Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ماہ بیر دروازہ ناک کر کے اس کے روم میں داخل ہوا تھا۔۔
زہے نصیب،،،،، آج ہماری کہاں سے قسمت کھل گئی کہ ماہ بیر راسم حفیظ میرے کمرے میں تشریف لائے۔۔

کرن کو خوشگوار حیرت ہوئی،، اور وہ جو اس بے رحم سفاک قاتل پر دل و جان سے فریفتہ تھی۔۔ اسے اپنے کمرے میں دیکھ بے باکی سے اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کر بولی۔۔۔

کام تھا ایک تم سے،،،پرسنل قسم کا،،،،کرو گی،،،، اس نے سنجیدگی سے مگر خلافِ معمول نرم لہجے میں پوچھا۔۔

تم کہو تو میں اپنی جان بھی تمھارے قدموں میں نچھاور کرو دوں،،، وہ مضبوط لہجے میں بولی۔۔

ماہ بیر کو وحشت ہوئی،، اس کے بازو اپنی گردن سے ہٹائے۔۔
میرے ساتھ حویلی چلو گی آج رات کے لئے ،،،؟

کس لئے،،،؟ کرن کی آنکھوں کی چمک دو چند ہوئی۔۔

بچی ہو جو بتاؤں کس لئے،،، وہ سکون سے بولا۔

اوکے رائٹ میں تیار رہوں گی،،، کرن کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

بی جان اپنے کمرے میں بال برش کر رہی تھیں۔۔فجر ان کے کپڑے پریس کر کے لائی تھی۔۔ وہ ان کے پاس کھڑی تھی۔۔

سنو فجر آج رات میں ہوسپیٹل میں ہی رکوں گی،،، مگر تم فکر مت کرنا،، مجھے پتہ ہے تم اکیلی کتنی خوفزدہ ہو جاتی ہے،،،، میں نے ماہ بیر کو بلایا ہے حویلی ،،آج رات وہ حویلی ہی رکے گا۔۔
بی جان لاپروائی سے بولیں۔۔

حویلی کی چھت جیسے فجر کے سر پر گری تھی۔۔
یہ سن فجر کا چہرہ خوف سے وحشت زدہ سا ہوا تھا۔۔ متوحش سی بی جان کو دیکھا یوں جیسے شاید اسے سننے میں ہی کوئی غلطی ہوئی تھی۔۔

ی،،، یہ،،، کک،،، کیا،،، کک،، کہہ رہی،،، ہیں،، آ،،، آپ،، بب،، بی جان،،
اس کی تو ابھی سے روح فنا ہونے لگی تھی کجا کہ ساری رات۔
سوچ کہ ہی چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑا تھا۔۔
بب،،، بی جان،،، خدا،، کے،، لیے،،، ایسے،،، مم،، مت کریں،، مم،، میرے ساتھ،،،
وہ گھگھیا گئی۔۔

چپ کرو لڑکی،، کب تک میرے سینے پر مونگ دلو گی،، آج ہوں کل نہیں،، اور کب تک ایسے چلے گا،،، شوہر ہے وہ تمھارا،، اب جو خراب کیا ہے تم نے۔ خود ہی اسے ٹھیک کرو،،، ٹھیک ہو جائے گا سب،، جب قریب جاؤ گی اس کے۔۔
بی جان نے اسے بری طرح(جان بوجھ کر) جھڑکا اور ہوا میں بات اڑائی۔۔

یہ تو وہی جانتی تھی کیسے اس کی چھوٹی سی جان پر بن آئی تھی۔۔

بی جان تیار ہو کر کیب کے ہارن کی آواز سن کر باہر کی جانب بڑھی جو ان کی دوست نے بھیجی تھی کہ تبھی ان کا فون رنگ ہوا۔۔۔

وہ جو باہر اپنی بی ایم ڈبلیو ایک سائیڈ لگائے بی جان کے جانے کا انتظار کر رہا تھا،، کیب دیکھ کر فون کیا جو کہ بی جان نے رسیو کر لیا۔۔

ہان ماہ بیر میں جا رہی ہوں،، تم آؤ گے ناں بچے،، بی جان نے آس بھری آواز میں پوچھا۔۔

جی میں رستے میں ہوں بی جان،، پندرہ بیس منٹ میں پہنچ جاؤں گا،، اس نے جھوٹ بولا۔۔کرن نے اس کے عجیب سے رویے پر اسے غور سے دیکھا جو کافی ہوٹ اور بولڈ ڈریسنگ میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔

بی جان کیب میں بیٹھ کر اب اطمینان سے جا چکی تھیں۔ تبھی ماہ بیر نے اپنی گاڑی حویلی کے طویل و عریض لان میں پارک کی تھی۔اس گاڑی کی آواز سے فجر کا دل دہلا تھا۔مگر کہیں یہ بھی دل کو تسلی ہوئی کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے حویلی میں۔
کچھ غیر معمولی محسوس ہونے پر اس نے ہمیشہ کی طرح کچن کی کھڑکی سے چھپ کر باہر جھانکا تھا۔ تبھی فجر کے پیروں تلے سے زمین کھسکی تھی۔

کیونکہ آج وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس قاتل مغرور اور بے باک نیلے لباس والی حسینہ نے اس کے بازو کے گرد ہاتھ لپیٹ رکھے تھے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک مشورب کی بوتل تھی۔ اور جس مشروب کی وہ بوتل لگ رہی تھی فجر سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس مشروب کی بوتل حویلی میں وہ کیسے داخل کر گیا تھا۔۔
فجر کو لگا اس کا وجود ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں بکھر رہا تھا۔دل سے دھوئیں اٹھے۔سینے میں بھانبھڑ جل اٹھا جو آج فجر کے وجود کو جلا کر خاکستر کرنے والا تھا۔

وہ جانتا تھا اچھی طرح، وہ دیکھ رہی ہے۔یہ بھی جانتا تھا کہ فجر ماہ بیر راسم اس سے کتنی محبت کرتی یے۔یہی محبت تو وہ روندنے آیا تھا آج،
تبھی کرن کو لئے باہر بڑی محبت سے اس کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ جہاں ماہ بیر کی غیر موجودگی میں بھی فجر کو جانے کی اجازت نہیں دی تھی اسے۔
ماہ بیر نے اندر داخل ہو کر ڈور لاک کیا تھا۔۔
ہاں مگر کھڑکیاں ضرور کھول دیں تھیں۔جن کی جالی میں سے اندر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔۔

بھول جان کا ہنر مجھ کو سکھاتے جاؤ
جا رہے ہو تو سبھی،،،،، نقش مٹاتے جاؤ
چلو رسماً ہی سہی مڑ کہ مجھے دیکھ تو لو
توڑتے توڑتے ،،،،،،،،،تعلق کو نبھاتے جاؤ

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ کچن میں زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔ اب اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھی جیسے۔

بہت دیر پتھر بنی وہیں بیٹھی زمین کو گھورتی رہی۔جو ہوا اس میں اس کا کیا قصور تھا۔ کیا قصور تھا اس کا کہ وہ اس عورت کی بیٹھی تھی جو ماہ بیر کے ماں باپ کی قاتل تھی۔ اس نے اس عورت کی کوکھ سے جنم لیا تھا تو یہ اس کے بس کی بات تو نہیں تھی یا اس نے خود نے طے تو نہیں کیا تھا۔کہ وہ ایک قاتل عورت کی کوکھ سے پیدا ہو۔

گہری رات،،، حویلی کے آس پاس سے آتی جھینگروں کی بین کرتی آوازیں،،اس کمرے سے آتی ہلکے میوزک کی آوازیں،، اور فجر ماہ بیر کی ہچکیاں،، کچن کے ٹھنڈے فرش پر بے جان سی بیٹھی وہ آنکھوں سے لہو رونا چاہتی تھی۔
دل تھا جو اس کی اتنی نفرت کے باوجود اسی ظالم کا نام پکارے جاتا تھا۔۔آج اس دل کمبخت کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کا خون کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا تاکہ آئندہ اس بے رحم، ستمگر کا نام پکارتے سو بار سوچے۔

تبھی اس نے آہستگی سے اپنے پاؤں سے وہ چھوٹی چھوٹی پائلیں نکالی پھر کلائیوں کو چوڑیوں سے آزاد کیا۔۔
کتنی بھولی تھیں ناں بی جان جو اسے آج سجنے سنورنے پر مجبور کر کے سجایا سنوارا تھا۔یہ جانے بغیر کے آج تو ان کا نواسا اسے مکمل اجاڑنے آیا تھا۔۔

وہ دبے قدموں اٹھی تھی۔۔مردہ قدموں سے اس کمرے کی کھڑکی تک گئی تھی۔۔ اور اب جالی دار کھڑکی کے باہر کھڑی اپنی بربادی کا نظارہ دیکھ رہی تھی۔۔

اندر وہ جو دوسری کھڑکی میں شرٹ لیس کھڑا تھا،،،، بڑے غور سے کھلی کھڑلی میں سے آدھے چاند کو دیکھ رہا تھا، شاید کسی انتظار میں تھا۔۔ بغیر دیکھے،، بغیر اس کی چوڑیوں اور پائلوں کی آواز سنے بھی وہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ وہ کھڑکی میں آن کر کھڑی ہوئی ہے۔

اس کے ہاتھ میں وہ بوتل تھی۔اسے اپنا انتظار ختم ہوتا محسوس ہو چکا تھا ۔تبھی بوتل میں سے گھونٹ گھونٹ مشروب اپنے اندر انڈیلنے لگا۔ بڑی چال باز نفرت تھی ماہ بیر راسم حفیظ کی جو ہر طرف سے ایک نازک لڑکی کی محبت کو شکست دینا چاہتی تھی، تبھی وہ بوتل میں موجود ایپل جوس یوں پی رہا تھا جیسے کے شراب پی رہا ہو۔
اسے یہ ایپل جوس بھی کڑوا زہر لگ رہا تھا۔
بڑا چال باز عشق تھا فجر کا، جو وہ سب دیکھنے وہ چلی آئی تھی اور اب کھڑی اپنا ضبط آزما رہی تھی۔۔

کرن واش روم سے باہر آئی تھی اور اب باریک سے سلیولیس نائٹ ڈریس میں تھی۔۔ماہ بیر نے بغیر اس کی طرف گھومے اسے ہاتھ سے اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
کرن کا دل بلیوں اچھلا تھا۔ تبھی وہ لپک کر ماہ بیر کی پشت سے لپٹی تھی۔ اور اس کے سینے پر اپنے نازک ہاتھ لپیٹے۔۔

بسسسسسسسسس،،،،،،،،،، خون ہو چکا تھا ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دل کا،،،،
وہ انھی قدموں سے دوپٹہ سختی سے اپنے منہ پر رکھتی اپنے کمرے میں بھاگ چکی تھی۔

ہے حوصلہ درد کا جو سہہ رہا ہے مجھے،
کہ میرے غم کی ،،،،،،،،،،،،بھی انتہا ہوئی
تیرے بنا گزار کے جیئیں گے کیسے بھلا
یہ زندگی تو بے وجہ ہوئی
کیوں اس قدر رلا دیا تو ہی بتا تھی کیسی یہ دیوانگی
او بے وفا تیری دیوانگی

چلو آج یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ چاہے وہ کتنا ہی بے رحم،، ظالم،، سفاک یا ستم گر تھا ،،فقط اس کا تھا۔۔

وہ جو جان چکا تھا کہ اس کی محبت کو روندنے میں کامیاب ہو چکا ہے، اب جھٹکے سے خود سے کرن کے بازو ہٹائے تھے۔ وہ جھٹکے سے گرتی گرتی بچی تھی۔

واٹ اس دس ماہ بیر،،، تم،، تم میری انسلٹ کر رہے ہو،، ۔

کرن اگر نہیں چاہتی کہ میں اپنا سارا غم وغصہ اور وحشت اپنے اسکیلپل کے زریعے تم پر نکالوں تو وہ اتنا بڑا بیڈ دیکھ رہی ہو چپ چاپ جا کر اس پر سو جاؤ،،،
ماہ بیر کا سرسراتا لہجہ، کرن کو جھرجھری آئی جب وہ پیچھے مڑا تو اس کی تنی رگیں اور لال انگارا آنکھیں دیکھ کر۔ کیونکہ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔

کرن خاموشی سے بیڈ پر گئی اور کمفرٹر تان کر سو گئی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ایشان آروشے کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔اور اب جھجکتے ڈور بیل بجائی تھی۔ وہ بلیک پینٹ شرٹ میں بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد علیزے نے پوچھ کر کے کون ہے ڈور کھولا تھا۔
وہ اندر داخل ہوا تو عجیب سی بے چینی ہوئی۔

کیسے ہیں آپ؟ علیزے نے جھجھکتے بات شروع کرنے کو سوال پوچھا۔

فائن، آپ سنائیں؟ آروشے ٹھیک ہے؟ ایشان کی آنکھیں اسی کی متلاشی تھیں۔

اسی کی تو پریشانی ہے،، جب سے بیمار ہوئی ہے تب سے کبھی میں اتنا پریشان نہیں ہوئی جتنا اس نے آج ایک دن میں کر دیا مجھے،
وہ دونوں باتیں کرتے آروشے کے روم میں داخل ہوئے تھے۔ وہ جو منہ پھلائے بیڈ پر کھلونے اٹھخ پٹخ کر رہی تھی، سامنے دیکھا تو کھل سی گئی۔

یےےےےےےےےےے، واؤ،،،،، ایش آ گیا،
وہ بیڈ سے نیچے اتری تھی اور اس کے اگلے عمل پر ایشان اور علیزے بھونچکا سے صدمے سے بے حال ہوئے تھے۔
کیونکہ اس پگلی نے نیچے اتر کر ایشان کو ٹائٹلی ہگ کیا تھا۔ناصرف ہگ کیا تھا اس کے گلے میں جھول کر اس کہ گال پر نرم و نازک لب رکھ کر کسی بھی کر دی تھی۔

علیزے گڑبڑا کر آگے بڑھی تھی، روشے ایڈیٹ، سٹوپڈ گرل، پریشان مت کرو ایش کو نہیں تو وہ واپس چلا جائے گا،
علیزے نے دانت پیستے اسے دور کھینچا اور اپنا لہجہ حتی الامکان دھیما رکھنے کی کوشش کی۔
اور ایشان تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا۔

اوووووو، سوری ایش، میں نے تنگ کیا اپنے فرینڈ کو، وہ آنکھیں پٹپٹا کر اب ایشان سے پوچھ رہی تھی یہ جانے بغیر کے خالی پریشان، وہ تو ایش کا کلیجہ منہ کو لے آئی تھی۔

نن، نو، روشے، ائم فائن، وہ بے رحم سفاک قاتل
Executioner,
جس کے اسکیلپل چلاتے ہاتھ نہیں لڑکھڑاتے تھے، آج اس چھوٹی سی لڑکی نے اس کی زبان لڑکھرا دی تھی۔

علیزے نے آروشےکو تھام کر صوفے پر بٹھایا۔
اب اگر روشے بے بی نے فرینڈ کو پریشان کیا تو وہ واپس چلا جائے گا۔۔

نو،،، نو،،، روشے بےبی کو ایش چاہیے،، وہ پھر مچلی۔۔
ایشان قریب آ کر بیٹھا تھا اس کے۔ غور سے دیکھا ۔ گلابی سکرٹ اور بلیک ٹراوزر میں وہ گلابی سا پھول لگ رہی تھی۔ ایشان کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔

علیزے کچن جا چکی تھی۔ کھانا گرم کر کے لانے۔
ایشان نے سرد سی آہ بھری۔ روشے بےبی نے کیوں اتنی ضد کی؟ کیوں نہیں کھانا کھایا اور میڈیسن لی؟ ایشان نے سنجیدگی سے پوچھا تو وہ برے برے منہ بنانے لگی۔

بیکاز روشے بےبی کو اپنا فرینڈ چاہیئے تھا، ایش چاہیے تھا اسے، اور آپو لا کر نہیں دے رہی تھی، اسی لئے، یو نو واٹ ایش مجھے بہت بھوک لگی ہے،، ٹمی میں ریٹس بھی ڈشوم ڈشوم کر رہے ہیں،،
اس کے شوشے پہ ایشان نے دانتوں تلے لب دبایا تھا۔

تبھی علیزے روم میں کھانا لے کر آئی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

محلے میں ایک ہلچل سی مچی تھی۔
رواحہ، ناجیہ اور اس کے شوہر کے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔
باہر رستم محلے پر قہر بن کر نازل ہوا تھا۔ راستے میں جو بھی آ رہا تھا روند دیا جا رہا تھا۔

روح،،، رواحہ میری گڑیا، بھاگ جاؤ، ناجیہ نے روح کا بازو دبوچا۔
مگر افسوس بہت دیر ہو چکی تھی۔کیونکہ رستم اور اس کے غنڈے دھاڑ سے دروازہ توڑ اندر داخل ہو چکے تھے۔رواحہ کے سر پر آسمان ٹوٹا تھا۔ رستم نے آتے ساتھ ہی ناجیہ کے شوہر کی ٹانگ پر گولی ماری تھی۔کیونکہ اس کی آنکھوں میں خون کے چھینٹے ارد گرد اڑے۔ناجیہ اور رواحہ کی دلدوز چیخیں فضا میں گونجیں تھیں۔ ناجیہ کے معصوم بچے دروازے میں کھڑے اپنی ماں کو بے بسی اور خوف سے دیکھ رہے تھے۔

میری جانِ من، بہت بڑی غلطی کر دی تم نے، مجھ سے بھاگ کر، اب سزا تو ملے گی، رستم نے اس کا بازو دبوچ کر اس کی کمر اپنے سینے سے لگائی تھی۔ وہ بری طرح روتی مچلی تھی۔
اس کے غنڈے چاروں طرف پھیل گئے تھے۔
ناجیہ اور اس کے شوہر کو غنڈوں نے بری طرح دبوچ لیا تھا۔۔

مگر تم سے تو رستم دادا محبت کرتا ہے میری جان،، تم تو جنون ہو رستم دادا کا، تمھیں کیسے سزا دے سکتا ہوں،
وہ پرسوچ سا بولا۔ تو ان کو سزا دوں جن کی وجہ سے تم نے رستم دادا سے بے وفائی کرنے کہ کوشش کی، مجھ سے بھاگنے کوشش کی۔

نہیں، نہیں ،نہیں خدا کے لئے آپ ایسا مت کریں، میں نے غلطی کی ہے تو مجھے سزا دیں،، مار ڈالیں مجھے، انھیں چھوڑ دیں، وہ بے تحاشا روتی چلاتی مچلی۔

رستم نے ناجیہ کے شوہر کے سینہ چھلنی کیا تھا گولیوں سے۔راوحہ کے چہرے نے خون چھلکایا تھا۔
اب رستم کی گن کا رخ ناجیہ کی جانب تھا۔۔

نہیں، خدا کے لئے چھوڑ دیں، نہیں، وہ حلق کے بل چلا رہی تھی۔

نہ میری جان یہ تمھارا خاندان ختم ہوگا تو تم دوبارہ مجھ سے دور بھاگنے کی کوشش نہیں کروگی ناں، نا بھاگنے کی کوشش کرو گی، ہے ناں،

آج رستم فرعون بن چکا تھا۔تبھی ناجیہ کو بھی چھلنی کر دیا تھا، رستم نے اسی ظلم پر بس نہیں کیا تھا۔
ایک ایک فائر وہ معصوم فرشتوں جیسے بچوں کے سینوں میں بھی داغ چکا تھا۔
رواحہ نے یہاں آ کر واقعی گناہ کیا تھا جو اتنے معصوموں کی جان نگل گئی تھی۔ کیا وہ منحوس تھی۔یا ڈائن تھی یا کیا۔جو اس کی وجہ سے اتنے لوگ مارے جا چکے تھے۔
وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔دل کیا سینہ کوبی کرے، بال نوچ لے، یا اپنا خوبصورت منہ ہی نوچ لے۔

رستم نے اسے باہر گھسیٹا اور لاکر گاڑی میں پٹخا تھا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی۔

بنگلے پر پہنچ کر اسے دوبارہ اسے بازو سے گھسیٹ باہر کھینچا تھا اور اب گیٹ کی طرف بڑھا تھا۔
رواحہ کا چہرہ پھر سفید پڑا۔ جب وہ ظالم یزید اس بوڑھے چوکیدار کی جانب لپکا تھا جس نے اسے فرار کا رستہ دکھایا تھا۔۔

نئیں، نئیں،، چھوڑو اسے،، رواحہ نے رستم کا گریبان پکڑا تھا۔ خبردار اسے کچھ کہا، میں جان لے لوں گی تمھاری، وہ بھوکی شیرنی بنی چلائی۔۔
رستم نے فدا ہونے والے انداز میں اسے دیکھا مگر بازو سے پکڑ کر اسے رانی بائی کی جانب دھکا دیا تھا۔رانی بائی اسے قابو کر چکی تھی۔۔

تبھی رستم نے بہت دردناک انداز میں اس بوڑھے کی جان لی تھی۔۔وہ روتی چلاتی رہی مگر کوئی اس کی سننے والا نہیں تھا۔۔

ہاں مگر دو آنکھیں تھیں، جو دیکھ رہیں تھیں، سب آبزرور کر رہی تھیں۔اور کسی کو لمحہ بہ لمحہ کی خبر دے رہیں تھیں۔

اصلی امتحان تو رواحہ کا اب شروع ہوا تھا۔جب رستم اسے گھسیٹتا کسی روم کی جانب لے کر جا رہا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

فجر اپنے کمرے میں بند بال مٹھیوں میں جکڑے لہو رو رہی تھی۔اب یہ تو طے تھا کہ اب یہ دل کبھی اس کی تمنا نہیں کرے گا۔ زندگی بے وجہ لگنے لگی تھی، زندہ رہنا بے وجہ ہو گیا تھا۔
وہ زندہ تھی کہ اس بے حس ظالم کا انتظار ختم نا ہو، اب جبکہ وہ بے وفائی کرتے اس کی روح کو لہولہان کرتے مار چکا تھا تو سوچا کہ اب مر جایا جائے۔

ہاں ٹھیک ہی تو تھا۔ بی جان بھی ہر فکر ہر زمہ داری سے آزاد ہو جائیں گی۔ کیا ہو گا؟ چار دن روئیں گی اور پھر بلکل پر سکون،
وہ پاگل ہونے کو تھی۔کلیجہ پھٹ رہا تھا، پھندا سا اٹکا تھا گلے میں ۔
اس سب سے نجات کا ایک زریعہ تھا کہ اس بے وجہ کی زندگی سے ہی نجات حاصل کر لیتی۔
وہ آگ بنی اٹھی تھی۔بکھرے کھلے بال ملگجا حلیہ بن چکا تھا۔چپکے سے باہر آئی اور صحن سے منسلک سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔۔

ڈبل سٹوری چھت پر آ کر ریلنگ کی قریب گئی۔ وہ پھر سسکیوں کی آواز دبا کر بے تحاشا روئی تھی۔ سرد اور خنک ہوائیں پسلیوں میں گھسنے کو تھیں۔ دیر نہیں لگانی تھی۔

ریلنگ کی جانب مزید قدم بڑھانے والی تھی کہ پچھلی گردن پر تیز چبھن کے احساس نے اسے تڑپا ہی دیا تھا۔ ہلکی سی چیخ منہ سے نکلی۔ وہ تیزی سے پیچھے مڑنے لگی تھی جب کسی نے اسے بازوؤں سے جکڑ کر رخ موڑنے نہیں دیا تھا۔
خوف ودہشت سے اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔مگر زیادہ دیر اسے خوفزدہ ہونے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑی تھی۔ کہ وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوئی پیچھے کھڑے شخص کے بازوؤں میں جھول گئی تھی۔۔

وہ معمولی انسان تو نہیں تھا۔
Executioner,,,,
تھا، رات کے اندھیرے میں وہ اس کی کھڑکی کے باہر کھڑا اس کی دبی دبی سسکیاں سن سکون حاصل کرتا رہا تھا۔
پھر جب وہ چھت کی جانب گئی تھی تو وہ اس کے پیچھے آیا تھا۔اسے ریلنگ کی جانب بڑھتے دیکھ ایک تلخ سی مسکان لبوں پر رینگی تھی۔ اس نے اس کی گردن میں بے ہوشی کا انجیکشن انجیکٹ کیا تھا۔کافی ہیوی ڈوز تھی۔

وہ اس کے بازو میں جھول رہی تھی جب جھٹکے سے اس نے فجر کو اپنے قریب کیا تھا۔
اب فجر کا چہرہ اس کے بہت قریب تھا اتنا کے اس کے سانسوں کی زیرو بم اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی۔

مسئلہ تو یہی ہے فجر ماہ بیر راسم کے تمھاری زندگی کو بھی میری دسترس میں رہنا ہے، زندہ تم رہنا نہیں چاہتی اور مرنے میں تمھیں دوں گا نہیں۔ کیونکہ تم مر گئیں تو میں بھی مر جاؤنگا۔
وہ سکون سے بولا۔

اسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا۔۔بڑے اطمینان سے اسے نیچے لایا رخ اس کے کمرے کی طرف تھا۔کمرے میں داخل ہو کر پاؤں سے دروازہ لاک کیا۔۔

اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے پہلو میں نیم دراز ہوا تھا۔
کاش تم نایاب کی بیٹی نہیں ہوتی فجر ماہ بیر راسم تو میری نفرت کی بجائے پہلی اور آخری محبت ہوتیں۔
اب وہ اس کے اوپر جھکا تھا۔ بہت غور سے اسے دیکھا۔کمزور نازک جان۔مٹا مٹا سا سجا سنوار بکھرا وجود کھلے بال۔ چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے سے نشان اور سرخ چھوٹی سی کان۔
لیکن اسکے وجود کی جس چیز پر اس کی نظر آ کر ٹھہری تھی وہ تھا اوپری گلابی ہونٹ کے زرا سا اوپر وہ تل جو ہمیشہ اس کی نفرت کے لئے بے حساب جھنجھلاہٹ کا سبب بنا تھا۔

وہ بڑے سکون سے جھکا تھا اور دہکتے لب اس تل پر رکھے۔ پیاسے ہونٹوں نے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھو کر خود کو سیراب کیا تھا۔

کرن اسے کمرے میں موجود نا پا کر باہر نکلی تھی اور اب اس کمرے کی کھڑکی میں کھڑی وہ عجیب نظارا دیکھ رہی تھی۔جب وہ ظالم سفاک اب ایسے کسی کو پور پور نرمی سے اپنی محبت کی بارش میں بھگو رہا تھا جیسے اس سے بڑھ کر کوئی دیوانہ ہو ہی نا۔
وہ اب اچھی طرح جان چکی تھی کہ وہ اسے یہاں کس مقصد سے لے کر آیا تھا۔وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔

ماہ بیر نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیا تھا۔ اسے اپنے سینے میں بھینچتے وہ اب اس کے ہونٹوں کو اپنے لبوں کی پرتپش دہکتی گرفت میں لے چکا تھا۔۔

Continue,,,,,,,,,,

Thanks Naina is post k liye 👇
https://www.facebook.com/groups/NovelBank/permalink/1451446541858595/
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓