Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

جبران رات گیارہ بجے کے قریب وائٹ پیلس سے نکلا تھا۔گاڑی ڈرائیور ڈرائیو کر رہا تھا۔اب گاڑی میں بیٹھ کر سب سے پہلے اپنی گود میں موجود لیپ ٹاپ آن کر کے جو اس گھر میں کیمرے لگائے تھے ان کی مناظر سب سے پہلے چیک کیے تھے۔ سارا دن اور اب تک تو سکون ہی تھا۔۔ کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی تھی۔۔ مگر اب کچن میں کام کرتی مِفرا کو دیکھ اور اپنے روم میں آئرن کے پلگ کو سوئچ بورڈ میں لگائے آئرن گرم کرتے اس پاگل عورت کو اس کے کمرے میں دیکھ جےکے کا ماتھا ٹھنکا تھا۔ سعد بھی پورے گھر میں کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

موو فاسٹ،،، وہ دھاڑا تو ڈرائیور بھی سمجھ گیا کہ کوئی گڑبڑ ہے تو اس نے گاڑی کی سپیڈ خطرناک حد تک بڑھا دی۔۔ اس نے اپنے موبائل فون پر ایشان کا نمبر ڈائل کیا جو پہلی بیل ہر رسیو کر کیا گیا۔
ایش فورا ادھر پہنچو،،
اوکے،، ایک لفظی جواب آیا۔اور کال ڈسکنیکٹ ہو گئی۔
گاڑی ایک جھٹکے سے منزل پر رکی۔۔جے کے نے یہ فاصلہ بڑی بے چینی سے طے کیا تھا۔جھٹکے سے دروازہ کو بند کرتا وہ اندر کی جانب لپکا۔ بیل دینے یا ڈور ناک کرنے کی زحمت کیے بغیر وہ ڈوبلکیٹ کی سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔

وہ کل سے انگاروں پر گھسیٹ لی گئی تھی۔جلے بازو کو دیکھ اور تکلیف کی شدت سے آنکھوں میں خون اتر رہا تھا۔وہ صبح دھمکی دے کر گیا تھا۔مگر اب گئے رات تک اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔ اور رہی بات سعد کی تو آج وہ آفس میں اوور ٹائم کر رہا تھا۔
اونہہہہہہہ اپنے اس یار سے مجھے اتنی تکلیف دلوا کر اب تو خوش ہو گی۔بدلے لے رہی ۔زہن نے مکروہ عزائم بنائے ۔۔اگر مجھے اتنی تکلیف ہوئی تو تم کیوں سکون میں رہو۔لیٹ ہو گیا اب تو شاید اس کا وہ ڈاکٹر یار کل ہی آئے۔۔ وہ خباثت سے ہنستی پلگ لگاتی آئرن گرم کرنے لگی۔
جھوٹ بولتا ہے بکواس کرتا ہے ہمزاد،، اونننہہ نرما کو بےوقوف بنائے گا۔۔ ہو نہیں سکتا۔

وہ جو کچن میں سعد کے فون کرنے پر کھانا گرم کر رہی تھی کہ وہ آفس سے نکلنے لگا ہے۔ اپنے پیچھے آہٹ پر سہم کر پلکٹی۔ جہاں نرما اہنے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے کھڑی تھی۔

کچھ چاہیے بب،، بھابھی،، وہ اس کے گھورنے سے خائف ہوئی۔
بلکل،، بدلہ چاہیے،، تمھارے اس گھمنڈی شوہر نے تو میرا بازو ہی جلایا مگر میں اس کی بیوی کا یہ خوبصورت چہرہ جلاؤں گی۔
مِفرا صدمے سے گنگ اسے دیکھنے لگی جو اب اپنے جملے مکمل کرتی آئرن لے کر اس کی جانب جھپٹی تھی۔
مفرا نے خوف کی انتہا سے اپنے چہرہ پر ہاتھ رکھے۔۔نرما کا ہاتھ فضا میں ہی بلند رہ گیا جب پیچھے سے جبران نے اس کا بازو اپنی وحشت زدہ سی سخت آہنی گرفت میں لیا۔

واٹ دا ہیل،، ہاؤ ڈئیر یو بچ،،، وہ دھاڑا۔ تو نرما اسے اپنے سر پر دیکھ بہت بری طرح گڑبڑائی تھی۔سیکنڈوں میں وہ الٹے قدموں بھاگ کر اپنے روم میں بند ہوئی تھی۔
وہ بے تحاشا ڈری سہمی اس کی آواز سن ڈبڈباتی آنکھوں سے اس کے کشادہ سینے سے لگی تھی۔ اور بے تحاشا رو دی، اگر وہ نا آتا تو آج تو وہ ظالم سفاک عورت اس کا چہرہ ہی مسخ چھوڑتی۔
یہ وہی لمحہ تھا جب سعد گھر میں داخل ہوا۔ غیر معمولی محسوس ہونے پر کچن میں آیا۔۔
ارے مفرا گڑیا کیا ہوا، اسے جبران کے سینے میں دبکے روتے دیکھ وہ گھبرایا تھا۔
کچھ نہیں سعد بھائی،، آپ کے لئے کھانا گرم کر رہی تھی تو اچانک ایک بلیک کیٹ یہاں آئی تو ڈر گئی تھی۔ وہ اطمینان سے بولا کہ فضا میں نرما کی دلخراش چیخیں گونجیں تھیں۔

وہ جو اس جن سے بچ کر اپنے کمرے میں آ کر چھپی تھی یہ سوچ کر کہ اب اس کی خیر نہیں بڑی مشکل سے دھڑکتے دل پہ قابو پایا تھا۔کمبخت نے اس کے دل میں اتنا خوف جو بٹھا دیا تھا۔
تبھی اپنے پیچھے سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔۔ جھٹکا کھا کر پلٹی تو دنگ رہ گئی۔۔اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے اٹکا تھا۔ کیونکہ سامنے ہی وہ اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اسے خونخوار نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
(ایش جو کہ سپورٹس بائیک پر ہوا سے باتیں کرتا یہاں پہنچا تھا۔جبران کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہوتا اسے سبق سکھانے اس کے روم میں پہنچ چکا تھا)
تمھیں جو میں صبح بول کر گیا تھا کہ اس سے دس فٹ کے فاصلے پر رہنا تو اثر کیوں نہیں ہوا؟وہ غرایا۔ اب جو اسے تکلیف دینے لگی تھی اس کی سزا خود ہی طے کرو؟کہ کیسے جھیلنا پسند کرو گی؟
تکلیف دینے لگی تھی،، دی تو نہیں ناں؟ وہ اطمینان سے بولی تو
میں بھی تمھیں مارنے لگا ہوں،،، پر تم مرو گی نہیں،، وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔
کیا مطلب؟ وہ چونکی مگر سامنے والا اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے رومال بندھے ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ چکا تھا۔ دباؤ بڑھاتا گیا اس قدر بڑھایا کہ اسے اپنی ہڈیاں چٹختی محسوس ہوئیں۔ تبھی دلخراش چیخوں سے گھر گونج اٹھا تھا۔ اور اس سے پہلے دروازہ کھول کر وہ اندر آتے وہ اسے بیڈ پر دھکیل کر کھڑکی کی جانب بڑھا۔

کچن میں موجود سعد اور جبران روم کی جانب لپکے وہ جو شاکڈ اسٹیٹ میں کھڑی رہ گئی کچھ پلوں کے بعد ان کے پیچھے لپکی۔
مگر نرما کی کھڑکی سے باہر پھلانگتے اس ہیولے کو دیکھ اس کے چھکے چھوٹے تھے۔ وہ جبران تھا۔۔ وہ دیکھ چکی تھی۔اس کے ہوش اڑے تھے۔ ایش ٹھٹھک کر رکا اور پیچھے مڑ کر اپنی بھابھی کی آنکھوں میں حیرت،، بے یقینی اور خوف کے ملے جلے تاثرات دیکھے۔اور فوراً اس گھر سے نکلتے جبران کو ایک میسج ٹائپ کر کے سینڈ کر دیا۔
ڈرتے ڈرتے مفرا دل میں اپنا خدشہ غلط ثابت ہونے کی دعا کرتی آگے بڑھی تو نرما کو روم میں جبران کو دیکھ اس کے پیروں نیچے سے جیسے زمین کھسکی تھی۔ لرزتے وجود کانپتی ٹانگوں سے اندر آئی جہاں نرما سعد کے ساتھ لگی زارو قطار رونے کا شغل فرما رہی تھی۔

کک،، کیا، ہوا بھائی،، اس نے سہمے سے انداز میں پوچھا۔ وہ جو ایش کا میسج دیکھ چکا تھا۔کن انکھیوں سے اس گلابی گلاب کا خوف کی زیادتی سے سفید پڑتا چہرہ دیکھا۔۔
تمھاری بھابھی شاید خواب میں ڈر گئی تھی،،
نہیں ڈری میں خواب میں سعد آپ سمجھتے کیوں نہیں،، یہ پاگل آدمی تھا میرے کمرے میں جو میرا گلا دبا کر آج مجھے مار ہی ڈالتا،، وہ چلاتی جبران کی جانب دیکھ کر چلائی۔
اس کا دماغ پھر گیا ہے مفرا،، تم دونوں جاؤ آرام کرو میں اسے ہینڈل کر لوں گا،، سعد دانت پیس کر بولا۔

وہ تیزی سے اپنے کمرے میں آئی تھی اور فوراَ سے پہلے اندر سے روم لاک کر لیا۔ خوف کے مارے جسم سے جان نکلے جا رہی تھی کون تھا وہ ۔۔کہیں کوئی ہوائی مخلوق تو نہیں تھا۔ مفرا کے پسینے چھوٹے۔
باہر وہ جو اس کے پیچھے آیا تھا اسے اندر گھس کر لاک لگاتے دیکھ ایک سرد سی آہ بھری۔
مفرا،، اوپن دا ڈور،، وہ نرمی سے بولا۔
اندر وہ اس کی موجودگی سن کر اپنی جگہ سے اچھلی۔ بیڈ سے لگی زمین پر بیٹھتی چلی۔۔ گھٹنوں کے گرد بازو فولڈ کیے وہ بازوؤں میں منہ دئیے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔۔
اب باہر اس نے سرد سی آہ بھری تھی۔ اور اپنے پاس موجود کی سے آہستگی سے درواز کا لاک کھول کر اندر آ کر دروازہ پھر لاک کیا۔ دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر وہ پھر خوف زدہ ہوئی۔
کک،،، کون،،، آ،،،،، آپ،،، کک،، کون ہیں؟ لرزتے اپنی جگہ سے اٹھتے پوچھا گیا۔۔
تم مجھے کیا سمجھ رہی ہو میری جان؟ وہ آبرو اچکا کر بولا۔

وہ،، کک،، کھڑکی مم،، میں آ،،، آپ، تھے،، میں نے خود دیکھا،، وہ گھبرائی ہوئی تھی۔
اچھا،،، وہ،،،،، اس نے وہ کو کھینچا اور دھیمے قدموں سے چلتا اس کے بے حد قریب آ گیا۔ وہ میرا بھوت تھا،،اوریجنل میں ہوں،، چیک کر لو،، وہ صرف انھیں پریشان کرتا جو مجھے یا میری کسی کمزوری پر وار کرے،، اور تم میری وہی کمزوری ہو،، جبران کا لہجہ آخر میں خمار آلود ہوا مگر یہاں لہجہ پر غور کون کر رہا تھا۔
(وہ اسے ابھی ایش کی حقیقت نہیں بتا سکتا تھا کہیں وہ جزبات میں سعد سے نا بول دیتی اسی لئے کہانی بنائی اور سب سے بڑھ کر سامنے کھڑکی وہ معصوم لڑکی جو اس کی کہانی پر یقین کر بھی چکی تھی)
وہ تو چپکے سے اپنے سکارف میں سے حجاب پن نکال چکی اور یک دم ہی اس کے ہاتھ میں کبھو دی۔
آؤچ،، وہ تڑپا۔۔خون کی ننھی سی بوند اس کے سرخ و سفید ہاتھ سے نکلی تو مفرا کو سکون آیا کہ شکر ہے وہ بھوت نہیں۔
کیا یار ڈاکٹر ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے پین نہیں ہوتا۔ اوہہہہ،،،، تو تم چیک کر رہی تھیں کہ میں بھوت تو نہیں؟ اس نے دانتوں تلے لب دبایا۔
دور رہیں مجھ سے آپ،، وہ اس کے لمحہ بہ لمحہ قریب آنے پر پیچھے ہٹتی بولی۔
یو نو واٹ وہ بھوت ان لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے جو میرا کہنا نا مانے اور تم میں تو میری جان اٹکی ہے تو میرا کہنا نہیں مانو گی تو،،،،،،
اس نے جان بوجھ کر معنی خیزی سے بات ادھوری چھوڑی۔
مانوں گی آ،، آپ، کی ساری باتیں مانوں گی،، وہ اچھے بچوں کی طرح سہمی بولی۔
انگوری کلر کی کرتی اور پٹیالہ شلوار میں وہ سکارف گلے میں ڈالے کانچ کی گڑیا،، میدے کی طرح دمکتی سفید رنگت،، اور شفاف گال کے بیچوں بیچ وہ سیاہ تل،، وہ بڑی دیر سے دا گریٹ جلاد جےکے کا ضبط آزما رہی تھی۔
قریب آؤ اور مجھے ہگ کرو،، وہ سکون سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے بولا تو اس کی شفاف بڑی بڑی آنکھیں اس انوکھی فرمائش پر حیرت سے پھیل گئیں۔۔
جج،،، جی،،، وہ لرز، گئی،، سفید ماتھا اور پیشانی سرخ ہو اٹھے۔
آئی سیڈ،، کم آن،، قریب آؤ اور مجھے ہگ کرو۔ اس کے دوبارہ کہنے پر وہ لرزتی کانپتی اس کے قریب آئی۔ انگلیاں چٹخاتی ماتھا عرق آلود لرزتے سرخ شربتی گداز لب،، جبران کا دل جیسے پسلیوں سے سر ٹکرانے لگا۔ جب برداشت جواب دے گئی تو جبران نے اس کی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے میں بھینچا۔

مفرا کی جان پر بن آئی تھی۔سامنے والے کی قربت اور لمس ناقابلِ برداشت تھا۔۔اوپر سے آج وہ اس بلا سے شخص سے بہت زیادہ خوفزدہ ہوئی تھی۔مفرا کے سینے میں اس کی سانس اٹک چکی تھی۔ کچھ کمر پر سرسراتی اس کی آہنی انگلیاں،،، جب کے وہ آنکھیں موندے مدہوش سا اس گداز وجود کی نرماہٹیں اپنے اندر اترتی محسوس کرنے لگا۔۔ جبران نے اپنے دہکتے لب اس کے کندھے پر رکھے تو وہ مزید اس کی سانسوں کو الجھا گیا۔ ہونٹوں نے کندھے سے گال تک کا سفر کیا۔
تو بے تحاشا برداشت کرتے وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھی۔تبھی اس کی بانہوں میں جھول گئی۔۔
بزدل لڑکی،،اتنے سے ٹریلر میں ہی جان ہوا ہو گئی، وہ گہرا مسکرایا۔ جانتا تھا اس جلاد کی شدتیں سہنا ابھی اس نازک جان کی بس کی بات نہیں۔ اسے بانہوں میں بھر کر بیڈ پر لٹا کر اس پر کمفرٹر درست کیا۔ اور خود بھی اس کے قریب نیم دراز ہو کر سکون سے آنکھیں موند لیں۔ کہ کل کے بعد تو شاید تھوڑی لمبی جدائی نصیب میں لکھ دی جائے ۔ ہجر کے فاصلے درمیان میں آکر جبران کے جسم کو ناگوں کی طرح ڈستے نیل ونیل کر دیں۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ رات اس کے پہلو سے اٹھ کر گیا تھا تو صبح کے آٹھ بجے لوٹا تو اس نے دیکھا وہ ہنوز اسی دلہن کے لباس میں مٹے مٹے میک اپ کے ساتھ بیڈ پر بے خبر سو رہی تھی۔ جیولری شاید صبح نماز کے وقت نکالی تھی۔
ماہر کی وارفتہ نگاہوں نے اس کے پورے وجود کو اپنی نگاہوں کے حصار میں لیا۔
سرخ اور اورنج کمبینش کے جوڑے میں جسم روئی کے گالوں کی طرح نرم و گداز،،، اور چاندی کی طرح دمک رہا تھا۔ ماہر کو لگا کسی نے موم کی گڑیا سجا کر اس کے بیڈ پر لٹا دی ہے۔کالی پلکیں گداز اور سرخ وسفید گالوں پر سایہ فگن تھی۔ روشن پیشانی، چہرہ نورانی،، گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح سرخ آپس میں لپٹے ہونٹ، آسمان سے جیسے کوئی اپسرا اتار کر اس کے سپرد کر دی گئی تھی۔۔مگر روٹھی روٹھی ناراض سی۔

وہ بے خودی اور مدہوشی کے عالم میں اس کے قریب آ کر بیڈ پر بیٹھا۔کہ اس کے چوڑے مضبوط اور چٹانی جسم سے وہ نازک وجود چھپ سا گیا۔
اس کی جھلساتی لپکتی نگاہوں کا اعجاز تھا کہ وہ کسمسا کر اٹھی تھی۔ لرزتی گھنی پلکیں آہستگی سے اوپر اٹھیں۔ وہ اپنے اوپر اس جھکے دیکھ یک ٹک اسے دیکھے گئی پھر پہلے برا سا منہ بنایا اور پھر مسکرا دی۔ وہ شاید اسے اہنا خواب سمجھ رہی تھی۔
میں ناراض ہوں آپ سے،، وہ اتنی آہستگی سے بڑبڑائی کی وہ بھی اتنے قریب ہو کر مشکل سمجھ پایا۔اس کی ان اداؤں نے ماہر سوہم خان کے چھکے چھڑاتے اس کے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑا دی تھی۔

رواحہ نے کروٹ لی اپنا پیٹ جیسے ایک چٹان سے ٹکراتا محسوس ہوا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں جبکہ ماہر کو اپنی کمر پر اس کا نرم گرم لمس ملتے ہی چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوئیں۔ شعور اجاگر ہوتے ہی وہ سچویشن سمجھتے بوکھلا کر اٹھی تھی۔ماہر گہرا مسکرایا۔ گہری نگاہ نے اب تک اسے حصار میں جکڑا ہوا تھا۔ جس وہ بری طرح بوکھلا رہی تھی۔
ناراض ہو اب تک؟ مسکراہٹ چھپاتے اس سے پوچھا۔
آپ کو کیوں بتاؤں جب کے میں تو بات ہی نہیں کر رہی آپ سے، وہ اپنی بوکھلاہٹ اور جھجھک کو غصے کی آڑ میں نکالتی چمک کر بولی۔
میں مناؤں؟ بھاری بوجھل کی گھبیرتا کو سمجھ رواحہ کی سانس اٹک گئی۔ اور زبان تالو سے چپک گئی۔ پہلے اس مونسٹر کی نگاہیں اور اب یہ لہجہ اففف توبہ،،
وہ اپنے آپ میں سمٹی۔
میں جا رہا ہوں،، اس نے سنجیدگی بھرے لہجے میں کہا تو وہ چونک گئی۔یا یوں کہنا بہتر ہو گا کہ مرنے کو ہو گئی۔۔
کک،،، کدھر،،
تبھی ماہر نے اسے بازو سے تھام بیڈ سے نیچے اتارا۔ اور اپنے روبرو کھڑا کیا۔ اس کی سہمی ہیزل براؤن آنکھوں میں اپنی سبز آنکھیں گاڑھ دیں۔
اچھے سے الودع کہو میری جان کہ ماہر سوہم خان کے دل میں تم سے دور جانے کے بعد کوئی حسرت باقی نا رہے۔
آ،،، آپ،،، ممم،، مجھے،،، ڈرا، ،،رہے،، ہیں،، وہ اس کا گریبان پکڑ کر ہکلاتی چلائی۔ یہی تو وہ ڈر تھا جو اس نازک سی جان کا آزار بن گیا تھا کہ کہیں وہ اس سے دور نا چلا جائے۔
جلد ہی لوٹ آؤں گا۔ ماہر نے اس کے ہاتھ تھامے مگر وہ ہزیانی سی ہو کر زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
مم،،، میں آ،،،، آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گی،،، کک،، کہاں،، جا رہے ہیں آپ؟،، اور کیوں؟
اس موم کی گڑیا کی غیر ہوتی حالت دیکھ ماہر نے شدتِ ضبط سے سختی لب بھینچے تھے۔

اتنے سال جس دن کا انتظار کیا تھا جب وہ سر پر آن پہنچا تو نا چاہتے ہوئے بھی ان چاروں کی جان سے چار نازک جانیں جڑ چکیں تھیں۔
کیسی آگ تھی یہ،، کیسی آتشِ عشق تھی کہ جس سے ان جلادوں نے لاکھ دامن بچانا چاہا تھا مگر یہ ایسی گلے پڑی کے ان کے دامن کو جلاتی اب گریبان تک پہنچ چکی تھی جس سے چھٹکارا پانا ناممکن تھا۔
ماہر نے اس کی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔ پرتپش لب اس کے سر پر رکھے ۔وہ اس کے قربت میں موم کی طرح پگھلتی رو پڑی تھی۔تواتر سے بہتے آنسوؤں نے اس کی شرٹ بھگو دی تھی۔
ماہر نے بے بسی سے اس کے لرزتے وجود کو دیکھا۔ اس کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔ نمکین موتی اپنے لبوں سے چنے۔ رواحہ سانس روک گئی۔ وہ لمس اسے پاگل کردینے والا تھا۔ ماہر کی نگاہیں ان سرخ شربتی ہونٹوں پر ٹھہر گئیں تھیں جنھیں دیکھ اسے ایسا لگا کہ وہ صدیوں کا پیاسا ہے۔ رواحہ نے جب اس کا مرکز نگاہ دیکھا تو لہو چھلکاتا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا۔
اور اس سے پہلے کے ماہر خان کے منہ زور جزبات اور اس پاگل کرتی موم کی گڑیا کی طلب اسے اس کے پاؤں میں زنجیریں ڈالتیں وہ اس سے دور ہوا۔
کسی بھی چیز کی ضروت ہوئی تو منیب کو بولنا، جلد ہی لوٹ کر آؤں گا ۔،تمھاری ہر آتی جاتی سانس میری امانت ہے اسی لئے اپنا خیال رکھنا، کہ جب لوٹوں تو مجھے تم یہیں اسی کمرے میں سہی سلامت ملو،، اور رونا مت،، جتنا روؤ گی اتنا لیٹ آؤں گا سزا کے طور پر،،
وہ کہتا رہا وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گئی۔
وہ مڑا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
رواحہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ بول کر گیا تھا کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو منی کو بولنا۔
منی کو کیا کہے گی مجھے تمھارا ظالم بے رحم بھائی چاہیے جو اسے کانٹوں پر گھسیٹ کر جانے کہاں چلا ہے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

صبح ماہ بیر کی آنکھ کھلی۔ تو مسکراہٹ گہری ترین ہو گئی۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ اسے پا لینے سے یوں رگوں میں سکون خون بن کر دوڑے گا کہ اس کائنات کا ہر رنگ اسے اپنی بانہوں میں سماتا محسوس ہو گا۔ دل تھا کہ بھرا نہیں تھا اس کی محبت کا نشہ تھا جو سر چڑھ کر بولا تھا اور ابھی تک ہینگ اوور اترا نہیں تھا۔
وہ اس کے بے حد قریب اس کی رات بھر کی شدتوں اور جنونیت سے بے حال ٹوٹی بکھری حالت میں گہری نیند میں تھی۔ماہ بیر کی نگاہ اس پر سے بھٹکتی کلاک کی جانب اٹھی تو چونک گیا دن کا ایک بج چکا تھا۔
وہ حیرت سے اٹھ بیٹھا ۔اس کی قربت میں تو وہ دنیا بھلا بیٹھا تھا۔یہ بھی بھول گیا آج کتنا بڑا دن تھا اور انھوںنے کیا کیا کرنا تھا۔
وہ اس نازک بے حال جان کی جانب جھکا۔۔فجر،،، فجر،،، میری جان،، چہرہ آہستگی سے تھپتھپایا۔ مگر جواب ندارد،،
ماہ بیر نے اس کی نبض اور سانسیں چیک کیں، جو معمول سے مدھم رفتار پر تھیں۔ اسے اب اس کی نیند سے گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔
کیا کروں،، رائٹ ایش کو بلاتا ہوں۔ وہ اٹھنے لگا مگر اپنی بےوقوفی پر لعنت بھیجتا دوبارہ اس کے قریب آیا۔ اس کا بکھرا لباس خود ہی درست کیا۔اس کے جسم پر پڑے سرخ نشانوں کو دیکھ وہ رات کی اپنی کارستانی سمجھتا نظریں چرا گیا۔۔ کمفرٹر درست کیا اور فوراَ ایش کو کال ملائی کہ جانتا تھا جےکے تو مفرا کے پاس ہوگا۔ اسے فجر کی بھی فکر تھی اور آج جو اتنا اہم ٹاسک پورا کرنا تھا اس کی بھی فکر تھی وہ الریڈی بہت لیٹ ہو چکا تھا۔کچھ ہی دیر میں ایشان نے ڈور ہلکا سا ناک کیا تھا۔
کم ان،، اس نے پرمیشن دی تو وہ اندر داخل ہوا۔
خیریت،،، وہ شرارت سے بھرپور بکھرے بکھرے سے کمرے کا جائزہ لیتا آنکھیں گھما کر بولا۔
شٹ اپ ایش،، یہ تم لوگوں نے کس سے پوچھ کر ایسا بیہودہ مزاق کیا تھا اب دیکھو اسے ہوش نہیں آ رہا۔۔

واٹ،، او نو،، ایشان اب سچ مچ پریشان ہوا تھا۔ آگے بڑھ کر اس کی نبض چیک کی اور آنکھیں کھول کر چیک کیا۔

وہ بھاگ کر اپنے روم سے اپنا میڈیکل باکس لایا تھا۔ فجر کے اچھی طرح چیک اپ کرنے کے بعد اس کے چہرے پر فکر کی پرچھائیاں تھیں۔
کیا ہوا ایش جلدی بتاؤ،، اس کو کچھ ہوا تو میں برداشت نہیں کروں گا۔ وہ اس کی حالت دیکھ تڑپتا اب سٹل غرا رہا تھا۔مگر وہ خاموشی سے اس کا ٹریٹمنٹ کرنے لگا۔
واٹ ہیپنڈ، ایش ٹیل می ڈیم اٹ،، ایش کو اسے انجیکشن لگاتے دیکھ اب ماہ بیر کا میٹر شارٹ ہوا تھا اسی لیے دھاڑا۔

کافی ہیوی ڈوز تھی جس نے بہت بری طرح ری ایکٹ اور الرجی کی ہے اور یہ اس ٹیبلٹ سے الرجی کا نتیجہ ہے ۔آپ ایسا کرو بھائی انھیں شاور دو ، تاکہ باڈی کہ یہ نشان مٹ سکیں، شاید کچھ ہوش بھی آئے میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔ وہ نظریں چرا کر بولا تو ماہ بیر نے طیش میں اسے گھورا۔
اتنے نازک وقت میں نئ ٹینش گلے پڑ چکی تھی۔
ماہ بیر نے جبڑے بھینچے اثبات میں سر ہلایا تو وہ جلدی سے روم لاک کرتا باہر نکل گیا۔
ماہ بیر نے اس پر سے کمفرٹر اٹھایا ۔رات والے لہنگے میں وہ ہوش و خرد سے بیگانہ اسے جتنا سکون دے چکی تھی اب اتنا ہی بے چین کر چھوڑا تھا۔ وہ اسے اپنے مضبوط کسرتی بازوؤں میں اٹھائے واش روم آیا تھا۔اسے لئے شاور چلا کر کافی دیر شاور کے نیچے کھڑا رہا۔

ایشان کی ہلکی سی دستک پر اس نے دروازہ کھولا تھا۔بیڈ کے قریب آ کر اس نے پھر اسے چیک کیا۔ فجر اب سادی سی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں کمفرٹر میں نیم دراز تھی۔ اس نے پھر پلز چیک تو اب وہ قدرے نارمل تھیں۔۔
گھبرانے کی بات نہیں کنڈیشن نارمل سٹیٹ کی طرف آ رہی ہے۔مگر اس کے باوجود ہو سکتا ہے ہوش آنے میں مزید چھ سات گھنٹے لگ جائیں۔
تب تک تو ہم نکل چکے ہوں گے، ماہ بیر نے پریشانی سے کہا۔
میں خود پریشان ہوں،، بھابھی کے بغیر آروشے نے بھی ہنگامہ مچا رکھا ہے۔اوپر سے میں بھی چلا جاؤں گا تو۔۔ایش نے دانتوں تلے لب کچلے ۔۔رگیں تن گئیں۔۔ میں چاہتا تھا آروشے کو بھابھی کے حوالے کر کہ جاؤں مگر ہماری بے وقوفی کی وجہ سے ان کی خود کی یہ حالت ہو گئی۔۔
اسے بے حد افسوس تھا اپنی نادانی کا۔
اٹس اوکے،، اب یہ ٹھیک ہے مجھے تسلی ہے۔ مگر تم چاچو کی بات مان لو اور ساتھ نا،،،
پلیز بھائی،، یہ ہر کوئی مجھے ہی کیوں انڈر ایسٹیمیٹ کر رہا ہے،، وہ جھنجھلایا۔
ایسی بات نہیں ایش تمھاری طبیعت،،،
کچھ نہیں ہوگا مجھے،، وہ کہتا لب کچلتا وہاں سے نکلا تھا۔۔ ماہ بیر الماری تک گیا۔چینج تو کر ہی چکا تھا۔اب اپنی گن کوٹ کی کمر پر لے جا کر سیکرٹ پاکٹ میں چھپائی۔ضروری چیزیں لیں۔ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ بےچین سا پھر اس کی قریب آ کر پاس بیٹھا۔دونوں ہاتھ اس کے دائیں بائیں ٹکا کر اس کے کان کے پاس جھکا۔
ہیے،، اپنا خیال رکھنا، سوچا نہیں تھا زندگی کی ایک نئی شروعات کر کے اگلے ہی دن وہاں جانا پڑے گا جہاں سے لوٹنا شاید ممکن نا ہو۔ لوٹ آیا تو پھر سے میرا پاگل پن اور شدتیں سہنا پڑیں کہ ابھی تو یہ ماہ بیر راسم حفیظ کی محبت کے جنون کی پہلی سیڑھی پر قدم تھا تمھارا۔ عشق کی معراج کو چھونا تو ابھی باقی ہے۔۔ نہیں لوٹا تو گزری رات کو ایک مدہوشی بھرا خواب سمجھ کر بھول جانا۔
یہ کہتے ماہ بیر کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ایک مرتبہ پھر جھک کر اس کے چہرے کو دیوانہ وار چوما۔ کمزور نہیں تھا نا ہی بننا چاہتا تھا۔اسی لئے وہاں سے اٹھا تو بغیر پیچھے مڑے اسے دیکھے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓