No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ جو ایک ضروری کام نمٹا کر وائٹ پیلس واپس آ رہا تھا اور اتفاقا آج پیدل ہی گیا تھا ۔ سامنے سے آتی اس نا گہانی چھوٹی آفت سے ٹکرایا تھا۔ بلیک ہڈی کے نیچے بلیک ٹراؤزر پہنے اپنی دھن میں آتا اب اس نے سامنے دیکھا تو پھر ماتھے پر بل پڑے۔
واٹ دا،،،، حسبِ معمول آریان کا میٹر شارٹ ہوا تھا مگر سامنے آج اس کا متوحش سا خوفزدہ آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ زبان کو بریک لگی اور وہ بے تحاشا چونکا تھا۔
ادھر نجانے کیوں شفا کو اس کو سامنے پا کر اب پھوٹ پھوٹ کر رونا آ رہا تھا۔ سامنے کھڑے شخص کا ایک نگاہ دیکھ کر نگاہ پھیر لینا بھی شدت سے نوٹ کیا تھا۔
واٹ ہیپنڈ؟ آریان نے ٹراؤزر کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈال کر خلافِ عادت نرمی سے پوچھا تھا۔ جبکہ اس کی سرخ کلائی پر وہ وحشی نشان اس کی زیرک نگاہوں سے چھپے نہیں رہ سکے تھے۔
ہاف وائٹ ٹی شرٹ کے نیچے ییلو ٹراؤزر اور سکارف میں وہ، وہ نشان چھپانے کی کوشش میں ہلکان تھی۔ آریان کے ماتھے پر بل آئے۔
اتنے میں سیفی اس کے سر پر پہنچ گیا تھا۔ جسے دیکھ شفا بے اختیار ہی آریان کے پیچھے ہوئی تھی اور روئے چلی گئی۔
ہیے یو،، کون ہو تم پیچھے ہٹو،، شفا میرے ساتھ آؤ،، سیف نے اسے کسی لڑکے کی چوڑی پشت کے پیچھے چھپتے دیکھ دانت پیس کر کہا۔
بوائے فرینڈ ہوں اس کا، کوئی تکلیف،، ناؤ گیٹ لاسٹ فرام ہیر،، آریان نے اطمینان سے کہا۔ جبکہ اس کی بات پر سیف کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔ شفا نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا وہ تو اس کے پیچھے کھڑی سوں سوں کیے جا رہی تھی۔
بکواس کر رہے ہو ،کزن ہے یہ میری، اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو مجھے پتہ ہوتا، سیف غرایا۔
رئیلی، پر بات یہ ہے ناں کہ ہر بات بھائیوں کے بتانے کے لائک نہیں ہوتی، آریان کے اطمینان میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی تھی۔ جس سے سیف کو آگ لگ رہی تھی بلکہ اسے اس لمبے چوڑے کسرتی سینے اور پھولے مسلز والے لڑکے سے الجھنا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔
اب اگر اپنی ہڈیوں کا کچومر نہیں بنوانا تو ہٹ جاؤ میرے سامنے سے،، سیف کی گیدڑ بھبھکیوں پر آریان کو ہنسی آ رہی تھی۔
اوکے ٹرائی کر کے دیکھ لو؟ آریان نے سر دھنتے کہا تو وہ اس کی جانب لپکا۔ مگر وہ تو اس کے سامنے کارٹون ہی لگا کم از کم۔
اس کے دو تین وار آریان نے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے ہی خالی پلٹا دئیے تھے۔ اب آریان نے پوری طاقت لگا کر اس کے سینے پر ایک پاؤں جڑا تھا جس سے وہ سوکھی لکڑی کی طرح ہوا میں اچھلتا دور جا کر گرا تھا۔ وقت رہتے ہی چاند تارے نظر آچکے تھے۔ کافی وقت لگا اٹھنے میں ناک سے خون بہنے لگا تھا۔
دیکھ لوں گا تم دونوں کو،، وہ بکتا جھکتا وہاں سے جا چکا تھا۔
جبکہ آریان اس کی جانب پشت کیے ہی کھڑا رہا۔
یہ قینچی کی طرح چلتی زبان اور یہ ہاتھ صرف مجھ جیسے مخصوص لوگوں کے سامنے ہی چلتے ہیں بس، وہ اسی اطمینان سے کھڑا اب اس پر خفیف سا طنز اچھال چکا تھا۔
مگر اس کے اگلے عمل نے آریان پر حیرتوں کے پہاڑ توڑے تھے کیونکہ وہ قریب آ کر اسے کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے دبوچے سر ٹکائے رونے کا شغل فرمانے لگی تھی۔
وہ جسے کبھی اس صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، عجیب آکورڈ سی فیلنگز تھی۔مگر پیچھے کھڑی لڑکی کا یہ دبو روپ اسے زہر لگ رہا تھا وہ تو اسی جھانسی کی رانی ٹائپ روپ میں ہی اچھی لگی تھی ۔
Ay stop crying and stay away from me,,,,,
کوئی دیکھے گا تو کیا بولے گا؟ میری تو خیر ہے۔ تم لڑکی ہو تمھیں اس چیز کا خیال کرنا چاہیے،، وہ نرمی سے بولا تو اس کے رونے میں شدت ہی آئی تھی یہ جان کر کہ اس پرائے بندے کو اس کی عزت و بے عزتی کا کتنا خیال تھا اور وہ بیغیرت انسان،،
شفا اس سے دور ہوئی تھی۔
سو کالڈ کزن تھا یہ میرا، اور پاپا دوسرے شہر میں جا کر اطمینان سے بیٹھے ہیں کہ ان کی بہن اور ان کا بیٹا ان کی غیر موجودگی میں میرا خیال رکھیں گے۔ یہ خیال رکھا ہے میرا،، کہ میں اپنے ہی گھر کی چاردیواری سے باہر نکل آئی،، اس بزدل، وحشی بیغیرت کی وجہ سے،، رات کے اس وقت،،
وہ سوں سوں کرتی جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے میں مصروف تھی۔
آریان کا خون کھولا۔ منہ نہیں توڑا گیا تم سے، یا کم از کم سر پھاڑ دیتی اس طرح بزدلی دکھانے سے تو بہتر تھا،،
کوشش کی تھی میں نے پر،، وہ منمنائی اور بے بسی سے اپنے نازک گلابی لب کاٹے۔
چلو میرے ساتھ،، گھر چھوڑ دوں تمھیں،، آریان نے کہا تو وہ خاموشی سے اس کے پیچھے ہو لی۔ مسلسل اس کی پشت کو دیکھتی وہ کسی اور ہی دنیا میں تھی۔بات بات پر جانے کیوں ان دونوں کا موازنہ کرنے بیٹھ جاتی تھی اور ساتھ چلتا شخص ہر موازنے میں بڑی اونچی مسند پر سوار ہو جاتا۔
وہ پوچھ پوچھ کر اسے لئے اس کے گھر تک پہنچا۔ یہ شفا کے گھر کا بیک ڈور تھا۔
میں اندر نہیں جاؤں گی۔ شفا کے شوشے پر حیرانگی سے آریان اس کی جانب مڑا۔۔
تو ساری رات یہیں باہر پہرا دینے کا ارادہ ہے کیا مس؟ وہ آبرو اچکا کر بولا۔
اگر وہ اندر مم میرا ویٹ کر رہا ہوا تت،، تو، پہلی دفعہ آریان نے اس کی زبان لڑکھراتی محسوس کی تو اس کا ڈر سمجھتا اس کے ساتھ اندر آیا۔
اس کے روم تک آ کر وہ رکا۔یہ شاید اس کے روم کا بیک ڈور تھا۔تو وہ بھی رک گئی۔۔ آریان کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔ کہاں پھنس گیا تھا۔۔ اسے گھورا مگر اس کہ چہرے کی معصومیت سے نگاہ چرائی اور روم میں داخل ہو کر اچھی طرح روم چیک کیا۔ اور گھر کی اندر کی جانب کھلنے والا ڈور اندر سے لاک کر دیا۔
شاکنگ پنک اور وائٹ کلر کمبینشن سے نہایت نفاست سے سجا کمرہ ،کمرے والی کے اعلیٰ ترین زوقِ انتخاب کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
اب جاؤں یا یہاں کھڑے ہو کر پہرہ دوں ساری رات، پرنسس میڈونا کا ،، آریان نے چھیڑا۔ اس کا چہرہ خفت سے سرخ پڑا مگر خوف بھی جوں کا توں تھا۔
تت،، تھوڑی دیر رک جائیے پپ پلیز،،، وہ پھر رو دی۔
واٹ؟ سیریسلی،، تمھارا بوائے فرینڈ بتا چکا ہوں خود کو، اور سوچو اگر تمھاری پھپھو آ گئیں تو کیا کہیں گی یا کسی سرونٹ نے دیکھ لیا تو؟
وہ اسے ڈارئے گیا، ہاں مگر جانے کے لئے قدم نہیں بڑھائے تھے۔
بھاڑ میں جائیں سب مجھے کسی کی پرواہ نہیں،، وہ جھلائی۔
آریان نے دانتوں تلے لب دبایا،، کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ مجھ سے کیوں ڈر نہیں لگ رہا ہے آپ کو مس؟ آریان جو کب سے حیرت کا شکار تھا پوچھ بیٹھا۔
نہیں لگ رہا،، وہ سنجیدگی سے بولی۔
کیوں، میں بھی تو لڑکا ہوں، بلکل اجنبی ، اور رات کے اس وقت تنہائی میں تمھارے روم میں موجود ہوں؟ وہ الجھا اور اسے پانی کا گلاس تھمایا مگر وہ اسے دیکھ نہیں رہا تھا دوبارہ رخ کھڑکی کی جانب کیا۔۔
اس معاملے میں ایک لڑکی کی چھٹی حس بڑی تیز ہوتی ہے۔جان جاتی ہے وہ سامنے والے کی نیت بھی اور نگاہ بھی۔ شفا نے اسے لاجواب کیا مگر وہ چھیڑنے سے باز نہیں آیا اب اس آفت کا موڈ بھی تو پہلے جیسا بحال اور کڑک کرنا تھا۔
اور اگر میری نیت خراب ہو گئی تو؟
نہیں ہوتی،، وہ اطمینان سے بولی تھی مگر اب کچھ یاد آنے پر پانی گھونٹ گھونٹ پیتے اسے اچھو لگا تھا،، تم نے خود کو میرا بوائے فرینڈ کیون بتایا؟
بھائی بتاتا تو شاید تمھارے سو کالڈ کزن کو اپنے ماموں پہ شک ہوتا ،اسے لئے تمھارے ڈیڈ کو بچا لیا۔ آریان کی آنکھوں میں اب شرارت تھی۔اس کا ٹائم ویسٹ ہو رہا تھا۔
But He loves his waste of time..
پاپا کو بچا لیا اور مجھے پھنسا دیا، اور اگر اس نے پاپا کو بتا دیا تو؟
تو کہنا ،،،،تھا بوائے فرینڈ پر اب بریک اپ ہو گیا، آریان نے مشورہ دیا۔۔
اونہہہہہ شکل دیکھی ہے اپنی وائٹ چلغوزے بوائے فرینڈ بننے والی،، وہ برا سا منہ بنا کر بولی۔
رئیلی،، فاقے زدہ چھپکلی،،،،، لکی ہوگی وہ جو میری گرل فرینڈ بنے گی، یو گیٹ دیٹ،، وہ فخریہ سا بولا۔
ہاں لکی تو ہو گی فری کا باڈی گارڈ جو مل جائے گا،، اس نے پہلی مرتبہ اس کی بات پر ایگری کیا مگر اینڈ والے فکرے پر اسے اس پاگل لڑکی کا لہجہ کافی اداس لگا۔۔
چلتا ہوں تم تو ہو ہی عقل سے پیدل لڑکی مجھے بھی بدنام کرواؤ گی، آریان نے اسے چھیڑتے باہر کی طرف رخ کیا تھا۔
شفا نے گہرا سانس بھرا۔۔ اور اسے جاتے دیکھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رات کے تقریبا دو بجے کا وقت تھا ہر سو ہو کا علم تھا۔۔ وائٹ پیلس پر مکمل خاموشی اور تاریکی کا راج تھا۔۔ جب ایک ہیولہ اس تاریکی میں بلو ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں منہ پر رومال باندھے وائٹ پیلس میں داخل ہوا تھا۔
کائی جمی سبز آنکھوں میں عجیب سی بے چینی اور وحشت تھی۔ وہ ڈبل سٹوری پر موجود اپنے مخصوص کمرے میں داخل ہوا تھا۔ کلک کی آواز سے آہستگی سے دروازہ کھلتا چلا گیا۔
اندر داخل ہو کر اس نے پیچھے مڑ کر ڈور لاک کیا تھا۔ اب رخ پھر بیڈ کی جانب تھا تو رگ وجاں میں سکون سا دوڑ گیا۔
کیسی مجبوری تھی جو اسے اس کی مارش میلو تک پہنچنے نہیں دے رہی تھی۔دل تھا کہ جیسے صدیوں سے اسے دسترس میں لینے کو بیقرار تھا۔ کیسی تڑپ تھی جو اس کے قرب حاصل کرنے کے لئے سینے میں مچل اٹھی تھی۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتا بیڈ کے قریب تر آیا۔۔ وہ براؤن فراک میں براؤن ٹراؤزر میں بیڈ پر کمفرٹر نازک بانہوں میں بھرے دائیں کروٹ گہری نیند میں تھی۔
ماہر سوہم خان نے سائیڈ پر جا کر لیمپ آف کیا۔ اب کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔۔ صرف کھڑکی سے چھن کرکے آتی چاند کی چاندنی کی دودھیا رنگت کمرے میں پھیلی تھی۔
وہ اطمینان سے اس کے قریب نیم دراز ہوا۔ گہرا سانس بھر کر وہ روح کو معطر کرتی سانسیں مہکاتی خوشبو اس نے اپنے اندر تک اتاری۔۔
خود پر قابو نا پاتے اس نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے بے حد قریب کیا تھا۔ اور اس پر حاوی ہو کر اس پر جھکا۔
جانی پہچانی خوشبو اور لمس سا پا کر رواحہ نے بھی غنودگی کے عالم میں اس نے اپنی آنکھیں نیم وا کر کے خود پر جھکے وجود کو دیکھا تو سامنے ہی وہ چمکتی سبز روشن آنکھیں ہی دکھائی دیں۔ خود کو اس کی بانہوں میں پا کر وہ مسکرائی تھی جیسے ۔
اب تو یہ عالم تھا کہ ہر سو ہر جانب، دن رات اسے وہ دکھائی دیتا تھا، اپنی دھڑکنوں میں سنائی دیتا تھا۔
آپ خواب میں بھی مجھے پریشان کرتے ہیں،، وہ انتہائی دھیمے لہجے میں بولی کہ ماہر کو بمشکل ہی سنائی دیا۔ اور ہاتھ بڑھا کر اس کا چہرہ چھونے کی کوشش کی۔ وہ گہرا مسکرایا۔
اور تم نے جو ہر وقت، ہر پل، ہر لمحہ مجھے تنگ کیا اس کا کیا میری مارش میلو،، دہکتے لب سے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی۔
کک،، کہاں چلے گئے آپ،، مم،، مجھے چھوڑ کر، اس نے لرزتے لہجے میں شکوہ کیا، اور ماہر کی گردن کے گرد بازو حمائل کیے۔نیم وا آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے گھنے آبشار کی طرح تکیے پر پھیلے بالوں میں جزب ہوئے تو ماہر کو بہت تکلیف ہوئی۔
جلد لوٹوں گا میری جان،،اور ہر دکھ کا مداوا کروں گا،، کان میں سرگوشی کی اور آئندہ آنے والے خوشگوار دنوں کی نوید سنائی۔
یہ آپ کے گلے میں اور کندھے پر پٹی بندھی ہوئی ہے ناں۔رواحہ نے محسوس کر کے آنسوؤں کی روانی میں اضافہ کیا۔ اسے اب بھی یہی لگ رہا تھا کہ وہ خواب کی کیفیت میں ہے۔۔ وہ مچلی مگر ماہر نے اس نرم وگداز وجود کو خود میں بھینچ اس کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی دسترس میں لیا تھا۔۔
ماہر کے سینے میں جو اس کی طلب کی آگ بھڑکی ہوئی تھی اس کے گداز لمس نے اسے جلا بخشی اور ماہر کے عمل نے شدت اختیار کی تھی کہ رواحہ کو لگا آج وہ اس کی جان نکال لے گا۔
ماہر سوہم خان مکمل بے خود اور مدہوش سا اس پر جھکا ہوا تھا۔ سانس اٹکنے پر رواحہ نے اس کی شرٹ کا کالر اپنی مٹھیوں میں دبوچا تھا۔
ماہر نرمی سے پیچھے رواحہ بے حال سی ہوتی اپنی سانس بحال کر رہی تھی۔ اب وہ مکمل نیند سے بیدار ہوئی تھی مگر اس سے پہلے ہی ماہر نے اس کے چہرے پر رومال رکھا تھا۔
آئم سوری میری جان ،،میری مارش میلو،، تمھارے اس گرین مونسٹر کو جانا ہوگا۔ یہ تمھیں اپنا چھلنی وجود نہیں دکھا سکتا کہ تم پھر اپنے بارے میں الٹا سیدھا سوچ کر اپنے آپ کو کوس کر خود کو اور مجھے تکلیف پہنچاؤ گی۔ جب تک مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتا تم سے دور رہنا مجبوری ہے میری، اور یہ دوری میرے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔ ان گولیوں سے زیادہ تو مجھے تمھاری دوری نے ایک عذاب میں جھونک رکھا تھا۔ اب تم صبح کو سب کچھ بھول جاو گی۔
وہ کہہ کر بڑی مشکل سے اس کے پہلو سے اٹھا تھا۔ کمفرٹر درست کر کے روم سے باہر آیا تو سامنے ہی منی کھڑی مسکرا رہی تھی۔
تھینکس یار منیب،، میری غیر موجودگی میں اس کا خیال رکھنے کے لئے اور ابھی کے لئے۔
رک جاؤ سوہم خان، تمھارے اس جان لیوا ہجر کے ناگ نے اس کی رگ رگ میں زہر اتار دیا ہے میں تو ڈرتی ہوں اسے کچھ ہو نا جائے ۔ منی اداس ہوئی۔
پلیز منیب،،، ماہر نے اپنے لب کچلے،، جب تک میں زندہ ہوں،، بھروسہ رکھو اسے بھی کچھ نہیں ہوگا۔بس کچھ دن اور پھر لوٹوں گا، اسی کے لئے تو موت کے منہ سے واپس آ گیا ہوں۔ تو اب تھوڑے دن اور سہی۔ جانتے ہوں ناں اسے میری اس حالت کا پتہ چل گیا تو یہ سمجھ کر کہ یہ اس درندے رستم نے کیا وہ کتنا ہنگامہ کرے گی۔ کچھ دن اور خیال رکھنا میری امانت کا۔
وہ کہتا وائٹ پیلس جتنی خاموشی سے آیا تھا اتنی ہی خاموشی سے واپس جا نکلتا چلا گیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
صبح بوجھل ہوتے سر کے ساتھ اس نے آنکھیں کھلیں تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کمرے میں ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔
تو کیا رات خواب دیکھا تھا۔ اگر یہ خواب تھا تو اسے اپنی پوری جزئیات سمیت یاد تھا۔ خواب کے حقیقت؟
اگر خواب تھا تو اس قدر حقیقت کے قریب ترین کیوں تھا۔ کیوں اپنی سانسوں میں رچی اس کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔
اور اگر حقیقت تھا تو وہ دشمن جاں کہاں تھا آخر؟ رواحہ جھنجھلائی اور بستر سے نکل کر فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلی۔ ادھر ماہ بیر چھوئی موئی سی فجر کو ہاتھ تھامے اپنے کمرے سے لے کر باہر نکلا تھا۔
تبھی منی اس کے قریب آئی تھی۔ چلو مارش میلو،،
کدھر؟ رواحہ نے پوچھا
اماں ریشماں کے کمرے میں ،سب کو وہیں بلایا ہے ماہ بیر نے، وہ رواحہ کا ہاتھ تھامے آگے بڑھی۔
ریشماں کے کمرے میں داخل ہوئی۔ تو عجیب سا جلال تھا ان کے کمرے میں وہ مرعوب ہوئی۔ یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ وہاں سب موجود ہیں اور پنکی سمیت سب ہی تقریباً احترام سر جھکائے بیٹھے اور کھڑے تھے۔
جبران اور مفرا بھی ایک طرف کھڑے تھے۔
رواحہ اور مفرا کی آنکھوں میں حیرت اور تجسس سا تھا کہ اب یہ ہستی کون تھی۔جبکہ فجر اطمینان سے مگر شرمائی لجائی سی بیٹھی تھی۔
رواحہ اس پر پر جلال پر نور سے بوڑھے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھی جب ریشماں نے اس چھوئی موئی کی جانب دیکھا ۔رواحہ کی رگوں میں سرسراہٹ سی ہوئی۔
تب ریشماں نے اشارہ کر کے رواحہ کو اپنے پاس بلایا۔ رواحہ جھجھکی مگر منی اسے بازو سے تھام کر ان کے قریب لائی اور بیڈ پر بٹھا دیا۔
ریشماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ تم رواحہ ہو؟ ماہر کی روح؟
جج،،، جی،،، وہ جھجھک کر بولی۔
ریشماں مسکرائی اور سوہم خان کی جانب دیکھا۔ سوہم خان اور روحا جو کہ صوفے پر بیٹھے تھے دلچسپی سے اپنی بہو اور ریشماں کو دیکھ رہے تھے۔
ارے جھیلا کیسے تم نے اس سبز بلا کو،، زیادہ تنگ تو نہیں کرتا میری اس گڑیا کو،، ریشماں نے لاڈ سے پوچھا تو رواحہ کا دل کہا کہیں چھپ جائے۔
اب ریشماں نے مفرا کی جانب اشارہ کیا تھا۔ اس کا چہرہ تو سفید ہی پڑ گیا تھا۔ تب جبران اسے ہاتھ سے تھام کر قریب لایا اور بیڈ پر بٹھا دیا۔۔
اب ماہ بیر بھی فجر کا ہاتھ تھام کر آگے لایا تھا۔سب سے پہلے یہ گڈ نیوز سنانے کے لئے ماہ بیر فجر کو ساتھ لیے ریشماں کے پاس آیا تھا پر ریشماں نے سب کو ہی بلا لیا۔حالانکہ ابھی ماہ بیر نے بتایا نہیں تھا مگر وہ ریش،ماں تھی۔۔ جیسے سب کی ماں
فجر کی چال ڈھال دیکھ کر ہی معاملے کی طے تک پہنچ گئی تھی۔تبھی مسکرا کر پاشا،، سوہم خان اور کبیر کو مخاطب کیا تھا۔
مبارک ہو بھئی تم لوگ دادا بننے والے ہو،،میری سڑیل پوتے نے کب کارنامہ سرانجام دیا یہ، ریشماں نے فجر کا ماتھا چوما اور سب کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا فجر کانوں تک سرخ ہوتی ریشماں کی گود میں اپنا منہ چھپا گئی تھی۔ ماہ بیر ادھر ادھر دیکھنے لگا جیسے سنا ہی نہیں۔
دادو پلیز،، وہ روہانسی ہوئی۔
ارے واہ اتنے عرصے بعد کوئی خوشی کی خبر ملی ہے اب تو جشن ہوگا۔ پنکی چہکی۔
پاشا، سوہم اور کبیر نے فجر کے سر سے باری باری پیسے وار کر پنکی کو دئیے تھے۔ حقداروں میں بانٹنے کے لئے۔
رحاب، روحا اور زمل نے بھی اس سر خوشی سے اس کی نظر اتاری تھی۔
ماہ بیر ترقی کر لی ہاں،، کبیر نے چھیڑا اور جب سب ہی معنی خیز نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے تو اس سڑیل نے عافیت اسی میں جانی کہ چپ چاپ وہاں سے کھسک گیا۔
اب تم دونوں کب خوشخبری سناؤ گی بھئی۔ ریشماں نے سوال رواحہ اور مفرا سے کیا تھا۔۔میں تو اپنے سب پوتوں کی اولادیں گود میں کھلا کر پھر ہی مروں گی۔ ریشماں کا نرم لہجہ محبت سے بھر پور لہجہ ۔مگر وہ دونوں گڑبڑا گئیں تھیں۔ جبران نے ایک گہری نگاہ اس گلابی سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا تو ایک سرد سی آہ بھری۔ جبکہ مفرا اس کی خود پر محسوس کرتی نگاہ محسوس کر کے ہی مرنے والی ہو چکی تھی۔
ادھر رواحہ کا پورا جسم لرز گیا تھا۔ ان کی پتلی ہوئی حالت سب نے ہی انجوائے کی تھی۔ تب سب قہقہے لگا کر ہنس پڑے۔
وہ دونوں بھی وہاں سے کھسک لیں۔
رواحہ اپنے کمرے میں آئی تھی۔ سانس یوں پھول گیا تھا جیسے ہل چلا کر آئی تھی۔ بے دھیانی میں ہی ڈریسنگ کے سامنے آئی تو چونک چونک گئی۔ حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا تھا اپنا چہرہ دیکھ کر، کہ نچلے ہونٹ پر بڑا واضح کٹ کا نشان تھا۔
ی،،،یہ،،، کک،، کیسے،، ہوا،، رات خواب میں اس شخص کی گستاخیاں سوچ کر ہی جان ہوا ہوئی جا رہی تھی۔ اور اب یہ،، وہ شدید الجھی۔
مگر ایک اور سوچ نے خود پر ہی گھڑوں پانی ڈال دیا۔ اونہہہ اس خواب کے چکر میں لگتا ہے خود ہی کاٹ لیا۔۔۔۔ چھییییییییی،، رواحہ ڈوب مرو۔ اس خود سے بھی شرم محسوس ہوئی۔
ادھر مفرا اپنے روم میں آئی تو پیچھے ہی جبران چلا آیا وہ آ کر صوفے پر بیٹھی تھی جب جبران نے اس کے سامنے کچھ پیپر بڑھائے۔
مفرا نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
Continue,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
