No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
اسلام آباد کے ہوسپیٹل میں رستم کے بیڈ کے پاس بیٹھے اس کے بڑے بھائی منیر چیمہ کی آنکھوں میں اپنی بھائی کی حالت دیکھ دیکھ کر خون اترا ہوا تھا اور جب سے وہ ہوش میں آیا تھا اور ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اس کی زبان کاٹے جانے کی وجہ سے اب وہ کبھی بول نہیں پائے گا تو اس درندے کی جس کے ہاتھ پہلے ہی جانے کتنے معصوموں کے خون سے رنگے تھے اس کی آنکھوں سے درندگی ٹپک رہی تھی ۔اب تو کیس بھی فائل ہو چکا تھا جلد ہی سپریم کورٹ میں پیشی تھی یعنی اس کے اپنے صوبے اپنے علاقے میں وہ لڑنے کو تیار تھے۔
وہاں ان کے علاقے میں تو وہ کچھ کر نہیں پایا تھا ہاں مگر یہاں وہ کسی کو چھوڑے گا نہیں ۔۔
اب بھی اس کے تمام کے تمام خاص درندہ صفت آدمی اس کے پیچھے کھڑے گھگھیا رہے تھے۔۔تب منیر چیمہ کی سرسراتی آواز کمرے میں گونجی تھی۔۔
“مجھے وہ سبز آنکھوں والا گرین مونسٹر چاہیے،، زندہ یا مردہ،، اور اب تو وہ یہاں آئیں گے کیس لڑنے تو ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچنا چاہیے،، اور ہاں یہ کہانی اس چھوکری چندہ سے شروع ہوئی تھی تو مجھے وہ بھی چاہیے کسی بھی قیمت پر سمجھے تم لوگ،، پیسا پانی کی طرح بہا دو،، مجھے کوئی پرواہ نہیں ہاں مگر مجھے وہ سبز آنکھوں والا اور وہ چھوکری چاہیے،، کسی بھی قیمت پر،، اس وکیل کا ایک خاص آدمی اٹھایا ہے منسٹر کھرل صاحب نے،، وہ یہاں ہوں گے اور یہی صحیح موقع ہوگا اس وکیل کے آدمی سے ان کا پتہ نکلوا کر اس چھوکری تک پہنچنے کا اور اس کو وہاں سے اٹھانے کا،، تم لوگ سمجھ رہے ہو ناں،، وہ دھاڑ رہا تھا منہ سے جھاگ اڑا رہا تھا۔۔
اور اس کے آدمی اثبات میں سر ہلا رہے تھے۔۔
اب اس کے بہت خوص آدمی جنگل میں آگ کی طرح پورے پنجاب اور سندھ میں پھیل چکے تھے۔۔
اس گرین مونسٹر سے اپنے بھائی کا بدلہ لینے کے لیے وہ سر دھڑ کی بازی لگانے والا تھا۔ منیر چیمہ اور سابقہ ڈفینس منسٹر نے اپنی طاقت بڑھانے کے لئے اپنے ہی جیسے دیگر کرپٹ افسران سے ہاتھ ملا لیا تھا۔۔ اب ان کی طاقت کئی گنا بڑھ گئی تھی تو گردن میں بھی سریا آ گیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آروشے پچھلے لان میں بیٹھی کب سے اس بے مہر کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔۔ اور مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ ادھر رواحہ اور فجر بھی بار بار ان کے نمبرز ٹرائی کر رہی تھیں جو کہ بند تھے۔۔
آروشے نے جھنجھلا کر قیمتی موبائل ٹیبل پر پٹخا۔۔
جب وہ اس کے پاس تھا تو ان دنوں اس نے ایشان سے ایک ہی رٹ لگائے رکھی تھی کہ مجھے علیزے آپو سے بات کرنی ہے فون پر ویڈو کال سے بات کرنی ہے مگر ایشان اسے ٹالتا رہا تھا۔۔ اور اب جناب خود غائب تھے۔۔آخر یہ چل کیا رہا ادھر ؟،،وہ افسردہ سی بیٹھی تھی۔۔
تبھی فون رنگ ہوا،، اس نے تڑپ کر فون دیکھا تو ایشان کا نمبر بلنک کر رہا تھا۔ اس نے پہلی بیل پر فون یس کر کے کان کو لگایا۔
ہیلو،، آروشے بے صبری سے بولی تو ادھر کسی کے لبوں کو دلفریب سی مسکان نے چھوا تھا۔
“ہیے روشے بےبی،، ابھی ایک دن میں ہی میری یاد اتنا تڑپانے لگی ہے کہ رہا نہیں جا رہا میرے بغیر،، ایشان کی بات ذومعنی تھی وہ سر تا پا پسینے میں بھیگ گئی۔
ایش،، پلیززززز،، وہ جھنجھلائی، آپ کہاں ہیں ؟مم،،
آ جاؤں؟ آ گیا تو پھر مجھ سے چھپتی پھرو گی،، پناہ مانگو گی،، سوچ لو،، ایشان نے اس کی بات درمیان میں کاٹ کر اپنی ہی ہانکی۔۔
ایشان کیا ہے آپ کو؟ وہ تلملائی،، میں،،
پیار،، عشق،، محبت،،، وہ بھی گوڈے گوڈے،، ایشان کو اس کو تپانے میں مزا آ رہا تھا تبھی اس کی بات پوری نہیں ہونے دے رہا تھا۔ وہ شدید غصے میں اب خاموش ہی ہو گئی تو ایشان غور سے اس کی سانسوں کی مدھر سی ردھم سننے لگا۔
تمھیں پتہ ہے آروشے جان،، اس وقت میرا کیا دل کر رہا تھا،،؟ وہ پوچھ بیٹھا مگر ادھر خاموشی ہی چھائی رہی تو وہ سنجیدہ ہوتا خود ہی بولا۔۔
رہنے دو،، بتا دیا تو چھپتی پھرو گی،، اور یہاں کیا کر رہی ہو،، اس کے پوچھنے پر اب آروشے چونکی۔۔
کہاں؟ آروشے نے پوچھا تو ایشان مسکرایا۔
ادھر پچھلے لان میں،، ایشان نے اطمینان سے کہا۔ تو وہ ششدر سی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔
مت دیکھو،،،، وہاں نہیں ہوں میں،، چھپ کر مزاق بھی نہیں کر رہا،، ہاں مگر ہر پل ہر لمحہ میری تم پر نگاہ ہے،، تمھاری سانسوں سے بھی زیادہ قریب ہوں میں تمھارے،، سمجھیں روشے بےبی،، ایشان نے کہا تو وہ بلش کر گئی۔ ایشان نے یہ منظر اپنی نگاہوں میں بسایا ۔ اب جانے کتنے دنوں کا بنواس کاٹنا تھا ان جلادوں کو، مگر یقین بھی تھا بڑے دشمنوں سے تو یہ آخری جنگ تھی اور فتح ان کی مقدر ٹھہرے گی۔۔
ایشان آپ نے میری ابھی تک علیزے آپو سے بات نہیں کروائی،،آپ ایسے اس بات کو اگنور کیوں کر رہے ہیں،، اور اب خود بھی چلے گئے،، ایش مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا،، وہ بے بسی کے احساس سے سسک پڑی۔۔
ایشان کی رگیں تن گئیں تھیں۔۔ ڈونٹ یو ڈئیر روشے بےبی،، رونے کی کوشش بھی مت کرنا،، نہیں تو بہت برا پیش آؤں گا اور علیزے سے بہت جلد ملو گی تم،، آئی پرامس،، اب فوراً آنسو صاف کر لو،، ایشان نے خطرناک حد تک سنجیدگی سے کہا تو آروشے کے کسے بل فوراً نکل گئے تھے۔۔ تبھی فورا آنسو صاف کیے تھے۔مگر فون رکھ چکی تھی۔ ایشان نے بے بسی کے احساس سے اپنے لب کاٹے تھے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آج جبران مفرا کو ساتھ کٹاس راج سے قریباً ڈیڈھ گھنٹے آگے کی مسافت طے کر کے کھیوڑہ سالٹ مائن آیا تھا۔۔
اپنے آپ میں ایک عجوبہ،، دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان،، جبران نے کہا بھی کہ وہ اسے لئے مائن کرافٹ پر لے چلتا ہے مگر اس پر تو پیدل چلنے کا بھوت سوار تھا۔
تھک جاؤ گی پنک روز،، میری بات مانو،، یہ مائن کرافٹ ٹریک دیکھ رہی ہو،، بہت طویل ہے تم،،
نو نو جبران مجھے پیدل چلنا ہے ساری کی ساری مائن دیکھنی ہے،، وہ اکسائیٹڈ تھی۔ جبران نے سرد سی آہ بھری۔۔
رائٹ چلو،، وہ اس کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوا ۔۔
“مائن کے ساتھ خود کو ٹچ مت ہونے دینا پہلے ہی اتنی نمکین ہو اور سالٹی سالٹی ہو جاؤ گی،، پھر میں اپنے چکن بروسٹ کو بغیر ڈکار لیے کھا جاؤں گا،، جبران نے چھیڑا مگر وہ تو خوف سے سہم کر ان گہرے گہرے غاروں کو دیکھ رہی تھی جو اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
وہ مسلسل چلتے جا رہے تھے۔ جبران نے کن اکھیوں سے اس کا فق چہرہ ملاحظہ کیا۔ جو اب ہر پانچ منٹ بعد مسکین سی شکل بنا کر پوچھ رہی تھی “پہنچ گئے جبران،، اور وہ نفی میں سر ہلا دیتا تو مفرا کی شکل پنک روز سے ییلو روز بن جاتی۔
جبران اب بس،، میں اور نہیں چل سکتی،، اب وہ باقاعدہ ہانپنے کی ادکاری کرنے لگی تھی۔
غلام حاضر ہے میری جان،، جبران نے سر جھکا کے کہا۔ اور اس کی جانب بڑھا تو وہ بدک گئی۔۔
نو،، نو، جبران پبلک پلیس ہے کیا کر رہے ہیں،، وہ چلائی۔
اٹھانے لگا ہوں اپنی جان کو،، جبران نے اطمینان سے کہا اور اس کے نو نو والے ہلا مچانے کے باوجود اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔
اب وہ نہایت تیکھے انداز سے اسے گھور رہی تھی اور وہ ڈھیٹ بنا مسکرائے جا رہا تھا۔
کافی دیر چلنے کے بعد وہ منزل پر پہنچ ہی گئے،، کھدائی کر کے نمک نکالا گیا تھا اور اس کھدائی کی وجہ سے طویل و عریض زمین میں بھی گہری کھائیاں تھیں اور دیوراوں میں بھی بڑے بڑے گہرے غار تھے۔
جبران نے اسے گود سے نیچے اتارا تو اس نے سکھ کا سانس لیا۔
اب وہ دونوں ہاتھ تھامے نمک سے بنائے گئے وہ شہکار دیکھ رہے تھے جو خدا کے بعد انسانوں کے تخلیق کردہ تھے۔ نمک سے بنایا گیا چھوٹا سا مینار پاکستان کا مینار،، نمک کی مسجد،، مفرا حیران ہوئی۔۔
اب جبران اسے لئے آگے بڑھا تو یہ ایک بہت دس بارہ فٹ گہری کھائی تھی جس میں کوئی لیکوئیڈ سا مادہ تھا۔
وہ دونوں یہاں اکیلے تھے بھیڑ بھاڑ سے تھوڑا الگ جگہ پر چلے آئے تھے ایک جانب پتھروں کے پیچھے گہرا اندھیرا تھا۔
جبران یہ پانی ہے،، مفرا حیران ہوئی اتنا شفاف پانی اور وہ بھی یہاں۔۔
نہیں یہ لیکوئیڈ سالٹ ہی ہے اور مزے کی بات بتاؤں اس کچھ بھی پھینکو وہ ڈوبے گا نہیں،، کتنی بھی بھاری چیز پھینک دو،،
رئیلی جبران،، میرے پرس میں میٹل کا پین ہے وہ میں پھینک کر چیک کرتی ہوں ۔۔
اس کی بچوں والی حرکتوں پر جبران فدا ہوا۔
پھینک دو ،،کہو تو بیگم کو پھینک کر ٹرائی کروں،، جبران نے شرارت سے کہا تو مفرا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
نو،، اس نے پین نکالا اور اس لیکوئیڈ میں پھینک دیا۔مگر حیرت انگیز وہ واقعی نہیں ڈوبا۔۔
اب یہ مت کہنا جبران واپس لا کر دو میرا پین ،، جبران نے پھر شرارت سے کہا۔
نہیں کہتی،، پین جائے بھاڑ میں مجھے تو آپ،، اس کی روانی سے چلتی زبان کو بریک لگی۔ جب خود، پر اٹھتی وہ پرتپش گہری لپکتی نگاہ کا احساس ہوا۔
کیا مجھے،، جملہ پورا کرو وائفی،، جبران نے بے چینی سے کہا۔
کک،، کچھ نہیں،، مفرا گھبرائی اور وہاں سے دوسری جانب جانے لگی تب جبران نے اس کی کلائی تھامی تھی۔۔
ہیے پنک روز،،، بات مکمل کرو نہیں تو پبلک پلیس پر نقصان اٹھاؤ گی،،
مفرا نے جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑوائی۔ نہیں بتاؤں گی،، کیا کریں گے؟ مفرا نے اسے ٹھینگا دیکھایا۔
تب جبران نے اتنی ہی تیزی سے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔ اور اسے لیے پتھروں کی اوٹ میں یوا۔
اب اسے کے مچلنے کے باوجود جبران نے اس کے ہونٹوں کو اپنی دہکتی گرفت میں لیا تھا۔ مفرا کے تو ہوش اڑ چکے تھے اور اگر کوئی دیکھ لیتا۔ مفرا نے اس کے کندھوں پر اپنے ناخن چبھو ڈالے۔مگر اس پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا۔
چند پلوں میں وہ اسے بے حال کر چکا تھا۔ پھر اپنی مرضی سے ہی پیچھے ہٹا۔۔
یہ کک کیا تھا،، وہ دھیمے لہجے میں غرائی۔۔
مجھے چیلنج کرنے کا نتیجہ،، اس کا بھی اطمینان قابلِ دید تھا۔
ویسے یہ کس کافی سالٹی تھی،، جبران نے چھیڑا کیونکہ اسے نمک کا ذائقہ محسوس ہوا تھا تو مفرا کو کہیں چھپنے کی جگہ نا ملی۔۔
وہ پاؤں پٹختی وہاں سے واک آؤٹ کر کے جا چکی تو جبران مسکراتا اس کے پیچھے آیا۔ مگر چند قدم کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اس کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے کیونکہ مفرا کے سامنے چار چھچھورے سے ماڈرن لڑکے تن کر کھڑے اس کا راستہ بلاک کر چکے تھے۔ جبران لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے پاس آیا۔ جبران نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا تو وہ راستے سے ہٹ گئے مگر مفرا کو غلیظ نگاہوں سے دیکھنا بند نہیں کیا جس سے جبران کا میٹر شارٹ ہو رہا تھا۔
چلو واپس چلتے ہیں،، جبران نے کہا تو مفرا نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ اب جلدی جلدی قدم اٹھا رہی تھی کیونکہ محسوس کر چکی تھی کے وہ لڑکے ان کے پیچھے ہی آ رہے ہیں،،
وہ قدرے ویران اور تاریک حصے میں آئے تو ان میں سے دو بھاگ کر ان کے سامنے آئے تھے۔۔
واٹس پرابلم ود یو مین،، چاہتے کیا ہو ؟ جبران نے اپنا لہجہ حتی الامکان دھیما رکھنے کی کوشش کی وہ اپنے اندر کا جلاد جگا کر پبلک پلیس پر تماشہ نہیں لگانا چاہتا تھا۔۔
یہ پھل جھڑی چاہیے،، گلابی گل،،،
شٹ اپ یو باسٹرڈ،، اور اب اگر دردناک موت نہیں مرنا چاہتے تو ہٹ جاؤ خود ہی میرے راستے سے،، نہیں تو لاشیں بھی نہیں پہچان پائے گا کوئی،،، جبران دھاڑا تو ایک مرتبہ تو ان کے دل بھی دہل گئے تھے۔ مفرا سہم کر اس سے چپک سی گئی۔۔
ہٹو گے تو تم راستے سے کیونکہ جو چیز مجھے پسند آ جائے پھر وہ میری ہوتی ہے،،چاہے کچھ دیر کے لئے ہی کیوں ناں ہو،، ان میں سے ایک خباثت سے چاقو نکال کر جبران کے سامنے آیا پھر جبران کو جےکے بننے میں کچھ پل ہی لگے ہوں گے جب اس نے اہنے کف لنکس میں سے دو فنگر کی مدد سے اسکیلپل نکالا۔
رئیلی؟ چلو آج کوشش کر کے دیکھ لو،،
ابھی وہ کچھ اور بولتے کہ وہاں موجود سکیورٹی گارڈز وہاں چلے آئے تھے۔ وہ چاروں ایک جانب ہو گئے جبران مفرا کو لیے وہاں سے نکل آیا۔
مفرا کا دل اب ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا اسی لئے اس نے جبران سے واپسی کے لئے کہا۔ جبران نے اثبات میں سر ہلایا اور اسے لیے گاڑی لے کر وہاں سے نکلا۔ مگر جلد ہی معلوم ہو گیا کہ وہ چاروں اور ان کے ساتھ دو تین اور لوگ تھے ان کا تعاقب کر رہے تھے۔ مفرا بھی دیکھ چکی تھی۔۔جبران گاڑی جان بوجھ کر ایک ویرانے کی جگہ پر لے آیا تھا۔
جھٹکے سے گاڑی رکی۔
کک کیا ہوا جبران،، اپنی گاڑی کے پیچھے جب ان شیطانوں کی گاڑی کے رکنے کی آواز سنائی دی تو وہ بری طرح سہم گئی تھی۔۔ ادھر گاڑی میں ہی بیٹھو،، اور کچھ بھی ہو جائے گاڑی سے مت اترنا،، اور میری طرف یا گاڑی سے باہر مت دیکھنا،، اوکے،،
نو،،جبران نو،،، مفرا کی جان ہوا ہوئی،،
یس،،جبران نے اسے آنکھیں دیکھائیں اور اس کے کانوں میں ہینڈ فری لگا کر میوزک آن کیا اور خود گاڑی سے نیچے اتر کر اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اب انھیں گاڑی سے نکلتے دیکھ رہا تھا۔۔
جان پیاری ہے تو بھاگ جاؤ،، لڑکی اور گاڑی چھوڑ کر،، ان کا سر غنہ خباثت سے مسکراتا بولا۔
جبران نے ان کے کانفیڈینس کو دیکھا۔اور داد دینے کو دل کیا۔مگر کاش وہ سامنے والے کو ایک مرتبہ جان لیتے پھر اس سے الجھنے کی غلطی کرتے۔
جبران نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں آگے بڑھنے کو کہا۔ سب سے پہلے اس کا ایک چمچہ تیز دار چاقو لیے اس کی جانب تھی۔۔
مگر اس تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ سینے میں سوراخ لیے زمین بوس ہو چکا تھا۔ جبران نے آبرو اچکا کر جیسے ان کے حیرت سے گنگ چہروں کو دیکھ کر کہا ہو،، کچھ اور ؟
اب وہ سب جبران کی جانب لپکے تھے۔۔ مگر جبران تیزی سے اپنا بچاؤ کرتا بہت جلد انھیں ڈھیر کر چکا تھا۔ وہ کٹے پھٹے اعضاء لیے زمین پر پڑے سسک رہے تھے۔ اب وہ دھمیے قدموں سے چلتا اس لڑکے کے پاس گیا تھا جس نے اس کی پنک روز کو گلابی چیز کا تھا۔
وہ اس کے پاس پنجوں کے بل بیٹھا تو وہ خون میں نہایا زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔
یو نو واٹ،، آج پہلی مرتبہ تم لوگوں پر افسوس ہو رہا ہے کہ تم لوگ مجھے جانتے نہیں اسی لئے مجھ سے الجھ بیٹھے۔ اگر جانتے تو یہ بھول بھول کر بھی نہیں کرتے،، مگر افسوس اب مجھے تمھاری زبان چاہیے،، جبران نے اسکیلپل اس کے چہرے پر لہرایا تو وہ ہاتھ جوڑ کر کبھی نفی میں سر ہلا رہا تھا کبھی اس کے پاؤں پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
چلو کیا یاد کرو گے،، ان دنوں جےکے کا موڈ تھوڑا فریش رہتا ہے تو بخشا،، مگر اب تم لوگ بھیک مانگنے کے قابل بھی نہیں رہے ہو،، جبران کہتا اطمینان سے گاڑی کی جانب بڑھا۔
مگر اپنے خون سے سنے ہاتھوں نے آج اسے پریشان کیا تھا۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ منع کرنے کے باجود وہ سب کچھ دیکھ چکی ہے تو زیادہ تشویش کی بات تھی۔۔
تبھی گاڑی کی ڈگی سے پانی کی بوتل نکال کر ہاتھ واش کیے پھر آ کر گاڑی میں بیٹھا مفرا نے سہم کر کھڑکی کی جانب کھسک گئی مگر جبران اب سنجیدگی سے ڈرائیونگ کرنے لگا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ نوٹ کر رہا تھا کہ وہ خاموش خاموش ڈری سہمی اور اس سے چھپتی پھر رہی ہے۔۔ ایک ہفتہ پورا ہونے والا تھا ۔ ڈیٹ قریب آ رہی تھی۔۔ اسے مفرا کو باحفاظت واپس بھیجنا تھا۔ خود، تو جانے کتنے عرصے اب اس سے دور رہنا تھا اور وہ ظالم بنی اس سے کترائی پھر رہی تھی۔۔
صبح اسے واپس بھیج دیا جانا تھا۔
رات جبران کمرے میں اس کا ویٹ کرتا رہا۔ مگر وہ کافی دیر ہوئے نہیں آئی تو وہ جھنجھلا کر باہر نکلا مگر یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ وہ اتنی ٹھنڈ میں لاؤنج کے صوفے پر سکڑی سمٹی لیٹی ہوئی ہے۔۔ جبران کا سر گھوم گیا۔۔خاموشی سے اسے بازوؤں میں بھرا وہ جو جاگ رہی تھی اس کی موجودگی بھی محسوس کر چکی تھی اب اس کے یوں اٹھانے پر بہت بری طرح مچلی تھی۔
جبران اس کی مزاحمت خاطر میں نا لایا تھا تبھی اسے لیے روم میں لے کر آیا اور بیڈ پر اتارا۔۔
دور رہیں مجھ سے،، وہ کمر کے بل پیچھے ہٹی اس سے دور کھسکی۔۔
کیوں،، کیوں دور رہوں تم سے،، تمھیں کرونا ہے کیا؟ جبران نے ہوا میں بات اڑائی۔۔
مگر وہ بیڈ کی ایک سائیڈ کھسک چکی تھی۔ قاتل ہیں آپ،،،ایک خونی،، دور رہیں مجھ سے،،
جبران نے ایک سرد سی آہ بھری۔۔ اور بیڈ پر نیم دراز ہوا۔ وہ پھر بدکی۔۔
اب کی بار جبران کا سر بری طرح گھوما تھا۔جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا۔۔
چاہے خونی ہوں یا قاتل،، مگر اب تمھارا ہوں،، جس کے سپرد تم اپنے جسم و جاں کر چکی ہو پنک روز،، اسی لیے اب کچھ نہیں ہو سکتا،، تو بہتر یہی ہے یہ سب قبول کر لو،، وہ اسے سینے پر گرائے اس کے بال کانوں کے پیچھے اڑستا مخاطب تھا جو اب رونے کا شغل فرمانے لگی تھی۔۔
اے رونا بند کرو پنک روز،، نہیں تو یاد ہے نا اس رات روئی تھی تو میں نے کیا کیا تھا؟ سوال معنی خیز تھا۔ مگر اب وہ اسے کیا سمجھاتا۔ یوں بھی اب اتنے عرصے تو جدائی مقدر ٹھہرا دی جانی تھی تو یہی بہتر تھا وہ اس سے دور خوش رہ کر گزارے تبھی جبران نے اس کی کوئی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔
جبران نے اسے خود، میں ایسا الجھایا کہ اسے دنیا بھلا دی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
