No Download Link
Rate this Novel
Episode 47
منیر چیمہ،، منسٹر اور رستم اپنی ہونے والی ہار برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔۔ کتوں کی دم پر پیر آیا تھا سکون سے کیسے بیٹھتے۔۔ سر پر لٹکتی ہار کی تلوار نے سینے میں سانس اٹکا رکھی تھی۔۔ برسوں کی بنائی ساکھ و عزت اور حرام کی کمائی گئی دولت داؤ پر لگی تھی۔۔
اب بھی وہ منیر چیمہ کے فارم ہاؤس پر بیٹھے ایک بہت بڑی سازش ترتیب دے رہے تھے کہ کیسے دشمن کی کوئی کمزوری ہاتھ لگے اور وہ انھیں مات دیں۔۔
رستم کی جو درگت اس گرین مونسٹر نے بنائی تھی۔ وہ تب سے سکون سے نہیں بیٹھا تھا۔۔ اپنی تمام تر طاقت استعمال کر کے ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر وہ اب چندہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔
تبھی انھوںنے ماہ بیر کے ساتھ دیکھے جانے والے اس کے خاص الخاص آدمی وسیع کو نشانہ بنایا تھا۔۔
آخری سنوائی کے بعد کافی عرصے تک وہ وسیع کو نشانے پر رکھے ہوئے تھے۔
جانتے تھے ان کے آدمی ہیں تو وفادار ہوں گے وہ اس طرح انھیں نہیں توڑ سکتے تھے اور وسیع کو اٹھاتے تو جلادوں کو خبر مل جاتی اور وہ الرٹ ہو جاتے تبھی انھوںنے وسیع کی پوری ڈیٹیلز نکال کر وسیع کے گھر والوں کو اپنا نشانہ بنایا تھا۔۔ انھیں اغوا کر کے یر غمال بنایا ۔۔ اور اب وہ وسیع کے زریعے ایک بہت بڑی سازش سر انجام دینے والے تھے۔۔
تبھی رستم کراچی کے لئے روانہ ہوا تھا آخر اتنے برسوں بعد جس چیز کو حاصل کرنے کے لئے وہ پاگل تھا اس کی دسترس میں آنے والی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ماہ بیر، ایشان اور جبران کا دل تو تھا کہ اڑ کر وائٹ پیلس پہنچ جاتے خاص کر ماہ بیر جب وہ جانتا تھا کہ وہ نازک جان کس قدر نازک مرحلے سے گزرتی حساس ترین وقت کے قریب پہنچ چکی ہے ۔اسے اس وقت سب سے زیادہ ماہ بیر کی ضرورت ہے مگر ایسا کچھ کر نہیں سکے۔۔مجبور تھے۔۔ بلکہ اس سب کے بعد تو ان سب کا دل تھا کہ فورا سے پہلے اپنی پریوں کے پاس پہنچ جائیں مگر ابھی کچھ اور امتحان باقی تھے۔۔
پاشا نے ماہ بیر کو ایک اور ٹاسک سونپ دیا تھا۔۔ جب اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔
وہ جو کیس کے بعد برآمد کیے گئے اسلحہ اور حساس ہتھیار حکومت کے سپرد کرنا چاہتے تھے۔ دشمن سر توڑ کوشش کر رہا تھا اسے ڈھونڈ کر واپس حاصل کر کے اپنی طاقت کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ۔اور تقریباً مال تک پہنچ بھی جاتے مگر پازا نے ماہ بیر جبران ،ایشان کو سوہم خان کے ساتھ اس کی حفاظت کے لئے اس مقام تک پہنچنے کا آرڈر دے دیا تھا۔۔
وہ چپ چاپ راضی ہو گئے تھے۔ اب انھیں سوہم خان کے ساتھ اسی رات کے اندھیرے میں کراچی کے لئے نکلنا تھا۔مگر وائٹ پیلس جانے کے لئے نہیں اپنا ٹاسک پورا کرنے کے لئے جو پاشا نے میجر عاصم کے کہنے پر اور ہیڈ کوارٹرز سے اشارہ ملنے پر مال کی منتقلی کا انھیں سونپا تھا۔۔
وہ فورا کراچی کے لئے روانہ ہوئے تھے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وسیع کی بہنیں ان جانوروں کے قبضے میں تھیں۔۔جو وقتا فوقتا ان کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کی ویڈیوز بنا کر اسے سینڈ کر رہے تھے تبھی وہ اپنے مسیحاؤں سے غداری کرنے پر راضی ہو گیا تھا ۔۔کرتا بھی کیا مجبور کر دیا گیا تھا۔۔ بہنوں کی عزت داؤ پر لگی ہو تو بھائی اپنی گردنیں سر اٹھا کر کٹوانے کو راضی ہو جائیں یہ تو پھر اسے اپنے مسیحاؤں سے غداری ہی کرنی تھی ناں۔۔
تبھی رستم کے کہنے پر اس نے رواحہ کا نمبر لا کر رستم کو دیا تھا۔۔
وہ اپنی اتنی سی فتح پہ ہی پھولا نہیں سما رہا تھا۔۔ تبھی اس نے رواحہ کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آج وائٹ پیلس میں صبح معمول کی طرح طلوع ہوئی تھی مگر کون جانتا تھا کہ یہ صبح اپنے سینے میں بے شمار طوفان اور دل دہلا دینے والے حادثے لے کر طلوع ہوئی ہے۔۔
رواحہ اپنے کمرے میں لیٹی کل رات کی کار گزاری سوچ رہی تھی اور شرم سے دوہری ہو رہی تھی۔۔ اتنا عرصہ ہو گیا تھا اس ظالم دشمن جاں کو اس سے دور گئے کہ اب تو اس نے دن ورات کا شمار کرنا اور یاد رکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔۔
اب تو اس کی قربت،، اس کا جادوئی لمس بھی بھول گئی تھی۔۔ خود کو فجر میں اور آروشے میں الجھائے رکھتی۔۔فجر کی جانب سے زیادہ دل پریشان تھا۔ اب جب اس کے پورے دن چل رہے تھے جب اس کو ماہ بیر کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو وہ جانے کن جھمیلوں میں پھنسا تھا کہ مڑ کر اپنی بیوی اور ہونے والے بچے کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔۔
رواحہ خود کو فجر کی جگہ رکھ کر سوچتی تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے وہ بھی تو ممتا کی دہلیز پر قدم رکھتی تین ماہ پار کر چکی تھی۔ صرف وائٹ پیلس میں سب کو معلوم تھا مگر اس نے انھیں بتانے سے منع کرتے ہوئے قسم دی تھی کہ کوئی اس ظالم جادوگر تک یہ بات نہیں پہنچائے گا کہ رواحہ نے یہ سزا خود اس کے لئے تجویز کی تھی۔۔اب وہ گرین مونسٹر اپنی مارش میلو سے اتنی دور تھا تو اتنی بڑی خوش، خبری سے بھی دور رہے۔
وہ گہری سوچ میں غلطاں تھیں کہ چنگھاڑتے فون نے اس کہ توجہ اپنی جانب مبزول کروائی۔۔
اسے عجیب لگا کیونکہ پہلی دفعہ اسے کسی ان ناؤن نمبر سے کال آ رہی تھی تبھی اگنور کر گئی۔۔
مگر وقتا فوقتا بجتی بیل نے اچھا خاصا اس کی سوچوں میں خلل پیدا کر رکھا تھا۔۔ تبھی اس نے اکتا کر فون اٹھایا۔۔یہ سوچ کر کے شاید اسی دشمنِ جاں کی آواز سننے کو مل جائے۔۔
ہیلو،، اگر آپ ہیں تو مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی،، وہ تڑخ کر بولی۔
نہیں چندا بائی،، وہ نہیں رستم ہے ،، ہیں کچھ پرانے عاشق بھی جن کو بھولتی نہیں ہو تم،، جو تمھیں بھول ہی نہیں سکتے،، ہاں مگر تم بھول گئی ہو ناں تو تمھاری یاداشت واپس لانے کا انتظام کیا ہے ہم نے،،
سرسراتا لہجہ تھا،، ہوبہو رستم کے جیسا مگر آواز اس کی نہیں تھی۔۔ ہو بھی کیسے سکتا تھا۔۔ ایک جلاد نے اسے چندا بائی بولنے کے قابل ہی کہاں چھوڑا تھا۔۔
رواحہ کا چہرہ خوف کے مارے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔ہوش و حواس سلب ہونے لگے۔۔
کک کون،،؟ رر،،، رس،، رستم،، وہ سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی۔ بھروسہ چھناکے سے ٹوٹا تھا کہ اتنی سکیورٹی میں وہ اس کے نمبر تک کیسے پہنچا تھا۔
رستم نہیں ،،رستم کا بہت خاص،، مگر پیغام اس کا ہی سمجھ لو،،
رواحہ فون رکھنے لگی جب۔
فون رکھنے کی گستاخی مت کرنا چندا بائی۔۔نہیں تو تمھاری ایک چھوٹی سی غلطی وائٹ پیلس میں موجود ان ساری عورتوں کی جان و عزت داؤ پر لگا دے گی جو اس وقت تمھارے آس پاس موجود ہیں،، ایک تو بچہ پیدا کرنے والی ہے ناں،، سب معلوم ہے ہمیں اور تم تک پہنچنا اتنا ہی آسان،، شاید جانتی نہیں پہلے بھی اس محل کو بم سے اڑا کر ان کے سر کچل چکے ہیں ہم،، اور اب بھی اتنا ہی آسان ہے،، ساری عورتوں کو بالوں سے گھسیٹ کر،، بے عزت کر کے لے جائیں گے ہم اور وہ ہیجڑے بھی کچھ نہیں کر پائیں گے،،
وہ جو کوئی بھی تھا بہت بری طرح اسے اپنی باتوں کے ٹریپ میں پھانستا چلا جا رہا تھا جبکہ رواحہ نہیں جانتی تھی کہ وائٹ پیلس کو ڈھونڈنا یا اس پر حملہ کرنا ان بزدلوں کے بس کی بات ہو ہی نہیں سکتی تھی۔۔
کیونکہ سمیع تک کو درست ایڈریس نہیں معلوم تھا۔
رواحہ کی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔۔ تبھی کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی جیسے مفقود ہو چکی تھی۔۔
سنو چندا بائی فون رکھے بغیر جو بول رہا ہوں کرتی جاؤ،، اگر باقی عورتوں کی سلامتی چاہتی ہو تو ابھی کہ ابھی اٹھو اور باہر نکلو،، جتنے بھی پہرے ہیں یہی کہہ کر نکلو گی باہر کہ اس ڈی آئی جی کی بیٹی سے ملنے جا رہی ہو سمجھی،،
وہ ادھر سے دھاڑا۔اور رواحہ کو سب کا بتا چکا تھا کہ کون کس کی بیوی ہے اور اس وقت وائٹ پیلس میں ہی موجود ہے ۔۔جبکہ مفرا کا بھی بتایا کہ وہ اس وقت کالج میں ہے تو وہ اگر باہر نا نکلی تو اسے کالج سے ہی اٹھا لیں گے۔۔
تو رواحہ روح تک کانپ اٹھی تھی۔۔
کیا کرتی؟ کیا نہیں؟ کاش وہ یہاں ہوتے تو یہ نوبت نا آتی۔شدید بے بسی کے احساس سے تواتر سے انکھوں سے آنسو بہے،،
مگر وہ بھی سب بھلا کر باقی خواتین کا سوچ کر چپکے سے باہر نکلی۔۔ میرون فراک کے نیچے میرون ٹراؤزر پہنے اس نے شال کندھوں پر اوڑھی اپنے پرانے بیگ میں سے ایک ڈبیہ نکال کر دوپٹے کے پلو سے باندھ لی،، جو وہ اکثر یہ سوچ کر پہلے بھی اپنے پاس، رکھتی تھی کہ اگر وہ درندہ اس کے پاس بھی بھٹکے گا تو وہ اس ڈبی میں سے زہر پھانک لے گی۔۔
اور کمرے پر ایک الواداعی نگاہ دوڑائی اور کمرے سے چپکے سے کسی خاتون نگاہوں میں آئے بغیر نکلتی چلی گئی۔۔
تب سامنے سے منی آتی نظر آئی اور اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی۔۔
مارش میلو کیا ہوا؟ کدھر جا رہی ہو؟ منی کو اس کا سفید چہرہ دیکھ تعجب ہوا۔۔
موبائل وہ شال میں چھپا چکی تھی۔۔
منی،، مم،، میری طبیعت خراب ہے مجھے دودھ لا دو کچن سے میں نے میڈیسن لینی ہے،، وہ نم آنکھوں سے بولی تو منی لپک کر کچن کی جانب گئی۔۔
فون پر مسلسل وہ بول کر اسے سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں دے رہا تھا۔۔
رواحہ بڑی آسانی سے وائٹ پیلس کی دہلیز پار کر گئی تھی۔ ہاں اس نے ایک مرتبہ بھی اس شخص کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ جس کی سانسوں میں وہ بسی تھی۔۔ جس کی ہونے سے اس کی سانس چلتی تھی۔۔ جس کا بچہ اس کی کوکھ میں پل رہا تھا۔
ایک مرتبہ اپنے پیٹ کی جانب دیکھا اور ناک کی سیدھ میں چلتی گئی ایک ہاتھ کی مٹھی میں ایک بہت چھوٹی سی ڈبیہ تھی جسے چپکے سے اس نے اپنے دوپٹہ کے پلو سے باندھ لیا تھا۔ یہ ایک زہر کی ڈبیہ تھی یقینا اگر وہ درندہ اس کی عصمت دری کا ارادہ رکھتا تھا تو وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر نے والی تھی۔۔
وہ تو اس کی امانت تھی اس کی محبت،، ماہر سوہم خان کا عشق رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا تھا۔ اس کی عزت و عصمت کا وہ محافظ تھا، مالک تھا۔مگر
ہاں ایک مرتبہ پھر وہ اس پر بھروسہ نہیں کر پائی تھی اس کے اعتبار اعتماد کی دھچیاں اڑاتی وہ وائٹ پیلس کراس کر گئی۔
رواحہ کو ماہر پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے سب کچھ بتانا چاہیے تھا مگر،،،
وہ کافی ساری گلیاں چل کر مطلوبہ جگہ پہنچ چکی تھی۔ سامنے ہی ایک وائٹ کلر کی گاڑی نظر آئی۔۔ جس کے باہر ایک دیو قامت بندہ کھڑا اسے درندوں کی طرح گھور رہا تھا۔
اس نے رواحہ کا بازو دبوچ اسے گاڑی میں دھکیلا۔۔
رواحہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔ گاڑی چلتی رہی۔۔
دو تین گھنٹوں بعد جھٹکے سے گاڑی ایک سنسنان ویران عمارت کے پورچ میں رکی تھی۔۔ تب رواحہ نے دوپٹہ سے بندھی ڈبیہ کھول کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی۔۔
وہ گاڑی سے لرزتی کانپتی اتری تو بلکل سامنے ہی وہ درندہ صفت انسان بھوکی کمینی نگاہوں سے استہزیہ سی ہنسی ہنس کر اسے گھور رہا تھا۔
رواحہ کے قدم وہیں جم گئے۔۔مگر ہاتھ میں تھاما فون وہیں گاڑی میں گر چکا تھا۔۔۔تب رستم اس کی جانب لپکا تھا اور اسے بازو سے دبوچ کر اندر کھینچنے لگا۔۔
وہ مچلی تڑپی روئی،، چھوڑو مجھے ،،حلق کے بل چلائی۔۔مگر آج شاید اس کی سننے والا کوئی نہیں تھا۔۔
رستم اسے گھسیٹ کر اندر طویل راہداریوں سے گزرتا ایک اندھیرے والے کمرے میں لایا تھا۔۔ اور لا کر بےدردی سے بیڈ پر پٹخا۔۔ وہ تو یہ وار رواحہ نے بیڈ پر ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔۔
رستم کا دل کر رہا تھا اس کی چمڑی ادھیڑ دے مگر ابھی منیر سے بات کیے بغیر اسے کوئی قدم نہیں اٹھانا تھا تبھی وہ اس بلکتے وجود کو خونخوار نگاہوں سے گھورتا باہر کی جانب بڑھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
منی جو سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتی تھی رواحہ کا جان بوجھ کر دیا گیا کام یعنی دودھ لے کر اس کے پاس آئی تھی۔ تب خالی کمرہ اس کا منہ چڑھا رہا تھا۔۔ ادے حیرت ہوئی ۔ تب منی نے وائٹ پیلس کا کونا کونا چھان مارا تھا مگر وہ کہیں نا ملی تو اس کے ہاتھ پیر پھول گئے۔۔
فورا باہر جا کر گارڈز سے تفتیش کی مگر وہ شاید پچھلی جانب سے گیٹ کراس کر کے گئی تھی جو سامنے والے گارڈز کو کچھ علم نہیں تھا۔
وہ پچھلی جانب لپکی تو گارڈ نے کہا۔
میڈم نے سختی سے کہا تھا کہ میرا حکم ہے دروازہ کھولو تبھی کھولا تھا،،
بے وقوفو،، گدھو،، وہ ہری بلا تمھارا کیا حشر کرے گا جانتے ہو ناں کسی کام کے نہیں،، منی نے دانت پیس کر کہا اور فورا ماہر کو فون لگایا۔۔
یہ ایمرجنسی بیل تھی جو دوسرے بیل پر رسیو کر لی گئی۔۔
کیا ہوا منیب؟ ماہر کا سرسراتا لہجہ وہ تو رات سے ہی بے چین سا تھا ماہی بے آب کی طرح تڑپتا جیسے لاشعور میں یا چھٹی حس کسی آنے والے خطرے کا بتاتی ہو کہ کچھ بہت ہی برا ہونے والا ہے ۔ ماہر کے انگ انگ سے بے چینی پھوٹی۔۔
وہ،، مم،، مارش، میلو،، وہ وائٹ پیلس میں نہیں ہے،، منی بمشکل ہی بول پائی۔
واٹ،، وہ دھاڑا،، تم ہوش میں ہو منیب،، یہ کیا بول رہے ہو؟ تم جانتے ہو ناں میں اسے تمھارے زمہ داری میں سونپ کر آیا تھا،، تمھاری حوالے کر کے،، وہ دھاڑا تو پاشا، آریان اور کبیر اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔
وہ مجھے نہیں پتا کیسے مگر خود چل کر وائٹ پیلس سے باہر گئی ہے مجھے بھی کچن میں بھیج دیا اس نے،، منی شدید گھبرائی ہوئی تھی دل کہا دھاڑیں مار مار کر روئے۔
مگر دوسری جانب سے فون رکھ دیا گیا تھا۔
پاشا اس کی لال انگارا آنکھیں اور تنی رگیں دیکھ سمجھ گیا کہ بہت کچھ برا ہو چکا ہے۔۔
کیا ہوا ماہر سوہم خان؟
روح وائٹ پیلس میں نہیں ہے ڈیڈ،، جس کا مطلب سمجھتے ہیں آپ،، وہ اپنی کنپٹیاں سہلاتا اپنے روم کی جانب بھاگا۔ وہ سب اسکے پیچھے آئے۔
اس کا مطلب کے دشمن اپنا وار کر چکا ہے،، پاشا کے اعصاب پر کسی نے ہتھوڑے برسائے تھے جیسے،،
وہ تیزی سے اپنی چیزیں سمیٹ رہا تھا۔ روم روم سے بے چینی اور بے سکونی، تڑپ زہنی انتشار چھلک رہا تھا۔
تم چاہو بھی تو وقت پر وہاں نہیں پہنچ پاؤ گے ماہر،، پیشنس رکھو،، پاشا نے کہا تو اس نے لال انگارا بھیگی شکایتی نگاہوں سے پاشا کو دیکھا۔
نہیں رکھ سکتا پیشنس ڈیڈ میں مر جاؤنگا،، اس نے اپنے بال مٹھیوں میں تھا۔۔
اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس گرین مونسٹر کی دگرگوں حالت دیکھ سب کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔
تبھی پاشا کا فون رنگ ہوا تھا۔۔منیر چیمہ کا تھا۔۔ یقینا وہ اپنا کارنامہ سنانے کو کتے کی طرح فون میں بھونکنے والا تھا مگر سامنے پاشا تھا۔۔ اس نے فون نہیں اٹھایا تھا۔ تاکہ وہ وقت سے پہلے کچھ بھی کرنے سے باز رہیں۔۔ پاشا نے ماہ بیر کو فون ملایا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
روحا نے رو رو کر وائٹ پیلس سر پر اٹھا لیا تھا تب اس کا فون رنگ ہوا۔۔سوہم خان کا تھا۔ اس نے پہلی بیل پر جھپٹ کر فون اٹھا لیا۔
سوہم خان،، وہ بول کر بلک بلک کر رو دی۔ سوہم خان جس کو پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی۔ اب تنی رگوں سے فون پر اس کی سسکیاں سن رہا تھا وہ جو رات ہی ادھر پہنچ چکے تھے اب اپنی جگہ سے وائٹ پیلس کی جانب آ رہے تھے۔ منی ان کے ساتھ تھی۔کیونکہ ماہر کے فون رکھنے کے بعد اس نے ڈائریکٹ سوہم خان سے بات کی تھی۔۔
روحا رونا بند کرو اور مجھے تفصیل بتاؤ،، سوہم نے، گاڑی میں بیٹھے ماہ بیر، ایشان اور جبران کو مخصوص اشارہ کیا تو وہ لیپ ٹاپ کھولے اپنے کام میں مگن ہو گئے۔
سوہم خان وہ ہم اہنے کمرے میں تھے تو،،، روحا نے رو رو کر منی کی دی گئی انفارمیشن اسے سنائی۔ وہ شفا سے ملنے کا بول کر گھر سے نکلی ہے،، سوہم خان، وہ،، وہ،، ماں بننے والی ہے،،
یہ بول کر روحا پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔ سوہم خان یہ بات سن کر بے تحاشا چونکا اور بے چین سا ہوا۔
اور یہ بات تم مجھے اب بتا رہی ہو روحا،، کس حق سے اور کس جرات سے تم لوگوں نے یہ بات ہم سے چھپا رکھی تھی،، سوہم خان دھاڑا۔۔
ہمیں معاف کر دیں سوہم خان،، ہم اپنی بہو کی حفاظت نہیں کر پائے،، وہ بلکی مگر سوہم ناراضگی سے فون رکھ چکا تھا۔۔
اور پیچھے مڑ کر ان سے مخاطب ہوا۔۔
وائٹ پیلس کے آس پاس کے تمام سی سی ٹی وی کیمرے چیک کرو،، دور دور تک لگائے گئے ہیں،، یقینا کچھ نا کچھ کلو مل جائے گا۔۔ سوہم پر امید تھا۔۔
بہت جلد انھیں مختلف کیمروں میں رواحہ چلتی دکھائی دی۔۔ جو روتی آنسو صاف کرتی فون کان سے لگائے بس چلے جا رہی تھی۔۔ تب یہ لوگ وہ گاڑی بھی دیکھ چکے تھے۔۔جس میں اسے زبردستی پھینکا گیا تھا۔۔
اتنی دیر میں ان سب کے فونز میں رواحہ کے فون کی ریکارڈنگز اور لوکیشن بھی سینڈ کر دی گئی تھی۔۔
فتح کے نشے میں چور بے وقوف دشمن شاید اس بات پر غور نہیں کر پائے کہ رواحہ کے ہاتھ میں اس کا موبائل ہے۔
انھیں تو بس جلادوں کی کوئی کمزوری چاہیے تھی جو حاصل کر کی وہ خود کو تیس مار خاں سمجھ بیٹھے تھے۔۔مگر نہیں جانتے تھے کن سے الجھ بیٹھے ہیں۔۔
تبھی ماہ بیر کا فون رنگ ہوا جو اس نے اٹھا کر کان سے لگایا تھا۔ پبلک بوتھ کا نمبر تھا جو کبھی کبھی وسیع کوئی ضروری انفارمیشن دینے کے لئے استعمال کیا کرتا تھا۔ اس نے فورا رسیو کر کے کان کو لگایا۔
سر مجھے معاف کر دیں،، یہ ساری انفارمیشن میں نے دشمنوں تک پہنچائی کیونکہ،، وہ ساری تفصیلات اسے سناتا چلا گیا بڑی مشکل سے دشمن جو اپنی دانست میں اپنا کام کر چکے تھے اب کوئی رکاوٹ انھیں نہیں روک سکتی تھی،، وسیع انھیں ڈاج دے کر فون بوتھ تک پہنچا تھا۔۔ ماہ بیر کو ساری بات بتا کر اس نے یہ بولا،، سر مجھے یقین ہے آپ میری بہنوں کو اپنی بہنیں سمجھ کر آزاد کروا لیں گے،،
وسیع،، ہم مل کر انھیں بچائیں گے،، اپنی کنپٹی سے گن ہٹاؤ،، یہ میرا آرڈر ہے،، بزدلوں کی طرح پیٹھ مت دکھاؤ،، مل کر دشمن کا سامنا کرنا ہے،، لڑتے ہوئے مرنا تو بہنوں کو فخر بھی ہوگا تم پر،، اس طرح بزدلوں کی طرح خود کو مارو گے تو ماں دودھ بھی نہیں بخشے گی تمھیں،، سمجھے،، اب جو لوکیشن بھیج رہا ہوں ادھر پہنچو فورا،، یقینا بہنیں بھی ادھر ہی ہوں گی،،،
ماہ بیر جو اس فون بوتھ کا کیمرا آن کر چکا تھا وسیع کو اپنی کنپٹی کی جانب گن لے جاتے بے تحاشا چونکا تھا۔
یقینا وہ ایسا ان سے غداری کرنے کی گلٹ میں کرنا چاہتا تھا مگر ماہ بیر نے بہت سمجھداری سے اسے روک دیا تھا۔جب اس کا ہاتھ شاخ کی طرح نیچے جھولتا دیکھا۔
ماہ بیر کی باتوں نے ایک نیا جوش و جزبہ بھر دیا تھا سمیع کے اندر،، تبھی وہ ایک نئے عزم و حوصلے سے فون اپنے ہاتھ میں پکڑے فون بوتھ سے باہر نکل کر ایک جانب بڑھا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
