No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جبران اور مفرا گھر میں داخل ہوئے تو غیر معمولی سناٹا سا محسوس ہوا۔ مفرا بھاگ کر سعد کے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ہی بیڈ پر سعد نڈھال سا لیٹا ہوا تھا۔ اور اس کے سرہانے بیٹھی نرما اس کا سر دبا رہی تھی۔۔
“کیا ہوا سعد بھائی آپ کو،،؟ مفرا نے تڑپ کر آگے بڑھی اور سعد کے پاس بیٹھ گئی۔۔
پتہ نہیں مفرا،، کچھ دنوں سے طبیعت خراب سی رہنے لگی ہے،، سعد بوجھل سی آواز میں بتایا۔
تو آپ کو ہاسپٹل آنا چاہیے تھا سعد بھائی اور اپنا ڈیٹیل چیک اپ کروانا چاہیے تھا،، جبران نے سعد کو چیک کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا اور ایک اچٹتی سی نگاہ اس کے سرہانے بیٹھی لاتعلق سی بنی نرما پر ڈالی۔
میں سب کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں،، آخر اسے خیال آ ہی گیا۔۔ کسی نے توجہ نا دی وہ کچن میں چلی گئی۔ جبران نے اسے چیک کیا مگر بغیر ٹیسٹس کے وہ کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا تھا۔ تبھی سعد کو بولا کو تیاری کرے وہ اسے ہاسپٹل لے کر جائے گا۔
کیا یار،، جبران صبح چلیں گے ناں،، پرامس یار،، سعد نے منہ بنایا۔ جبران کو ہنسی آئی۔
تبھی نرما چائے لیے اندر آ گئی۔ سب کے سامنے ٹرے بڑھائی۔مفرا اور سعد نے اپنے اپنے کپ اٹھا لیے۔ مگر
سوری بھابھی میں چائے نہیں پیتا،، کافی پیتا ہوں،، جبران نے کہا تو اس کی بجائے سعد نے کہا۔
پی لو یار،، میری بیگم اتنے پیار سے بنا کر لائی ہے،، تو مجبورا جبران کو کپ اٹھانا پڑا۔
آپ خود کے لئے نہیں لائی،، جبران کو اس کے چہرے کی خباثت لیے شیطانی ہنسی دیکھ کچھ غیر معمولی محسوس ہوا ۔۔
دودھ پی چکی تو اسی لئے اپنی بنائی ہی نہیں،، ٹکڑا جوڑ جواب آیا۔
جبران نے کپ ایک سائیڈ رکھا اور سعد کی میڈیسن چیک کرنے لگا۔ مفرا اور سعد اپنی اپنی چائے پی چکے تھے۔ تبھی جبران کا فون رنگ ہوا تو وہ یس کر کے کان کو لگائے دوسرے روم میں چلا گیا۔
“جبران،، مفرا کی گھٹی گھٹی آواز سنائی دی تو اس کا دل گھبرایا۔ سعد کو روم میں آیا تو سامنے کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ سعد کے منہ سے جھاگ اٹھ رہی تھی جبکہ مفر گردن ہاتھوں میں دبوچے دہری ہو رہی تھی۔
اور وہ ناگن اپنا کام کر کے وہاں سے بھاگ چکی تھی۔ جبران کی آنکھوں میں خون اترا۔ اسی لیے اب اسے دنیا کی کوئی طاقت جےکے کے عتاب سے نہیں بچا سکتی تھی ۔۔
بچ،،، شٹ،،،،
اپنے فون سے میسج الرٹ بھیجا۔
وہ مفرا کی جانب لپکا،، اسے تھام کر سیدھا کیا،، ہیے مفرا،، پاگل ہو کر پکارا،، مگر تبھی مفرا نے منہ بھر کر خون کی الٹی کی،، جبران سمجھ گیا کہ بہت کوئی زہریلی چیز چائے میں ڈالی اس نے۔
اس نے مفرا کو بازوؤں میں بھرا اور گاڑی میں ڈالا،، پھر سعد کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ہوا میں اڑائی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ہوسپیٹل میں وہ سب موجود تھے۔۔
نرما کچھ دور، بس سٹینڈ تک ہی بھاگ پائی تھی جب ماہر نے اسے پکڑ لیا۔ وہ جانتا جےکے اس کا برا حال کر دے گا۔ مگر وہ خواتین کو اپنے ٹارچر سیلز میں نہیں رکھتے تھے اسی لئے ماہر نے اس پاگل عورت کو اس کے سو کالڈ عاشق سمیت کامران حسن کے حوالے کر دیا تھا۔
کافی عرصے سے وہ رفیق نامی شخص میں دلچسپی لے رہی تھی۔
اب ڈیٹیلز نکلوائیں تو وہ یہ سب جان کر حیران ہوئے تھے۔ اسی کہ مدد سے اس نے یہ زہر منگوایا تھا۔
جبران کی آج ہمت نہیں ہوئی تھی کہ آئی سی یو میں جا سکے تبھی باہر بینچ پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔ سب اسے تسلی دے رہے تھے۔ اس کے پاس پاشا ، سوہم اور کبیر موجود تھے۔
جبران اس سب میں خود کو قصور وار سمجھ رہا تھا۔ کہ وہ مفرا اور سعد کا خیال نہیں رکھ پایا۔ان کی حفاظت نہیں کر پایا۔
تبھی ایشان باہر آیا تھا۔ جبران بے چین سا ہو کر کھڑا ہوا۔ ایشان نے نگاہیں چرائیں ۔
کیا ہوا ایشان،،؟ بتاؤ مجھے ڈیٹیلز،، جبران نے سنجیدگی سے پوچھا۔
رپورٹس کے مطابق سعد کو تو کافی دن سے سلو پوائزن دیا جا رہا تھا۔ اور اب بھی شاید ریٹ کلر پوائزن دیا گیا ہے جو کہ بہت پاور فل اور ڈینجر تھا۔ اسی لئے سعد بھائی کی حالت کافی کریٹکل ہے،، ایشان نے بتایا تو جبران کا دل بیٹھنے لگا۔
اور تمھاری بھابھی کیسی ہے،، جبران نے امید افزاء لہجے میں پوچھا۔
سٹمک واش کر دیا ہے مگر ابھی وہ بھی کریٹکل ہی ہیں جےکے،، دعا کرو،، ایشان. بول کر واپس چلا گیا۔
مگر جبران بینچ پر بیٹھتا چلا گیا۔۔ کبیر نے بیٹے کی دگرگوں حالت دیکھی اور افسوس سے سر ہلایا۔ دعا کر رہا تھا سعد کو کچھ نا ہو،، آج سے کئی سال پہلے وہ بھی تو ایسی ہی صورتحال سے گزرا تھا جب سیف کی ڈیتھ ہوئی تھی اور اس نے تقریبا اپنا سب کچھ کھو ہی دیا تھا۔
آج اس کا بیٹا بھی تو اسی مقام پر کھڑا تھا۔
پتہ نہیں لیکن یقینا تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اسی لئے کبیر دل سے دعا مانگتا رہا کہ سعد کو کچھ نا ہو۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کئی گھنٹوں کے دل آزار انتظار کے بعد انھیں خوشخبری سننے کو ملی تھی سعد اور مفرا خطرے سے باہر ہیں۔۔
جبران نے اب سکھ کا سانس لیا تھا۔ اب جا کر سکون آیا تھا۔ محبت بڑی ظالم چیز ہے جس کی رگوں میں اتر جائے اس کو جدائی کے خیال سے موت آنے لگتی ہے۔
جیسے ابھی جبران کی سانسیں اٹک گئیں تھیں۔
انھیں رومز میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔ سعد کے پاس کبیر تھا جبکہ کافی دیر سے جبران مفرا کے پاس بیٹھا تھا جس کی سفید فراک پر خون کے دھبے آ چکے تھے۔ جبران بغور اپنے جینے کی وجہ کو دیکھے گیا۔۔
کچھ دیر بعد ہی مفرا کو نیم غنودگی میں اپنے گریبان میں کچھ نمی سی گرتی محسوس ہوئی تو اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔ اگلا منظر بہت واضح تھا۔
وہ دیوانہ اس کی گردن پر جھکا آنسو بہا رہا تھا۔
کیا تھے یہ سب۔ دنیا کے لئے ظالم جلاد اور اپنی محبت کے لئے موم کی طرح پگھلتے آنسو بہاتے بہت خاص مرد،، وہ شوہر جو اپنی بیوی کو اپنے دل کی بہت اونچی مسند پر بٹھا کر رکھتے ہیں۔۔
“جِب،،،،،، ران،،،، مفرا نے کسمسا کر کہا، اور ہمیشہ کی طرح اس کا نام شہید کیا۔
یار میرا نام کے ایسے ٹکڑے مت کیا کرو،، وہ خود پر قابو پاتا سیدھا ہوا۔ مگر لال انگارا آنکھیں دل پر گزرنے والی قیامت کی صاف چغلی کھا رہی تھی۔
وہ جھلا کر بولا تھا مگر جب وہ ایسے اس کا نام پکارتی تھی تو دنیا کا ہر رنگ جبران کو پھیکا لگا کرتا تھا۔ دنیا کا بہترین نظارا جبران کے لئے یہی تھا جب وہ ایسے گھبرا کر اس کے نام کے ٹکڑے کرتی تھی۔
تت،، تو، کیسے بولا کروں؟ وہ بھی پوچھ بیٹھی۔
جےکے بول لیا کرو،،، جبران نے آسان حل پیش کیا۔
تو جِب،،،،، ران میں کیا پرابلم ہے،، مفرا نے چھیڑا مگر غلطی کر بیٹھی۔
پرابلم تو کچھ نہیں مگر جب ایسے بولتی ہو تو دل کرتا ہے تمھاری بولتی بند کر دوں،، کہ آگے کچھ بول ہی نا پاؤ،، وہ گھمبیرتا سے بولتا اپنے اصل روپ میں واپس آیا تو مفرا کو ہمیشہ کی طرح گڑبڑانے پر مجبور کر دیا۔
مفرا نے گھبرا کر اس کے سینے میں منہ دے لیا تو وہ گہرا مسکرایا۔
جبران سعد سے ملا،، جو کہ بے حد ڈسٹرب تھا۔ اس کے مطابق کچھ دن پہلے اسے نرما کی سچائی معلوم ہوئی تو اس نے رو دھو کے اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگی۔ سو اس نے ظرف بلند کرتے اور اسے ایک اور موقع دینے کی نیت سے معاف کر دیا ۔ مگر وہ تب سے بیمار رہنے لگا کیونکہ وہ بے حس عورت اپنی دنیا و آخرت خراب کرتی اپنے شوہر کو سلو پوئزن دینے لگی تھی۔۔
مگر اب وہ اپنے انجام کو پینچ چکی تھی مگر سعد بری طرح ٹوٹ گیا تھا۔ مگر ان سب کو یقین تھا کہ وہ اسے واپس زندگی کی طرف مائل کر لیں گے۔۔
جبران سعد سے ملکر ڈسچارج کے پیپر چیک کرنے آیا تھا جب سامنے ماہ بیر اور ماہر آئے۔۔
وہ عورت مجھے چاہیے ماہ بیر،، جبران کی آنکھوں میں شعلے بھڑکے۔
کالم ڈاؤن،، ریلیکس جےکے،، وہ تمام گواہوں اور ثبوتوں سمیت قانون کے حوالے کر دی گئی ہے،، جتنے گناہ کر چکی ہے،، عمر قید تو طے ہے،، تم اب اس کی فکر چھوڑو،، اور اپنی فیملی کی جانب توجہ دو،، مفرا اور سعد کو تمھاری ضرورت ہے،، ماہر نے رسان سے سمجھایا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
انھیں ڈسچارج کیا گیا تو جبران مفرا سمیت سعد کو بھی اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود ساتھ لے آیا تھا۔ وائٹ پیلس میں سعد کا استقبال اس قدر اپنے پن سے کیا گیا کہ وہ جلد ہی پر سکون ہو گیا۔
مفرا سعد سے مل کر اپنے روم میں آئی تھی۔ دونوں بہن بھائیوں نے بڑی دیر تک رو رو کر اپنا غم غلط کیا تھا۔ سعد نے معافی مانگنے کی کوشش کی کہ کچھ بھی تھا اسے اپنی بہن پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ اگر جبران نا ہوتا تو جانے آج وہ کہاں ہوتی۔ کس مقام تک پہنچا دی جاتی۔ تباہ برباد کر دی جاتی۔
سعد کے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ تبھی بہت رویا تھا وہ،، مگر مفرا نے اسے تسلی دی تھی کہ وہ سب اس کے نصیب کا حصہ تھا ویسے بھی وہ سب نا ہوتا تو وہ جبران سے کیسے ملتی ۔ہر معمولی سے معمولی چیز میں بھی خدا کے کام میں کوئی نا کوئی مصلحت چھپی ہوتی ہے۔ (بیشک)
مگر انسان نادان ہے جو سمجھتا نہیں۔
ہر بڑی آزمائش کے بعد انسان کو نوازا جاتا ہے۔ اور مفرا کو بھی نوازا گیا تھا جبران کی صورت میں،، کہ اس کے نصیب میں اتنی محبت کرنے والا شوہر لکھ دیا گیا تھا۔
جبران نے نرمی سے مفرا کو بیڈ پر لٹایا۔
میں ٹھیک ہوں،، آپ پریشان مت ہوں،، مفرا نے اس کی پریشان سی شکل دیکھ کر کہا۔ اور تکیے پر نیم دراز ہوئی۔
جب تک مجھے تسلی نہیں ہو جاتی تمھاری طرف سے میری جان تب تک میں پرسکون نہیں رہ سکتا۔جبران نے بھی اپنی مجبوری بتائی۔
آپ مجھے بچوں کی طرح ٹریٹ کر رہے ہیں،، مفرا نے منہ بنایا۔
میں اپنے ہونے والے بچوں کی مما کو محبت سے ٹریٹ کر رہا ہوں،، وہ بھی سکون سے بولا اور اس کے قریب نیم دراز ہوا۔
کون سے بچے،، مفرا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہی جو کل میرے خواب میں آئے تھے اور مجھے بول رہے کہ کیا یار ڈیڈ بہت سست ہو،، جلدی کچھ کرو تاکہ ہم فٹا فٹ دنیا میں آئیں،، اس کی بات پر مفرا بری طرح گڑبڑائی تھی۔
اونہہہہہہ میرے بےبی آپ کی طرح نہیں ہوں گے بے شرم اور منہ پھٹ جو ایسے بولیں گے،، مفرا نے جھلا کر کہا تو وہ گہرا مسکرایا۔
تو قبول کرتی ہو بیگم کہ میں بے شرم ہوں،، جبران نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال اس کا سر اپنے سینے پر رکھا۔۔
“وہ تو آپ پکے والے ہیں،، مفرا نے بول کر اس کے سینے میں منہ دیا۔
جبران نے قہقہہ لگایا اور اس کے کندھے پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑا۔۔
یو نو واٹ پنک روز،، تھا تو کچے والا،، پکے والا تم نے بنایا ہے،، جبران کے شوشے پر وہ خود میں سمٹی۔
جبران پلیز،، تنگ مت کریں،، وہ جھنجھلائی۔ وہ گہرا مسکرایا۔
اور اسے خود میں سمیٹ لیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزرتا چلا جاتا ہے۔
آج آروشے کی طبیعت خراب ہوئی تھی تو وہ سب اسے لئے ہاسپٹل آئے تھے۔
آروشے سے زیادہ تو ایشان پینک کر رہا تھا۔ اسے دیکھ سب کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی۔۔
وہ اس کا ہاتھ تھامے اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔ آروشے نڈھال سی تھی۔
بالآخر کچھ گھنٹوں کے بعد آروشے کی مشکل آسان ہوئی اور خدا نے اسے رحمت سے نوازا ۔ سب میں خوشی کی لہر سی دوڑ گئی تھی۔ لٹل اینجل کو دیکھنے کو سب ہی بےچین تھے۔ اور سب سے زیادہ تو ایشان بے چین تھا جونئیر آروشے کو دیکھنے کے لئے۔
آروشے کو لیبر روم سے دوسرے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔
ایشان روم میں داخل ہوا تو آروشے جو نڈھال سی لیٹی ہوئی تھی اسے دیکھ کر مسکرائی۔ یہ الوہی سی مسکان ممتا کی چمک اور سکون لیے ہوئے تھی۔ پاس ہی کاٹ میں ننھی پری گہری نیند میں تھی وہ دھیمے قدموں سے چلتا بیڈ کے قریب آیا۔۔
Congratulations,,,,
مجھے دنیا کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازنے کا شکریہ میری جان،، ایشان نے جھک کر عقیدت سے اس کے سر کا بوسہ لیا۔
آپ کو بھی مبارک ہو،، وہ دھیمے سروں میں بولی تو ایشان مسکرایا۔ اور کاٹ کی جانب بڑھا۔
“یہ تو بلکل میری روشے بےبی ہے،، ایشان نے اس ننھے گداز وجود کو گود میں بھرا۔
ایشان کی بے ساختگی میں کہے گئے الفاظ کو اندر آتے سب نے سنا تھا۔ آروشے انھیں دیکھ کانوں تک سرخ ہوئی۔
تو ہم نے کون سا کہا کہ یہ ہماری روشے بےبی ہے،، بھئی تمھاری ہی ہے،، آریان چھیڑے بغیر نہیں رہ سکا۔
ایشان مسکرایا۔ “کوئی شک،، ایشان کے لہجے میں فخر تھا کیونکہ جو اس کے گود میں تھی وہ یوں جیسے روئی کی گڑیا تھی۔
اوووووو یہ تو بلکل باربی ڈول ہے،، آریان نے اس کی گال کو چوما۔ شفا بھی دیکھنے قریب آئی۔ بلکل اپنی چاچی پہ ہی چلی گئی سوئیٹ اینڈ ساور،،، آریان کی سرگوشی ۔ شفا نے تلملا کر اسے دیکھا اور چور نگاہوں سے سب کو ،،
سوائے ایشان کے کسی نے نہیں سنا تھا۔
بیغیرتی آن پیک،،، ایشان نے شفا کا سرخ چہرہ دیکھ آریان کو گھرکا تو وہ دانت نکالنے لگا۔
پھر آریان نے ایشان کو آروشے کے پاس بٹھایا اور آروشے کی گود میں بےبی کو دے کر بہت خوبصورت اور یاد گار پکس بنائیں۔
“آروشے اس کا نیم میں نے علیزے رکھنا ہے ،، ایشان نے کہا تو آروشے نے بھیگی پلکوں سے تشکر کے احساس سے اپنے کئیرنگ ایش کو دیکھا۔ اور دھیمے سے اس کے سینے پہ سر رکھ لیا۔ آریان نے یہ پل بھی موبائل کی آنکھ میں سیو کر لیا۔
زمل اورکبیر پاس آئے اور بےبی کو گود میں اٹھایا۔
پھر ماہر اور رواحہ کی باری آئی، اسکے بعد سب نے باری باری بےبی کو گود میں اٹھایا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ویلڈن کمانڈو ماہر سوہم خان،، بہت اچھا کام کیا آپ نے،، آپ کی کارکردگی کے لئے آپ کو ستارہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا جائے گا یقینا یہ آپ کے لئے،، آپ کی فیملی اور اس قوم کے لئے فخر کا باعث و مقام ہے،،
میجر جنرل صاحب نے اس کے کندھے کو تھتھپاتے کہا تو اس نے سر کو ہلکا سا خم دیا۔
تھینکس سر،، مختصر کہا گیا۔
مجھے میجر عاصم نے آپ کا تعارف کرواتے بتایا تھا کہ آپ بولتے کم اور کام زیادہ کرتے ہیں آج دیکھ بھی لیا،،
میجر جنرل صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کیونکہ انھوںنے اتنی لمبی بات کہی اور سامنے سے صرف تھینکس ہی سننے کو ملا تھا۔
تو ماہر بھی مسکرا دیا تھا۔
آج انھوںنے چوری شدہ اربوں کا حساس اسلحہ فوج کے حوالے کیا تھا۔ تو میجر جنرل پرسنلی طور پر اسے سرہانے آئے تھے۔
یقینا رستم کو تو آپ جہنم رسید کر چکے ہوں گے،،
بلکل سر،، ماہر نے قبول کیا۔
اور آپ کے باقی مجرموں کے ساتھ آپ کیا کرنا چاہیں گے کمانڈو،، میجر نے ماہر سے پوچھا تو وہ ایک پل کو تو خاموش ہو گیا مگر پھر گویا ہوا۔
میرے مجرم نہیں سر،، قوم کے مجرم،، میرے والدین کے مجرم،، میرے اس بھائی کے جس کے والدین چھین لیے ان درندوں نے،، اور سب سے بڑھ کر میجر عاصم کے مجرم جن کی قوم کے لئے وفاداری پر سوالات اٹھا دئیے انھوں نے،، ماہر کے سرسراتے لہجے میں شعلے سے تھے۔
تمام ثبوت ہمارے پاس ہیں،، انھیں پھانسی ہی ہوگی نہیں تو دوسرا آپشن تو آپ کے اسکیلپل کے پاس موجود ہی ہوتا ہے،، نہیں کمانڈو،
میجر جنرل صاحب نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور مسکراتے ہوئے واپس چلے گئے۔
ان کے جانے کے بعد وہ گرین مونسٹر کھل کر مسکرایا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رواحہ بیڈ پر رونی سی شکل بنا کر لیٹی ہوئی تھی۔ اور منی اس کے پاس اس کے منہ کے رنگ برنگے زاویے دیکھ اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔ وہ اس کے سوپ لائی تھی
سبزیوں اور گوشت کے اس ملغوبے کو رواحہ کو اپنے اندر اتارنا جوئے شیر لانے کے مترادف لگ رہا تھا۔ وومٹ کر کر کے وہ بے حال ہو چکی تھی۔
جب سے اس کا پاؤں پھر سے بھاری ہوا تھا اس ہری بلا نے اس کی سانسوں پر بھی دسترس حاصل کر رکھی تھی جیسے۔
بقول رواحہ کے جینا مشکل کر رکھا تھا ۔ اسے بیڈ سے ایک قدم بھی نیچے اترنے کی اجازت نہیں تھی۔
وہ چاہے موجود ہو یا نا ہو رواحہ کے پل پل کی خبر ہوتی تھی اسے اور یہی چیز رواحہ کی جھنجھلاہٹ کا سبب تھی۔ کہ اب تو اسے اس کی مرضی سے روم سے بھی باہر نہیں نکلنے دے رہا تھا۔
منی بس،،، اب مزید میں نہیں پی سکتی،، وہ دبی دبی آواز میں بولی۔
تھوڑا اور،، منی نے اسے پچکارا۔
ہر گز نہیں،، اس نے منہ پرے کر لیا جب وہ مخصوص سٹائل میں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اندر داخل ہوا۔
کیا ہوا منیب،، اس کی آواز سن کر رواحہ گڑبڑائی تھی مگر خود کو انجان ظاہر کیا۔
یہ تمھاری مارش میلو،، سوپ گندا لگ رہا ہے اسے،، ۔منی نے بھی جو کب سے وہ اسے پریشان کر رہی تھی حساب برابر کیا۔
یہ باؤل ادھر رکھو میں پلا دوں گا اور تم جاؤ فروٹس دیکھو،، فریش آئے کے نہیں،،
ماہر نے کہا تو اس نے مسکین سی شکل بنا کر منی کو دیکھا۔منی نے بھی کندھے اچکائے جیسے کہنا چاہتی ہو میرے ہاتھ سے پی لیتی مگر اب بھگتو ہری بلا کو۔
وہ گئی تو ماہر دھیمے سے چلتا اس کے قریب آ کر بیٹھا۔
دیکھیے،، رواحہ نے انگلی اٹھائی۔
دیکھائیے،، ماہر نے دانتوں تلے لب دبایا۔
آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے،،
جو کرنا تھا کر چکا ہوں مارش میلو،، اب تو رزلٹ کا انتظار ہے،، اس نے بول کر دانتوں تلے لب دبا کر مسکراہٹ کو روکا۔(ماہر کی زبان کے جوہر صرف اس کی مارش میلو کے آگے ہی دکھتے تھے کوئی اور سنے تو بے ہوش ہی جائے)
“آپ بہت خراب ہیں،، وہ جھلائی۔
“جانتا ہوں،، اب فورا سوپ فنش کرو،، نہیں تو ہوش ٹھکانے لگا دوں گا،، وہ سنجیدگی لیے بولا۔
“آپ بہت ظالم ہیں ،، وہ روہانسی ہوئی۔
“اور یہ ظالم عاشق پاپا بننے والا ہے،، وہ بھی تین تین بےبیز کا،، تو ہر چیز کے چار حصے کھانے پڑیں گے ناں،، وہ سکون سے بولا۔ اور سوپ کا چمچ اس کے منہ کے آگے کیا ۔
اس نے منہ نہیں کھولا تو ماہر نے آئبرو اچکائی تو ناچار اسے منہ کھولنا ہی پڑا۔
ماہر کے چہرے کی۔مسکان گہری ہوئی۔
