Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر کی گاڑی پر مسلسل ہوتی فائرنگ سے بھی اس کے اطمینان میں خاطر خواہ فرق نہیں پڑ رہا تھا۔کاش دشمن عناصر کی کوششوں میں اتنا دم خم ہوتا کہ وہ ماہ بیر راسم حفیظ کو ڈرانے میں کامیاب ہو جاتے۔۔ فون پر مخصوص میسج رنگ ہوا تو وہ گہرا مسکرایا۔
ایک تو یہ گرین مونسٹر پتہ نہیں کب تک ہمیں بچہ سمجھتا رہے گا۔
وہ تیزی سے ڈرائیونگ کرتا انھیں گھما کر ٹارگٹ کی جگہ پر لا چکا تھا۔۔ پھر جب ان گاڑیوں کے تعاقب میں آتی گاڑیوں سے ان دشمنوں پر فائرنگ ہونا شروع ہوئی تو شدید قسم کی چیخ و پکار شروع ہو گئی۔
اونہہہہہ،، بزدل، الو کے پٹھے،، کچھ کو زندہ پکڑ لیا گیا تھا، کچھ اس کے تعقب میں آتے لوگوں کو جہنم رسید کر دیا گیا تھا۔ جبکہ وہ اطمینان سے گاڑی ٹھکانے لگاتا اب فائل لے کر اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ چکا تھا۔۔ وہ وائٹ پیلس کی حدود میں داخل ہو چکا تھا۔۔

اب اس کے پیچھے راستہ بلکل کلئیر تھا۔ وہ گھوم کر وائٹ پیلس کے خفیہ راستے سے ہوتے ہوئے بیسمینٹ میں آیا تھا جہاں پر سب موجود تھے۔

پاشا سوہم اور کبیر،، جو اس کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
کتنی مرتبہ کہا ہے ماہ بیر اپنے ساتھ گارڈز رکھا کرو،، یا کم از کم اپنے آفس کے ارد گرد ہی سکیورٹی بڑھا دو،، پاشا نے دانت پیس کر کہا تو وہ ان کی فکر پر مسکرا دیا۔
او کم آن بڑے پاپا،، سکیورٹی کی ضرورت مجھے نہیں انھیں ہے، جانتے نہیں،، گرین مونسٹر کی پل پل نظر رہتی ہے ہم پر،، اور وہ اس معاملے میں سب سے زیادہ ظالم ہے،، اس نے منہ بنایا۔ابھی بھی مجھے تو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی جانے کیسے ان کے بندوں کو خواب آ جاتا ہے کہ ہم پر اٹیک ہوا ہے،،
وہ اطمینان سے کہتا اب پاشا کے اشارہ کرنے پر فائل انھیں تھما چکا تھا۔جبکہ اس کی اس بات پر سوہم خان گہرا مسکرایا ۔

بڑے پاپا اس فائل میں وہ سب ثبوت اور پیپر موجود ہیں جو میجر عاصم حسین کو بے گناہ ثابت کرتے ہیں ۔ ان میں موجود ہے کہ کیسے اس کمینے ڈیفنس منسٹر نے اپنا کیا ہوا میجر عاصم کے سر پر تھوپ کر کیسے انھیں اور آپ لوگوں کو غدار ثابت کیا تھا ۔
کیسے ان پر کورٹ مارشل لگایا گیا، کیسے آپ لوگوں کے دہشتگردوں سے تعلقات کے جھوٹے ثبوت پیش کیے گئے ہر ثبوت موجود ہے اب ،،،،وہ تمام مائیکرو چپس، ریکارڈنگز، بھی ہیں،، اب دنیا کی کوئی طاقت انھیں سزا سے نہیں بچا پائے گی، اور سچ سب کے سامنے آ جائے گا۔
ماہ بیر نے ڈیٹیلز بتائیں۔۔
بہت خوب ماہ بیر،،، اس وقت کا بہت انتظار کیا ہے ہم نے ،، اور مال بیسمیںٹ میں پہنچا دیا ہے ناں،،

بلکل بہت خفیہ طریقے سے اور پوری حفاظت کے ساتھ پہنچا دیا گیا ہے،، پلان کے مطابق وہ سب یہاں پہنچ چکے ہیں اب بس ماہر اور ایشان کا انتظار ہے اور عدالت کی اگلی تاریخ کا،، بس ایک مرتبہ عدالت اپنا فیصلہ سنا دے اور میجر عاصم اور آپ لوگوں پر سے یہ الزامات ہٹ جائیں،، پھر اس کے بعد
Executioners
کی اپنی عدالت لگے گی، جہاں نا تاریخ نا کوئی جج نا وکیل سیدھا سزائے موت،،
ماہ بیر اطمینان سے بتاتا چلا گیا۔ مگر اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔

اچھا اچھا بھگتا لینا دشمنوں کو بھی ،، پہلے جا کر اپنی جج صاحبہ کے سامنے پیشی دو جا کر،، زمل بتا رہی تھی طبیعت ٹھیک نہیں ،،جاؤ جا کر دیکھو اسے،، ہم آتے ہیں،،
جی،، چھوٹے پاپا،، وہ کہتا کان کجھاتا وہاں سے کھسک لیا تو وہ سب معنی خیز سا مسکرا دیئے۔
اتنے سالوں کے انتظار کے بعد یہ فائل ہاتھ لگی تھی وہ تینوں سر جوڑے اب فائل کھولے کچھ ضروری پوائنٹس ڈسکس کرنے لگے۔
جبکہ ماہ بیر مسکراہٹ دباتا مختلف راستوں سے ہوتا ہوا وائٹ پیلس کے اندرونی سائیڈ کی طرف بڑھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ کھڑکی میں کھڑا تھا جب ڈاکٹر جنت کے الفاظ کانوں میں دوبارہ گونجے۔۔

میڈیسنز سے آروشے کے اعصاب سٹرونگ کرنے کی کوشش کی ہے اتنے عرصے،، اب دو آپشن ہیں اسے نارمل کرنے کے لئے،، اور سب کچھ یاد دلانے کے لئے،، یا تو الیکٹر شاک کا سیشن جو کہ نہایت تکلیف دہ ہوگا یا پھر یہ کہ وہ حادثہ اس کے سامنے دہرایا جائے جو اس کے لئے سب سے بڑے صدمے کا باعث بنا تھا ۔ ہوگا تو یہ بھی تکلیف دہ مگر الیکٹرک شاک سے کم،،
اور سب سے بڑھ کر کوئی گارنٹی نہیں ہے،، بلکہ میں تو یہ کہوں گی ون ہنڈرڈ میں سے ٹو پرسنٹ چانس بھی نہیں ہیں کہ وہ نارمل ہونے کے بعد پاگل پن کے اس دور کی کوئی بھی چیز یاد بھی رکھ پائے گی۔ وہ سب بھول جائے گی ایشان،، حتی کے تمھیں بھی پہچان نہیں پائے گی اور بھول جائے گی،، اس کے لئے مینٹلی خود کو تیار رکھنا۔
اور ڈاکٹر جنت کے یہ آخری الفاظ اس کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح برسے تھے۔۔ کہ اس کی روح تک کانپ گئی تھی۔ وہ اندر تک ہل چکا تھا۔ اسی گہری سوچ میں تھا کہ اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی۔۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ماہر تھا،،

سب تیاری مکمل ہے ایشان تم تیار ہو؟ ماہر نے ایک مرتبہ پھر جانچتے لہجے میں اس سے پوچھا۔
جی بھائی،، ضبط کے طوفان پر بند باندھتے اس نے کہا اور پیچھے مڑا۔۔
تم سوچ لو دوبارہ ایشان،، وہ کس قدر خوفزدہ ہے جب سے اس گھر میں آئی ہے کمرے سے باہر نہیں نکلتی۔شاید اس کا لاشعور اس گھر کو پہچان چکا ہے تبھی تو وہ اس دن کی لاونج میں نکلی ہی نہیں جبکہ وائٹ پیلس میں سب جگہ کھیلتی پھرتی تھی،، اگر اسے کچھ ہو گیا تو،،،میں چاہتا ہوں ہر طرف سے سوچ سمجھ کر تم یہ قدم اٹھاؤ، ماہر نے کہا تو ایشان نے جبڑے بھینچے۔۔

آئم ریڈی بھائی،، ہر طرح کے نتیجے کے لئے میں تیار ہوں،،
چلو پھر لاؤ اسے باہر لاؤنج میں،، ماہر کہتا وہاں سے جا چکا تھا۔
ایشان آروشے کے کمرے میں آیا جہاں وہ اس کے موبائل میں کارٹون دیکھ رہی تھی۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا۔
آروشے،، اس نے پکارا،، پکار میں صدیوں کی تڑپ تھی جیسے۔ بکھرا حلیہ اور لال انگارا آنکھیں،،
اووو،، پلیز ایش ڈونٹ ڈسٹرب می،، بہت اچھے کارٹون ہیں،، وہ موبائل میں مگن تھی ایشان اسے دیکھے گیا۔

آں ہاں،، میں تو آیا تھا کہ روشے بےبی کے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک کھیلوں گا مگر اب تو روشے بےبی بزی ہے تو جا رہا ہوں۔۔
نو،،، نو،،، ایش،، وہ والی گیم زیادہ مزے کی ہوگی مجھے وہی کھیلنی ہے۔۔ وہ اچھل کر اٹھی اور موبائل ایک طرف رکھا۔
تو ٹھیک ہے آؤ میرے ساتھ،،، میں اور روشے بےبی چھپ جائیں گے اور ماہر بھائی ڈھونڈیں گے ہمیں اوکے،، وہ کہتا اسے باہر اس چھوٹے سے لاؤنج میں لایا تھا۔
اکے رائٹ،، وہ اس کے پیچھے تھی مگر جب ایشان اسے اس سیکرٹ کیبن تک لایا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔
وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی اور اس سے پہلے کے واپس روم میں بھاگ جاتی ایشان نے زبردستی پکڑ کر اسے اس کیبن میں بٹھا دیا تھا۔

نو،،، نو،، نو،، ایش،،،، یہ بہت ڈرٹی گیم ہے،، گندی والی،،، روشے بےبی کو نہیں کھیلنی،، نو،، نو،، وہ شور مچانے لگی پینک ہونے لگی،، مگر ایشان تنے اعصاب اور لال انگارا آنکھیں لیے اسے زبردستی وہاں لاک کر چکا تھا،، ہاں مگر اس کی شرٹ پر ایک منی مائیکروفون اور کیمرا لگا ہوا تھا۔ کیبن میں ہول بھی بڑا کر دیا تھا انھوںنے جہاں سے وہ سب بڑے واضح انداز میں دیکھ سکتی تھی۔۔

ایشان اسے وہاں بند کر کے گیا تو فورا لائٹس جلی بجھیں،، اور ماہر اپنے چند آدمیوں کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا۔ آروشے پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ منظر دیکھنے لگی۔ آواز حلق میں اٹک گئی تھی۔ جب سونیا اندر سے بھاگ کر باہر آئی ۔۔
کون ہو تم لوگ اور اندر کہاں گھسے چلے آ رہے ہو۔
تب ماہر نے اس کے مما بابا پر تشدد کرنے کی ایکٹنگ کی تھی ۔آروشے کی چیخ وپکار شروع ہوئی تھی۔
نہیں،، جانے دو انھیں،، چھور دو مما بابا،، وہ چیخے گئی۔
ادھر باہر نقلی مما بابا فرش پر ڈھیر ہوئے تو ماہر سونیا کی جانب بڑھا تھا۔

علیزے آپی،، وہ چلائی،، چھوڑو،، دور ہٹو ان سے،، درندے پاگل انسان،، دور ہٹو میری آپی سے ،،آپی خدا کے لئے اپنی قسم واپس لے لیں،
وہ کیبن میں بغیر پانی کی مچھلی کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی۔
ماہر نے سونیا کو بازو سے پکڑ کر صوفے پر دھکیلا،، سونیا کی چیخ وپکار گھر میں گونج رہی تھی اور آروشے کے جسم سے جیسے جان نکل رہی تھی۔تمام دھندلے مناظر اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ دماغ میں روشن ہوئے تھے۔ کیسے انھیں یتیم کیا گیا ۔کیسے انھیں برباد کیا گیا۔کیسے اس کی بہن نے اسے بچانے کو خود کو اس دردندے کے سامنے پھینک دیا کہ جس کا گلٹ نے اس کا دماغ ہی الٹا دیا تھا۔

ہیے چھوڑو میری آپی کو،، علیزے آپو،،، گندے،، درندے جانور چھوڑو انھیں،، وہ اب چیختی چلاتی،، تمام پچھلی باتیں دہراتی کیبن کو زور، زور سے دھڑا دھڑا رہی تھی۔ آخر جب برداشت ختم ہوئی تو وہ کیبن میں بے ہوش ہوتی ایک جانب لڑھک گئی۔ تبھی باہر ایشان نکل کر سامنے آیا تھا ماہر کو اشارہ کیا۔۔
سونیا اور ان کے آدمی باہر چلے گئے تھے جب کے وہ دونوں کیبن کی جانب لپکے۔
ایشان نے اسے باہر نکالا ۔۔
ڈاکٹر سمیرا کو بلانا ہوگا بھائی ،،،ایشان نے کیا تو ماہر سر ہلاتا باہر گیا جبکہ ایشان اسے بازوؤں میں اٹھائے اندر روم میں لایا۔
کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر سمیرا بھی آ گئیں تھیں۔ انھوں نے آروشے کا تفصیلی چیک اپ کیا۔۔

وہی صدمے کی حالت ہے،، میرا خیال ہے انھیں سب یاد آ گیا ہے۔ اٹھ کر پینک کریں گی،، اسی لئے سکون آور انجیکشن دے رہی ہوں کچھ گھنٹوں بعد اٹھیں گی،، مجھے یقین ہے کہ اپ اچھے سے ہینڈل کر پائیں گے۔۔
جی ڈاکٹر،، ایشان نے کہا۔ ڈاکٹر چلی گئیں۔۔
تب ایشان ماہر کے پاس ایا تھا۔
بھائی ہمارا ادھر کا کام ختم ہو گیا ہے تو واپس چلیں،، میں چاہتا ہوں اب اسے ابراہیم ہاؤس میں ہی ہوش آئے۔۔ ویسے بھی ہمارے کافی سارے کام پینڈنگ پڑے ہیں اور علیزے کی بھی آخری رسومات ادا کرنی ہیں ابھی،، وہ بظاہر لاپرواہ سا بولا ۔
ٹھیک ہے تیاری مکمل ہے،، ہیلی ریڈی ہے،، چلو،، ماہر نے کہا تو ایشان آروشے کے پاس آیا ۔
سامان تو پہلے ہی سونیا لے جا چکی تھی۔اب بس انھیں نکلنا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

جبران ہوسپیٹل سے گھر آیا تھا۔ وہ کافی مضبوط اعصاب کا مالک تھا مگر علیزے کی موت نے اسے دکھی کیا تھا۔
مگر ضبط کا دامن تھامے رکھا، انھوں نے گرین سگنل دے دیا تھا کہ واپس آ رہے ہیں تو وہ بھی اطمینان سے اب مفرا کو کالج لے کر جا سکتا تھا۔۔
وہ وائٹ پیلس آیا۔ مفرا تیار تھی۔ وہ اسے لے کر نکلا اور کچھ دیر بعد کالج کے پرنسپل آفس میں داخل ہوا تھا۔

آئیے آئیے ڈاکٹر جبران،، ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ تشریف لائے،، ویسے تو کافی مشکلوں سے وقت لینا پڑتا ہے اپنے کالج کے سیمینارز اور کانفرنسز کے لئے،،،
پرنسپل صاحبہ نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔
آپ کے لئے ایک اسپیشل سٹوڈنٹ لایا ہوں میم،، امید ہے آپ کے کالج کا نام روشن کریں گی۔ وہ کہتا گہری نگاہوں سے مفرا کو دیکھتا بولا تو وہ جو پہلے ہی گھبرا رہی تھی پہلو بدل کر رہ گئی۔
سوئیٹ پنک گرل کیا لگتی ہیں آپ کی،، یقینا بہت اسپیشل ہوں گی،، جو آپ خود تشریف لائے ڈاکٹر،، پرنسپل کو تجسس ہوا۔
بہت اسپیشل ہے میم،، میری ایک اکلوتی وائف ہوتی ہیں،، جبران نے بتایا تو پرنسپل کو حیرت ہوئی ۔۔
رئیلی واؤ،، یہ تو بہت ہی اچھا ہو گیا کہ آپ کی وائف نے ہمارے کالج کے نصیب جگائے، اب جب بھی ہمیں آپ کو کالج بلانا ہوا کرے گا آپ کی ہوم منسٹر سے سفارش کروا لیا کریں گے،،

اس بات پر وہ دونوں ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے۔ جب کہ مفرا بلش ہوتی مسکرا رہی تھی۔۔
چلئیے میں آپ کو پروفیسر ساجدہ میڈم سے ملواتی ہوں اور آپ کی مسز کو ان کے سپرد کر کے آئیں۔
پرنسپل اٹھنے لگی۔
ارے رہنے دیجئے میم،، آپ یہ تکلف مت کیجئے میں خود ہی لے جاتا ہوں،، اس کالج کے چپے چپے سے تو واقف ہوں، وہ کہتا اٹھا۔مفرا بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
پرنسپل نے ایک مہربان سی مسکراہٹ کے ساتھ سر سے اشارہ کیا۔تو وہ اسے لئے باہر آیا۔
مختلف راستوں سے ہوتا ہوا وہ اسے سمجھاتا رہا کون سا کس سٹینڈر کا اپارٹمنٹ ہے، ایک بات جو مفرا نے نوٹ کر رہی تھی وہ یہ کہ جہاں جہاں سے وہ اسے لئے گزر رہا تھا لڑکیوں کا ہجوم سا اکھٹا ہو جاتا۔
وہ تھر ائیر کے اپارٹمنٹ میں پہنچ چکے تھے ۔پروفیسر ساجدہ سے مل کر بہت اچھا لگا۔ وہ اور جبران کھڑے ہو کر باتیں کر رہے تھے۔

جب کلاس میں نسوانی بھنبھناہٹیں سنائی دیں۔ جو کہ مفرا بخوبی سن رہی تھی۔
یہ دیکھو ڈاکٹر جبران،، اس قدر ہینڈسم اور ڈیشنگ،، سچ میرا تو پچھلی کانفرنس سے ہی کرش تھا ان پر،،
ہائے ڈاکٹر جبران،، ہاؤ سوئیٹ اینڈ نائس پرسن،، میں تو مر ہی نا جاؤں ان پر،،
ارے وہ دیکھو فورتھ ائیر کی چڑیلیں،، کیسے انھیں دیکھنے ادھر تک آن پہنچی ہیں،،
اور یہ ان کے ساتھ کون ہے،،
مفرا کو جانے کیوں پتنگے لگے۔

مفرا،، ہیے،،پروفیسر صاحبہ تم سے کچھ پوچھ رہی ہیں،، جبران نے پکارا تو وہ گڑبڑائی اور جان بوجھ کر اب دو قدم آگے ہو کر جبران کے بلکل قریب ہو گئی۔
اور پروفیسر کے سوالوں کا جواب دینے لگی۔ بات مکمل ہوئی تو پروفیسر نے کہا کہ آپ انھیں چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔۔
مفرا گھبرائی تھی۔ اور ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔
پروفیسر میری وائف تو گھبرا رہی ہیں زرا انھیں تسلی دے کر اندر بھیجتا ہوں،،پروفیسر مسکرا دیں ۔
وہ شرارت سے آہستگی سے کہتا اس کا ہاتھ تھام کر باہر آیا تھا۔ وہ اسے لئے طویل گراؤنڈ میں سے گزر کر باہر گیٹ تک آئے تھے۔۔
لڑکیاں شہد کی مکھیوں کی طرح ان کا پیچھا کر رہی تھیں مگر اسے تو جیسے فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔ وہ اپنا ہاتھ تھامے پہلو میں چلتے اس شاندار شخص کو دیکھے گئی۔

گاڑی تک پہنچ کر وہ رکا۔ میں جا رہا ہوں،، گھبرانہ نہیں میری ہر وقت تم پر نظر رہنی ہے،اور لینے بھی میں ہی آؤں گا تمھیں،،، وہ اسے قریب کرتا بولا تو مفرا کی گھبراہٹ میں اضافہ ہی ہوا۔
میں ٹھیک ہوں آپ چلے جائیے،، میں انتظار کروں گی آپ کا،، وہ جلدی سے بولی مگر وہ اس کے قریب تر ہوتا گیا۔
سس،،، سب،، دیکھ رہی ہیں،، اس کی زبان لڑکھڑائی۔
انھیں ہی تو دکھا رہا ہوں میری جان، وہ کہتا جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔ مفرا کو جانے کیوں مگر سکون سا ملا۔
وہ پیچھے ہٹا گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی نکالتا چلا گیا۔ وہ مسکراتی جان بوجھ کر ہاتھ ہلاتی رہی۔۔
اونہہہ بندریاں کمینیاں،، وہ نخوت سے سوچتی اپنی پونی ٹیل جھلاتی کسی کو بھی دیکھے بغیر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ماہ بیر اپنے روم میں داخل ہوا تو کمرہ خالی تھا۔ وہ انھیں قدموں واپس لوٹا،،
رحاب مما،، رحاب مما،، ماہ بیر کی آواز وائٹ پیلس میں گونجی۔ فجر جو کہ ریشماں سے نایاب سے ملنے کی اجازت طلب کرنے گئی تھی اس کی آواز سن کر گڑبڑا گئی۔
تیز قدموں سے ریشماں کے کمرے سے نکلی۔ اور سامنے سے آتے اس کے چوڑے چٹانی سینے سے ٹکرا گئی۔
واٹ دا ہیل،، کس بات کی جلدی ہے تمھیں،، ہوش تو ہے کہ کس کنڈیشن میں ہو تم،، وہ اسے بازوؤں سے تھام کر سنبھالتا غرایا۔

آئم سوری،،مم،، میں نے دیکھا نہیں ،،وہ مم،، میں ،،اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔
پاگل لڑکی،، میری تو خیر ہے تم اگر گر جاتی تو،، اس کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔
ماہ بیر کے اگلے قدم سے وہ بوکھلائی تھی۔ ی،،، یہ کیا کر رہے ہیں،، آپ نیچے اتریں مم،،، مجھے،، سب،، گھر، پر ہیں،، پپ،، پلیز،،
وہ اس کے بازوؤں میں مچلی۔
مجھے کوئی پرواہ نہیں ،،جب تم ایسے گرتی پڑتی پھرو گی تو میں تو یونہی بازوؤں میں اٹھاؤں گا۔ وہ لاپروائی سے بولا
تبھی رحاب اور زمل سامنے سے آئیں تو فجر کا رنگ اڑ چکا تھا مگر اس ڈھیٹ انسان پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔
تبھی ان کے سامنے اسے لئے اپنے روم میں آ گیا۔ اور لا کر بیڈ پر اسے نرمی سے اتارا۔
آپ بہت بے شرم ہیں ،،وہ دانت کچکچا کر بولی، اب بعد میں زمل مما نے اس کی خوب درگت بنانی تھی۔
جانتا ہوں،،زرا بے شرم ہوا ہوں تو باپ بننے والا ہوں، وہ اطمینان سے کہتا اس پر گھڑوں پانی ڈال گیا۔
کانوں تک سرخ ہوتی وہ جھلاتی خاموش ہی ہو گئی۔

تمھاری طبیعت ٹھیک ہے؟ گہری نگاہوں سے جائزہ لیتے پوچھا گیا تھا۔
جج،، جی،، وہ گھبرائی۔۔ ایسی نگاہوں سے تو جان نا چلی جائے بندے کی۔۔
ریشماں دادو کے روم میں کیوں گئیں تھیں؟ عام سے لہجے پوچھا گئے سوال سے وہ لرز اٹھی تھی۔
و،، ویسے ہی،، انگلیاں چٹخاتی وہ اس کی نگاہوں سے چھپ جانا جاتی تھی۔ اور وہ شارپر،،اس کی خوفزدہ حالت سے اچھی طرح جان چکا تھا کہ وہ ریشماں کے کمرے میں کیوں گئی ہوگی۔

تبھی ماہ بیر نے کھینچ کر اسے سینے میں بھینچا تھا۔
اس کے چہرے پہ آتی آوارہ سے لٹ کو کان کے پیچھے اڑستا گویا ہوا۔ مسز فجر ماہ بیر کوشش بھی مت کرنا اس جانب رخ بھی کرنے کی،، میں ہر گز اجازت نہیں دوں گا کہ تمھیں یا میرے بچے کو کسی بھی قسم کا کوئی نقصان ہو۔
اس کے سرسراتے دھیمے لہجے میں وارننگ بھی تھی۔ اور فکر و محبت بھی ۔ یہ بول کر ماہ بیر نے اس کے بالوں میں اپنا منہ دیا تھا۔
فجر کی آنکھیں نم ہوئیں۔
کک،، کیا آپ اپنے بچے سے دور رہ پائیں گے۔ تت،،، تو مم،، مجھے، کیوں،،
ماہ بیر نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی تھی وہ اس خوشی اور شادمانی کے موقع پر اس فضول بحث میں پڑنا چاہتا ہی نہیں تھا۔ تبھی اپنی شدتوں سے اس نے فجر کو دنیا بھلا دی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ ابراہیم ہاؤس پہنچ چکے تھے۔ ماہر کسی کام کا بول کر باہر نکلا تھا اور اب ایشان اپنے روم میں موجود اس کا سر اپنے سینے پر رکھے آنکھیں موندے سکون محسوس کر رہا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد آروشے کی آنکھ کھلی تھی۔ پہلے تو خالی الذہنی کے عالم میں وہ کچھ دیر یونہی لیٹی رہی مگر کچھ دیر بعد ہی دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو سارے واقعات کسی فلم کی طرح دماغ میں چلنے لگے۔ سر اٹھا کر دیکھا تو خود کو ایک اجنبی کے بازوؤں میں دیکھ اس کی روح فنا ہوئی تھی۔
تڑپ کر اٹھنا چاہا۔۔مگر گرفت آہنی تھی۔ ایشان اس کی ہلچل سے محظوظ ہوا تھا۔مگر نہیں جانتا تھا کہ اس کی زندگی کس قدر تکلیف دہ ہونے والی ہے۔
یہ چھوٹی سی لڑکی کیسے اسے کانٹوں پہ گھسیٹنے والی ہے۔

Continue,,,,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓