Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رواحہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ ایک عجیب سا ڈر ،،عجیب سا خوف تھا جو رگ و پہ میں سرایت کر رہا تھا کچھ کھونے کا،،کوئی انہونی ہونے کو تھی۔ تبھی قدموں کی چاپ اسے اس کمرے تک آتی سنائی دی۔۔
رواحہ کا دل تیزی سے دھڑکا،،ہاتھ میں پکڑی ڈبی مظبوطی سے مٹھی میں بھینچ لی۔ وہ تو اس کی امانت تھی جو اس کی روح میں بسا تھا آج وہ یقینا اگر اپنی حفاظت نا کر پاتی تو موت کو گلے لگانے والی تھی۔۔

تبھی کلک کی آواز سے ڈور کھلتا چلا گیا اور وہ درندہ نما بے رحم سفاک انسان دھیمے قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھنے لگا۔۔ اس کے ساتھ ہی اس کا خاص آدمی بھی تھا جو دم چھلا بنا اس کے ساتھ ہی گھوم رہا تھا۔ وہ بیڈ کے قریب آیا تو رواحہ خود میں سمٹ گئی۔۔
تبھی رستم کا وہ کتا پھنکارا۔

“کیسا لگ رہا ہے چندا بائی،، اپنی اصلیت کی جانب لوٹ کر،، تمھارا ٹھکانہ تو ہمیشہ سے یہی تھا۔۔ رستم کی رکھیل بن کر رہنا تمھارا مقدر ہے،، تمھاری وجہ سے جو اس نے رستم کے ساتھ کیا اب وہ سود سمیت لوٹانے کا وقت آ گیا ہے،، دیکھنا کیسے تمھیں بےعزت کر کے دنیا کو تماشہ دکھایا جائے گا تمھارا،،
وہ کریہہ شکل والا شیطان مغلظات بک کر رواحہ کی جان مزید ہلکان کر رہا تھا جب رستم رواحہ کی جانب لپکا۔۔ وہ جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹتی چلی گئی۔۔

خبردار رستم،، کیوں بے موت مرنا چاہتے ہو،، مجھے چھونے کی بھول ،بھول کر بھی مت کرنا،، نہیں تو ابھی تو صرف مجھے چندا کہنے پر اس نے تمھاری زبان کاٹی ہے،، چھوا تو اتنے ٹکڑے کرے گا کہ سمیٹنے والے پریشان ہو جائیں گے،،کیونکہ تمھاری طرح دلال نہیں شوہر ہے وہ میرا اور میرے ہونے والے بچے کا باپ ،، جانے دو مجھے،، وہ چلائی تو رستم نے حیران ہو کر اسے دیکھا جو پہلے سہمی چڑیا کی طرح محض پھڑپھڑا کر رہ جاتی تھی مگر اب کسی کے بخشے گئے اعتماد سے شیرنی کی طرح غرا رہی تھی۔۔ مگر بچے والی بات پر وہ شدید قسم کا چونکا تھا۔۔ اس کا دل کیا سامنے کھڑی اس لڑکی کو تیزاب کے ڈرم میں پھینک دے،، کیونکہ یقیناً اب وہ رستم کے کسی کام کی نہیں رہی تھی۔۔

رستم بھنا کر اس کے قریب آیا تھا۔۔ ایک زناٹے دار تھپڑ مارا تھا اسے کہ وہ تیورا کر گرتی مگر اس سے پہلے وہ اسے دبوچ کر اس کی شال کھینچ کر دور اچھال چکا تھا۔۔ رواحہ کہ قدموں تلے سے زمین کھسک گئی۔۔ تب اس نے ہاتھ میں پکڑی ڈبی انگلی کی مدد سے کھول کر پوری کی پوری اپنے حلق میں انڈیل کر فورا نگل لی تھی۔۔
اور وہ جو محض اسے ڈرانے آیا تھا اسے بیڈ پر پھینک کر باہر جانے لگا۔۔

دادا اس نے کچھ نگلا ہے ،،مر جائے گی یہ،، اس کے چمچے نے للچائی نگاہوں سے بیڈ پر پڑی رواحہ کو دیکھا۔
مر جانے دو میرے کسی کام کی نہیں رہی،، رستم جیسے کہنا چاہتا ہو اور وہ دونوں شیطان کمرے سے باہر نکل کر اسے لاک کر گئے۔۔
رواحہ کے پورے جسم میں درد کی لہریں اٹھیں تھیں
م،ا،،،،، ہر،،،،، کپکپاتے لبوں سے پکارا۔
۔۔ وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں پا رہی تھی بلکل بھی۔۔
بہت جلد رواحہ کو اپنا دم گھٹتا اور ایک ناقابلِ تلافی نقصان کے ہونے کا احساس شدت سے ہوا تو آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہے اور وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وائٹ پیلس میں ایک بے چینی ایک ہلچل سی تھی جب سب کو رواحہ کے بارے میں پتہ چلا۔ اور یہ بھی کہ وہ محض ان سب کی خاطر وائٹ پیلس کی دہلیز پار کر گئی تھی۔۔
وہ سب ریشماں کے کمرے میں تھیں۔۔

فجر اپنے کمرے میں تھی اور مسلسل ماہ بیر سے کونٹیکٹ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ مگر وہ فون اٹھا نہیں رہا تھا۔۔ ہر وقت کوئی نا کوئی اس کے پاس، رہتا تھا اس کا خیال رکھنے کو،، مگر اب وہ اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔۔
جب بہت اچانک ٹینشن و پریشانی سے ایک درد کی شدید لہر اٹھی اور اسے تڑپا گئی۔۔

آہہہہہہہہہ،،، وہ سسکی ،،،ماہ بیر،، لبوں سے اس بے مہر کا نام ادا ہوا صوفے پر بیٹھ کر دوہری ہوئی۔۔
وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی۔۔مگر اسے ان تک پہنچنا تھا۔۔ بڑی ماں،، دادو،، وہ سسکی،،
بمشکل صوفے کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی۔۔ اور دروازے تک آئی۔۔ یونہی دیواروں کا سہارا لیتی ہوئی وہ ریشماں کے کمرے کے قریب پہنچ ہی گئی۔۔
بڑی ماں،، وہ چیخی۔۔
اندر جو رحاب،، روحا اور زمل اپنا غم غلط کرنے میں مصروف تھیں فجر کی چیخ سن کر گھبرا کر باہر کہ جانب لپکی تھیں۔۔
جہاں وہ بری طرح کمر پر ہاتھ رکھے دہری ہو رہی تھی۔۔ اور درد سے چیخ رہی تھی۔۔ رحاب اور زمل نے آ کر اسے تھاما اور سہارا دے کر صوفے پر بٹھایا۔۔

آروشے اور مفرا بھی اپنے کمرے سے نکل آئیں تھیں۔ کچھ ہی دیر میں وائٹ پیلس فجر کی چیخ و پکار سے لرز اٹھا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

لوکیشن مسلسل ٹریس کرتے وہ مطلوبہ جگہ پر پہنچ چکے تھے۔ایک ایک پل بھاری تھا۔۔ سوہم خان کے بیٹے کی زندگی داؤ پر لگی تھی وہ کیوں نا تڑپتا۔
یہ ایک بڑی سی ویران عمارت کی لوکیشن تھی۔۔
دشمن شاید یہی سمجھ رہے تھے کہ سب جلاد یہاں موجود ہیں ہی نہیں تبھی یہ گندا کھیل کھیلا تھا انھوںنے۔۔
گاڑی تھوڑی دور پارک کر کے وہ آہستگی سے محتاط انداز سے عمارت کے قریب گئے تھے۔۔

ماہ بیر اور سوہم خان سامنے سے اور ایشان اور جبران عمارت کے پیچھے سے آگے بڑھے تھے۔ منی گاڑی میں تھی اور دعا مانگ رہی تھی کہ وہ خیریت سے ہو۔ اکیلی کب تھی ایک اور جان جڑی تھی اس کی جان سے،، کتنا بولا تھا اسے کہ بتا دے مت چھپائے، مگر اس کہ تو ایک ہی ضد تھی کہ جیسے اس نے مجھے خود سے دور رکھا ویسے میں نے اسے اس خوشخبری سے دور رکھا ہے آئے گا تو بتا دوں گی،، اور اب منی پچھتاوے میں ڈوبی تھی کہ آخر وہ اس پاگل لڑکی کی باتوں میں آئی ہی کیوں؟

ادھر وہ عمارت میں اندر تک داخل ہوئے تو اب سامنے سے مزاحمت شروع ہوئی۔۔ مگر وہ لوگ تو آج سچ مچ کے جلاد بن چکے تھے جیسے ۔۔غصے سے پاگل ہوئے سوہم خان کی گن سے نکلتی گولیاں آج کافی دنوں کے بعد شہ رگیں اڑا رہی تھیں۔۔
ایشان اور جبران بھی پیچھے کی جانب سے کافی اندر تک گھس آئے تھے۔۔ ان کے پیچھے ہی وسیع بھی اسی عمارت میں داخل ہو چکا تھا۔۔
سوہم خان نے ماہ بیر کو پکارا تھا۔

سنو ماہ بیر،، یہ رستم مجھے اور میرے بیٹے کو زندہ چاہیے،، سوہم خان کا سرسراتا لہجہ،، ماہ بیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ بہت جلد تمام مزاحمت دم توڑ گئی ۔۔ اندر آنے سے پہلے عمارت کے تمام کیمرے اور سکیورٹی توڑ دی گئی تھی۔۔ اسی لئے اب انھوںنے رستم کو آسانی سے اپنے قبضے میں لے لیا تھا ۔ سوہم خان کو دیکھ اسے ان سبز آنکھوں سے خوف آیا تھا۔۔ اس کا آدمی تو پہلے وہ جہنم واصل کر چکے تھے۔ اب وہ تھا اور اس کے سر پر گن تانے وہ چاروں۔
لڑکی کدھر ہے رستم،، ماہ بیر نے اس کے سر پر گن سے ضرب لگا کر اس کے ہوش ٹھکانے لگائے تھے۔۔
تم لوگ یہیں ٹھہرو،، میں دیکھتا ہوں سوہم خان نے خطرناک سنجیدگی سے کہا۔ جانے کیوں کچھ بہت غلط ہونے کا احساس شدت سے ہو رہا تھا۔

وہ پاگلوں کی طرح رواحہ کو ہر جگہ ڈھونڈے گیا۔ تب جھٹکے سے ایک کمرے کا دروازہ کھلا تھا تو سوہم کے سر پر آسمان گرا۔۔
جو منظر اس نے دیکھا تھا اگر اس کا بیٹا دیکھتا تو جانے کیا قیامت لے آتا۔ سامنے ہی وہ بیڈ پر خون میں لت پت لیٹی بلکل سفید پڑ چکی تھی۔۔ منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔۔یقینا اس نے ان درندوں کے خوف سے کوئی زہریلی چیز کھا لی تھی۔۔ یا یہ زہر انھیں نے دیا تھا اسے،، سوہم خان اندر داخل ہوا۔۔

افففففف بچی یہ کیا کیا تم نے؟ سوہم خان نے سر پر ہاتھ مارا۔
بیٹا؟ میری بچی،، اٹھو،،، سوہم خان نے اسے پکارا اور اس کی نبض چیک کی جو کہ بلکل مدھم پڑ چکی تھی۔۔ وہ جس بیڈ ہر لیٹی تھی اسی شیٹ میں لپیٹ کر سوہم خان نے بیٹے کی جینے کی وجہ کو وہاں سے اٹھایا اور لے کر باہر نکلا۔۔
وسیع بھی نیچے تہہ خانے میں سے ایشان کی مدد سے اپنی بہنوں کو سہی سلامت بازیاب کرانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔

وہ سب وہاں سے جیسے آئے تھے ویسے ہی نکلے تھے۔ ماہ بیر اور وسیع رستم کو اپنی مخصوص جگہ لے جا چکے تھے۔۔ جبکہ جےکے، ایشان اور سوہم خان رواحہ کو ہاسپٹل لائے تھے۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ جو اس سب میں اپنے فون پر توجہ نہیں دے پایا تھا۔۔ رستم کو بلیک روم میں پھینک کر اب توجہ دی تو چونک گیا۔۔ فجر کی کالز اور وائٹ پیلس سے جانے کس کس نے کال کرنے کی کوشش کی تھی اسے۔۔ اس نے کال بیک کرنی چاہی۔ مگر فجر نے فون نہیں اٹھایا۔ تب اس نے رحاب کو کال ملائی جو کہ تیسری بیل پر رسیو کر لی گئی۔
مگر فون میں سے فجر کی دلخراش چیخیں اور سسکیاں سن کر اس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔

بڑی ماں،، کیا ہوا،، فجر ٹھیک تو ہے ناں،، وہ گاڑی کی جانب لپکا اور وسیع کی جانب کیز اچھال کر اسے ڈرائیونگ کرنے کو کہا۔۔
ادھر سے بھی گاڑی چلنے کی آواز آ رہی تھی شاید فجر کو ہاسپٹل لے جایا جا رہا تھا۔۔
نہیں فجر کی طبیعت بہت خراب ہے ماہ بیر،، ہم اسے ہاسپٹل لے جا رہے ہیں،، رحاب نے سنجیدگی سے بتایا۔ اور فون رکھ دیا۔
سارے ایک جیسے تھے۔ پہلے سب کے سب ہی چھوڑ کر چلے گئے اور اب ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔۔ کم از کم کوئی ایک تو ان کے پاس رکتا۔ انھیں ڈھارس ہوتی۔ اتنے ماہ کیسے اس نے ان سب کو سنبھالا تھا یہ تو وہی جانتی تھی۔۔ یہ سب بہت اعصاب شکن تھا رحاب، روحا اور زمل کے لئے۔۔

وہ تو فجر کی حالت دیکھ کر حوصلہ چھوڑ ہی بیٹھی تھی جب اتفاق سے شفا وہاں چلی آئی۔جو کہ ان میں سے صد شکر کے کافی بریو تھی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا جو انھیں سنبھالتا سب ہی ہاتھ پاؤں پھلا بیٹھیں تھیں۔
تب شفا نے پنکی اور اس کی شاگردوں کی مدد سے فجر کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر گاڑی میں پہنچایا تھا۔۔ اور اب مفرا اور آروشے کے ساتھ وہ فجر کو لیے ہاسپٹل کے لئے نکلے تھے۔۔
بہت جلد ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔۔ فجر کی آہ زاری جاری تھی۔۔

بہت جلد اسے اندر چیک اپ کے لئے لے جایا گیا۔۔ وہیں آئی سی یو کہ باہر وہ لوگ سوہم خان کو لھڑء دیکھ چونک گئیں تھیں۔۔ روحا بھاگ کر سوہم خان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔
وہ کیسی ہے سوہم خان،، ہم اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر پائیں گے،،اگر اسے یا اس کے بچے کو کچھ ہوا تو کیسے جواب دیں گے اپنے بیٹے کو،، روحا اسے آئی سی یو کے باہر کھڑا دیکھ بکھر گئی۔
ہیے،، کچھ نہیں ہوگا،، اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں روحا،، خاموش ہو جاؤ،، سوہم نے اس کی پیٹھ رب کی۔۔
تبھی ماہ بیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہاسپٹل پہنچا تھا۔۔ ان سب نے شکایتی نگاہوں سے اسے گھورا تھا مگر وہ سب کو اگنور کرتا فون کان سے لگائے ناک کی سیدھ میں جےکے سے بات کرتا اندر چلا گیا تھا جہاں فجر کو ابتدائی طبعی امداد دی جا رہی تھی۔۔

وہ اندر آیا تو فجر اب بھی تڑپ رہی تھی۔۔ نازک وقت تھا۔۔ وہ بھاری قدموں سے چلتا اس کے بہت قریب آیا اور بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔ نازک جان،، پیلا زرد رنگ اور خشک ہونٹ،، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے،، یہ اس کے ہجر کا رنگ تھا جو اس نازک جان ر چرھ گیا تھا۔۔ مخصوص مہربان سا لمس اہنے بالوں میں محسوس کر وہ جو نڈھال سی آنکھیں بند کر کے اپنا سر تکیے سے پٹخ رہی تھی۔ زرا سی آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس دشمن جاں کو خود پر جھکے پایا۔۔ مگر وہ کرب و اڈیت سے بے تحاشا روتی اس کی جانب سے چہرہ موڑ گئی۔۔آنسوں تکیے میں جزب ہوئے۔۔

ماہ بیر کا دل جیسے کسی نے پاؤں تلے کچلا۔ “ہیے فجر ایسا مت کرو جان،، مر جاؤنگا نہیں تو،، جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔ اور ماتھے پر پر حدت لمس چھوڑا۔
ماہ بیر نے اپنے ہاتھ سے اس کے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔۔
آہہہہہہہہ،،، وہ پھر چیخی،، ماہ بیر کا دل بیٹھ گیا۔
سسٹر ڈاکٹر کو بلائیں،، وہ دھاڑا۔
نرسسز جو اسے ڈرپ وغیرہ لگا رہیں تھیں چونک کر اس بندے کو دیکھا جو ڈاکٹر جبران کی وجہ سے ان کے پرمیشن دینے کی وجہ سے لیبر روم کے اندر چلا آیا تھا۔۔

آپ پیشنس رکھیں سر،، ابھی کچھ وقت اور ہے،، ہم ہیں ان کے پاس،، ڈاکٹر بھی آ جائیں گی،، آپ پلیز کو آپریٹ کریں اور باہر تشریف لے جائیں،، سب ٹھیک ہو جائے گا،،
ان میں سے جو سنئیر سسٹر تھی نرمی سے کہا تو ماہ بیر نے ایک بھر پور نگاہ اس پر ڈالی اور بمشکل بوجھل قدموں سے چلتا باہر آ گیا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

قریباً دو گھنٹوں بعد ہاسپٹل میں بھاری بوٹوں کی بے چین سی دھمک گونجی تھی۔۔
وہ آگ کا شعلہ بنا ہاسپٹل میں داخل ہوا تھا۔ جو یوں لگتا تھا ساری دنیا کو جلا کر بھسم کر دے گا۔۔ لال انگارا چہرہ اور آنکھیں، انگ انگ سے پھوٹتی بے چینی۔
ان سب نے اسے دور سے اپنی جانب آتے دیکھا۔۔

ابھی تک جبران یا ایشان نے کوئی تسلی بخش بات نہیں بولی تھی بس نگاہیں چرائے ادھر سے ادھر بھاگتے پھر رہے تھے۔
ماہر وہاں پہنچا تو روحا نے اسے سینے سے لگایا۔۔ اور بے تحاشا رو دی۔۔ پھر سب نے ایک حیرت انگیز نظارا دیکھا۔ اس گرین مونسٹر جو روتے دیکھا سب نے تو روحا جو ماں ہو کر چاہتی تھی کہ اس کے بے حس بیٹے میں جزبات پیدا ہوجائیں۔ اب اس کے اس طرح رونے سے بہت روئی تھی۔۔

“ہمیں معاف کر دو بچے،، روحا نے اس کا منہ دیوانہ وار چوما۔ ہم تمھاری بیوی اور بچے کی حفاظت نہیں کر پائے،، روحا نے کہا تو وہ بے تحاشا چونکا اور اپنے ڈیڈ کی جانب دیکھا پھر ایک شکوہ کناں نگاہ رحاب پر ڈالی تو وہ بھی نگاہیں چرا گئی تھی۔۔
تبھی جبران آئی سی یو سے باہر آیا تھا جو اپنی نگرانی میں رواحہ کا علاج کروانا چاہتا تھا اور باہر اس شخص کو کھڑے دیکھ ٹھٹھک گیا جسے یہ خبر سنانے جا رہا تھا کہ اس کا بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی ماں کی کوکھ میں مار دیا گیا تھا۔

جبران نے نگاہیں چرائیں،، ماہر سوہم خان اس کی جانب بڑھا تھا اور اس کے روبرو کھڑا ہو کر اپنی سبز نگاہیں جبران کی نگاہوں میں گاڑھی تھیں۔۔
جبران کیا ہوا ہے؟ اس نے نم آنکھیں لیے مگر اس قدر سنجیدگی سے پوچھا کے جبران کے بھی رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔
“زہر پوری باڈی میں پھیل چکا تھا،، ہم بےبی کو نہیں بچا پائے،، یہ بولتے ہی جبران کی زبان تالو سے چپکی تھی۔۔
ایک سرسری نگاہ اپنی ماما کے پاس کھڑی مفرا پر ڈالی۔
اور،، اور ،،،،،وہ،،، اس گرین مونسٹر کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ پیچھے روحا کی آہوں اور سسکیوں میں اضافہ ہوا تھا۔
بھابھی بھی ابھی خطرے سے باہر نہیں ہیں،، یہ کہہ کر جبران رکا نہیں تھا واپس آئی سی یو میں جا چکا تھا۔۔

وہ ٹوٹ کر بکھر کر گھٹنوں کے بل ہاسپٹل کے ٹھنڈے فرش پر گرتا چلا گیا تھا۔۔ سوہم خان نے لپک کر بیٹے کو سینے میں بھینچا تھا جو ضبط کے کڑے مرحلے سے گزرتا ہوئے بھی رو رہا تھا۔ باپ بننے کہ خبر ملی بھی تو کیسے؟ جب اس معصوم جان کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔۔ سوہم نے اسے اٹھا کر صوفے پر بٹھایا تھا۔

تقریباً تین گھنٹے کے صبر آزما وقت کے بعد ایشان نے یہ نوید سنائی تھی کہ اب وہ خطرے سے باہر ہے تو ماہر کھل کر سانس لے پایا تھا۔ مگر ایک پھانس سی تھی جو سینے میں اٹکی تھی۔ ایک غم وغصے کا طوفان،، اشتعال کا سمندر جو جانے کتنی تباہی لانے والا تھا۔۔

رحاب اور زمل تو گھن چکر بنی ہوئیں تھیں،، کبھی رواحہ کی فکر تو کبھی فجر کے پاس چلی جاتیں۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ادھر فجر کی مشکل آسان ہوئی تھی جب کچھ گھنٹوں بعد سسٹر نے آ کر بیٹا ہونے کی نوید سنائی تھی۔ ماہ بیر نے وہیں ہاسپٹل میں ہی خدا کو سجدہ شکر ادا کیا تھا۔۔
کیا خوشیاں مناتے اور کیا نہیں،،کہیں ایک نئی زندگی کا آغاز، ہوا تھا تو کہیں امید کی کرن چھین لی گئی تھی۔۔
مگر ان سب نے اپنے ظرف بلند کرتے ماہ بیر کی خوشی میں بے حد خوشی کا اظہار ہی کیا تھا۔۔ کیونکہ اب رواحہ خطرے سے باہر تھی تو سب کی سانس میں سانس آئی تھی۔۔

کچھ دیر بعد ہی فجر کو روم میں شفٹ کر دیا گیا۔۔ سب سے پہلے جبران نے ملاقات کی اجازت دی تو وہی دھیمے قدموں سے چلتا اندر روم میں اس کے سرہانے آ کر بیٹھا تھا۔۔ وہ نیم جان سی اب سکون سے آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔ مگر اپنے ماتھے پر سلگتا لمس محسوس کر کے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ مگر اسے خود پر جھکے دیکھ ایک مرتبہ پھر رخ موڑنا چاہا جب ماہ بیر نے تڑپ کر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما۔
ہیے نہیں کرو جان،، یار مجبور تھا،، بہت مجبور،، سمجھو مجھے،، جانتا ہوں تم نے بہت تکلیف کاٹی مگر میں کونسا سکون میں تھا میری جان،، ماہ بیر کے ہر لفظ کے ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔۔

مگر ابھی وہ اتنی نڈھال تھی کہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھی جیسے ،،،تبھی پھر غنودگی میں چلی گئی تھی۔۔ ماہ بیر نے اس کی حالت دیکھ کر بےدردی سے اپنے لب کاٹے۔ مگر پاس پڑے کاٹ پر نگاہ پڑتے ہی وہ جیسے دنیا بھول گیا تھا۔۔ فیروزی کمبل میں لپٹے اس گلابی ننھے سے وجود نے اس کی تمام توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔۔ جو ماں کی طرح ہی نڈھال سا گہری نیند میں تھا۔ ماہ بیر کاٹ کے پاس آیا اور ڈرتے ڈرتے شہادت کی انگلی سے اس گلابی سے وجود کی گال کو چھوا۔۔
تبھی سب اندر داخل ہوئے تھے۔۔ اور پرشوق سے بےبی میں گم ہو گئے۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ کوریڈور میں بینچ پر سر جھکائے بیٹھی تھی جب ایشان کسی کام سے باہر آیا۔ اور اتنے دن بعد اسے اپنے سامنے پا کر بہت بے اختیار ہو گیا۔۔ اس کے بے حد قریب آ کر بہت گہری نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔ جو اب تخلیق کے مرحلے سے گزرتی ایک نئے روپ کے ساتھ اس کے سامنے تھی۔۔
گہری سوچ سے نکل کر آروشے نے اپنے پاس کسی کو کھڑے پایا تو سر اٹھا کر سرسری نگاہوں سے پاس کھڑے شخص کو دیکھا۔ مگر ایشان کو دیکھ کر فورا اپنی سابقہ پوزیشن میں واپس چلی گئی ۔
ایشان کے لبوں پر ایک جان لیوا مسکراہٹ رینگی۔
کیسی ہو؟ ایشان اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ مگر وہ یوں بت بنی بیٹھی تھی جیسے کہنا چاہتی ہو میرے منہ مت لگیں۔
جب کافی دیر جواب نا ملا تو ایشان نے ایک سرد سی سانس خارج کی۔۔
ناراض ہو؟ ایشان نے پوچھا۔ مگر وہ اب اٹھ کر تیزی سے فجر کے روم کی جانب بڑھ چکی تھی۔۔اس کی تیزی اور لاپروائی دیکھ ایشان کے ماتھے پر بل آئے تھے۔۔ مگر برداشت کر گیا۔۔ اب اس سب کے وہی تو زمہ دار تھے تو ان کو ہی ٹھیک کرنا تھا سب،،

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓