No Download Link
Rate this Novel
Episode 51
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️💓💓💓💓💣💣💣
سینے میں کسک بن کے بسے رہتے ہیں برسوں
لمحے جو پلٹ کر کبھی آنے نہیں ہوتے———
“سنیں،، آئم سوری،، لوٹ آئیں ناں واپس،،
کافی دیر سے لفظوں کی گونج کی باز گشت ماہر کے آس پاس اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ سسک رہی تھی۔ دو ماہ ہو گئے تھے وہ رو رہی تھی تڑپ رہی تھی۔ تھک چکا تھا اس کی سسکیاں سن سن کر،، اپنے دل کو درد کی انتہا پر محسوس کر کر کے، مگر سکون کہیں بھی نہیں تھا۔ اس کا درد اپنے سینے میں جاگتا محسوس ہوتا تھا۔ ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا مگر چین کہیں میسر نا آیا۔
نا دشمنوں کی چیخوں میں، نا دنیا کی اور کسی چیز میں،
لفظوں کی بازگشت نے زیادہ پریشان کیا تو وہ جھٹکے سے وہاں سے اٹھا تھا اور اپارٹمنٹ سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کوششیں سجنے سنورنے کی ہیں بے کار سبھی
یار سے روٹھ کے،،،، ،،،،سنگھار نہیں ہوتے ناں!
مگر اس کے باوجود آج رواحہ نے خود کو خوب ہی سجایا سنوارا تھا۔ دل سے تیار ہونے کے بعد اس نے اچٹتی نگاہ اپنے قیامت خیز سراپے پر ڈالی تھی۔۔
اس نے خود آج منی سے کہا تھا کہ اسے آج ایسا تیار کرے کہ جیسا وہ پہلے کبھی نہیں ہوئی ہو ۔ تو کچھ پل کے لئے منی نے بھی اس کے چہرے کی جانب دیکھا تھا۔ اور دانتوں تلے لب دبایا منہ زور آندھی تباہ کن طوفان سے الجھنے چلی تھی خدا خیر کرے۔۔
منی اس کے لئے پہلے سے نکالے گئے لباس کو چھوڑ ایک اور لباس لائی تھی۔
بلڈ ریڈ کلر کی شوخ رنگ ساڑھی، جس کا اگلا پچھلا گلا ڈیپ تھا۔ پچھلے گلے کو موتیوں والی ڈوری نے اور خوبصورت بنا دیا تھا۔ کھلے کرلی بال ہلکا میک اپ، ریڈ بلڈ لپ اسٹک، اونچی سینڈل، ہاتھوں میں سرخ کانچ کی چوڑیاں،
وہ کافی دیر سے آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ کافی کمزور ہو چکی تھی۔ مگر آج ہری بلا سے الجھنے چلی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو منی نے میک اپ سے چھپا دیا تھا۔
وہ چونکی،
ایک آخری چیز تو رہ ہی گئی تھی۔ اس نے ابھی تک کوئی پرفیوم نہیں لگایا تھا۔ اپنے تمام پرفیومز پر سے نگاہ ہوتی ہوئی اس بے مہر کے مخصوص پرفیوم پر ٹھہری۔ اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھا اور اپنی کلائی پر سپرے کر کے چہرہ قریب لیجا کر وہ خوشبو اپنی روح تک محسوس کی۔
اس سب کے دوران اب اس عمل کے کرنے سے اس کی خوشبو اپنے آس پاس محسوس کر کے زرا دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی۔مگر آج اس نے جی کڑا کیے رکھا۔
ہلکی دستک دے کر منی جو باہر گئی تھی پھر اندر داخل ہوئی۔
” گاڑی تیار ہے مارش میلو،، کیا تم تیار ہو اس سے الجھنے کے لئے،، منی نے اسے ایک مرتبہ پھر اپنے ارادوں سے باز رکھنے کی کوشش کی۔
اونہہہہہہہہہہ،،، زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے منی؟ اٹھا کر اپارٹمنٹ سے باہر پھینکے گے ؟ اس نے خفیف سا طنز کیا
منی نے کندھے اچکائے۔
یا جان سے ماریں گے،، تو زندہ ہی کب ہوں میں،، زندہ لاش بنا دیا ہے اس خون آشام ہری بلا نے مجھے،، اس نے ہوا میں بات اڑائی۔
منی نے اسے باہر آنے کا اشارہ کیا تو وہ شال کندھوں پر ڈالتی، موبائل کلچ میں رکھتی آہستگی سے آگے بڑھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ ضروری کام نمٹا کر اپارٹمنٹ واپس لوٹ رہا تھا جب فون رنگ ہوا،، اٹھا کر دیکھا تو اپارٹمنٹ میں موجود اس کے ایک خاص آدمی کا تھا۔ یس کر کے کان کو لگایا۔
“ہاں بولو عبداللہ؟
“سر وہ،،، وہ ہچکایا۔ ماہر کے ماتھے پر بل آئے۔
ٹائم ویسٹ مت کرو عبداللہ،، اس نے انگارے چبائے۔
“سر وہ اپارٹمنٹ میں میڈم آئیں ہیں،، عبداللہ نے جلدی سے بول دیا۔
“واٹ،،کون میڈم،، وہ بری طرح چونکا۔
عبداللہ نے فون کان سے ہٹا کر فون کو گھورا۔ اب اتنی جرات تو تھی نہیں کہ نام لیتا سو ایک مرتبہ پھر کوشش کی۔
“سر وائٹ پیلس سے بیگم صاحبہ اپارٹمنٹ تشریف لائی ہیں شاید آپ سے ملنے،، تو پوچھنا یہ تھا کہ رستم اور اس کے آدمیوں کو کہیں اور شفٹ کر دوں،،؟ عبداللہ نے ‘ملنے، پر زور دیا۔
وہ بھونچکا ہی تو رہ گیا جھٹکے سے شدید چرچراہٹ کی آواز سے گاڑی کو بریک لگے تھے۔۔دھواں دھواں چہرہ لیے فون کو پہلے گھورا۔
“سر میں نے کچھ گزارش کی ہے آپ کو،، آپ نے جواب نہیں دیا،، عبداللہ منمنایا۔
اوکے رائٹ ، ان سب کو فوراً ہٹاؤ وہاں سے،، اور اس دوران میڈم کو میرے روم میں لاک کر دینا،، وہ تقریباً دھاڑا۔
شیر کی دھاڑ سن کر عبداللہ اپنی جگہ سے اچھلا،، منی جو اس کے سر پر کھڑی تھی۔ اس نے وارننگ دینے والے انداز میں عبداللہ کی جانب انگلی اٹھائے رکھی۔
“سس، سر، ڈونٹ وری،، وہ آپ کے روم میں ہی ہیں،، میں ابھی ان سب کو اپارٹمنٹ کے بیسمنٹ سے بیرونی طرف سے ہی باہر نکال لوں گا،، ویسے بھی وہ سب بیہوشی کی حالت میں،،
رائٹ ہری اپ،، وہ غرایا اور کال ڈسکنیٹ کر کے منی کو کال ملائی۔
عبداللہ نے فون رکھا اور منی کو بری طرح گھورا
ارے جاو بھی ہاااااں،، اپارٹمنٹ خالی چاہیے،، منی نے اسے چڑاتے کہا تو وہ باہر نکل گیا تبھی منی کا فون رنگ ہوا تھا۔
اس کے ہاتھ پیر پھول گئے۔۔ ارے کہاں پھنسا دیا مارش میلو تونے،، وہ جھنجھلائی اور فون یس کر کے ڈرتے ڈرتے کان کو لگایا۔
“منیب اس گستاخی کا مطلب؟ حسب معمول وہ دوسری جانب سے دھاڑا۔ تو منی نے فون کان سے پرے کر لیا۔
“ارے مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو؟ اپنی مارش میلو کی خبر لینا جو میرے منع کرنے کے باوجود زبردستی یہاں آ گئی،، اس سے الجھنا جو شیرنی بنی ہوئی ہے آج،،، مجھ سے نہیں ہاااااااں،،
“اور اگر میں اپارٹمنٹ بھی ناں آؤں تو کیا کرے گی تمھاری مارش میلو،، ماہر نے دانت پیسے۔
“تو پھر تم جہاں جاؤ گے وہاں پیچھے ہی آ جائے گی تمھاری مارش میلو،،،
“اور یہ کس نے کہا،، ماہر پوچھ بیٹھا۔
“صرف اور صرف تمھاری مارش میلو نے،، منی نے تمھاری پر زور دیتے جتایا۔
“اسے مجھے سے ڈر نہیں لگتا،، ماہر جھنجھنا اٹھا۔
“اسی سے پوچھ لینا،،
کہہ کر منی نے فون رکھنے میں عافیت جانی اور سب سے بڑھ کر یہاں سے کھسکنے میں ہی بھلائی تھی۔ تبھی وہ رواحہ سے بول کر وہاں سے نکلی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اس نے سٹئیرنگ پر زور، دار مکہ مار کر اپنا ہاتھ زخمی کیا تھا۔
اور اگر میں اپارٹمنٹ جاؤں ہی نہیں تو،، دماغ نے کہا۔
اونہہہوں،، نہیں ہر گز نہیں،، اب کسی کو اس مونسٹر سے الجھنے کا خمیازہ بھی تو بھگتنا تھا ناں، تبھی گاڑی ہوا میں اڑائی تھی اس نے۔
اپارٹمنٹ کے پورچ میں ہی گاڑی کے بریک لگے تھے۔۔ وہ گاڑی سے اترا۔ اور خاموشی میں ڈوبے اپارٹمنٹ پر ایک نظر ڈالی۔
سب گارڈز باہر تھے۔ وہ حسب عادت پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اندر کی جانب بڑھا۔ اعصاب تنے ہوئے اور جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔ لاؤنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ ڈور لاک کر کے تھوڑی آگے آیا تو ٹھٹھک کر رکھا تھا۔
اپارٹمنٹ کی سجاوٹ تھوڑی سی ردو بدل کے ساتھ،، ایسے ہی کی گئی تھی جیسے کبھی اس نے کی تھی۔ سینٹڈ کینڈلز اور اس کے اپنے مخصوص پرفیوم کی خوشبو فضا میں رچی بسی تھی۔
تنے اعصاب خود بخود ڈھیلے پڑتے گئے۔۔
دھیمے قدموں سے چلتا اندر آیا۔ یہ سجاوٹ، خوشبو ٹیبل پر چنا گیا کھانا،
مگر وہ خود نہیں تھی۔
ماہر نے کوریڈور سے گزر کر رومز، میں دیکھا۔ سب خالی تھے۔ بلیک روم میں بھی، وہ بھی خالی تھی۔ اپنے روم میں بھی دیکھ آیا،، کچن بھی خالی، مگر آہٹ اور خوشبو بے حد قریب تھی۔
وہ بری طرح جھنجھلایا۔
مگر پھر رکا اور سوچا ۔
تب اپنے روم میں بالکونی میں گیا۔ وہ اس کی جانب سے پیٹھ کیے سمندر کی طرف رخ کیے کھڑی تھی۔ تیز ہوا سے لباس اور بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔
سرخ لہراتا آنچل دیکھ ماہر سٹل اپنی جگہ پر جم سا گیا تھا۔تنے اعصاب اور بھنچے جبڑے اسے اپنے سامنے پاکر خود بخود ڈھیلے پڑ چکے تھے۔ اور غصہ سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھتا چلا گیا۔
تب وہ ایک مرتبہ پھر اپنے جلادی روپ میں واپس آتا اسے جھٹکے بازو سے تھام روم میں لا کر دیوار سے پن کیا تھا۔
ماہر سوہم خان کے ہوش اڑانے کا فل پروف پلان بنا کر آئی تھی وہ شاید تبھی اس کے گھورنے پر اطمینان سے اس کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی تھی۔
اس گستاخی کا مطلب روح ماہر خان،،؟ کس کی اجازت سے یہاں آئی ہو،، جرات کیسے ہوئی،،؟ وہ لہجہ حتی الامکان سنجیدہ کرتا بولا۔
مگر وہ اس کا گریبان پکڑ چکی تھی۔
اور آپ کی جرات کیسے ہوئی میرے ساتھ یہ سلوک کرنے کی،، بتائیں مجھے،،؟ اس نے ماہر کو جھنجھوڑ ڈالا مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا۔
کیا کیا میں نے؟ اس نے سنجیدہ سا پوچھا۔
آپ نے یہ کیوں بولا کہ میں نے کھو دیا آپ کو،، کیوں مجھ سے دور ،،،چھوڑ کر بیٹھے ہیں مجھے یہاں؟ وہ چلائی، نا جھجھک نا شرم، آج تو وہ کوئی اور ہی روپ دیکھ رہا تھا اس کا۔
“جہاں بھروسہ اعتبار نام کی کوئی چیز ہی ناں تو دوری ہی اختیار کر لینی چاہئے روح ماہر خان،، اس نے بھی طنزیہ لہجہ اپناتے حساب بےباک کیا۔
رواحہ کی آنکھیں لاکھ نا چاہنے کے باوجود بھر آئیں “غلطی تو انسانوں سے ہی ہوتی ہے ناں،، تو ہو گئی،، کچھ سمجھ نہیں آیا مجھے اس وقت،، اب کیا سر پھاڑیں گے میرا یا جان لیں گے،،
وہ وقت،، حالات،، جگہ اپنا حلیہ اور سامنے کھڑے شخص کی پرواہ نا کرتے ہوئے اس کا گریبان پکڑے اس سے گزرے دنوں کی اذیتوں کا حساب لینے میں مصروف تھی۔
ماہر نے ایک جھٹکے سے اسے ویسٹ سے تھام کر دیوار سے لگایا اور دوسرا ہاتھ اس کی گردن کے گرد لپٹا۔
“نو سوئیٹ ہارٹ،، سر نہیں پھاڑوں گا ہاں مگر دوسرا آپشن قابلِ غور ہے جان لوں گا آج تمھاری میں،، سزا دوں گا،، اور ایسے دوں گا کہ روح کانپ اٹھے گی تمھاری،، پناہ مانگو گی مجھ سے،،
وہ جنونی سا ہوا ماہر نے اس کی گال پر ہونٹ رکھے اور گال سے وہ شولڈر تک آیا تب اس کے شولڈر پر دانت گاڑھے تھے ماہر نے۔
وہ اچھلی،،
“مم،،ماہر،، چھوڑیں مجھے،، یو ہرٹنگ می،، وہ بوکھلائی
ماہر نے غور سے اسے دیکھا اور اپنی گہری نگاہ سے ہی اسے پانی پانی کر دیا۔ کیوںکہ اب کی بار زاویہ نگاہ بدلتے ہوئے وہ اس کی ایک ایک سجاوٹ کو آنکھوں سے نہار کر اسے اس بناؤ سنگھار کا خراج بخش رہا تھا۔۔
“کیا کرنے آئی تھیں یہاں؟ سوال کافی معنی خیز تھا۔
“آپ کک،، کو منانے،، اس دوران پہلی مرتبہ اس کی نگاہوں سے خائف اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔
“تو مناؤ پھر،، اطمینان سے کہا گیا نگاہوں کا فوکس اس کے خون رنگ میں رنگے گداز لب تھے۔
“منا چکی ہوں،، ادھر بھی اطمینان تھا۔
” رئیلی،، آئی ڈونٹ تھنک سو،، میں تو نہیں مانا،، لاپروائی سے کہا گیا۔
“میں اپنے طریقے سے کوشش کر چکی ہوں،، اگر پھر بھی سامنے والا نا مانے تو میں کیا کر سکتی ہوں،، چھوٹی سی ناک چڑھاتے ہوئے اس کے لہجے میں بھی غرور آیا (اپنے روپ سے چاروں خانے چت جو کر چکی تھی اسے۔۔ اس کی نگاہ بتا رہی تھی)
اور تمھارا یہ طریقہ بہت ہی کوئی جان لیوا قسم کا تھا رواحہ ماہر خان،، مگر افسوس اب بدلے میں جان ہلکان تو تمھاری بھی ہوگی،، میرے سر پر جنون، دیوانگی طاری کر چکی ہو،،
سکون سے کہتے اس کے دل کے مقام پر لب رکھے تو رواحہ کی سانس اٹک گئی۔
مم،، ماہر،، پپ،، پلیز،،
اشششششش،، جتنا بولا گی نقصان اٹھاؤ گی مارش میلو،، اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔ اور بازو پر لب رکھے۔ کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا۔ گردن پر سفر کرتے ماہر کے ہونٹوں نے اس کی سانس سینے میں الجھا دی تھی۔ اس کی بے باکیوں سے گھبرا کر آنکھیں بند کیں۔ تبھی اس نے اس کے گداز لبوں پر اپنے تشنہ لب رکھے تھے۔
جھٹکے سے ڈوری ٹوٹ کر فرش پر جا بجا موتی بکھرے تھے۔ شولڈر سے چولی کھسکی تو رواحہ نے گھبرا کر اس کے سینے میں منہ دیا۔
تب ماہر اسے بازوؤں میں بھر کر بیڈ پر لایا اور خود اس پر جھکا۔ اپنے اور اس کے بیچ آزار بنتا وہ سرخ پلو ہٹایا۔ اور خود کو اس نرم و گداز وجود میں گم کر دیا۔
رواحہ کی سانس کبھی سینے میں الجھ رہی تھی کبھی تیز ترین ہو جاتی تھی مگر اس چٹان سے آ کر خود سر ٹکرایا تھا اب بھگتنا تو اسے ہی تھا ناں۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ کھانے کی ٹیبل کے پاس مخملی کارپٹ پر بیٹھی تھی۔ جبکہ وہ کچن میں اس کے اور اپنے لئے کافی بنا رہا تھا۔ اتنے دنوں کی وحشت و اذیت کے بعد آج کہیں جا کر اپنی زندگی کے پہلو میں سکون ملا تھا تو رگ و پہ میں سرشاری سی دوڑ گئی تھی۔
باہر رواحہ اس کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں عجیب کارٹون سی لگ رہی تھی۔ گیلے بال کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔ ٹراؤزر پیروں سے کافی زیادہ فولڈ کر رکھا تھا۔ماہر نے آن لائن کچھ ڈریسز آرڈر کیے تھے ڈلیوری آنے تک اسے یونہی کارٹون بن کر بیٹھنا تھا۔ وہ اطمینان سے بیٹھی چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھی۔ شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔
تبھی وہ کافی کے مگ لیے اس کے پہلو میں آ کر بیٹھا تھا۔ تبھی ماہر کے فون کی بیل بجی تو وہ چونکا۔ اور رواحہ کی جانب دیکھا۔
صوفے پر سے شال اٹھا کر اس کی جانب بڑھائی۔ “ایشان اور آریان آئے ہیں یہ شال اوڑھ لو،، رواحہ بری طرح بوکھلائی تھی۔ فوراً شال اوڑھی اس کا تو دل تھا کہ اٹھ کر روم میں بھاگ جائے مگر انھوں نے موقع نہیں دیا اور ہلکی دستک دے کر اندر آ گئے۔
سامنے کا ماحول اور مناظر دیکھ دونوں کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیلی تھی۔ رواحہ خود میں سمٹ گئی۔ چہرے نے لہو چھلکایا۔
مگر اس گرین مونسٹر کو خود کو گھورتے دیکھ انھوںنے دوبارہ شرافت کا مظاہرہ کیا۔
کیا تکلیف ہے سکون نہیں تم لوگوں کو،، وہ سنجیدہ سا جل کر بولا۔جیسے کہنا چاہتا ہو رنگ میں بھنگ ڈالنا ضروری تھا؟
بڑے پاپا نے بھیجا ہے ماہر بھائی،، اور سوہم ڈیڈ نے ،،،کہ آپ لوگوں کی وجہ سے فنکشن رکا ہوا ہے ،،اب اگر بھابھی کے ساتھ روٹھنا منانا ہو گیا ہو تو وائٹ پیلس چلیں،،
ایشان نے ادب کے دائرے میں رہتے بات تو شروع کی تھی مگر اینڈ میں انھیں چھیڑنے سے باز نہیں آیا۔
“تم لوگ جاؤ ہم آتے ہیں،، ماہر نے اطمینان سے کہا۔
ہمارے ساتھ ہی چلتے کہ ابھی کوئی مزاکرات باقی ہیں،، ایشان باز نہیں آرہا تھا۔ رواحہ تو ماہر کی چوڑی پیٹھ کے پیچھے چھپ سی گئی تھی۔۔
گیٹ لاسٹ فرام ہیئر اس سے پہلے میں تم دونوں کو اٹھا کر خود باہر پھینکوں،، ماہر غرایا ۔
اوکے اوکے جاتے ہیں،، ایشان نے منہ بنایا اور دونوں واپسی کے لئے مڑے۔
ویسے بھابھی آپ ماہر بھائی کے کپڑوں میں کافی انوسنٹ اور ہوٹ لگ رہی ہیں،، آریان کی زبان میں کھجلی ہوئی بول کر رکا نہیں جان بچا کر بھاگ گیا۔
ماہر جو انھیں دیکھ سنجیدہ ہوا تھا اب قہقہہ لگا کر ہنس پڑا وہ جو چھپنے کے لئے جگہ ڈھونڈ رہی تھی ماہر کی کمر پر مکے برسائے۔
“بہت بدتمیز ہیں آپ،، آپ ناں ڈوری توڑ کر میرا ڈریس خراب کرتے اور نا یہ سب،، رواحہ کی زبان کو بریک لگا۔
وہ جو دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا گہرا مسکرایا۔
رواحہ نے وہ مسکان دیکھی۔
“آپ مسکراتے بھی ہیں،، سٹرینج،، سڑیل کہیں کے،، رواحہ نے گھٹنے پہ چن رکھ کر معصومیت سے کہا۔
آں ہاں ،،،میں سڑیل ہوں،، آئیبرو اچکا کر پوچھا۔
یس،،، زور زور سے ہاں میں سر ہلایا۔
تب بہت اچانک صوفے سے ٹیک لگا کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے سینے پر گرایا تھا۔
“ابھی کچھ دیر پہلے جو محبت کے مظاہرے دکھائے ہیں اس کے بعد بھی اگر سڑیل بول رہی ہو تو لگتا ہے ایک مرتبہ پھر ہوش ٹھکانے لگانے پڑیں گے،، اطمینان سے بول کر ٹی شرٹ کی گریبان سے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا۔۔
مم،، میرا وہ مطلب نہیں تھا،، چلیں واپس چلیں ماہر سب ویٹ کر رہے ہوں گے،، وہ اسے پھر غیر سنجیدہ دیکھ پریشان ہوئی۔
مگر وہ تو اس کی گردن میں منہ دے چکا تھا۔
ماہر کوئی آ جائے گا،، اس نے شوشا چھوڑا۔
“نہیں آئے گا میری پرمیشن کے بغیر،، وہ بھاری آواز میں بولا۔
“ماہر لاؤنج ہے،، وہ جھنجھلائی۔
“جی ٹی روڈ تو نہیں،، جیسا سوال ویسا جواب،
رواحہ اسے پھر چھیڑ کر پچھتائی ہی تھی۔ اب اسے منا ہی لیا تھا تو اس کی منمنائیاں بھی برداشت کرنی تھی سو شرافت سے خود کو اس کے سپرد کر دیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
🤭🤭😷😷😷
