Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

وہ ابراہیم ہاؤس آیا تھا اور حسب توقع وہ اس شاکنگ میکسی میں جھنجھلائی سی صوفے پر بیٹھی تھی۔ بلکہ اس کی ہدایت پر سونیا نے کچھ اور اس کی نوک پلک سنوار دی تھی۔ جس سے اس کا حسن دو آتشہ ہو چکا تھا۔
وہ مسکراتا روم میں آیا۔

لیٹس گو ڈئیر وائفی، جبران نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔اس نے پہلو بدلہ۔
کدھر؟ مِفرا اب اس کی گہری نگاہوں سے خائف ہونے لگی تھی۔
سرپرائز ہے، وہ لاپروائی سے بولا۔
مگر مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا، وہ اس پر رتی برابر بھی بھروسہ نہیں کر پا رہی تھی۔
مگر میں تو لے جاؤں گا، چاہے اٹھا کر ہی کیوں نا لے جانا پڑے، وہ اطمینان سے بولا، مفرا کو غش پڑ گیا۔
میں آپ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی، اب وہ بھی لہجہ پرسکون کرتی بولی تھی ۔مگر اگلے ہی پل اس کا یہ سکون بھک سے اڑا تھا جب جبران نے اس کے بہت قریب آ کر اچانک جھک کر جھٹکے سے اسے بازوؤں میں بھر لیا۔

ی،،،یہ،، کک، کیا،، کر،، رہے،، ہیں آپ،، چھوڑیں مجھے،،میں خود چلتی ہوں،، وہ مچلی۔
میں اپنی وائف کو یہ بتا رہا ہوں کہ میں خالی دھمکی نہیں دے رہا تھا۔
اوکے ٹھیک ہے ناں،، مجھے پتہ چل گیا اب نیچے اتاریں، میں خود چلوں گی، وہ روہانسی ہوئی مگر بندہ تھوڑا شریف ہونے کے ساتھ ڈھیٹ بھی واقع ہوا تھا تبھی اسے لیے باہر آیا۔لا کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا تھا۔
اور مسکرا کر اس کا پھولا منہ ملاحظہ کیا۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی۔ایک نظر پھر اپنے پہلو میں دوڑائی۔

جانے کیسے مگر ساتھ بیٹھی لڑکی خون بن کر رگوں میں کب دوڑنے لگی اسے تو پتہ ہی ناں چلا۔ لاکھ جھٹپٹایا، اپنے احساسات سے انکاری ہوا مگر دل تھا کہ محبت کے آگے جھک چکا تھا سر تسلیم خم کر چکا تھا۔ تبھی اسے اپنا بنا کر ہی سانس لیا تھا۔
گاڑی جس گھر کے آگے کھڑی ہوئی تھی اب مفرا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔

سب بھول جاؤ، اور اپنے بھائی کا سوچو، جو اب دنیا میں واحد خونی رشتہ ہے تمھارا، تمھارے پیرینٹس کی جگہ پر ہے. تمھارا بھائی تمھیں پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا رہا ہے اس دوران،
جبران نے اسے سمجھاتے ان بہن بھائیوں کا پیچ اپ کرانے کے لئے اینڈ میں جھوٹ بولا۔
گاڑی کی آواز سن کر سعد بھی باہر نکل آیا تھا۔جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور مِفرا کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا۔

کہاں چلی گئیں تھیں میری گڑیا، تمھیں پتہ ہے یہ تمھارا بھائی تمھارے لئے کس قدر پریشان رہا ہے۔میں روز وہاں تم سے ملنے آتا رہا مگر مجھے یہ کہہ کر ملنے نہیں دیا جاتا تھا کہ تمھاری طبیعت مجھے دیکھ کر اور بگڑ جائے گی۔سعد رو رہا تھا اور اس کے یہی آنسو ساری ناراضگی دھو گئے تھے۔ وہ بھی رو دی تھی۔
نرما اس کے پیچھے ہی کھڑی بہن بھائی کا یہ میلو ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔
مفرا کا سجا سنورا خوبصورتی کی اعلی مثال لیے ہوئے روپ وہ بغور دیکھ رہی تھی ۔مگر دن کے مقابلہ میں اب اس کے چہرے پر کافی سکون تھا۔ یعنی وہ اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی نئے سرے سے سازشیں رچانے کے لئے۔

ارے ہٹیں بھی، مجھے تو ملنے دیں اس سے، کیسی ہو مِفرا، وہ سعد کو پیچھے ہٹاتی اس کی جانب بڑھی۔
مفرا کا حلق کڑوا ہوا۔
مگر اس کی یہ مشکل بھی جبران نے حل کی، فورا مفرا کی کمر کے گرد بازو حمائل کیا تھا۔

چلیں ناں بھائی اندر بہت بھوک لگی ہے اور سچ میں تو بہت اکسائیٹڈ ہوں، بھابھی کے ہاتھ کا کھانا کھانے کے لئے،
وہ اسے لئے سعد کے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
نرما شعلے برساتی آنکھوں کے ساتھ انھیں گھورے گئی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رات کا گہرا اندھیرا چاروں اور پھیل چکا تھا۔ اور یہی اندھیر اس کی دنیا میں بھی مچ چکا تھا۔
رواحہ جو گاڑی میں بیٹھی اپنی قسمت پر بلک بلک کر رو رہی تھی۔اور سخت مزاحمت کر رہی تھی۔اگر رستم کی کمزوری نا ہوتی تو اب تک تو ٹونی اسے ادھیڑ کر رکھ دیتا۔
انجان سنسان رستے تھے۔وہ کس کو مدد کے لئے پکارتی۔
کہ تبھی ٹونی نے لیپ ٹاپ جس میں رستم کی ویڈیو کال آ رہی تھی آن کر کے اس کے سامنے کیا تو اس کا چہرہ خوف سے سفید پڑتا گیا۔

چندہ میری جان،، واہ، واہ،، واہ،،، تمھاری ہمت کی تو داد دینی پڑے گی ویسے مجھے،، تمھیں کیا لگا مجھ سے جان چھوٹ گئی تمھاری،، بولو،،بولتی کیوں نہیں،، وہ دھاڑا۔۔
نن. ،،،نہیں،،، نہیں،، آنسوؤں کا پھندا اور سانس گلے میں اٹک گئی تھی ۔۔کیسے بولتی۔

تیری بہن کا خاندان اسی لیے تیری آنکھوں کے سامنے ختم کیا کہ پھر تو دنیا پر کسی سے سہارا لیتی ہزار بار سوچے،،اور آج تیری وجہ سے وہ ہیجڑا اپنی جان سے گیا،،، ان کا انجام بھول گئی کیا، جو نیا یار بنا لیا تو نے،، بتا وہ کون ہے؟ کہیں اس جلاد کو تو نہیں یار بنا لیا،، تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ اسے کتنی بری موت دوں گا ،،تیری آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کاٹ کر پھینک دوں گا۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھیں لیے بس نفی میں سر ہلائے گئی ۔۔
تجھے پتہ ہے چندہ بائی تیرے لئے دنیا پر ایک ہی مرد ہے اور وہ میں ہوں، سمجھیں کہ نہیں،،
وہ چلایا،، رواحہ نے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔۔

امید کرتا ہوں جیسی گئی تھی ویسی ہی میرے پاس آؤ تم، نہیں تو اس کے تو ٹکڑے کر کے پھینکوں گا تجھے بھی تیزاب میں نہلا دوں گا۔ اب بول اپنے منہ سے بول کہ تو صرف رستم کی ہے،، ایک طوائف،، میری رکھیل بنے گی تو،، ساری زندگی کے لئے،، بول،،،
رستم کا بس نہیں چل رہا تھا اسکرین سے نکل کر اس کا گلا دبوچ لے،
مم،،، میں،، ص،، صرف،،، رر،، رستم،، ک،،، کی،، ہوں،،،
وہ چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی جب کہ یہ سن کر رستم کے چہرے پر خباثت بھری ہنسی چھائی۔

اتنی بےبسی،، اس قدر زلت،، اس نے ہزار بار کی سوچی ہوئی بات اب سوچی کہ کاش وہ پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتی یا کم از کم اتنی زلت بھری زندگی سے بہتر ہے اب مر جائے۔۔

تبھی اچانک گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔کیونکہ اگلی گاڑی بھی بیچ سڑک رک چکی تھی،، ٹونی کو کچھ غیر معمولی محسوس ہوا۔ تو گاڑی سے باہر آیا۔
مگر سامنے ہی ایک بڑی گاڑی بیچ سڑک کے کھڑی تھی اور اس سے ٹیک لگائے چار لمبے چوڑے آدمی جن کے چہرے رومال سے بندھے تھے۔

خاص بات یہ تھی کہ ان میں سے ایک سبز آنکھوں والے شخص کی آنکھوں سے جو شعلے نکل رہے تھے اس نے ان گاڑی سے نکلنے والے رستم کے سب کتوں میں گھبراہٹ پیدا کر دی تھی۔ ٹونی نے پسٹل تان کر فائر کرنا چاہا۔ جب اس کی کلائی کی دھچیاں اڑ گئیں تھیں۔

جو جو فائر کرنا چاہ رہا تھا ان کی کلائیوں کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا تھا جبکہ وہ چاروں اب بھی اطمینان سے سامنے کھڑے تھے۔
پھر ان میں سے کافی سارے غنڈے ان چاروں کی جانب لپکے۔ نہیں جانتے تھے اپنی موت کو آواز دینے جا رہے ہیں ۔
پھر حسبِ معمول اپنے کٹے پھٹے اعضاء لیے سڑک پر پڑے تھے۔
ماہ بیر نے ٹونی کے ماتھے پر اپنی گن تانی جب،،
مجھے یہ زندہ چاہیے، گرین مونسٹر دھاڑا،
ماہ بیر اسے گھسیٹتا وہاں سے لے جا چکا تھا۔ راستہ کلئیر تھا۔ان کے بندوں نے سڑک بھی کلیئر کرنی شروع کر دی تھی۔

جب گرین مونسٹر گاڑی تک آیا۔ دھاڑ سے ڈور اوپن کیا،، وہ اچھل کر دوسرے دروازے سے سہم کر لگی تھی۔
رواحہ باہر آؤ،، وہ اپنا لہجہ حتی الامکان نرم کرتا بولا۔مگر گرین مونسٹر کا غصہ آؤٹ آف کنٹرول ہی ہو رہا تھا تبھی سڑک پر خون کی ندیاں بہا دیں تھیں اس نے ۔
کیونکہ وہ تو چہرہ چھپائے دبک کر بیٹھی تھی اسی لئے دیکھ ہی نہیں پائی تھی کہ کیا کیا ہوا یہاں۔
نن،، نہیں،، نہیں،، مم، مجھے، واپس جانا،، ہے،، نہیں آنا، باہر،، وہ،، مم،، مار،، دے گا،، سب، کو،،
بہت کھو چکی تھی اپنوں کو،،بہت سہہ چکی تھی، اب اس کی وجہ سے اس کی زندگی اس کی محبت کو ایک کھروچ بھی آتی، یہ کیسے گوارا کرتی، اپنی ذات کا روند دیا جانا گوارا تھا مگر اپنی آنکھوں کے سامنے اسے ایک آنچ بھی آتی تو کیسے سہے گی۔بس اسی سوچ نے جسم سے جیسے روح کھینچ لی تھی۔

اس کے منہ سے یہ گوہر افشانیاں سن اب تو اس گرین مونسٹر کا دل کر رہا تھا وہاں موجود ہر چیز کو جلا کر بھسم کر دے۔
روح،، باہر آؤ میں نے کہا، کوئی کچھ نہیں کرے گا،، وہ دانت پیس کر بولا،
نن،، نہیں،، مم،، منی،، بھی،،، مر،، گئی،، وہ،،، آپ،، کو،، بھی،، نن،، نہیں،، توڑ توڑ کر جملے ادا کرتی وہ سفید پڑ چکی تھی آنسو روانی سے بہہ رہے تھے۔
کچھ نہیں ہوا ہے منی کو ،،ٹھیک ہے وہ بلکل،، اب باہر آؤ۔ سوہم نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
نن،، نہیں،، جج،، جھوٹ،،، منی،، کو،، مار،، دیا،، مم، مجھے،،نن،، نہیں آنا،،،
اب سوہم کی بس ہو چکی تھی۔ اپنے ہر لفظ کے ساتھ وہ پاگل لڑکی اس کی روح تک کو گھائل کیے دے رہی تھی۔
وہ جو نہیں چاہتا تھا اس سے زور زبردستی کرے مگر وہ اسے مبجور کر چکی ہو۔ اس کا دماغ گھما چکی تھی۔ اس گاڑی میں بیٹھی یہ سب کہتی وہ اسے کانچ کی طرح چبھ رہی تھی۔
تبھی وہ تن فن کرتا دوسری جانب آیا تھا جھٹکے سے دروازہ کھولا اور اسے بازو سے دبوچ کر باہر نکالا تھا۔
مگر وہ اور زیادہ پینِک ہوئی تھی۔
تبھی اس کا گریبان پکڑ کر چلائی تھی۔

سمجھ نہیں آ رہی آپ کو، مجھے جانا ہے واپس ، نہیں رہنا یہاں، منحوس ہوں میں،، جہاں جاتی ہوں وہاں بس موت آتی ہے، وہ مار دے گا سب کو،، آ،،،، اپ،،، کک،، کو،، بھی،، جانے دیں مجھے،،
روح،، سٹاپ دس نان سینس، اب اگر ایک لفظ اور منہ سے نکالا تو بہت برا پیش آؤں گا،
تنے اعصاب، لال انگارا آنکھیں اور چہرہ لیے وہ اسے بازوؤں سے جھنجھوڑتا دھاڑا۔
مگر اس کے رونے میں اضافہ ہی ہوا تھا۔ اس کے دل و دماغ پر اس بات کا گہرا اثر ہوا تھا تبھی وہ اتنی پینِک ہو رہی تھی۔اور اب جب اس نے بولنے سے منع کر دیا تو مزاحمت کرتی اپنے آپ کو چھڑواتی وہ زور زور سے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
آخری حربہ کے طور پر سوہم نے گردن سے پکڑ کر ایک مخصوص نس دبائی تو وہ ہوش و خرد سے بیگانہ اس کے سینے سے آ لگی تھی۔اسی دوران گاڑی میں پڑے لیپ ٹاپ پر ویڈیو کال بلنک کرنے لگی۔
گرین مونسٹر نے اسے سینے سے لگائے اطمینان سے اب لیپ ٹاپ نکال کر گاڑی کے بونٹ پر رکھا تھا ۔اپنے چہرہ رومال سے ڈھانپا رواحہ کو بازوؤں میں اٹھا کر اب اس کا چہرہ اپنی گردن میں دیا تھا۔
اور ویڈیو کال یس کی۔
لے جائیں گے،، لے جائیں گے دل والے دلہنیا لے جائیں گے،
آس پاس کوئی نہیں تھا ،رات کے گہرے سناٹے میں ایک دل جلانے والی انتہائی خوبصورت بھاری سرسراتی آواز چاروں اور گونجی تھی۔

گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں جو منظر رستم نے اسکرین پر دیکھا مزید جو بھسم کرتی آواز سنائی دی وہ اسے جلتے کوئلوں پر گھسیٹنے کو کافی تھی۔ جبکہ ان سبز آنکھوں سے نکلتے شعلے دیکھ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ ہوئی تھی۔

اے جلاد،، نیچے اتارو اسے نہیں تو میں، ،،
شٹ اپ،، صرف بھونکنے والے کتے،، میں تو بول کر آیا تھا کہ مرد کے بچے ہو تو لے جانا اسے، مگر تم تو ادھر ہی بیٹھے بھونک رہے ہو۔ خیر اب دوبارہ بول رہا ہوں ایک ہی مرد کے بچے ہو تو آؤ اور لے جاؤ۔
اے تم جانتے نہیں کس سے الجھ رہے ہو، تم ،،
جانتا ہوں، تبھی تمھاری بزدلی پر یقین ہے، اچھا ٹھیک ہے نکاح میں انوائٹ کر رہا ہوں ضرور آنا اور بہن کو دعاؤں تلے رخصت کرنا میرے ساتھ۔۔
کیا بکواس،،،
اس سے پہلے کو وہ اور منہ سے جھاگ اڑاتا سوہم نے لیپ ٹاپ پر فائر کیا تھا۔
اور اطمینان سے اسے لئے اپنی گاڑی تک آیا۔اسے گاڑی میں لٹا کر خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھا اور زن سے گاڑی بھگائی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آریان نے سوہم اور کبیر سے پاکستان آنے کی پرمیشن لی تھی اور فون پر اپنے ڈیڈ پاشا سے کو بھی کنوینس کر ہی لیا تھا کہ وہ پاکستان آ رہا ہے اسی لئے اس کی ضد کے آگے وہ سب ہار گئے تھے۔
تبھی آج کی فلائیٹ سے وہ پاکستان پہنچا تھا۔
راستے بھر وہ اپنی اگلی زندگی کے بارے میں سوچے گیا۔ وہ بلکل اپنے بھائی ماہر سوہم خان جیسا بننا چاہتا تھا شروع دن سے۔ وہ اس کے رول ماڈل تھا۔گھر پہنچ چکا تھا دور سے ہی پرشکوہ سی عمارت بہت مسٹیریس لگتی تھی۔

آریان بہت اکسائیٹڈ سا وائٹ پیلس کا طویل ترین لان عبور کر اب لاؤنج میں داخل ہی ہوا تھا۔جب ایک نسوانی غراہٹ سنائی دی۔

ہیے یو، کہاں منہ اٹھائے چلے آ رہے ہو؟ کس کی پرمیشن سے؟ شکل سے تو کوئی چور ڈاکو نہیں لگتے، مگر کرتوت بلکل ایسے ہی ہیں، یوں کسی کے گھر میں بغیر پرمیشن بغیر ناک کیے گھستے ہیں؟ نہیں مطلب یہ گھر ہے کہ باوا جی کا باڑا،، چلو اپنا آئیڈینٹٹی کارڈ چیک کرواؤ ابھی کے ابھی۔

وہ جو کوئی بھی تھی اس وقت مکمل پولیس یونیفارم میں اس بالکل سامنے تن کر کھڑی اس پر رعب جھاڑتی اسے زہر ہی لگی۔ اس نے بولنے کی تو زحمت گوارا نہیں کی۔
ہاں مگر کمر پر بندھے ہاتھ کی انگلیوں نے کف لنک سے اپنا اسکیلپیل ضرور نکال لیا تھا۔

اور میڈم آپ کی تعریف،آپ دوسروں کے گھر میں بوا خیرن بنی کیوں گھوم رہی ہیں؟ آریان کے سرسراتے لہجے میں شفا نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں سکیڑ کر اس لمبے چوڑے شخص کو دیکھا۔
جو اپنے بارے میں بتانے کی بجائے الٹا اسی سے سوال پوچھ رہا تھا۔ اس کے انداز نے شفا کو آگ لگائی یعنی اس قدر خوبصورت لڑکی اسے اندھے باجے کو بوا خیرن لگ رہی تھی۔

پہلے تم بتاؤ، ویسے شکل سے تو جھینگا لا لا ہو کرنے والے لگ رہے ہو کہیں سیدھا ساؤتھ افریقہ سے تو نہیں آئے، اس نے حساب بے باک کرنا چاہا۔

اور تم سیدھا انڈونیشیا سے تو نہیں آئیں کیونکہ بلکل مریل فاقے زدہ چھپلکی لگ رہی ہو۔
آریان بھی آپ سے تم پر آیا اور اس کے دبلے پن پر چوٹ کی بجائے چھری چلاتا بولا۔
واٹ یو، چلغوزے تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے فاقے زدہ چھپکلی کہنے کی۔ شفا نے اس کے بازو پہ انگلی رکھ کر غصے سے بل کھاتے کہا۔
اینڈ یو کالی توری تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ٹچ کرنے کی۔وہ برابر اس کی گال پر انگلی رکھتے بولا۔

ہاں،، تم نے شفا کامران حسن کو ٹچ کا یو میں تمھارا منہ نوچ لوں گی وائٹ چلغوزے، شفا غصے سے پھنکارتی اس کی جانب لپکی۔جب
آریان،،، میرا بچہ، رحاب بھاگ کر اس کے کشادہ سینے سے لگی تھی۔
شفا خجل سی ہوئی۔ اب یہاں سے کھسکنے میں ہی بھلائی تھی۔وہ جو کالج کے کسی فنکشن میں پولیس آفیسر کا رول کر کے سیدھا ادھر چلی آئی تھی ان کا دماغ کھانے اب خودبخود قدم پیچھے ہٹے تھے۔
یہ تم دونوں کیوں جھگڑ رہے تھے، پاشا نے لاؤنج میں داخل ہو کر آبرو اچکا کر پوچھا۔
آریان ان کے سینے سے لگا۔ اب دونوں کیا بولتے کیوں جھگڑے تھے اور اب تک ایک دوسرے کو کون کون سے خطاب سے نوازتے تعریفوں کے پل باندھ چکے تھے۔

آریان لاپرواہی سے ان سے مل کر ریشماں کے کمرے کی جانب چل دیا۔جبکہ وہ بھی بہانہ بنا کر وہاں سے کھسک آئی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

فجر ریشماں سے پوچھ کر بہت چھپ چھپا کر خفیہ طریقے سے وائٹ پیلس سے نکلی تھی۔
مگر شاید بھول گئی تھی کہ وہ ماہ بیر راسم حفیظ کی بیوی ہے جس کی حفاظت کے لئے پل پل اس پر نظر تھی ماہ بیر کی۔
تبھی جب وہ اپنے آفس میں بیٹھا کسی بہت ضروری فائل پر جھکا ہوا تھا۔ اس کا فون رنگ ہوا تھا۔
یس، فون کان سے لگائے وہ مصروف سا بولا۔ دوسری طرف سے وسیع کی آواز نے اسے چونکایا۔
سر آپ کو یاد ہے آج کیا ڈیٹ ہے ؟ سمیع کی بات نے اس کی رگیں پھلا دیں تھیں۔آنکھوں میں خون اترا۔

واٹ دا ہیل وسیع ہاؤ ڈیر یو،، تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یاد دلانے کی؟
وہ دھاڑا تھا۔ سر وہ اس لئے کہ میم حویلی گئی ہیں ۔
واٹ وہ دھاڑا، کس کی پرمیشن سے اور تم نے روکا کیوں نہیں،
سر آئی تھنک وہ وائٹ پیلس میں کسی کی پرمیشن سے گئی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ گارڈز اور ڈرائیور بھی تھے۔

ماہ بیر نے غصے سے پاگل ہوتے موبائل دیوار میں دے مارا تھا اب جبکہ اسے یہ تدارک ہو چکا تھا کہ وہ اس کی زندگی کا حصہ ہے اور نہیں رہ سکتا اس کے بغیر ،، اب جبکہ ان میں سب ٹھیک ہونے لگا تھا تو ایک مرتبہ پھر فجر ماہ بیر اس کی روح کو کچوکے لگا گئی تھی۔
فجر نے پھر اسے وہاں تکلیف دی تھی جہاں اسے لگی بھی تھی۔ اور محسوس بھی ہوئی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓