No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رات کی گہرائی، وائٹ پیلس پر قبرستان کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کم از کم فجر کو تو یہی محسوس ہوا تھا۔ چاہے جتنی مرضی بہادر بنتی مگر اب اس جن کے کمرے کا میں وہ دھڑکتے دل اور لرزتے قدموں سے وہ داخل ہوئی تھی۔
کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔اور اس اندھیرے میں سگریٹ کے مرغولے سے اٹھ رہے تھے۔
وہ ہمت کر کے آگے بڑھی۔ گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔
کس سے پوچھ کر گئیں تھیں اس عورت کے پاس،،
سرسراتی بوجھل بھاری آواز کمرے کا سناٹا چیرتی چاروں اور گونجی تھی۔ وہ جو راکنگ چئیر پر جھول رہا تھا اب اپنا جواب طلب کرنے اس کے سامنے آیا تھا۔
بکھرا حلیہ، ماتھے پر بکھرے بے ترتیب بال، لہو ٹپکاتی آنکھیں، سلوٹ زدہ ٹراؤزر ٹی شرٹ، فجر نے اسے دیکھ جھرجھری لی تھی ۔
ریشماں دادو سے،، وہ اتنے دھیمے لہجے میں بولی تھی کہ آدھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے اسے بھی بمشکل ہی سنائی دیا تھا۔
حسبِ معمول ماہ بیر نے اس کے بازؤوں کو اپنے سخت شکنجے میں دبوچ کر دیوار کے ساتھ لگایا تھا۔
پہلی اور آخری مرتبہ بول رہا ہوں مسز فجر ماہ بیر، یہ آخری مرتبہ تھا،،تم اب اس سے کبھی نہیں ملو گی،،کبھی بھی نہیں،،، تمھیں ہم میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا۔ سمجھیں؟
تو ٹھیک ہے،، آپ چھوڑ سکتے ہیں مجھے،،مگر میں ملوں گی ان سے ،، فجر نے رخ موڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھے بغیر بول کر جیسے وائٹ پیلس کی چھت اس کے سر پر گرائی تھی۔ وہ بے یقینی سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گیا۔
کیا کیا کہا تم نے ابھی ابھی،، ماہ بیر نے بے یقینی سے پوچھا۔
جو آپ نے سنا میں نے وہی کہا، فجر نے اس کے سر پر بم پھوڑا۔
ماہ بیر کا دماغ گھوما تھا۔ اس کی پکڑ میں سختی آئی۔ نو،، نو،، مسز فجر اگر تمھیں ایسے لگتا ہے کہ اس کی وجہ سے میں تمھیں چھوڑ دوں گا تو اپنی یہ غلط فہمی دور کر لو، ہر مرتبہ اس عورت کی وجہ سے میں ہی کیوں اپنے رشتے کھو دوں، ہاں، مزاق سمجھ رکھا ہے،،مگر اس بار نہیں،،اور یہ بھی یقینا اسی کی سازش ہوگی،،ہے ناں،،، وہ غصہ سے دھاڑتا پاگل ہو چکا تھا۔
آپ غلط سمجھ رہے ہیں،، ماہ بیر چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے،،، فجر اس کی پکڑ میں مچلی مگر نہیں جانتی تھی چھوڑنے کا بول کر کتنی بڑی غلطی کر بیٹھی ہے۔ کہ اب تو وہ اس کی سانسوں پر بھی دسترس حاصل کرنا چاہے گا۔
کبھی نہیں مسز،، چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،،،، ماہ بیر اسے بازوؤں میں بھر کر بیڈ تک لایا تھا۔ بیڈ پر لٹا کر اس پر حاوی ہوا۔ مزاحمت کرتے اس کے ہاتھ بیڈ سے لگائے تھے۔
ی،،، یہ،، کک،، کیا،، آپ،، پاگل،، ہو،، گئے،، ہیں،، فجر نے اس کے ہر عمل پر بے یقین ہوتے چلا کر کہا۔
جس کی وحشت،، شدت اور اس پاگل پن سے وہ ابھی بیت خوفزدہ ہوئی تھی۔
اس کی گردن اور چہرے پر جا بجا سفر کرتے اس کے ہونٹ اور شدت نے فجر کے اوسان خطا کیے تھے۔
ماہ بیر ،،چھوڑیں م،،، وہ بات پوری نہیں کر پائی تھی جب ماہ بیر نے اسی شدت سے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لیا تھا۔
اس کے عمل میں اتنی شدت تھی کہ وہ چند ہی پلوں میں بے حال ہو چکی تھی۔ اسی لیے آنسوں میں روانی آئی تھی۔
اس کے آنسو محسوس کر کے وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹا تھا۔۔مگر اسے چھوڑا نہیں۔گستاخیاں اور بے باکیاں بڑھتی گئیں۔۔
ماہ بیر آپ میرے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں،، وہ بلک بلک کر رو دی، تبھی وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا تھا۔
اٹھ کر اس سے دور ہوا تھا اور اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔
وہ جس کا پورا جسم لرز رہا تھا۔ بمشکل اٹھی اور بیڈ کراؤن سے لگی تھی۔
فجر کان کھول کر سنو، وہ اگر سمجھتی ہے کہ یہ آخری رشتہ بھی مجھ سے چھین لے گی تو میں ایسے ہونے نہیں دوں گا۔یاد رکھنا،
آپ سچ نہیں جانتے،، وہ بے قصور،،،،
شٹ اپ فجر،،، مجھے نہیں سننا کچھ بھی،، آخری بار بول رہا ہوں میری پرمیشن کے بغیر اس روم سے مت نکلنا، نہیں تو تمھیں امریکہ لے جانے میں ،میں زرا دیر نہیں لگاؤں گا۔ اس لئے لاسٹ وارننگ ہے یہ،، وہ کہتا وحشت زدہ سا اپنا والٹ،، موبائل اور کیز اٹھاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔
فجر بےبسی سے اپنے لب کچل کر رہ گئی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آروشے یہ کیا کر رہی ہو تم؟ ایشان نے کڑے تیور لیے اس سے پوچھا،
افففففف،،، ایش تم تو ایک دم بدھو ہو،،میں روشے بےبی تھوڑی ہوں میں تو ڈک ہوں اور دیکھ نہیں رہے واٹر میں اتنی ساری ڈکس سوئمنگ کر رہی ہیں،، وہ مچھلی بنی تیرتی جھلا کر بولی۔
آں ہاں،، اور اگر اس ڈک کو ٹھنڈ لگ گئی تو؟ وہ گھٹنوں کے بل باتھ ڈب کے کنارے بیٹھ کر اس کی چھوٹی سی ناک کھینچتا بولا۔
او،، نو،، یہ ،یہ تو ڈک نے سوچا ہی نہیں،، وہ اب کچھ پریشان ہوئی۔
اب سوچ لو ڈک میڈم،، اور اس اپنے جوڑی دار میل ڈک پر رحم کھاؤ،، کیوں میری جان لینے پر تلی ہوئی ہو۔ وہ اب اس کی گال کھینچتا بولا۔اس قدر ٹوٹ کر پیار آ رہا تھا اپنی ڈک بےبی او سوری روشے بےبی پر کہ وہ جھلا کر رہ گیا۔
میں نے کیا کیا،، مجھے تو میری ان ڈکلنگ نے کہا تھا چلو سوئمنگ کرتے ہیں تو میں نے کہا یس،، بٹ ایش مجھے اب ٹھنڈ لگ رہی ہے، واقعی وہ کپکپا رہی تھی۔
تو کس نے کہا تھا خود کو سچ مچ کی ہی ڈک سمجھ لو،، وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے باہر نکالتا بولا۔ مگر جب وہ باہر آئی تو ایش کا بھی توازن قائم نہیں رہ پایا تھا کیونکہ آروشے نے شاور جیل کا ہی اتنا کباڑا کیا تھا کہ جھاگ سے باہر تک پھسلن بن چکی تھی،، اور پہلے ایشان ،، اور اس کے اوپر آروشے باتھ ٹب میں گرے تھے۔
وہ کھل کھلا کر ہنس رہی تھی، ایشان نے نروٹھے پن سے اسے گھورا۔
ایش بھی ڈک بن گیا،، ییےےےےے،، وہ اس کے سینے سے لگی اب بھی ہنس رہی تھی۔ جسم سے چپکی ییلو فراک،، توبہ شکن حسن، ایشان کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔
دعا کرو ایش اس سچویشن میں عمران ہاشمی نے بن جائے،، وہ سرد سی آہ بھر کر اس کے گداز لب سہلاتا بولا۔
ڈک تو سوئمنگ کرتا ہے عمران ہاشمی کیا کرے گا؟ وہ حیران ہوئی۔
وووووہ،،،، وہ کس کرے گا،، وہ مسکرا کر بولا۔
ایش مجھے بھی عمران ہاشمی بننا ہے مجھے بھی کس کرنی ہے، روشے بےبی کے شوشے پر ایشان عش عش کر اٹھا۔
تو کرو پھر کس کافر کو انکار ہے،، وہ بڑبڑایا۔
واٹ؟ کیا کہا ایش نے؟
میں نے کہا بن جاؤ عمران ہاشمی اور ایش کو کس کرو،، وہ سکون سے بولا۔
روشے بےبی نے اپنے نرم لب اس کی پیشانی پر رکھے،
اور،،ایشان نے دایاں گال آگے کیا۔،دائیں گال کو چوما، اور ،،،،،وہ آنکھیں بند کیے پھیلتا گیا اور بایاں گال آگے کیا۔۔
نو ایش ،،،روشے بےبی کو یہ تمھارے ہئیر چبھ رہے ہیں،، وہ منہ بنا کر بولی۔
تو ایشان قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ انداز نہیں تھا اپنی ہلکی بڑھی ہوئی بئیرڈ اسے زندگی میں کبھی اتنی بری لگے گی جس سے وہ بے تحاشا ہینڈسم لگتا تھا۔
اوکے رائٹ ناؤ اٹس مائی ٹرن، وہ اطمینان سے بولا۔
اوکے،، وہ سکون سے سٹیچو بن کر باتھ ٹب میں اس کی گود میں بیٹھی تھی۔
ایشان نے اس کے ماتھے پر لب رکھے، پھر دائیں گداز گال پر پھر بائیں،،
رائٹ روشے بےبی اس سے پہلے ایش کا دل مزید بے ایمان ہو جائے اٹھو۔وہ اسے لئے فورا باتھ ٹب سے نکلا۔
اب گیزر آن کر کے نیم گرم پانی کے شاور نیچے اسے کھڑا کر کے شاور جیل اتاری ۔
ایک منٹ ادھر رکو۔اب ہلنا مت ادھر سے۔
ایشان اسے ایک سائیڈ کھڑا کر کے اپنی شرٹ اتارتا باہر آیا۔ڈریسنگ سے اس کا ڈریس لیا اور پھر واش روم گیا۔
یہ لو آروشے چینج کرو ڈریس۔
بٹ،،
نو،، علیزے آپو نے بولا تھا، روشے بےبی گڈ گرل ہے اپنا ڈریس خود چینج کر لیتی ہے، میں ادھر ڈور میں کھڑا ہوں، چلو چینج کر کے باہر آؤ، ہری اپ۔
وہ ڈور تک آیا۔
کچھ دیر لگی مگر پھر وہ چینج کر کے باہر آ گئی۔ فیروزی ٹی شرٹ اور بلو ٹراؤزر میں ۔
ایشان نے اسے گھنے لمبے بال ٹاول میں لپیٹے ۔
ادھر بیٹھو میں چینج کر کے آتا ہوں ہھر تمھارے ہئیر ڈرائی کروں گا اوکے۔
اس نے شرافت سے اثبات میں سر ہلایا۔
ایشان واش روم گیا اور چینج کر کے آیا۔ اس کے بال سکھائے ۔
پھر دونوں نے کھانا کھایا۔ایشان نے اسے میڈیسن دی۔
ابھی وہ پھر سے اپنے ڈال ہاؤس کی جانب بڑھتی کے ایشان نے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔
ایش،،
نو،، بلکل نہیں،، اب سونا ہے بس،،کیونکہ صبح ہم نے ہوسپٹل جانا ہے روشے بےبی کے چیک اپ کے لئے،، ایشان نے کہا تو اس نے برا سا منہ بنایا۔
مگر پھر ایشان کے سینے پر سر رکھ کر وہ بہت جلد نیند کی وادی میں اتری تھی۔
ایشان آج کی کاروائی سوچنے لگا۔جے کے نے اسے ایک ایڈریس پر بلایا تھا۔ وہ وقت پر وہاں پہنچ بھی گیا تھا۔ اور پھر پلان کے مطابق اس نے اس عورت کا بازو جلایا تھا۔ اسے زرا برابر بھی افسوس نہیں تھا کیونکہ باہر کھڑا ہو کر اس نے جو اس عورت کے منہ سے باتیں سنیں تھیں جو وہ اس کی بھابھی سے بول رہی تھی اس نے ایشان کو آگ لگائی تھی۔ اور موقع ملنے پر اس نے ایک پل بھی ضائع کیے بغیر اسے سزا دی تھی۔
اور وہاں سے چلا آیا۔
سوچتے سوچتے ایشان بھی گہری نیند سو چکا تھا ۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
صبح سے کافی سکون تھا گھر میں ،مفرا نے ہی سب کا بریک فاسٹ بنایا تھا۔۔
نرما نے اپنے کمرے سے نکلنے کی غلطی ہر گز نہیں کی تھی۔
وہ واقعی اس شخص سے خوفزدہ ہوئی تھی کہ اس نے جب اسے اپنا ہاتھ جلاتے دیکھا تو وہ اسی وقت سعد کے ساتھ کیسے ہو سکتا تھا۔ سوچ سوچ کر وہ پاگل ہو چکی تھی۔
کہ ایسے کیسے ممکن تھا ۔
باہر وہ تینوں ڈائینگ ٹیبل پر بریک فاسٹ کر رہے تھے۔
مِفرا بھابھی کی ٹرے ریڈی کرو انھیں بریک فاسٹ میں خود دے کر آؤں گا۔
تھنکس یار جبران،، تم نے رات مائنڈ نہیں کیا۔ وہ جانے کیا کیا بکواس کرتی رہی۔تم بہت اچھے ہو،، سعد تشکر کے احساس سے بولا تھا ۔
مِفرا نے کن اکھیوں سے اس بندے کو دیکھا۔جس کے چہرے پر یہ نرم سی مسکان نرما کے سامنے آنے پر جانے کیوں اسے شیطانی سی لگتی تھی۔
مفرا نے اسے ٹرے تیار کر کے دی تو وہ اسے لیے اس کے کمرے تک آیا۔ ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوا۔
نرما نے آنے والے کو دیکھا جو ناشتے کی ٹرے لئے اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں، وہ گڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھی۔ مگر اپنے موبائل فون پر چپکے سے ویڈیو ریکارڈنگ آن کرنا نہیں بھولی۔
او،، نو،، نو ،،ڈرنے کی ضرورت نہیں بھابھی، فی الحال کچھ نہیں کروں گا، اور رہی بات رات کی تو وہ تو محض تمھارے ایکشن کا ری ایکشن تھا۔ میں نے کہا تھا ناں اگر اسے ایک سوئی چبھنے جتنی تکلیف دو گی تو بدلے میں تمھیں ایک ہزار سوئیوں جتنی تکلیف جھیلنی پڑے گی تو نمونہ تمھارے سامنے ہے تمھارے جلے بھنے بازو کی صورت میں،، کیونکہ تم نے اسے جلن دی تو تم نے تو جلنا ہی تھا ناں پھر،
وہ ٹرے اس کے سامنے رکھتا پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالتا بولا تھا۔
یہ،، تم نے کیا ناں،، وہ تم ہی تھے ،،ہے نا جس نے میرا بازو جلایا،
وہ چلائی۔
ہممم،، ہاں بھی،، اور نہیں بھی،، ہاں اس لیے کہ میں نے تمھارا بازو جلایا، اور ناں اس لیے کہ میں تو سعد بھائی کے ساتھ تھا تو ایسا کیسے کر سکتا ہوں، تو وہ میرا ہم زاد ہو سکتا ہے۔ یا میرا بھوت،،
جبران نے اطمینان سے کہا۔
خیر میں کہنے آیا تھا کہ ضروری کام سے باہر جا رہا ہوں تو میری بیوی سے بیس فٹ کے فاصلے پر رہنا، نہیں تو،،
اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔
اور اس غلط فہمی میں تو ہر گز مت رہنے کہ تم کچھ بھی کرو گی اور مجھے پتہ نہیں چلے گا تو یاد ہے ناں میرا ہمزاد یا بھوت،، اس نے آنکھ ونک کی۔
اور دروازے کی جانب بڑھا۔
وہ جو ویڈیو بنانے میں کامیاب ہو چکی تھی خباثت سے ہنسی اور حقارت سے اس کی پیٹھ کو گھورا جو دروازے پر اچانک کھڑا ہوا تھا۔۔ جیسے کچھ یاد آیا ہو۔
ہیے ویسے اس ویڈیو کا کوئی فائدہ نہیں،، کیونکہ یہ سعد بھائی تک نہیں پہنچ پائے گی، اسے لئے دماغ چلانا بند کرو،
وہ کہتا اسے ہکا بکا چھوڑ باہر جا چکا تھا۔
وہ موبائل میں وہ ویڈیو چلانے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام وہ چل نہیں رہی تھی جیسے اس موبائل پر کسی اور کا کنٹرول ہو۔
اب تو واقعی نرما میڈم کے یہ سوچ کر دانتوں تک پسینے چھوٹے تھے کہ یہ ہے کیا بلا تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اگلے دن شفا دعا کرتی وائٹ پیلس داخل ہوئی تھی کہ کم از کم اس بدتمیز، بد دماغ، بدزبان بندے سے تو ہر گز اس کا سامنا نا ہو۔ اس نے آج پنکی کی پانچ چھوٹی چھوٹی شاگردوں کو جو بمشکل تیرا یا چودہ سالہ تھیں ان کو پڑھانا تھا ۔
وہ اندر سب سے مل کر انھیں لیے پچھلے لان میں کرسیوں پر بیٹھ گئی تھی۔ ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ شفا بھیانک بھاری آواز سن کر اسے کے ماتھے پر بل پڑے۔
آریان بیزار سا منہ بناتا اپنے روم سے باہر آیا تھا۔ایک تو کوئی اسے اس پیلس سے باہر نہیں جانے دے رہا تھا دوسرا اس کی(کسی مقصد کے تحت بنائی گئی) گرل فرینڈ میرین نے اس کی جان کھائی ہوئی تھی۔
جب سے یہاں آیا تھا وہ تو گلے ہی پڑ گئی تھی کہ اسے بتائے بغیر کیوں گئے۔کس لئے گئے کیا کرنے گئے اور جانے کیا کیا۔
اب بھی مسلسل بجتی بیل سے اس کا دماغ جھنجھنا اٹھا تھا تبھی برے برے منہ بناتا فون یس کر کے کان کو لگایا۔
شفا جو کہ منہمک سی بچوں کو پڑھا رہی تھی ایک بھاری اونچی آواز نے بری طرح ڈسٹرب کیا تھا۔
او ،نو ،نو بےبی،، تم غلط سمجھ رہی ہو، تمھیں اگر ایسا لگتا ہے کہ مجھے میرے پیرینٹس نے ایموشمل بلیک میل کر کے یہاں بلایا ہے شادی وادی کروانے تو ایسا کچھ نہیں ہے، میں یہاں صرف گھومنے پھرنے آیا ہوں اور جلد ہی تمھارے پاس واپس آ جاؤں گا۔
شفا کا دماغ گھوما تھا یہ بکواس سن کر،، جاہل انسان، بھلا پبلک پلیس پر یہ باتیں کرنے والی تھیں۔اتنا ہی شوق ہے روٹھی گرل فرینڈ منانے کا تو اپنے روم میں سکون سے بیٹھ کر منائے۔۔
شفا کا دماغ گھوم گیا۔دانت کچکچاتی پیلو بدلہ۔
یار سمجھنے کی کوشش کرو ایسا کچھ نہیں ہے نہیں کروں گا میں شادی یہاں،، اوکے نکاح بھی نہیں کروں گا،، تم سمجھ کیوں نہیں رہی،،،
اب تو شفا کامران حسن کے پارے نے اپنی آخری حد کو چھوا تھا۔ غلطی کی تھی آریان نے جانے انجانے اسے ڈسٹرب کر کے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا تھا۔
وہ اپنی جگہ سے دانت کچکچاتی اٹھی تھی اور ٹھیک آریان کے پیچھے فون کے بہت پاس تقریباً چلا کر بولی تھی۔
ہیے آن ڈارلنگ،، چھوڑو بھی ،،،اس بچ کو وضاحتیں دینا بند کرو،، ٹائم ویسٹ مت کرو ہنی،، اور چلو ابھی نکاح کی کتنی شاپنگ رہتی ہے،،
اس کے شوشے پر آریان ہکا بکا آنکھیں پھاڑے اس پاگل لڑکی کو دیکھے گیا کیونکہ میرین نا صرف اس کی یہ گوہر افشانی سن چکی تھی بلکہ فون بند بھی کر چکی تھی۔
جبکہ اب وہ ہاتھ جھاڑتی پونی جھلاتی اطمینان سے آ کر اپنی جگہ پر براجمان ہوئی تھی۔
آریان تن فن کرتا اس کے سر پر پہنچا تھا۔
ہیے یو انڈونیشین چھپکلی،، ہاؤ ڈئیر یو تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہ کرنے کی۔اور یہ تو وہی جانتا تھا کہ وہ اپنے مقصد کے کتنے قریب تھا جب اس پاگل لڑکی کی وجہ سے اب اسے شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔
یو وائٹ چلغوزے تمھیں دکھائی نہیں دیتا کہ میں انھیں پڑھا رہی ہوں اور تم ہمیں ڈسٹرب کر رہے تھے،،اور ویسے بھی پرائیویٹ باتیں اپنے روم میں کرتے ہیں نا کہ پبلک پلیس پر ۔وہ اطمینان سے بولی
تم مجھے یہ بول بھی سکتی تھی چمگادڑ،، وہ دانت پیس کر بولا۔
پونی جھلاتی وہ زہر لگ رہی تھی اسے سر پھری لڑکی۔
تو وہی تو کیا،،، میں نے بول دیا،، میل چمگادڑ،، وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی تو آریان کا دل کیا اس کا گلا دبا دے۔
اس سے پہلے کے غصہ آؤٹ آف کنٹرول ہوتا وہ وہاں سے واک آؤٹ کر گیا مگر بدلہ لینے کا دل میں پختہ ارادہ باندھ لیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ رواحہ کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔۔ اس دشمنِ جاں ظالم شخص نے پلٹ کر اسے دیکھا تک نہیں تھا۔ وہ جانتی تھی وہ ناراض ہے اس سے، تبھی تو پلٹ کر آیا بھی نہیں تھا یہاں،،
اب بھی رات گہری تھی۔ چاروں اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ چاروں اور گہری خاموشی کا راج تھا۔
بے چینی سے کروٹیں بدلتے طبیعت بیزار ہو چکی تھی۔ جب وہ بے تحاشہ اکتا کر بستر سے جھلاتی اٹھی تھی۔
بے چینی حد سے سوا تھی۔ وہ دبے قدموں کمرے سے باہر نکلی۔
دم گھٹتا سا محسوس ہوا تو قدم خود بخود سیڑھیوں کی جانب بڑھے۔
چھت پر آئی تو ٹھنڈی ہوا کے نرم سے جھونکوں نے استقبال کیا۔
انرجی سیور بلب کی مدھم سی روشنی چھت پر پھیلی ہوئی تھی۔
وہ آ کر ٹیرس کے پاس کھڑی ہوئی ذہن و دل پر بس ایک شخص سوار تھا۔
اب تو ہر آتی جاتی سانس میں بس ایک ہی نام پرویا تھا اس نے، کہ اپنی سانسوں سے بھی رواحہ کو ماہر سوہم خان کی ہی خوشبو آتی تھی۔
وہ اس کے حواسوں پر اس قدر سوار تھا کہ اب بھی اسے جیسے خود میں سے اسی کی خوشبو آ رہی تھی۔تبھی اس نے آنکھیں موندے اس خوشبو کو محسوس کیا تھا۔
مگر اپنے پیچھے جانی پہچانی آہٹ پر وہ خود میں سمٹی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
