No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
آخر گئی کہاں وہ لاہور سے حرام خوروں،، زمین کھا گئی کے آسمان نگل گیا۔ جب میرے بندے ہر طرف پھیل گئے تھے تو وہ گئی کہاں؟ مجھے وہ ہر قیمت پر اور کسی بھی حال میں چاہیے ، کتوں،، نہیں تو تم لوگوں کے گھروں سے اٹھا لاؤں گا عورتیں اور رانی بائی کے کوٹھے پر پھینک آؤں گا سب کو۔۔رستم غم وغصہ سے پھنکارتا منہ سے جھاگ اڑاتا مغلظات بک رہا تھا۔
پورا لاہور چھلنی کی طرح چھان مارا تھا مگر جب چندا کا نام و نشا بھی نہیں ملا تو سہی معنوں میں اس کی دم پر پیر آیا تھا۔اب بھی وہ دھاڑ دھاڑ کر اپنے گلے کو ناحق زحمت دے رہا تھا۔
اس کے تمام بندے اور بڑے بڑے غنڈے بھی اس کے قہر سے بوکھلائے پھر رہے تھے۔
وہ جو اس رات چندہ کا تعاقب کے رہے تھے۔ایک ہاؤسنگ سوسائٹی تھی اس کے باہر کٹی پھٹی حالت میں پائے گئے تھے۔ یہ اس کی شکست تھی کہ کسی نے رستم دادا کے بندوں کو اتنی بری طرح قتل کر اس کی منظورِ نظر کو اٹھا کر لے گئے تھے۔
تبھی آج اس کے بندے ان تعاقب کرنے والوں میں سے ایک بندے کو ہسپتال سے ڈھونڈ کر رستم کے سامنے لائے تھے۔جو سوہم سے شکست کھا کر چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کہ اسے معلوم تھا کہ اب اگر وہ رستم کے ہاتھ لگ جاتا تو اس کی دردناک موت طے تھی۔
دادا،، اس دن ان لوگوں میں سے یہ بھی ان کے ساتھ تھا، جو میڈم کے پیچھے بھاگے تھے اب یہ بتائے گا کہ ہوا کیا تھا۔ ٹونی نے اس بندے کو گردن سے دبوچ رکھا تھا۔
رستم دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا تھا۔ رستم کے دیکھنے میں ہی وہ سفاکیت تھی کہ وہ گھگھیا گیا۔
دد، دادا اس دن ہم میڈم کا پپ، پیچھا کر رہے تھے، وہ بھاگ کر ایک گھر میں چلیں گئیں تھیں۔ ہم پیچھے گئے تت،، تو وہاں و،، وہ تھا۔ اس کے گلا خشک ہو رہا تھا تبھی بار بار گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہو رہی تھی۔
وہ،، کون،، جلدی بھونک،،، رستم نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا اور اسے گلے سے دبوچا ۔
وہ،وہ وہاں، جج، جلاد، تھا،، سس، سوہم، خان، اس نے کہا کک، کے اپنے دد،، دادا سے کہنا کہ، تمھاری منظورِ نظر،، جج، جلاد کے پاس ہے، اگر،، مم، مرد کے بب،، بچے تو آ کر،، لل لے جاؤ ،، اس نے بمشکل ہی اپنی بات پوری کی تھی۔ اس کے علاوہ مم، میں کچھ نہیں جانتا،، دد،، دادا۔
سچ میں، رستم نے کہتے اس کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔اس کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔ایک عرصے سے ایک جلاد نامی مسلسل عذاب ان پر نازل ہوا تھا۔رستم نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا مگر ہر مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کون تھا؟ کیا تھا؟ کہاں سے آتا تھا؟ کہاں جاتا تھا؟ کوئی اتا پتا نہیں تھا اور اس کے بہت خاص آدمی غائب کر چکا تھا۔ اس کے کافی غیر قانونی کاموں کے اڈے تباہ کر چکا تھا۔ اس نے پھر اپنے آدمیوں کو دھنک کر ان پر غصّہ نکالا تھا۔
چندا کیا گئی تھی وہ تو رانی بائی کے کوٹھے پر بھی قہر و عذاب بن کر نازل ہوا تھا۔ تارا سے لے کر اس نے سب پر تشدد کی انتہا کر دی تھی۔ مگر کسی کے منہ سے من چاہی بات نا سن پایا تھا۔کیونکہ ان میں سے کسی کا بھی اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
اب صحیح معنوں ميں اس کو تپتے توے پر بٹھایا گیا تھا یہ خبر سنا کر۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایشان گھبراہٹ کے عالم میں اندر داخل ہوا تھا۔ اندر آیا تو اس کے اوسان خطا ہوئے تھے۔ وہ دونوں سٹور روم میں تھیں۔علیزے چلائے جا رہی تھی۔جبکہ آروشے ٹوٹے لکڑی کے آئرن سٹینڈ پر چڑھی ہوئی تھی۔نیچے کپڑوں کا ڈھیر لگا کر اسے جلایا گیا تھا۔ جو کہ یقیناََ روشے بے بی کا کارنامہ تھا۔۔
روشے نیچے اترو، فورا سے پہلے، خدا کے لئے مجھے اور پریشان مت کرو، روشے پلیز،، میری جان بخش دو، زندہ تو نہیں رہ پائی سکون سے مجھے سکون سے مرنے تو دو، علیزے زارو قطار روتی اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
ادھر ایشان آج آروشے کو دیکھ کر حیران ہوا تھا، جو مسلسل چلا رہی تھی۔ آج وہ اسے چیخ چلا کر باتیں کرتی بڑی بڑی لگی تھی،، نو کوئی نہیں آئے گا میرے پاس، میں کسی کو خود کے قریب نہیں آنے دوں گی، خبردار میرے پاس آئے، میں آگ میں کود جاؤں گی، میں مار دوں گی خود کو، سب کو،، آروشے بھی رو رو کر بے حال ہو رہی تھی اور اب ایشان کو تو دیکھ کر اور پینک ہوئی تھی۔۔
یہ،، یہ ،وہی ہے، علیزے، یہ پھر آ گیا، یہ ڈیول، یہ پھر وہی کرے گا، یہ ٹارچر کرے گا، یہ مارے گا،، یہ برباد کر دے گا، میں اگ میں کود جاؤں گی، میں مر جاؤں گی۔
ایشان نے بھونچکا سا اسے دیکھا تھا۔صدمے سے اس کی آنکھیں پھٹی تھیں، یہی صدمہ کافی تھا کہ روشے بےبی اہنے ایش کو نہیں پیچان رہی تھی۔۔اور آروشے کی باتوں سے وہ جس نتیجے پر پہنچا تھا اس نے کے سر پر آسمان گرا تھا۔مگر اس وقت آروشے کو وہاں سے بچانا بہت ضروری تھا۔ علیزے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔اور اسے دیکھ چہرہ خفت سے سرخ ہوا تھا۔
ایشان نے وقت ضائع کیے بغیر اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ایک ہی جست میں آگ پھلانگی تھی۔
نووووووو، وہ حلق کے بل چلائی۔مگر ایشان نے اسے کھینچ کر اپنے شولڈر پر گرایا تھا۔ اس نے بری طرح مزاحمت کی۔علیزے نے وہاں پڑے ڈنڈے سے وہ جلتے کپڑے سائیڈ پر کیے۔ایشان نے اپنی ٹائی سے اس کے پیر باندھے تھے۔
وہ اسے لئے روم میں آیا تھا۔ایشان کو نہیں معلوم تھا کہ اس کی دسترس میں ایک شیشے کا ٹکڑا بھی تھا۔جب بری طرح جھٹپٹاتے آروشے نے وہ ٹکڑا ایشان کے بازو میں کھبو ڈالا تھا۔ یہ منظر دیکھ علیزے کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔ کیونکہ ایشان کی فروزی شرٹ تیزی سے خون آلود ہوئی تھی۔ ایشان نے اسے بیڈ پر لٹایا تو وہ اور زیادہ جھٹپٹائی اور چلانے لگی۔
تبھی ایشان نے اس کا ایک ہاتھ گھٹنے کے بال بیڈ پر بیٹھ کر اپنے گھٹنے کے نیچے نرمی سے دبایا۔ اور دوسرا ایک ہاتھ میں تھام کر پینٹ کی پاکٹ سے انجیکشن نکال کر اس کے بازو پر انجیکٹ کیا تھا۔
آہہیہہہہہہہہہہہہہ،،، ایک درد ناک چیخ نازک لبوں سے ادا ہوئی اور مزاحمت دم توڑ گئی۔۔ ایشان فورا پیچھے ہٹا۔علیزے نے رو رو کر اپنی آنکھیں سجا لیں تھیں۔ایشان نے اپنے کندھے سے وہ شیشے کا ٹکڑا نکالا اور ایک مرتبہ پھر بیڈ پر لیٹے اس نڈھال سے وجود کو دیکھا۔
کہا ہوا تھا آروشے کے ساتھ،؟ اس کے سپاٹ سے لہجے میں پوچھے گئے سوال نے علیزے کے پیروں نیچے سے زمین کھسکائی تھی۔ مگر وہ اگنور کرتی کچن میں جا کر فرسٹ ایڈ باکس لے آئی تھی۔
اب علیزے کے آنسو بھی تھمے تھے۔آپ اتنے عرصے کہاں تھے ڈاکٹر.؟ وہ طنز نہیں کر رہی تھی مگر ایشان کو لہجہ پرشکوہ لگا۔
ضروری کام کے سلسلے میں باہر گیا تھا۔ایشان نے وضاحت دی۔
آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا علیزے، میں آروشے کے بارے میں سب جاننا چاہوں گا، تاکہ اس کا علاج کر سکوں، وہ خالص پروفیشنل لہجہ میں بولا، مگر اس کا لہو چھلکاتا چہرہ تنی رگیں اور وحشت زدہ آنکھیں کچھ اور ہی چغلی کھا رہیں تھیں۔ وہ انتظار کرتا رہا مگر علیزے خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔ اس نے سرد سی آہ بھری اور آروشے کو لیے اپنے ہوسپیٹل گیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وصی اس کے آفس میں اس کے ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا۔ اور اپنے سر کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
یہ پیپر لے جا کر اپنی میڈم کو دے دینا، کوشش کرنا کے بی جان آس پاس نا ہوں، اور وہ تمھارے سامنے ہی یہ کھول کر دیکھے کیونکہ میں اسے لائیو دیکھنا چاہتا ہوں،، یہ پیپر کھولتے ہوئے، اور اسے کہنا اس متعلق بی جان کو بتانے کی بھول نا کرے، ورنہ،
ماہ بیر نے سکون سے کہا، ایک اور نیا زخم دینے کی بھر پور تیاری کی تھی اس نے۔
وہ یہ کر کے بڑا سکون حاصل کر رہا تھا یہ جانے بغیر کے محبت کو روندنے والوں کو تو یہ ایسے ڈستی ہے کہ کاٹا پانی بھی نا مانگے۔ محبت کی نا قدری کرنے والے کانٹوں پر گھسیٹ لیے جاتے ہیں۔ تل تل کر کے ایڑیاں رگڑتے ہوئے تڑپتے ہیں مگر محبت کی کی گئی ناقدری کا مداوا نہیں کر پاتے۔
وصی حویلی داخل ہوا تو وہ سامنے ہی صحن میں دھلے کپڑے تار پر ڈال کر سوکھا رہی تھی۔ اور بی جان اپنی عبادت میں مشغول تھیں ۔۔وصی کی نگاہیں جھکی ہوئیں تھیں وہ آگے آیا گلا کھنکار کر اسے مخاطب کیا۔ اس کے کالر پر لگے کیمرے سے اس کالے لباس میں ملبوس سوگوار سے حلیے والی چاندی کی طرح دمکتی اس نازک سی لڑکی کو دیکھ اپنے آفس میں بیٹھے ماہ بیر کو کچھ ہوا تھا۔مگر اس نے نگاہ چرائی تھی۔
میڈم یہ پیپر سر نے بھیجے ہیں، وہ متوجہ ہوئی تو وصی نے وہ پیپر اس کے سامنے کیا۔
وہ خاکی لفافہ دیکھ اس کے چہرے پر ایک سایہ سا آ کر لہرایا تھا جسے وہ جلدی سے چھپا گئی۔
اندر رکھ آؤ، ابھی میں مصروف ہوں بعد میں دیکھ لوں گی، وہ لاپروائی سے کہتی واپس کپڑوں کی جانب متوجہ ہونے لگی۔
میڈم سر نے کہا تھا کہ یہ ،،، وصی بری طرح ہچکچایا، جبکہ ماہ بیر سکون سے بیٹھا انھیں دیکھ اور ان کی باتیں سن رہا تھا۔ سر نے کہا تھا کہ میڈم سے کہنا یہ فوراََ کھول کر دیکھیں، اور اس متعلق بی جان کو بھی علم نا ہو،،
وصی کے لہجے پر اس کے بالٹی کی جانب بڑھتے ہاتھ ٹھٹھک کر رکے تھے۔ وہ سیدھی ہوئی، اچھی طرح جان گئی تھی کہ اس شخص نے یقینا اس پیپر میں اس کے لئے اذیتوں کا ایک نیا باب لکھ کر بھیجا ہوگا۔اور وہ یقینا اسے دیکھ بھی رہا ہوگا۔اسی لئے وصی کو کہہ کر بھیجا کہ اپنے سامنے کھلوانا۔تبھی جی کڑا کر کے اس کے ہاتھ سے لفافہ تھاما۔
لفافہ چاک کر اس نے اس میں سے وہ پیپر نکال کر کھول کر دیکھا۔آزادی کے تین پروانوں میں سے ایک اور پہلا پروانہ تھا۔ فجر نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر اپنے تاثرات چھپائے تھے اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوئی تھی۔ تبھی پیپر فولڈ کرتی سرد و سپاٹ سرسراتے لہجے میں وصی کو کہا تھا۔
اپنے سر سے کہنا بہت شکریہ، مگر مجھے تب زیادہ خوشی ہوتی جب وہ تینوں پیپر ایک ساتھ بھیجتے، اور خود کو اور مجھے اس پھندے سے ایک ہی مرتبہ رہائی بخش دیتے،، وہ کہتی اپنے کام میں مصروف ہوئی تھی۔ وصی فوراً واپسی کے لئے مڑا۔
ادھر کسی پر جیسے پیٹرول چھڑک کر آگ دکھائی گئی تھی۔تبھی لیپ ٹاپ اٹھا کر دیوار سے مار کر دھماکہ سنتے سکون حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔اپنے آفس کی ہر چیز تہس نہس کی تھی اس نے۔پیپر ویٹ اٹھا کر اپنی کتابوں کی الماری کا شیشہ دھماکے سے چکنا چور کیا تھا۔۔ سینے میں ایک بھانبھڑ سا چلا تھا جس نے اسے سر تا پا جلایا تھا، اور یہ جلن اور تکلیف برداشت سے باہر تھی۔۔
ادھر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سر کا چمچہ جا چکا تھا۔
فجر کی آنکھیں جلیں ۔جیسے کسی نے مرچیں ڈال دیں ہوں۔ بمشکل ہی اپنا کام مکمل کیا تھا۔اپنے کمرے میں آ کر واش روم بند ہو کر اپنی آنکھوں سے خون رو کر اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سوہم اپنے اپارٹمنٹ آیا تھا۔ رات کا وقت تھا۔ ہر طرف خاموشی اور سناٹا تھا۔۔ منی بھی یہیں کہیں تھیں۔ وہ اپنے سیکرٹ روم گیا تھا۔ بلیک روم کو کنٹرول کرنے والے کیمروں کی اسکریں پر نگاہ گئی۔ وہ چونکا مگر اگنور کر گیا۔ اپنے کپڑے لے کر واش روم گیا اور فریش ہو کر باہر آیا۔ نظر بار بار بھٹک کر بند اسکرین پر جا کر رک رہی تھی۔
رائٹ، مجھے صرف یہ تجسس ہے کہ محترمہ کیا کر رہی ہوگی۔اس نے خود سے کہتے اسکرین آن کی۔ تو ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوتی محسوس کی۔
رواحہ کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک سنگل بیڈ پر خالی کمرے میں پایا۔ وہ تڑپ کر اٹھی۔ کہیں کوئی کھڑکی کوئی دروازہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ بے تحاشا خوفزدہ ہوئی۔ اب کس مصیبت میں پھنس گئی تھی اور اگر رستم دادا کی دسترس میں تھی تو وہ پھر بکھری اور گھٹنوں میں سر دئیے پھوٹ پھوٹ کر روئی۔
سرخ ہاف بلاؤز لہنگا۔ اوپر جالی دار اپر اور وہ جالی کا دوپٹہ جو اچھے سے اپنے ارد گرد لپیٹ رکھا تھا۔ جو ہیرے کی طرح دمکتے اس کے گداز بدن کو چھپانے کی ناکام سی کوشش کر رہا تھا۔
اس نے اٹھ کر چاروں اور دیکھا مگر کہیں جائے فرار نا دکھی بس ایک دروازہ تھا۔ وہ بھی واش روم کا تو وہ واش روم گئی فریش ہو کر وضو کر کے باہر آئی۔کلاک پر وقت دیکھا۔ عشاء کا وقت تھا۔بیڈ پر سے چادر کھینچ کر نیچے بچھائی اور عشاء کی نماز ادا کرنے لگی۔
سوہم اسے غور سے نماز پڑھتے دیکھ رہا تھا۔ معصوم چہرے پر سکون اور نور سا تھا۔ منی نے ہلکی سی دستک دی تو اس نے فوراَ سے پہلے اس اسکرین آف کی۔
منی کمرے میں داخل ہوئی تو وہ لاپرواہ سا صوفے پر بیٹھا تھا۔
تم نے جو کہا تھا وہ کام ہو گیا سوہم خان آگے کیا حکم ہے، منی نے کہا تو وہ تو کچھ اور ہی کہہ رہی تھی، جب کہ آج سوہم خان کا دھیان کسی اور جانب بھٹک رہا تھا شاید،
اسے کھانا دیا؟ سوہم خان پوچھ بیٹھا۔۔
نہیں ،، منی نے ایک حرفی جواب دیا۔
کیوں؟ سوہم خان نے استفسار کیا۔
اب وہ تو بلیک روم میں ہے جہاں تم اپنے مجرموں کو رکھتے ہو ۔انھیں ٹارچر کرنے۔جہاں انھیں بھوکا پیاسہ رکھتے ہو، اب مجھے کیا پتہ اب تمھاری اس مجرم کو کھانا دینا ہے کہ نہیں، وہ لاپروائی سے بولا۔ مگر تمھاری پر زور دیا۔
جاؤ کھانا دو اسے،، سوہم نے دوسری جانب نظر گھما کر کہا تو منی مبہم سا مسکرائی۔ مگر جلد ہی اپنی مسکراہٹ چھپا لی۔ کیونکہ اسے اس گرین مونسٹر سے اپنی بتیسی نہیں نکلوانی تھی۔
سوہم کے فون پر ایک مخصوص بیل سنائی دی تو وہ بے تحاشا چونکا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
فجر نے عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے لئے سکون کی دعا مانگی تھی۔کچن میں گئی بی جان کے لئے دودھ گرم کیا ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹہ ہوا تھا انھیں کھانا کھائے اور بی جان کو لیٹے۔
اس نے تو وہ پیپر بھی اپنے کمرے میں ایسی جگہ چھپایا تھا جہاں کسی کی نظر نا پڑے۔کہ بی جان کا بی پی کچھ دنوں کچھ زیادہ ہی ہائی رہنے لگا تھا۔
وہ دودھ کا گلاس ان کے روم میں لے کر ائی تو وہ چت لیٹی سو رہی تھیں۔
بی جان، اٹھیں میڈیسن لے لیں۔اس نے قریب آ کر آواز دی ۔مگر جواب ندارد۔ اس نے بی جان کو زرا سا ہلایا۔ٹھنڈی سی محسوس ہوئیں ۔بی جان،، بی جان،، اس نے بار بار پکارا۔مگر وہ جواب نہیں دے رہیں تھیں۔ یہ سوچ کر اس کے ہوش اڑے تھے کے بی جان کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔
کانپتے ہاتھوں سے بی جان کا فون اٹھا کر ماہ بیر کا نمبر ڈائل کیا۔
ماہ بیر جو اپنے روم میں تھا۔رات کو اس وقت بی جان کا نمبر فون پر بلنک ہوا تو اس کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے۔ وہ تو آگے ہی اس وقت کا کانٹوں پر لوٹ رہا تھا اب یہ سوچ کے اس نے پیپر والی بات بی جان کو نا بتا دی ہو منع کرنے کے باوجود،
مگر پھر بھی اس نے جاننے کے کال اٹھا لی مگر سامنے سے جو آواز سنائی دی اس نے سینے میں بھڑکتے الاؤ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے دے۔
مم،، ماہ بیر، وہ، وہ، وہ بے تحاشا رو رہی تھی، ماہ بیر کو لگا وہ پیپر کے حوالے سے بات کر رہی ہے،
کیا ہوا بولو اب،، ماہ بیر نے کہا، دل نے خواہش کی، کاش وہ اپنے نازک لبوں سے ایک مرتبہ یہ بول دے کہ مجھے آزادی نہیں چاہیے۔
ماہ بیر بی جان، بی جان، اٹھ نہیں رہی ہیں، انھیں کچھ ہو گیا ہے، آپ جدی آ جائیں،،
ماہ بیر کہ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی۔ تبھی لپک کر سائیڈ ڈرار میں موجود ایک ڈیوائس سے چند بٹن پش کیے تھے۔
کیا ہوا ہے انھیں، اور کب، وہ طوفان بنا کیز موبائل اور والٹ اٹھا کر باہر نکلا تھا۔
کھانا،، کھایا تھا، اب میں دودھ لے کر مم، میڈیسن دینے آئی تت تو مجھ سے بات، نہیں کر رہیں۔ وہ پھر روئی، آج ان سسکیوں نے اسے مزید وحشت زدہ سا کیا تھا، اور آواز سنتے رہنے کی خواہش انگڑائی لے کر دل میں بیدار ہوئی تھی۔ وہ بہت تیزی سے رف ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
ڈونٹ وری، میں آ رہا ہوں، کچھ نہیں ہوگا بی جان کو، زندگی میں پہلی مرتبہ اس ظالم، بےحس ستمگر کے منہ سے تسلی کے دو لفظ سن کر وہ ٹوٹی تھی۔تبھی بے تحاشا روتی فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔۔
چند ہی پلوں میں اس کی گاڑی حویلی داخل ہو چکی تھی۔ وہ ہی نہیں اس کے علاوہ جبران، ایشان اور سوہم کی گاڑیاں بھی آگے پیچھے حویلی داخل ہوئیں تھیں۔
پاشا اور رحاب بھی پہنچنے والے تھے ۔ وہ سب اندر کی جانب لپکے۔ اندر وہ بی جان کے قدموں سے لپٹی ہوئی بے حال ہو رہی تھی۔جبران اور ایشان بی جان کی جانب بڑھے۔
مای بیر اسے لے کر باہر جاؤ، سوہم نے کہا۔
فجر ،ماہ بیر نے سرخ آنکھیں لیے اسے پکارا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔
جبران نے انھیں چیک کرنا شروع کیا، ایشان نے جو اپنا میڈیکل کا بڑا سا باکس لائے تھے وہ ٹیبل پر رکھ کر کھولا۔
ماہ بیر باہر لے جاؤ انھیں، اب کی بار جبران نے کہا کیونکہ اسے بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہو چکا تھا۔
ماہ بیر اسے بازو سے پکڑ باہر لے کر گیا۔ وہ خالی خالی سرخ نگاہوں سے ماہ بیر کو دیکھنے لگی۔
کچھ نہیں ہوگا بی جان کو، سنبھالو اپنے آپ کو، ماہ بیر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا تو وہ اس کا خود کے سہارے کھڑا رہنا دوبھر ہوگیا۔اس سے پہلے زمین بوس ہوتی۔ماہ بیر نے اسے خود میں بھینچا تھا۔
جبران اور ایشان کے ہاتھ پاؤں پھول چکے تھے۔کیونکہ وقت مٹھی سے ریت کی طرح پھسل چکا تھا، پھر بھی آخری امید کے طور پر جبران نے انکے سینے میں انجیکشن لگایا تھا۔
سوہم بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ان کی کاروائیاں دیکھ رہا تھا۔
الیکٹرک شاک، جبران نے اشارہ کیا۔ ایشان نے میڈیکل باکس میں سے
AEDs
مشین نکال کر اسے آن کیا۔
اوکے ہولڈ ہر،، 1،2،3
مایوسی،، اوکے ونس اگین،،، 1,2,3
دو تین بار الیکٹرک شاک لگانے کے بعد بھی اس مردہ بے جان وجود میں جان نہیں آئی تھی۔ جبران اور ایشان نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔اور سویم کی جانب اشارہ کیا۔ وہ باہر ماہ بیر کے پاس آیا۔جہاں پاشا اور رحاب بھی پہنچ چکے تھے۔
مما آپ سنبھالیں اسے اور ماہ بیر تم اندر آؤ، سوہم نے سرخ آنکھیں لیے ماہ بیر کو اشارہ کیا۔
نن،، نو میں بی جان کے پاس جاؤں گی،، وہ مچلی، اور ماہ بیر کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی۔
بڑی مشکل سے ماہ بیر نے اپنی شرٹ چھڑا کر اس کا ہاتھ رحاب کو تھمایا اور خود اندر آیا۔
کک، کیا ہوا، جبران ایسے کیا دیکھ رہے ہو، ماہ بیر کی زبان لڑکھڑائی۔ پیچھے ہی سوہم اور پاشا کھڑے تھے۔
ماہ بیر، حوصلہ رکھنا یار، شی از نو مور، ماہ بیر نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے جبران کو دیکھا۔ جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اس کی دنیا اندھیر ہو جانے کی خبر سنا رہا تھا۔جبران کے اشارہ کرنے پر ایشان نے بی جان کے سر تک چادر تان دی۔
وہ جو بے قابو ہو کر دروازے تک آئی تھی۔ وہ الفاظ سن اور بی جان کے چہرے پر تنی چادر دیکھ ایک دلخراش چیخ مارتی وہیں زمین بوس ہوئی تھی۔
او نو،، ماہ بیر اب پیچھے مڑ کر اس کی جانب لپکا تھا، ایسا کیوں تھا کہ ہر رشتہ ماہ بیر راسم حفیظ کی مٹھی سے سوکھی ریت کی طرح پھسل جاتا تھا۔ اس نے فجر کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔جبران نے جھک کر اس کی پلز چیک کیں، اور ماہ بیر کو تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہے اور محض صدمے سے بے ہوش ہوئی ہے۔
سب کو وحشت و غم نے اپنے گھیرے میں لیا۔
اور ماہ بیر نے بے اختیار فجر کو کسی قیمتی متاع کی طرح اپنے سینے میں بھینچا تھا۔
