Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

سوہم منی اور ایشان رات کے تقریباً تین سے چار بجے کے درمیان کراچی پہنچے تھے۔سوہم نے ماہ بیر کو بلا کر ایشان کو اس کے ساتھ وائٹ پیلس بھیج دیا تھا۔ اور خود سی ویو پر ایک الگ تھلگ بنے اپارٹمنٹ میں آیا تھا۔

پراسرار عمارت میں چہار سو خاموشی تھی۔۔منی نے لا کر اسے صوفے پر لٹایا تھا۔۔اور جالی دار سرخ دوپٹہ اس بے ہوش وجود کے چہرے سے ہٹایا تو دنگ رہ گئی۔۔وہ مبہوت سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔

جب سوہم خان فون پر جے کے سے بات کرتا اندر داخل ہوا تھا۔۔ایک نظر ہی دیکھا تھا اس صوفے پر موجود وجود پر۔۔ سبز کائی آنکھیں سرد اور بے تاثر رہیں۔فورا نظر پھیر لی۔۔

وہ مُنی اور اس کی جانب سے پیٹھ کر کے کھڑا تھا فون رکھ کر سرسراتے لہجے میں بولا۔منیب اسے نلیک روم میں لے جاؤ،

کیا،،؟مُنی کے سر پر بم پھوٹا تھا، ارے پاگل ہو گئے ہو سوہم خان،، اسے دیکھو، اسے تو پھول سے بھی چوٹ پہنچ جائے، اتنی نازک جان، یہ،یہ بلیک روم میں رکھنے کے قابل ہے۔مُنی شاکڈ سی صدمے سے بے حال پوچھنے لگی۔

منیب جیسے کہا ہے ویسے کرو،،،، وہ یونہی اطمینان سے مگر سرد لہجے میں بولا۔

ارے دیکھو تو سہی ایک مرتبہ،یہ تو بلکل ماش میلو کی طرح نرم ہے، میں تو نہیں لے کر جاؤں گی اسے بلیک روم، یعنی حد ہو گئی جنگلی پن کی بھی، ایک منی ہی تھی جو پیٹھ کیے کھڑے شخص سے اس انداز میں بات کرنے کی جرات کر سکتی تھی۔۔

تمھیں پتا ہے تمھاری اس ماش میلو کی وجہ سے کتنا خون خرابہ ہوا ہے۔۔کتنوں کی جان گئی ہے،دو تین خاندان اجڑ کر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، اب وہ سب اسے اپنی جان پر بھگتنا ہے، سو جیسا کہا ہے ویسے کرو، وہ پھنکارتا سرد لہجے میں بولا۔
ابھی تو بلیک روم ہی بھیج رہا ہوں اگر ایک مرتبہ اور تم نے چوں چرا کی تو ونڈر لینڈ پھینک آؤں گا۔۔۔سنا۔۔۔منیب لے کر جاؤ اسے،
وہ دھاڑا۔

مگر، منی اب بھی الجھن میں ہی تھی کہ کیا کرے کیا نا کرے اس جلاد نے تو اسے بھی شش وپنج میں مبتلا کر دیا تھا۔
منیب مجھے الجھن ہو رہی ہے اس کے وجود سے، لے کر جاؤ اسے، تھکا ہوا ہوں، آرام کروں گا۔ اس کے سرد سرسراتے لہجے میں واضح وارننگ تھی۔
منی چپ چاپ اٹھی اور اسے اس سرد سے کمرے میں سنگل بیڈ پر لٹا کر واپس آ گئی۔ سلائڈنگ ڈور آٹو لاک ہوا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

مفرا سارا دن الله تعالیٰ سے مدد مانگتی رہی تھی۔پھر آخر ایک آئیڈیا دماغ میں آ ہی گیا۔وہ بہانے سے واش روم گئی تھی۔اور پھر اندر اس نے دیوار کے کونے میں سر مار کر اپنا سر بری طرح زخمی کیا تھا۔ خون کی لکیریں چہرے پر گری تو اس نے اندر کا شیشہ بھی توڑ دیا۔ شور سن کر نرسز واش روم کی جانب بھاگی تھیں۔
تبھی اس نے دروازہ کھول کر انھیں یہ یقین دلا دیا تھا کہ وہ واش روم میں پھسل گئی تھی۔۔

اسی لئے اسے بلکل سامنے بنے ہاسپٹل میں مرحم پٹی کی وجہ سے پہنچایا گیا تھا۔ وہ سرا دن ہوسپیٹل میں رہی۔زخم گہرا تھا۔اسی لئے اس کی جان چھوٹ گئی تھی ۔مگر اب اسے جلد از جلد کچھ اور سوچنا تھا۔وہ رات کا انتظار کرنے لگی۔الله اللہ کر کے رات ہوئی۔

رات کے تین بجے پورا ہوسپیٹل اندھیرے میں ڈوب چکا تھا۔۔اور اسے اسی بات کا انتظار تھا۔۔مِفرا آہستگی سے دبے پاؤں بیڈ سے اٹھی۔اسے مینٹل آزائلم میں موقع نہیں ملتا مگر یہاں وہ کامیابی سے پہنچ چکی تھی۔اسی لئے یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی۔۔
وہ بہت چھپ کر کوریڈور سے گزرتی سیڑھیوں کی جانب آئی تھی۔

بڑی خاموشی سے چلتی وہ اب سکون سے اپنی موت کی جانب جا رہی تھی ایسی زندگی سے موت کئی گناہ آسان اور اچھی تھی۔ کیونکہ اس کے پاس کوئی جائے فرار کا راستہ نہیں تھا۔سو یہی اور ایسا ہی سہی۔

وہ سیڑھیاں چڑھ کر ہوسپیٹل کی کشادہ چھت پر آ چکی تھی۔اور اب مردہ قدموں سے ریلنگ تک گئی تھی۔نیچے دیکھا تو اندھیرے میں نظروں کے سامنے دنیا گھوم گئی۔کلیجہ منہ کو آیا۔سیونتھ فلور سے نیچے کا منظر نہایت بھیانک تھا۔نازک وجود پسینے سے بھیگ گیا۔وہ ریلنگ کے اوپر چڑھنے لگی۔

کدھر محترمہ،Swan صاحبہ، پر نہیں ہیں آپ کے جو اڑنے کا پروگرام بنایا ہے، ہڈی پسلی کا کچومر نکل جانا۔ملگجے اندھیرے میں بھاری آواز آس پاس گونجی تو دل اچھل کر حلق میں آیا۔
اچھل کر پیچھے مڑی۔
سامنے ہی ایک لمبا چوڑا شخص پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اطمینان سے کھڑا اسے دیکھ بلکہ غصے سے گھور رہا تھا۔منہ پر رومال باندھا تھا جس پر بڑا سا واضح طور پر جے کے لکھا ہوا تھا۔

جبران سامنے اس گداز سے وجود کو گھورے گیا۔کیا کرنے آیا تھا اور اس لڑکی کے سئیوسائٹ کمٹ کرنے پر اس کا اپنے کام سے دھیان ہٹ گیا تھا۔وہ اس کی جانب بڑھنے لگا جب،

دور رہو ،نہیں تو کود جاؤں گی میں، وہ پھنکاری۔

شیور،اطمینان قابلِ دید تھا۔مگر مرنا ہی ہے تو میرے کام آ جاؤ، ایکچوئلی میں یہاں ڈاکٹر ہوں، اور وومن آرگنز کی اسمگلنگ کرتا ہوں تو اپنے سارے آرگنز مجھے دے دو، میرا بھلا ہو جائے گا، اور تمھارا کام بھی،وہ سکون سے اپنے فولڈ کف لنک میں سے اسکیلپل نکالتا بولا۔

جسے دیکھ مِفرا کی آنکھیں باہر ابلنے کو تھیں،یو باسٹرڈ دور رہو مجھ سے،وہ چلائی۔اور ریلنگ کا ایک مزید سٹیپ چڑھ گئی۔

جبران کے ماتھے پر بل آئے۔یہ سونتھ فلور ہے محترمہ، نیچے کود کر ویسے بھی نازک جان کا قیمہ بننے والا ہے، تو اپنے سب آرگنز مجھے دے دیں۔اسے باتوں میں الجھا کر وہ ایک ہاتھ اپنے پیچھے لے کر گیا تھا ۔۔
وہ ایک اسٹیپ اور اوپر گئی۔

تبھی جبران نے بجلی کی تیزی سے اپنی بیلٹ نکال کر اسے کی جانب گھمائی۔جو اس کی کمر سے لپٹی تھی۔جبران نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔وہ اچانک آ کر جبران پر گری تھی۔۔

یو، شیطان چیپ انسان چھوڑو مجھے، مرنے دو، زلیل،نہیں زندہ رہنا چاہتی میں، چھوڑو مجھے، مِفرا نے اسے کے سینے پر مکے برسائے،جبران اسے غور سے دیکھے گیا۔تبھی حسبِ معمول executioner نے پاکٹ سے سرنج نکال کر اس کی گردن میں انجیکٹ کی تھی۔

آیہہییہہہہ،،، وہ سسکی اور بہت جلد بے ہوش ہو کر اس کے کشادہ سینے پر گری۔جبران نے گہرا سانس لیا۔اور اسے ایک سائیڈ کر کے اٹھ کر کھڑا ہوا۔رومال اتار کر پاکٹ میں رکھا۔اور پاکٹ سے سگریٹ نکالی اور سلگا کر لبوں میں دبائی۔ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا۔
اور جھنجھلایا۔ افففففف اب یہ محترمہ کہاں سے آ گئی۔ آں ہاں، ایک منٹ، تو یہ بات ہے، جلاد کا دماغ تیزی سے چلا، اسے نے سی سی ٹی وی کیمرے سے دیکھا تھا، اس کالے سوٹ والی لڑکی کو مینٹل آزائلم سے ہوسپیٹل لاتے، یقینا اس کے ساتھ وہاں کچھ غلط ہونے والا تھا ۔تبھی وہ پہلے اسپتال پہنچی پھر خود کشی کرنے یہاں۔ یعنی یہ لڑکی اس کے بہت کام کی تھی۔

اس نے آدھی سگریٹ زمین پر گرا کر اپنے بوٹ سے مسلی تھی۔تبھی وہ اس نازک وجود کی جانب بڑھا تھا۔سونیا بھی نہیں تھی سو اسے یہ کام خود کرنا تھا۔تبھی وہ جھجھکتے اس کی جانب بڑھا اور اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔ روئی کے گالوں کی طرح نرم و نازک گداز وجود ،
جبران نے ایک نگاہِ غلط گھنیری پلکوں والے چہرے پر ڈالی اور فورا نظر چرائی۔۔
وہ اسے لئے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

صبح کے وقت وائٹ پیلس کے لان میں چڑیوں کی چہکار گونج رہی تھی جب سوہم خان وائٹ پیلس میں قدم رکھا۔
وہ نیم جان سا وائٹ پیلس میں اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔آنکھیں موندے وہ سر میں اٹھتا درد برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔جب اپنے دروازے پر ہلکی سی آہٹ محسوس ہوئی۔اس نے زرا کی زرا آنکھیں کھول کر دیکھا تو سوہم اندر داخل ہوا تھا۔

سوہم آ کر اس کے قریب بیڈ پر بیٹھا تھا۔ایشان کا ہاتھ ہاتھوں میں تھام کر سہلایا تھا۔ کیسی طبعیت ہے اب ایش، جب تمھیں پتہ ہے کہ تمھاری طبعیت اتنی خراب ہو جاتی ہے تو کیوں کرتے ہو اپنے ساتھ ایسا، سوہم نے سنجیدگی سے کہا اور مُنی جو دودھ کا گلاس لے کر آئی تھی وہ تھام کر ایش کی جانب بڑھایا۔ جسے دیکھ اس نے بہت برا سا منہ بنایا۔

بھائی پلیز،، اس نے کڑوا منہ بنایا۔
نو ایش، تم اچھی طرح جانتے ہو تم نے شرافت کا مظاہرہ نا کیا تو میں یہ تمھارا منہ کھول کر تمھارے حلق میں ایک ہی مرتبہ انڈیل دوں گا، سوہم نے سکون سے کہا۔ اب ایشان زرا سا تکیے پر نیم دراز ہوا تھا۔اور بمشکل دودھ کا گلاس ایک ہی سانس میں پی کر اس نے اپنی اس میڈیسن ملے سفید ملغوبہ اور پاس بیٹھے گرین مونسٹر سے ایک ہی مرتبہ جان چھڑائی تھی۔

وہ دوبارہ تکیے پر نڈھال سا گرا تھا۔ سوہم اسے دیکھے گیا ، بلکہ گھورے گیا۔
واٹ،، اب کیا ہے بھائی،، ایش جھنجھلایا، اب میں نے کیا کیا؟

Eshaan Kabeer Ibrahim Now you’ll tell me what’s going on in your mind. What is the problem after all. I’d like to hear you tell me the truth. It’s not the girl’s case.

سوہم کے ایک ایک لفظ سے ایش کے چہرے کی ہوائیاں اڑی تھیں۔
یہ کیا کہہ رہیں ہیں آپ بھائی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ،اس نے نگاہیں چرائیں تھیں۔ایش کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر سچ سوہم خان کے بلکل سامنے تھا اب کسی بات کے انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔

ایشان ،مجھے اس لڑکی کا نام بتاؤ، سوہم نے سنجیدگی سے پوچھا۔ہوا کیا ہے؟ بتاؤ گے کہ میں اپنے طریقے سے پتا کرواؤں، ڈیم اٹ،، اب سوہم نے اٹھ کر کھڑے ہو کر پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے تھے۔

پھر ایشان شرافت کا مظاہرہ کرتے سب بتاتا چلا گیا تھا، سوہم خان غور سے سنتا گیا۔ کیسے وہ اس سے ملا، اس کی مینٹلی کنڈیشن، اس کے ساتھ ان دیکھا انجانا سا دل میں محسوس ہوتا تعلق، اس کی معصومیت، سب کچھ، وہ سب کچھ بتا چکا تو سوہم نے ایک آبرو اچکا کر اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔ جیسے کہہ رہا ہو تو اب؟

مجھے وہ چاہیے بھائی، ایشان بھی سکون سے بولا، آخر کافی دنوں بعد اس کی یہ حالت روشے بےبی کی وجہ سے تو ہوئی تھی۔ نہیں تو وہ تو بلکل ٹھیک تھا۔

اور اس کی مینٹلی کنڈیشن، کیا تم،،،

میں ہر حد پار کر جاؤں گا بھائی، اس کی ہسٹری جغرافی نکال کر لاؤں گا، اس کا علاج کروں گا، پھر ہی اسے اپنی زندگی میں شامل کروں گا۔ وہ جو اتنے دنوں سے کانٹوں پر گھسیٹ لیا گیا تھا، اب بڑے سکون سے فیصلے سنا رہا تھا۔ کہ وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ہممم، اوکے فائن، جو مرضی ہے کرو، مگر اب تمھاری حالت بگڑی تو وہ روشے بےبی کی صحت کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ سمجھے، سوہم خان کا لہجہ ہمیشہ کی طرح سرد و سپاٹ تھا۔ اور یاد رکھنا ایش میری پل پل تم پر نظر ہے، یہ مت سمجھنا کہ میں نے تمھیں کھلی چھوٹ دے دی۔اور باقی کی ہمارے کام کی صورتحال سے تو تم آگاہ ہو ہی چکے ہو تو اگر اس لڑکی کی وجہ سے تمھیں کچھ ہوا تو میں آگ لگا دوں گا پورے کراچی کو۔سمجھے۔
وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہتا اس کے روم سے جا چکا تھا۔

ایشان نے تکیے پر سر گرایا، اونہہہہ گرین مونسٹر، کبھی ان کے پتھر دل پر دن دیہاڑے نقب لگ جائے تو ایش کو مزہ آئے،، اففف اسے جھرجھری آئی۔ تکیے میں منہ دیا تو چھن سے روشے بےبی کا ہیولہ تصور میں کہیں آنکھ کے پردے پر لہرایا۔۔ تو وہ بے اختیار مسکرایا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

فجر نے بوجھل ہوتی آنکھیں کھولیں تو خود کو ایک خالی کمرے میں پایا۔ پہلے تو اسے کچھ سمجھ نا آیا وہ کہاں اور کیوں ہے پھر آہستہ آہستہ دماغ پوری طرح بیدار ہوتا چلا گیا۔

بی جان ہوسپیٹل سے آئیں تھیں۔ تو اس نے انھیں سب بتا دیا تھا۔کیونکہ اب مزید برداشت کرنے کی ہمت کم از کم اس میں تو نہیں تھی۔ بی جان بھی بہت روئیں تھیں اور یہ انھیں کا فیصلہ تھا۔ جو بلکل اچانک انھوںنے کیا تھا کہ انھوں نے فجر کو وہاں سے دور اپنی دوست کے گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تب فجر نے اپنا ضروری سامان ایک بیگ میں رکھا اور رات کا انتظار کرنے لگی کہ سن میں تو ماہ بیر کے گارڈز اسے با آسانی دیکھ لیتے۔وہ رات کو حویلی کے پچھلے دروازے سے کیب میں بیٹھ کر نکلی تھی۔

بی جان کی دوست کے باہر پہنچی۔ ابھی وہ ڈور بیل بجاتی جب اس کے منہ پر سختی سے ایک رومال رکھا گیا تھا۔ جلد ہی وہ بے ہوش ہوئی تھی اور اب اس خالی سے کمرے میں جب آنکھ کھلی تو وہ بے تحاشا خوفزدہ ہوئی تھی۔ شدید صدمے اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اسے اس کمرے میں کوئی دروازہ نہیں نظر آ رہا تھا۔اور وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے کتنا وقت ہو چکا تھا یہاں آئے۔ کس نے کڈنیپ کیا تھا اسے اور کس مقصد سے، سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوئے تھے اس کے۔

اس نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور اٹھ کر دیواریں ٹٹولیں۔۔اس کے ہاتھ لگانے سے جیسے ایک دیوار بڑی پینٹنگ کے پیچھے سے ایک سائیڈ سرکتی چلی گئی۔ یہ جانے بغیر کے یہ دروازہ جان بوجھ کر حکم کے مطابق کھلا چھوڑا گیا ہے۔ وہ تیزی سے باہر نکلی تھی۔ اور نکلتے ہی کسی کے چوڑے سینے سے ٹکرائی تھی۔

نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی وہ دشمنِ جاں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے بغور اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ ییلو کرتی اور وائٹ پٹیالہ شلوار میں وہ ییلو دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا اور بلیک چادر میں وہ چاندی کی طرح دمک رہی تھی۔
ماہ،، بیر،، وہ مجھے کک، کسی، نے کڈنیپ،، وہ متوحش سی اسے بتانے لگی تھی۔ جب ماہ بیر نے اسے بازو سے دبوچ ایک لیڈی گارڈ کے اوپر پھینکا تھا۔

ایک تل بھر کی نازک سی لڑکی تم لوگوں سے نہیں سنبھالی جاتی تو ڈوب مرو، اور چھوڑ دو جاب یہ، وہ غصے سے پھنکارا۔ فجر کا صدمے کے مارے برا حال تھا۔ ایک اور نیا تازہ زخم، ایک اور نیا ستم، فجر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئ۔

لے جاؤ اسے یہاں سے کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو، ماہ بیر غرایا تو لیڈی گارڈ اس کی جانب بڑھی۔مگر اس نے بدک کر یوں اسے گھورا کہ ایک مرتبہ تو وہ بھی گڑبڑا گئی تھی۔

خبردار کوشش بھی مت کرنا مجھے ہاتھ لگانے کی۔فجر نے لیڈی گارڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ماہ بیر نے اسے جانے کا اشارہ کیا۔ آپ، آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہوئی مجھے کڈنیپ کرنے کی۔
تو آج فجر میڈم نے بھی زبان کھولنے کی جرأت کر ہی لی۔ماہ بیر نے غور سے اسے دیکھا۔

تم بھول گئی فجر ماہ بیر راسم کے اچھی لڑکیاں راتوں کے اندھیروں میں گھر کی دہلیز سے باہر قدم نہیں نکالا کرتیں، تمھیں وہی یاد کراوایا تھا۔ مگر مجھ سے غلطی ہوئی، شاید میں یہ بھول گیا کہ تم تو نایاب کی بیٹی ہو ناں تو اچھی کیسے ہو سکتی ہو۔

ماہ بیر نے اسے تکلیف پہنچانے کو بڑا کاری وار کیا تھا تبھی شدتِ غم وغصہ سے فجر کے چہرے نے لہو چھلکایا تھا۔ جسے وہ گہری نگاہ سے آبزرو کر رہا تھا۔
اس دن مرنے نہیں دیا آپ نے، آج جانے نہیں دیا، اگر اتنی ہی بری ہوں تو جانے دیں مجھے، آپ اپنے جیسی لے آئیے گا اچھی، فجر کے لہجے میں نفرت و حقارت تھی۔کہ آج تو اس نفرت نے ماہ میر کو بھی ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مجھ سے ضد ہے تو پھر، اس ضد کو نبھانے کے لئے 😠
میں جو مر جاؤں تو پھر،،،،،،،،آپ بھی مر جائیے گا😡

مگر یہ ماہ بیر راسم حفیظ کہ ظالم و سفاک نفرت تھی جس نے جھکنا نہیں سیکھا تھا۔ ہارنا نہیں سیکھا تھا۔تبھی،
تمھیں رکھنے کے لئے کون مرا جا رہا ہے فجر میڈم، میں تو اس لئے لے کر آیا کہ اگر جا ہی رہی تو کشتیاں جلا کر جاؤ کہ پھر واپسی کا سوال ہی پیدا نا ہو۔ اور مجھے بھی تسلی ہو کہ میں نے اس بوجھ نما رشتے سے جان چھڑا لی۔آزاد ہو گیا اس بیکار کے رشتے سے،،وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا،
بول رہا تھا، جس کانچ سے اسے لہو لہان کر رہا تھا خود کے بھی تو دل جان لہولہان ہو رہے تھے۔مگر اسے مطلق پرواہ نہیں تھی۔ جلاد تھا ناں، جانتا تھا کب کہاں اور کیسے وار کرنا ہے۔

فجر نے جو خود پر کڑے پہرے بٹھائے ہوئے تھے۔دل و جاں میں ابال سے اٹھے تھے۔ حلق کے پھندا سا اٹکا تھا۔ حالت تو اس وقت ایسی تھی کہ دھاڑیں مار مار کر روتی مگر اب اس بے حس کے سامنے وہ اپنے ایک بھی آنسو کو بے مول نہیں کرنا چاہتی تھی۔

تبھی بہانے سے مڑی اور اندر جا کر اپنا بیگ اٹھا کر لائی تھی۔ اتنی دیر کافی تھی۔ خود پر قابو پانے کے لئے، وہ بیگ لئے اسے اگنور کرتی باہر کی جانب جانے لگی جب گارڈز پر اس کی راہ میں حائل ہوئے تھے ۔ وہ غصے سے بھری اس کی جانب مڑی تھی جس کے اطمینان میں رتی بھر فرق نہیں پڑا تھا۔
حویلی جا رہی ہوں ،بڑی شدت سے انتظار رہے گا آزادی کے پروانے کا،فکر مت کریں آپ کو اس بوجھ نما رشتے سے آزاد کروائے بغیر کہیں نہیں جاؤں گی، اب اپنے کتوں سے کہیے کہ ہٹ جائیں میرے راستے سے، ورنہ میں پولیس بلا لوں گی۔ بھوکی شیرنی بنی غراتی آج سہی معنوں میں فجر ماہ بیر نے جلاد کے پیروں نیچے سے زمین کھینچی تھی۔

اس کے ہاتھ کے اشارہ کرنے سے گارڈز راستے سے ہٹ چکے تھے۔ دن کا وقت تھا مگر پھر بھی اس نے وصی کو کال ملائی۔ جو کہ ہمیشہ کی طرح فورا اٹینڈ کی گئی ۔ہمم وصی میڈم کا پیچھا کرو، حویلی تک بحفاظت چھوڑ کر آنا۔ اس نے فون رکھا اور ایک سرد سی آہ بھری۔ اس چھوٹی سی لڑکی کی نفرت نے سینے میں سانس الجھا دی تھی۔ اب تک تو اس کی محبت کو روند کر سکون حاصل کیا تھا۔
مگر اب نفرت سے نفرت ٹکرانے والی تھی۔
جانے کیا قیامت آنے والی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

شام کا وقت تھا ۔اس کی طبیعت کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔ تبھی اٹھ کر فریش ہوا تھا۔ تیار ہو کر اپنا والٹ، کیز اور موبائل اٹھایا اور کمرے سے باہر نکلا۔سامنے ہی صوفے پر پاشا اور ریحاب تھے۔

اسے جاتا دیکھ پاشا سے رہا ناں گیا۔ کدھر ایش،، سوہم نے منع کیا ہے ناں، کہ جب تک مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتے باہر نہیں جانا، پاشا جو کہیں جانے کے لئے بلکل ریڈی تھا، پوچھ بیٹھا۔

پلیز بڑے پاپا،، ٹھیک ہوں میں بلکل، باہر ضروری کام سے جا رہا ہوں، جلد ہی لوٹ آؤں گا، اور یہ کہنے کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں کہ بھائی کو مت بتائیے گا، کیونکہ ان گرین مونسٹر کو تو پتہ نہیں کیسے پتہ چل جاتی ہے ،،وہ جھنجھلایا تو پاشا بھی مسکرا دیا۔وہ باہر نکلتا چلا گیا۔۔ اور گاڑی لے کر نکلا۔آدھے پون گھنٹے کی مسافت کے بعد منزل پر پہنچ کر گاڑی کو بریک لگائی۔

آروشے کے گھر کے باہر کھڑا اب وہ جھجھک رہا تھا۔کیونکہ کافی دنوں کا گیپ آ چکا تھا۔اب وہ شدید شرمندہ تھا کہ علیزے کو کیا جواب دے گیا۔اس دن اس کی بات سنے بغیر چلا گیا تھا۔ وہ کیا کہتی ہوگی کہ وہ کس قدر بے حس اور ظالم ہے۔
ابھی کچھ اور سوچتا کہ کچھ غیر معمولی سا محسوس ہوا۔ اندر سے آروشے اور علیزے کی چیخ و پکار کی آوازیں سن وہ بری طرح ٹھٹھک گیا تھا۔

Continue,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کل دھمکی پر مطلوبہ ہدف تک کا رسپونس ملنے پر یہ بات تو کنفرم ہو گئی🤭😂 کہ ہم پاکستانی