No Download Link
Rate this Novel
Episode 52
جشن اپنے عروج پر تھا، آج وائٹ پیلس کے آنگن میں خوشیوں اور رونقوں کی بہار اتری تھی۔ سب لاؤنج میں موجود تھے۔ خواتین نے وائٹ اور آف وائٹ کمبینشن کے ڈریسز پہنے ہوئے تھے۔
اور سب مرد حضرات نے رائل بلو کلر میں ٹو پیس یا تھری پیس پہن رکھے تھے۔
پنکی ریشماں اور منی بھی ادھر ہی شاداں و فرحاں بیٹھیں تھیں ۔ ان کی تمام شاگردیں بھی اس ماحول میں رچ بس گئیں تھیں۔ جیسے یہ سب ایک تھے۔۔ ایک ہی خاندان سے تھے۔ ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔
سب لاؤنج میں موجود تھے۔ دن میں شبینہ کی مبارک رسم ادا کر دی گئی تھی اب ماہر اور رواحہ کا انتظار کیا جا رہا تھا۔
ایک صوفے پر ماہ بیر اور اس کے پہلو میں فجر بیٹھی تھی۔ ماہ بیر کی گود میں ارشن بےبی تھا۔ اور فجر کے ہاتھ میں شفا مہندی لگا رہی تھی۔
تبھی آریان جو کافی دیر سے اسے مختلف طریقوں سے پریشان کر رہا تھا۔ ان کے قریب آیا۔
کیا ہو رہا ہے بھابھی،، اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
لڈی ڈال رہے ہیں،، ڈالنی ہے،، شفا تڑخ کر بولی۔
تم اگر ساتھ دو تو دھمال بھی ڈال لوں،، آریان نے چھیڑا
اور میں پاگلوں کا کیوں ساتھ دوں،، وہ بھی لاپروائی سے بولی۔
“کیونکہ ایک پاگل کا ساتھ عمر بھر کے لئے قبول کیا ہے محترمہ آپ نے،، فجر نے دیور کی سائیڈ لیتے شفا کو لاجواب کیا۔
ارے واہ میری سوئیٹ بھابھی میں بھی کہوں ماہ بیر برو کیوں پاگل ہیں آپ کے پیچھے،، آپ ہو ہی لاجواب،، آریان عش عش کر اٹھا۔
فجر کانوں تک سرخ ہوئی کیونکہ ماہ بیر بڑوں کی پرواہ کیے بغیر دلچسپی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
یہ تو سہی بولا آریان تم نے تمھاری بھابھی واقعی لاجواب ہے،، ماہ بیر نے گھمبیر لہجے میں کہا تو فجر گڑبڑائی
جبکہ شفا نے آریان کو گھورا۔
بھابھی،، آپ نے کبھی فاقے زدہ چھپکلی دیکھی ہے؟ آریان نے فجر سے ایسے پوچھا جیسے پتا نہیں کتنی سیکرٹ اور اہم بات ہو۔
نہیں تو کدھر ہے،،؟ فجر نے حیرت سے پوچھا۔
شفا نے پہلو بدلہ،،
اور بھابھی آپ نے کبھی افریقہ کے جنگلوں کے جھینگا لالا ہو کرنے والے دیکھیں ہیں،، شفا نے بھی حساب بے باک کرنا چاہا۔
نہیں لیکن کیوں،، فجر الجھی یہ اس موقع پر وہ دونوں کیا لے کر بیٹھ گئے تھے۔
بھابھی فاقے زدہ چھپکلی آپ کے ہاتھ پہ مہندی لگا رہی ہے،، آریان نے کہہ کر آنکھ ونک کی۔
اور بھابھی افریقہ کا جنگلی آپ کا سر کھا رہا ہے،، وہ بھی دانت پیس کر بولی تو فجر قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔
شفا مہندی لگا چکی تھی، تو پیر پٹختی وہان سے واک آؤٹ کر گئی۔
ایشان آروشے کا ہاتھ تھام کر روم سے اسی کے کہنے پر دوبارہ باہر لایا تھا۔ اس کا سیونتھ منتھ چل رہا تھا۔ اسی لئے ایشان قدم قدم پر اس کا بے تحاشا خیال رکھ رہا تھا۔
ایشان نے اسے صوفے پر بیٹھنے میں مدد دی۔ اور خود اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔
سامنے ہی جبران مفرا کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس سے اوٹ پٹانگ باتیں کر کے اسے پریشان کر رکھا تھا۔
ان دو ماہ میں دونوں بھائیوں نے جب کافی مرتبہ ان کو الو بنایا تو آروشے اور مفرا دونوں ہی زمل کے پاس پینچی تھیں مدد طلب کرنے کے وہ ہی انھیں بتا دے کہ ان میں کیسے فرق کرتے ہیں وہ لوگ،،، تب زمل نے جبران کی داڑھی میں موجود اس نشان کا انھیں بتایا تھا ۔ تب وہ انھیں بے وقوف نہیں بنا پائے تھے۔
مگر وہ جےکے اور ایشان تھے،،، کے سنز،، چالاک،
اسی لئے ایک مرتبہ پھر شرارت کرتے ہوئے جےکے نے ایشان کے چہرے پر وہ نقلی نشان بنا دیا تھا۔ اور دوبارہ انھیں الو بنا دیا تب وہ بہت چلملائی تھیں۔۔
طویل لاؤنج کے ایک کونے میں پاشا، سوہم ، کبیر اور کامران حسن بیٹھے اپنی ہی باتوں میں مصروف تھے۔ کامران نے انھیں کیس کی کامیابی پر مبارک باد تھی۔
تبھی کامران حسن کو ضروری کال آ گئی اور انھیں جانا پڑا۔ انھوں نے اجازت طلب کی اور پاشا سے کہا کہ وہ شفا کو گھر چھوڑ آئیں۔
ضرور،، اب وہ میری بیٹی ہے تو اس کی فکر آپ مت کیا کریں،، پاشا نے مسکرا کر کہا ےو کامران حسن مسکرائے اور وہاں سے نکلے۔
آروشے نے شفا کو کچن میں سے پانی لینے بھیجا تھا۔
شفا کچن میں اسی کام سے جا رہی تھی جب آریان نے پھر پیچھے سے ہانک لگائی۔
خوبصورت بہت ہے تو لیکن، دل لگانے کے قابل نہیں،،
فاقے زدہ چھپکلی جو ہے،،
شفا نے مڑ کو شرر بار نگاہوں سے اسے گھورا۔ مگر وہ شفا آریان پاشا ابراہیم تھی۔
لہک کر گایا،،
I LOVE IT WHEN YOU CALL ME seno-LIZARD
I WISH I COULD PRETEND I DIDN’T NEED YA
BUT EVERY TOUCH IS, OHH-La-La-La
ITS TRUE, LA-LA-LA
OOH, I SHOULD BE RUNNIN
OOH, YOU KEEP ME COMING FOR YA
چھوٹی سی ناک چڑھاتی ، کیوٹ سے منہ بناتی جب شفا نے مشہور گانا گاتے ہوئے سینیوریٹا کی جگہ سینیو لیزرڈ کہا تو آریان کے دل میں گدگدی سی ہوئی اور وہ اس کے دل کی پرنسز سیدھا اس کے دل میں اتری تھی ۔ آریان نے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اور گہری مسکان لیے اسے دیکھا۔
مجھے گانا بہت پسند آیا، میری جان،، اب تمھاری اتنی خوبصورت آواز اور گلے کو میں انعام اور خراج بخشوں گا آج رات میرا ویٹ کرنا،، روم کا اور اپنے دل کا ڈور کھول کر رکھنا ،، اس کا لہجہ اور دیکھنے کا انداز بہت اچانک بدلہ تھا، کہ ایک مرتبہ تو شفا بھی بوکھلا گئی تھی۔ مگر پھر خود کو لاپرواہ ظاہر کیا۔۔
نہیں چاہیے،، اپنے پاس ہی رکھیں،، اور میرے گھر کی طرف نگاہ غلط اٹھانے کی تو کوشش بھی مت کرنا کیونکہ میں سب گارڈز کو بول دوں گی کہ آج کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو رات کو گھر کے آس پاس دیکھو تو شوٹ کر دینا،، روم میں آنا تو دور کی بات ہے،، شانِ بے نیازی سے بولا گیا۔
وہ پھر گہرا مسکرایا،،
I love challenges
میری جان،، ویٹ کرنا میرا،، وہ بول کر اسے دہلا کر جا چکا تھا۔
شفا نے سر جھٹکا اور کچن میں غائب ہو گئی۔
کچھ دیر میں ہی لاؤنج میں ماہر اور رواحہ داخل ہوئے تھے۔ رواحہ جھینپی جھینپی سی تھی ماہر نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا سب ان کی جانب دیکھ کر مسکرائے اور انھیں اکٹھے دیکھ بہت زیادہ خوش ہوئے۔
رحاب،، روحا اور زمل نے ان کی نظر اتاری۔
اب سب خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ آریان نے میوزک سسٹم کے پاس کھڑے ہو کر گلا کھنکار کر سب کو اپنی جانب متوجہ کیا۔۔
“تو لیڈیز اینڈ جینٹل مینز،، ایک بہت امپورٹنٹ بات کہنا چاہتا تھا میں،، مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پہلے فنکشن میں ڈی جے والے بابو نے آپ لوگوں کو بے حد پریشان کیا اور گانے سہی طرح سے نہیں بجا کر دئیے،،
آریان نے دانتوں تلے لب دبا کر اولڈ لیڈیز کے رنگ اڑے چہرے دیکھے۔
پاشا ،سوہم اور کبیر نے بڑی مشکل سے ہنسی دبائی۔
جبکہ رحاب ، روحا اور زمل بھونچکی سی پاشا کی اس آفت کو دیکھ رہے تھے جسے رحاب نے جانے کیا کھا کر پیدا کیا تھا۔
تو آج میں بقلم خود ڈی جے والا بابو بن کر اچھا سا گانا چلاؤں گا تاکہ اولڈ لیڈیز ہمارے اولڈ ہیروز کے ساتھ اچھا سا ڈانس کر سکیں۔
آریان نے کہہ کر گانا پلے کر دیا۔
اولڈ لیڈیز کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی سختی سے انکار کر دیا مگر
اے لیڈیز اٹھو،، بچوں کی خوشی کے لئے،، اور میری بھی،، ریشماں نے مسکراتے کہا تو انھیں اٹھنا پڑا۔
پاشا نے مسکرا کر رحاب کا ہاتھ تھاما، سوہم اور روحا، کبیر اور زمل ایک ساتھ کھڑے ہوئے۔
اب وہ میوزک پر ہلکے ہلکے موو کر کے ڈانس کر رہے تھے ۔بچوں نے خوب کلیپنگ اور ہوٹنگ کی۔ روحا نے سوہم کے سینے میں منہ دے لیا تو وہ گہرا مسکرایا۔
آپ کا بیٹا،، بلکل آپ پر گیا ہے،، بےباک اور بے شرم،، رحاب نے کہا تو پاشا قہقہہ لگا کر ہنس پڑا اور سر دھن کر یوں جھکا جیسے رحاب نے اس کی تعریف کی ہو۔
اونہہہ اتنے کام اور مصروفیات کے باوجود بھی یہاں کی سن گن لینے میں ہی دلچسپی تھی آپ لوگوں کو کیا؟ زمل نے آبرو اچکا کر کہا تو کبیر مسکرایا۔
اب کیا کریں دنیا کہ کسی بھی کونے میں چلیں جائیں جینے کی وجوہات اب وائٹ پیلس میں ہوں گی تو سن گن تو لینی پڑے گی ناں،، کبیر نے بول کر اس کے ماتھے پر کب رکھے تو ایشان اور جے کے نے شور مچانا شروع کر دیا۔ کبیر نے انھیں گھورا کیونکہ زمل اپنا آپ اس سے چھڑا کر اپنی سیٹ پر چلی گئی تھی۔۔
اور اب بچوں کی باری تھی۔ مگر ایشان آروشے کے پاس ہی بیٹھا رہا ۔۔ فجر بھی ارشن کو لیے بیٹھی رہی مگر ماہ بیر نے بےبی کو اپنی گود میں لے کر فجر کو کھینچ ہی لیا۔ سوہم روح کو نرمی سے تھامے ہوا تھا۔ جبران مفرا کے ساتھ تھا ۔منظر نہایت دلکش اور خوبصورت تھا۔
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے تیرے بنا کیا وجود میرا
تجھ سے جدا کبھی ہو جائیں گے تو خود سے بھی ہو جائیں گے جدا،
کیونکہ تم ہی ہو اب تم ہی زندگی اب تم ہی ہو،،
چین بھی میرا درد بھی میری عاشقی بھی اب تم ہی ہو،،
گانا وہاں موجود ہر شخص کی دل کی ترجمانی کر رہا تھا۔
بہت ہی شاندار اور خوبصورت یادگار لمحات کے ساتھ یہ شام اختتام پزیر ہوئی۔ شاندار قسم کا ڈنر کیا گیا۔ پھر چائے کافی کا دور چلا۔
تمام بڑے اپنے اپنے روم میں جا چکے تھے۔
مفرا کچن میں کسی کام سے آئی تھی۔ جب اس کا فون رنگ ہوا۔
سعد کا تھا۔
رات کے اس وقت یا خدا خیر،، وہ بڑبڑائی اور فون یس کر کے کان کو لگایا تب سعد نے اسے بتایا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں،، مفرا گھبرا گئی اور فوراََ جبران کے پاس گئی۔
سنیں،، اس نے جبران کو پکارا جو ماہ بیر کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھا۔
یس،، کیا ہوا مفرا،، اس کا پریشان سا چہرہ دیکھ وہ چونکا۔
سعد بھائی کہ طبیعت ٹھیک نہیں مجھے ابھی جانا ہے،، وہ بے چینی سے بولی۔
تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے،، سعد بھائی سے بڑھ کر کچھ نہیں تم شال وغیرہ لے کر آؤ میں گاڑی نکالتا ہوں، وہ کہتا باہر نکلا تو مفرا نے عقیدت و محبت سے اس کی پیٹھ کو دیکھا۔ اور بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی۔
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں سب کو اطلاع دے کر وائٹ پیلس سے نکلے تھے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایشان آروشے کا ہاتھ تھامے روم میں لایا۔ لا کر اسے بیڈ پر بٹھایا اور جھک کر اس کے ورم زدہ پاؤں سینڈل سے آزاد کیے۔
آروشے کے چہرے پر تھکن کے آثار تھے۔
کیا ہوا روشے بےبی تھک گئی؟ ایشان نے نرمی سے کہا تو اس نے روہانسی سی اثبات میں سر ہلایا۔
اوکے میڈیسن لو اور لیٹ جاؤ، ایشان نے اسے میڈیسن دی اور بیڈ پر لیٹنے میں مدد دی۔
ایشان باہر جانے لگا جب
ایش،، آپ کو پتہ ہے مجھے ایسے نیند نہیں آئے گی،، وہ جھنجھلائی۔
تو کیسے آئے گی؟ ایشان نے دانتوں تلے لب دبایا حالانکہ وہ جانتا تھا کیسے آئے گی مگر اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
مگر جب وہ ناراضگی سے اسے گھورنے لگی تو ایشان مسکراتا ڈریسنگ روم میں گیا چینج کر کے آیا اور اس کے قریب لیٹ کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا۔
اب وہ سکون سے آنکھیں موند گئی تھی
اب تو آ جائے گی نیند میری جان کو،، وہ مسکرایا تو اس نے آنکھیں موندے ہی اثبات میں سر ہلایا۔ ایشان نے اس کے ماتھے پر لب رکھے اور آنکھیں موند لیں۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
پاشا شفا کو اندر تک چھوڑنے آیا تھا پورے رستے اس نے اپنے ہینڈسم انکل جو کہ اب پاپا تھے کے کان کھائے رکھے۔۔
اففففد،،، بچی کیسے بول لیتی ہو اتنا،، پاشا بے چاری سی شکل بنا کر بولا، اتنی سے دیر میں پاشا کے کانوں سے دھویں نکلنا شروع ہو گئے تھے اس کے بیٹے کا کیا حال ہوگا، پاشا کو سوچ ہی بیٹے پر ترس آیا۔
بس ہینڈسم پاپا ٹیلنٹ ہونا چاہیے،،، وہ فرضی کالر جھاڑتے بولی۔۔
تو پاشا نے افسوس سے سر ہلایا۔
پاشا واپس چلا گیا تو وہ صحن میں گھومتے دیو قامت گارڈز تک آئی تھی۔
سنو،، اس نے پکارا
یس شفا بےبی،،، گارڈز با ادب ہوئے۔
آج کوئی بھی،، کوئی بھی مطلب کوئی بھی،، حسن مینشن کے آس پاس بھی بھٹکنا نہیں چاہیے، اندر آنا تو دور کی بات ہے، جو بھی ہو جس بھی رشتےکا حوالہ دے تو اس سے بولنا صبح ہی پاپا سے ملے، مجھے عجیب دھمکی بھری کالز آ رہی ہیں اور ابھی پاپا بھی نہیں ہیں گھر پر،، اوکے،،
“آپ بے فکر ہو جائیں بےبی،، ہم باہر الرٹ ہیں،، اور چاہے کوئی بھی ہو صبح ہی آ پائے گا اندر،، گارڈز نے کہا تو وہ ہونٹوں پر فاتحانہ مسکان سجائے اندر آئی۔اپنے روم میں آ کر ڈورز اور ونڈو اچھی طرح بند کیے اور اطمینان سے ایک لمبی سی سانس کھینچی۔
اونہہہہہہ،،، جنگلی کہیں کے،، ایک مرتبہ پھر،
I LOVE IT WHEN YOU CALL ME SENORITA
I WISH I COULD PRETEND I DIDN’T YOU NEED YA
خوبصورتی سے گنگناتے شال اتار کر بیڈ پر رکھی۔
آئینے کے سامنے آئی اور پیچھے ہاتھ لے جا کر میکسی کی زپ کھولنے کی کوشش کی تھی۔۔ تبھی بہت اچانک روم کی لائٹ بند ہوئی تھی۔ روم گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا ۔ وہ چونکی اور خوفزدہ ہوئی۔
ابھی کچھ اور سوچتی جب اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس کر اپنی جگہ سے اچھلی۔۔
کون،، کون ہے یہاں،، شفا کے پسینے چھوٹ گئے۔ جان تو تب نکلنے والی ہوئی جب کمر کے گرد دو بازو حمائل ہوئے۔
“ہیے ڈرو مت چھپکلی،، تمھارے جنگلی کے علاوہ کوئی اتنی جرات نہیں کر سکتا کہ تمھارے روم میں آئے،، آریان سکون سے سرگوشی میں بولا تو شفا کو ایک جانب سے تسلی ہوئی مگر،
یہ،، یہ کیا بدتمیزی ہے،، چھوڑیں مجھے،،، وہ جھٹپٹائی۔
ہوووووو بےبی کی سب احتیاط دھری کی دھری رہ گئی،، پر میں تو آ گیا،، آریان نے اطمینان سے کہا۔ اور اس کی میکسی کی زپ کھولتا چلا گیا۔
شفا کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے یہ محسوس کر کے میکسی سرک کر فرش پر گر چکی ہے مگر فورا ہی اس کی مخصوص گھٹنوں تک آتی ٹی شرٹ نے اسے ڈھانپ دیا تھا۔
تبھی لائٹ آن کی تھی آریان نے اور اس کا دھواں دھواں چہرہ دیکھ گہرا مسکرایا۔
“یہ کیا بدتمیزی تھی،، وہ خفت مٹانے کو غرائی۔
“اسے بدتمیزی نہیں ہیلپ بولتے ہیں مسز،، اس کا بھی اطمینان قابلِ دید تھا۔
وہ جو اس کے بہت قریب کھڑا تھا شفا نے اس کے بازو پر اس زور سے چٹکی کاٹی کہ ایک مرتبہ تو وہ بھی ہڑبڑا گیا۔
آؤووووچ،، جنگلی بلی،، ویسے مجھے جنگلی بولتی ہو،، واٹ از دس،،
وہ میں چیک کر رہی تھی تم انسان ہو یا جن،، جو ہوا میں تحلیل ہوئے یہاں آ گئے،، وہ اب بھی مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
میں تمھارے آنے سے پہلے، چھپ کر یہاں آ گیا تھا،،دماغ ہے میرے پاس استعمال کرنے کے لئے،، تمھارے روم میں بھی پہلے ہی آ گیا،، اور تم نے آ بیل مجھے مار کے مترادف خود ہی ڈورزا اور ونڈو لاک کر میرا کام آسان کر دیا مسز،،
وہ اسے بہت اچانک کھینچ کر بازوؤں میں بھرتا بولا تو شفا کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔
“چلغوزے چھوڑو مجھے،،شفا نے چلا کر خوف دور کرنا چاہا، مگر وہ ڈھیٹ بنا اسے نرمی سے بیڈ پر لٹا کر اس کے اوپر جھکا اور اس کی کلائیاں بیڈ سے لگائیں۔
نو میری جان،، چلغوزہ نہیں تمھارا جنگلی ہوں،، اور کچھ دیر تک تمھیں میرا جنگلی پن جھیلنا ہے،، کہہ کر آریان نے اس کی شہہ رگ پر اپنے لب رکھے تھے، وہ مچلی اور مزاحمت کی کوشش کی، مگر ناکام ہوئی۔
آر،،،، یان،، وہ گھبرائی۔
جزبوں سے چور ہو کر وہ اس کی گردن پر جھکا ہوا پور پور اسے پرحدت سے لمس میں بھگو رہا تھا۔
اس کے اس جادو بھرے لمس سے وہ لال قندھاری ہوئی تھی۔ آریان نے سر اٹھا کر بغور اسے دیکھا اور اب اس کی نگاہوں کا فوکس اس کے گداز لب تھے۔
آریان نو،، پیچھے ہٹیں،، نہیں تو جان لے لوں گی،، شفا نے وارن کیا کہ وہ جو کرنے لگا ہے اس سے باز رہے نہیں تو،،
“جان تو لے چکی ہو،، جانِ آریان،، اور ویسے بھی تمھاری اتنی خوبصورت دل میں اترتی آواز کو خراج بھی تو بخشنا ہے،، یہ کہہ کر وہ اپنے دل کی سنتا اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھا چکا تھا۔
شفا بری طرح تڑپی۔ مگر اس کی مزاحمت محسوس کر وہ اور دیوانہ وار جھکا تھا اس پر،، عمل میں شدت تھی۔ شفا نے اس کی شرٹ کندھوں سے مٹھیوں میں جکڑ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا مگر وہ خود کو سیراب کیے گیا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ پیچھے ہٹا تو شفا نے کھل کر سانس لی اور اپنی سانس بحال کرنے لگی۔
“ویسے کیا ہو،، اگر میرا یہ جنگلی پن تمھیں ساری رات برداشت کرنا پڑ جائے،، ہوووو چھپکلی کا تو حشر بگڑ جائے،، آریان نے چھیڑا۔
شفا نے اپنا پورا زور لگا کر اسے خود سے دور پھینکا۔ وہ جو جان بوجھ کر گرفت ڈھیلی کر چکا تھا۔ بیڈ پر گر کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ شفا نے اس کی کمر پر فل زور لگا کر مکے برسائے مگر وہ ڈھیٹ ہنستا چلا گیا۔
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو جنگلی سے ڈرتا ہے،،
آریان نے خوبصورت آواز میں گنگنا کر ایک مرتبہ پھر اس کا پارہ ہائی کیا،،
آییییہہہہہہہہہہ،، آریان میں آپ کا خون پی جاؤں گی ،،جائیں یہاں سے،، وہ اسے زچ کر رہا تھا۔
“پی لو،، کم آن،، میں تمھارے ساتھ جنگلی پن کروں تم میرے ساتھ کرو،، اس نے آفر دی۔
اونہہہہ جائیں یہاں سے پلیز،،
نہیں جاؤں گا،، کیا کرو گی؟ آریان نے تکیے میں منہ دیا۔ تبھی شفا نے اپنا فون پکڑ کر پاشا کو کال ملائی تھی۔ جو دوسری بیل پر رسیو کر لی گئی۔
یس مائی ڈاٹر،، پاشا نے نرمی سے کہا۔
پاشا پاپا،،، میرے پاپا گھر پر نہیں ہیں اور میرے روم میں آریان آ کر مجھے پریشان کر رہے ہیں پلیز انھیں کہیں واپس چلے جائیں،، وہ رونے کی ایکٹنگ کرتی لہجہ بھگو کر بولی تو ایک مرتبہ تو آریان بھی اپنی جگہ سے گڑبڑا کر اچھلا تھا۔
واٹ،، کیا ہوا بیٹا،، میں آؤں کیا،، پاشا کو تشویش ہوئی۔
نو پاپا،، اب میں نے آپ کو کمپلین کی ہے تو یہ جانے لگے ہیں یہاں سے ڈونٹ وری،، شفا نے اطمینان سے بول کر فون رکھا اور آئیبرو اچکا کر اپنی شاندار ایکٹنگ پر اس سے داد لینا چاہی۔
ناٹ فئیر،، جان،، اب مجھے ڈانٹ پڑے گی،، وہ دانت پیس کر بولا اور نروٹھے پن سے اسے گھورا۔
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو ایک فون کال سے ڈرتا ہے،،
شفا نے بھی لہک کر گایا۔
یو چھپکلی،،، آریان پھر اس کی جانب آیا تھا۔ اس کی کلائیاں فولڈ کر کے کمر پر لگائیں اور ایک مرتبہ پھر اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لیا۔ اب کی بار عمل جارحانہ تھا۔ شفا کو لگا وہ اس کی جان ہی لے لے گا۔
اچھی طرح اس کے ہوش ٹھکانے لگا کر وہ روم سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے وہ پھر بری طرح تلملائی۔۔
اففف جنگلی کہیں کا،، پیر پٹختی واش روم میں بند ہو گئی۔۔
