No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
فضا میں کب رچی ہے ،،،،،،اس کی خوشبو جان لیتی ہوں
میں بند آنکھوں سے بھی اس شخص کو پہچان لیتی ہوں
آج وہ کافی دن کے بعد وائٹ پیلس لوٹا تھا۔ گرے ہڈی کے نیچے بلیک ٹراؤزر میں اونچے لمبے سر وقد میں بھاری بوٹوں کی آواز لاؤنج میں گونجی تو سب متوجہ ہوئے تھے۔۔
وہ جو کھڑکی سے اسے دیکھ چکی تھی اپنے آس پاس اس کی خوشبو محسوس کر چکی تھی ۔ اب بے حد ناراضگی سے کہیں جا چھپی تھی۔
روحا نے بیٹے کو سینے سے لگایا تھا۔ رحاب اور زمل نے بھی اس کی بلائیں لیں اور سینے میں بھینچا۔ سب موجود تھے۔ مگر دو کائی جمی سبز آنکھیں جس کی متلاشی تھیں وہ کہیں بھی ایک مرتبہ بھی دکھائی نہیں دی تھی۔۔
بھائی کسے ڈھونڈ رہے ہیں ؟ ماہ بیر نے چھیڑا ۔ سب کے چہرے پر دبی دبی ہنسی تھی۔ ماہ بیر کہ بولتی بند کرنے کے دو شعلے لپکاتی سبز نگاہوں کی ایک گھوری ہی کافی تھی۔۔
مگر اس مارش میلو کی اتنی ناراضگی کا سوچ ایک مرتبہ تو اس گرین مونسٹر کے لبوں کو بھی گہری مسکان نے چھوا تھا۔
شام کا وقت تھا۔ سب چائے پیتے خوش، گپیوں میں مصروف تھے۔
تب وہ ہڈی کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالتا اپنے کمرے میں آیا تھا۔ ایک گہری نگاہ کمرے کے چاروں اطراف ڈالی۔ آ کر کھڑکی میں کھڑا ہوا۔
زخم کافی مندمل ہو چکے تھے۔ مگر سینے پر ابھی بھی دل کی جگہ بینڈیج موجود تھی۔مگر وہ پھر بھی اس کہ ناراضگی کا سوچ چلا آیا تھا۔مگر وہ ایسے اسے سزا دے گی سوچا نہیں تھا۔
اب اسے اس کی تکلیف کا احساس ہوا تھا۔ وہ کچھ دیر سے ہی سہی اس کی نگاہوں سے اوجھل تھی تو سینے میں سانس الجھنے لگی تھی اس نے تو پورا ڈیڈھ ماہ اپنی مارش میلو کو ہجر کی سولی پر لٹکایا تھا۔
اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی تو پیچھے مڑا۔۔ منی تھی۔
کہاں ہے؟ ماہر سے زیادہ دیر انتظار نہیں ہوا۔
اماں. ریشماں کے کمرے میں،، منی نے جواب دیا۔
بلاؤ اسے منیب،، کہو ماہر نے بلایا ہے،،تو آ جاؤ، بچت ہو جائے گی،، اگر گرین مونسٹر خود اٹھانے گیا تو اس کی چھوٹی سی جان پناہ مانگے گی مجھ سے،، اس کی آنکھوں میں لپک اور لہجے میں سرسراہٹ تھی کہ منی کو جھرجھری آئی۔
بلایا تھا،،اس نے آنے سے انکار کر دیا،، اب پتا چلا وہ کتنی تکلیف سے گزری ہوگی،، منی نے جتایا۔
اٹھا لاؤ منیب اسے،، وہ جھنجھلایا۔
منی کو ہنسی آئی۔ مگر ضبط کر گئی اس وقت اس بلا کے آگے ہنس کر اسے اپنے دانت نہیں تڑوانے تھے۔
ارے ہٹ،، اماں ریشماں کے سامنے اٹھاؤں؟ اتنی جرات نہیں ابھی مجھ میں،، مگر ایک مرتبہ بلانے کی کوشش ضرور کرتی ہوں رکو،،
اس کی ضبط کی طنابیں ٹوٹتی دیکھ منی اب ریشماں کے کمرے میں آئی تھی۔
دستک دے کر اندر آئی۔ ریشماں جو رواحہ سے قرآن مجید کی تلاوت سن رہی تھی۔ اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو وہ بری طرح گڑبڑائی۔
وہ اماں،، رواحہ کو فجر بب،،، بلا رہی ہے،شش،، شاید اس کی طبیعت ٹھیک نہیں،، جھوٹ بولتے زبان لڑکھڑائی۔ جو رواحہ اچھی طرح سمجھ چکی تھی اسی لئے منی کو نروٹھے پن سے گھورا۔
ریشماں جو رواحہ کی یہاں بےوقت موجودگی دیکھ بہت کچھ سمجھ گئی تھی منی کو کڑے تیوروں سے گھورا۔۔ منی کی تو جان ہی ہوا ہو گئی۔۔
جج جاتی ہوں میں تو،، اماں سنیں آپ تلاوت،، منی کہتی وہاں سے کھسکی۔
اور سیدھا ماہر کے پاس آ کر دم لیا۔ اب جب کڑے تیوروں سے اس گرین مونسٹر نے اسے گھورا تو وہ رونی شکل بنا کر بولی۔
ارے مارو،، مجھے مارو،، ایک مرتبہ ہی جان نکال لو مجھ غریب کو سب کے سب وہاں اماں اور یہاں یہ ہری بلا،، وہ روہانسی ہوئی۔
ماہر نے جبڑے بھینچے۔ اففففف ڈرامہ کوئین،، جاؤ منیب تم،، میں خود ہی دیکھ لونگا اسے۔ اس نے اطمینان سے کہا۔
منی جھلاتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس نے گہری سانس بھری اور ریشماں کے کمرے کی جانب آیا۔
ہلکی دستک دی۔ اجازت ملنے پر اندر آیا۔
السلام وعلیکم دادو،، کیسی ہیں آپ؟ اس نے اندر آ کر سلام کیا اور اپنی جانب پیٹھ کیے بیٹھی اس شاکنگ پنک وجود کو گہری نگاہوں سے دیکھا جو اس کے ضبط کا امتحان لینے پر تلی بیٹھی تھی۔ شاکنگ فراک کے نیچے چوڑی دار پاجامہ، شاکنگ دوپٹے میں لپٹی وہ اس کے دل پر مسلسل اپنا چہرہ نا دکھا کر قہر ڈھا رہی تھی۔ ہاں مگر براؤن کرلی بالوں کی موٹی چوٹی کمر سے نیچے ضرور دوپٹے میں سے جھانک کر اپنا دیدار کروا رہی تھی۔
جبکہ اس کی آمد پر اور آواز سن کر رواحہ کے گلے میں گٹھلی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔ پیشانی عرق آلود ہوئی مگر جی کڑا کر کے بیٹھی رہی۔
میں ٹھیک ہوں بچے،، تم کیسے ہو،، ریشماں نے اس کا ماتھا چوما۔
میں بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوں دادو،، وہ اطمینان سے بولا ۔ریشماں گہرا مسکرائی۔ جبکہ رواحہ نے پہلو بدلہ۔
کیوں کیا پریشانی ہے میرے بچے کو؟ مجھے بتاؤ میں ابھی دور کرتی ہوں۔۔ ریشماں نے اسے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے دیکھ پوچھا اور ایک گہری نگاہ اپنے بیڈ پر سکڑی سمٹی بیٹھی اس نازک جان کو دیکھا۔
کچھ خاص نہیں دادو،، ہے کوئی پرابلم،، بس کچھ ناسمجھ لوگ ہیں جو منہ زور طوفانوں اور بھیانک مونسٹرز سے الجھتے ہوئے اس بات کا بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا ان کی چھوٹی سی جان ان منہ زور طوفانوں اور مونسٹرز سے الجھنے لائق ہے بھی کہ نہیں،،
وہ گہری سنجیدگی لیے مبہم سا کہتا ،کچھ نا کہہ کر بھی اپنی مارش میلو کو بہت کچھ باور کروا چکا تھا۔
رواحہ کا تو دم حلق میں ہی اٹک گیا تھا۔ واقعی سہی تو کہہ رہا تھا وہ اس منہ زور طوفان اور گرین مونسٹر سے الجھتے اس نے اپنی چھوٹی سی جان کی بھی پرواہ نہیں کی تھی۔۔
اب وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس کا کیا حشر ہونے والا تھا۔
چلتا ہوں دادو،، آپ کریں جو کر رہی تھیں،،ابھی مجھے کچھ کام ہے ،،کچھ دیر کے لئے ملنے آیا تھا ،واپس جا رہا ہوں،، پھر جانے کب ملاقات ہو،۔۔ وہ کہتا،، ایک گہری نگاہ اس کی کمر پر ڈالتا وہاں سے نکل آیا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد اس کی باہر جاتی گاڑی کے ہارن کی مخصوص آواز سن کر رواحہ کا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ بھاگ کر کھڑکی میں سے باہر نکلتی گاڑی دیکھی۔۔ ریشماں نیچے منہ کر کے مسکرائی۔ آج سے کئی سال پرانے مناظر دماغ میں گھومے۔ جب اس سبز بلا کے باپ کی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔۔
رواحہ سے بیٹھنا دوبھر ہو گیا۔ حلق میں پھندا سا لگ چکا تھا۔ وہ کچھ ہی دیر میں اپنے روم میں چلی آئی۔ اور تکیے میں منہ دئیے پھر رو دی۔۔
بہت برے ہیں آپ،، اسی قابل ہیں سبز کڑوے کریلے،،، اونہہہہہہہ منہ زور طوفان اور مونسٹر،،، میں نہیں ڈرتی آپ سے۔۔ وہ روتی تکیہ نوچتی با آواز بلند بڑبڑائی اور سخت جھلائی۔۔
رئیلی،، ایسا ہے کیا؟ بھاری سرسراتی پیچھے سے آتی ماہر سوہم خان کی آواز نے اس کے چاروں طبق روشن کیے تھے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
تیرا جسم تو نہیں ھے ، میری آرزو کی منزل💔
تیری رُوح تک رَسائی ، میری رُوح چاھتی ھے💔
آروشے کو جب ہوش آیا تو متوحش سی اڑی رنگت لیے اس اجنبی کے بازوؤں سے نکل ر بیڈ سے اتر دراوزے کی جانب لپکی تھی۔ وہ ایشان کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے میلے میں گم ہوئی بچی اجنبی لوگوں کو دیکھتی ہے ڈری سہمی نگاہوں سے۔۔
ایشان بیڈ سے اتر کر اس کی جانب آیا جو دروازہ دھڑدھڑا رہی تھی۔
علیزے آپی،، مما،، بابا،، کوئی ہے،، علیزے آپی؟ وہ حلق کے بل چلا رہی تھی۔
میں ہوں نا آروشے،، ایشان نے اسے پکارا۔
کک،، کون؟ آپ کون؟ سوال تھا کہ ہتھوڑا جو ایش کے اعصاب پر برسا تھا۔ مگر معلوم تھا کہ کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے تو زہنی طور پر تیار بھی تھا۔
میں ہزبینڈ ہوں تمھارا آروشے،،تمھارا ایش ،، شادی ہوئی ہے ہماری،، علیزے نے کروائی تھی۔۔پیپرز پڑے ہیں ٹیبل پر،چاہو تو چیک کر لو،،یقین کرو،، ایشان نے رسان سے سمجھانا تھا۔
وہ بے یقینی سے اسے دیکھے گئی۔
نہیں ،،میں تب یقین کروں گی جب علیزے آپی کے منہ سے سنوں گی،، مجھے علیزے آپی سے ملنا ہے،، ڈور کھولو،، وہ چلائی۔
آروشے،میری بات سنو جان،، ایشان نے اسے بازوؤں سے تھامنا چاہا۔
ڈونٹ ٹچ می،، اس نے ایشان کے ہاتھ بری طرح جھٹکے۔۔
میں نہیں جانتی آپ کو،، کون ہیں آپ؟ وہ غرائی۔
ایشان کے شدتِ ضبط نے اپنی آخروں حدوں کو چھوا تھا۔ پھر بھی سرخ چہرے، لال انگارا آنکھیں اور تنے اعصاب لیے اس نے اسے سمجھانے کی آخری کوشش کی تھی۔
آروشے میں نے کہا ناں میں شوہر ہوں تمھارا،، تم اپنے سائن کیے پیپر دیکھ لو،، اب کی بار لہجے میں سختی تھی۔
مگر وہ پیچھے مڑ کر پھر دوازده بجا کر علیزے کو آوازیں دینے لگی تھی۔۔
ایشان نے اسے بازو سے پکڑ اپنی جانب گھمایا تھا۔ گرفت میں سختی اور شدت تھی۔
آروشے میرا ضبط مت آزماؤ،، یہ نا ہو میں کچھ کر بیٹھوں،، وہ دانت پیستا غرایا جس سے وہ اور زیادہ خوفزدہ ہوئی۔
پلیز چھوڑیں مجھے اپنی آپی کے پاس جانا ہے،، چھوڑ دیں،، وہ اس کی گرفت میں مچلی۔۔ مگر ایشان کا میٹر شارٹ کر چکی تھی۔۔
بس آروشے بس،، بہت کچھ بول چکی تم اور بہت کچھ سن چکا میں،، اب دیکھو میں کرتا کیا ہوں تمھارے ساتھ۔ بہت ہلکے میں لے لیا ایش کو،، زرا میرا جلاد والا روپ تو دیکھ لو،، شاید عقل ٹھکانے لگ جائے۔
وہ کہتا زرا سا جھک کر اسے کندھے پر اٹھا چکا تھا۔ وہ بری طرح مچلتی چیخ و پکار کر رہی تھی ساتھ میں اس کی کمر پر مکے برسا کر نیچے اترنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اسے لئے قدرے ایک اندھیرے والے روم میں آیا تھا۔ اسے نیچے اتار کر اسے اس کی کلائی دبوچی۔۔
خدا کے لئے چھوڑ دو مجھے،، جانے دو،، مجھے علیزے کے پاس جانا ہے،،
شٹ اپ،،تمھاری تو سانسوں پر بھی دسترس حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تو علیزے کے پاس کیسے جانے دے دوں ،، وہ دھاڑا۔۔ اور لا کر اسے اس روم میں پڑی ایک اکلوتی چئیر پر پٹخا۔ اب اس نے رسی اٹھائی تھی۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلاتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔مگر آج تو جیسے اس کا لونگ کئیرنگ ایش پتھر کا ہو چکا تھا۔ تبھی اس کے ہاتھ پیر چئیر سے باندھ چکا تھا۔
نو نو،،، میرے ساتھ کچھ غلط مت کرنا،، تمھیں خدا کا واسطہ،، مجھے جانے دو،، چھوڑ دو مم،،،،،،،
اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب ایشان نے اس کے منہ پر ٹیپ لگا دی۔۔
وہ بری طرح جھٹپٹا رہی تھی۔ اب ایشان نے چئیر کے دونوں آرمز پر اپنے ہاتھ رکھ کر وہ اس کے چہرے کے سامنے جھکا تھا۔
مزاحمت بند کرو روشے بےبی نہیں تو حشر بگاڑ دوں گا،، وہ دھاڑا تو وہ بے تحاشا ڈر کر ایک دم ساکت ہو گئی۔ اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے اپنے اتنے قریب دیکھنے لگی۔۔جو اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اس کا چہرہ تھوڑا اوپر اپنی جانب اٹھائے اب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس پر قیامت ڈھا رہا تھا۔
بہت بڑی غلطی کی تم نے روشے بےبی اپنے ایش کو بھول کر،، اب سزا کے لئے تیار ہو جاؤ،، تمھیں کیا لگا ایش بھی تمھارا کوئی ٹوائے تھا جسے تم بھول جاؤ گی،، تم مجھے بھول جاؤ گی اور ایشان کبیر ابراہیم ایسا ہونے دے گا،، مضحکہ خیز،،
نو،،، نیور،، کبھی نہیں،، میں تو خون بنا کر تمھاری رگوں میں اپنی یادیں انڈیل دوں گا،، تم نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے،،
وہ دھیمے مگر سرسراتے لہجے میں اپنی گڑیا سے مخاطب تھا۔ مگر وہ گڑیا جس نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ آروشے کا پورا وجود لرز رہا تھا اور تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔
ایشان نرمی سے جھکا تھا اور اس کے سب آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چنا تھا۔ وہ شدید مزاحمت کرتی رہی۔ مگر ایشان نے اس کے چہرے کا ایک ایک نقش چوما تھا۔ پھر ٹیپ لگے نرم ہونٹوں پر نرمی سے اپنے ہونٹ رکھے اور کچھ دیر بعد پیچھے ہٹا۔
رونا بند کرو آروشے،، اور میری بات غور سے سنو،، کسی کام کے لئے باہر جا رہا ہوں، جب تک نا آؤں تم جاگو گی،، میرے آنے کے بعد تم سو جانا یا آرام کر سکتی ہو،،میری نظر تم پر ہی ہے،، ایک سیکنڈ کے لئے بھی آنکھ جھپکی تو اس چئیر سے اٹھا کر سیدھا اپنے بیڈ پر پٹخوں گا ،، اور وہ گولڈن نائٹ جو ابھی پینڈنگ ہے پھر پینڈنگ نہیں رہے گی سمجھیں،،
اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا تھا۔ اس نے خوفزدہ ہوتے اثبات میں سر ہلایا،،
دیٹس لائک مائی گڈ گرل روشے بےبی،، وہ اس کی گال تھپتھپاتا
باہر نکل آیا تھا۔
باہر نکلا تو سامنے ہی اسے جےکے کھڑا نظر آیا۔ ایشان کی آنکھوں میں وحشت ہی وحشت تھی۔۔ وہ لپک کر جبران کے سینے سے لگا تھا۔۔ چند باغی آنسو تھے جو جبران کی شرٹ میں جزب ہوئے تھے۔
جب نہیں برداشت کر سکتے تو مت کرو اس کے ساتھ ایسا،،کیوں خود کو اذیت دے رہے ہو؟اسے اذیت دے کر،،،جب معلوم ہے کہ نہیں کرسکتے ایسا،،،جتنا اس ٹارچر کر رہے ہو وہ سہہ بھی پائے گی؟ ایشان ہاتھ ہولا کر میرے بھائی،،
نہیں جے کے ابھی نرمی دکھائی تو میں اسے کھو دوں گا جو میں برداشت نہیں کر پاؤں گا ۔ مر جاؤں گا۔
ہیے،، خبردار آئندہ یہ بکواس میں نے تمھارے منہ سے سنی تو ایشان کبیر ابراہیم،، اس لڑکی کی وجہ سے اگر تمھیں کچھ ہوا تو گرین مونسٹر تو دور میں اس لڑکی کو نہیں چھوڑوں گا۔ تم میرے وجود کا ایک حصہ ہو ایشان میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں گا اگر تمھیں اب زرا سی تکلیف ہوئی،،
وہ دانت پیس کر بولا ۔۔
ایشان زخمی سا مسکرایا۔ اور وہ میرے وجود کا حصہ ہے جےکے، اس وقت میں کتنی تکلیف میں ہوں،، نہیں بتا سکتا وہ لاؤنج میں صوفے پر ڈھے گیا تھا۔
آگے کا کیا پلان ہے،، جبران نے تنی رگوں سمیت پوچھا، بس میں ہوتا تو ابھی اس پاگل لڑکی کو اپنے بھائی کی زندگی سے دور کر دیتا۔مگر کاش ایسا کر پاتا۔
میں اسے ہر بات یاد کرنے پر مجبور کر دوں گا،، بھول کر تو دکھائے مجھے،، وہ دانت پیس کر بولتا اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا۔
چلو وائٹ پیلس چلتے ہیں،، تمھاری بھابھی کو بھی کالج سے رسیو کرنا ہے میں نے،،
چلو،، وہ کہتا ایک حسرت بھری نگاہ بند دروازے پر ڈالتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
شفا اپنے روم میں اپنی بکس پڑھ رہی تھی۔ شام کا وقت تھا۔ اس کے پاپا بھی کبھی پہنچنے والے تھے۔ اور وہ اب کی دفعہ اس گھٹیا شخص کی تمام حرکتیں اپنے پاپا کو بتانے والی تھی۔۔
نہیں جانتی تھی اس گھٹیا شخص کے گھٹیا پن کے لیول تک اس کی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی تھی۔۔
دروازے پر ہلکی ناک ہوئی۔۔
یس،،اس نے اجازت دی۔۔ تو اس کے پاپا اندر داخل ہوئے۔۔
پاپا،، وہ تڑپ کر اٹھی اور ان سے لپٹ گئی۔۔ بہت مضبوط بنایا تھا کامران حسن نے اسے مگر آج وہ رو دی تھی۔
پاپا،، شکر ہے آپ آ گئے مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے،،
شفا بیٹا پاپا تھک گئے ہیں،، بعد میں بات کریں،، شفا نے نوٹ نہیں کیا ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
نو پاپا،، مجھے آپ سے بات کرنی ہے ابھی کہ ابھی آپ بیٹھے ادھر،، شفا نے ان کا بازو تھام صوفے پر بٹھایا تھا خود ان کے پیروں میں بیٹھ کر جب بات کرنا شروع کی تو حرف با حرف ان کے بھانجے کی تمام کمینہ پن اور زلیل حرکتیں بتاتی چلی گئی۔ہاں مگر آریان کی خود کو اس کا بوائے فرینڈ بتانے والی بات گول کر گئی ۔۔
وہ سنا چکی تو اپنے پاپا کے سرد وسپاٹ چہرے کی جانب دیکھا اور ششدر رہ گئی،،
پاپا آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ کچھ ری ایکٹ کیوں نہیں کر رہے؟ پلیز کچھ بولیں،، شفا کو رونا آیا۔
میں کیا بولوں شفا،، سیف مجھے ساری بات پہلے بتا چکا ہے، اس نے کہا اس نے تمھیں اور اس لڑکے کو جو خود کو تمھارا بوائے فرینڈ بتاتا ہے ساتھ دیکھا اور تم سے باز پرس کی،،
کامران حسن نے کہتے شدتِ جزبات سے جبڑے بھینچے تھے۔ اور شفا پھٹی پھٹی آنکھوں سے انھیں دیکھے گئی۔
اس نے یہ بھی کہا کہ تم خود کو بچانے کے لئے ایسی کہانیاں بناؤ گی،، اور اس پر الزامات بھی،، اس نے یہ بھی کہا کہ تم میرے منع کرنے کے باوجود وائٹ پیلس جاتی رہی ہو جہاں وہ رہتا ہے،،
پاپا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ،، آپ کو اپنی بیٹی سے زیادہ اس جھوٹے مکار، فریبی پہ ٹرسٹ ہے،، شفا صدمے کی شدت سے بے تحاشہ رو دی تھی۔
پھر تم نے مجھے اسی دن سب سے پہلے یہ بات کیوں نہیں بتائی شفا؟
پاپا میں چاہتی تھی آپ دوسرے شہر میں میری وجہ سے پریشان نا ہوں مگر،،
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے شفا کے فون نمبر پر واٹس ایپ میسج ٹون بجی تھی۔۔ اسے حیرت ہوئی۔ مگر تجسس بھی کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے۔ اس نے میسج اوپن کر کے دیکھے تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ویڈیو تھی۔۔
اس میں اس کے گھر ے باہر کی وہ ویڈیو تھی جب شفا سیف سے بچ کر بھاگی تھی اور سیف اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ دو تین اینگلز کی ویڈیو تھی جس میں سیف اس کے پیچھے بھاگتا صاف دکھائی دے رہا تھا۔یعنی شفا کے حق میں ایک پختہ ثبوت، مگر بھیجنے والے کا نمبر شو ہونے کی بجائے پرائیویٹ نمبر شو ہو رہا تھا۔ ویڈیو میسج کے نیچے بس ویل وشر لکھا ہوا تھا۔
پپ،، پاپا،، پاپا یہ دیکھیں،، اس نے موبائل کامران کی جانب بڑھایا۔ جو بے حد ٹینشن میں اپنی کنپٹیاں سہلا رہے تھے۔ کس پر بھروسہ کرتے جان سے پیاری بیٹی جس نے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا ،کبھی ان کے اعتبار کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی یا بھانجے پر جو پہلے دن ہی انھیں تمام صورتحال سے آگاہ کر چکا تھا۔
کامران نے سر اٹھا کر شفا کو دیکھا۔ جو اب بے تحاشا روتے ہوئے خاموش ہو کر انھیں کچھ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ شفا نے ویڈیو آن کر کے ان کے سامنے کی۔کامران اچانک سیدھے ہوئے۔ اور شفا کے ہاتھ سے موبائل چھین کر ویڈیو دیکھی۔ اور بار بار دیکھی۔
تب ان کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔ روتی شفا کو بھینچ کر اپنے سینے سے لگایا۔
شفا خاموش ہو جاؤ، اب میں سیف کے ساتھ کیا کروں گا یہ میرا اور میرے بھانجے کا معملا ہے۔ ہاں میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم اب اس لڑکے سے کبھی نہیں ملو گی، اور نا وائٹ پیلس کا رخ کرو گی، مجھے تم پر ٹرسٹ ہے مگر میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ میری پاکدامن بیٹی کا نام بھی کسی کے نام کے ساتھ لیا جائے،، آج میرے سگے بھانجے نے بکواس کی ہے کل کو کوئی اور بھی بول سکتا ہے،، سمجھ رہی ہو ناں میری بات،، امید ہے اپنے پاپا کی بات کا مان رکھو گی۔
وہ اس کا ماتھا چومتے شدید طیش و اشتعال کے عالم میں اس کا موبائل لیے باہر نکل گئے۔
اس نے آنسو صاف کرتے ایک سرد سی آہ بھری۔کون ہوگا وہ ۔کہیں ڈاکٹر آریان تو نہیں،، سوچ سوچ کر دماغ ہل چکا تھا۔اور اوپر سے اپنے ویل وشر کو تھینکس بھی نہیں بول پائی تھی۔
ہاں اس کا اندازہ درست تھا یہ اسی دا گریٹ آریان پلس
Executioner
نے کیا تھا۔ وہ کیوں اس میں اتنی دلچسپی لے رہا تھا خود ابھی تک نہیں جانتا تھا۔
وہ تو یہ جانتا تھا کہ وہ گھٹیا شخص ضرور اس معصوم لڑکی کے ساتھ کچھ غلط کرے گا ۔ تبھی اس کی کالز ریکارڈنگز نکلوائی تھیں۔ یہ سن کر اسے اپنے اندازے کی درستی پر ہنسی آئی جب وہ اپنے ماموں کو ماموں بناتے ہوئے انھیں شفا اور آریان کی نادیده لو سٹوری چٹخارے لگا لگا کر سنا رہا تھا۔
آریان کو اس کا غرور یہ دھوکہ اور فریب خاک میں ملانا تھا۔ سو وہ ویڈیو حاصل کرنا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ اور جب اسے خبر ملی کہ اس کے پاپا واپس آ گئے ہیں تب ان کے آنے کے کچھ دیر بعد اس نے شفا کے نمبر پر وہ ویڈیو بھیج دی۔
جس سے اسے کافی سکون محسوس ہوا تھا۔ جانے کیوں؟
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کالج کا دن اچھا رہا۔۔تمام پچھلے لیکچرز اور نوٹس کور کرنے کے لئے اسے سخت محنت کی ضرورت تھی۔ تبھی وہ بے تحاشا مصروف رہی۔لڑکیوں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر اس نے کسی کو لفٹ نہیں کروائی۔کیونکہ فی الحال آج تو اسے ساری کی ساری اپنے ڈاکٹر کی وجہ سے زہر لگ رہیں تھیں۔۔
جبران کی گاڑی کالج کے باہر رکی تھی۔ وہ گاڑی میں سے نکل کر اب گاڑی سے ٹیک لگائے مفرا کا ویٹ کر رہا تھا۔ لڑکیاں جو گیٹ سے باہر آ رہی تھیں اج ایک دن میں دوسری مرتبہ ڈاکٹر جبران کے درشن کر خوشی سے نہال ہوئی تھی۔
وہ غیر محسوس طور پر ان کی گاڑی کے آس پاس رکیں تھیں۔
ہائے ڈاکٹر جبران میں عنایہ ہوں اور آپ کو اپنا آئیڈیل مانتی ہوں۔۔ وہ سر خوشی سے بولی تو جبران نے سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
تبھی مفرا گیٹ سے باہر آئی تھی۔۔
Continue,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
