No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایک وہ اتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوبرو توبہ!
اُس پہ چُھونے کی۔۔۔ آرزو توبہ!!
ہاتھ کانپیں گے روح مچلے گی!
جب وہ آئے گا ۔۔۔۔۔۔روبرو توبہ!!
چاند تاروں سے رات سجتی ہوئی!
تیری آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تُو توبہ!!
لب نہیں اُس کی آنکھ بولتی ہے!
ایسا ۔۔۔۔۔۔اندازِ گفتگو توبہ!!
وہ کھسک کر اس کے قریب آیا تھا، جو بے آواز رونے میں مصروف تھی۔
ہیے میں تو مزاق کر رہا تھا، ماہ بیر نے سنجیدگی سے کہا اور اس کے قریب ہو کر پیچھے سے اس کے گرد بازو حمائل کیے۔۔ وہ مچلی۔
اونہہہہہ، آپ اور آپ کے مزاق زہر لگتے ہیں مجھے،، خبردار مجھے ہاتھ لگایا،، وہ غصے میں پھنکاری۔
اب ماہ بیر کے ماتھے پر بھی بل آئے تھے۔ تبھی اسے کھینچ کر بیڈ پر اپنے قریب نیم دراز کیا تھا۔
اب بول کہ دکھاؤ کہ ہاتھ نا لگاؤں تمھیں، جان لے لوں گا تمھاری میں اور اب رونا بند کرو نہیں تو حشر بگاڑ دوں گا، وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔
میرے رونے سے میرے آنسوؤں سے فرق پڑتا ہے آپ کو؟
اور تمھیں ایسے کیوں لگتا ہے کہ مجھے فرق نہیں پڑتا؟ الٹا سامنے سے سوال کیا گیا۔ اور گردن میں ہاتھ پھنسا کر رخ اپنی جانب پھیرا۔
پھر کیوں بار بار مجھے تکلیف دیتے ہیں اس چڑیل کا نام لے کر؟ کیوں؟ وہ جھنجھلائی۔
مزاق کر رہا تھا یار،، ماہ بیر نے ہاتھ بڑھا کر اسے قریب کیا۔
ٹھیک ہے آج تو مزاق کر رہے تھے تو وہ،،، وہ،،، فجر جھجھکی
وہ کیا اب پوچھو جو پوچھنا ہے،، ماہ بیر بات کی تہہ تک پہنچ چکا تھا مگر اس کانچ کی گڑیا کے منہ سے سننا چاہتا تھا جو اس کی دھڑکنوں میں بسی تھی جس کی چاہت اور طلب اس کو موت کے منہ سے واپس کھینچ لائی تھی۔
وہ جب حویلی میں آپ اس کے ساتھ آئے تھے تو تب،، اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی۔
وہ رات،، وہ رات تو میں نے اپنی بیوی کے ساتھ گزاری تھی۔ وہ اطمینان سے بولا مگر فجر کی آنکھیں صدمے سے پھیل گئیں۔
آ،،، آپ،،، آپ نے اس چڑیل سے شادی کر لی،، صدمے کے بارے اس کی آواز لرز گئی۔
نہیں تو،، میں نے تو اپنی ایک اکلوتی بیوی اس چڑیل کے ساتھ وہ رات گزاری تھی۔ وہ اس کی چھوٹی سی ناک چومتا بولا۔
جھ،،، جھوٹ،، آپ جھوٹ بول رہے ہیں،، مم،،مجھے پتہ ہے، وہ پھر مچلی۔
اچھا پر تمھیں کیسے پتا؟ وہ آبرو اچکا کر بولا تو وہ گڑبڑائی۔
مم،،، میں نے اندازہ لگایا،، وہ نگاہیں چرا کر بولی۔مگر اس کا گریبان پکڑا، اب آپ بتائیں سچ بول رہے ہیں کہ جھوٹ،
سچ بول رہا ہوں، اس کے پختہ لہجہ اس کی سچائی کی گواہی دے رہا تھا۔
میں کیسے مان لوں؟
یہ دیکھو،، ماہ بیر نے اپنا فون اٹھایا اور اس میں سے کچھ پکس نکال کر اس کے سامنے کیں تو وہ ششدر رہ گئی ۔ وہ اس کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی۔ ایک دو پکس میں ماہ بیر اس کی گال پر نرمی سے جھکا ہوا تھا۔
لوئیر ہوں بھئی، اپنی بے گناہی کے ثبوت رکھے ہوئے ہیں پاس تاکہ وقت آنے پر جج آف دی لائف عرف وائف کے سامنے پیش کیے جائیں یور آونر،، وہ اب اس کے چہرے پر جھکا گداز گالوں پر پر حدت لمس چھوڑ رہا تھا۔ فجر کی سانس اٹکی۔پھر کچھ اور یاد آیا۔
ہٹیے پیچھے،، اب بھی وہیں جائیں جہاں ڈیڈھ ماہ سے تھے،، مجھے اتنی تکلیف میں چھوڑ کر چلے گئے، پل پل اذیت اور عذاب میں جھونک کر،، وہ غرائی تو ماہ بیر مسکرایا۔
اس تکلیف اور اذیت کا مداوا کرنے کے لئے ہی تو لوٹا ہوں میری جان،، وہ گھمبیر بوجھل لہجے میں بولا تو فجر کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی۔
ماہ بیر نے زرا سا اوپر ہو کر اپنی شرٹ اتاری تھی۔ تب فجر کی نگاہ اس کے چھلنی ہوئے داغدار سینے پر پڑی جہاں اوپر نیچے تین تین گولی لگنے کے نشانات تھے تو وہ تڑپ ہی گئی۔
وہ بے اختیار اٹھ بیٹھی تھی۔ ی،،،، یہ،،، کیا ہے؟ کیا ہوا تھا آپ کو،؟ یہ کیسے؟ وہ متوحش سی پوچھے گئی۔ یہ بتائیں مجھے،، کیا ہوا تھا آپ کو؟ وہ پینک ہوئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ہیے کچھ نہیں ہوا تھا، میں ٹھیک ہوں، تمھارے سامنے ہوں ،صرف تمھارے لیے، ماہ بیر نے فجر کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا اور اپنے لبوں سے وہ موتی چنے۔ اسے اپنی فاش غلطی کا بھی احساس ہوا۔
وہ تڑپی مگر ماہ بیر نے اسے بیڈ پر لٹایا تھا۔ اور اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا۔ فجر کے نازک وجود پر سفر کرتے اس کے پرحدت لمس نے فجر کو دنیا بھلا دی تھی۔
جیسے سب گلے شکوے دور ہو گئے تھے ۔ ماہ بیر نے اپنے وجود کو اس میں گم کر لیا تھا۔ فجر نے بھی جیسے ہار مان کر خود سپردگی کے عالم میں اپنے آپ کو اپنی محبت کے سپرد کر دیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ جب دشمنوں کی گولیوں کی بوچھاڑ کی زد میں آئے تھے۔تب پاشا، سوہم اور کبیر واپس لوٹے تھے۔
اور بھلا ان کے ہوتے ہوئے ان کے بچوں کو کچھ ہو سکتا تھا۔دھوئیں کے مرغولے اڑاتے وہ وہاں سے غائب ہوئے تھے۔ ایک سیکرٹ ہوسپیٹل میں لائے تھے جہاں پر جبران سمیت تمام ڈاکٹر کی ٹیم ان کی اپنی تھی۔
ماہ بیر کو تین گولیاں لگی تھیں۔ مگر خوش قسمتی سے اور ڈاکٹرز اور جبران کی سر توڑ کوششوں اور ان کی دعاؤں سے وہ موت کے منہ سے واپس چلا آیا تھا۔ سرجری کے دوران بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔۔پاشا سوہم اور کبیر اس طرح کی صورتحال سے گزرتے رہتے تھے مگر یہ ان کے بچوں کا معاملہ تھا ۔ہاتھ سیدھا کلیجے پر پڑا تھا تو وہ کیوں نا بلبلاتے۔
ایشان جو کو پہلے ہی اسی طرح کی ایک لڑائی میں سر کے پچھلے حصے کو گولی چھو کر گزرنے کی وجہ سے مستقل بیمار رہتا تھا۔
وہ چوٹ گہری تھی ۔اور ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ زیادہ ٹینشن لینے کی وجہ سے اس پر کبھی بھی بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے یا وہ شدید قسم کے سر درد میں مبتلا بھی رہ سکتا ہے۔ اور تو اور ڈاکٹرز نے اسے کہا تھا اب اگر اس کے سر میں دوبار چوٹ لگتی ہے تو اس کی زندگی کو بہت بڑا خطرہ تھا۔ وہ بمشکل ہی سروائیو کر پائے گا۔
یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر بیمار رہتا تھا۔ اب بھی اس کی گردن کو گولی چھو کر گزری تو وہ بے ہوش ہوا تھا اور کندھا خون سے بھر گیا ۔ ماہر اس کا خون سے سنا کندھا دیکھ گھبرایا تھا اور بغیر سوچے سمجھے اس کی جانب لپکا تھا تبھی دشمن کی پسٹلز سے نکلی دو گولیاں اس کے سینے میں پیوست ہوئیں تھیں۔ ایک دل کے قریب اور دوسری کندھے پر لگی تھی۔
ان کی سرجری ہو چکی تھی۔ تینوں خطرے سے باہر تھے۔ مگر کم از کم ایسی حالت میں گھر تو واپس نہیں جاسکتے تھے۔سب سے کریکٹل کنڈیشن ماہر کی ہوئی تھی۔ کہ گولی دل کے بہت قریب تھی۔ سرجری کے وقت بھی ایک بڑا خطرہ سر پر منڈلاتا رہا۔ ماہ بیر سے زیادہ ان کو وقت لگنا تھا ریکوری کے لئے ۔
ماہ بیر کی سرجری کے بعد جب آنکھ کھلی تھی تو سب سے پہلے اسے اسی کا ہی خیال آیا تھا۔
وہ نازک جان جسے سہاگن ہونے کا تاج پہنا کر ،،اپنا کر،، دوبارہ ادھورا چھوڑ آیا تھا۔ جب اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہوا تو سب سے پہلے اسے پر نگاہ رکھی۔ جو بوجھل ہوتی طبیعت کے ساتھ بیزار بیزار منہ بنائے پھرتی تھی۔ کونوں کھدروں میں چھپ، چھپ کر روتی تو ماہ بیر کو لگتا اس کا وجود بھی پگھل کر ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔ اس دوران اسے یہ بھی اطلاع ملی تھی کہ وہ دو مرتبہ اپنی ماں سے حویلی ملنے گئی تھی۔ تب بھی وہ خاموشی سے بس دیکھے گیا تھا۔ مگر اس سب کے دوران جو ماہ بیر کو اس میں وقوع پذیر ہوتی تبدیلیاں محسوس ہوئیں وہ خوشگوار ترین تھیں مگر اس کا بجھا چہرہ دیکھ وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوا تھا تبھی جلد ہی لوٹ گیا تھا اپنی زندگی کے پاس۔
ادھر ایشان کی طبیعت پورے بارہ دنوں بعد سنبھلی تھی۔ ہوش میں آتے ہی سب سے سے پہلے اس پگلی کا معصوم چہرہ آنکھیں کے سامنے لہرایا تھا۔ خود کو سنبھالتے ہی سب سے پہلے اسی کے خیال نے بے چین کیا تھا وہ جانتا تھا اپنے زرائعے سے پتا چل چکا تھا کہ وہ سارا سارا دن وائٹ پیلس میں ایش ایش پکارتی پھرتی تھی خاص طور پر جب سے آریان، جبران، پاشا، سوہم اور کبیر واپس لوٹے تھے ۔ اس نے ان سب کے کان کھا لیے تھے ایش کا پوچھ پوچھ کر ۔
بس ایک ماہ ہی گزار پایا تھا ایشان اس کے بغیر یوں لگتا تھا جیسے اس کے وجود کا حصہ کٹ کر کہیں کھو گیا تھا۔ گم ہو گیا تھا۔تب بڑی خاموشی سے ایشان نے اسے اپنے وجود کے حصے کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔
ادھر گرین مونسٹر کی بھی حالت کچھ مختلف نہیں تھی ۔پندرہ دنوں بعد وہ اٹھ کر بیٹھنے کے قابل ہوا تھا۔ تب اسے اپنی مارش میلو کے خیال نے دن رات تڑپایا تھا۔ پل پل جیسے سینے میں سویئاں چبھی تھیں۔ اذیت ہی اذیت تھی۔ مگر ہجر کے یہ پل کاٹنے تھے۔ سو صبر کا دامن تھامے رکھا۔ کہ اس نازک جان کو اس سب کی بھنک لگتی تو وہ تو جیتے جی مر ہی جاتی۔
پاشا نے مال مختلف حصوں میں بانٹ کر آریان اور اپنے بھروسا مند آدمیوں کے ہاتھ کراچی بھجوا دیا تھا۔ آریان کو واپس بھیجنے کے لئے منانا بھی ایک الگ ہی داستاں تھی بہرحال وہ پاشا اور سوہم کے کہنے پر جانے کے لئے تیار ہو ہی گیا۔
مال اپنے ٹھکانے پہنچ چکا تھا۔۔
دس دن بعد ماہر اور ایشان کے بےحد اصرار کے بعد وہ سب جبران سمیت کراچی لوٹے تھے
ماہر اور ایشان کے علاوہ ۔ ایشان کو اسلام آباد میں ایک بہت ضروری کام نمٹانا تھا۔ جس کا اس نے بڑی بے صبری سے انتظار کیا تھا۔
پھر کچھ دنوں بعد ہی اس جب اس کی حالت کافی بہتر ہو چکی تھی تو ایشان کے دل کی مراد پوری ہوئی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یہ منظر اسلام آباد میں بنے علیزے اور آروشے کے گھر کا تھا جہاں اب آروشے کے روم میں وہ بیڈ پر منہ پھلائے بیٹھی تھی اور اس کے بہت قریب ایشان اسے بس دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا۔
یو بیڈ بوائے،، روشے کٹی ہے تم سے ،، میں نے اتنا سار مس کیا ایش کو، ایش نہیں آیا میرے پاس، اب روشے بےبی بلکل بات نہیں کرے گی ایش سے،، گو آؤٹ فرام ہیر،،
وہ جو بے ہوشی میں اپنے بیڈ سے اٹھا کر ہیلی میں یہاں لا کر سیدھا اس کے روم میں پہنچائی گئی تھی۔ اب سو کر اٹھی تو ایشان کو اپنے سامنے پا کر پہلے حیران ہوئی تھی ۔مگر اب یاد آنے پر فورا منہ پھلا کر بیٹھی تھی۔
ایشان تو بس مبہوت سا اسے دیکھے جا رہا تھا کہ کیا تھا اس چھوٹی سی جان میں کہ اتنی بیماری میں بھی وہ پل پل اس کے لئے تڑپا تھا۔
ایش کا کٹی والی بات پہ کوئی رسپانس نا دیکھ کر روشے بےبی کا اور بھی زیادہ موڈ خراب ہوا تھا تبھی چمک کر بولی۔
بیڈ اور ڈرٹی بوائے ہے ایش،، روشے بےبی سے پرامس کیا تھا کہ جائے گا تو ڈھیر ساری چاکلیٹ اور ائسکریم لائے گا روشے کے لئے بٹ یو آر بیڈ بوائے،، ایک دم بیکار ہو گیا ہے ایش تو،، مجھے نہیں چاہیے،، اسی لئے میں نے مما سے اور سب سے کمپلین بھی کی تھی ایش کی کے اس نے میرے لپس پر کاٹی کی، وہ برا سا منہ بنا کر بولی۔
وہ جو اس کی باتیں انجوائے کر رہا تھا۔ اس کی اینڈ والی بات پر ایشان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں تھیں۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ اس نے سرد سی آہ بھری ۔اب تو وہ ایشان کبیر ابراہیم کی محبت کا ڈھنڈورا پورے زمانے کے آگے پیٹ چکی تھی۔
وہ دانتوں تلے لب دباتا خاموشی سے اٹھا ۔الماری کھول کر اس میں سے ایک باکس نکالا اور اس روٹھی ہوئی کے پاس آ کر بیڈ پر پلٹ دیا۔ وہ جو برے برے منہ بنا رہی تھی اب منہ کھولے بیڈ پر پڑے چاکلیٹس، کینڈیز، کے ڈھیر کو دیکھ رہی تھی۔
یےےےےےےے،،،،،، واؤ، یہ سب ایش لایا روشے بےبی کے لئے،، وہ اکسائیٹڈ ہوئی ۔ایش بھی مل گیا تھا اور اتنی ساری چاکلیٹس بھی اور کیا چاہیے تھا اب،
تبھی اس نے بچوں کی طرح اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کر کے اسے شکریہ کے طور پر ہگ کیا تھا۔ ایشان نے بھی اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے سکون سے آنکھیں موندیں۔
مگر اس سے پہلے وہ اسے محسوس کر پاتا وہ ظالم لڑکی اس سے دور ہو کر چاکلیٹس کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔
ٹھینکس ایش،، بٹ ایش نے اب تک روشے بےبی سے سوری نہیں بولا۔ اسے پھر یاد آیا۔
تو یہ چاکلیٹس سوری بولنے کو ہی تو دیں ہیں ایش نے روشے بےبی کو۔
رئیلی،، وہ خوش ہوئی اور ایک بڑی سی چاکلیٹ اٹھا کر ریپر نکالا۔ اور ایک دو بائٹ لیں۔ وہ اپنی ہی دھن میں مگن تھیں جبکہ ایشان کی نگاہیں ان مخملیں گداز چاکلیٹ سے سنے اس کے لبوں پر تھیں جنھیں دیکھ اس کے حلق میں کانٹے سے اگ آئے تھے۔
مگر اب وہ کم از کم اس کے لپس پر کاٹی کرنے کی حماقت ہر گز نہیں کرنے والا تھا کہ ایشان کو اپنی عزت بہت پیاری تھی۔
وہ اسے مگن دیکھ کر کچن کی جانب آیا مگر چھوٹے سے لاؤنج میں صوفے پر آنکھیں موندے لیٹے پاؤں ٹیبل پر رکھے اس گرین مونسٹر پر نگاہ پڑی تو دل میں اس کی تکلیف محسوس کر کے ایک ٹیس سی اٹھی۔
خیریت طبعیت تو ٹھیک ہے ناں بھائی، ایشان کے پکارنے پر اس نے لال انگارا آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تو ایشان کے رونگٹے کھڑے ہوئے
ان سبز کائی جمی آنکھوں کی وحشت اففففففف توبہ۔
میں تو ٹھیک ہوں پر تم اپنی سناؤ ایشان، اپنی اور اس کی زندگی سے کھیلنے جا رہے ہو کیوں؟ وہ سنجیدگی سے بولا تو ایشان نے نگاہیں چرائیں ۔
میں تھک گیا ہوں بھائی،ایک نارمل لائف جینا چاہتا ہوں اس کے ساتھ،، اب رسک لینے کا وقت آن پہنچا ہے، اور میں یہ رسک لینے کو تیار ہوں۔
اور اگر نتیجہ توقع کے برخلاف نکلا تو کسے موردالزام ٹھہراؤ گے ایشان؟ ماہر آبرو اچکا کر بولا۔
مجھے نتیجے کی پرواہ نہیں بھائی،، وہ لاپروائی سے بولا۔
اگر ٹھیک ہونے کے بعد اس نے تمھیں پہچاننے سے ہی انکار کر دیا تو؟ تمھاری ہونے سے ہی انکار کر دیا تو؟
تو میں خود اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ کر اسے جان سے مار ڈالونگا ۔
رئیلی،، ماہر نے زخمی سی ہنسی ہنس کر پوچھا تو وہ تنی رگیں سرخ چہرہ لیے خاموشی سے کچن میں چلا گیا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ تینوں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کرنے میں مصروف تھے۔ شفا نے خاموشی سے اپنی پلیٹ پر سر جھکایا ہوا تھا۔ پاس ہی بیٹھی شاہدہ پھپھو نرمی اور شفقت سے اس سے باتیں کرنے میں مصروف تھیں۔ جبکہ سامنے بیٹھے شخص کی خود پر پڑتی وقتا فوقتا گہری نگاہ سے اسے عجیب سی کراہیت اور گھن محسوس ہو رہی تھی۔
یہی وجہ تھی جو وہ اس شخص کی وجہ سے اپنی اتنی سوئیٹ سی پھپھو سے بھی خار کھاتی تھی۔
دو تین دن سے وہ آئیں ہوئیں تھیں اور اس گھٹیا بندے نے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ پہلے جو وہ مبہم سی فقرے اس پر اچھالا کرتا تھا اب وہ بدل کر کھلم کھلا گھٹیا اور ذومعنی باتوں میں بدل گئیں تھیں۔
آزاد ماحول اور فضاؤں میں پلے بڑھے اس شخص کی نگاہوں میں ڈھونڈنے سے بھی کہیں خواتین کے لئے عزت و احترام دکھائی نہیں دیتا تھا۔
وہ جلدی سے کھانا ختم کر کے اٹھنے لگی۔ جب پھپھو نے اسے ٹوکا
ارے شفا میری بچی کھانا سہی طرح سے کھاؤ ناں،، دیکھو تو سہی کتنی دبلی پتلی ہو گئی ہے کیوں سیفی ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں میں،،
جی،، جی ممی،، کچھ زیادہ ہی،، دبلی پتلی ہے،، تبھی تو برداشت نہیں کر پاتی بیچاری،، میرا مطلب ہوا سے بھی اڑ جائے۔
پھپھو جانی دبلی پتلی ہی سہی مگر کسی کا منہ باخوبی توڑ سکتی ہوں، وہ دانت پیس کر بولی اور اگنور کرتی اپنے کمرے میں آ گئی۔
عجیب ہی الجھن اور کراہیت سی تھی۔
کسی کی احترام میں جھکی نگاہیں یاد آئیں۔ بولتے وقت نگاہوں کا ادھر ادھر بھٹکانہ یاد آیا۔ حتیٰ کہ اٹھا کر گاڑی میں بٹھانے سے لے کر پاؤں ٹھیک کر کے سپرے کرنے تک بھی اسے زرا احساس نا ہوا تھا کہ وہ اس طرح کسی غیر کے اتنے قریب ہے۔اُس شخص نے عجیب محسوس ہونے ہی نا دیا۔ وائٹ پیلس میں اُچھلتی کودتی پھرتی تھی کبھی ایسی وحشت اور عجیب احساسات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا کہ اس شخص نے تین دن میں اس کے اپنے ہی گھر میں اسے زہنی ٹارچر کر چھوڑا تھا۔
اب بھی آہٹ محسوس ہونے پر کھڑکی کے پاس کھڑی چونک کر پلٹی تو سب سے پہلے تو یہ دیکھ کر اس کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل پڑھے تھے کہ وہ بیغیرت انسان،، بنا ناک کیے گدھوں کی طرح اندر گھستا چلا آیا تھا۔
دودھ لایا تھا تمھارے لیے ،پیو جان بناؤ،،تاکہ مجھے آسانی ہو ،، وہ مسکرا کر ٹیبل پر کافی رکھتا بولا۔
مسٹر سیف الرحمن گیٹ لاسٹ فرام مائی روم رائٹ ناؤ،، وہ چلائی۔
ارے اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو، صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوتا، ویسے میں کہنے آیا تھا کہ آنے سے پہلے مما نے انکل سے ہمارے رشتے کہ بات کی ہے تو خود کو زہنی طور پر تیار کر لو، وہ ڈھٹائی کا اعلی ترین مظاہرہ کرتا مسکرا کر کہتا اس کے قریب آیا۔
اونہہہہہہہ،، غلط فہمی ہے آپ کی سیفی بھائی کہ میں یہ رشتہ منظور کروں گی۔ لگتا ہے پہلے کی ساری ٹھکائیاں بھول چکے ہو جو یہ بکواس میرے سامنے کھڑے ہو کر کر رہے ہو ،، وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی۔
انھیں ٹھکائیوں کا تو بدلا لینا ہے تم سے تمھیں ڈھیر سارا پیار،، ۔
شٹ اپ بند کرو یہ اپنی گھٹیا بکواس اور میرے کمرے سے دفع ہو جاؤ نہیں تو،، شفا نے مکا بنا کر اس کے چہرے کا نشانہ لیا،،
نہیں تو کیا؟ وہ جھٹکے سے قریب آیا تھا اور اس کی کلائی وحشیانہ سلوک کرتے ہوئے بری طرح مروڑی۔ تم بلیک بیلٹ ہو تو میں بھی سیکھ کر آیا ہوں ڈئیر فیوچر وائفی، کہ تم جیسیوں کو کیسے قابو کیا جاتا ہے،، آج تو میں یہ تمھاری کراٹے کی اکڑ توڑتے ہوئے تمھاری عقل ٹھکانے لگا کر ہی جاؤں گا کہ پھر انکار نہیں کر پاؤ گی مجھے۔
اس نے غراتے اسے بری طرح اپنے بس میں کر کے اس کی گردن کے گرد اہنا ہاتھ لپیٹا تھا اور اس کا ارادہ بھانپ کر شفا مرنے والی ہوئی تھی۔
آخری حربے کو طور پر شفا نے پوری طاقت سے اپنا گھٹنا فولڈ کر کے اس کے گھٹنے پر مارا تھا وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا۔ تب شفا اندھا دھند باہر کی جانب بھاگی تھی۔
اپنے ہی گھر سے وہ اس قدر خوفزدہ اور وحشت زدہ ہوئی تھی کہ پچھلے دروازے سے گھر سے ہی نکلتی چلی گئی۔ یہ بھی پتہ تھا کہ وہ اپنے کی بھیس میں بھیڑیا اور وحشی درندہ اس کے پیچھے آ رہا تھا۔
آنکھوں کے آگے بار بار دھند چھا رہی تھی۔ آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے بار بار رستہ دھنلا ہو جاتا ۔اس کا رخ جانے کیون مگر وائٹ پیلس کی جانب ہی تھا۔
شفا رکو،، نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھیں، پیچھے سے وہ بھونکا۔
تب وہ اندھا دھند بھاگتے وائٹ پیلس کے پچھکے گیٹ کے قریب ایک چوڑے چٹانی سینے سے ایک مرتبہ پھر ٹکرائی تھی۔
Continue,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
