No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
ایشان نے سوہم کے جانے کے بعد اٹھ کر نرمی سے اسے کھولا تھا۔اور اس کے منہ سے ٹیپ اتاری۔
ایش،، یو نو واٹ یہ گندے والے انکل تھے، انھوں نے آپو کو بھی کڈنیپ کر لیا اور روشے بےبی کو بھی،، اب روشے بےبی کیا کرے گی ایش، وہ شاید علیزے کی وجہ سے یا یہ سب سمجھ نہیں پائی تھی تبھی خوف سے اس کے سینے میں منہ دئیے سسک پڑی۔۔
او نو، نو، کڈنیپ تھوڑی کیا تھا وہ تو وہ اچھے والے انکل روشے بےبی سے گیم کھیل رہے تھے ہائیڈ اینڈ سیک والی۔روشے بےبی کو آپو سے ہائیڈ کیا ہے اب آپو ڈھونڈے گی اور روشے بےبی ملے گی ہی نہیں تو آپو ہار جائے گی کیونکہ ایش اب روشے بےبی کو اپنے پاس چھپا لے گا۔
ایشان نے تفصیل سے سمجھایا مگر وہ اب بھی سختی سے اس کے سینے سے لگی سوں سوں کرنے میں مصروف تھی۔
ایش مجھے آپو کے پاس جانا ہے۔ وہ مچلی۔
کیوں روشے بےبی نے گیم نے کھیلنی، ایش کے موبائل فون میں، اور ایش روشے بےبی کے لئے ڈھیر سارے ٹوائز ، ڈول ہاؤس چاکلیٹس اور آئسکریم لایا ہے وہ سب کون لے گا۔
وہ اسے خود میں سیمٹے سکون سے آنکھیں موندے بیٹھا محسوس کیے گیا۔
سچ،،، اس کی آنکھیں چمکیں۔بٹ آپو،
وہ جاب پر ہیں نا تو آ جائے گی، آؤ میں روشے بےبی کو اس کا ڈول ہاؤس دکھاؤں۔
وہ اس کا ہاتھ تھامے کمرے سے ملحقہ کمرے میں آیا جہاں فی الوقت روشے بےبی کے لئے ٹوائز اور ڈول ہاؤس موجود تھا۔
وہ جنھیں دیکھ خوشی سے کلیپنگ کرتے اچھل پڑی
او یس،، وہ سب سے پہلے اس بڑے سے ڈول ہاؤس کے پاس گئی تھی جس میں ایک باربی ڈول اور اس کا گڈا موجود تھا۔
وہ کافی دیر ادھر کھیلتی رہی پھر ایشان نے اسے چاکلیٹ کھلائی۔
کافی رات ہو گئی مگر روشے بےبی ایسی اکسائیٹڈ ہوئی کہ کسی اور چیز کا ہوش ہی نہیں رہا۔
اسی لئے ایشان نے وہیں کھانا منگوا کر اسے کھلایا ۔اور میڈیسن دیں۔
آروشے بس کرو اب،، ناؤ کم ٹو سلیپ، وہ ہنوز کھیلنے میں ہی مصروف رہی تو ایشان نے ٹوک دیا مگر۔
نو، نو ایش، ابھی نہیں، وہ مچل گئی۔
ایشان کے فون پر کال آئی تو وہ سننے ٹیرس پر چلا گیا۔ پانچ منٹ بعد واپس آیا تو ہنسی چھوٹ گئی، وہ کارٹون سی لڑکی وہیں کارپٹ پر نیند سے بے حال ہوئی تھکن سے چور سو چکی تھی۔
آگے بڑھا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر اپنے پہلو میں لٹا کر کمفرٹر درست کیا۔
اب وہ اس کے قریب نیم دراز ہوا تھا۔ معصوم چہرے کو دیکھے گیا۔جھک کر عقیدت سے ایک ایک نقش چوما۔اس کے پرتپش لمس کا اعجاز، تھا کہ وہ کسمسا کر اپنی آنکھیں نیم وا کر اسے دیکھنے لگی اور سمجھنے لگی کہ اس کے پاس کون ہے۔
ایش،، کہتی وہ اسے ٹائیٹلی ہگ کرتی اس کی گردن میں منہ دے گئی تھی۔ شاید کہنا چاہتی تھی ڈونٹ ڈسٹرب می،
لیکن،
وہ خود تو سو گئی تھی مگر ایشان کی جان لبوں پر لے آئی تھی۔کیونکہ اس کی پیشانی عرق آلود ہوئی تھی۔ایشان نے بھی نرمی سے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے تھے۔
یو نو واٹ روشے بےبی، جانتی ہو سب حقوق رکھتا ہوں،اور چاہوں تو حاصل کر سکتا ہوں، مگر یہ میری تمھارے لیے بے تحاشا محبت اور کئیر ہے کہ جانتا ہوں، ابھی نا تم اس رشتے کو سمجھ پاؤ گی، نا تمھارا دماغ یہ سب تسلیم کر پائے گا، اور نا ابھی تم میں اتنی ہمت ہے کے ایشان کبیر ابراہیم کی شدتیں برداشت کر سکو۔
وہ سرگوشیوں میں اسے اپنے دل کی باتیں بتاتا تکیے پر سیدھا کر چکا تھا۔
آہستگی سے جھکا اور اس کے ہونٹوں کی نرماہٹ کو زرا سا محسوس کر کے پیچھے ہٹا اور مسکرا کر سکون سے آنکھیں موند لیں۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
بلیک پینٹ کے اوپر کیمل کلر کی شرٹ پہنے بلیک جیکٹ میں سن گلاسز لگائے کافی دیر سے وہ لمبا چوڑا بھرپور مردانہ وجاہت کا شہکار بے تحاشا ہینڈسم اور ڈیشنگ سرخ وسفید شخص ایک گھر کے باہر ایک فائل تھامے کھڑا بیل دے رہا تھا۔
پیچھے ہی بلیک بی ایم ڈبلیو کھڑی تھی۔ اور لوگ اسے دیکھنے گھروں سے باہر جھانک رہے تھے۔
جے کے کو معلوم تھا اس وقت گھر میں سالے صاحب یعنی مِفرا کا بھائی سعد شفیق موجود ہوگا۔
ارے کہا ہے بھئی، دروازے ہی اکھیڑ کر ساتھ لے جاؤ،، اب کیا بیل کی جان لو،،،،،،،،،،،،،،،
تیسری بیل پر دروازہ کھلا تھا اور آنے والی نان سٹاپ بولتی جا رہی تھی۔مگر اسے دیکھ کر زبان کو بریک بھی لگا تھا۔ بےحد تحیر سے سر تا پا جے کے کو دیکھا تھا۔اور اس کے ہاتھ میں پکڑی اس سرخ فائل کو،،
کون ہیں آپ؟ اور کس سے ملنا ہے آپ کو؟ نرما نے اب سامنے والے کی پرسنیلٹی اور اسٹیٹس سے مرعوب ہوتے ہوئے اپنا لہجہ بے حد مہذب کیا تھا۔
مجھے سعد شفیق سے ملنا ہیں ،یہیں رہتے ہیں کیا؟وہ سن گلاسز اتارتا اب اپنی براؤن آنکھوں کی نمائش کرتا بولا تھا۔
جی بلکل یہی گھر ہے، مگر آپ کون میں نے آپ کو پہچانا نہیں، نرما نے پرشوق سے لہجے میں پوچھا۔
ایکچوئلی میں ان کا ریلٹو ہوں، آپ نہیں جانتی ہیں، پلیز کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟
جے کے کے اندر جو اس ناگن کو دیکھتے ہی اس کا سر کچلنے کا دل کیا مگر اس اشتعال کو اندر دباتے اپنا لہجہ حتی الامکان نارمل رکھا۔ کیونکہ جو سزا جےکے کی عدالت نے اس پاگل عورت کے لئے طے کی تھی۔ اس کے سامنے تو یہ اشتعال کچھ بھی نہیں تھا۔
اس کی معیت میں وہ چھوٹے سے ڈرائینگ روم میں داخل ہوا تھا۔سعد نہا رہے ہیں، کچھ دیر تک آتے ہیں، آپ کیا لے گیں؟
کافی پلیز، جبران نے اس کی منحوس شکل کو گم کرنے کو کہا تو وہ مجبوراً وہاں سے چلی گئی۔
کچھ ہی دیر میں ڈرائنگ روم میں سعد آیا تھا۔نرما نے تو کہا تھا کہ اس کا کوئی رشتہ دار ہے مگر وہ ایک اجنبی کو اپنے گھر میں دیکھ حیران ہوا۔
سعد نے آ کر جبران سے مصافحہ کیا۔
سوری،، میں نے آپ کو پہچانا نہیں ،،
ایکچوئلی آپ مجھے نہیں جانتے، مگر میں آپ کو جانتا ہوں، جبران نے اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کر سعد کو دیا۔میں ڈاکٹر جبران کبیر ابراہیم ہوں، اور مِفرا میری پیشنٹ تھی۔
سعد نے الجھی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ اور لفظ تھی پر اٹک گیا۔
اتنے میں نرما ٹرالی گھسیٹتی اندر داخل ہوئی تھی۔
ایکچوئلی جب مِفرا اس گھر سے گئی تھی تو اس کی مینٹلی ہیلتھ کچھ ہی خراب تھی۔یہ یہاں سے جانے کے بعد اس کی پہلی رپورٹ،
مِفرا کے نام پر نرما کو سانپ سونگھ گیا تھا جبکہ سعد اب دلچسپی سے وہ رپورٹ دیکھنے لگا۔اور توجہ سے اس کی بات سننے لگا۔
اسے جس مینٹل ہوسپیٹل لے جایا گیا تھا۔ وہ بدنام ترین مینٹل ہوسپیٹل تھا۔جس میں مفرا کو جان بوجھ کر مزید پاگل ہونے کی میڈیسنز دی جا رہی تھیں۔ یہ وہ رپورٹس ہیں؟ اور پھر وہاں سے اسے لاہور میں کسی ریڈ لائٹ ایریا میں بھی بیچنے کی کوشش کی گئی،
وہ اب اطمینان سے بتاتا سن گلاسز کے پیچھے سے نرما کا دھواں دھواں ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
لیکن ہم آپ کی ان باتوں کو کیسے سچ مان لیں ڈاکٹر؟ وہ اب دانت پیس کر بولی تھی۔
جبران اب اس کی حالت سے حظ اٹھاتا گہرا مسکرایا تھا۔
اس یو ایس بی ڈرائیو میں اس بیڈ کی ویڈیو ود آڈیو ہے جس میں یہ سب ریکارڈنگ موجود ہے۔ جےکے نے وہ ڈرائیو ٹیبل پر رکھی۔
اب نرما کا چہرہ خوف سے نیلا پڑا تھا۔کیونکہ یقینا اس قیمتی گفتگو میں کہیں نا کہیں اس کا نام بھی لیا گیا ہوگا۔
(نہیں ابھی نہیں، نرما ناگن) جبران نے دل میں اسے مخاطب کیا۔
مگر اپنی بہن کے متعلق ایسی گندی گفتگو کوئی بھی بھائی نہیں سننا چاہے گا۔ بہر حال وہ ہوسپیٹل سیل ہو چکا ہے، اور مفرا ہمارے ہوسپیٹل میں علاج کے لئے آئی۔ اس فائل میں اس کی اب تک کی سب رپورٹس ہیں اور آپ دونوں کو یہ جان کر بے تحاشا خوشی ہوگی کے کہ وہ مکمل صحت یاب ہو چکی ہے۔
جبران نے ان کے سر پر بم پھوڑا۔ سعد تو خوشی سے نہال ہو گیا جبکہ نرما کا چہرہ دیکھنے لائق تھا۔
بلکہ آپ لوگوں کو ایک اور خوشخبری بھی سنانی ہے،، وہ سر خوشی سے بولا جبکہ نرما نے اب اسے خونخوار نظروں سے دیکھا کہ یقینا وہ اگلی خوشخبری بھی اسی نوعیت کی سنانے والا ہو گا جس سے نرما کے پیروں نیچے سے آہستہ آہستہ زمین کھسک جائے۔۔
وہ یہ کہ جب وہ ہوسپیٹل آئی تو شروع دن سے مجھے اس کی معصومیت نے اٹریکٹ کیا۔اور مجھے اس سے شدید قسم کی محبت ہوگئی،ہم اسے بے یارومددگار سمجھتے رہے،، ہماری ایک سنئیر ڈاکٹر جنت نے آج ہی ہمارا نکاح کروایا ہے ،یہ ہمارے نکاح کے پیپر،
(اب سہی معنوں میں نرما کے اوپر جیسے کسی نے تیل ڈال کر آگ لگائی تھی)
کیونکہ پولیس نے آج ہی اس دوسرے ہوسپیٹل کا ریکارڈ ہمیں دیا پیشنٹس کے لواحقین کو ڈھونڈنے کے لئے تو مجھے مِفرا کی فائل میں سے ادھر کا ایڈریس ملا۔اسی لئے میں یہاں چلا آیا۔
اور یہ ہم کیسے مان لیں کہ تم بھی ایک ڈاکٹر ہو ؟کوئی بہروپیے بھی تو ہو سکتے ہو؟۔نرما نے دانت کچکچائے۔ اسے یہ کیسے گوارا ہو سکتا تھا کہ اس کی دشمن کے نصیب میں ایک ہارٹ سرجن امیر و کبیر ڈاکٹر لکھا جائے۔اس کا دل کیا اپنے بال نوچ لے۔
شٹ اپ نرما کیا بکواس کر رہے ہو سب سے پہلے ڈاکٹر نے آ کر اپنا آئیڈینٹٹی کارڈ اور وزیٹنگ کارڈ ہی دکھایا مجھے،اورجس ہوسپیٹل کا یہ کارڈ ہے وہ پاکستان کے بڑے ہوسپیٹل میں سے ایک ہے۔، سعد غرایا تو نرما کو چپ ہونا پڑا جبکہ جبران گہرا مسکرایا۔
سعد بھائی، آپ کراس چیک کروا سکتے ہیں اس فائل میں سب ڈیٹیلز ہیں، وہ مسکرا کر بولا۔اب سعد نے اسے کافی دی اور اسے کھانے کی چیزیں سرو کرنے لگا۔
ارے ہاں میں مین بات بتانا تو بھول ہی گیا آپ کو بھائی، کچھ دیر تک میں مفرا کو ادھر لا رہا ہوں، ہم کچھ دن آپ لوگوں کے پاس رہیں گے جب تک مِفرا کے پیپر نہیں بن جاتے،پھر میں اسے اپنے ساتھ امریکہ لے جانے والا ہوں، کیونکہ مفرا کے معاملے میں میں تو بھئی کسی پر بھروسہ نا کروں،بہت محبت کرتا ہوں اس سے ، اور میرے بنگلے میں وہ تن تنہا رہے آپ لوگوں کے ہوتے ہوئے،
کبھی نہیں، اور ویسے بھی وہ یہ کچھ دن اپنے میکے رہ لے گی بعد میں جانے کب چکر لگے۔
وہ اب نہایت اطمینان سے بیٹھا سعد سے باتیں کر رہا تھا۔ تاک تاک کر لفظوں کے خنجر کسی کے کلیجے میں گھونپے تھے۔
میں کیسے تمھارا شکریہ ادا کروں جبران، تم نے میری بہن کو بچا لیا۔جلدی سے لے آؤ اسے، اتنا میں شاندار سے ڈنر کا انتظام کرواتا ہوں ۔بس مجھے مِفرا سے ملنا ہے۔وہ بے چین ہوا۔
کیوں نہیں بھائی اور یقینا بھابھی اتنی ہی بے چینی سے انتظار کریں گی اس کا۔
جبران اب ہتک آمیز مسکان لیے کسی کے جلے پر نمک چھڑکنے میں مصروف تھا۔
نرما نے پکلو بدلا۔
وہ مسکراتا اٹھا، سعد گرمجوشی سے اس سے بغلگیر ہوا۔ تو وہ باہر نکلتا چلا گیا ۔
گاڑی میں بیٹھ کر ایک فاتحانہ مسکان لیے اس گھر پر ایک آخری نگاہ ڈالی۔ جس کی چھت والی کھڑکی پر اب وہ کھڑی اس کی گاڑی دیکھ رہی تھی۔
اونہہہہہ،، میں تو سمجھا تھا بہت مشکل ٹاسک ہو گا مگر تم تو بہت آسان ہدف نکلیں میڈم نرما،،
وہ دل میں کہتا زن سے گاڑی نکال لے گیا
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ جو دھمکی لگائی تھی اسے کہ کمرے سے مت نکلنا۔واقعی فجر کی ہمت نہیں ہوئی تھی کمرے سے باہر نکل کر اپنے کمرے میں جانے کی جس قدر وہ غصے سے آؤٹ آف کنٹرول ہوتا بول کر گیا تھا۔
مگر وہ نازک جان یہ بھی تو کہاں برداشت کر سکتی تھی کہ اب اسے اس سڑیل کے ساتھ رہنا پڑے گا۔
وہ تھکا ہارا آیا تھا روم میں، مگر روم میں اسے نا پا کر اس کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے۔جبڑے بھینچتا وہ فریش ہونے چلا گیا تھا۔
مگر جب ٹاول سے بال رگڑتا باہر آیا تو دیکھا وہ نماز پڑھنے میں مصروف ہے۔ ماہ بیر نے ایک گہری نگاہ اس پر ڈالی۔ بلیک ٹی شرٹ ٹراؤزر میں کسرتی سفید جسم مردانہ وجاہت کا شہکار وہ اب لیپ ٹاپ لیے بیڈ پر آن بیٹھا تھا۔
وہ نماز پڑھ کر اٹھی۔ اور صوفے پر جا بیٹھی۔
اب صوفہ صوفہ کھیلنا ہے میرے ساتھ، بیڈ پر آؤ، اس جنگلی کی دبی غراہٹ نے اس کی جان ہوا کی تھی۔مگر
میں آپ کے منہ نہیں لگنا چاہتی، کام کریں اپنا، وہ بیزاری سے بولی۔تو لیپ ٹاپ سے نگاہیں اٹھا کر اس نے تعجب سے اسے دیکھا جیسے یقین کرنا چاہتا ہو کہ واقعی یہ الفاظ اس نے میڈم فجر کے منہ سے سنیں ہیں۔۔
میڈم، دماغ درست جگہ پر ہی ہے ناں، ہل ول تو نہیں گیا۔ ماہ بیر نے آبرو اچکا کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا۔ میں نے کیا کہا سنا نہیں یا تم یہ چاہتی ہو کہ اٹھ کر خود بیڈ پر پٹخوں۔ وہ دھاڑا۔
تو فجر بوکھلا کر صوفے سے اٹھی تھی۔
آہہہہہہہہہہ،،،،مگر اٹھ کر کھڑے ہوتے ہی اپنے دوپٹے میں ہی الجھ کر زمین بوس ہوئی تھی۔ پاؤں بری طرح مڑا تھا۔
ماہ بیر تیزی سے اٹھا تھا۔
اففففففف اندھی ہو کیا ۔ اس کی جانب بڑھا۔
خبردار، آپ نے ہاتھ لگایا مجھے، میں خود ہی اٹھ جاؤں گی۔ اپنی جانب بڑھتے اس نے ماہ بیر کے ہاتھ جھٹکے تھے۔
تمھارے خبردار کی ایسی کی تیسی،،، ماہ بیر نے دانت پیستے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے جھٹکے سے اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا تھا۔
اب تکلیف سے آنسو تواتر سے بہے تھے۔ماہ بیر گھٹنے کے بل اس کے سامنے جھکا تھا۔اور پاؤں اٹھا کر اپنے گھٹنے پر رکھا۔
نہیں،،، نن،، نہیں،، مم،، مجھے درد ہو رہا ہے،، وہ تکلیف سے کراہی، اور پاؤں پیچھے کھینچنے کی کوشش کی،
جانتی ہو تمھاری فراک کی کمر پر سے زپ کھلی ہے ،اپنا ڈریس سنبھالنے کی بھی تمیز نہیں تمھیں، ابھی میں نے دیکھا اگر کوئی اور دیکھ لیتا تو، وہ غصے سے دھاڑا۔
کک،،، کب،،، نن،، نہیں،، تو،،،،، فجر کے ہاتھ بے اختیار اپنی کمر کی جانب گھومے تھے،
فجر کا دھیان ہٹا۔
ماہ بیر نے ایک جھٹکے سے پاؤں کا بل نکالا تھا۔ وہ چلا اٹھی۔ ماہ بیر نے دانتوں تلے لب دبایا۔ (ایڈیٹ، اسٹوپڈ گرل)
اٹھ کر اسے سیدھا کر کے بیڈ پر لٹایا۔
آ،،، آپ،،، ایک،،نن،نمبر،، کے،، جھوٹے،، اور، لوفر،، انسان ہیں، وہ سوں سوں کرتی اب دانت پیس کر بولی۔
وہ جو اس کے پاؤں پر اب موو کریم لگا کر گرم پٹی باندھ رہا تھا ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی۔
پٹی باندھ چکا تو یک دم اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے زپ کھولی تھی۔
کب جھوٹ بولا، اب دیکھو کھلی ہے، اس کے چہرے کے بہت قریب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہا گیا تھا۔جو اب ہکا بکا منہ کھولے اسے دیکھ بلکہ گھور رہی تھی۔
بب،، بہت،، بڑے،، چھچھورے، اور لوفر انسان ہیں آپ،، وہ اب بچون کی طرح کمفرٹر کو نوچ رہی تھی ایسے جیسے سامنے والے کا منہ نوچ رہی ہو۔
ماہ بیر کا چہرہ ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال سرخ ہوا تھا۔
تھینکس تعریف کے لئے،،، ڈھیٹ بنے ماہ بیر کو اسے جلا کر ،پٹا کر ،تپا کر بہت مزا آ رہا تھا۔
جب بی جان کے پاس تھی تو اس کے دور جانے سے جھنجھلاتی تھی اب اس کے قریب آنے سے پاگل ہو رہی تھی تو وہ کیوں موقع ہاتھ سے جانے دیتا اسے تپانے کا۔
وہ اطمینان سے اپنی سائیڈ آ کر آنکھیں موندے لیٹ گیا۔ وہ بھی دانت کچکچاتی دوسری جانب رخ کیے جھنجھلا کر لیٹ گئی۔
ماہ بیر نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور گہرا مسکرایا۔
زپ کھلی ہے تمھاری، اسے مزید چھیڑنے کو ہانک لگائی۔ اور اس میں سے کچھ اور بھی نظر آ رہا ہے،
وہ جھنجھنا کر سیدھی ہوئی تھی دل کیا پاس پڑے شخص کا منہ توڑ دے۔کمفرٹر سر تک تان لیا۔
آپ کو کیا تکلیف ہے، مائنڈ یور اون بزنس،، چپ چاپ سو جائیں،،
کمفرٹر میں سے بھوکی شیرنی کی غراہٹ پر وہ عش عش کر اٹھا۔
اور اب واقعی عافیت اسی میں جانی کہ چپ چاپ کروٹ بدل کر آنکھیں موند لیں۔ مگر لبوں پر شریر سی مسکراہٹ تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آزادی کیا ہوتی ہے، آزاد فضاوں میں سانس لینا کسے کہتے ہیں رواحہ کو اب پتا چلا تھا ۔کیونکہ وہ اپارٹمنٹ کے باہر سمندر کنارے پانی سے کھیلتی اب منی کے اوپر شرارت سے پانی گرا رہی تھی اور اس کی کھلکھلاہٹیں اپنے عروج پر تھیں۔
ان چار پانچ دنوں میں اس نے جیسے اپنی اٹھارہ سال کی زندگی جی لی تھی۔دو تین اور جگہوں پر بھی منی اسے لے جا چکی تھی اور آج انھوں نے شاپنگ کرنے بھی جانا تھا۔جس کے لئے وہ اور بھی زیادہ خوش تھی۔
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے لیے یہ سب وہ کر رہا ہے، اس دن کا وہ اس کے سامنے نہیں آیا تھا مگر وہ جانتی تھی کہ وہ اس دیکھا کرتا ہے۔
وہ اب بلیک روم کی بجائے منی کے ساتھ والے روم میں رہ رہی تھی۔ وہ لاؤنج اور کچن میں ہر جگہ آزادی سے گھومتی ،
بہت خوش تھی۔
مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ خوشی کتنے کم وقت تک کے لئے ہے اس کے پاس، ایک غموں کا طوفان آنے والا ہے جو اس سے سب چھین لے جائے گا۔ سب کچھ،
وہ سی ویو پر ایک دوسرے کے اوپر پانی اچھال رہی تھیں۔ جب دو گاڑیاں وہاں آ کر رکیں، اور ان میں سے ایک گاڑی میں سے رستم کے خاص وفادار کتے ٹونی کو نکلتے دیکھ رواحہ کا چہرہ خوف سے سفید پڑا تھا۔
وہ بہت جلد ان کے سر پر آن پینچے تھے۔
اور آتے ساتھ ہی اس نے منی پر فائر کیا تھا۔ ایک شعلہ سا اس کے پیٹ کے آر پار ہوا تھا۔
رواحہ کی دلدوز چیخیں سمندر کی لہروں سے ٹکرا کر واپس آئیں،
ٹونی نے اس گاڑی میں دھکیلا تھا۔
دونوں گاڑیاں زن سے وہاں سے نکلیں تھیں۔
رواحہ نے دھاڑیں مار مار کر روتے ایک آخری نظر منی کو مرتے دیکھا اور ایک الوداعی نگاہ اپارٹمنٹ پر ڈالی تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
