Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

فجر وائٹ پیلس سے نکلی تو سنٹرل جیل کے باہر پہنچی تھی ۔کچھ ہی دیر کے انتظار کے بعد وہ عمر رسیدہ سی جھکے کندھوں کے ساتھ عمر قید کاٹ کر جیل سے باہر آئی تھا۔
ماں،،، کپکپاتے لبوں سے تڑپ کے ساتھ لفظ ادا ہوا اور روح تک بے چین ہوئی۔وہ تڑپتی برسوں کے بعد ماں کی آغوش سے لپٹ کر دھواں دار روئی تھی۔
مگر گارڈز نے انھیں وہاں زیادہ دیر کھڑے نہیں ہونے دیا۔اسی لئے جیسے برسوں کی مسافت طے کر کے گاڑی حویلی کی حدود میں داخل ہوئی تھی۔

اور اب وہ دونوں بی جان کے کمرے میں بیٹھیں اپنا برسوں کا غم غلط کرنے میں مصروف تھیں۔
نایاب دیوار پر لگی بی جان، فانیہ اور راسم کی تصویروں کو دیکھ بےتحاشا آنسو بہا رہی تھی۔فجر نے ہی ہمت کی جیسے تیسے ہلکا پھلکا کھانا بنایا۔اور اپنے ہاتھوں سے ماں کو کھلایا۔
کھانا کھا چکیں تو برتن سمیٹ کر آ کر فجر نے ماں کی گود میں سر رکھا تھا۔دونوں ماں بیٹی باتیں کرنے میں مصروف تھیں۔
جب وہ اچانک اٹھ کر بیٹھی تھی اور ماں کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا تھا۔
نایاب کی آنکھوں میں برسوں کا درد، تھکن، بےبسی، اور تکلیف تھی۔
امی مجھے کیوں لگتا ہے کہ آپ اس جرم کی سزا بھگت کر آئی ہیں جو آپ نے کیا ہی نہیں،، صرف ایک بیٹی کو ان آنکھوں میں سچائی نظر آتی ہے، فجر نے اچانک نایاب کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا تھا وہ جو اسے ٹالنے کو کچھ بہانہ بنانے والی تھی لب وہیں خاموش ہو گئے، آپ کو میری قسم امی سچ سچ بتائیں کیا ہوا تھا، کیسے ہوا، ہم تو اتنا خوش تھے، تو پھر،،

نایاب نے بےبسی سے اپنی بیٹی کا زرد چہرہ دیکھا تھا۔ ہاں ہم بہت خوش تھے،،، زمانے نے اپنی ٹھوکروں پر مجھے رکھا تو سمجھ آئی کی بی جان اور فانیہ ہی بس میرے ساتھ مخلص تھیں،، انھوںنے ہی مجھے سہارا دیا تھا،،میں ان کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی،، تمھارا اور ماہ بیر کا نکاح کر کے ہم کتنے خوش تھے،، وہ تمھیں لے کر بہت ٹچی تھا،،،کسی کو تمھارے قریب نہیں آنے دیتا تھا،،، بس ہر وقت تمھیں خود میں الجھائے رکھتا کہ تم کسی اور سے دوستی نا کر لو،،، نایاب دور کہیں خوبصورت ماضی میں کھو گئی تو فجر کے چہرے پر ایک تلخ سی مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی جسے وہ ماں سے چھپا گئی۔

وہ تمھارے معاملے میں بےحد جنونی تھا، تبھی میں نے ،، فانیہ اور راسم بھائی نے تم دونوں کا نکاح کر دیا،،، مگر پھر ایک طوفان آیا،، اور اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے گیا،، پتہ نہیں اتنی سکیورٹی میں وہ درندہ تمھیں کیسے اٹھا کر لے گیا،نا صرف تمھیں اٹھایا بلکہ ماہ بیر کو بھی نشانے پر رکھا ہوا تھا،، منیر نام تھا اس کا،، کچھ اور لوگ بھی ساتھ ملے ہوئے تھے اس کے،، بارہ سال کی تو تھیں تم، اس نے مجھے ایک ویڈیو دکھائی جس میں تم بے ہوش تھیں اور وہ درندہ تمھارا سکارف کھینچ رہا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ تمھاری شرٹ،،،،
نایاب نے تکلیف کی انتہا سے لب کچلے، فجر کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔ سانس جیسے گلے میں اٹکی ہوئی تھی۔

میں نے چلا چلا کر کہہ دیا جو بھی جیسے بھی تم کہو گے میں کرنے کو تیار ہوں، مگر میری بیٹی سے دور رہو،، وہ تم سے تو دور ہو گیا اور ماہ بیر پر سے بھی اپنا آدمی ہٹوا لیا،، مگر مجھے فون کر کے فانیہ اور راسم کو حویلی بلانے کا کہا،،۔میں نے ایسے ہی کیا،، اور پھر اس درندے نے میرے ہاتھوں سے ان کو زہر دلوا دیا،، کیونکہ وہ بزدل جانتا تھا کہ اکھٹے تو ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو الگ الگ اور ایک ایک کر کے انھیں مارنا چاہا، میں نے اپنی بیٹی کو ایک درندے سے بچانے کے لئے اپنی معصوم بہن کی جان لے لی۔ کیسے معاف کر دیتی خود کو،، بھلے ہی مجبوری ہی سہی قاتل ہوں میں ان کی ،،،تو اپنا جرم سب کے سامنے قبول کر لیا۔ مگر اصل وجہ کسی کو نہیں بتا سکی،، ساری زندگی اسی گلٹ میں گزاری کے میں ایک قاتل ہوں۔۔

نایاب اپنی بہن کو یاد کرتی خون کے آنسو رو رہی تھی اور فجر اپنی ماں کی بے بسی اور تکلیف پر تڑپ ہی تو گئی تھی۔ اس کا بھی جی چاہا خون کے آنسو روئے اور ماں کو بتائے کہ اس نے بھی ان گزرے ماہ وسال میں اسی گناہ کی پاداش میں ایک عذاب جھیلا ہے کہ وہ ایک قاتل کی بیٹی تھی۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی۔کیونکہ باتوں میں رات ہونے کا پتہ ہی نا چلا اور فجر صبح سے گھر سے نکلی ہوئی تھی اور اب رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ باہر شیلا اور وسیع تھے۔جنھیں دیکھ فجر کا چہرہ خوف سے سفید پڑا تھا۔
میڈم واپس چلیں، سر بلا رہے ہیں آپ کو،، شیلا نے سنجیدگی سے کہا تو اس کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔ کیسے بھول گئی کہ وہ اس کے پل پل کی خبر رکھتا ہے تو یہ کیسے نا جانتا۔۔ گلے میں پھندا سا لگ چکا تھا۔ آواز کیسے نکلتی۔

ادھر ایک شخص خونخوار لہو ٹپکاتی نگاہوں سے اسکرین پر اپنی متاع کو اس عورت کے حصار میں دیکھ رہا تھا جس سے دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کی تھی اس نے۔ وسیع کی شرٹ میں مِنی کیمرے سے وہ اسے دیکھ رہا تھا۔

تم لوگ گاڑی میں بیٹھو،، کچھ دیر تک آتی ہے یہ،، نایاب نے ہی اس کی مشکل حل کی۔۔ وہ خاموشی سے چلے گئے۔۔
مم،،، ماں،، میں اس کے پپ،،، پاس،، نہیں جاؤں گی،، مم،، میں آپ کے پاس رہوں گی،،میں آپ کے پاس رہنا چاہتی ہوں، اتنے سالوں بعد آپ ملی ہو مم مجھے ،، وہ نفرت،، کک،، کرتا ہے مجھ سے،، وہ ہچکیوں کے درمیان بولی تو نایاب نے بےبسی سے اسے دیکھا۔

خبردار فجر،، آئندہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا، شوہر ہے وہ تمھارا،، سب کچھ وہی ہے اب ،، تمھارا محافظ،، نفرت کرتا تو ابھی میرا پتہ چلنے کے بعد بھی بلاتا نہیں تمھیں اپنے پاس،، چلو اٹھو شاباش اپنے گھر جاؤ،، میں رکھ لوں گی اپنا خیال،، نایاب نے اس کا منہ چومتے کہا۔ وہ زور زور سے روتی نفی میں سر ہلانے لگی۔
کیسے کہتی کہ اب جانے وہ کیا کرے گا اس کے ساتھ،،
مگر نہیں اب نہیں،، فجر نے اپنے آنسو صاف کیے،

پہلے تو وہ اس کا ہر ظلم ہر زیادتی اس لیے سہہ جاتی تھی کہ کہیں نا، کہیں اسے بھی گلٹ تھا کہ واقعی وہ اس ماں کی بیٹی تھی جو ماہ بیر کی گناہگار ہے، مگر اب جب اسے سچائی پتہ چل گئی تھی تو اسے رتی برابر بھی دبنے، ظلم سہنے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تبھی وہ اٹھی ماں کے سینے سے لگی اور انھیں خدا حافظ اور اپنا خیال رکھنے کا بول کر باہر نکلتی چلی گئی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا۔ سعد اور مِفرا بہت خوش تھے تبھی سعد اس لئے اپنے روم میں چلا گیا تھا۔جبران ٹیرس پر چہل قدمی کر رہا تھا جب وہ اس کے پیچھے آ کر کھڑی ہوئی۔۔

یہ بلیک کافی،، شام کے مقابلے میں اس کے چہرے پر ایک طنزیہ سی مسکان تھی۔
تھینکس بھابھی،، اس نے بھی مسکرا کر کہا۔اور کپ تھام لیا۔
بھابھی نہیں تم مجھے نرما بول سکتے ہو۔چلو یہ ہائیڈ اینڈ سیک کھیلنا بند کریں، اور کھل کر اچھے کھلاڑیوں کی طرح میدان میں آئیں، وہ سکون سے بولی تو جبران چونکا تھا اور اس کی بات کی گہرائی جانچ کر اس کی دیدہ دلیری پر عش عش کر اٹھا۔

ویسے اگر تم مفرا کہ بارے میں جانتے ہو تو میری بھی ہسٹری جغرافی جانتے ہو گے تو پوچھ سکتی ہوں میری حقیقت سعد کے سامنے کیوں نہیں آنے دی تم نے، وہ اسی اطمینان سے بولی تھی۔
کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم خود سعد بھائی کے سامنے اپنے ہر گناہ ہر جرم کا اعتراف کرتے ہوئے میری محبت میری بیوی سے معافی مانگو وہ بھی پاؤں پکڑ کر، اب وہ بھی کافی کے سپ لیتے سکون سے بولا تھا۔
اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں ایسا کچھ کروں گی۔وہ لہجے ہتک آمیز کرتی پھنکاری۔
کیونکہ میں تمھیں یہ کرنے کے لئے مجبور کر دوں گا۔
اونہہہ پہلے اپنی محبت اپنی بیوی کو تو میرے وار سے بچاؤ۔
اسے اب تم سے کھروچ بھی پہنچی تو بھیانک نتائج کی زمہ داری قبول کرنا،
وہ تو ابھی ابھی میں کر چکی۔اسے مرچوں بھری چائے دے کر، مرچوں بھری چائے پی کر وہ گلہ پکڑ کر دوہری ہو رہی ہوگی۔کیونکہ زیادہ مرچیں بیچاری برداشت نہیں کر سکتی ناں، اس نے جبران کی بات ہوا میں اڑائی۔

اب جبران نے کپ فرش پر دھاڑ سے مارا تھا۔نرما اچھلی۔وہ اس کے قریب آیا تھا۔اتنی سی دیر میں اس کی آنکھیں لال انگارا ہو چکیں تھیں۔
اگر ایسی بات ہے نرما میڈم تو اس کا خمیازہ بھی آج کچھ دیر بعد ہی بھگت لو گی۔تم اسے ایک سوئی چبھو کر تکلیف دو گی تو بدلے میں تمھیں ہزار سوئیاں چبھنے جتنی تکلیف برداشت کرنی پڑے گی۔

جبران کے سرسراتے لہجے نے ایک مرتبہ تو اسے گڑبڑانے پر مجبور کر دیا تھا۔مگر وہ صدا کی ڈھیٹ۔
دیکھی جائے گی، وہ اسے تپانے کو اطمینان سے بولی۔ جو مرضی بولو، میں تم لوگوں کا یہ رشتہ کبھی آگے بڑھنے نہیں دوں گی، کبھی پرون نہیں چڑھنے دوں گی، ٹوٹے گا یہ رشتہ،اٹس نرماٰز چیلنج فرینڈ،،
رئیلی ساؤنڈ نائس،،، چیلنج،، قبول ہے مجھے، وہ کہتا اس پاگل عورت پر ایک نگاہ غلط ڈالتا نیچے گیا تھا۔

اپنے روم میں آیا جو سعد نے اس کے اور مفرا کے لئے سیٹ کروایا تھا تو وہ واقعی گلا پکڑ کر اوندھے منہ گری ۔
مفرا،، وہ لپک کر اسکے قریب آیا اور اس کی پیٹھ رب کی، سیٹریٹ ہو جلدی ،،،اسے سیدھا کیا چپکے سے کچن میں گیا اور شہد کا جار لے آیا۔
اب جبران نے اسے شہد دیا تو کچھ ہی دیر میں اس کی تو طبیعت سنبھل چکی تھی۔
مگر نرما نے جو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بدبختی کو آواز دی تھی اس جلاد سے الجھ کر،،، اس کا کیا انجام ہونے والا تھا یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔

جبران کو معلوم تھا وہ مفرا کا تماشا دیکھ کر انجوائے کرنے کے لئے ونڈو کے پاس آن کھڑی ہوئی ہے۔ تبھی وہ اچانک مِفرا کو بیڈ پر لٹا کر اس پر حاوی ہوا تھا۔ مفرا بوکھلا گئی۔
میری جان،، اگر معملہ ایک کِس لینے کا تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا، غلام حاضر تھا یہ مرچی کا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اب اتنے سے میں ہی سانس اٹک گئی اور مرچیں بھی ٹھیک ہو گئیں ہاں،،،
وہ لہجے کو شوخ کرتا بولا۔
مفرا کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔ یہ وہ کیا بول رہا تھا۔جبران نے اپنے لب اس کی شہہ رگ پر رکھے تھے۔۔
ی،،، یہ،، کک،، کیا،، کر، رہے ہیں آ،، آپ،، وہ مچلی۔
اوونہوں،، میری جان، اب مجھے چھیڑ کر بھگتنا تو آپ کو اپنی اس چھوٹی سی جان پر ہی پڑے گا ناں،،

وہ ونڈو سے ہٹ چکی تھی۔
مم مگر میں نے کیا کہا آپ کو،، مفرا کو غش پڑا۔ جبران نے اس کی چھوٹی سی ناک چومی، وہ کانوں تک سرخ ہوئی۔ وہ پیچھے ہٹا۔۔
ابھی تو کچھ نہیں،،
اور یہ کیا بول رہے تھے آپ،، اب وہ آبرو اچکا کر پوچھتی مشکوک ہو چکی تھی۔
جبران نے اسے اس کی بھابھی کے سارا چٹھا کٹھا کھول کر بیان کر دیا۔جو وہ حیرت سے منہ کھولے سنے گئی۔ پھر ہراساں ہوئی تھی۔
مم،، مجھے اس سے ڈر لگتا ہے ڈاکٹر،، وہ روہانسی ہوئی اس کی بات پر جبران گیرا مسکرایا تھا۔
آں ہاں،، بہت جلد وہ ہم سے ڈرنے لگے گی،،
کک،، کیا کریں گے آپ اس کے سس ،،ساتھ ،وہ خوفزدہ ہوئی۔
میں تو کچھ بھی نہیں کروں گا ہاں مگر میرا بھوت بہت کچھ کرے گا۔وہ معصومیت طاری کرتا لاپروائی سے بولا۔
واٹ،، آپ مجھے ڈرا رہے ہیں، وہ منہ بنا کر بولی، ۔
اور تم مجھے بہکا رہی ہو،،، میری جان،، وہ خمار آلود لہجہ میں بولا تو وہ جو اس کے بلکل قریب شتر بے مہار شاکنگ میکسی میں قیامت بنی بیٹھی تھی خود میں سمٹی۔
جبران کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی۔ وہ چونک کر سیدھے ہوئے جبران نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے سعد اور نرما تھے۔
آؤ یار تھوڑی سی چھت پر چہل قدمی کرتے ہیں، تمھاری بھابھی بھی تھوڑا وقت مفرا کے ساتھ سپینڈ کرنا چاہتی ہے۔
جبران گہرا مسکرایا۔
اور کب سے یہی تو وہ چاہتا تھا۔ وہ مفرا کی طرف اشارہ کر سعد کے ساتھ چلا گیا۔
وہ جو سہمی کھڑی تھی۔نرما نے اسے تنفر سے دیکھا۔ جو ہاتھ میں ڈریس لائی تھی مفرا کے منہ پر پھینکتے اسی کی کلائی مروڑی تھی۔
وہ کراہ اٹھی۔ بڑا شوق ہے دلہن بننے کا،، سج سنور کر مردوں کو اپنے جال میں پھانسنے کا، کونسی آدائیں دکھا کر یہ کروڑ پتی ڈاکٹر پھانسا ہے تھوڑی سی ٹپس مجھے بھی دے دو،،
یہ کیا کہہ رہ ہو تم،، مفرا چلائی۔ اور اس کی گرفت میں مچلی۔
آواز نیچی کرو، اور کان کھول کر سنو، اسے بھول کر بھی اپنے قریب مت آنے دینا، نہیں تو کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر تمھارے اس خوبصورت چہرے پر تیزاب پھینک دوں گی، سمجھیں، دفع ہو جاؤ جا کر یہ لباس بدلو، وہ پھنکاری۔

اتنی ہی دھمکی کافی تھی کیونکہ وہ لرز اٹھی تھی اس کے جنگلی پن پر، کپڑے اٹھا کر وہ واش روم میں بند ہو چکی تھی۔ وہ تمسخر اڑانے والے انداز میں ہنس پڑی۔
تبھی بیرونی دروازہ کھول جبران اندر آیا تھا۔
تم،، نرما چونکی
مگر آتے ساتھ ہی اس نے ایک گرم تپتی آئرن اس کی کلائی پر رکھی تھی۔ اس نے چلانے کو منہ کھولا مگر وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ اس کی آواز کا گلا گھونٹ چکا تھا۔
کلائی کے گوشت میں سے دھوئیں اٹھے تھے۔اور اسکن جلنے کی سمیل پورے کمرے میں پھیل گئی۔
تبھی وہ بجلی کی سی تیزی سے اسے بیڈ پر دھکیل کر کھڑکی میں سے باہر گیا تھا۔اور اسی وقت بیرونی دروازے سے سعد اور جبران اندر آئے تھے۔
وہ بیڈ میں منہ دئیے حلق کے بل چلا رہی تھی۔سعد اور جبران اس کی جانب لپکے۔اسے سیدھا کیا،، یہ کیا کیا تم نے نرما، اندھی ہو کیا دیکھ نہیں سکتی تھیں،، سعد دھاڑا۔
یہ میں نے نہیں اس نے کیا، اس نے جلایا میرا بازو،، وہ چلائی اور جبران کی جانب اشارہ کیا۔
واٹ ؟ پاگل ہو گئی ہو کیا نرما، یہ ابھی میرے ساتھ اندر آیا ہے دماغ خراب ہو گیا ہے تمھارا ،بکواس بند کرو۔ وہ دھاڑا۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے جبران کو دیکھے گئی۔ جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

کوئی بات نہیں مجھے چیک کرنے دیں۔ جبران آگے بڑھنے لگا۔
تبھی گھبرائی سی مفرا ڈریس چینج کیے واش روم سے باہر آئی تھی۔
کک،، کیا ہوا،، بھابھی،،
تمھارے یہ پاگل شوہر نے جلایا بازو میرا،اب جانے کیا ڈرامہ کر رہا ہے سعد بھی نہیں مان رہے،،،وہ چلائی،،آنسو تواتر سے بہے ،،جلن اور تکلیف تھی کہ حد سے سوا،، سعد دانت پیستا آگے بڑھا اور اسے گھسیٹتا وہاں سے لے گیا۔ نرما نے مڑ کر شرر بار نگاہوں سے اسے دیکھا تو اس نے بھنوئیں اچکا کر ایک آنکھ ونک کر دی۔
جو کہ مفرا اچھی طرح دیکھ چکی تھی۔

وہ جا چکے جبران نے ڈور لاک کیا۔
یہ آپ نے کیا ناں،، وہ کڑے تیور لیے پوچھ بیٹھی۔
کیوں،، سعد بھائی نے کہا ناں کہ میں ان کے ساتھ تھا تو اپنے بھائی کا بھی نہیں اعتبار؟ وہ لاپروائی سے بولا
اس سے زیادہ تو آپ ڈینجرس لگ رہے ہیں مجھے، وہ جھنجھلائی سی بیڈ پر لیٹ کر کمفرٹر میں دبکی تھی۔
جبران مسکراتا بیڈ پر نیم دراز ہوا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رواحہ جب سے ہوش میں آئی تھی منی کے سرہانے بیٹھی بس روئے جا رہی تھی۔ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے بچت ہو گئی تھی اور اسے تھوڑی سی چوٹ لگی تھی۔
اب وہ اس وقت اپارٹمنٹ کی بجائے ابراہیم ہاؤس میں تھے۔
وہ سب چال تھی۔ ماہر سوہم خان کی چال۔
اس نے ایک پل کو بھی ان سے نظر نہیں ہٹنے دی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کراچی میں ان کے کون کون سے آدمی چھپے بیٹھے ہیں۔
اور اب اس کا خاص آدمی ٹونی ان کے شکنجے میں تھا ۔جو ان کے لئے کام کا آدمی تھا۔
مگر ماہر سوہم خان کے لئے اس نازک لڑکی کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی جو مینٹلی بہت ڈسٹربڈ ہو چکی تھی۔

منی اسے کب سے سمجھا رہی تھی کہ وہ بلکل ٹھیک ہے مگر وہ تھی کہ روای چناب سندھ میں بہانے پر تلی ہوئی تھی۔
اے سہیلی اتنا پیار نا دو مجھے،، عادت نہیں ہے اتنے پیار کی۔وہ مسکرا کر اسے چھیڑتی بولی۔
رواحہ کا دھیان بٹانے کو وہ پھر بولی۔۔
جانتی ہو جب میں پیدا ہوئی تو ابا بہت خوش ہوئے تھے پورے خاندان میں مٹھائی تقسیم کی تھی اور نام منیب رکھا تھا۔ مگر جب میرے عقیقہ پر خواجہ سراؤں نے میری حقیقت میرے ابا اماں کو بتائی تو میرے وہی ابا میری جان لینے کے در پہ ہو گئے، روز مجھے قتل کرنے کا ایک نیا منصوبہ بناتے جو کسی طرح میری جھلی ماں ناکام بنا دیتی۔ماں تھی ناں ۔کیسے اپنے کوکھ جنے کو مرتے دیکھتی ۔مگر کب تک، پھر ایک دن میرے ابا مجھے ایک سنسان جگہ لے گیا اور زندہ جلانے کی کوشش کی ،مگر زندگی تھی جو پاشا ابراہیم نے بچا لیا۔ اور اپنے ساتھ لے آیا۔تب سے یہ ہے ناں تمھارا گرین مونسٹر ہے وہ اپنے ساتھ ساتھ رکھنے لگا۔ اور مجھے اپنا بھائی بنا لیا۔دنیا نے تو بہت مارنے کی کوشش کی مگر یہ سالہ مجھے مرنے نہیں دیتا۔ اسی لئے تم فکر مت کرو مجھے کچھ نہیں ہوگا۔
وہ لاپروائی سے اب تکیہ پر نیم دراز ہوتی بولی۔
اس کی کہانی سن رواحہ بجائے چپ ہونے کے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔تو منی کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔

وہ جو کب سے روم کے ڈور سے ٹیک لگائے سب سن رہا تھا۔پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالتا اندر آیا تھا۔ اسے منیب کا “تمھارا گرین مونسٹر ” کہنا مزا دے گیا تھا۔اس کی نگاہوں کی تپش سے رواحہ خود میں سمٹی تھی۔ ایک آگ تھی جو رواحہ کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔
یار منیب کیا بستر پکڑ کر بیٹھ گئے ہو، میرے نکاح کی تیاری کون کرے گا۔اب اٹھ جاؤ۔ وہ اچانک بھاری بوجھل لہجے میں بولا تو منی کا تو دل بلیوں اچھل پڑا۔
مگر رواحہ نے پہلو بدلہ تھا۔
کیا سچ پھر تو میں بلکل بھلی چنگی ہوں، سوہم خان،، کب،،، منی اس سے پہلے اپنی بات پوری کرتی رواحہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔

منی ان سے بول دو،، مم،، مجھے،، نن،، نہیں کرنی،، شادی،، ان،، سے، وہ کہتی وہاں سے بھاگ کر دوسرے کمرے میں بند ہو چکی تھی۔
ماہر سوہم خان کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی۔کان سائیں سائیں کرنے لگے۔
وہ جو ایک انجانی سے عشق کی آگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا تھا۔ پل پل تڑپ رہا تھا۔ پل پل اس کے بغیر مر رہا تھا۔وہ یہ کیا بول کر جا چکی تھی۔ وہ جو پتھر دل میں سوراخ کرتی اسے چھلنی چھلنی کر چکی تھی۔ اب اسے کس عذاب میں جھونکنا چاہتی تھی۔
منی ہق دق سوہم کی جانب دیکھنے لگی۔ جبکہ وہ خالی خالی نگاہوں سے دروازے کو دیکھے گیا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آروشے یہ کیا کیا تم نے ؟یہاں کیا کر رہی ہو؟ ایش جو ابھی ابھی ایک ضروری کام نمٹا کر اپنے روم میں داخل ہوا تھا۔ آروشے کو روم میں نا پا کر اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
واش روم سے کھٹ پٹ کی آواز پر وہ پرتجسس سا واش روم میں داخل ہوا تھا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔
کیونکہ سامنے کا منظر نہایت مضحکہ خیز تھا۔
آدھا ٹب پانی سے بھرا ہوا تھا۔ روشے بےبی باتھ ٹب میں گھسی پانی میں اپنی ییلو ڈکلنگ چھوڑے خود بھی ڈک بن کر بظاہر تیرنے میں مصروف تھی۔

اپنے بھی ییلو کپڑے بھیگ کر جسم سے چپکے ہوئے تھے اور لگتا تھا سیانی روشے بےبی نے شاور جیل بھی ٹب میں رج کے ڈالی تھی تبھی جھاگ باہر تک بکھری ہوئی تھی۔
وہ سرد سی آہ بھرتا آگے بڑھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رات کی گہرائی، وائٹ پیلس پر قبرستان کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کم از کم فجر کو تو یہی محسوس ہوا تھا۔ چاہے جتنی مرضی بہادر بنتی مگر اب اس جن کے کمرے میں وہ دھڑکتے دل اور لرزتے قدموں سے داخل ہوئی تھی۔
کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔اور اس اندھیرے میں سگریٹ کے مرغولے سے اٹھ رہے تھے۔
وہ ہمت کر کے آگے بڑھی۔ گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔

کس سے پوچھ کر گئیں تھیں اس عورت کے پاس۔
سرسراتی بوجھل بھاری آواز کمرے کا سناٹا چیرتی چاروں اور گونجی تھی۔

Continue,,,,,,,,,