Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

جو بات بات پہ،،،، ،،،تکرار کرنے والا تھا
وہ شخص ہم سے بہت پیار کرنے والا تھا

وہ جو نا چاہتے ہوئے بھی اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا مگر ایسا ہو رہا تھا۔۔ نہیں جانتا تھا کہ یوں کیوں کر رہا ہے۔۔مگر اس کے باوجود کیے جا رہا تھا۔
تبھی کانفرنس میں بیٹھے فون پر میسج ٹون بجی تھی۔ اوپن کر کے دیکھا تو حسن مینشن کے باہر کے منظر کی پک تھی۔ جس میں وہ بھیگے چہرے سے گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی۔
تبھی وہ سب سے ایکسکیوز کرتا بے چینی سے باہر آیا تھا۔ تبھی دوبارہ میسج آیا کہ وہ اسی ہوسپیٹل میں ہیں نیچے والے فلور میں تو وہ بھاگ کر نیچے آیا۔
اس کے آنسوؤں سے تر سرخ چہرے نے آریان کے دل کو تکلیف پہنچائی تھی۔ اور اب وہ اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جو معمولی زخم پر واویلا مچا رہی تھی۔۔

نو نو نو،،مجھے پین ہو رہا ہے،، وہ مچلی، آریان نے سسٹر کو اشارہ کیا۔ سسٹر نے اس کا بازو تھام لیا۔
ہٹو پیچھے وائٹ چلغوزے،، وہ چلائی۔
شٹ اپ چھپکلی،، وہ بھی غرایا،، اب اگر شرافت کا مظاہرہ نا کیا تو بہت برا پیش آؤں گا۔۔ آریان نے اسے بری طرح جھڑکا۔
وہ منہ بسور کر رہ گئی مگر اب شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش ہو گئی تھی۔
آریان نے اس کے بازو کی ٹریٹمنٹ شروع کی،، مگر شفا نے تڑپ کر اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
آریان کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی۔ مگر ضبط کیے رکھا ۔ اور اس کا وہ ہاتھ تھام کر سسٹر کے ہاتھ میں تھما دیا۔
آریان نے جب اس کے چھالے نکالنے چاہے تب اس نے دلخراش چیخ مار کر اس کی شرٹ دبوچی تھی۔
وہ آریان کے لئے سراپا امتحان بن چکی تھی۔ تبھی آریان نے اپنے جبڑے بھینچے تھے۔۔
اب اگر نہیں چاہتی کہ اس دن کی طرح تمھیں باندھ کر تمھارے ہوش ٹھکانے لگاؤں تو مجھے اپنا کام کرنے دو،،، وہ غرایا شفا نے سرخ چہرہ لیے اس کی شرٹ چھوڑ دی۔۔
اس بھر پور دنگل کے بعد آخر آریان اس کی بینڈیج کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا۔ اور اب باری تھی اسے پین ریلیف انجیکشن لگانے کی۔

جسے آریان کے ہاتھوں میں دیکھ وہ پھر بدک گئی تھی۔۔
نو نو،، مجھے نہیں لگوانا،، کسی صورت نہیں،، وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے کھسکنے لگی۔۔
تب آریان نے سسٹر کی جانب دیکھا۔ سسٹر یہ میڈیسنز کی لسٹ ان کے فادر کو دیں،، بلکہ ایسا کریں انھیں خود فارمیسی تک لے کر جائیں۔۔
اوکے ڈاکٹر،، سسٹر نے کہا اور پیپر تھام کر دبی دبی سی مسکان لیے وہاں سے چلی گئی تھی۔شاید جانتی تھی کہ اب ڈاکٹر آریان اس میڈ گرل کو خود ہی قابو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔

وہ گئی تو آریان اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔ میڈم اب شرافت سے لگوانا ہے کہ زبردستی کروں؟ آریان کا لہجہ معنی خیز تھا۔۔
واٹ،، ہاؤ ڈئیر یو،، تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ بولنے کی کہ تم میرے ساتھ ایسا کچھ کر،،،،،
ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب آریان نے سرد سی آہ بھری اور بلکل اچانک ہی اس کی ٹانگوں پر اپنا گھٹنا رکھا ایک ہاتھ سے دونوں ہاتھ پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اس کے بازو میں انجیکشن انجیکٹ کر دیا۔۔
آؤچ،،،، وہ چلائی۔۔ آریان کو ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔ مگر اس زخمی شیرنی سے اس وقت الجھنے کا مطلب تھا وہ گنجا ہو جاتا۔ تبھی اتنی ہی تیزی سے پیچھے ہٹا تھا اور خاموشی سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگا۔۔

ہاو ڈئیر یو،،، یو وائٹ چلغوزے،، تمھاری ہمت کیسے ہوئی،،،، وہ بیڈ پر بلیوں کی طرح ناخنوں سے سکریچ مارتی چلائی۔۔
ایسے ہی ہوئی جیسے ابھی ہمت کر کے دکھائی،،، وہ اطمینان سے بولا۔
اتنے میں کامران حسن اندر داخل ہوئے تھے۔۔ ویل ڈن ینگ مین یقینا جگرے والے ہو،، کامران حسن نے آریان کا کندھا تھپتھپا کر کہا( یقینا اپنی جنگلی بیٹی کے واویلوں کا اندازہ ہوگا )
اب شفا نے اپنے پاپا کو گھورا تھا۔ تو وہ ہنس دئیے۔۔
شفا مجھے جانا ہوگا کال آئی ہے ضروری،، تم کچھ دیر آرام کرو پھر پھپھو کے ساتھ گھر چکی جانا ،،اوکے
اوکے پاپا،، وہ اداس ہوئی کامران اس کا ماتھا چومتے نکلتے چلے گئے۔
آریان بھی اپنی چیزیں سمیٹ چکا تھا،، وہ سسٹر کے ساتھ باہر نکلا تو شفا نے اس کی چوڑی پیٹھ کو دیکھا۔ ہو جنگلی مگر کافی سوئیٹ ہو چلغوزے ،،وہ دل میں مخاطب ہو کر مسکرائی یہ جانے بغیر کے آگے زندگی اسے بہت ٹف ٹائم دینے والی ہے کہ وہ بہت رونے روئے گی بہہہہہہہت۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

منی ایک بڑا سا پیکٹ لے کر رواحہ کے روم میں داخل ہوئی تھی۔ وہ جو بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔اس کے تو ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے۔ منی کو ہنسی تو بہت آ رہی تھی مگر دبائے رکھی کہ اس کے چھیڑنے سے وہ اور زیادہ گھبرا جاتی ۔۔
منی نے پیکٹ لا کر بیڈ پر رکھا،، ارے مارش میلو چلو جلدی سے اٹھو،، اور یہ پہن کر آؤ،، یہ سب تیرے سر تاج کی پسند کا ہے اس نے بھیجا ہے سامان، منی جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی۔ اور پیکٹ میں سے ڈریس نکالا۔
جسے دیکھ رواحہ کی سٹی گم ہوئی تھی۔۔سرخ میکسی تھی شاید،،
مم،، منی،،، ی،، یہ،،
ارے اٹھ بھی جا دیر ہو رہی ہے پورے گیارہ بجے پہنچنا ہے وہاں اور بس آدھا گھنٹا رہ گیا ہے،، منی نے زبردستی اسے پکڑ کر ڈریس تھما کر واش روم دھکیلا۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ لرزتی کانپتی ڈریس پہنے باہر آئی۔ تو منی تو فدا ہی ہو گئی۔۔
پیروں تک سرخ میکسی، جس کے گلے پر سلور پرل لگے ہوئے تھے۔ مگر آگے پیچھے کے گلے کافی گہرے تھے۔ جن سے اس کی تمام رعنائیاں صاف چھلک رہیں تھیں۔
منی یہ،،، وہ بری طرح جھنجھلائی۔
ارے فکر کیوں کرتی ہے یہ دیکھ یہ بھی ہے نا،، اس نے پیکٹ سے ایک سرخ جیکٹ نما اپر نکال کر رواحہ کو تھمایا جو اس نے پہن لیا۔
ویسٹ تک آتی اس خوبصورت ڈیزائن والی اپر نے اس کا جسم چھپا لیا تھا۔
اب منی نے اسے ڈریسنگ کے سامنے بٹھایا تھا۔ اور بہت ہی مہارت سے بس لائینر مسکارا لگا کر بلڈ ریڈ کلر میں لپ اسٹک لگا دی۔ منی یہ،،، اس نے احتجاج کرنا چاہا۔
اے چپ کر،، یہ سب تو اس ہری بلا کی فرمائش پر کر رہی ہوں میں،،سجنا ہے تجھے سجنا کے لئے،،،،
منی نے کہا اور اینڈ میں شرارت سے گنگنایا تو اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔
پھر منی نے کانوں میں ہلکے سے ٹاپس پہنائے اور میچنگ ریڈ سینڈل،،اوپر سے سٹریٹ اور نیچے سے ہلکے کرلی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا،، لو جی تیار ہے دلہن،، منی نے کہا تو وہ جی جان سے لرزی۔۔
مم،، منی سسب،، کیا سوچیں گے،، وہ گھگھیا گئی،، ایک تو وہ گرین مونسٹر اوپر سے اس کی توبہ شکن تیاری اس کے ابھی سے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
ارے کوئی نہیں دیکھے گا، سب اپنے اپنے روم میں ہیں،، وہ کہتی اس کے کندھوں پر شال پھیلاتی بولی۔۔
اب چلو،، منی اسے لئے باہر آئی ۔۔ گاڑی تیار ہی کھڑی تھی جیسے،، وہ گاڑی میں بیٹھیں۔۔
آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد گاڑی سی ویو والے اپارٹمنٹ کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی تھی۔ رواحہ نے مضبوطی سے منی کا ہاتھ تھام لیا۔۔ دل تیزی سے دھڑک دھڑک کر پسلیوں سے سر ٹکرانے لگا۔
لو جی مارش میلو ،، میرا ساتھ تو یہیں تک تھا اب تمھیں اکیلے ہی اگلی منزل طے کرنی ہے،مجھے تو واپس جانا ہے،، منی بے نیازی سے بولی۔۔
چارہ بھی تو کوئی نہیں تھا دامن بچانے کا اور نا ہی کوئی جائے فرار تھی۔وہ گاڑی سے اتر کر دھیمے دھیمے چلتی لاؤنج میں آئی۔۔
لاؤنج میں کھڑے گارڈز نے باہر سے ڈور بند کر دیا تھا۔

رواحہ حیران ہوئی۔ اپارٹمنٹ کا تو نقشہ ہی بدل دیا گیا تھا۔
زمین پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی ۔ملگجی سی روشنی میں ہر طرف تازہ پھولوں کے بوکے اور کینڈلز لگیں ہوئیں تھیں۔۔
وہ وہیں پتھر ہو گئی قدم من من کے بھاری ہو گئے تب وہ جو صوفے پر اس کی جانب پیٹھ کئے بیٹھا تھا اٹھ کر اس کی جان. مڑا بلیک پینٹ کے اوپر ریڈ شرٹ پہنے وہ نہایت ہینڈسم لگ رہا تھا۔مگر اس کی خود کی نگاہ ایک منظر پر آ کر جم سی گئیں تھیں۔
وہ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا۔ جو شال مضبوطی سے تھامے نگاہیں جھکائے سراپا قیامت بنی کھڑی تھی۔۔

ماہر سوہم خان نے اس کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلایا جو اس نے لرزتے کانپتے تھام لیا۔
ہیے ریلیکس یار،، اتنا گھبرا کیوں رہی ہو،، وہ اس خود سے لگائے بولا تو اس کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔۔
وہ اس لئے صوفے تک آیا اور کندھے سے تھام کر اسے صوفے پر بٹھا دیا۔۔خود اس کے قریب بیٹھ گیا۔
کیا کھاؤ گی؟ ٹیبل پر انواع و اقسام کی گرم گرم اشیا چنی گئیں تھیں۔۔ منی نے جو نکل کر اسے میسج کر دیا تھا تب اس نے آرڈر کیا تھا۔
ماہر نے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اسے کھانا کھلایا۔۔ اس نے بھی ہمت کر کے اس کے منہ میں نوالے ڈالے تھے۔۔
ماہر کی خود پر اٹھتی گہری نگاہ اسے پانی پانی کر رہی تھی۔

کھانا کھا چکے تو ماہر نے اس کے ٹھنڈے پڑتے ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے کر سہلائے۔۔
اور مجھے کسی نے بولا تھا کہ وہ مجھ سے نہیں ڈرتی،، اب کیا ہوا ہے مارش میلو؟ وہ اطمینان سے بولا۔۔
چلو،، وہ اس کا ہاتھ تھامے اب اپارٹمنٹ سے باہر آیا تھا۔ کچھ دور چل کر اب وہ دونوں ننگے پاؤں تھے۔ سمندر کی نرم گرم لہریں پاؤں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہیں تھیں۔
ایک دوسرے میں مگن وہ یونہی باتیں کرتے رہے۔ چاندنی رات کی بکھری چاندی میں وہ سرخ لباس میں آسمان سے اتری اپسرا لگ رہی تھی۔
ماہر آپ کو پتہ ہے یہ میری کتنی بڑی خواہش تھی سمندر دیکھنے کی،، وہ چہکی مگر خود پر اٹھتی اس کی پر حدت نگاہ نے اس کی چلتی زبان کو بریک لگائی تھی۔۔

تب ماہر سوہم خان نے نرمی سے اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حمائل کیے اسے خود سے لگایا تھا۔ رواحہ کی نگاہیں جھک گئیں۔ماہر نے جھک کر عقیدت سے اس کی دونوں آنکھوں پر اپنے لب رکھے تھے۔ اس کے چہرے کا ایک ایک نقش چوما۔ اور اب پرحدت دہکتے لب اس کہ گردن پر رکھے۔
مم ماہر،،، اس نے اتھل پتھل ناہموار سانسوں کے ساتھ اسے پکارا۔
اوونہوں،،، بوجھل سی آواز میں بولا گیا۔
کک کوئی دد،، دیکھ لے گا،، سرگوشی مدھم سی تھی۔
ماہر گہرا مسکرایا تب اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا۔۔ ماہر نیچے اتاریں،، گارڈز دیکھ لیں گے،، وہ روہانسی ہوئی۔
اششش مارش میلو،، خاموش رہو،، کوئی نہیں دیکھے گا۔۔

وہ اسے لئے اپنے روم میں آیا تھا۔اور پیر سے دروازہ لاک کیا۔۔ روم لاؤنج سے بھی زیادہ خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔ ماہر نے اس بیڈ پر پھولوں کے درمیان اتارا تھا۔۔ وہ جی جان سے لرزی۔
ماہر نے اس کے سامنے بیٹھ کر پینٹ کی پاکٹ میں سے کچھ نکالا تھا۔ اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا تو اس میں ایک بہت ہی خوبصورت بریسلٹ تھی۔ ماہر نے خود ہی اس کی کلائی آگے کی اور وہ بریسلٹ پہنا دی۔اس نے ہاتھ پیچھے کرنا چاہا مگر ماہر سوہم خان نے کلائی مضبوطی سے پکڑ کر جھک کر اس کلائی پر اپنے لب رکھے۔
پورے بازو پر لب رکھتا وہ گردن تک آیا تھا۔
مم،، ماہر،،،
اششششش،،،، خاموش رہو روح،،، اس نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے، انگوٹھے سے اس کا سرخ رنگ میں رنگا لب سہلایا۔۔ تب بے چین سا ہوتے ہوئے اس نے رواحہ کی سانسوں کو اپنی دسترس میں لیا۔۔
ماہر کے عمل میں نرمی، عقیدت اور محبت تھی۔ رواحہ نے اس کی شرٹ اپنی مٹھیوں میں جکڑی۔
رواحہ کو آج ہر حال میں اس منہ زور طوفان اور مونسٹر کی شدتیں،، جنون اور دیوانگی برداشت کرنی تھی۔
کمر پر سرکتے ماہر کے ہاتھوں نے اس کے کندھوں سے وہ اپر سرکایا تھا۔ رواحہ کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی۔
اس کی محبت اور شدت سے بے حال ہوتے رواحہ نے خود کو اس کے کشادہ سینے میں چھپایا تھا۔ یہ خود سپردگی کا عالم تھا۔
ماہر کے لبوں پر ایک آسودہ سی مسکان بکھری تھی۔ تب اس نے اپنی روح کو اپنی آغوش میں لے کر بیڈ پر لیٹتے لائٹ آف کی تھی۔۔
بند کھڑکیوں سے چھن کر کے آتی چاند کی چاندنی بھی جیسے ان کے ملن پر شرما کر واپس چلی جاتی تھی۔
گہری رات نے محبت نے پر پھیلا کر سمیٹے تو ان کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ محبت عقیدت اور پاکیزگی لیے یہ دو دلوں اور روحوں کا بندھن آج مکمل ہو گیا تھا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ کافی دیر کے بعد ابراہیم ہاؤس لوٹا تھا۔ اب جب اسے حقیقت کا تدارک ہو گیا ہوگا تو وہ بلکل وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اسے وائٹ پیلس لے جانے میں تبھی دھیمے قدموں سے چلتا اس اس روم میں داخل ہوا تھا جہاں وہ دشمن جاں بیڈ پر کمفرٹر میں دبکی بھر پور نیند لے کر اٹھ چکی تھی اور اب بیزاری سے کروٹیں بدل رہی تھی۔
تب وہ بیڈ کے قریب آیا۔۔
آروشے مجھے پتہ ہے تم جاگ رہی ہو اٹھو،، ہمیں جانا ہے کہیں ،،وہ مصروف سا بولا۔
بیزار تو وہ پہلے ہی تھی۔ اٹھ بیٹھی۔ اور یہ دیکھ کر بوکھلا گئی کہ وہ بلکل اس کے سر پر کھڑا تھا۔ ایشان نے اس کی گھبراہٹ دیکھ مسکراہٹ چھپائی۔۔
وہ اٹھ کر اس کے روبرو آئی۔
ٹھیک ہے آپ کی ساری باتیں ٹھیک،، مگر مجھے علیزے سے ملوا دیں،، وہ انگلیاں چٹخاتی بولی۔۔
تمھیں اس کی بیماری کا پتہ ہے؟ ایشان نے بالآخر بات شروع کی (مگر مجبور تھا ڈاکٹر جنت کے مطابق ڈیتھ کا تو ابھی بھی نہیں بتا سکتا تھا۔۔)

جج جی،، مم،، مجھے پتہ، ہے، وہ اس حادثے سے پہلے ہی بیمار تھی،، علاج چل رہا تھا،، مگر اس نے سب سے چھپاپا،، وہ جانتی تھی،، کہ بیمار ہے،، مگر مم،، مجھے کسی طرح معلوم ہو چکا تھا،، وہ خود پر ضبط کرتی بولی۔
ہممم،، تو اسے علاج کے لئے امریکہ بھیجا ہے،، وہ ادھر ہے،، ایشان نے نگاہیں چراتے کہا۔۔
تو میری فون پر بات کروا دیں،، اس نے اگلا آپشن بتایا۔
وہ انڈر آبزرویشن ہے اور رات کے اس وقت بات کرنی ہے تمھیں،، ایشان نے اسے سمجھانا چاہا۔
بس ایک جھلک دکھا دیں،، وہ رو ہی پڑی۔۔
صبح کو،، ایشان نے اسے کندھوں سے تھاما،، وہ کسمسائی۔ اور جھتکے سے پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔۔
چلو،، ایشان نے سنجیدگی سے کہا۔ تو وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی.

وائٹ پیلس پہنچ کر اس نے جو سب سے پہلا چہرہ دیکھا اور پہچانا تھا وہ فجر کا تھا تبھی وہ اس سے لپٹ کر رونے لگی تھی۔۔جبکہ ابھی وہ سب انجان تھے کہ آروشے ٹھیک ہو چکی ہے۔
ارے روشے بےبی کو کیا ہوا ہے، مجھے بتاو اس ایش نے پریشان کیا ہے میں ابھی اسے ہوچھتی ہوں،، فجر نے اسے پچکارنا چاہا ۔
ایشان نے دانتوں تلے لب دبایا۔
فجر آپو،، مم،، میں ٹھیک ہوں اب،، وہ سرخ چہرہ لیے اس سے الگ ہو کر بولی تو فجر کو خوشگوار حیرت ہوئی۔۔
ارے،، واقعی،، فجر نے اس کا منہ چوما۔
بھابھی آپ کیوں جاگ رہی ہیں اس وقت تک ؟خیرت تو ہے؟ آپ کو اس کنڈیشن میں آرام کرنا چاہئے،، ایشان کے شوشے پر فجر لال سرخ ہوئی۔مطلب وہ بھی جانتا تھا۔
وہ نیند نہیں آ رہی تھی اور یہ بھی شام کے نکلے ہوئے ہیں اپنے کسی دوست کی امی کو ہوسپٹل لے گئے ہیں،، اور تو اور حویلی میں بھی کوئی فون نہیں اٹھا رہا ایشان میرا دل گھبرا رہا ہے،،

آروشے تم روم میں جا کر فریش ہو میں بھابھی کو ان کے روم میں چھوڑ کر آتا ہوں،، وہ کہتا فجر کا ہاتھ تھامے اسے روم تک لایا۔آروشے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔
ایشان نے فجر کو لا کر بیڈ پر بٹھایا۔
بھابھی بلکل ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں چلئیے لیٹ جائیں،، آپ کو پتہ ہے اس وقت آپ کے لئے ٹینشن لینا کتنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے،، وہ اسے سمجھاتا ہوا بیڈ پر لیٹنے کا اشارہ کرتا کمفرٹر درست کرنے لگا۔
شاباش،، سو جائیں اچھا اچھا سوچیں، انشاءاللہ سب ٹھیک ہو گا،، اوکے۔
فجر نے کمفرٹر میں لیٹ کر آنکھیں موند لیں،، تو وہ خاموشی سے
وہاں سے نکل کر اپنے روم میں چلا آیا۔۔
وہ جو ڈریسنگ سے ڈریس نکال کر بیڈ پر رکھ کر گہری سوچ میں تھی قدموں کی روم تک آتی بھاری چاپ سن کر ہڑبڑا کر واش روم میں گھس گئی۔۔

ایشان اندر آیا تو بیڈ پر ڈریس پڑا تھا۔ وہ ویٹ کرنے لگا کیونکہ ابھی اسے کھانا کھلا کر میڈیسن بھی دینی تھی۔۔ مگر اس کا یہ انتظار طویل ترین انتظار میں بدلتا چلا گیا جب وہ گھنٹے بھر سے باہر نہیں نکلی تھی۔۔
اب تو کافی دیر ہو چکی تھی اور جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کا میٹر شارٹ ہوا جا رہا تھا۔۔پریشانی جو ہو رہی تھی سو الگ کہ اتنی دیر ہو چکی تھی وہ اندر آخر کون سے جھمیلوں میں پھنس گئی تھی۔۔

اندر واش روم میں آروشے باتھ ٹاول میں لپٹی باتھ ٹب کے کنارے اطمینان سے گھٹنوں پہ چن ٹکائے بیٹھی تھی۔اپنی کی گئی حرکتیں یاد آتے ہی اس شخص کی وارفتگی میں ڈوبی حدت بھری نگاہوں کا سامنا کرنا مشکل امر تھا تبھی وہ اس سے بچ کے گھنٹے بھر سے یہی ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی۔۔یہ وہی ٹب تھا جہاں ایک دن وہ ڈکلنگ بنی بیٹھی تھی۔۔افففففففف کیا کیا کیا تھا اس نے۔۔
Sssssssssshhhhhiiiiiiitttt

اب بھی بس ایک پریشانی تھی وہ اس کے آنے سے پہلے باتھ روم میں گھسنے کے چکروں میں کپڑے باہر بیڈ پر ہی بھول آئی تھی۔
اور اب پنڈلیوں تک باتھ ٹاول پہنے بیٹھی تھی۔۔

ایشان کی برداشت نے جواب دیا تھا۔ تبھی کلک کی آواز پر دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ بری طرح بوکھلائی تھی۔۔
جبکہ ایشان اندر آ کر اب اطمینان سے اسے ملاحظہ کر رہا تھا۔
آ،،، آپ کی ہمت کک،،،، کیسے ہوئی،، ایسے،، اندر آنے کی،، وہ سہمی۔
جیسے پہلے ہوئی تھی ہمت روشے بےبی،، مجھے لگا وہ گیمز جو ہم اس باتھ ٹب میں کھیل چکے ہیں انھیں تم مس کر رہی ہوگی تبھی تو یہاں ڈیرہ ڈال کر بیٹھی ہو۔۔ اسی لئے تمھیں کمپنی دینے چلا آیا۔۔
کک کونسی گیمز؟ اس کی زبان پھسلی مگر یہ احساس ہونے پر کہ وہ کس قدر بے ہودہ سوال کر بیٹھی ہے دانتوں تلے زبان دبائی۔۔

ڈکلنگ والی اور عمران ہاشمی والی،، ایشان نے اس کا سرخ ٹماٹر چہرہ دیکھ دانتوں تلے لب دبایا۔۔
میں آپ کے منہ نہیں لگنا چاہتی،، وہ جو جی جان سے لرزی تھی اپنی گھبراہٹ پہ بمشکل قابو پاتی غراتی اس کے پہلو سے باہر نکلنے لگی۔۔
جب بہت اچانک ایشان نے اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹ کر اسے دیوار سے پن کیا تھا۔۔ اس کی گردن سے گیلے بال ہٹائے۔
ابھی منہ لگنے کی گستاخی کی ہی کب ہے روشے بےبی،،،
گردن پر دہکتے لب رکھے۔۔ آروشے کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے یہ بھی پنگا اس نے جان بوجھ کر لیا تھا جو اس کے گلے پڑ چکا تھا۔

چھ،،، چھوڑیں،، مجھے،، وہ بری طرح مچلی،، مگر گرفت آہنی تھی سامنے والے کی مرضی کے بغیر اس گرفت سے نکل پانا آروشے کے لئے ناممکن تھا۔
تبھی مدہوش اور بے خود سا ہوتے ایشان نے خود پر سے کنٹرول کھوتے اس کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھا کر ان گداز لبوں کی نرماہٹیں اپنے اندر اتاریں تھیں۔
آروشے کی روح فنا ہوئی تھی۔ کیونکہ لمس پر حدت پگھلاتا ہوا سا تھا۔
آروشے نے اس کی شرٹ دبوچ کر اسے دور ہٹانا چاہا ۔۔ بے حال ہوئی اس کی حالت دیکھ ایشان نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔ آروشے لمبے لمبے سانس بھرتی اپنا سانس ہموار کرنے کی کوشش کرنے لگی جو وہ منٹوں میں اٹکا چکا تھا۔ ایشان نے دلچسپی سے اس کے بھیگے سراپے اور لبوں کو دیکھا۔
ایک گیم تو کھیل لی اب دوسری کے بارے میں کیا خیال ہے آروشے،، وہ شرارت سے بولا۔
میں نے کہا ہٹیں سامنے سے ،،جانے دیں مجھے،، بہت ہی کوئی بدتمیز اور بے شرم انسان ہیں آپ ،ایسے کوئی واش روم میں گھستا ہے کیا۔ وہ خفت مٹانے کو غرائی مگر اس سے نگاہیں اب بھی نہیں ملا رہی تھی۔۔
مجھے تم نے ہی اکسایا روشے بےبی اب مجھے الزام مت دو، وہ اطمینان سے بولا۔
آروشے نے اسے دکھا دے کر پیچھے ہٹایا اور وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔
باہر آکر بیڈ پر سے ڈریس اٹھا کر وہ ڈریسنگ روم میں گھس گئی تھی۔۔
تب ایشان مسکراتا باہر آیا۔ اور باہر جا کر گارڈ سے اپنا آرڈر رسیو کیا۔
وہ کھانے کی ٹرے لیے روم میں داخل ہوا تھا۔ تب وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی بال برش کر رہی تھی۔
آؤ آروشے کھانا کھاؤ،، وہ شرافت سے اٹھ گئی اب اسبپاگل آدمی سے وہ بلکل الجھنا نہیں چاہتی تھی۔
چپ چاپ کھانا کھایا، اس کے ہاتھ سے میڈیسن لی اور آ کر اپنی سائیڈ بیڈ پر لیٹ گئی۔
ایشان نے سرد سی آہ بھری اور اپنی سائیڈ آ کر چپ چاپ لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
Continue,,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایپی ہر روز ایک جتنی ہوتی ہے وہ بھی پورے 3k ورڈز سے بھی زیادہ،، آئندہ کسی نے بھی مطلب کسی نے بھی رویو دینے کی بجائے کمنٹ میں short epi ،،، next یا late epi لکھا تو ڈائریکٹ بلاک کروں گی🤬😠😡 اور جس کو زیادہ جلدی یا بے صبری ہے وہ ناول کمپلیٹ ہونے کا ویٹ کرے اور بعد میں پورا پڑھے۔۔
بے حد ناراض اور غصیلی سی جھٹکا رانی۔۔😠😡😬