No Download Link
Rate this Novel
Episode 42
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
ذرا اپنی فرصتِ شام سے
کِسے عِشق تھا تیری ذات سے کِسے پیار تھا تیرے نام سے
ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا
جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا
وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے وہ جو مر مٹا تیرے نام پے
ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ
کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ
مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟ گئے ہم دعا ؤ سلام سے
*کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
*ذرا اپنی فرصتِ شام سے💞
رواحہ بہت دیر سے اپنے روم میں بیڈ پر حسبِ عادت گھٹنے فولڈ کیے ان کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی اس ستمگر کا انتظار کر رہی تھی۔ ریشمی دوپٹہ جو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا اب گلے میں جھول رہا تھا۔۔اب بس ہو چکی تھی رات کا ایک بج گیا تھا اور آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں۔۔ جرم تو دونوں کا برابر کا تھا پھر وہ کیوں اتنا بے مہر ہو گیا تھا کہ اس کی جانب دیکھنا تک گوارا نہیں کر رہا تھا۔
بیٹھے بیٹھے کمر تختہ بن چکی تھی مگر وہ تو اس سے منہ موڑے جانے کہاں گم ہو گیا تھا۔
وہ ابھی رونے کے شغل کی شروعات کرتی جب ڈور پر مخصوص آہٹ سنائی دی۔۔ دروازہ کھلا اور وہ اندر آیا۔۔
اور وہ جو جان بوجھ کر باہر وقت ضائع کر رہا تھا کہ وہ اسے نظر نا آئے اور وہ جو اس کو اگنور کرنے کی تگ و دو میں اپنی جان ہلکان کر رہا تھا تاکہ اسے دیکھ جان مشکل میں ناں پھنس جائے تبھی لیٹ اندر آیا تھا ۔۔مگر اسے سامنے اپنا انتظار کرتے پایا تو چونک گیا۔ اور دل میں بری طرح جھٹپٹایا ۔۔کس عذاب میں جان جھونک دی تھی۔۔ اس مومی وجود کو اگنور کر نہیں پا رہا تھا اور اس پر مہربان ہو نہیں سکتا تھا۔
رواحہ اسے دیکھ سیدھی ہوئی۔۔مگر وہ زمین پر جانے کیا تلاش کرتا ڈریسنگ میں غائب ہو گیا۔ کچھ ہی دیر بعد ڈریسنگ سے اپنا ٹراؤزر اور ٹی شرٹ لیے واش روم گھس گیا۔۔ رواحہ اس کی سردمہری محسوس کرتی بری طرح اپنے لب کچلتی اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
ادھر آدھا گھنٹہ وہ شاور کے نیچے کھڑا اس مشکل میں پھنسا رہا کہ باہر نکل کر کیسے زیادہ دیر اس سے نگاہیں چرا پائے گا،، ناممکن ہی لگ رہا تھا تبھی آج یہاں سے دربدر ہونے کا فیصلہ کیا۔۔یعنی یہاں سے اپارٹمنٹ یا ابراہیم ہاؤس چلے جانا تھا۔۔
وہ واش روم سے گیلے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ایک سرد سی سانس کھینچ کر باہر آیا۔ باہر ٹیبل سے کیز موبائل والٹ اٹھائے اور رخ باہر کی جانب موڑا۔
وہ جو بیٹھی اس کی ایک ایک حرکت دیکھ رہی تھی۔ اس کے پھر باہر جانے پر بھڑک کر بیڈ سے اتری تھی۔
کدھر جا رہے ہیں آپ،،؟ سوال پر ماہر ٹھٹھک کر رکھا مگر مڑا نہیں۔
ضروری کام ہے،، بول کر پھر جانا چاہا جب وہ بجلی کی سی تیزی سے اس کے سامنے آئی اور ڈور اوپن کرنے کے لئے اٹھنے والا ماہر کا ہاتھ ہوا میں معلق ہی رہ گیا۔۔
وہ بھیگی پلکیں سرخ چہرہ اور کپکپاتے لب لیے اس کے سامنے تھی۔
روح ہٹو سامنے سے،، وہ سنجیدگی سے کہتا بمشکل ہی اس کے وجود سے نگاہیں چرا پا پایا۔۔
رواحہ نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔
تب ماہر سوہم خان نے جھٹکے سے اسے بازوؤں سے تھام کر دروازے سے لگایا تھا۔۔
آزمانا چاہتی ہو؟ اب کی ماہر کی اٹھنے والی نگاہ بہت گہری تھی۔
رواحہ نے پھر نفی میں سر ہلایا “اس وقت آزما لیا تھا آپ کو جب دار الامان سے واپس آئی تھی،،رواحہ نے سکون سے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا اور اسے بے سکون کیا۔
“تو پھر چاہتی کیا ہو روح،، ماہر نے بےبسی سے پوچھا۔
“آپ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے بس،، رواحہ نے جھنجھلا کر کہا۔۔ اب وہ اپنے منہ سے بولتی کہ وہ کہنا چاہتی ہے کہ آپ کی یہ بے رخی میری جان لے لے گی۔۔
ماہر نے بھی جھٹپٹا کر اب دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر کو اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا۔۔
“کیوں؟ کیوں نہیں جاؤں؟ انسان ہوں،، فرشتہ نہیں،، بہک گیا تو تمھیں ہی شکایت ہوگی کہ،،،
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے رواحہ نے اس کے لبوں پر اپنا گداز ہاتھ رکھا تھا۔ رواحہ نے اس کے پیروں پر اپنے پیر رکھے اور زرا سا اونچا ہوئی۔۔ ماہر نے بھی جو اسے کمر سے تھاما ہوا تھا کمر کو سہارا دے کر اونچا کیا تاکہ وہ جو کرنا چاہتی ہے با آسانی کر گزرے۔
رواحہ نے اپنے کپکاتے لب اس کے ماتھے پر رکھے تھے۔ ماہر نے سکون سے آنکھیں بند کر کے وہ پھولوں جیسا لمس اپنی روح تک میں اترتا محسوس کیا۔
“آئم سوری،، وہ سسک پڑی اور اس کی گردن میں منہ دیا۔ اب برداشت کی ہر حد پار ہو چکی تھی تبھی اس نے اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔۔وہ اسے لیے بیڈ تک آیا۔۔
اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے قریب نیم دراز ہو کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی تھی۔۔ اس کا سر اپنے کندھے پر رکھا۔ کمر کے گرد بازو حمائل کیا۔۔
روح میری جان میری دھڑکن میں غور سے سنو،، جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو پر میں نے اس وقت جوکہا وہ سب بکواس تھا ،، میں نے بکواس تھی بھونک رہا تھا میں ،، میں نے صرف ایش کی وجہ سے یہ بولا تھا ،، میں تمھیں چھوڑ دوں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں مر جاؤں گا تمھیں چھوڑ کر،، روح تم میری زندگی میری آتی جاتی سانس ہو کوئی اپنی سانسیں کیسے چھوڑ سکتا ہے ،، میں نے آتی جاتی سانس سے تم سے محبت کی ہے تمھیں چاہا ہے میں آج قسم۔کھا کہ اور اس دنیا میں موجود ہر شے کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں ماہر سوہم خان تم سے عشق کرتا ہوں تم میری زندگی ہو ،، میرا عشق میری دھڑکن ہو آئی لو یو سو مچ روح تم سے میں ہوں ،، تم نے میری زندگی حسین کر دی،، اس دل کو دھڑکایا میرے سینے ،،، وہ اعتراف محبت کرتا دیوانہ وار اسے چوم رہا تھا۔۔
رواحہ نے بھی اپنے اندر تک سکون و سرشاری اترتی محسوس کی۔۔
وہ خاموش ہوا اور اس کے بالوں میں منہ دیا تو رواحہ کو اچھا نہیں لگا تبھی اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کیا تھا۔۔
“بہت برے ہیں آپ،، آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں آج کہ میں کیسی لگ رہی تھی۔۔ رواحہ نے برا سا منہ بناتے اس کے سینے پر مکے برسائے۔۔
تب وہ گہرا مسکرایا اور زرا سا اوپر ہو کر اپنی ٹی شرٹ اتاری۔ “اب بتاؤں گا نا میری جان،، کہ کہاں کہاں سے اور کتنی خوبصورت لگ رہی ہو،،اپنے ہر عمل سے،، اس کی معنی خیز لہجے نے رواحہ کو اپنے آپ میں سمٹنے پر مجبور کیا تھا۔۔
مگر آج وہ خود اس ہری بلا سے الجھی تھی تو اس کے جارحانہ تیور بھی اب اسے سہنے تھے۔ ماہر نے اس کا چہرہ اپنے سینے سے ہٹا کر اپنے سامنے کیا تھا اور اس کی سانسوں کو اپنی گرفت میں لیا۔۔
اس کے عمل بہت شدت تھی۔۔ رواحہ کی جان تو تب ہوا ہوئی جب کندھے سے فراک کھسکتی محسوس ہوئی،، اور واقعی وہ اپنے ہر عمل سے ،،ہر شدت سے اسے اچھی طرح بتا رہا تھا کہ وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی یا وہ اس سے کتنی شدت سے محبت کرتا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یہ رات مفرا کے لیے بہت پر اسرار پہلیاں اور بہت بڑا سرپرائز لے کر آئی تھی۔۔ جب وہ روم میں داخل ہوئی تو دو چھوٹے سے سفری بیگ بیڈ پر پیک پڑے تھے وہ حیران ہوئی اور اس سے پہلے ڈریسنگ کی جانب بڑھتی جبران روم میں داخل ہوا تھا۔
مفرا ادھر نہیں ادھر آؤ ہمیں نکلنا ہے،، وہ مصروف سا بولا۔ اور الماری سے نکال کر بلیک ٹوپیس کے اوپر اپنا کوٹ پہننے لگا۔
کدھر،، اسے حیرت ہوئی،،
مفرا سوال بہت پوچھتی ہو یار،، رستے میں بتا دوں گا اب چلو،،
جبران اس کی جانب بڑھا،، اور اسے صوفے سے اٹھا کر جو وہاں تیار کر کہ رکھیں گئیں تھیں، ایک لونگ سوئیٹر پہنا کر اس کے اوپر گرم شال دی،، وہ الجھی مگر جبران اس کا ہاتھ تھامے دونوں بیگ اٹھائے وہاں نکلتا چلا گیا،، رات کے ایک بج چکے تھے اور وہ بہت الجھی ہوئی تھی۔۔
جبران اسے لئے باہر آیا اور لا کر اس اپنی پراڈو میں بٹھایا۔ اور خود اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔رات کا یہ سفر بے حد پراسرار سا تھا۔
گاڑی میں ہلکا سا میوزک اپنے سر بکھیر رہا تھا جبکہ ہر طرف گہرا اندھیرا تھا۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں آپ نے بتانا ہے یا نہیں؟” مفرا نے جھنجھلا کر پوچھا۔۔
“پنجاب جا رہے ہیں ،،شہر کا نام بتایا تو تمھیں سمجھ نہیں آئے گا ابھی،، ادھر جا کر ہی پتا چلا گا،،
کس لیے،، ایک اور سوال۔۔
“سمینار ہے،، فیوچر میں تمھیں بھی اٹینڈ کرنے پڑیں گے،، تو ابھی سہی،،
“آپ نے مجھے یہ گرم کپڑے کیوں پہنائے،، اتنی سردی تو نہیں ہے،، مفرا نے پھر شوشا چھوڑا۔
“جہاں ایک دو گھنٹے میں پہنچنے والے ہیں وہاں بہت شدید ٹھنڈ ہوگی،، جبران نے اطمینان سے کہا مفرا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“آپ نے ابھی کہا ہم پنجاب جا رہے ہیں ،، تو دو تین گھنٹے میں جہاں جانا ہے پہنچ جائیں گے،، اس گاڑی میں،،؟
جبران اس کے سوالوں پر زچ ہونے کی بجائے مسکرائے گیا۔۔ تبھی گاڑی ایک جگہ جا کر جھٹکے سے رکی تھی۔۔ وہ نیچے اترے مگر سامنے ہی ہیلی دیکھ کر مفرا کی چہرے پر ہوائیاں اڑیں تھیں۔
جبران کا رخ ہیلی کی جانب تھا۔ مفرا ٹھٹھک کر رکی۔ جبران نے جو اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اسے بھی رکنا پڑا۔
“اب کیا ہوا؟ جبران نے پوچھا۔۔
“مم،، مجھے نہیں جانا اس میں ،،مجھے ڈر لگتا ہے،، مفرا نے کہا تو جبران نے دانتوں تلے لب دبایا۔
ابھی تو میری جان پتہ نہیں کون کون سا سرپرائز منتطر ہے تمھارا اس گہری رات میں،، ابھی سے ڈر گئیں،، اب چلو،، جبران نے اس کا ہاتھ کھینچا ۔
“نو،،، دیکھیں،، مجھے نہیں جانا،، آپ جائیں،، مفرا مچلی۔
“مفرا کچھ نہیں ہو گا چلو،، میں ساتھ ہوں ناں،، اب واقعی وہ اسے زچ کر رہی تھی۔۔
جبران،، مم،، مجھے اونچائی سے ڈر لگتا ہے،، یو نو واٹ،، مجھے فوبیا ہے،، وہ سہم گئی
آں ہاں ،،تو اس دن جب سوسائیٹ کرنے والی تھی اس دن کیوں سوان بن رہیں تھیں؟ اس دن نیچے گرنے کی بجائے اڑ جانا تھا کیا تم نے؟ جبران نے آئبرو اچکا کر پوچھا ۔۔
اس دن تو مجبوری تھی ناں،، وہ منمنائی۔۔
سمجھو آج بھی مجبوری ہے،، جبران نے اس کے ہاتھ پر گرفت سخت کی اور اسے لئے ہیلی کی جانب بڑھا۔
جبران میرے پیارے شوہر نہیں ،،پلیز پلیز پلیز،، مجھے نہیں جانا اس میں ،،جبران کا قہقہہ ضبط کرنے کے چکر میں چہرہ سرخ ہو گیا۔
ہاں وہ تو ہوں،، بلکہ بہت پیارا ہوں،، اس بات پر قائم رہنا پھر،، اوکے،،
کس بات پر،، مفرا چونکی
پیارا شوہر ہونے پر،، جبران نے اسے الجھایا اور باتوں باتوں میں لیے ہیلی تک پہنچ گیا۔
ہاں تو میں کب مکری اپنی بات سے اس نے منہ بنایا۔
اوکے پھر وہ ایک جھٹکے سے اسے لیے ہیلی میں بیٹھ چکا تھا۔
“آپ چیٹنگ کر رہے ہیں ،،وہ چلائی۔
“ہر گز نہیں ،، وہ کیا ہوتی ہے مجھے تو نہیں معلوم،، اس نے معصومیت کا ریکارڈ قائم کیا۔
” جبران مجھے ڈر لگ رہا ہے ،،وہ اس کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی۔
“ابھی تو کئی امتحاں اور بھی ہیں،،
وہ پراسرار سا مسکرایا۔ جب ہیلی سٹارٹ ہونے لگا تو مفرا نے اس کے بازو میں منہ دے لیا۔
یہ سفر یقینا مفرا کے لئے یاد گار ترین ہونے والا تھا ۔۔ جبران نے سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔۔
اس نے سمینار کا جھوٹ بولا تھا۔ وہ ایک خاص مقصد خاص کام سے پنجاب جا رہا تھا۔ وہ کیا تھا یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کل کی ایپی کافی سارے سرپرائز ایکشن تھرل اور ظاہر ہے رومانوی مناظر سے بھر پور ہو گی۔ یہ شارٹ ہے جانتی ہوں۔ اب لائیو آنے کی خوشی میں مینج کرو بھئی۔ پنجاب کے ایک ایسے چھوٹے سے شہر کی سیر کرواؤن گی کہ آپ خود کو بھی وہیں خوابناک اور تصوراتی وتخیلاتی دنیا میں محسوس کریں گے۔ اور سوچیں گے یہ شہر واقعی پاکستان میں ہی ہے؟ منجانب
