No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
ہلکی سے دستک دے کر کامران حسن شفا کے روم میں داخل ہوئے تھے۔۔ وہ جو ابھی ابھی اٹھ کر انگڑائیاں لے رہی تھی انھیں دیکھ بلکل سیدھی ہو گئی۔
کامران اندر آئے اور اسے دیکھ کر حیران ہوئے۔۔
ارے یہ کیا بناتی رہی ہو اپنی گال پہ شفا،،، کامران حسن مسکرائے۔
کیا پاپا؟ وہ حیران ہوئی۔
آئینے میں دیکھو،، کامران حسن پھر گہرا مسکرائے اور یقینا وہ داماد صاحب کی شرارت سمجھ چکے تھے۔کیونکہ ان کے گھر میں گھسنے کی جرات پاشا ابراہیم کا بیٹا ہی کر سکتا تھا۔
شفا اٹھ کر ڈریسنگ تک آئی۔ اور اپنی گال پر بنی فاقے زدہ چھپکلی دیکھ بھونچکا رہ گئی۔۔
“وہ پاپا،، یہ میں نے ویسے ہی بنا دی،، رات سٹڈی کرتے ہوئے نیند آ گئی تھی تو سوچا نیند بھگا لوں،، شفا جھوٹ بولتے ہوئے گھگھیا ہی تو گئی۔۔اور ٹشو سے گال رگڑ کر وہ نشان صاف کرنے لگی۔۔ دل میں دانت کچکچائے۔۔کاش ابھی جا کہ اس کی گال پر یہ پینٹگ کے جوہر دکھانے والے کا گلا دبا سکتی۔۔
کوئی بات نہیں ہو جاتا ہے،، کامران حسن نے نیچے منہ کیا اور گہرا مسکرائے۔۔
میں تو تمھیں بریک فاسٹ کے لئے اٹھانے آیا تھا ،، فٹا فٹ آ جاؤ باہر اب،، کامران کہتے باہر نکل گئے۔۔
پیچھے وہ دانت کچکچاتی موبائل فون کی جانب لپکی۔ فون اٹھایا ابھی نمبر ڈائل کرتی کہ واٹس ایپ نوٹیفکیشن پر نظر پڑھی۔ویڈیو میسج تھا۔ جو اسی دشمن اول نے سینڈ کیا تھا۔۔
اوپن کر کہ دیکھا۔
افففففففففف آنکھیں باہر کو ابل پڑیں تھیں۔۔ نکاح کے ڈریس میں وہ کیا کیا کر رہی تھی۔۔ یہ کیا تھا؟ کیسے ہوا؟ کچھ خبر نہیں تھی۔
اب یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد اس نے بڑی شرافت سے فون ایک سائیڈ رکھ دیا تھا۔ اب اس جن کے کون منہ لگتا جو یقینا اس ویڈیو کو لے کر اس کی مٹی پلید کرنے والا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
دشمن بڑے اطمینان سے اپنا کام پورا کر کے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔
جلادوں کی گواہ اور ثبوت لے کر جانے والی گاڑی کو بم سے اڑا دیا گیا تھا۔۔ منیر چیمہ کے آدمیوں نے چلتی گاڑیوں کا تعاقب کر کے ان پر بم گرا دئیے تھے اب وہ اطمینان سے منیر چیمہ اور کھرل کو اپنے کامیاب ہو جانے کی نوید سنا رہے تھے۔۔
منیر چیمہ نے اطمینان سے موبائل پاکٹ میں رکھا۔ اور وہ دونوں کمرہ عدالت کی جانب اطمینان سے بڑھے۔
اندر پاشا ،سوہم ،کبیر اور ماہ بیر اطمینان سے بیٹھے تھے۔جنھیں منیر چیمہ اور کھرل دیکھ کر استہزیہ ہنسے تھے۔۔
عدالت کی کاروائی شروع ہوئی۔ دونوں طرف کے ہی وکلاء نے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی جیسے۔۔
پھر جب چیف جسٹس صاحب نے عدالت میں گواہ اور ثبوت پیش کرنے پر استفسار کیا تو منیر چیمہ اور کھرل نے کن اکھیوں سے ان کے چہرے دیکھے۔۔
مگر جب کمرہ عدالت میں ایشان اور ماہر سوہم خان میجر عاصم اور ہاتھوں میں پکڑی فائلز کے ساتھ داخل ہوئے تو منیر چیمہ اور منسٹر کھرل کے سفید پڑتے چہرے دیکھنے لائق تھے۔۔
جب وہ اپنے اپارٹمنٹ میں سے گواہ اور ثبوت لے کر نکلے تھے۔ تب راستے میں انڈر پاسز سے گزرتے ان کی گاڑیاں چینج کر دی گئیں تھیں وہ
Executioners
تھے۔۔پاشا ابراہیم نے اتنی بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں تھیں کہ اپنے بچوں کو تھالی میں ڈال کر دشمنوں کے سامنے پیش کر دیتے۔
تبھی جن گاڑیوں کو بم سے اڑایا گیا تھا ان میں منیر چیمہ کا ہی خاص آدمی جمی تھا۔ ان سب گاڑیوں میں انھیں کے کتے تھے جنھیں باندھ کر گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا۔۔ جو عبرتناک موت مر چکے تھے۔۔
اب جب میجر کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئیں تھیں۔۔ ماہ بیر نے دشمنوں کے تمام الزامات کے بخیے ادھیڑ دئیے تھے۔تمام گواہ اور ثبوت ان کے حق میں تھے۔
یہ لڑائی اپنی عزت نفس کی بحالی اور قوم سے وفاداری ثابت کرنے کی تھی۔۔جو وہ اسکیلپل یا گنز سے ہر گز نہیں لڑ سکتے تھے۔۔
عدالتی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔۔
اب بس پاشا لوگوں کے حق میں فیصلہ ہوا ہی چاہتا تھا جب عدالت کا وقت بھی اختتام پذیر یو گیا تبھی جج صاحبان نے فیصلہ اگلی تاریخ تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔۔
اب پاشا،، سوہم اور کبیر تفاخرانہ چال چلتے باہر آئے تھے ان کے پیچھے ہی ماہر، ایشان اور ماہ بیر تھے۔۔جب پھر منیر چیمہ ،کھرل اور ان کے خاص آدمی کینہ توز نگاہوں سے انھیں گھورتے ہوئے سامنے آئے۔۔
“یہ پھر سامنے آ کر بھونکے گا اور میرا بلکل دل نہیں چاہ رہا اس کو منہ لگنے کا،، پاشا ابراہیم نے برا سا منہ بنایا۔
اگنور کرو،، سوہم نے کہا اور وہ ان کے سامنے سے گزر کر گاڑیوں کی جانب بڑھ گئے۔۔
منیر چیمہ کا بس نہیں چل رہا تھا یہیں ان فائرنگ کر کے ان کو بھون کر رکھ دے۔۔جنھوں نے ان کی برسوں کی بنائی ساکھ مٹی میں ملا دی تھی۔۔ ہر کوئی ان پر تھو تھو کر رہا تھا۔ میڈیا نے ان کی عزت کی دھچیاں اڑا دیں تھیں۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وائٹ پیلس میں اداسی کے ڈیرے تھے۔۔ روشے کی بہت طبعیت خراب تھی۔۔ جب سے پتہ چلا تھا کہ علیزے اس دنیا میں نہیں ہے تب سے اس کی طبیعت سنبھلی ہی نہیں تھی۔۔ سارا سارا دن کمرے میں پڑی رہتی۔۔کبھی اپنے ماں باپ کو روتی کبھی بہن کو۔۔
اس کی طبیعت پر چھائی مردنی کو ختم کرنے کے لئے رواحہ نے ایک آئیڈیا سوچا تھا۔۔
رواحہ جو خود اس قدر بیزار تھی اپنی طبیعت سے،، فجر کے وہ اینڈ والے منتھ چل رہے تھے۔۔ مفرا اپنی نے پڑھائی میں اس قدر خود کو مصروف کرلیا تھا کہ کسی کی دلسوز یاد بھولے سے بھی اس کے پاس نا بھٹکنے پائے۔۔سب کو خاص کر رواحہ اور فجر کو آروشے کی جانب سے بہت فکرمند تھی۔۔
تبھی رواحہ نے سب کے آپس کے مشورے سے یہ خرافاتی پلین بنایا تھا۔۔ جس میں سب سے پہلے پنکی نے اس پلین کو عملی جامہ پہنانے پر رضامندی کی مہر ثبت کی تھی۔۔
کوئی اور تو نا موقع تھا نا نا کوئی سبب،، اس لئے رواحہ کو کچھ اور تو نہیں سوجھا ۔ مگر اس نے سب بڑوں کو بول دیا تھا کہ وہ فجر کی گود بھرائی کی رسم کرنا چاہتی ہے۔۔
اسے معلوم تھا کہ یہ ایک خالصتاً ہندوؤں کی رسم ہے۔ اسلام میں اس کا کوئی سر پیر وجود یا مقصد نہیں۔۔ مگر یونہی ان لوگوں کا دھیان بٹانے کو وہ وائٹ پیلس میں کچھ نا کچھ کرنا چاہتی تھی۔۔سوئے اتفاق ان دنوں کسی کی برتھ ڈے بھی تو نہیں تھی آس پاس سو یہی فنکشن ایک انٹرنیٹمنٹ کا زریعہ ہی سہی۔۔
اور جو شغل میلہ اس نے لگانے کا سوچا تھا اس سے تو سب کا دھیان بٹ جانا تھا۔۔
شام کا وقت تھا۔۔ شفا کو بھی بلا لیا گیا تھا۔ وائٹ پیلس کا لاؤنج بہت ہی خوبصورتی سے پنک اور فیروزی بلونز اور آرٹی فیشل فلاورز سے سجایا گیا تھا۔ یہ تیاری نہایت شاندار تھی۔۔
منی نے سب کو تیار ہونے کو بول دیا تھا۔۔
زمل نے آروشے کو زبردستی تیار کروایا۔ مفرا اور رواحہ نے بوجھل بوجھل سی فجر کو دلہن کی طرح تیار کیا۔۔
وہ اب سب لاؤنج میں تھیں۔۔
سب سے پہلے فجر کو مین صوفے پر بٹھایا گیا۔ اب رحاب، روحا اور زمل نے اس کا صدقہ اتارا تھا۔ کیونکہ پیدائش کا وقت بہت قریب تھا۔۔
اب ریشماں نے اس کی دوپٹے کے دامن میں سات قسم کے میوے ڈالے تھے۔۔اور پنکی نے ساتھ قسم کے پھل،، یہ شگن تھا اس بات کا کہ اس کی گود ہمیشہ یونہی ہری بھری رہے۔۔
فجر شرمائے جا رہی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آج اپارٹمنٹ میں جشن کا سمان تھا۔۔ وہ سب بہت ہی زیادہ خوش تھے۔منزل بس چند قدم کے فاصلے پر تھی۔۔ اب کوئی فکر نہیں تھی۔۔
پاشا ،،سوہم خان اور کبیر ان سب کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اور اس میٹنگ میں اگلا لائحہ عمل ترتیب دے رہے تھے۔۔
میٹنگ مکمل ہوئی تو سب سے پہلے وہاں سے آ ریان کھسکا تھا۔۔
اپنے اور ایشان کے روم میں آیا اپنا لیپ ٹاپ آن کیا۔۔ یہ منظر حسن مینشن کے ایک کمرے کا تھا۔۔ مگر میڈم وہاں سے غائب تھی۔۔ اب حسن مینشن کے مختلف حصے چیک کیے مگر چھپکلی ندارد،،
اس نے پرسوچ سا اب وائٹ پیلس کا منظر دیکھا تھا تو بے تحاشا چونکا۔۔
یہ چل کیا رہا ہے یہاں؟ آریان کو وائٹ پیلس کی اس قدر سجاوٹ اور لاؤنج میں گھومتی ان نک سک سی تیار پریوں کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔
وہ چپکے سے اٹھا۔۔ جہاں وہ سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ آریان آیا اور ماہ بیر کو چپکے سے آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔پھر ماہر،، جبران،، اور ایشان کو،، وہ بہانے سے باری باری اٹھے۔۔
پر یہ بات بھول گئے کہ جنھیں الو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ان کے باپ ہیں باپ،،
وہ سب بہانے سے آہستہ آہستہ وہاں سے کھسک آئے تھے۔۔
آریان کے روم میں آئے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ اس نے پروجیکٹر سیٹ کہا ہوا ہے۔۔سب نے آریان کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔
“سرپرائز ہے برادرز،، بہت بڑا ،،تم لوگوں کے لئے ،،دیکھو تو سہی آج وائٹ پیلس میں کوہ قاف سے پریاں اتر آئی ہیں اور کیا کہا گل کھلا رہی ہیں؟ وہ بے حد شریر لہجے میں کہتا پروجیکٹر آن کر چکا تھا۔۔
وہ سب صوفوں پر بیٹھ گئے۔۔
سکرین آن ہوئی تو تقریباً ان سب کی ہی دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہوگی۔۔
ماہر سوہم خان تو مبہوت سا دیکھتا رہ گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ سب صوفوں پر بیٹھیں تھیں۔۔ فجر اور آروشے کو ساتھ ساتھ بٹھایا گیا تھا۔ سب سے پہلے شفا منی کے ساتھ لاؤنج کے بیچ بیچ کھڑی تھی۔۔جس نے فیروزی رنگ کی میکسی پہنی ہوئی تھی۔
منی رحاب کا ہاتھ تھام کر لاؤنج کے بیچ میں کھڑا کیا تھا۔رحاب کھڑی مسکرا رہی تھی جب اسپیکر پر گانا بجا اور شفا ہلکے ہلکے سٹیپ لگاتی رحاب کے ارد گرد گھومنے لگی۔۔
بیٹا بیٹا نا کر ساسو اب تیرا بیٹا میرا ہے،،
جب تک بیٹا ممی بولے تب تک بیٹا تیرا ہے،،
اب تیرا بیٹا ڈارلنگ بولے،، اب تیرا بیٹا میرا ہے،،
محفل زعفران زار بنی تھی۔۔ فجر اور حیرت انگیز طور پر آروشے بھی مسکرا رہی تھی۔۔
جب تک بیٹا فیڈر بولے تب تک بیٹا تیرا ہے،،
اب تیرا بیٹا جانو بولے،، اب تیرا بیٹا میرا ہے،،
بیٹا بیٹا نا کر ساسو اب تیرا بیٹا میرا ہے،،
ان کے ان انداز پر میلوں دور بیٹھے ان کے بچے خوشی سے نہال ہوئے تھے۔۔ آریان نے اسکرین پر دیکھ دانتوں تلے لب دبایا کیونکہ سب اسکرین پر دیکھتے اب کن اکھیوں سے اسے معنی خیز نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔
وہ اسکرین پر دیکھنے میں اس قدر محو تھے کہ انھیں معلوم نہیں ہوا جب اس روم میں تجسس سے مجبور پاشا ،،سوہم خان،، اور کبیر داخل ہوئے تھے۔۔
پاشا نے ٹھٹھک کر اسکرین پر دیکھا جہاں رحاب تالیاں بجاتی اپنی بہو بیگم کا بھر پور ساتھ دے رہی تھی۔۔
یہ ہو کیا رہا ہے ادھر،، پاشا نے سوہم خان کے کان میں سرگوشی کی،، تو سوہم خان نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟ کوئی بتائے گا؟ سوہم خان کی آواز پر وہ سب گڑبڑائے،،
مگر ماہ بیر زرا ڈھیٹ واقع ہوا تھا۔ آئیے بڑے پاپا جوائن کیجیے دیکھئے آپ لوگوں کی بیگمات اور ہماری بیگمات مل کر کیا دھوم مچا رہی ہیں،، ماہ بیر نے آنکھ ونک کی تو وہ بھی مسکراتے وہیں بیٹھ گئے۔۔
اور اب جو منظر سکرین پر دیکھنے کو ملا تھا۔ اب گڑبڑانے کی باری پاشا،، سوہم خان، اور کبیر ابراہیم کی تھی۔۔
کیونکہ ان کی تینوں پریاں لاؤنج کے بیچ و بیچ کھڑی تھیں۔ سروں پر ہیٹس اور آنکھوں پر سن گلاسز تھیں۔۔اب اسپیکر پر گانا لگا تھا۔۔
ڈی جے والے بابو میرا گانا چلا دے،
ڈی جے والے بابو میرا گانا چلا دے،
ڈی جے والے، میرا گانا تو چلا دے، تھوڑا والیوم فل کر دے، تھوڑا بیس تو بڑھا دے،،
دنیا رکھوں جوتوں کے نیچے،، تو کہے تو بن جاؤں ڈی جے
دن رات بجاؤں گانے،، ہندی انگلش نئے پرانے،،
حکم چلا، ریکویسٹ نا کر،، ناچی جا بےبی ریسٹ نا کر،،
وہ تینوں اپنی بہوؤں کی گال کھینچ کھینچ کر اب ہلکے پھلکے سٹیپ لگاتی،، ریمپ سٹائل میں ڈانس کر رہی تھیں۔ رواحہ، فجر، آروشے، شفا اور مفرا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہیں تھیں۔
ادھر پاشا، سوہم خان اور کبیر کے دل گدگدا رہے تھے۔۔یہ کیا ہو رہا تھا ۔وہ حیران تھے ان کا یہ روپ دیکھ کر،، مگر یہ تو طے تھا کہ جو کچھ بھی یو رہا تھا فجر اور آروشے کے لئے تھا کیونکہ اسپیشل پرٹوکول انھیں ہی مل رہا تھا۔
اب منی اور اس کہ شاگردوں کی باری آئی تھی۔۔ آروشے کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔۔
ایشان اسے غور سے دیکھے گیا۔ علیزے کی ڈیتھ کی نیوز، سنانے کے بعد اس کی ہمت نہیں ہوئی تھی اس سے بات کرنے کی۔۔ جبکہ وہ گڈ نیوز اس کے بابا کبیر کے منہ سے سننے کو ملی تھی اسے۔ اور اب اسے یوں ہنستے مسکراتے دیکھ رگ وپے میں سرور سا دوڑ گیا تھا۔۔
وہ سب انھیں دیکھ رہے تھے۔ اتنے ماہ بعد اکھٹے،، جیسے
Executioners
کے پاس تو اس سے ضروری کام کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔ ان کے پاس فرصت کے لمحات تھے جس میں وہ ان کو یہ عجیب ،اوٹ پٹانگ اور کیوٹ حرکتیں کرتے دیکھ رہے تھے۔۔
اب میدان خالی تھا۔ سب متجسس سے اسکرین کی جانب دیکھ رہے تھے کہ آخر اب کیا ہونے والا تھا۔۔
مگر جیسے ہی مفرا سبز لینز لگائے اور پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے ماہر سوہم خان بنی لاؤنج میں داخل ہوئی تو باقی سب خواتین کے قہقہے چھوٹے تھے۔۔
ادھر ماہر کا دل زور سے دھڑکا۔۔ سب اب شرارتی نگاہوں سے ماہر کو دیکھ رہے تھے جو بظاہر اسکرین پر نگاہیں گاڑھے اطمینان سے چن پر ہاتھ فولڈ کر کے بیٹھا تھا۔۔
مزا تو تب آیا جب رواحہ لاؤنج کے بیچوں بیچ آ کر کھڑی ہوئی،، اور ماہر بنی مفرا نے اس کی کلائی تھام کر اپنی جانب کھینچا۔۔
جدوں ہولی جئی لینا میرا نام،، میں تھاں مر جانی آں،،،
رواحہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتی اپنی ساسو ماں کے پیچھے چھپی تھی۔۔
مفرا ماہر بنی اسے ٹیز کرنے میں مصروف تھی۔۔
آروشے اور فجر ہنسے جا رہی تھیں۔
مرداں دے وعدے چوٹھے،، چوٹھا ہوندا پیرا وے
کر کے محبتاں،، قول جاندے ہار وے
کی اعتبار؟
جدوں کیندیاں نے مینوں سکھیاں،، میں تھاں مر جاندیاں۔
مفرا ماہر بنی، مختلف انداز میں کیوٹ سے انداز میں کبھی اس کی کلائی مروڑ کر کبھی بال کھینچ کر پریشان کرتی رہی اور وہ اس سے دور بھاگنے کی ایکٹنگ کر رہی
تھی۔۔
ماہر بظاہر سنجیدگی سے دیکھے گیا۔دل میں کیا کیا طوفان اٹھ رہے تھے۔۔یہ تو وہی جانتا تھا۔ ہاں مگر اس کی سنجیدگی جو وہ خود پر طاری کیے بیٹھا تھا دیکھ کر کسی کو اسے چھیڑنے کی جرات نہیں ہو پائی تھی۔۔
ہاں مگر سب دبی دبی ہنسی ضرور ہنس رہے تھے۔۔
ہممم روح بیگم ،میرا پیار اور قول آپ کو جھوٹے لگتے ہیں،،ٹھیک ہو گیا،، پتہ چل گیا،، اب جلد ہی شکایت دور کرنے پہنچنے والا ہوں ،
یہ دماغ میں سوچتے اس سے مخاطب ہوا۔ مگر سکون نہیں آیا تھا تو ٹیکسٹ لکھ کر اس کو سینڈ بھی کر دیا۔۔
گانا ختم ہوا تو رواحہ صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔۔موبائل فون پر نظر پڑی تو چونک گئی۔۔ مگر جب میسج کھول کر دیکھا تو ہتھیلیوں پر پسینہ ضرور آیا تھا۔۔ ماتھے پر بھی پسینے کے ہلکے ہلکے قطرے نمودار ہوئے۔۔ افففف یہ کیا کہا گیا تھا اسے۔۔ تو کیا وہ سب دیکھ چکا تھا۔۔ یا یہ وہ سب دیکھ رہے تھے اگر ہاں تو رواحہ کو چھپنے کی جگہ ڈھونڈنی چاہیے تھی۔۔رواحہ کو تو سانپ سونگھ گیا۔
جبران غور سے اپنے پٹاخے کو دیکھے گیا۔۔ اس کا بھی یہ روپ اس نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔۔وہ بھی گہری مسکان لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
جب رواحہ ہی سب سے پہلے اپنے روم میں کھسک چکی تھی۔۔
ارے یہ سب شروع کروا کر رواحہ خود کدھر گئی؟ رحاب نے کہا اور ادھر ادھر دیکھا۔
مگر فون پر بجتی رنگ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی پاشا کا تھا کافی دنوں بعد اس نے اکسائیٹڈ سا ہو کر فون اٹھایا۔۔
ہیلو،، کیسے ہیں آپ،، رحاب خوشگوار لہجے میں بولی۔
اونہہہہہ،، میں ٹھیک ،،تم سناؤ،،؟ سب ٹھیک؟ کہا ہو رہا ہے؟ پاشا نے لاپروائی سے پوچھا۔۔
مگر نگاہیں اسکرین پر اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔
کچھ خاص نہیں،، رحاب نے بھی لاپروائی کا عظیم الشان مظاہرہ کیا۔
ہممم،،(پاشا نے ہنکارا بھرا) ڈی جے والے بابو میں کچھ خاص ہو بھی نہیں سکتا،، مجھے بولو ؟ میں اس سے بھی اچھا گانا چلاؤں،، پاشا نے دانتوں تلے لب دبا کر کہا تو رحاب کے پیروں تلے سے زمین کھسکی تھی۔۔
پاشا،، بہت برے ہیں آپ،، آپ تو کام میں بزی تھے تو یہ،، ہاؤ ڈئیر یو،، رحاب کی سانس اٹکی اور قہقہوں کی آوازوں پر وہ کانوں تک لال سرخ ہوتی بھونچکی سی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔۔
پاشا گہرا مسکرایا اور فون رکھ دیا۔۔
روحا کچن سے باہر آتی دکھائی دی تو سوہم خان نے اپنا فون نکال کر اس کا نمبر ڈائل کہا تھا جو کہ تیسری بیل پر رسیو کر لیا گیا۔۔
اسلام وعلیکم کیسے ہیں آپ؟ روحا نے پوچھا۔۔
وعلیکم السلام بلکل فٹ تم سناؤ کیا ہو رہا ہے؟ سوہم پوچھ بیٹھا۔
کچھ خاص نہیں کر رہے ہم،، روحا جانے کیوں گڑبڑائی۔
آں ہاں اور مجھے لگا ڈی جے والے بابو نے میرے ڈر سے آپ کی ریکوسٹ کو اگنور نہیں کیا ہو گا اور والیوم فل کر کے بیس بڑھا دی ہو گی،، سوہم خان نے کہا تو روحا کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر فرش پر گرا تھا۔ وہ سب چونک گئیں۔۔
کیا ہوا مما،،؟ فجر نے اس کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ پوچھ لیا۔۔
ی،،، یہ،، لوگ یہاں کا سب کچھ دیکھ رہے تھے،، روحا ناراضگی سے کہتی اپنے روم میں واک آؤٹ کر چکی تھی۔۔ اب تو مفرا اور شفا کے بھی رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔
منی نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔
پھر کیا تھا۔۔لاؤنج میں سے سب گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گئیں تھیں۔۔
ادھر پاشا، سوہم اور کبیر مسکراتے اپنے رومز میں جا چکے تھے۔۔ پیچھے ایشان تھے اور آریان جو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔۔ ماہر انھیں گھورے گیا۔۔
ہمیں نہیں پتہ تھا ماہر بھائی کہ آپ رواحہ بھابھی کا نام اتنا ہولی لیتے ہیں،، کہہ کر آریان قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔۔
ہممم پتہ تو مجھے بھی نہیں تھا کہ تم اپنی فاقے زدہ چھپکلی کو ڈالرلنگ اور جانو بھی بولتے ہو،، ماہر کے سرسراتے لہجے نے آریان کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑا تھا ۔ تو آریان نے واش روم گھس کر وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی تھی۔۔
ماہ بیر اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔ اگلی تاریخ میں کافی دن تھے۔۔
ماہر سےنگاہ بچا کر معنی خیز نگاہوں سے جبران اور ایشان کو دیکھا۔۔ جیسے پوچھنا چاہتا ہو۔
چلنا ہے کیا؟
جبران اور ایشان نے سر نیچے جھکا کر بے اختیار امڈ آنے والی مسکراہٹ کو اس گرین مونسٹر سے چھپایا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
Congratulations Readers 😷😷epi k lie
