No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
دھوئیں کے موغولے چھٹے تھے انھوںنے دیکھا تھا ہر طرف صرف لاشوں کے ڈھیر، خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، اور ہر طرف بارود کی سمیل پھیلی ہوئی تھی۔
اگلے دن سوشل میڈیا، اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ہر طرف سابقہ ڈفینس منسٹر پر اور ہوم منسٹر پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کی خبر وائرل کر دی گئی تھی۔
وہ ان کی سکیورٹی کو ٹھینگا دکھا کر جا چکے تھے۔
اور تو اور سارا مال بھی غائب تھا جس وہ سب صدمے سے پاگل ہو چکے تھے۔ وہ جو کوئی بھی تھے گودام پر بھی یونہی شبِ خون مار کر گئے تھے۔
پورا شہر چھلنی کی طرح چھان مارا تھا۔ مگر مال کا نام و نشان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملا تھا۔ تب منیر، کھرل اور باقی سب نے اپنی اپنی طاقت کا ایڑھی چوٹی تک زور لگا ڈالا تھا مگر نا ان کا پتہ چلا نا مال کا کہ گئے کہاں زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا۔
اب بھی سب سر جوڑے بیٹھے لکیر پیٹ رہے تھے۔
رستم سنجیدگی سے بیٹھا بھائی کو دیکھ رہا تھا جس نے اتنے دن سے اسے یہ کہہ کر ٹالا ہوا تھا کہ پہلے ہم اپنے مال کو اس کی منزل تک پہنچا دیں ۔بعد میں چاہے اسے زمین کھودنی پڑے یا آسمان وہ اس کی چندہ کو ڈھونڈ کر اس کے قدموں میں پھینکے گا۔
تم لوگ مانتے نہیں ہو وہ،،، وہ سو کالڈ جلاد ہی تھے،، منیر دانت پیس کر بولا۔ رستم نے بھی بتایا کہ وہ بول کر گیا تھا کہ اس کی منظورِ نظر جلاد کے پاس ہے، اور اس طرح کا کام مطلب ہمارے ناک کے نیچے سے اتنی سکیورٹی میں بھی وہ ہمارا مال لے اڑے یہ کام وہ جلاد ہی کر سکتے ہیں اور وہ بھی کسی کی شہہ پر ،،وہ منہ سے جھاگ اڑاتا بولا
اب تو مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی معمولی لوگوں کا کام ہو ہی نہیں سکتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اربوں کا مال ہے اسلحہ اور حساس ہتھیار ہے، سوئی تھوڑی ہے جو ڈھونڈی نا جا سکے۔ کھرل صاحب نے بھی دماغ کے گھوڑے دوڑائے۔
کیا؟ کیا کہا آپ نے،، منیر چیمہ ان کی بات پر بے تحاشا چونکا تھا۔
کھرل نے آبرو اچکا کر اسے دیکھا
میں نے کہا سوئی تو نہیں جو نہیں ملے گی۔ کھرل نے استہفامیہ سی اپنی بات دہرائی۔
یہ باااااااااات،،،،،،، یہ بات پہلے کیوں نہیں آئی میرے دماغ میں کہ وہ اتنے سارے تھے،۔یقینا کئی حصوں میں بانٹ کر مال مختلف زرائع سے یہاں سے نکال کر لے کر گئے ہوں گے تاکہ کسی کی نظروں میں نا آئیں۔
وہ اب اس شاطر کی بات پر بھی چونکے تھے۔ بات میں وزن تھا۔
وہ یقینا یہاں سے مال لے کر جا چکے ہیں تبھی تو ملا نہیں ،اور خود بھی نکل گئے ہیں یہاں سے ہماری اتنی سکیورٹی کے منہ پر طمانچہ مار کر،، وہ ہتک آمیز لہجے میں کھرل صاحب کو دیکھ کر بولا جو کہ اپنے سکیورٹی سسٹم کو لے کر کچھ زیادہ ہی اوور کانفیڈینٹ ہو رہے تھے۔
منیر جلتا بھنتا رستم کے پاس آیا تھا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔رستم میرے بھائی آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا جو منیر چیمہ کے منہ سے اس کا نوالہ چھین کر کھائے اور اسے ہضم بھی کر جائے اب تو مال بھی واپس آئے گا اور وہ چھوکری بھی، ہر حال میں ہر قیمت میں،،
وہ خونخوار لہجے میں اپنے ناپاک عزائم ان سب کو بتانے لگا جس سن رستم کی آنکھیں میں ایک انوکھی سی چمک آئی تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آریان کو بھی آئے آج ہفتہ ہو چکا تھا ۔مِفرا اپنے کمرے میں اداس سی تکیے میں منہ دئیے لیٹی ہوئی تھی۔ سبھی آن سے پوچھ رہے تھے کہ وہ لوگ کہاں ہے؟
مگر اس کی ہمت نہیں ہو پائی تھی کسی سے بھی جبران کے بارے میں پوچھنے کی۔
وہ اپنے کمرے میں حسب عادت بیڈ پر تکیے کو دبوچے آڑھی ترچھی لیٹی اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میرون شارٹ فراک اور پاجامے میں سفید و گلابی سا وجود چاندی کی طرح دمک رہا تھا۔۔ باہر غیر معمولی سا محسوس ہوا مگر وہ یونہی کسلمندی سے لیٹی رہی۔
باہر ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح پاشا، سوہم، کبیر اور جبران واپس لوٹے تھے۔ کہ سب کے چہروں پر چمک اور مسکراہٹ سی کھل گئی تھی۔۔
تقریباً گھنٹے بعد ہی اسے اپنے کمرے آہٹ سی محسوس ہوئی تھی۔مگر اپنا وہم سمجھ کر لیٹی رہی۔
چونکی تو تب جب بیڈ پر سرسراہٹ سی ہوئی۔ اور کوئی اطمینان سے قریب آ کر نیم دراز ہوا۔ مخصوص خوشبو کا ایک خوشگوار جھونکا سا تھا جو سانسوں سے ٹکرایا تھا۔
مگر ایسے وہم تو اسے کتنے دنوں سے ہو رہے تھے وہ ڈھیٹ بن کر جھنجھلائی سی لیٹی رہی۔
جبران نے گہری مسکان لیے اس کی کمر کو دیکھا۔زرا سا جھکا ۔
پنک روز،، اس کی کان میں بولا تو وہ اچھل کر سیدھی ہوئی۔
تبھی جبران اس کے وجود پر حاوی ہوا تھا۔
آ،،، آپ،،، وہ شاکڈ سی اسے دیکھے گئی۔
جی میں تمھارا سرتاج، تمھرے سر کا سائیں، تمھارا مجازی خدا، وہ اس کے گال کھینچ کر بولا ۔
ہٹیے میرے اوپر سے،، وہ مچلی، لہجے میں سنجیدگی اور ناراضگی تھی۔ جو جبران محسوس کر کے گہرا مسکرایا
پر میرا تو آج کچھ اور ہی پروگرام ہے بیگم جان،، اس لئے پیچھے نہیں ہٹوں گا،، یہ کہہ کر جبران اس کے مزاحمت کرتے ہاتھ جو اس نے جبران کو دور کرنے کے لئے اس کے سینے پر رکھے ہوئے تھے نرمی سے تھام کر اس نے بیڈ سے لگائے اور اس کی نرم و گلابی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائیں۔
کک،، کیا، ،مطلب،، وہ اس کی معنی خیز بات پر ٹھٹھک گئی۔
جبران نے اس کی چھوٹی سی ناک پر اپنے لب رکھے۔
مطلب یہ کہ بیگم جان،، شوہر اتنے دنوں بعد لوٹا ہے اسے سکون دو، وہ کہتا اس کی گردن پر جھکا تھا۔
کافی پل گردن پر سفر کرتے اس کے لب خود کو سیراب کرتے رہے
مگر اس کا پسینے میں نہایا وجود آنکھوں سے بہتے آنسوؤں محسوس کر کے وہ نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔
ناراض ہو بیگم جان ، جبران نے نرمی سے پوچھا ۔
وہ سوں سوں کرتی جھٹکے سے اس کی جانب سے رخ موڑ گئی۔
آپ کو کیا میں جیوں، مروں ،ناراض ہو جاؤں یا کچھ بھی،، آپ تو چلے گئے تھے ناں مجھے اس نرما کے حوالے کر کے،، اب چاہے وہ مجھے جلا کر مار ،،،
ہیے،، جبران نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے اسے خود میں بھینچا تھا۔ مفرا کی کمر اس کے سینے سے لگی۔
مجبوری تھی یار،، اور تمھیں ایسے کیوں لگتا تھا کہ میں نے ایک پل کے لئے بھی تمھیں اکیلا چھوڑا، ہر پل تم میرے اور میرے گارڈز کی حفاظت میں تھی۔
وہ نرمی سے اسے سمجھائے گیا مگر اس کے بہتے آنسوؤں میں کمی کی بجائے روانی ہی آ رہی تھی۔
جبران کی بھی آنکھیں نم تھیں وہ نرمی سے اس کے کندھے پہ لب رکھے اسے محسوس کرتا ۔۔جبکہ وہ رو رو کر بے حال ہوتی اس کے بازوؤں میں ہی گہری نیند سو چکی تھی۔۔
جبران نے اسے سیدھا کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھا اور سکون سے آنکھیں موند لیں۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
پورا ڈیڈھ ماہ انتظار کی سولی پر لٹکی جان نے اسے توڑ دیا تھا۔کچھ اتنے دنوں سے بوجھل اور گری گری طبیعت نے جان نڈھال کر دی تھی ۔کچھ اس بات کا ادراک ہوتے ہی کہ جنت سمٹ کر اس کے پاؤں میں سمانے والی ہے اس کے جسم جیسے روح نکل گئی تھی۔ اور اس نے خود کو آروشے میں الجھا رکھا تھا دھیان بٹانے کو اب تو دس دن ہو گئے تھے وہ بھی وائٹ پیلس سے غائب تھی۔
ایک دن صبح وہ سو کر اٹھی اور آروشے کے کمرے میں گئی تو وہ اپنے بیڈ پر تھی ہی نہیں ۔ وہ سب سے پوچھ پوچھ تھک گئی کہ آروشے کہاں ہے مگر سب نے لاعلمی کا اظہار کیا جو حیرت انگیز تھا۔ اور اس کے لئے اور اعصاب شکن بھی تھا۔۔
ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﻭﮞ ﯾﮩﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﮬﮯ،،
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ _ ﮨﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﺎﻧﯽ ﮬﮯ،،
جب دل و دماغ کی یہ وحشت یہ عذاب و اذیت ناقابلِ برداشت ہوئی تو فجر ایک مرتبہ پھر رات کے اندھیرے میں وائٹ پیلس کی طویل سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی تھی۔
اس بے مہر کے منہ سے خود کے لئے بدکردار کا خطاب سننے سے تو بہتر تھا وہ مر ہی جاتی جو شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی امانت کی حفاظت بھی نہیں کر پائی تھی۔
اب بھی فورتھ فلور کی ریلنگ پر کھڑی وہ کود ہی جاتی جب پیچھے سے بہت سختی سے کسی نے اپنی پناہوں میں لیا تھا۔
اسے اپنی جانب گھما کر ایک زناٹے دار تھپڑ مارا تھا اس کے منہ پر، وہ ششدر سی کھڑی پورے ڈیڑھ ماہ بعد اس کو اپنے سامنے دیکھ رہی تھی۔ یہ سب کچھ اتنا ناقابلِ فہم اور ناقابلِ برداشت تھا کہ وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہو کر ماہ بیر کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔
اسے جب ہوش آیا تو وہ اپنے بیڈ پر نیم دراز تھی اور پاس ہی وہ پرحدت نگاہوں سے مگر غصے سے اسے گھور رہا تھا۔
مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو مجھے کیوں نہیں بولتی تمھاری مشکل آسان کر دوں، کیا تھا یہ،، کوئی دورا پڑتا ہے یا کوئی آتما سوار ہو جاتی ہے تمھارے سر پر جو آدھی رات کو چڑھ جاتی ہو ریلنگ پر اب ایک جملے میں مجھے جواب چاہیے اس بکواس فعل کا مطلب؟ وہ اپنے مخصوص غصے میں دھاڑا تو وہ سسک پڑی۔
وہ مم،، ماہ بیر مم،، میں،، پپ،، پریگننٹ ہوں، یہ کہتے اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا، آنسو تواتر سے گال بھگو رہے تھے۔
تو ،، وہ آبرو اچکا کر بولا،، دنیا کی سبھی بیویاں ہوتی ہیں تم انوکھی ہوئی ہو کہ جا کر ریلنگ پر چڑھ گئیں ،،وہ دانت پیس کر بولا۔
وہ حیرت سے گنگ اسے دیکھے گئی۔مم مجھے،، نن،، نہیں پتا،، یہ،، کک،، کیسے،، ہوا،، وہ ہچکچا کر بولی تو ماہ بیر کو اب اس کی زہنی کنڈیشن سمجھ کر اس پر ترس آیا کہ اس پاگل لڑکی نے کتنی زہنی اذیت جھیلی ہوگی۔کیونکہ اس ہیوی ڈوز سے اسے کچھ یاد نہیں ہوگا کہ کیا ہوا تھا۔
ماہ بیر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا تھا۔
تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسا پیدا ہوا ہے جو میرے علاوہ تمھیں چھو سکتا ہے۔ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھاری بوجھل لہجے میں بولا تھا۔
اتنے دنوں بعد اس نرم وگداز وجود کو اپنے اتنے قریب پا کر وہ مچل ہی تو گیا تبھی مدہوش و بے خودی کے علم میں اس نازک سی گڑیا ک سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھایا تھا۔ لمس میں تڑپ شدت و بیقراری تھی۔
وہ مچلی ،اتنے دنوں کی زہنی اذیت کرب اور ابھی تو اس ظالم بے رحم سے ان ڈیڈھ ماہ کا حساب لینا باقی تھا جب وہ پل پل کانٹوں پر گھسیٹ لی گئی تھی۔
اس کی صورتحال پر رحم کھاتے وہ پیچھے ہٹا اور اس کا لال بھبوکا چہرہ دیکھا۔
آ،،، آپ،، بہت برے،، بدتمیز،، سڑیل ،،اکڑو،، کھڑوس ہیں ،،میں ناراض ہوں آپ سے شدید قسم والی،، خبردار مجھ سے بات بھی کی اوپر سے مجھے ہی ڈانٹ رہے ہیں آئی ہیٹ یو،، چھوڑیں مجھے،، آئی ہیٹ یو،، مجھے چھوڑ کر گئے،، جانتے ہیں میں کس قدر تکلیف میں تھی یہ سوچ کر کے آپ مجھے ،،،،آئی ہیٹ یو سنا آپ نے،، آئی ہیٹ یو،،
وہ چلاتی اس کی بانہوں میں مچلتی،، جھلاتی سیدھے اس کے دل میں اتر رہی تھی۔
اتنے دنوں کی وحشت واذیت کے بعد اب کہیں جا کر سکون ملا تھا۔ماہ بیر سکون سے آنکھیں موندے اسے محسوس کر ریا تھا۔جب کہ وہ اب اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
پھر اچانک کچھ یاد آنے پر وہ جھٹکے سے اس کی پناہوں سے نکلی۔
آپ،،، آپ نے میرے ساتھ،، آپ نے میری بے ہوشی کا فائدہ اٹھایا،، اس کے ایک اور شوشے پر ماہ بیر نے اپنے دانتوں تلے لب دبایا تھا۔
نہیں بلکل نہیں،، وہ سیدھا ہو کر بیڈ کراؤن سے لگا۔ وہ تو اس دن تم نے کہا،، اس نے جان بوجھ بات ادھوری چھوڑی
کک،،، کیا میں نے کیا کہا،، اس نے سہم کر پوچھا۔
صرف کہا،،،،، نشے میں دھت تم نے ایک سیدھے سادھے شریف بندے کو بہکا دیا اپنے جلووں سے پیار کے مظاہروں سے ، وہ اطمینان سے دونوں ہاتھ سر پر فولڈ کرتا بولا۔
آپ،، مم،، مزاق کر رہے ہیں ناں،، اس کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔
نہیں میرے پاس لاؤنج کی ویڈیوز ہیں جن میں تم خود میرے سینے سے لگی مجھے پیار کر رہی ہو۔
فجر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ کانوں تک سرخ ہوئی تھی۔
اور نگاہیں چرا کر وہاں سے بھاگنے کو پر تولنےآیا۔۔
کدھر بیوی جی،، ادھر قریب آؤ میرے اتنے دنوں بعد شوہر گھر آیا ہے تو سکون لینے دو اسے ،، بھاری بوجھل آواز میں اسے پکارا تو فجر کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی۔
کک،، کیوں،، میں تو ناراض ہوں تو جا رہی ہوں، اب آپ اکیلے سڑے ادھر،، ناچاہتے ہوئے بھی لہجہ لڑکھڑا گیا مگر تڑخ کر بولی۔
اوکے رائٹ،، پھر ایسا کرو تم عاشی کے روم میں چلی جاو اور اسے یہاں بھیج دو،،
ایک تو یہ عاشی اس کی جان کا آزار بن چکی تھی۔ دل کیا یہ شوشا چھوڑنے والے کا منہ نوچ لے۔
کیوں،، کیوں بھیجوں اسے اپنے روم میں ،وہ سامنے کھڑی آبرو اچکا کر کمر پر ہاتھ رکھ کر دانت کچکچا کر بولی تو ماہ بیر کا قہقہہ ضبط کرنے کے چکر میں چہرہ لال سرخ ہو گیا۔
ننھی بچی جو بتاؤں؟ وہ چٹخارہ لے کر بولا۔
تب وہ آ کر بیڈ پر بیٹھ کر پھر رونے کا شغل فرمانے لگی تو ماہ بیر بوکھلا گیا۔
بیڈ سے کھسک کر اس کے قریب آیا۔۔
Continue,,,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آج بے حد بزی تھی جتنی بھی لکھی پوسٹ کر رہی ہوں ۔کل انشاءاللہ لونگ سی دوں گی۔ایپی۔
