No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
تیری قُربت بھی قیامت تِری دُوری بھی عذاب
دِل کو تسکین کی صُورت کِسی پہلُو نہ مِلی۔۔۔!
آج پورے پندرہ دن ہو چکے تھے وہ دونوں جلے پیر کی بلی بنی وائٹ پیلس میں چکراتی پھرتی تھیں۔ ایک رواحہ اور دوسری فجر۔
ان کی تو الگ بات تھی اور تو اور آروشے بھی اتنے دنوں سے بہت بری طرح ہرٹ ہوئی تھی۔
اب بھی فجر اپنے کمرے میں تکیے کے سہارے نیم دراز نڈھال سی تھی۔ اپنی گری گری طبیعت سے خود ہی جھنجھلاہٹ کا شکار تھی۔اس بےمہر کے بغیر جیسے دنیا ویران ہو چکی تھی۔ ہاں اس کے جانے کا یہ فائدہ اس نے ضرور اٹھایا تھا کہ اپنی ماں سے دو تین بار مل آئی تھی۔
اب بھی وہ خالی نگاہیں سامنے اس کی تصویر پر جمائے بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ دل و جاں جیسے جل رہے تھے۔
وہ جل رہی تھی۔ہجر کی آگ بہت سلگانے والی ہوتی کہ بندہ راکھ کا ڈھیر بن جائے اور پتہ بھی نا چلے،، اور قابلِ ستائش بات تو یہ تھی کہ وہ دھواں بھی نہیں اٹھنے دے رہی تھی اور شاید یہی اس کا ہنر تھا۔
تبھی تو سارا سارا دن خود کو آروشے میں الجھائے رکھتی جو کہ بیچاری اب تک ایش کا اس طرح اسے چھوڑ کر جانا نا برداشت کر پائی تھی اور نا قبول۔۔یا کبھی گم صم سی رواحہ کا دھیان بٹھانے کی کوشش کرتی۔
پتہ نہیں اب اسے اذیت پہنچانے کا کونسا نیا طریقہ نکالا تھا اس ستمگر نے کہ جا کر ایک فون کال کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی تھی۔ ساری انا بالائے طاق رکھتے اس نے خود کال کی تھی سامنے سے بند نمبر نے منہ چڑھایا۔
روحا رحاب اور زمل نے خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھائے رکھے مگر ان تک یہ آنچ نہیں پہنچنے دی اور اب تو وہ دن بھی آن پہنچا تھا جس کے بارے میں سوچتے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔
اب بھی فجر رو کر اپنا غم غلط کرنے میں مصروف تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ مکمل تیاری کے ساتھ رات کے گہرے اندھیرے میں اس مقام سے اپنی منزل کی جانب نکلے تھے۔ پاشا ،سوہم اور کبیر ان سے الگ تھے جبکہ وہ اس خفیہ گودام میں پہنچے تھے جہاں کے بیسمنٹ سے مال ٹرالر میں لوڈ کیا جا رہا تھا۔ یہاں کی سکیورٹی بھی بہت سخت تھی۔ وہ اندھیرے میں آگے بڑھے۔۔
ہر رکاوٹ کو پار کرتے وہ اندر تک گھس چکے تھے۔ سائیلنسر لگی پسٹلز آگ اگلتی رہیں اور ان کے سکیورٹی گارڈز موت کی نیند سوتے رہے۔
وہ ٹرالر کے قریب تھے جب ڈھیر سارے گارڈ چیونٹیوں کی صورت باہر نکلے تھے اور چاروں طرف سے انھیں گھیر چکے تھے۔۔
اے کون ہو تم اگر چاہتے ہو کہ تمھیں آسان موت ملے تو جلدی بتاؤ نہیں تو بہت دردناک موت ملے گی۔
رئیلی،، ایسا ہے کیا؟ گرین مونسٹر نے (جس کی آنکھوں کی دہشت سے ان کہ دلوں پر ہیبت طاری ہو رہی تھی) سکون سے کہا وہ حیرت زدہ سے ان پانچ اونچے لمبے افراد کو اپنے سامنے کھڑے حیرت سے دیکھنے لگے جو چاروں طرف سے گھیر لیے گئے تھے مگر ان کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا تھا۔
میں آخری مرتبہ پوچھ ریا ہوں بتاؤ کون ہو تم،، سکیورٹی ہیڈ تھا شاید جو چلا کر اپنی اینرجی ویسٹ کر رہا تھا۔
ہمارا تو بتانے کا کوئی موڈ نہیں ہے ہاں تم نے ضرور آخری مرتبہ پوچھا ہے۔
اتنے میں ہی ایک سنسناتی گولی آئی تھی اور اس ہیڈ کے گلے کی دھچیاں اڑ گئی تھیں۔۔
اب جبکہ وہ سب دیکھ چکے تھے سب گارڈز ان کے سامنے تھے۔ اندر کوئی بھی نہیں بچا تھا تو اچانک گودام کی سبھی لائٹس آف ہوئیں تھیں۔
پھر گولیوں کی برسات ہوئی۔ چند ہی پلوں میں تمام گارڈز موت کی نیند سو چکے تھے۔
لائٹس آن ہوئی تو وہ پانچویں ان لاشوں کے ڈھیر کے پاس اطمینان سے کھڑے تھے۔ اب وہ ٹرالر اس گودام سے غائب ہوا تھا۔
حسبِ معمول ڈفینس منسٹر کے فارم ہاؤس میں وہ ٹرالر آ کر رکا تھا مگر کوئی نہیں جانتا تھا ۔کہ وہ ایکسچینج ہو چکا ہے۔
اور آج اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر جےکے تھا باقی چاروں ان کے گارڈز کے بھیس میں ٹرالر سے نیچے اترے تھے۔
اندھیرے میں آگے بڑھتے وہ گارڈز کو موت کی نیند سلا رہے تھے۔
کوئی نہیں جانتا تھا ان میں سے اکثر گارڈز بھی ان کے اپنے تھے جو تیزی سے آگے بڑھتے اس ان بریک ایبل سکیورٹی کو بریک کرتے جا رہے تھے۔ ان کے آدمیوں نے نا صرف سی سی ٹی وی کیمرے کنٹرول کر لیے تھے بلکہ ان ڈوگز کو بھی ابھی ابھی بے ہوش کر دیا تھا۔
لیزر ریز بھی بند کی جا چکی تھیں۔۔
تیزی سے اب اوپر کی طرف بڑھتے اب وہ ان ٹیرس پر کھڑے شارپ شوٹر کا صفایا کر رہے تھے۔
اندر وہ سب اطمینان سے اپنی سالوں کی محنت اپنے پلان کی کامیابی کے لیے جشن کی تیاری کے لئے ڈسکشن میں مصروف تھے۔ یہ جانے بغیر کہ
EXECUTIONERS
ان کی بارات نکالنے آن پہنچے ہیں۔
سب موجود تھے۔جب انھیں کچھ غیر معمولی محسوس ہوا۔تبھی دھاڑ سے بیرونی دروازہ کھلتا چلا گیا اور وہاں سے انتہائی اطمینان سے تین لوگ مکمل بلیک ڈریس میں رومال باندھے اندر داخل ہوئے تھے۔ اور اندر ان کی جرأت، اور دھشت سے پن ڈراپ سائلنس چھا گئی۔
ان غداروں کی چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔ وہ تینوں اطمینان سے اندر داخل ہوئے۔۔
اور بڑی شان سے آ کر لاؤنج میں موجود ان صوفوں پر آ کر بیٹھے تھے جب منیر چیمہ غرایا۔
یو کون ہو تم لوگ اور اس جرأت کی تو داد دینی پڑے گی کہ موت کے منہ میں خود ہی آن پہنچے۔ اس نے اپنے پاکٹ میں موجود ایک ریمورٹ سے بجلی کی سی رفتار سے پٹن پریس کیا تھا۔
تبھی پانچ اور انھیں کے حلیے جیسے کھڑکیوں دروازوں سے اندر داخل ہو کر ان کے پیچھے آن کھڑے ہوئے تھے۔
باراتی ہیں مال لینے آئے ہیں وہ کیا کہتے ہیں ناں سمتھنگ چوروں کو پڑ گئے مور،،پاشا کی سرسراتی آواز اس خاموشی کو چیرتی گونجی۔
تبھی ایک شورٹر نے بالکونی سے اوپر ریلنگ تک آ کر نیچے ان پر فائر کرنا چاہا تھا۔جب صوفے پر موجود ایک شخص نے ہاتھ بلند کر کے فائر کیا اور اس شوٹر کی شہی رگ کی دھچیاں اڑ گئیں تو وہاں موجود ہر شخص بے تحاشا چونک گیا تھا۔
تت،، تم،،، سوہم خان ہو ناں؟ ،تم لوگ
Executioners
ہو ۔تمھیں تو ہم ختم کر چکےتھے ناں،، منیر غرایا جبکہ کھرل کو اور ہیلتھ منسٹر کو سانپ سونگھ گیا تھا۔
اور سنا ہے گھر سے نکال نکال کے بھگا بھگا کر مارا گیا تھا تم لوگوں کو، رستم حقارت آمیز لہجے میں بولا تو پیچھے کھڑے اس گرین مونسٹر کی سبز آنکھوں سے سرخ شعلے بھڑکے جس کے ماتھے پر اسے دیکھ پہلے ہی بے شمار بل آ چکے تھے۔
وہ درمیان میں تھا۔اس کے دائیں ماہ بیر اور ایشان تھے جبکہ بائیں طرف جے کے اور آریان۔
ابے بھونکنے والے کتے،، باپ تو کتے کی موت مارا گیا تھا پھر بھی بڑے بھائی نے تمیز نہیں سکھائی کہ جب ِ بڑے بات کر رہے ہوں تو بیچ میں ٹانگ نہیں اڑاتے،
ماہر کی شعلے لپکتی آواز گونجی تو رستم چونکا۔
بھائی یہ وہی ہے،، جس نے چندا،، رستم غصے سے پاگل ہوا
شٹ اپ رستم،، منیر دھاڑا اتنے نازک وقت میں بھی اسے چندہ کی پڑی ہے۔ جبکہ سامنے موجود افراد اگر جلاد تھے تو ان سب کی دردناک موت طے تھی۔
ویسے اطلاع کے لئے بتا دیں کہ جو تم لوگ سمجھ رہے ہو ہم وہ نہیں ہیں ہم تو چور تھے جو تمھارا مال لوٹنے آئے تھے۔ پاشا نے اطمینان سے کہا کیونکہ ان کا پلان کچھ اور ہی تھا۔ اب ان غداروں کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا بہت ضروری تھا۔
جو کوئی بھی ہو اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ تم لوگ کامیاب ہو جاؤ گے فوج نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اس فارم ہاؤس کو سابقہ ڈفینس منسٹر اور ہوم منسٹر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو وہ دیکھتے ہی گولیوں سے بھون ڈالیں گیں۔ کھرل صاحب استہزاء لہجے میں بولے۔ کیونکہ فوج کے جوان اندر تک پہنچ چکے تھے۔
ہمیں ایسا لگتا نہیں ہے ہم ایسا کر چکے ہیں اور اب گڈ بائے فی الحال کے لئے جو جو چاہیے تھا وہ حاصل کر چکے،،
یہ کہنے کی دیر تھی جب چاروں طرف گہرا دھواں پھیل گیا تھا اور اس دھوئیں میں ہی گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی تھی۔
سب نیچے لیٹ جاو،، منیر چلایا،، وی سب زمین پر لیٹ گئے آنسو گیس نے ان کے حشر بگاڑ دئیے تھے۔اور ان میں سے ہیلتھ منسٹر اور ان کے ایک دو خاص آدمی جہنم رسید ہو چکے تھے۔
ادھر وہ سب دھوئیں کے مرغولے اڑاتے باہر نکلے تھے۔ جانتے تھے ان کے سامنے فوج کے جوان نہیں کھرل کے کتے ہیں ۔تبھی ان کے سامنے جو آیا وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تھا۔
پاشا، سوہم اور کبیر وہاں سے نکل چکے تھے۔ وہ پانچ بھی نکلنے والے تھے جب ان پر پھر گولیوں کی برسات ہوئی۔
لاونج کراس کر چکے تھے اور اب اندر سے آنے والے گارڈز ان پر پھر حملہ آور ہوئے تھے۔
جبران سب سے آگے تھا جب ہمیشہ کی طرح بزدلوں نے پیٹھ پر وار کرتے ہوئے اس کی کمر پر وار کرنا چاہا۔
ماہ بیر بہت اچانک جےکے کے سامنے آیا تھا دو تین گولیاں تھیں جو اس کا سینا چیر کر نکلیں تھیں۔
ماہر سوہم خان کی گنزز شعلے اگل رہیں تھیں جب ایشان پر نظر پڑی کندھے اور سر اس کا بھی لہولہان ہو چکا تھا۔
تبھی وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گرا تھا۔ماہر اس کی جانب لپکا تھا۔جب اپنی پوزیشن سے ہٹا اور دشمنوں کی نظروں میں آیا۔ تبھی سامنے سے آتی دو سرسراتی گولیاں اس کے دل کے مقام پر آر پار ہوئیں تھیں۔
فضا میں بارود کی سمیل پھیلی ہوئی تھی۔۔ہر طرف لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔مگر فضا میں ایک مرتبہ پھر دھوئیں کے مرغولے اٹھے تھے۔ فائرنگ ہوتی رہی۔ وہ کتوں کی طرح دھوئیں کی جانب لپکے جب دھواں چھٹا تو اپنا سا منہ لے کر رہ گئے کیونکہ وہاں خالی جگہ منہ چڑھا رہی تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
مفرا کا دل بہت ہی زیادہ گھبرا رہا تھا ایک نرما تھی کہ اس کی جان کے پیچھے پڑ گئی تھی اور ایک وہ تھا جو دسرے تیسرے دن کا بول کر آج بیس دن ہو چکے تھے مڑ کر فون تک نا کیا تھا۔
تبھی اس سے اگلے دن زمل ان کے گھر آئی تھی ۔
جبران مفرا اور سعد کو ان کی پک بھیج چکا تھا کہ یہ اس کی مما ہیں اور مفرا کو لینے آئیں گی۔لہزا مفرا تو تیار تھی۔
پھر سعد نے اسے زمل کے ساتھ روانہ کر دیا تھا۔
وائٹ پیلس آ کر وہ حیران ہوئی تھی اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر مگر جب تعارف حاصل ہوا تھا تو پھر مطمئن ہو گئی تھی اب بس لاشعور میں کسی کی منتظر تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آج تقریباً بیس دن بعد آریان نے سب سے پہلے وائٹ پیلس میں قدم رکھا تھا۔ گاڑی سے اتر کر سن گلاسز آنکھوں سے اتاریں۔ جانے کیوں مگر آج یہ سناٹا اسے بہت برا لگا تھا۔
تبھی سنجیدگی سے آگے بڑھا مگر آگے بڑھتے ہی جس ہستی سے پہلا بلکل غیر متوقع سامنا ہوا اس کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے۔
وہ اندھوں کی طرح سامنے سے آ رہی تھی جو فرش پر گرا پانی بھی نظر نہیں آیا اور بہت بری طرح لڑکھڑا کر گری۔ ایک دل خراش، چیخ تھی جو لبوں سے نکلی تھی۔ آریان سنجیدگی اور تیزی سے آگے بڑھا۔
نا چاہتے ہوئے بھی شفا کی آنکھوں سے آنسو روانی سے جاری ہوئے کیونکہ پاؤں بری طرح مڑا تھا اور موچ شدید قسم کی تھی کہ وہ درد سے بلبلا اٹھی۔ اور اس سے زیادہ دکھ تو اس بات کا تھا جو وہ سامنے سے آتے ناپسندیدہ ترین بندے کے سامنے گر پڑی تھی۔
وہ قریب آ کر اس کے پاس بیٹھا۔
مجھے یہ تو پتہ تھا کہ تم عقل سے پیدل ہو مگر یہ آج پتہ چلا کہ اس کے ساتھ ساتھ اندھی بھی ہو،، وہ سنجیدگی سے بولا۔
یو شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ،، وہ غرائی
محترمہ گھر میرا ہے تو یو گیٹ لاسٹ،، وہ بھی اطمینان سے بولا تو شفا کی بولتی بند ہو گئی جبکہ آرایان کے اگلے عمل سے شفا کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں، وہ اس کا پاؤں تھام کر اس کا معائنہ کر رہا تھا۔
ہیے چھوڑو میرا پاؤں،، درد کی شدت سے وہ پھر چلائی۔
جبکہ آریان نے اب بہت اچانک تیزی سے اس کے منہ پر ٹیپ چپکائی تھی۔ اور اتنی ہی اچانک اس کے بازو پکڑ کر ٹیپ لپیٹ دی۔
یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ وہ چلا بھی نہیں پائی اور سامنے والے کا منہ بھی نہیں توڑ سکی۔ جان تو اس کی تب حلق میں آئی جب آریان نے اسے بازوؤں میں اٹھا کر پاس کھڑی گاڑی میں بٹھا دیا۔
وہ بہت بری طرح پینک ہوتی مچل گئی۔ جبکہ آریان نے اطمینان سے اس کے پاس بیٹھ کر گاڑی لاک کی۔
تمھیں کیا لگتا ہے کہ کیا کرنے لگا ہوں عقل سے پیدل لڑکی،، تمھاری عقل ٹھکانے لگانے لگا ہوں کہ یوں منہ اٹھا کر کسی کے گھر میں بھی نہیں گھستے،، کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے،، وہ سرسراتے لہجے میں سنجیدگی سے بولا تو شفا کے رونے میں روانی آئی۔
وہ اس کے قریب ہونے لگا شفا ونڈو سے چپک گئی اور زور سے آنکھیں بند کر لیں۔
یہ وہی لمحہ تھا جب آریان نے اس کا پاؤں پکڑ کر زور دار جھٹکے سے اسے سیدھا کیا تھا۔
وہ تڑپ اٹھی۔سیٹ کے نیچے سے اس نے ایک باکس نکال کر اس میں سے سپرے نکال کر پاؤں پر سپرے کیا۔
آریان نے ایک سرد سی آہ بھری کیونکہ اس کے پاس اس آفت کو قابو کرنے کا اور کوئی طریقہ نہیں تھا۔ اب بڑی شرافت سے اس نے اس کے ہاتھ کھولے پھر منہ سے ٹیپ اتاری۔
اب وہ چلا کر اپنا غصہ نکال رہی تھی۔
یو،، یو پاگل آدمی چیپ،، لوفر،، گھٹیا انسان ،ہاؤ ڈئیر یو،، تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی،، مجھے ڈرانے کی اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا تو،، یو پاگل تھرڈ کلاس انسان،، وہ چلائے گئی جبکہ آریان نے سنجیدگی سے ڈور ان لاک کیے ۔
یو ویلکم مس،، ناؤ گیٹ لاسٹ فرام ہیئر کیونکہ میرا تمھاری قوالیاں سننے کا کوئی موڈ نہیں،، کر دیا ہے چلنے کے قابل بھی اور زبان کو قینچی کی طرح چلانے میں بھی۔
وہ بھگو بھگو کر میٹھے سے طنز کرتا وہاں سے اندر جا چکا تھا۔شفا پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔
جب درد میں تھی تو زبان کو بریک لگ گئی۔۔۔ اس نے اتنا کچھ کیا اس کے لیے۔ شکر ادا کرنے کی بجائے اسے ہی اتنا کچھ سنا ڈالا۔ شفا نے جاتے ہوئے اس کی چوڑی پشت کو گھورا ۔ اور جلدی سے گاڑی سے نکلی۔
پاؤں پر چل پا رہی تھی اس نے پیچھے مڑ کر پھر اسے دیکھا۔ اور اپنی اتنی بکواس پر دل ہی دل میں شرمندہ ہوئی۔
اتنے بھی برے نہیں ہو وائٹ چلغوزے۔ وہ مسکرا کر وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آریان اندر آیا تو رحاب ،روحا اور زمل نے لپک کر اسے سینے سے لگایا تھا۔ پیاس، متلاشی ترسی نگاہیں اس کے پیچھے اٹھیں تھیں تبھی آروشے اپنے کمرے سے نکل کر سامنے آئی تھی ۔
یےےےےےےے،، آن آ گیا،،،،،،آن آ گیا،،،،،،، ایش بھی،، وہ لپک کر آریان کے قریب آئی تھی۔
اور اس کی آواز سن کر رواحہ اور فجر بھی اجڑی بکھری حالت میں بیقراری سے باہر لپکی تھیں۔
ایک نیا بیقرار چہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ ایک نظر ان سب پر ڈال کر اس نے اپنا لب کچلا تھا۔
آن،،، وئیر از ایش،،، وہ اس کے قریب آ کر پاؤں پٹخ کر پوچھ رہی تھی۔ ٹیڈی بیر ہاتھ میں تھاما ہوا تھا۔
آریان،،،، اس سے پہلے کہ رحاب کچھ پوچھتی۔۔
مما مجھے بہت زیادہ بھوک لگی ہے پلیز کھانا گرم کریں میں فریش ہو کر آتا ہوں۔
سہی،، رحاب، روحا اور زمل کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ وہ تو سالوں سے ایسی صورت حال کا سامنا کرتیں آئیں تھیں وہ جو اپنے اپنے کمروں سے نکل اب آس بھری نگاہوں سے انھیں دیکھ رہیں تھیں ان سے نگاہیں چرا کر کچن میں جا چکیں تھیں۔
فجر سے رہا نہیں گیا تو آریان کے پیچھے ہی چلی آئی تھی۔۔
وہ جو ڈریسنگ میں گھسا کھڑا تھا آہٹ پا کر پھر رگیں تن گئیں تھیں ۔یہ کس عذاب میں خود کو جھونک بیٹھا تھا۔ یہ سب اعصاب شکن تھا اس کے لئے۔اوپر سے انھوںنے بلی کا بکرا بنا کر سب سے پہلے بھیجا بھی کسے تھا جسے انھیں ہینڈل کرنا ہی نہیں آ رہا تھا۔۔
آ،،، آن،،،، وہ پاپا،، نہیں آئے،، فجر کی زبان لڑکھڑائی۔
آ جائیں گے بھابھی ایک دو دن میں ،اس نے مبہم سا جواب دیا۔
اور وو،،،،،،
پلیز بھابھی تھکا ہوا ہوں،، بعد میں ملتا ہوں، وہ کہہ کر چھپاک سے واش روم گھس گیا تھا۔
فجر نے اپنے لب کاٹے۔ اپنے کمرے میں آ کر بلک بلک کر رو دی تھی۔ایک تو اتنے دنوں سے طبعیت اتنی بوجھل تھی۔
پھر خود میں محسوس ہونے والی تبدیلی دل دہلا دینے والی تھی کیوں کہ اسے رتی بھر یاد نہیں تھا کہ یہ سب کب اور کیسے ہوا۔ اوپر سے وہ دشمنِ جاں بے ہر غائب تھا۔
وہ خود سے بھی چھپتی پھر رہی تھی۔اور دعائیں مانگ رہی تھی کہ یہ سچ نا ہو۔
وہ جو پہلے ہی اسے بری ماں کی بری بیٹی بولتا ہے کیسے وضاحت دے پائے گی اسے کیسے بولے گی کہ اسے تو کچھ پتا ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ۔ بس اپنی چوبیس گھنٹے کی بے ہوشی یاد تھی۔
کیا کیا خیال کیا کیا وسوسے شیطان دماغ میں ڈال کر اسے نڈھال کر رہا تھا یہ تو وہی جانتی تھی۔
اسے توڑ دیا تھا ان سوچوں نے کہ دل کر رہا تھا اب تو سچ مچ مر ہی جائے۔۔
Continue,,,,,,,,,,
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
