم گڑبڑایا تھا اور فورا سے پہلے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
سلائیڈنگ ڈور کے بند ہونے کی آواز پر وہ گڑبڑا کر اٹھی تھی۔
مگر روم میں کوئی نہیں تھی۔اس نازک سی جان کو جھرجھری آئی۔ اگر کوئی ہوتا تو۔ اگر کوئی آ جاتا تو۔ اففف وہ اٹھی اور وضو کرنے واش روم بھاگ گئی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

نیورو سرجن ڈاکٹر انعم آروشے پر جھکی ہوئیں تھیں۔ اس کا سٹی اسکین بھی ہو چکا تھا اور اب ڈاکٹر اس کی فائل پر جھکیں ہوئی تھیں ۔

ڈاکٹر نے اس کی دماغی حالت کی وہی وجوہات بتائیں تھیں ایشان کو جس کا اسے اندازہ تھا۔ وہ تمام ڈیٹیلز حاصل کر کے اس پرائیویٹ روم میں آیا تھا۔ جہاں بیڈ پر آروشے میڈیسن کے زیرِ اثر پرسکون سی سو رو رہی تھی۔ اس کے پاس ہی علیزے چئیر پر بیٹھی تھی۔

وہ جب روم میں آیا تو علیزے بری طرح کھانس رہی تھی۔
اس قدر شدت سے کے وہ بھی حیران ہو گیا۔ اب تو کھانسی سے اس کی سانس بھی اٹک رہی تھی۔
ہیے یو آر یو اوکے، وہ آگے آیا، تبھی وہ واش روم بھاگ گئی تھی۔ ایشان بھی پریشان سا اس کے پیچھے آیا تھا۔اور یہ دیکھ کر ایشان کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی کہ علیزے نے خون کی وومٹنگ کی تھی۔

بڑی مشکل سے وہ سنبھلی تھی۔ ایشان نے اس کی بیک رب کی۔اس کی سانس بحال ہوئی تو ایشان اسے روم میں لایا اور سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
چلیں میں آپ کا چیک اپ کرواتا ہوں، یقینا کوئی گھمبیر مسئلہ ہے آپ کو،

اس کی کوئی ضرورت نہیں ڈاکٹر، مجھے پتہ ہے مجھے کیا ہوا ہے۔ اس نے نگاہیں چرا کر کہا۔۔
کیا ہے آپ کو؟ ایشان نے پوچھا۔۔
بلڈ کینسر لاسٹ سٹیج، وہ اتنے سکون سے بولی جیسے کہہ رہی ہو موسمی فلو ہوا ہے مجھے۔
ایشان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا،
اور آپ مجھے اب بتا رہیں ہیں؟ کدھر ہیں آپ کی روپوٹس۔ ایشان نے اسے جھڑکا۔ تبھی اس کے بازوؤں پر ایشان نے وہ سیاہ داغ دیکھے تھے۔

ڈاکٹر مجھے اپنی زرا برابر بھی فکر نہیں ،اب تو بس کسی بھی وقت، تلخی سے مسکرا کر اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی، مگر جانے سے پہلے میں آروشے کو محفوظ ہاتھوں میں جاتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ ڈاکٹر کیا آپ زمہ داری اٹھائیں گے آروشے کی ۔آپ نکاح کریں گے اس سے، میں جانتی ہوں کافی خود غرض ہو رہی ہوں، مگر مجھے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا۔ یہ کہہ کر علیزے بلک بلک کر روئی تھی۔

اور اگر میں کہوں کہ میں بھی ایسا ہی چاہتا ہوں آپ کے کہنے سے پہلے ہی سے، تو؟ ایشان نے اطمینان سے کہا۔ تو علیزے نے اپنی رگ و پے میں سکون اترتا محسوس کیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

تین دن سے وہ اس سرد سے سفید خالی کمرے میں نظر بند تھی ۔۔پورے کمرے میں صرف ایک سنگل بیڈ اور ایک ٹیبل،،، ٹیبل پر پڑا واس،

رواحہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ آخر اب وہ کس کی قید میں تھی۔۔ تین وقت کا کھانا اسے دیوار میں نصب ایک فٹ لمبے چوڑے دراز نما ہول سے دے دیا جاتا تھا۔۔

ایک سبز آنکھوں والے درندہ صفت آدمی کو دیکھ کر جو انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا تھا،،، بے ہوش ہونے کے بعد اسے کچھ پتہ نہیں تھی۔۔کہ وہ یہاں کب اور کیسے پہنچی تھی۔۔

تین دن سے اسی بےہودہ سرخ لباس میں اب تو اپنے آپ سے گھن آنے لگی تھی۔۔ وہ اٹیچ واش روم میں جا کر فریش تو کئی مرتبہ ہوئی تھی مگر اس لباس میں نماز پڑھتے ہوئے خود سے ہی نظر نا ملا پاتی تھی۔۔

وہ جو سبز سرد بے تاثر آنکھیں اسکرین پر جمائے کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا کافی کے گرم اور تلخ گھونٹ اپنے اندر انڈیل رہا تھا تین دن سے فرصت کے لمحات میں یہی شغل فرما رہا تھا ،،،یہ بھی نہیں جانتا تھا کیوں۔۔

اسکرین پر نظریں تھیں،، تبھی وہ بے اختیار گڑبڑایا تھا۔۔کیونکہ ادھر محترمہ دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھتی اب اپنا سرخ پاؤں تک پہنا اپر اتار رہی تھی۔۔
جھٹکے سے اٹھ کر اس نے وہ اسکرین سوئچ آف کی تھی۔۔

پاگل،،، سٹوپڈ،،، ایڈیٹ،،، بدتمیز لڑکی،،، سوہم خان نے دانت پیسے۔۔

اسے مت کوسو اس بیچاری کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا کہ کوئی اسے اتنی فرصت سے دیکھ رہا ہے،،،
پیچھے منی سکون سے بولی تو ایک لمحے کو تو منی نے بھی اس کی گڑبڑاہٹ محسوس کی تھی،،
مگر وہ فورا سے پہلے اپنے خول میں بند ہوا تھا۔۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو منیب،،،، وہ سرد سے لہجے میں پھنکارا،،

میں بھی چیک کرنے آئی تھی کہ یہ ماش میلو جیسی لڑکی ایسا کیا مشکوک کر رہی ہے جو اس پر نظر رکھنی پڑ رہی ہے سوہم خان کو وہ بھی بلیک روم میں،،
منی نے آگے بڑھ کر اسکرین آن کی۔۔

جسے دیکھ سوہم ٹھٹھک گیا،،، اور فوراً سے پہلے منہ پر رومال باندھے بلیک روم کی جانب لپکا تھا۔۔

اب تو رو رو کر آنکھیں بھی خشک ہونے لگی تھی۔۔مگر اسے لگتا تھا کہ کوئی ہے جو کہیں سے اسے دیکھ رہا ہے۔۔

آزمانے کو تواحہ کے دماغ میں جھماکا سا ہوا۔۔
دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھا۔۔ جالی دار سرخ اپر جو پہنا تھا اس کے بازو چوڑی دار تھے۔۔مجبوراً وہ بھی اتارنا پڑا۔۔ مگر لمبے سیاہ بال کمر سے نیچے تک اور دونوں طرف سے آگے جھول رہے تھے۔۔
دوپٹہ اپنے گرد لپیٹا۔۔ٹیبل کے پاس آکر واس زمین پر دے مارا۔۔

اس نے ایک نوکیلا ٹکڑا ہاتھ میں لیا تھا واس کا۔۔
وہی زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر وہ نوکیلا ٹکڑا اپنی کلائی پر رکھا تھا۔۔
وہ حرام موت نہیں مرنا چاہتی تھی مگر آنکھیں زور سے بند کر اب کلائی پر دباؤ ڈالا۔۔

تبھی دھاڑ سے دیوار میں نصب سلائیڈنگ ڈور جھٹکے سےایک سائیڈ ہوا تھا۔۔
روح کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔
بجلی کی سی تیزی سے آنے والے نے طوفان بنے اس کے پیٹ کے گرد بازو لپیٹ اسے جھٹکے سے دیوار سے پن کیا تھا۔۔ اس کے دائیں بائیں دیوار پر ہاتھ رکھے۔۔

What the he’ll,,,,,,,, What was you trying to do,,,,,,

اس رومال بندھے سبز آنکھوں والے درندے کو اپنے اتنے قریب دیکھ رواحہ کا چہرہ خوف کے مارے سفید پڑ چکا تھا۔۔
اپنا حشر سوچ کر زبان تالو سے چپک گئی۔۔
اس نے بہت زور سے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔۔

وہ اس سحر زدہ سے لحوں میں جکڑا پتھر کا بن چکا تھا۔۔ بس آنکھیں تھیں جو معصوم چہرے کا طواف کر رہیں تھیں۔۔
اس کی رگیں تن چکیں تھیں۔۔ اپنی ہی کیفیت سے جھنجھلایا۔۔

کوشش بھی مت کرنا،،، مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو مجھے بتاؤ،، تمھاری مشکل آسان کر دیتا ہوں،،،
وہ دانت پیستا اب اسکیلیپل نکال اس کی گلے پر مگر اُلٹا رخ رکھ چکا تھا۔۔

گلے پر ٹھنڈا سا کچھ محسوس ہونے پر اس نے گھنیری پلکوں کی جھالریں اٹھا سامنے دیکھا تو حلق خشک ہو گیا۔۔

نن،،،، نہیں،،، چھ،،، چھوڑ،،، ددد،، دو،، مجھے،،،،، وہ زور زور سے نفی میں سر ہلاتی جانے کیا کہنا چاہتی تھی۔۔ نازک ہاتھوں سے اسے پرے دھکیل بھاگنے کی معصوم اور چھوٹی سی کوشش کی۔۔

سوہم خان نے تلملا کر اسے بازو سے تھام اپنی جانب کھینچا تھا۔۔

Continue,,,,,,,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓