No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
جےکے مِفرا کو نرمی سے گاڑی میں لٹا رہا تھا جب،
سر، بات سنیں؟ پیچھے سے ایشان کے خاص وفادار آدمی بابو نے آواز دی۔
جے کے نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
یس، بولو کیا بات ہے بابو؟
سر وہ علیزے میڈم نے آپ کو انھیں مارتے دیکھا لیا ہے، ایش سر نے مجھے ان کا ڈرائیور رکھا ہے، میں ان کے پیچھے ہی کھڑا تھا اور یقینا یہ آپ کو ایشان سر سمجھ کر بے ہوش ہو گئی ہیں ،
واٹ ،،،،جےکے کےبسر پر بم پھوٹا۔ اور آج پہلی مرتبہ اسے اپنا رومال جلدی ریموو کرنے پر افسوس ہوا۔
واٹ دا،،،،،،، وہ جھنجھلایا، پہلے ہی ایش کی طبیعت اتنی خراب ہے اور اوپر سے یہ سب، یہ کر کیا رہی تھی یہاں؟ جے کے بڑبڑاتا علیزے کے پاس آیا۔
مگر بابو نے عافیت اسی میں جانی کے خاموش رہا، جے کے نے علیزے کو اٹھا کر گاڑی میں لٹایا۔ اور پیچھے مڑ کر سونیا کو اشارہ کیا تو وہ مفرا کو لیے گاڑی وہاں سے نکالتی چلی گئی۔
خود جبران علیزے کو گھر تک چھوڑنے آیا۔ راستے میں سوہم کو کال ملائی۔
جو کہ دوسری بیل پر رسیو کر لی گئی، ماہر سوہم خان جو ایشان کے سرہانے پریشان سا بیٹھا تھا فون رسیو کیا۔
یار بھائی ایک مسئلہ ہو گیا ہے، جےکے کی جھنجھلائی آواز فون میں سے ابھری۔
کوئی بات نہیں، یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں،، سورٹ آؤٹ ہو جائے گا،
ہو جائے گی علیزے کی غلط فہمی دور، اس وقت مجھے صرف ایشان کی پرواہ ہے، سوہم نے دو ٹوک الفا بولے تو جے کے سرد سی آہ بھرتے فون رکھا۔
اسے بلکل حیرت نہیں ہوئی تھی یہ جان کر کے سوہم کو اس کے بات کرنے سے پہلے سب پتا تھا۔
سوہم نے ایک نظر گہری نیند سوئے ایشان کو دیکھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
واشنگٹن میں وہ دونوں ایک جرنل سٹور میں شاپنگ کرنے آئے تھے۔آریان نے اس کا کب سے سر کھا رکھا تھا اور وہ برے برے منہ بناتا وہی چیزیں اٹھائے گیا جو آریان کی نظر میں فائدہ مند تھیں۔
اس نے آریان کو گھورا تو آریان نے دانتوں کی نمائش کی ،مجھے پہلے ہی پتہ تھا یہ خالص زنانہ کام دا گریٹ آریان پاشا ابراہیم ہی کر سکتا ہے۔ اس نے جل کر کہا تو آریان کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
او کم آن ڈیڈ،، اب آپ لوگ مردانہ کام تو کرنے نہیں دیتے تو زنانہ ہی کروں گا ناں، وہ معنی خیزی سے بولا۔
آگے سے سامنے والے نے گھور کر دیکھا۔۔
اتنے میں ہی سٹور میں بھگدڑ مچی تھی، دو تین جوکر کا ماسک لگائے لٹیرے سٹور میں گھس آئے تھے ،آج کل انھوں نے بڑا تنگ کیا ہوا تھا جو نا صرف لوٹ مار کرتے تھے بلکہ جو سامنے آتا اسے قتل بھی کر دیتے تھے۔ اب بھی انھوںنے دکاندار کے سر پر گن تان رکھی تھی اور اسے لاک کھولنے کا بول رہے تھے۔
آریان اور وہ جو آپس میں بحث کر رہے تھے اب اس جانب متوجہ ہوئے تھے۔ پہلے تو خاموشی سے برداشت کرتے رہے۔مگر جب انھوںنے نے مالک کو دھمکانے کے لئے ایک سیلز مین کو گولی مار دی
تب وہاں کھڑے ایک شخص نے اپنی سیکرٹ پاکٹ سے گن نکالی تھی ،اگلے ہی لمحے سائلینسر لگی پسٹل میں سے شعلہ سا نکلہ اور ان تین لٹیروں میں سے ایک کی شہہ رگ اور گلے کی دھچیاں اڑ گئیں تھیں۔
کیونکہ وہ سوہم خان تھا جس کا نشانہ آج بھی پہلے دن جیسا کمال کا تھا۔
مگر اسے حیرت تب ہوئی جب دوسری طرف سے آئی گئی دو گولیوں نے باقی تو لٹیروں کی شہ رگیں اڑائیں تھیں۔
سوہم نے پیچھے مڑ کر دیا تو وہ آریان تھا جس نے ہمیشہ سوہم کے سامنے دبو اور بزدل ہونے کی ایکٹنگ کی تھی۔
کیسا لگا ڈیڈ میرا نشانہ، اس نے ایک آنکھ ونک کی، فکر مت کریں آپ سے ہی سیکھا ہے شاہ رگیں اڑانا، وہ اطمینان سے بولا۔
اور یہ سب کب سے چل رہا ہے لڑکے، سوہم نے دانت پیسے۔
وہ کوئی جواب دیتا تبھی وہاں پولیس آئی تھی۔وہ دونوں حسبِ معمول گنز غائب کر چکے تھے۔جب پولیس آئی تو وہ بھی دونوں بظاہر ٹرالی کے پیچھے چھپے بیٹھے تھے۔
گھر چلو بتاتا ہوں، سوہم نے پھر دانت پیسے۔
وہ گھر آئے۔سوہم نے لاؤنج میں آ کر سامان رکھا۔اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو آریان صاحب غائب تھے۔وہ مسکرایا یہ تو وہ شروع سے جانتا تھا۔مگر آریان کے سامنے انجان بنا رہا۔
وہ سیدھے اپنے روم میں آیا تھا۔
ہیے روح،، میری جان،، دیکھو تمھارے لئے ایک سرپرائز ہے میرے پاس۔وہ جو بیڈ پر نیم دراز تھی اٹھ کر بیٹھی سوہم نے اس کا ماتھا چوما۔
اور وہ کیا ہے؟ روحا نے مسکرا کر ہوچھا۔
وہ یہ کہ تممارے جنگلی پاگل بیٹے ماہر سوہم خان کو بھی اس کی روح مل گئی ہے بلکل اس کے باپ کی طرح جیسے مجھے یہ ملی۔
سوہم نے اس کی چھوٹی سی ناک چومتے کہا تو وہ ہمیشہ کی طرح خود میں سمٹتی لال ٹماٹر ہو گئی۔
اففف قسم کھا لی آپ نے سوہم خان کے اس عمر میں بھی نہیں سدھرنا اور ہمیں تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا، شرم کیجئے دادا بن جائیں گے عنقریب آپ،
ہممم بلکل تمھارا بیٹا مجھ پر ہی گیا ہے لگتا ہے مجھے دادا بننے کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا، اثرات تو ایسے ہی لگتے ہیں۔وہ گہرا مسکرایا اور اپنے موبائل میں سے ایک فوٹو نکال کر روحا کو دکھائی جس میں وہ ایک سرخ لباس میں نازک سی لڑکی کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔
اونہہ گدھا اپنے باپ پر ہی چلا گیا ہے،، بے شرم کہیں کا،، حالانکہ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہم پر جائے، روحا نے بظاہر افسوس سے سر نفی میں ہلاتے کہا مگر چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا تھا۔
سوہم قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ اسے آپ بدتمیزی نہیں ہمارا عشق کہیے بیگم، سوہم نے معنی خیزی سے اپنی روح کو دیکھا۔جس کے ہوتے اس کی روح کو سکون آتا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
فجر نے پنکی، رحاب اور پاشا کو واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ ماہ بیر نے اسے پہلی طلاق کا پیپر دیا ہے ۔ بہت جلد اس کی طلاق ہو جائے گی تو وہ ایک پل بھی یہاں نہیں رہنا چاہتی، عدت کا تو مسئلہ نہیں ہوگا تو فورا اس کی شادی کہیں اور ہو جائے۔
جبکہ وہ تینوں اتنے بھی پاگل نہیں تھے اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ چھوٹی سی لڑکی آگ سے کھیلنے جا رہی ہے۔ مگر انھوں نے انکار بھی نہیں کیا تھا کہ ماہ بیر جیسے بلا کو سیدھا کرنے کا یہی طریقہ ہو سکتا تھا جو اسے نا سہی طرح اپنا رہا تھا نا ہی چھوڑ رہا تھا۔
ایک دو پارٹی اسے دیکھ کر جا چکی تھی۔مگر وہ صرف خواتین تھیں۔۔ماہ بیر دیکھ رہا تھا یہ تماشا، مگر ابھی تک تو خاموش تھا۔
مگر آج جو خواتین آئیں تھیں ان کے ساتھ مرد بھی تھے اور ان کا لائق فائق سپوت بھی تھا۔
اور اس سازش میں زیادہ ہاتھ سوہم خان کا تھا۔
پنکی نے فجر کو تیار کیا تھا اور اب وہ دھیمے قدموں سے ڈرتی ڈرتی لاؤنج میں آئی تھی کیونکہ آج کا کچھ زیادہ ہو گیا تھا۔
وہ بار بار پہلو بدل رہی تھی اور پیشانی عرق آلود ہو رہی تھی کیونکہ سامنے بیٹھا وہ شخص اسے گھورتا ہوا زہر لگ رہا تھا اسے ۔پنکی رحاب اور پاشا ان سے ہلکی پھلکی گفتگو کر رہے کہ تبھی،
بھاری بوٹوں کی مخصوص آواز سے حسبِ معمول فجر کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔سینے میں سانس الجھی۔پنکی نے بڑی فرصت سے سنوارا تھا اسے اورنج ڈریس پہنا کر ۔
شدید نفرت کرنے کے باوجود وہ اس جلاد کے طیش و غصے سے اب تک خائف ہی تھی۔ لاونج میں وہ ان مہمانوں کے سامنے رحاب کے پاس بیٹھی تھی۔جب وہ لاؤنج میں داخل ہوا۔ کوئی سامنے بیٹھا بڑے پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اور یہ منظر دیکھ ماہ بیر کے انگلیوں میں اسکیلپل بڑی شدت سے گھوم رہا تھا۔
لاؤنج کا یہ منظر دیکھ اس کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔
اور پھر وہ وہیں جیسے جم سا گیا تھا۔ اور خونخوار نگاہوں سے فجر کو گھورا۔ فجر نے بری طرح پہلو بدلہ۔
بڑی دیر سے وہ تنی رگیں لیے یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔ ضبط کے کڑے مرحلوں سے گزرتا۔ وہ اپنے آپ کو آزما رہا تھا۔
ہمیں تو لڑکی بہت پسند ہے، تو ہم یہ رشتہ پکا سمجھیں، مہمانوں میں سے کسی نے کہا تھا۔ ماہ بیر کا دماغ کھول اٹھا۔بھوکا شیر بنا وہ فجر پر جھپٹا تھا۔
ارے یہ کیا بدتمیزی ہے، کیا بدسلوکی ہے، چھوڑو میری ہونے والی بہو کا ہاتھ،، یہ کیا۔
شٹ اپ،، وہ دھاڑا،، بیوی ہے یہ میری، اور اگر نہیں چاہتے کہ میں پیٹرول ڈال کر ابھی تم لوگوں کو آگ لگا کر یہاں زندہ جلا کر سکون حاصل کروں تو گیٹ لاسٹ۔وہ دھاڑا اور پورا وائٹ پیلس ہلا ڈالا۔ سوہم نے اسے کھا جانے والے نظروں سے دیکھا جیسے کہنا چاہتا ہو اب کیوں آگ لگی ہے۔۔
مگر اسے اس وقت کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی آگ ہی تو لگی تھی اسے ۔
چھوڑیں مجھے،، آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی۔وہ بھی چلائی، مگر ماہ بیر اسے گھسیٹتا اپنے کمرے میں لایا تھا۔پاؤں سے دھاڑ سے دروازہ لاک کر اسے اپنے بیڈ پر پٹخا تھا۔
اورنج پیروں تک فراک، اونچا جوڑا، دودھیا رنگت پر اورنج لپ اسٹک، ماہ بیر نے اس کا یہ سجا سنوار روپ خونخوار نگاہوں سے دیکھا۔دل کیا اس کا حشر بگاڑ دے۔۔تمھاری ہمت کیسے ہوئی ان لوگوں کے سامنے ڈیکوریشن پیس بن کر بیٹھنے کی، مسز فجر ماہ بیر، اس ہمت کی تو داد دینی پڑے گی ،، وہ غرایا۔
اور ایک گھٹنے پر جھک کر اس کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچا۔
فجر نے اپنی پوری طاقت لگا کر اس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی تھی۔
کس حق سے لائے آپ مجھے یہاں، کس حق سے کیا یہ تماشہ، بہت کم وقت رہ گیا ہے ناں اس نام کے رشتے سے چھٹکارے کا تو اب کیوں کیا ایسا،، وہ بھی غرائی۔
اور شاید غلطی کی کہ اس زخمی شیر کو اپنے الفاظ سے اور زخمی کر رہی تھی۔ تبھی وہ پیچھے ہٹا اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا تھا۔
ی،،، یہ،، کک،، کیا کر رہے ہیں آپ،، وہ اب سٹپٹائی تھی۔ اٹھ کر باہر بھاگنے کو تھی تبھی وہ اس کی راہ میں حائل ہوا تھا۔ اسے پکڑ کر دیوار سے پن کیا۔
بہت کم وقت رہ گیا ہے ناں تو رجوع کرنے لگا ہوں، ماہ بیر سرسراتے لہجے میں بہت قریب آ کر اس کان میں بولا تھا۔
اور حق کی بات کر رہی تو فکر مت کرو ڈارلنگ آج سارے ہی حق وصول کروں گا، یہ کہتے اس نے فجر کے ہوش اڑائے تھے۔
ہونٹوں نے گردن سے شہ رگ تک کا سفر کیا۔ کمر کو جکڑا اس کا ہاتھ اور کندھے میں پیوست ہوتا دوسرا۔
وہ بری طرح مچلی مگر اس کی آہنی گرفت میں ہل بھی نہیں سکی۔
ماہ بیر نے اپنے لب اس کے گداز، گال پر رکھے، تو اس نے سختی سے آنکھیں بند کیں تھیں۔
چھوڑیں مم،،، وہ پھر کسمسائی تھی مگر ماہ بیر آج اس کے سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ تبھی اس کی بولتی بند کی تھی۔
فجر کو لگا آج وہ اس کی جان نکال لے گا، اذیت و بے بسی کے احساس سے اس کے تواتر سے آنسو بہے۔جو ماہ بیر کے گریبان میں گرے۔
جانے کس احساس کے تحت وہ پیچھے ہٹا تھا۔اور وہ نڈھال سی دیوار سے لگی نیچے بیٹھتی چلی گئی۔
اب اس کمرے سے نکلنے کی گستاخی ہر گز مت کرنا مسز فجر ماہ بیر، نہیں تو ایسا حشر بگاڑوں گا کہ خود کو بھی نہیں پہچان پاؤ گی، سمجھیں؟
وہ پھنکارتا اپنی شرٹ اٹھا کر کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جے کے اور سوہم ایشان کے سرہانے بیٹھے تھے جس کی اب کی بار لمبی ہی طبیعت خراب ہوئی تھی۔ اب بھی وہ نڈھال سا تکیے کے ساتھ لگا نیم دراز تھا۔
جے کے اور سوہم اسے علیزے والی بات بتانا نہیں چاہتے تھے جو اب چپکے چپکے اپنے ٹکٹس وغیرہ کا بندوبست کرتی پھر رہی تھی ۔مگر وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایشان بھی باخبر ہے۔کیونکہ بابو اسے فون پہ سب کچھ بتا چکا ہے۔
جبران اسے سوپ پلا رہا تھا۔یار جلدی جلدی ٹھیک ہو جاؤ، ابھی تو تم سے ضروری کام ہے اور ابھی تم بستر سے لگے بیٹھے ہو، جبران نے کہا تو ایشان نے چونک کر اسے دیکھا۔
واٹ؟ وہ کیا جلدی بتاؤ جے کے،، ایشان کو تجسس ہوا
پہلے جلدی جلدی ٹھیک تو ہو جاؤ، جبران مسکرایا۔
نہیں تم بتاؤ مجھے، ایشا بضد ہوا ۔
کسی کو لوگوں کو پاگل ثابت کر کے مینٹل آزائلم بھیجنے کا کچھ زیادہ شوق ہے تو اسے بتانا ہے کہ پاگل بنانا کسے بولتے ہیں، میں اسے اس قدر مینٹلی ٹارچر کرنا چاہتا ہوں کہ اسے خود بھی یہی لگنے لگے کہ ہاں وہ پاگل ہے۔ جبران کے سرسراتے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ ایک مرتبہ تو ایش کے ساتھ ساتھ اس گرین مونسٹر نے بھی اسے چونک کر دیکھا تھا۔
اور یہ کرنے کے لئے تمھارا ٹھیک ہونا بہت ضروری ہے،
ہممم، رائٹ تو یہ بات ہے، میں بھی بلکل ٹھیک ہونا چاہتا ہوں۔کیونکہ مجھے آروشے کی فکر ہو رہی ہے بھائی، میں اچھی طرح جانتا ہوں علیزے یہاں سے بھاگنے کی تیاری میں ہے۔ اسے جو غلط فہمی ہوئی وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے۔اگر جے کے کی بجائے وہ مجھے ایسے دیکھتی تب بھی اس کا یہی ری ایکشن ہوتا۔
وہ سانس لینے کو رکا جبکہ سوہم اور جے کے کی سانس اٹک گئی۔
کیونکہ وہ لڑکیاں ہیں تو آپ لوگوں کو ہینڈل کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ تو میں ہی آپ کو بتا دیتا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ جے کے آپ علیزے کو اپنے ہوسپیٹل لے جائیں اور وہاں اسے ایڈمٹ کر دیں کیونکہ اس کے پاس بہت کم وقت بچا ہے اور وہ بہت تکلیف میں، ماہر بھائی اپ آروشے کو میرے پاس لے آئیں، میں اسے سنبھال لوں گا۔
ایشان نے اطمینان سے کہا۔
مگر ایشان تمھاری اپنی طبعیت،،،،
میں ٹھیک ہوں سوہم بھائی،، بس مجھے آروشے چاہئے وہ مجھے لا دیں آپ۔
اوکے،،
ایشان میرے نکاح میں کیسے شرکت کرو گے یار،، جبران نے جھنجھلا کر کہا۔ مگر ایشان کے حیرت سے دیکھنے پر دانتوں تلے لب دبایا۔
یہ میں نے جےکے کے منہ سے ہی سنا ہے ناں ماہر بھائی، زرا چٹکی کاٹنا مجھے،
شٹ اپ ایش، اور بتاؤ شامل ہونا ہے کہ نہیں، جبران خجل سا ہوا۔
کیوں تم نے میرے نکاح میں شرکت کی تھی جو میں تمھارے نکاح میں آ کر بھنگڑے ڈالوں، وہ چمک کر بولا۔
جے کے نے گھورا۔
بحث بند کرو یار ، اورچلو وقت بہت کم ہے پھر روشےکو بھی لانا ہے میں نے۔ ماہر سوہم خان نے انھیں غصے سے گھرکا تو جبران شرافت سے اس کے آگے ہو لیا۔
