Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

رات کی گہرائیوں میں ہیلی کی دلدوز آواز چاروں اطراف ہھیل رہی تھی۔۔ قریباً دو گھنٹے بعد ہیلی پنجاب کے شہر چکوال کی حدود میں ڈھوک ٹالیاں ڈیم پر اترا تھا۔۔ وہ دونوں نیچے اترے تو حد نگاہ پہاڑ اور ہریالی دیکھ کر مفرا کی آنکھیں پھیل گئیں کہ آخر انھیں جانا کہاں ہے۔ بیگ اٹھا کر جبران اس کا ہاتھ تھامے سڑک کی جانب آیا۔ اس قدر یخ بستہ اور نمی سے بھر پور ٹھنڈی ٹھار ہوائیں جیسے پسلیوں کے اندر تک گھس رہی تھیں۔ مفرا کو شدید ٹھنڈ محسوس ہوئی۔۔

ہوائیں اب اسے ایسے گہرے اندھیرے اور ویران پہاڑی اور جنگل نما جگہ سے خوف آنے لگا تھا۔ تبھی سڑک پر کھڑی گاڑی دیکھ کر سانس میں سانس آئی۔۔

وہ گاڑی میں سوار ہوئے ۔۔

سو گیا یہ جہاں
سو گیا آسماں
سو گئیں ہیں ساری منزلیں، ہیں سارے منزلیں
سو گیا رستہ

مفرا نے اس کے کندھے پر سر رکھا ہوا تھا تبھی ایک عجیب نظارہ دیکھنے کو ملا تھا۔ پہاڑوں کی بلند بانگ چوٹیوں پر دیواریں سی دکھائی دے رہی تھی جن پر برقی قمقموں سے سجاوٹ کی گئی تھی وہ روشن ہو کر اپنے ہونے کا ثبوت دے رہے تھے۔ ان دیواروں پر پھولوں کی بیلیں باہر لٹکی ہوئیں تھیں۔۔

“جبران یہ کیا؟ وہ دیکھ کر زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکی۔۔
“یہ کسی شہنشاہ بندے کی ذاتی پراپرٹی ہے جو خود تو لاہور میں رہتا ہے مگر اپنے بچوں کے ساتھ یہاں اکثر رہنے آتا ہے۔۔
“یہ ہے کیا بس تین چار پہاڑوں کی چوٹیوں پر دیواریں نظر آ رہی ہیں؟ مفرا کو اکثر چوٹیوں پر بنی اس عمارت پر (قلعہ کی طرز پر بنے) مینار بھی نظر آ رہے تھے۔
“یہ بہت بڑا فارم ہاؤس ہے،،

“مجھے اندر سے دیکھنا ہے جبران،،، وہ مچلی۔۔
“اندر جانے کی پرمیشن کسی کو نہیں،، جلادوں کو بھی نہیں،، وہ گہرا مسکرایا مگر اینڈ والی بات اس نے سنی ہی نہیں وہ تو باہر کے پراسرار راستوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ جب ایک حد نگاہ کھائی نظر آئی۔۔کھائی کے بیچوں بیچ ایک اور انتہائی خوبصورت عمارت جس کے طویل وعریض صحن میں مختلف جانور مطلب گھوڑے اور ہرن دکھائی دے رہے تھے۔۔

جبران وہ دیکھیں،، وہ اکسائیٹڈ ہوئی۔ تبھی ایک موڑ مڑا۔ وہ جو کراچی سے کبھی باہر نہیں نکلی تھی۔ اب قدرت کے ان حیرت انگیز نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی۔
ایک تو پہاڑ اوپر سے پہاڑوں پر بنی وہ خوبصورت ترین چھوٹے بڑے گھر وہ حیرت سے دیکھے گئی۔ پون گھنٹے کی مسافت کے بعد گاڑی جہاں رکی تھی۔ وہ ایک چھوٹا سا شہر چوا سیدن شاہ تھا۔

گاڑی سے نیچے اترے تو مفرا اپنے چاروں جانب دیکھ کر حیرت میں ڈوبی۔۔ کیونکہ وہ سڑک کے بیچ و بیچ چوراہے پر کھڑی تھی اور اس کے چاروں جانب پہاڑ تھے۔ اور تمام رہائشیں اور گھر پہاڑوں پر بنے ہوئے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا ایک گھر کی چھت پر دوسرا گھر ہے۔ گلیاں تو نیچے سے دکھائی ہی نہیں دے رہی تھیں۔قدرت کے حسین شاہکاروں پر انسانوں کی اس عجیب و غریب تخلیق پر وہ بار بار حیرت میں ڈوب رہی تھی۔
جبران قریب کھڑا فون پر بات کر رہا تھا۔۔ جب فون رکھ کر اس کی جانب مڑا۔

“جبران ہمیں کہاں جانا ہے،، وہ کھوئی کھوئی سی بولی۔۔
“ادھر آؤ،، جبران نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اور اسے دوسری جانب گھمایا۔۔ ایک جانب بہت اونچائی پر اشارہ کیا۔۔ “وہ بہت بڑی ریڈ لائٹ دیکھ رہی ہو”۔۔
مفرا نے سر ہلایا۔ مگر وہ نظارہ پہنچ سے کافی دور جیسے آسمان پر دکھائی دے رہا تھا۔
“ہاں دکھ رہی ہے ،، مفرا نے اچنبھے سے کہا۔
“وہیں جانا ہے”جبران نے اطمینان سے کہا تو مفرا کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔
“کیسے،، مفرا نے جیسے مزاق اڑایا جیسے کہنا چاہتی ہو اڑ کے؟
تبھی وہاں ایک شخص وہاں ہیوی بائیک لے کر آیا تھا۔ بائیک سے اتر کر اس نے جبران سے مصافحہ کیا اور ایک جانب اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
“چلیں بیگم ،، وہ ہیوی بائیک پر سوار ہوتا مسکرا کر بولا۔
ہم اتنی اونچائی پر جائیں گے اس پر،، مفرا خوف سے سفید پڑی۔
“بلکل ،، وہ سر دھن کر بولا جیسے اس کی بات پتہ نہیں کتنی انجوائے کی تھی۔
مفرا ڈرتے ڈرتے پیچھے بیٹھ گئی ۔۔ وہ زرا فاصلہ قائم کر کے بیٹھی تو جبران نے دانتوں تلے لب دبایا کیونکہ تھوڑی دیر بعد وہ خود ہی اس کے گلے پڑے گی (وہ جانتا تھا) اس نے بائیک سٹارٹ کی۔
ہوا بھی یہی کچھ دیر بعد جب بائیک اونچائی پر چڑھنا شروع ہوئی وہ بے تحاشا گھبراتی اس کے پیٹ پر کس کے ہاتھ باندھے اس کے ساتھ بری طرح لپٹ چکی تھی۔۔
منزل بہت قریب تھی ٹھنڈی یخ ہوا نے دانت آپس میں بجا ڈالے۔سڑک کے آس پاس لوکاٹ کے گھنے باغات تھے۔۔جب بائیک چوا سے کٹاس راج جاتی سڑک کی اونچائی پر چڑھنے لگی تو بائیک ڈھلوانی سطح پر بلکل ٹیڑھی ہو گئی۔۔

جبران،، وہ حواس باختہ ہوئی،، مم،، گگ،، گر جاؤں گی،، وہ منمنائی اور اس کی کمر میں منہ دیا ۔
ڈونٹ وری جان،، تمھیں گرانے نہیں لایا ادھر،،بہت سے حساب نکلتے ہیں تمھاری طرف وہ بےباک کرنے ہیں، وہ معنی خیزی سے بولا مگر یہاں غور کون کر رہا تھا۔ وہ تو باغات کو گھنے جنگل سمجھتی خوف سے لال پیلی ہو رہی تھی۔

منزل پر پہنچ کر بائیک جھٹکے سے رکی تھی۔۔ اس قدر اونچائی تھی کہ پہاڑ اور ان کی آبادی اب اپنے قدموں میں دکھائی دے رہی تھی۔ گہرے اندھیرے میں پہاڑوں کے آسمان چھوتے ہیولے اور ان پر آبادی میں جلتی لائٹس،، عجیب ہی نظارہ تھا۔ وہ پھر مبہوت سی کھوئی ہوئی تھی۔ جب جس کاٹیج کے باہر کھڑے تھے اس کا دروازہ کھلا تو جبران نے اس کو متوجہ کیا۔ جبران نے بہت ہی احترام سے باہر نکلنے والی بزرگ ہستی کو جھک کر سلام کیا تھا۔

“کیسے ہیں آپ میجر عاصم،،، جبران نے پوچھا۔
میں بلکل ٹھیک ہوں،، سب executioners کیسے ہیں،، بہت یاد آتی ہے سب کی ،،۔۔وہ اندر آتے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔ جب کہ مفرا اس چھوٹے سے محل نما کاٹیج کو دیکھ رہی تھی۔ جس کے اندر لکڑی کا کام اس قدر خوبصورتی سے کیا گیا تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی اور ہی دنیا میں چلی آئی ہے۔
میجر عاصم اور ان کی بیگم ان کے استقبال اور مہمان نوازی کے لئے جاگ رہے تھے۔

وہ فریش ہو کر آئے تھے تو انھوںنے کھانا لگایا۔ خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔
مفرا کو بہت اچھا لگ رہا تھا یہ سب اتنا خوابناک اور تخیلاتی تھا کہ ایسا لگتا تھا وہ خواب میں ہے۔
وہ کافی دیر باتیں کرتے رہے پھر مفرا کا بند ہوتی آنکھیں دیکھ مسز عاصم کو ہی اس پر رحم آیا۔ تب وہ اسے لیے ان کے روم کی جانب چلی گئیں تھیں۔
تب جبران نے اپنے بیگ میں سے فائل نکال کر میجر عاصم کو تھمائی “یہ وہ ہی فائل ہے سر آپ پوری طرح سٹڈی کر لیں اگلے ہفتے ہمیں نکلنا ہے اور آپ کو گواہی کے لئے پیش ہونا ہے،، آپ کی سکیورٹی بہت اہم ہے ہمارے لئے،، اسی لئے بڑے پاپا نے مجھے بھیجا ہے آپ کو باحفاظت لانے کے لئے تاکہ میں ہر وقت آپ کے ساتھ رہ سکوں،،
میں بھی کئی سالوں سے اس وقت کا انتظار کر رہا ہوں ڈاکٹر،، اب وہ وقت آ گیا ہے تو بلکل پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
وہ کافی دیر باتیں کرتے رہے۔
اب آ ہی گئے ہو میاں تو بیگم کو یہ سارا علاقہ دکھا دینا،، بہت خوبصورت ہے،، دیکھنے کے قابل،، صبح کو سکی جھیل لے جانا،، وہاں کے آس پاس کے باغات اپنے ہی ہیں،، میجر صاصم اسے تفصیل بتاتے رہے اور وہ سنتا رہا۔

کافی دیر بعد وہ کمرے میں آیا تھا تو وہ بیڈ پر کمفرٹر میں دبکی گہری نیند میں تھی وہ مسکرایا۔ اور چینج کر کے اس کے پاس نیم دراز ہو کر آنکھیں موند لیں۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

صبح وائٹ پیلس کا عجیب ہی نظارہ تھا۔۔ سب لاؤنج میں تھیں اور تمام کے تمام مرد حضرات پھر غائب تھے۔فجر کی آنکھ کھلی تو وہ پہلو سے غائب تھا وہ بری طرح جھنجھلائی۔
ادھر رواحہ بھی اٹھی تو سب سے پہلے تو اپنی حالت دیکھ کر بری طرح گڑبڑائی۔۔ادھر ادھر دیکھا تو صد شکر وہ کمرے میں تھا ہی نہیں۔۔ بکھرے لباس کو درست کرتی وہ فریش ہو کر باہر آئی اور روحا مما سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو انھوںنے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔۔

سب سے اینڈ میں شفا کی آنکھ کھلی تھی۔۔ سر بہت بھاری تھا۔ رات جو تماشے انھوںنے لگائے تھے وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ سب خواب تھا۔ “ارے خواب میں رنگ پہنا کر گیا کھڑوس چلغوزہ،،
وہ بے وجہ مسکرائی،، مگر دانتوں تلے لب دبایا کہ اب تو سرتاج بن چکا تھا اب اسے کچھ تمیز کا مظاہرہ کرنا تھا جو کہ ناممکن ہی لگ رہا تھا ۔۔
وہ اٹھ بیٹھی۔ مگر جیسے ہی اپنے ہاتھ پر نظر پڑی تو چونک گئی بلکہ ششدر رہ گئی۔۔ اس کے ہاتھ میں رنگ جگمگا رہی تھی جسے وہ اپنا خواب سمجھ رہی تھی۔
اگر وہ خواب تھا تو یہ رنگ کہاں سے آئی تھی۔”افففففففف پاگل ہو جانا میں نے” وہ جلدی سے چینج کر کے باہر چلی آئی۔
مگر آج بہت عجیب لگا۔۔ صرف خواتین ہونق بنی پھر رہی تھیں جبکہ وہ سب غائب تھے۔۔

انھیں نہیں پتہ تھا کہ آج کورٹ کی پہلی سنوائی تھی۔ اب جب جنگ شروع ہی کرنے والے تھے تو دشمن کا سامنا کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ ماہ بیر نے ایز آ لوئیر ان کا سامنا کرنا تھا اور پاشا نے ان کی مخالفت میں سامنے جانا تھا۔ جس کا مطلب تھا دشمن سے آمنا سامنا ۔اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس کنڈیشن میں اس دوران کم از کم وہ وائٹ پیلس نہیں آ پائیں گے کیونکہ دشمن سائے کی طرح ان کی نگرانی کرے گا۔ سو وہ وہاں سے نکل کر اپنے خاص ٹھکانے پر پہنچ چکے تھے۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اگلی صبح کافی روشن تھی ۔۔پرندوں کی بے تحاشا چہکاریں سن کر اس کی جلد ہی آنکھ کھل گئی تھی۔ دسمبر کے اوئل دن تھے۔۔
وہ روم سے باہر نکل آئی۔۔ وہ گریس فل سی بوڑھی خاتون کچن میں بزی تھیں۔اتنی عمر میں بھی اتنی پھرتی قابلِ رشک تھی۔
” آنٹی میں آپ کا ہاتھ بٹاوں،، وہ آگے بڑھی۔
” نہیں بیٹا آپ بیٹھو بلکہ ریڈی ہو جاؤ جا کر ،،اپنے شوہر کے ساتھ گھومنے جانا ہے آپ نے،، وہ نرم لہجے میں بولیں۔ مفرا مسکرا دی۔۔ وہ اتنا خوبصورت علاقہ ضرور دیکھنا چاہے گی۔ وہ جانے لگی جب آنٹی نے اسے آواز دی۔

بیٹا اگر فریش ہونا ہے تو گیزر سے گرم پانی لینا،، دسمبر میں یہاں نل سے پانی نہیں آتا اکثر،، برف جمی ہوتی ہے،، انھوںنے نے کہا تو مفرا نے حیرانگی سے مگر اثبات میں سر ہلایا۔
وہ واپس ہو کر تیار ہوئی جبران بھی اٹھ کر ریڈی ہو چکا تھا انھوںنے میجر عاصم اور ان کی مسز کے ساتھ ناشتہ کیا۔ پھر جلد ہی وہ گھومنے کے لیے نکلے۔
سب سے پہلے وہ اسے لئے سید سیدن شاہ شیرازی کی درگاہ پر لے کر گیا تھا۔جس کے نام پر شہر کا نام تھا۔
پھر وہ وہان سے چار کلو میٹر کی ڈرائیو کرنے کے بعد کٹاس راج گئے تھے۔۔ مفرا یہ سب پہلی مرتبہ دیکھ رہی تھی۔۔ کٹاس راج کے اندر اکثر ہندوؤں کے مندر تھے۔ کافی ٹورسٹ موجود تھے۔۔ مندر کے صحن میں صدیوں بعد بھی محسوس ہوتا تھا جیسے رادھا اور اس کی گوپیاں پنگھٹ پر پانی بھرنے کے بہانے قلعے کے احاطے میں راس لیلی رچا رہی ہوں۔

وہ کافی دیر وہاں گھومتے رہے۔ پھر جبران اسے لیے گاڑی تک آیا اور وہ میجر صاحب کے بتائے گئے ان کے باغات اور سکی جھیل لے کر آیا۔ باغات میں کوئل کے چہکنے کی آواز پر مفرا چونکی۔
“جبران سنا آپ نے کوئل کی آواز ہے یہ،، وہ بہت خوش ہوئی جب باغات میں ایک درخت پر میرون رنگ میں رنگے پھلوں سے لدا پھندا نظر آیا۔۔
جبران نے ہاتھ بڑھا کر پھل توڑ لیا اور کھانے لگا۔۔
“جبران کیا ہے یہ،، اسے تجسس ہوا۔
“اسے انجیر بولتے ہیں ڈئیر” جبران نے اس کی جانب دو تین توڑ کر ہاتھ بڑھایا تو اس نے ہاتھ میں تھام کر وہ چھوٹے چھوٹے سے میرون پلس پرپل مٹکے دلچسپی سے دیکھے،،
“بٹ یہ تو وہ دھاگے میں پروئے ہوئے راؤنڈ راؤنڈ سی شکل کے ہوتے ہیں ناں،، مطلب جیسے وہ ڈونٹ ہوتا ہے ویسی شیپ ہوتی ہے ان کی،، مفرا الجھی۔۔
“یہ وہی ہیں ڈرائی کر کے ویسے ہو جاتے ہیں،، جبران نے سکون سے کہا ۔
“مگر کیسے ،،
“اب مجھے کیا پتہ،، میں تو صدیوں سے فروٹس ڈرائی کر رہا ہوں ناں،، جبران نے اسے چھیڑا تو وہ منہ بنا کر دوسری جانب دیکھنے لگی جیسے کہنا چاہتی ہو آپ سے تو بات کرنا ہی فضول تھا۔

اتنی دوپر کے وقت بھی باغ میں ہو کا عالم تھا مفرا ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی جب اس کے دماغ میں پھر جانے کیا آیا۔ جبران بھی اس کے ساتھ اسی پتھر پر بیٹھ گیا۔
“جبران کتنا سناٹا ہے ناں یہاں دور دور تک کوئی بھی نہیں ہے،، کوئی مار وار کر پھینک جائے کسی کو مہینوں کان و کان خبر تک نا ہو،، اسے جھرجھری آئی۔

جبران جو اسے اب بغور توجہ سے دیکھ رہا تھا وہ براؤن فراک ٹراؤزر کے اوپر لیدر جیکٹ پہنے گرم شال کندھوں پر پھیلائے لونگ بوٹ پہنے اس کے بے حد قریب بیٹھی پاؤں جھلا رہی تھی۔ اس کے شوشے پر جبران کو ہنسی آئی۔
“اونہہہ یو رائٹ،، جیسے اب ہم دونوں ہزبینڈ وائف جس طرح مرضی اپنے پرائیویٹ مومنٹس انجوائے کریں،، کسی کو گھنٹہ فرق نہیں پڑنے والا۔ کیونکہ میلوں دور دور تک کوئی نہیں ہے ناں،، جبران نے اطمینان سے کہا۔

مگر اس کے ہوش ضرور اڑے تھے۔۔ “کک،، کیا مطلب،، وہ چونکی۔
مگر جبران نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود میں بھینچا اور گردن کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اس کے ہونٹوں کو اپنی دہکتی گرفت میں لیا تھا۔۔ اس کے چاروں طبق روشن ہوئے تھے۔
یہ موسم کا اثر تھا یا اس ماحول کا،، یا ان قدرت کے حسین نظاروں کا جنھوں نے مل کر ماحول پر فسوں طاری کر دیا تھا۔
وہ جو ہمیشہ خود پر بہت کنٹرول رکھتا تھا وہ بھی مکمل بے خود اور بے اختیار ہو چلا تھا۔
اس کے عمل میں شدت اور جنون سا تھا۔ مفرا نے اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی۔ جان تو تب نکلتی محسوس ہوئی جب جبران کے کمر سہلاتے ہاتھ نے کندھے سے شرٹ اور جیکٹ کھسکا کر وہاں اپنے لب رکھے۔
جبران پپ،، پلیز،، وہ بے حال ہوتی سانسوں کے ساتھ روہانسی سی ہوئی۔ اور اس ظالم کو دور کرنے کی کوشش کی۔

جبران پیچھے ہٹا اور اس کا گلابی پڑتا چہرہ دلچسپی سے دیکھا۔ “چلو ابھی تو جان بخش رہا ہوں ڈئیر وائفی مگر آج رات شرافت کا مظاہرہ کرتے خود کو میرے سپرد کر دینا نہیں تو،،
“نن،، نہیں تو؟ ،،،اس نے تھوک نگلتے حلق تر کیا۔۔
“نہیں تو؟ یہ رات کو ہی بتاؤں گا ابھی یہ مناظر انجوائے کرو،، وہ لاپرواہی سے بولا۔۔
اب مفرا کے طوطے چڑیا کبوتر وہ اپنی باتوں سے اڑا چکا تھا وہ انجوائے کیا خاک کرتی۔۔ پھر بھی انھیں لوکاٹ کے باغات میں گھومتے شام کے سائے گہرے ہو گئے تو تھکے ہوئے گھر پہنچے۔۔
آنٹی نے خاص تاکید کی تھی کہ ڈنر وہ گھر پر آ کر کریں سو وہ واپس چلے آئے تھے۔۔

اب گھر پر آ کر مفرا اس سے چھپتی پھر رہی تھی۔ آتے جاتے اس کی سرسراتی معنی خیز سرگوشیاں اور بار بار اپنی بات کی یقین دہانی کرانے نے اس کی چھوٹی سی جان سولی پر لٹکا رکھی تھی۔۔
مفرا نے آنٹی کے ساتھ ہاتھ بٹایا ۔ ڈنر پر گرلڈ فش کا اہتمام کیا گیا تھا۔
اب وہ کاٹیج کے چھوٹے سے لاؤنج میں کارپٹ ہر دسترخوان لگائے ڈنر انجوائے کر رہے تھے۔۔
جبران کی مفرا پر وقتا فوقتا ً اٹھتی گہری طلبگار نگاہیں اسے پانی پانی کر رہیں تھیں۔ اسے بار بار نگاہیں چرانی پڑ رہی تھیں۔
یہ سب یاد گار ترین تھا۔ ڈنر کے بعد سب نے گرین ٹی سے لطف اٹھایا۔۔

جبران باتوں باتوں میں نوٹ کر چکا تھا وہ آنٹی کے ساتھ ان کے کمرے میں کھسک لی تھی۔ وہ مسکرایا۔۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔۔
رات کے ایک بجے تک باتوں کا دور چلا۔ تب میجر صاحب اٹھے تو وہ بھی اپنے روم میں آ گیا۔ مگر جب کافی دیر وہ روم میں نہیں آئی تو جبران نے بیڈ پر نیم دراز ہو کر آنکھیں موند لیں اور اسی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔
مفرا جان بوجھ کر انکل آنٹی کے ساتھ بیٹھ کر گپیں لڑاتی رہی جب آنٹی کو ہی کہنا پڑا۔
جاؤ بیٹا جبران بیٹا انتظار کر رہا ہوگا،، جا کر اپنے شوہر کو بھی کمپنی دو،،

تو ناچار اسے اٹھنا ہی پڑا۔ اب وہ کیا کہتی کہ آج یہ کمپنی اسے بہت مہنگی پڑنے والی ہے۔۔
وہ دبے قدموں چلتی اپنے کمرے تک آئی۔۔ آہستگی سے ڈور کھولا
وہ جو چاہتی تھی کہ وہ سو چکا ہو اندر داخل ہوئی تو ایک نیا سرپرائز سامنے موجود تھا۔ کمرے میں جابجا سینٹڈ کینڈلز جلی ہوئی تھیں اور ایک الگ ہی فسوں خیز منظر پیش کر رہیں تھیں۔جبکہ وہ خود کمرے میں موجود نہیں تھا شاید۔۔

وہ جھجھکتے اندر داخل ہوئی جب پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ چونک کر پلٹی تو وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا معنی خیز، سی مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

مفرا نے جھجھکتے اتنی ہی تیزی سے اس سے رخ موڑا تھا۔ آج تو یہ شخص نگاہوں سے ہی اسے پانی پانی کرنے کے دم پر تھا۔ وہ آگے بڑھنے لگی۔۔
” رکو،، جبران نے آگے بڑھ کر اسے کلائی سے تھاما۔
“جب،، ران،، مفرا نے گھبراہٹ میں اس کا نام شہید کیا۔
یس مائی لو،، مائی پنک روز،، جبران نے اس کا رخ اپنی جانب موڑا اور اس کے سوئیٹر کے بٹن کھولنے لگا۔۔ وہ بری طرح نروس ہوئی اور اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ مگر جب جبران نے جھک کر انھیں ہاتھوں پر اپنے لب رکھنے چاہے تو اس کو ہاتھ پرے کھسکانے پڑے۔ جبران نے اس کا سوئیٹر اتار کر صوفے پر رکھا تھا۔ اور دوپٹے بھی سر سے سرکا دیا۔۔
وہ اپنے قدم پیچھے لے رہی تھی جب جبران نے اس کی کمر کو جکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔ وہ جھٹکے سے اس کے کشادہ سینے سے لگی تھی۔ تب جبران نے اسکی شہہ رگ پر اپنے لب رکھے تھے۔

“آج گریز ناممکن ہے میری جان،،، اس کے ہاتھوں کی گرفت میں سختی تھی۔ اور لمس میں شدت ،،سینے پر سفر کرتے جبران کے لبوں نے اس کے حلق میں سانس اٹکا دی تھی۔
مفرا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر جزبوں کے اس طوفان پر بند باندھنے کی ناکام سی کوشش کی۔۔مگر یہ مزاحمت جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ٹھہری تھی۔تبھی جبران نے اس کی کلائیاں جکڑ کر کمر سے لگائیں تھیں۔۔ اور اس کی سانسوں کی مہک اپنی روح میں اتاری۔۔

مفرا نے اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی۔۔ جس کی شدتوں سے بے حال وہ سانس بھی نہیں لے پارہی تھی۔ جبران نے اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا تھا۔ اور خود اس کے اوپر جھکا۔
کچھ ہی پلوں میں کمر پر کھلتی زپ نے اس کی روح فنا کی تھی۔
جبران،، پپ پلیز،، وہ رو دی۔۔
مگر جبران نے وہ آنسو اپنے لبوں سے چنے اور اسے اپنے سینے سے لپیٹ کر ریلیکس کیا۔۔
مگر آج وہ جائے فرار نہیں ڈھونڈ پائی تھی۔۔ کبھی اس کی شدتوں سے بے حال اس کی سانسیں مدھم پڑ جاتیں کبھی اس کی محبتوں کی بارشوں میں وہ پور پور بھیگتی گہرے گہرے سانس بھرتی رہی۔
گہری رات پگھلتی رہی اور اپنی تاریکی میں محبت کی ایک اور داستان رقم کرتی رہی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓